93.4K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Alhamd se Wannass (Episode 24)

صبح ڈائینگ ٹیبل پر سب موجود تھے۔ وانیہ ٹوسٹ کھاتے ہوئے مسلسل سوچوں میں گم تھی۔
“کیا مام ہی نین ہیں؟مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے جیسے میں کچھ مس کر رہی ہوں۔”اسے سوچوں میں ڈوبا دیکھ
نائل نے اس کے آگے سے پلیٹ ہٹائی تھی۔وانیہ کو ہوش تب آیا تھا جب اس نے ایک اور ٹوسٹ کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا تھا مگر سامنے پلیٹ نہیں تھی۔
“سٹڈی روم میں آئیں۔”وہ نیپکین سے ہاتھ صاف کرتا اٹھا تھا۔
وانیہ کو اس پیشی کا مقصد بالکل سمجھ نہیں آیا تھا۔اس نے ابھی تک کوئی الٹی سیدھی حرکت نہیں کی تھی۔ خود کو نقصان پہنچانے کا ارادہ بھی وہ کچھ دنوں کے لیے ملتوی کر چکی تھی۔بوجھل قدموں سے وہ سٹڈی روم میں داخل ہوئی تھی۔منہ بنائے اب وہ سامنے موجود صوفے پر بیٹھی تھی۔
“میرے پاس آ کر بیٹھیں۔”نائل کی بات پر وانیہ کے گلے میں گلٹی ابھری تھی۔
“کہیں محسن نے بھائی سے کوئی الٹی سیدھی بات تو نہیں کی؟”اس کا ذہن خدشات سے گھرا ہوا تھا۔
“وانیہ…!”نائل کے پکارنے پر وہ مرے مرے قدم اٹھائے اس کے بالکل قریب بیٹھی تھی۔
“کوئی مسئلہ ہے؟”اس بات پر وہ چونکی تھی پھر اس نے فورا نفی میں سر ہلایا تھا۔
“میں صرف آپ کا بھائی نہیں ہوں بلکہ ہم اچھے دوست بھی ہیں۔آپ مجھ سے کچھ بھی شیئر کر سکتی ہیں۔”نائل نے بہت شفقت سے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھا تھا۔
“ایسی کوئی بات نہیں ہے بھائی!مجھے کوئی پریشانی نہیں ہے۔”اس کے اتنے محبت سے استفسار کرنے پر وانیہ مسکرا دی تھی۔
“ناشتہ ٹھیک سے نہیں کیا آپ نے؟”نائل نے اسے خود سے لگاتے نرمی سے پوچھا تھا۔
“جی بھائی!مجھے بھی بھوک لگ رہی ہے۔”وہ واقعی شدید بھوک محسوس کر رہی تھی۔
“پڑھائی کیسی جا رہی ہے؟یونیورسٹی میں سب ٹھیک ہے؟کوئی جھگڑا تو نہیں ہوا؟”وانیہ کے ماتھے پر شکنیں ابھری تھیں۔آخر کیوں نائل اس سے بار بار اس طرح کے سوالات پوچھ رہا تھا۔
“بھائی!میں بالکل ٹھیک ہوں۔”اس کے کندھے پر سر رکھتے وانیہ نے آنکھیں بند کی تھیں۔
“آپ کو بھوک لگ رہی ہے؟”
“ہمم…!”وانیہ کی آنکھیں اب بھی بند ہی تھیں۔
“چھ ٹوسٹ،تین گلاس جوس اور چار آملیٹ کھانے کے بعد بھی آپ کو بھوک لگ رہی ہے؟”وانیہ نے پٹ سے آنکھیں
کھولے نائل کی جانب دیکھا تھا۔وہ مسکراتی نگاہوں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
“میں نے اتنا کھایا؟”اسے یقین نہیں آ رہا تھا۔
“اس لیے تو پوچھ رہا ہوں کہ آخر ہوا کیا ہے؟”وانیہ ٹینشن کی حالت میں بہت زیادہ کھاتی تھی اور جب تک اسے کوئی روکتا نہیں تھا۔وہ کھاتی ہی جاتی تھی۔
“شاید ایگزیمز کی وجہ سے تھوڑی ٹینس ہوں۔”
“آپ کو کسی بھی چیز کی ٹینشن لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بس پاس ہو جائیں،اتنا کافی ہے۔اور اگر نہیں بھی ہوتا کلیر،تو کوئی بات نہیں…!”نائل نے محبت سے اس کے سر پر بوسہ دیا تھا۔
“جی بھائی!”اس نے معاملہ ٹلتا دیکھ شکر کا کلمہ پڑھا تھا۔
یونیورسٹی آ کر اس نے ایک بھی لیکچر نہیں لیا تھا۔وہ اور عائزہ ادھر ادھر آوارہ گردی کرنے میں مصروف تھے۔یہ ان کا معمول تھا۔وانیہ کو پڑھائی میں بالکل دلچسبی نہیں تھی۔
پڑھائی سے ہمیشہ ہی اس کی جان جاتی تھی۔ اپنے ڈیپارٹمنٹ سے نکلتے وہ ساتھ والے ڈیپارٹمنٹ میں گئے تھے۔وہاں عائزہ کی کزن پڑھتی تھی۔عائزہ کو اس سے کچھ کام تھا۔
“کیسی ہو شزا؟”وانیہ خوشدلی سے اس سے ملی تھی۔
“میں تو ٹھیک ہوں۔تم دونوں اپنا بتاؤ، پھر سے لیکچر بنک کیا ہے نا؟”وانیہ اور عائزہ دونوں ہی خجل کا شکار ہوئی
تھیں۔
“اس منہوس پروفیسر کا چہرہ روز روز نہیں دیکھا جاتا مجھ سے…!”وانیہ نے منہ بسورے کہا تھا۔
“ایسا نہیں کہتے وانیہ!”شزا نے اسے ڈپٹا تھا۔
“ویسے میں تو کہتی ہوں۔تم بھی لاسٹ لیکچر چھوڑ دو۔کہیں باہر چلتے ہیں۔”وانیہ نے اسے مفید مشورے سے نوازا
تھا۔عائزہ نے فورا اس کی تائید کی تھی۔
“جی نہیں!مجھے پڑھنا ہے اور تم نا کم گناہ کیا کرو۔فرشتے ہر وقت تمہارے گناہ لکھتے رہتے ہوں گے۔”شزا نے مذاق میں کہا تھا جبکہ وانیہ کے ماتھے پر بل پڑ گئے تھے۔
“کون فرشتے…؟”شزا نے چونک کر اس کی جانب دیکھا تھا جبکہ عائزہ کے تاثرت بالکل نارمل تھے۔وہ وانیہ کے عقائد سے اچھی طرح واقف تھی۔
“کراما کاتبین،اور کون…؟”
“مجھے اس سب پر یقین نہیں ہے۔میرے عقائد کچھ مختلف ہیں۔”وانیہ نے مدھم سی مسکراہٹ کے ساتھ اس کی جانب دیکھا تھا۔عائزہ نے افسوس سے سر جھٹکا تھا۔وہ اس کی دوست ضرور تھی مگر اس کے بعض عقائد عائزہ کو ہمیشہ
ہی تکلیف دیتے تھے۔وہ اسے کچھ سمجھا بھی نہیں سکتی تھی۔اس صورت میں وانیہ الٹے سیدھے سوال کرتی تھی جس کا جواب عائزہ کے پاس نہیں ہوتا تھا۔
“میں کچھ سمجھی نہیں…؟”شزا نے سوالیہ آبرو اچکائی تھی۔
“میں منطقی چیزوں پر یقین رکھتی ہوں۔ایسی چیزیں جو سائنس سے ثابت شدہ ہوں۔فرشتوں،جنات،آخرت وغیرہ پر کچھ خاص یقین نہیں ہے مجھے…ان کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ہاں اگر کوئی منطقی دلائل دے تو پھر یقین کیا جا سکتا ہے”شزا نے پٹھی پٹھی آنکھوں سے سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھا تھا۔آج اس پر جو انکشاف ہوا تھا وہ بہت بھیانک تھا۔
“تم مسلمان ہو؟”اس کے گلے گلے سے پھنسی پھنسی سی آواز نکلی تھی۔
“ظاہر سی بات ہے۔مسلم فیملی میں پیدا ہوئی ہوں تو مسلمان ہی ہوئی نا…!”وانیہ نے گویا ناک سے مکھی اڑائی تھی۔
“اللہ پر یقین ہے تمہیں…؟”وہ اسے کرید رہی تھی۔
“ہاں ہے…..کیونکہ کوئی بھی چیز کریٹر کے بغیر نہیں بنتی۔اس دنیا کا بھی کوئی خالق تو ضرور یے۔خیر چھوڑو ان سب باتوں کو،میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ میں ان سب چیزوں کے بارے میں سوچوں۔میں نے کبھی مذہب کو اپنے سر پر سوار نہیں کیا۔”شزا کا دماغ صحیح معنوں میں گھوم چکا تھا۔
اسے سامنے کھڑی لڑکی سے عجیب قسم کی نفرت محسوس ہوئی تھی۔ وہ فورا ایسکیوز کرتی وہاں سے گئی تھی۔
“میں اسی لیے اپنے عقائد کے بارے میں کسی کو نہیں بتاتی۔سب عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں مجھے!”اپنے
ڈیپارٹمنٹ کے واپسی کے راستے میں وانیہ غصے سے مسلسل کچھ نا کچھ بول رہی تھی۔
“اگر سب ایسا کرتے ہیں تو تمہیں ایک بار سوچنا چاہیئے نا…ہو سکتا ہے کہ تم ہی غلط ہو۔”عائزہ نے دھیمے لہجے
میں اسے سمجھانا چاہا تھا۔
“میں غلط نہیں ہوں۔میں بس منطقی طور پر سوچتی ہوں۔جن چیزوں کو میں نے کبھی دیکھا ہی نہیں!میں کیسے
ان پر یقین کر لوں؟”سائنس اور ایجادات کے زیادہ قریب ہونے کی وجہ سے اس کی سوچ کافی مختلف ہو گئی تھی۔
اور پھر کسی نے اسے اس طرح سے سمجھایا بھی نہیں تھا۔لیکن وقت اور حالات دو ایسی چیزیں ہیں جو انسان کو سب کچھ سیکھا اور سمجھا دیتی ہیں۔

یونیورسٹی کے بعد عائزہ اور وانیہ شوپنگ کے لیے مال گئی تھیں۔نائل نے خود وانیہ کو جانے کی اجازت دی تھی۔وہ
اس کا سٹریس کم کرنا چاہتا تھا۔ لیکن ہمیشہ کی طرح آج بھی گارڈز اس کے سر پر مسلط تھے۔ ساری شاپنگ کرنے کے بعد وہ دونوں ہاتھوں میں بیگز پکڑے ایسکلیٹر سے نیچے اتر رہے تھے۔ ڈیوڈ روپ بدل کر اپنے ساتھیوں کے ساتھ مال کے اندر داخل ہوا تھا۔یہاں انہیں سمگلنگ کے سلسلے میں کسی سے ملنا تھا۔وہ ہمیشہ ہی روپ بدل بدل کر ان میٹینگ میں شامل ہوتا تھا۔ان میٹینگ میں اس کی حیثیت محض ایک ادنی ملازم جیسی ہوتی تھی۔وہ ہر کسی کے سامنے خود کو ایکسپوز نہیں کرتا تھا۔ آج بھی وہ پیلے رنگ کے کرتا شلوار میں ملبوس تھا۔چہرے پر اس نے نقلی ڈارھی لگائی ہوئی تھی۔لیکن اس کے حلیے کی پرفیکشن ایسی تھی کہ کوئی بھی اس پر شک نہیں کر سکتا تھا۔ ایک قدم آگے بڑھاتے ہی اس کے کانوں میں کسی کی ہنسی کی کھنک گونجی تھی۔اس کی نظروں نے اس کھنک کی پیروی کی تھی۔ سیڑھیوں سے نیچے اترتی لڑکی کو دیکھ اس کے قدم رکے تھے۔وہ بالکل ساکت ہو گیا تھا۔اس کی ہنسی کی کھنک
اسے مدہوش کرنے لگی تھی۔بھورے گھنے بال کمر پر پھیلے ہوئے تھے۔ٹھوڑی پر نمایاں ہوتا وہ تل ڈیوڈ کو بہکانے کے لیے کافی تھا۔ایک لمحے کے لیے وہ سب بھول گیا تھا۔اپنے یہاں آنے کا مقصد، اپنا آپ،سب کچھ…
وانیہ عائزہ سے باتیں کرتی اس ہی کی جانب بڑھ رہی تھی۔ڈیوڈ کو لگا وہ اب سانس نہیں لے سکے گا۔الیکس، جیمز اور ماریہ آگے بڑھ گئے تھے۔اب وہ اس کے آگے آنے کا انتظار کر رہے تھے مگر وہ تو جیسے اپنے ہواس ہی کھو بیٹھا تھا۔
تیزی سے آگے بڑھتے وہ ڈیوڈ سے ٹکرا گئی تھی۔ہاتھ میں پکڑے ہینڈ بیگز زمین بوس ہوئے تھے۔
“اندھے کہیں کے…تمہیں اندر کس نےآنے دیا؟”عائزہ اس پر بگڑی تھی۔وجہ اس کا عجیب و غریب حلیہ تھا۔
“اسے کچھ مت کہو۔”ہینڈ بیگز اٹھاتے وانیہ نے اسے ٹوکا تھا۔
“مجھے یہ مینٹلی ڈیس ایبل لگتا ہے۔”وانیہ نے عائزہ کے کان کے پاس سرگوشی کی تھی۔
ڈیوڈ کے لبوں پر مدھم سی مسکراہٹ ابھری تھی۔وہ چٹانوں جیسی سختی رکھنے والا شخص آج مسکرا رہا تھا۔
وجہ سامنے کھڑی اپسرا تھی۔
“تم ٹھیک ہو نا…؟”وانیہ نے مسکرا کر پوچھا تھا۔اسے براہ راست اپنے اتنا قریب دیکھ کر ڈیوڈ کے تمام الفاظ ٹوٹ گئے تھے۔
“مجھے لگتا ہے بیچارا گونگا ہے۔”وانیہ نے ایک بار پھر عائزہ کے کان کے پاس سرگوشی کی تھی۔ وہ جتنی مرضی ہی عقلمند سہی مگر لوگوں کو پہچاننے میں وہ بالکل اناڑی
تھی۔
“مجھے بھی یہی لگتا ہے۔”عائزہ کو بھی اب سامنے کھڑے شخص سے ہمدردی محسوس ہوئی تھی۔ڈیوڈ تو ہر چیز
سے بےنیاز بس مسکرا کر وانیہ کو دیکھے ہی جا رہا تھا۔
“کچھ کھاؤ گے؟”وانیہ پر اچانک ہی ہمدردی کا بھوت سوار ہوا تھا۔ جواب اب بھی ندارد تھا۔
“مجھے لگتا ہے بیچارا بہرا بھی ہے۔” اب کی بار وانیہ نے سرگوشی کرنے کے بجائے اونچی آواز میں کہا تھا۔ ڈیوڈ کے لبوں کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی۔
الیکس،ماریہ اور جیمز تینوں ہی بےیقینی سے اس لڑکی کی گفتگو سن رہے تھے۔تینوں کی آنکھوں میں حیرت تھی۔
“یہ بلیک مونسٹر اسے گولی کیوں نہیں مار رہا؟”ماریہ کو تجسس ہوا تھا۔اتنی بکواس تو وہ کسی کی بھی برداشت نہیں کرتا تھا تو پھر اس لڑکی کی ساری فضول باتیں وہ کیسے برداشت کر رہا تھا؟
“وہ محبت ہے بلیک مونسٹر کی…!”جیمز نے ماریہ کے کان کے پاس سرگوشی کی تھی۔
“کوئی اس مجنوں کو ہوش دلاؤ۔ہم یہاں میٹینگ کے لیے آئے ہیں۔”الیکس کو بدر کی بات نا ماننے پر شدید افسوس ہوا تھا۔وہ اب جلد از جلد اس لڑکی کو ٹھکانے لگانے کا سوچ رہا تھا۔
“جسے اپنی جان پیاری نا ہو وہ جا کر لیلہ اور مجنوں کی گفتگو کے درمیان خلل ڈال دے۔”جیمز نے الیکس کو منہ توڑ جواب دیا تھا ۔وہ کلس کر رہ گیا تھا۔
“کڑوروں کی ڈیل ہاتھ سے گئی۔”ماریہ کو شدید افسوس ہوا تھا۔وہ ہمیشہ ہی وانیہ سے جلن محسوس کرتی تھی۔
“بھاڑ میں جائے ڈیل!فلحال چلتے ہیں یہاں سے…!”جیمز کے کہنے پر وہ دونوں بھی اس کے پیچھے چل دیے تھے۔ڈیوڈ کے ہاتھوں نا تو کوئی موت چاہتا تھا اور نا ہی اس کی دی گئی زندگی…
“یہ لو!کچھ کھا لینا۔”وانیہ نے اپنے بیگ سے چند نوٹ نکال کر ڈیوڈ کے سامنے کیے تھے۔
صد شکر کہ وہ تینوں وہاں موجود نہیں تھے ورنہ غش کھا کر ہی گر جاتے۔ اسے کوئی حرکت نا کرتا دیکھ وانیہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کے ہاتھ پر پیسے رکھے تھے۔اس کے لمس
پر ڈیوڈ کے دل کی ڈھرکنیں معمول سے تیز ہوئی تھیں۔
اس نے لاشعوری طور پر اپنا دوسرا ہاتھ اٹھایا تھا۔اب اس نے اپنے ہاتھ کے انگوٹھے اور انگلی کو ملا کر وانیہ کے سامنے کیا تھا۔پھر آہستہ آہستہ اس نے انگلی کو انگوٹھے سے جدا کیا تھا۔
“یہ کچھ کہنا چاہ رہا ہے وانیہ!”عائزہ نے وانیہ کو بازو سے پکڑا تھا۔
“اور پیسے چاہیئے تمہیں؟”وانیہ نے نرمی سے پوچھا تھا۔ڈیوڈ نے نفی میں سر ہلاتے ایک بار پھر اس کے سامنے بالکل ویسے ہی انگلی کو انگوٹھے سے ملایا تھا پھر بالکل اسی طرح وہ آہستہ آہستہ انگلی اور انگوٹھے کے درمیان فاصلہ بڑھاتا گیا تھا۔
“کم اور زیادہ…؟”وانیہ کو یہی سمجھ آیا تھا۔ڈیوڈ نے مسکرا کر ایک بار پھر سر نفی میں ہلایا تھا۔
“چھوٹا اور بڑا…؟”وانیہ نے اگلا تکا لگایا تھا۔ڈیوڈ نے اس بار اثبات میں سر ہلایا تھا۔اب اس نے وانیہ کی جانب اشارہ
کر کے ایک بار پھر وہی عمل دہرایا تھا۔
“میں چھوٹی یا بڑی…؟”اسے اس کھیل میں مزا آ رہا تھا۔وانیہ کو نیا ایڈونچر مل گیا تھا۔
“وانیہ!یہ تو پاگل ہے۔کیا تم بھی پاگل ہو گئی ہو؟”عائزہ نے اسے عقل دلائی تھی۔اتنے میں اس کے گارڈز بھی وہاں تک پہنچ چکے تھے جنہیں وہ بامشکل چکما دے کر یہاں سے نکلنے کا پلین بنا چکی تھی۔گارڈز کے آنے پر وہ منہ بسورے ان کے ساتھ چل دی تھی۔
اس کے جانے کے بعد ڈیوڈ نے بےاختیار اپنے دل کے مقام پر
ہاتھ رکھا تھا۔اسے اپنا دل دھڑکتا ہوا محسوس ہوا تھا۔اس کا پتھر دل آج ڈھڑک رہا تھا اور وہ بھی پورے زور و شور سے… اب اس نے ہاتھ میں موجود ان نوٹوں کی طرف دیکھا تھا۔وہ بغیر سوچے سمجھے ان نوٹوں کو اپنی ناک کے قریب لے گیا تھا۔وہ ان نوٹوں پر موجود انگلیوں کے لمس کی خوشبو اپنے اندر اتار رہا تھا۔آج جو کچھ بھی ہوا،وہ اس کی سمجھ سے باہر تھا۔ہاں ٹھیک ہے وانیہ اس کی پسند تھی مگر آج اس نے اپنے خیال کی تردید کی تھی۔وہ آج اپنی اس پسندیدگی کو عشق کا نام دے چکا تھا۔یہ عشق ہی تو تھا جو محبوب کی سامنے موجودگی پر وہ اپنے ہواس ہی کھو بیٹھا تھا۔ یہ عشق ہی تو تھا جس نے اس
کے تمام تر الفاظ کو وانیہ کے سامنے زنجیر کر دیا تھا۔