93.4K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Alhamd se Wannass (Episode 19)

اچھے شوہر بننے کا عزم لیے وہ تقریبا ایک گھنٹے بعد پھر سنیہا کے کمرے میں گیا تھا۔وہ بستر پر گہری نیند سو رہی تھی۔نائل نے اسے جگانے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا تھا۔پھر نجانے کیوں وہ رک گیا تھا۔وہ کچھ دیر اس کے چہرے کے نقوش کو دیکھتا رہا تھا پھر وہ اس کے قریب بستر پر بیٹھا تھا۔نائل نے اس کے چہرے پر جھولتی لٹ کو اپنی انگلی کی مدد سے اس کے کان کے پیچھے اڑسا تھا۔سنیہا کی آنکھ فورا کھلی تھی۔اس سے پہلے کہ وہ چیختی،نائل نے اس
کے منہ پر ہاتھ رکھا تھا۔سنیہا کا دل تو جیسے باہر آنے کو
تھا۔وہ اس سنگدل کی قربت برداشت نہیں کر سکی تھی۔اس نے فورا نائل کو خود سے دور دکھیلا تھا۔اب وہ اپنے گلے پر ہاتھ رکھے گہری گہری سانسیں لے رہی تھی۔
“شرم نہیں آئی تمہیں اتنی گھٹیا حرکت کرتے ہوئے؟”وہ اس پر چڑھ دوڑی تھی۔
Excuse me?”
نائل کو سمجھنے میں دقت پیش آئی تھی۔
“تم میری نیند کا فائدہ اٹھا کر مجھے جان سے مارنا چاہتے تھے نا…؟”
What …?”
نائل کا دماغ بھک سے اڑا تھا۔وہ اس کے بارے میں کیا کیا سوچتی تھی۔
“اگر مجھے ایسا کرنا ہوا تو تمہارے جاگتے ہوئے کروں گا۔نیند میں درد تھوڑی محسوس ہو گا تمہیں۔”نائل کا انداز بالکل عام تھا۔سنیہا نے نفرت سے منہ پھیرا تھا۔وہ شخص نہیں سدھر سکتا تھا۔
“میرے کمرے میں کیا کر رہے ہو؟”وہ سیدھا مدعے پر آئی تھی۔ایک بات تو طے تھی کہ اس کا یہ جلاد شوہر اسے کسی قیمت پر آج سونے تو نہیں دے گا۔
“شاید یہ میرا گھر ہے تو اس حساب سے میں کہیں بھی آ جا سکتا ہوں۔”سنیہا خاموش ہی رہی تھی۔اس کی حالت اس وقت بالکل بھی ایسی نہیں تھی کہ وہ اس بددماغ شخص کے ساتھ بحث کر سکے۔
ملازمہ کے دروازہ ناک کرنے پر وہ دونوں چونکے تھے۔اصل جھٹکا تو سنیہا کو تب لگا تھا جب اس نے ملازمہ کے ہاتھ میں ڈش دیکھی تھی۔اس ڈش میں دودھ سے بھرا ہوا ایک بڑے سائز کا جگ تھا۔ملازمہ کے جانے کے بعد سنیہا نے
خوف زدہ نظروں سے نائل کی جانب دیکھا تھا۔وہ مسکرا رہا تھا یا پھر شاید مسکرانے کی کوشش کر رہا تھا۔اپنی بہن کے علاؤہ اس نے آج تک کسی سے محبت اور نرمی سے بات نہیں کی تھی۔
“یہ تمہاری صحت کے لیے بہت اچھا ہے۔”اس نے گلاس میں دودھ انڈیلتے سنیہا کی جانب بڑھایا تھا۔بہت ڈھونڈھنے پر جو چیز اسے گوگل سے ملی تھی وہ یہی تو تھی۔
“بیماری کی حالت میں بیوی کا خیال رکھنا…”سنیہا کچھ دیر عجیب نظروں سے اسے دیکھتی رہی تھی پھر اس نے اس کے ہاتھ سے گلاس تھاما تھا۔
تھوڑی دیر بعد اس نے خالی گلاس نائل کو تھمایا تھا۔دوسرا جھٹکا سنیہا کو تب لگا تھا جب اس نے نائل کو دوبارہ گلاس بھرتے دیکھا تھا۔
“یہ سارا تمہیں ہی پینا ہے۔”نائل اپنے عام سے لہجے سے سنیہا کے چھکے چھڑا گیا تھا۔
“تت…تم سیریس ہو؟”سنیہا نے ایک نظر اس بڑے سائز کے جگ کو دیکھا تھا تو دوسری نظر اپنے شوہر کو…جس کے چہرے پر بلا کی سنجیدگی تھی۔
“میرا تمہارا کیا مذاق…؟”وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہا تھا۔ان دونوں کے درمیان کہاں ایسے تعلقات تھے کہ وہ کوئی بھی بات مذاق میں کہہ سکے۔لیکن سنیہا کو تو سب مذاق ہی لگ رہا تھا۔اس کی زندگی اب ایک مذاق بن چکی تھی۔
“تم پلیز یہاں سے چلے جاؤ۔میں اس وقت تمہیں مزید برداشت نہیں کر سکتی۔”اس نے روندھی آواز کے ساتھ نائل کے آگے باقاعدہ ہاتھ جوڑے تھے۔
“میں تو تمہاری فکر کر رہا ہوں۔”نائل نے جھنجھلا کر کہا تھا۔وہ لڑکی تو کسی صورت خوش نہیں ہو رہی تھی۔
“پلیز مت کرو۔تمہیں اللہ کا واسطہ ہے۔”وہ اس وقت بےبسی کی انتہا پر تھی۔
“تم…!”نائل کے لب بھینچ گئے تھے۔
“جا رہا ہوں۔اب واپس نہیں آؤں گا۔تم میری توجہ کے قابل ہی نہیں ہو۔”وہ غصے سے سر جھٹکتا وہاں سے اٹھا تھا۔

نائل اپنے کمرے میں لیٹا ہوا تھا جب ماہم نے اس کے کمرے کا دروازہ ناک کیا تھا۔نائل کی آنکھوں میں خوشگوار حیرت
ابھری تھی۔
“کچھ بات کرنی تھی تم سے۔”ماہم کا لہجہ بےحد سنجیدہ تھا۔
“بیٹھیں پھوپھو!”وہ احتراما کھڑا ہوا تھا۔
“میں نے تمہارے لیے لڑکی ڈھونڈھی ہے۔اگر تمہیں کوئی اور پسند ہے تو بتا دو۔”ماہم نے سپاٹ لہجے میں کہا تھا جبکہ نائل کے چہرے پر ایک رنگ آیا تھا تو دوسرا گیا تھا۔
“میں اس بارے میں کوئی ٹال مٹول برداشت نہیں کروں گی۔اب بہت وقت گزر گیا ہے نائل!بھول جاؤ اسے…”ماہم
نے اس کے فق پڑتے چہرے کی طرف دیکھتے کہا تھا۔
“پھوپھو پلیز…!”اپنے مٹھیاں بھینچے اس نے بےبسی سے احتجاج کیا تھا۔
“نہیں نائل!آج میں تم سے منت کرتی ہوں۔اپنی زندگی میں آگے بڑھ جاؤ۔اس لڑکی کو اپنے دل و دماغ سے نکال دو۔”ماہم اس کے مقابل کھڑی ہوئی تھی۔
“کیسے بھول جاؤ؟بتائیں!کیسے بھول جاؤ؟”تمام تر لحاظ کو سائیڈ پر رکھے وہ چلایا تھا۔ماہم اس کے انداز پر دنگ رہ گئی تھی۔
“آپ مجھے بھولنے ہی نہیں دیتی۔ہر بار یاد دلانا ضروری ہے کیا؟اور جہاں تک بات ہے شادی کی…تو اس کی آپ
فکر مت کریں۔ہر دوسرے دن کرتا ہوں میں۔”وہ غصے سے سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے گیا تھا۔
ٹیرس پر آتے ہی اس نے جیب سے لائٹر نکالے سیگریٹ سلگائی تھی۔چہرہ غصے سے سرخ پڑ چکا تھا۔ماتھے پر
شکنیں واضح تھیں۔ہاتھوں کی نسیں پھولی ہوئی تھیں۔
“کسے پسند کیا ہے آپ نے میرے لیے؟اس گوار کو،جو مجھ سے نظریں ملا کر بات تک نہیں کر سکتی۔ارے جو مجھ سے نظریں ملا کر بات نہیں کر سکتی وہ میرے ساتھ قدم سے
قدم ملا کر کیسے چلے گی؟”سگریٹ کا دھواں ہوا میں چھوڑتے وہ گہری گہری سانسیں لے رہا تھا۔
“مجھے بولڈ اور کانفیڈینٹ لڑکیاں پسند ہیں نا کہ یہ گھریلو ٹائپ…!”اس نے ہاتھ میں موجود سگریٹ کو اپنی مٹھی میں مسلا تھا۔سگریٹ نے اس کے ہاتھ پر نشان چھوڑے تھے مگر وہ احساسات سے عاری شخص درد محسوس کرنے کی صلاحیت کہاں رکھتا تھا؟
“کم ان!تھوڑی تو گروم ہو جاؤ۔”
“یہ آپ آپ کیا لگا رکھی ہے۔مجھے ‘تم’ کہہ کر پکارا کرو۔”نائل نے ضبط سے آنکھیں میچی تھیں۔اس کی آنکھ
سے آنسو بہہ کر گال میں کہیں جذب ہوا تھا۔
“نائل…!”ماہم کی آواز پر خیالوں کا تسلسل ٹوٹا تھا۔
“تم ٹھیک ہو؟”ماہم نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔نائل نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔وہ چند پل گہری گہری سانسیں لیتا رہا تھا۔
“میں اسے کھلے بالوں میں دیکھنا چاہتا تھا مگر وہ ہمیشہ حجاب لیتی تھی۔اس کی جھکی نظروں سے مجھے کوفت ہوتی تھی۔”نائل کی آواز بھرا گئی تھی۔
“آج وہی جھکی نظریں مجھے یاد آتی ہیں۔اس نے کہا تھا کہ میں ایک دن اسے دنیا کی ہر عورت میں تلاش کروں گا مگر وہ مجھے کہیں نہیں ملے گی۔”اس نے سرخ آنکھوں سے ماہم کی طرف دیکھا تھا۔
“اس نے ٹھیک کہا تھا۔اس نے ٹھیک کہا تھا پھوپھو!”وہ ماہم کے گلے لگا تھا۔نائل کو اس حالت میں دیکھ ماہم کی آنکھیں بھی برسنے لگی تھیں۔
“میں اس سے نفرت کرنا چاہتا ہوں۔وہ دھوکہ باز تھی۔میں پوری کوشش کر رہا ہوں پھوپھو!میں موو آن کرنے کی پوری کوشش کر رہا ہوں۔”ماہم سے الگ ہوتے اس نے جیسے اسے یقین دلایا تھا۔
“تھوڑا وقت اور دے دیں پھوپھو!کر لوں گا شادی۔”اس نے نظریں چرائی تھیں۔وہ ماہم کو نہیں بتا سکا تھا کہ وہ شادی کر چکا ہے۔ماہم نے اس کی حالت سمجھتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا تھا۔

ماہم کے وانیہ کی طبیعت خرابی کا بتانے پر نائل فورا اس کے کمرے کی جانب بھاگا تھا۔وہ بستر پر چت لیتی ہوئی تھی۔
“وانیہ…!”نائل فکرمندی سے بستر کی جانب بڑھا تھا۔
“بھائی!”وہ اپنا سر تھامتے اٹھ کر بیٹھی تھی۔
“کیا ہوا ہے میرے بچے کو؟”نائل نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھے اس کا تاپ چیک کیا تھا۔
“کچھ نہیں!بس سر میں تھوڑا درد ہے۔”وہ مدھم سا مسکرائی تھی جبکہ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے واضح
تھے۔
“آپ اپنا خیال کیوں نہیں رکھتی؟”نائل نے اسے پیار سے ڈانٹا تھا۔
“بھائی پلیز!میرے سر میں بہت درد ہے۔کیا آپ پلیز مجھے میڈیسن دے دیں گے۔وہاں سامنے ہی کہیں پڑی ہے۔”اس نے ٹیبل کی طرف اشارہ کیا تھا۔
“ہاں میرا بچہ!کیوں نہیں…”وہ مسکراتے ہوئے سامنے رکھی میز کی جانب بڑھا تھا۔ٹیبل کے پاس پہنچتے ہی کسی چیز کے پیر کے نیچے آنے کی وجہ سے اس کا پیر پھسلا تھا۔بیلنس برقرار رکھنے کے لیے اس نے بک شیلف کا سہارا لیا تھا۔اس کے شیلف پر ہاتھ رکھتے ہی کتابوں کا انبار نیچے گرا تھا۔ان کتابوں کے درمیان کچھ اور بھی تھا۔نائل نے جھک کر اس چیز کو اٹھایا تھا۔
“کیمرہ…؟”نائل نے الٹ پلٹ کر اس چھوٹے سے کیمرے کو دیکھا تھا۔اب اس نے بک شیلف کا جائزہ لیا تھا۔وہاں ایک جگہ پر ایک سوراخ کیا گیا تھا۔یعنی یہ کیمرہ فکس کیا
گیا تھا۔کتابوں کے گرنے کے ساتھ وہ بھی نیچے گر آیا تھا۔
“بھائی میڈیسن ملی؟”وانیہ کی آواز پر وہ ہوش میں آیا تھا۔
“ہاں میری جان!”نائل نے اب وہ کیمرہ اپنے کوٹ کی جیب میں رکھا تھا۔ادھر ادھر متلاشی نظروں سے دیکھنے کے بعد اسے دوائی کا پتا مل گیا تھا۔وانیہ کو دوائی کھلائے وہ اسے سونے کی تاکید کرتے کمرے سے باہر گیا تھا۔
“سعدیہ کو بلاؤ۔”اس نے اپنی گھر کی ایک ملازمہ کو حکم صادر کیا تھا۔
وہ لاؤنچ میں موجود صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھا تھا جب سعدیہ وہاں آئی تھی۔
“یہ کیا ہے؟”بغیر کسی لگی لپٹی کے اس نے وہ کیمرہ سامنے ٹیبل پر پٹخے پوچھا تھا۔
“یہ…یہ تو کیمرہ لگ رہا ہے۔”سعدیہ نے بغور اس چھوٹے سائز کے کیمرے کو دیکھا تھا۔
“وانیہ کے کمرے میں یہ کیمرہ کیا کر رہا تھا؟”نائل نے ایک سخت نگاہ اس پر ڈالی تھی۔
“جی…؟؟میں سمجھی نہیں…”نائل کی قہر زدہ نگاہوں نے اسے خوف میں مبتلا کر دیا تھا۔
“اب سمجھ جاؤ گی۔”ایک جھٹکے سے اٹھتے ہی اس نے سعدیہ کو گلے سے دبوچا تھا۔اس کی سانسیں اکھڑنے لگی تھیں۔
“نائل!یہ کیا کر رہے ہو تم…؟”محسن ابھی ابھی گھر کے اندر داخل ہوا تھا۔اس نے فورا سعدیہ کو اس کی گرفت سے چھڑوایا تھا۔
“یہ سوال تو مجھے تم سے پوچھنا چاہیئے۔آخر یہ کیمرہ میری بہن کے کمرے میں کیا کر رہا تھا؟”سعدیہ کو چھوڑ کر وہ محسن پر غرایا تھا۔
“یہ تم کیا کہہ رہے ہو نائل؟”محسن کو زبردست شاک لگا تھا۔
“سیدھی طرح بتاؤ،کون ہو تم اور کس مقصد کے تحت یہاں آئی ہو؟”نائل ایک بار پھر غصے سے سعدیہ کی جانب بڑھا تھا۔وہ اپنا گلا پکڑے کھانستے ہوئے پیچھے قدم اٹھا رہی
تھی۔
“بتاؤ ورنہ وہ حشر کروں گا کہ زندگی بھر یاد رکھو گی۔”شور شرابے کی وجہ سے وانیہ اور ماہم دونوں ہی وہاں آئی تھیں۔
“میں بےقصور ہوں۔میں نے صرف وہی کیا جو مجھے کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔”وہ روتے ہوئے مسلسل اپنا گلا سہلا رہی تھی۔
“کس نے کہا؟”وہ دھاڑا تھا۔
“محسن سر نے کہا تھا کہ وانیہ میڈم کے کمرے میں کیمرہ فکس کرنا ہے۔وہ خود ان کی ہر حرکت پر نظر رکھے گے۔”
ایک چھت ہی معنوں وہاں موجود سب افراد پر گری تھی۔نائل نے بےیقینی سے محسن کی طرف دیکھا تھا۔
محسن کا دماغ تو خود سعدیہ کی بات پر ماؤف ہو چکا تھا۔
“نائل!یہ سب جھوٹ ہے۔وانیہ میری بہنوں
جیسی ہے۔میں اتنی نیچ حرکت کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔”نائل کی خاموشی اسے شدید تشویش
میں مبتلا کر گئی تھی۔
“تم یہاں سے چلے جاؤ محسن!”نائل نے نہایت ضبط کے ساتھ کہا تھا۔
“تمہیں مجھ پر یقین نہیں ہے؟”اس کے اندر بہت کچھ ٹوٹا تھا۔
اس نے سعدیہ کو وانیہ پر نظر رکھنے کا ضرور کہا تھا مگر اتنی گری ہوئی حرکت کرنے کا وہ سوچ بھی نہیں سکتا
تھا۔
“میں اس وقت کچھ نہیں سننا چاہتا۔تم پلیز یہاں سے چلے جاؤ۔”نائل نے صبر کا بھرپور مظاہرہ کیا تھا۔محسن نے ایک نظر سعدیہ پر ڈالی تھی جس کا چہرہ بالکل سپاٹ تھا
اور اب اس نے اس کی سیدھ میں کھڑی بلا کو دیکھا تھا جس کے لبوں پر تپا دینے والی مسکراہٹ تھی۔
سعدیہ تو محسن کی بےحد وفادار تھی۔وہ بکنے والوں میں سے نہیں تھی۔نجانے وانیہ نے ایسا کیا کیا تھا کہ سعدیہ
جھوٹ بول رہی تھی۔محسن شکست خور قدموں سے واپس پلٹ گیا تھا۔سعدیہ کو گھر سے نکال دیا گیا تھا اور ان سب میں اگر کوئی سب سے زیادہ خوش تھی تو وہ وانیہ تھی۔