Alhamd se Wannass By Umaima Shafeeq Qureshi readelle50265 Alhamd se Wannass (Episode 23)
Rate this Novel
Alhamd se Wannass (Episode 23)
وانیہ صبح یونیورسٹی کے لیے نکل رہی تھی جب لان میں محسن کو کھڑے دیکھ وہ ایڑیوں کے بل واپس گھومی
تھی۔
“وانیہ…!”اس کے آواز دینے پر وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے اس کی جانب مڑی تھی۔
“میں بتا نہیں سکتی کہ آپ کو یہاں دیکھ کر مجھے کتنی خوشی ہوئی ہے محسن بھائی!” وہ پرجوش سی اس کی جانب بڑھی تھی۔وانیہ کے سب کچھ قبول کر لینے کے بعد محسن اور نائل کے تعلقات بحال ہو چکے تھے۔
“اسی لیے تم واپس مڑی تھی؟”وہ بھی کسی سے کم نہیں تھا۔
“ایسی تو کوئی بات نہیں ہے بھائی!”وہ بدقت مسکرائی تھی۔ورنہ دل تو سامنے موجود شخص کو تڑپا تڑپا کر مارنے کا چاہ رہا تھا۔
“تم نے کہا تھا کہ تم نے سعدیہ کو دھمکایا تھا،ہے نا…؟”ہاتھ باندھے محسن نے مشکوک نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا تھا۔
وانیہ نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلایا تھا۔
“مگر وہ تو کہہ رہی ہے کہ اسے کچھ یاد ہی نہیں ہے۔اس نے نائل کے سامنے جو بھی کہا،اسے تو بالکل بھی یاد نہیں ہے۔”وانیہ کے چہرے کا رنگ پل میں فق ہوا تھا مگر اگلے ہی لمحے اس نے خود کو نارمل کر لیا تھا۔
“اچھا…؟”اس نے بےانتہا حیرت سے پوچھا تھا۔
“مجھے لگتا ہے شاید وہ ڈر گئی ہو گی تبھی وہ آپ سے جھوٹ بول رہی ہے کہ اسے کچھ یاد نہیں…!”انداز بےحد لاپرواہ تھا۔محسن
اب بھی اسے مشکوک نگاہوں سے ہی دیکھ رہا تھا۔
“محسن بھائی!میں ایک معمولی سی ہیکر ہوں بس…میں کوئی ڈاکٹر تھوڑی ہوں جو اسے یادداشت بھولنے کا کوئی انجیکشن یا پلز دوں گی۔میں نے آپ سے کہا تو ہے کہ میں سب چھوڑ چکی ہے لیکن شاید آپ کو مجھ پر یقین ہی نہیں ہے؟”آخر میں اس کی آنکھوں سے دو موٹے موٹے آنسو گرے تھے۔
“تم رو تو مت…!”محسن بیچارہ خود بہت بری طرح سے کنفیوز ہو گیا تھا۔
“جس بھائی کو اپنی بہن پر یقین ہی نا ہو پھر وہ بہن روئے نہیں تو کیا کرے؟” بھرائی آواز کے ساتھ وہ منہ پر ہاتھ رکھے بھاگتی ہوئی وہاں سے گئی تھی۔
محسن کو اچھی خاصی شرمندگی نے آ گھیرا تھا۔
یونیورسٹی جاتے ساتھ ہی وہ گراؤنڈ میں ادھر سے ادھر ٹہلتی اپنا غصہ کم کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
“یہ محسن بھائی کسی دن جان سے جائیں گے۔”اس نے سوچا ہی نہیں تھا کہ محسن اتنی باریکی سے اس معاملے
کو جانچے گا۔
“ویسے تم نے ایسا کیا کیا تھا جو اس لڑکی کو کچھ یاد ہی نہیں ہے؟”اسے اس طرح چکر لگاتے دیکھ کر عائزہ کو بھی چکر آنے لگے تھے۔
“کچھ خاص نہیں!میں نے اسے بس ذرا سا ہیپناٹائز کیا تھا۔”
“تمہارا دماغ خراب ہے وانیہ؟پروفیسر نے منع کیا تھا نا کہ تم یہ نہیں کرو گی۔ابھی تم نے ٹھیک سے سیکھا بھی نہیں ہے اور تم…”عائزہ کو سامنے کھڑی بلا پر شدید غصہ آیا تھا۔
“جب کسی پر ٹرائے نہیں کروں گی تو سیکھو گی کیسے؟”تھک ہار کر وہ عائزہ کے ساتھ بینچ پر آ بیٹھی تھی۔
“تم کسی دن بہت برا پھنسو گی وانیہ!” عائزہ کو یقین تھا کہ وہ اپنی الٹی سیدھی حرکتوں کی وجہ سے کسی دن بھاری نقصان اٹھائے گی۔
وہ تہ خانے میں موجود مخصوص کمرے میں بیٹھا مسلسل فائلز کو الٹ پلٹ کر دیکھ رہا تھا جب الیکس غصے سے اندر داخل ہوا تھا۔
“یہ کیا کیا تم نے بلیک مونسٹر؟کس کی اجازت سے تم نے ان دو لڑکوں کی جان لی؟”غصے سے الیکس کے اعصاب تن گئے تھے۔
ڈیوڈ فائلز کو دیکھنے میں مصروف تھا۔ اس نے الیکس کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا تھا۔یہ بات الیکس کو مزید طیش دلا گئی تھی۔”میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں ڈیوڈ؟”
“شش…”ڈیوڈ نے ہاتھ کے اشارے سے اسے خاموش کروایا تھا۔فائلز کو سائیڈ پر رکھے،کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے اس نے الیکس کا تفصیلی جائزہ لیا تھا۔
“اگر تم مرنا چاہتے ہو تو صاف صاف بتا دو۔”ٹانگ پر ٹانگ جمائے اس نے پاس پڑی سلگار اٹھائی تھی۔
“کیا میں اسے دھمکی سمجھوں؟”
“نہیں الیکس!یہ دھمکی بالکل بھی نہیں ہے۔آج کے بعد اگر تم نے مجھ سے اس لہجے میں بات کی تو…!” ڈیوڈ نے پھرتی سے گن نکالے اس کے پاؤں کے قریب فائر کی تھی۔
الیکس کی جان بس نکلنے کے در پر تھی۔
“میرا…میرا وہ مطلب نہیں تھا۔” وہ سرپھرا مغرور شہزادہ کبھی بھی کچھ بھی کر سکتا تھا۔
“تمہارا جو بھی مطلب تھا۔آئیندہ احتیاط کرنا…!”اس نے گن ہاتھ میں گھماتے ہوئے کہا تھا۔
“کیا میں جان سکتا ہوں کہ تم نے انہیں کیوں مارا بلیک مونسٹر؟” اب کی بار اس کے لہجے میں ادب کے ساتھ ساتھ خوف بھی تھا۔
“جھوٹ بول رہے تھے۔میری معصوم سی پرنسس پر الزام لگا رہے تھے تو مار دیا۔”الیکس نے ضبط سے گہری سانس خارج کی تھی۔ اب وہ صحیح معنوں میں بدر کی بات پر عمل کرنے کا سوچ رہا تھا۔ اس لڑکی کا بندوبست کرنا اب بہت
ضروری تھا۔
آج نائل کافی دنوں بعد فارم ہاؤس آیا تھا۔لان میں سنیہا کو واک کرتے دیکھ اس کے قدم رکے تھے۔ سفید رنگ کے ڈھیلے ڈھالے سوٹ میں ملبوس وہ اپنے قدم بہت آہستہ آہستہ قدم بڑھا رہی تھی۔شاید وہ کوئی ورزش کر رہی تھی۔ اسے ہر دو قدم پر برا سا منہ بناتے دیکھ نائل کا قہقہ چھوٹا تھا۔ سنیہا نے مڑ کر پیچھے دیکھا تھا۔ ہلکے جامنی رنگ کی شرٹ میں وہ بےحد دلکش لگ رہا تھا۔اس کے بال جیل کی مدد سے سیٹ تھے۔اس کے چہرے پر یہ ہنسی بہت بھلی لگتی تھی مگر سنیہا کو وہ اس وقت وہ شدید زہر لگا تھا۔وہ اس کی بےبسی کا مذاق اڑا رہا تھا۔اس نے ضبط سے آنسوؤں کو گلے کے اندر اتارا تھا۔اب وہ مزید اس ہرجائی کے سامنے اپنے
قیمتی آنسو بےمول نہیں کر سکتی تھی۔
“ایک تو تم لڑکیوں کی ڈرامے بازیاں ختم ہی نہیں ہوتی۔اتنے دنوں میں تو انسان دس گولیاں کھا کر بھی ٹھیک
ہو جاتا ہے مگر تمہارا تو پیر ہی ٹھیک نہیں ہو رہا۔”چہرے پر تپا دینے والی مسکراہٹ سجائے نائل اس کی جانب بڑھا تھا۔سنیہا نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔
“اگر اتنا ہی درد ہو رہا ہے تو پھر سیڑھیوں سے کودی کیوں تھی؟”ہاتھ پر ہاتھ باندھے وہ اب استفسار کر رہا تھا۔
“میں کودی نہیں بلکہ گری تھی۔”اس نے دانت پر دانت جمائے فورا وضاحت پیش کی تھی۔
“ایک ہی بات ہے۔”نائل نے گویا ناک سے مکھی اڑائی تھی۔
سنیہا منہ کھولے اسے دیکھتی ہی رہ گئی تھی۔
“کیا کودنے اور گرنے میں کوئی فرق نہیں تھا؟”خود پر ضبط کرتے سنیہا نے وہاں سے جانے کا فیصلہ کیا تھا۔
اس کے ایک قدم بڑھاتے ہی اس کا پیر بری طرح پھسلا تھا۔سنیہا کے گرنے سے پہلے ہی نائل اسے تھام چکا تھا۔
دونوں کے دل نے ایک ساتھ ہی بیٹ مس کی تھی۔سنیہا تو ہمیشہ ہی اس کے لیے جذبات رکھتی تھی مگر آج نائل بھی کچھ محسوس کر رہا تھا۔لیکن وہ اپنے احساسات کی ترجمانی کرنے سے قاصر تھا۔
“چھوڑو مجھے…!”وہ غصے سے گویا ہوئی تھی۔
نائل کا ایک ہاتھ اس کی کمر کے گرد تھا تو دوسرے سے
اس نے سنیہا کا بازو تھام رکھا تھا۔
“چھوڑو مجھے…!”اس نے ایک بار پھر اسی سختی سے کہا تھا۔وہ اس سنگدل کی قربت پر پگھل نہیں سکتی تھی۔جو زخم وہ اسے دے چکا تھا وہ بھولنا ناممکن تھا۔ اس کی کمر پر گرفت مضبوط کرتے وہ اس کے چہرے پر جھکا تھا۔سنیہا
نے سانس روکے سختی سے آنکھیں میچی تھیں۔
“پکا چھوڑ دوں…؟”اس کے کان کے پاس نائل نے ہلکی سی سرگوشی کی تھی۔
“ہاں…!”سنیہا کے گلے سے پھنسی پھنسی سی آواز نکلی تھی۔
“Are you sure?”
سنیہا نے اس بار پورے زور و شور سے سر ہلایا تھا جبکہ آنکھیں ابھی بھی بند تھیں۔
“As you wish!”
نائل نے اسے اپنی گرفت سے آزاد کر دیا تھا مگر جس انداز سے اس نے اسے رہائی دی تھی،وہ دھڑام سے نیچے گری تھی۔
“آہ…!”اس بیچاری کا پیر تو پہلے ہی ٹوٹ چکا تھا مگر اب تو اس کا سارا بدن ہی جیسے چکنا چور ہو گیا تھا۔
اتنی تکلیف پر اس کی آنکھوں سےآنسو جاری ہو گئے تھے۔
“تم رو کیوں رہی ہو؟”نائل فکرمندی سے ایک گھٹنا زمین پر ٹکائے اس کے پاس بیٹھا تھا۔سنیہا نے عجیب نظروں سے اسے دیکھا تھا پھر اگلے ہی لمحے اس کی آنکھیں ایک بار پھر برسنے لگی تھیں۔
“کیا ہوا ہے؟”نائل کو اس کے رونے کی وجہ بالکل سمجھ نہیں آئی تھی۔
“I hate you!”
وہ اپنا پیر پکڑے ہچکیوں کے درمیان بامشکل بول پائی تھی۔
“اب میں نے کیا کر دیا؟”وہ اچھا خاصا مشتعل ہوا تھا۔
“تم نے مجھے چھوڑا کیوں؟۔”یہ شکوہ تھا۔
“تم ہی نے تو کہا تھا۔”وہ سخت جھنجھلایا تھا۔نجانے یہ لڑکی چاہتی کیا تھی؟
وہ جو مرضی کر لے مگر وہ خوش ہی نہیں ہوتی تھی۔
“اچھا ٹھیک ہے،اٹھو!”اس کی مسلسل سسکیوں سے تنگ آ کر نائل نے اس کے آگے اپنا ہاتھ پھیلایا تھا۔
“نہیں چاہیئے تمہاری مدد!اب میں سارا دن یہی بیٹھی رہوں گی بلکہ رات بھی یہی گزاروں گی۔”اپنے آنسو بےدردی سے صاف کرتے سنیہا نے غصے سے کہا تھا۔
“تم سچ میں یہی چاہتی ہو؟”نائل نےیقین کرنا چاہا تھا۔
“ہاں…!”اس نے تپ کر کہا تھا۔
“ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی!”وہ کندھے اچکاۓ کھڑا ہوا تھا۔سنیہا بیچاری تو اپنی قسمت پر جتنا ماتم کرتی اتنا کم تھا۔نجانے وہ کس قسم کا شخص تھا؟ جو بھی تھا،وہ اس کی سمجھ سے بالکل باہر تھا۔
“مجھے مدد چاہیئے۔”اس کے اندرجانے سے پہلے ہی وہ جھٹ سے بولی تھی۔ماتھے پر تیوری چڑھائے وہ واپس
گھوما تھا۔نائل نے اسے سہارا دیے اٹھایا تھا۔اب وہ اسے اس کے کمرے تک لے جا رہا تھا۔سنیہا اس شخص کی سائیکی سمجھنے کی کوشش کرنے لگی تھی۔یا تو وہ یہ سب جان بوجھ کر کرتا تھا یا پھر وہ شاید غلط اور صحیح کے درمیان فرق نہیں کر پاتا تھا۔
“تمہیں کچھ چاہیئے؟”اسے بستر پر بٹھاتے نائل نے سنجیدگی سے پوچھا تھا۔بیڈ کروان سے ٹیک لگاتے سنیہا نے نفی میں سر ہلایا تھا۔
“ایک بات پوچھوں تم سے…؟”اچانک کچھ یاد آنے پر سنیہا نے آنکھیں کھولے اس کی جانب دیکھا تھا۔نائل نے سر کو ہلکا سا خم دیے اسے اجازت دے دی تھی۔
“جس دن تمہیں گولی لگی تھی،اس دن تمہارے پاس فون موجود تھا نا؟” نائل نے آہستگی سے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
“پھر تم نے کیوں مدد کے لیے کسی کو نہیں بلایا؟”یہ سوال اسے ہمیشہ ہی پریشان کرتا تھا۔
“تم جیسی بھی ہو لیکن ہو تو میری عزت،میں نہیں چاہتا تھا کہ اس حلیے میں تمہیں کوئی بھی دیکھے۔”
سنیہا کو اچھے سے یاد تھا کہ اس دن بھی گاڑی میں بیٹھے بیٹھے ہی اس نے ملازمہ سے پہلے چادر منگوائی تھی۔اور اس کے گھر کے گارڈز،یہاں تک کے مالی بھی سنیہا سے ہمیشہ نظریں جھکا کر ہی بات کرتے تھے۔
“اس لیے تم مجھ سے میری قیمت پوچھ رہے تھے؟”باقی سب ایک طرف،اور یہ بات ایک طرف…وہ اس تلخ بات کو بھلا نہیں پا رہی تھی۔
“غصے میں تھا میں اس وقت!”نائل نے پیشانی مسلتے کہا تھا۔
“کب نہیں ہوتے؟”وہ بڑبڑاتی تھی۔نائل کے تیز کان اس کی بڑبڑاہٹ باآسانی سن چکے تھے۔
لگے ہاتھوں آج یہ سوال بھی پوچھ ہی ڈالا تھا۔اس امید کے ساتھ کہ شاید آج کوئی تسلی بخش جواب مل جائے۔
“میں تمہارے لیے کچھ لایا ہوں۔”اس کے قریب بستر پر بیٹھتے نائل نے اس کے سامنے جیولری باکس رکھا تھا۔سنیہا کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا۔وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے
کبھی نائل تو کبھی اس باکس کو دیکھ رہی تھی۔
“کھولو…!”نائل کی آواز پر وہ ہوش میں آئی تھی۔سنیہا نے وہ باکس پکڑے کھولا تھا۔ اندر ایک بہت ہی خوبصورت بریسلیٹ تھا۔سنیہا نے ستائشی نگاہوں سےاسے اٹھایا تھا۔
“مجھے پتا ہے کہ یہ تم سے زیادہ خوبصورت ہے اور تمہاری کلائی پر بالکل اچھا نہیں لگے گا مگر پھر بھی میں لے آیا۔”سنیہا نے وہ بریسلیٹ اٹھا کر نائل کے منہ پر پٹخا تھا۔
آخر یہ تحفہ دینے کا کون سا انداز تھا اور تو اور وہ اس کی دودھیا کلائیوں کو سیاہ کہہ رہا تھا۔
“تم مہنگے تحفے کے قابل ہی نہیں ہو۔”اس کی اس حرکت پر وہ آگ بگولہ ہو گیا۔
“تم صحیح کہہ رہے ہو۔آئیندہ میرے لیے کوئی تحفہ مت لانا۔”سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ وہ منہ پھیر گئی تھی۔
“تم…!”نائل غصے سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
“ایک تو میں سب کچھ بھلا کر تمہارے ساتھ اچھا سلوک کر رہا ہوں اور ایک تم ہو کہ…!”وہ اسے دیکھنے پر مجبور ہو گئی تھی۔آخر طنز کے تیر برسا کروہ کون سا اچھا سلوک کر رہا تھا؟
“تمہارے باپ نے تمہیں ایک غیر معمولی چیز کی طرح مجھے بیچ دیا۔میں چاہتا تو نجانے کیا کیا نہیں کر سکتا
تھا تمہارے ساتھ،لیکن نہیں!میں سب کچھ بھلا کر ایک اچھا شوہر بننے کی کوشش کر رہا ہوں اور تم مجھے
مسلسل نخرے دکھا رہی ہو۔”
“تم براہ مہربانی یہ کوشش ترک کر دو۔یہ تمہارے بس کی بات نہیں ہے۔”سنیہا کے سر میں ہتھوڑے بجنے لگے تھے۔وہ شخص اسے کسی دن مکمل طور پر پاگل کر دیتا۔
“تم…!”نائل نے انگلی اٹھائے لب بھینچے اس کی جانب دیکھا تھا۔
“تم ایک دن خود تسلیم کرو گی۔تم ایک دن خود کہو گی کہ
Nile you are the best husband in the world.”
نائل غصے سے پیر پٹختا باہر گیا تھا جبکہ سنیہا اپنا سر تھامے بستر پر ڈھے گئی تھی۔
