Alhamd se Wannass By Umaima Shafeeq Qureshi readelle50265 Alhamd se Wannass (Episode 33)
Rate this Novel
Alhamd se Wannass (Episode 33)
نائل بیڈ کراون سے ٹیک لگا کر بیٹھا لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا جب سنیہا کمرے میں داخل ہوئی تھی۔
“نائل!کھانا تیار ہے آجاؤ۔”وہ کہتے ساتھ ہی واپس مڑنے لگی تھی جب نائل کی آواز پر اس کے قدم رکے تھے۔
“اگر تم میری تھوڑی سی عزت کر لو گی تو اس میں کوئی حرج تو نہیں….!”سنیہا نے گہری سانس خارج کی تھی۔
“نائل جی!کھانا تیار ہے۔براہ مہربانی تشریف لے آئیں۔”اس نے
چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ سجائے نہایت تحمل سے کہا تھا۔
“آنکھیں جھکا کر بھی کہہ سکتی ہو۔”لیپ ٹاپ پر ٹائپ کرتے اس نے ایک نظر سنیہا پر ڈالی تھی۔اس بات پر وہ ہتے
سے اکھڑ گئی تھی۔
“بیوی ہوں آپ کی غلام نہیں….!اور اگر کھانا کھانے میں
دلچسبی رکھتے ہیں میاں جی تو تشریف لے آئیں ورنہ بھوکے سوئیں۔”وہ غصے سے پیر پٹختی وہاں سے گئی تھی۔
“جتنا اچھا میں شوہر ہوں نا،مجھے اتنی ہی نافرمان بیوی
ملی ہے۔”نائل نے جان بوجھ کر اونچی آواز میں کہا تھا تا کہ سنیہا باآسانی سن سکے۔
“اچھے شوہر جی!اگر دو منٹ میں آپ نیچے نا آئے نا تو آج بھوکے سونا پڑے گا۔”زینے اترتے سنیہا نے بھی ہانک لگائی تھی۔
لیپ ٹاپ سائیڈ پر رکھے وہ منہ میں بڑبڑاتا ہوا وہاں سے اٹھا تھا۔
سنیہا نے ڈائینگ ٹیبل پر کھانا چن دیا تھا۔نائل نے خاموشی
سے بغیر کسی مین میخ کے کھانا کھایا تھا۔یہ بات سنیہا کو
بالکل ہضم نہیں ہوئی تھی۔اسے نائل کے طعنوں کی عادت ہو گئی تھی۔
“کھانا کیسا بنا ہے؟”وہ پوچھے بغیر نہیں رہ سکی تھی۔
“اچھا ہے۔”نیپکین سے منہ تھپکتے نائل نے سرسری سے انداز
میں کہا تھا۔سنیہا کو بہت بری طرح کھانسی ہوئی تھی۔
“تم ٹھیک ہو؟”نائل نے پانی کا گلاس اس کی جانب بڑھائے استفسار کیا تھا۔
سنیہا نے پانی ایک ہی سانس میں حلق سے اتارا تھا۔
“تم کسی دن مجھے پاگل کر دو گے۔”اپنا گلا تھامتے وہ گہری گہری سانسیں لینے لگی تھی۔
“میں یہ نہیں کر سکتا کیونکہ تم آل ریڈی پاگل ہو۔”سنیہا نے سخت تاثرات سے اسے گھورا تھا۔مگر مقابل کے چہرے پر آج بھی وہی لاپروائی اور سنجیدگی تھی۔
“ہم کب تک یہاں رہے گے؟”وہ کتنے عرصے سے یہ سوال پوچھنا چاہتی تھی مگر ہمت نہیں کر پا رہی تھی۔اسے کہیں نا کہیں آج بھی نائل کے غصے سے ڈر لگتا تھا۔
“مطلب….؟”اس نے ناسمجھی سے سنیہا کی جانب دیکھا تھا۔
“مطلب یہ کہ آپ مجھے اپنے گھر کب لے کر جائے گے؟”نائل کے چہرے کا رنگ زرد پڑا تھا۔
“اور آپ کی فیملی میں کون کون ہے؟”
“کوئی نہیں….!”نائل نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا تھا۔
“میرے پیرینٹس کی ڈیتھ ہو چکی ہے۔”
“اوہ…!”سنیہا کو افسوس ہوا تھا۔
“اور آپ کی بہن….؟”اس کی بہن اسے بہت اچھی طرح سے
یاد تھی۔اس کی وجہ سے تو نائل نے اس پر اتنا تشدد کیا تھا۔
“وہ بیرون ملک ہوتی ہے۔”اس نے سنیہا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بڑی صفائی سے جھوٹ بولا تھا۔
وانیہ اس کا سب کچھ تھی۔وہ ہر گز بھی اس کی نظروں میں نہیں گرنا چاہتا تھا۔بہتر یہی تھا کہ سنیہا اور وانیہ کا
کبھی آمنا سامنا نا ہو۔
“ہم یہاں کیوں رہتے ہیں اور آپ کیوں کبھی کبھی یہاں آتے
ہیں۔ہم آپ کے گھر کیوں…”
“سنیہا….!”نائل نے نرمی سے اس کا ہاتھ تھاما تھا۔
“تمہارے لیے صرف میرا وجود،میرا ساتھ اہم ہونا چاہیئے۔ہم
جہاں بھی رہیں،یہ اہم نہیں ہے۔دوبارہ اس بارے میں بات
نہیں ہو گی۔”اس کے اتنی اپنائیت سے کہنے پر سنیہا خاموش ہو گئی تھی۔وہ کہہ تو صحیح رہا تھا،سنیہا کے لیے
نائل کا ساتھ ہی اہمیت رکھتا تھا۔
نائل اور محسن صبح کے وقت پارک میں جاگنگ کر رہے تھے جب محسن کو اس کی خاموشی کھلنے لگی تھی۔
“اگر انسان کی شکل اچھی نا ہو تو اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ وہ کچھ بولے ہی نا….”محسن نے شرارت سے اس پر
طنز کیا تھا۔
“اور جس انسان کی شکل،عقل اور زبان تینوں ہی بےکار ہو اسے چاہیئے کہ ڈوب کر مر جائے۔”وہ نائل آفندی تھا۔وہ اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کا قائل تھا۔
“منہ کیوں لٹکا ہوا ہے تمہارا؟”محسن نے سر جھٹکتے سنجیدگی سے پوچھا تھا۔
“مینیج نہیں ہوتا مجھ سے،کبھی فارم ہاؤس تو کبھی گھر….سنیہا کہتی ہے کہ میں مستقل طور پر اس کے ساتھ
کیوں نہیں رہتا اور وانیہ کہتی ہے کہ میں مستقل طور پر
ان کے ساتھ کیوں نہیں رہتا۔”نائل نے سرد آہ بھری تھی۔
“تو پھر بھابھی کو گھر لے جاؤ سمپل!”
“وانیہ کیا سوچے گی میرے بارے میں کہ میں نے چھپ کر شادی کر لی۔”اسے اب بھی صرف وانیہ کی ہی فکر تھی۔
“تو پھر جیسا چل رہا ہے ویسا چلنے دو۔”محسن نے آسان حل پیش کیا تھا۔
“ہمم…!”نائل نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
“ویسے زن مریدی کہاں تک پہنچی؟”محسن نے لب دبائے شرارت سے پوچھا تھا۔
“عروج تک….!وہ سارے کام کرنے پڑ رہے ہیں جو کرنے کا کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔”وہ صحیح کہہ رہا تھا۔لڑکیوں کے ساتھ شاپنگ،لانگ ڈرائیو پر جانا اسے شدید زہر لگتا تھا مگر اب وہ یہ سارے کام کر رہا تھا۔
اس کی بات پر محسن نے دل کھول کر قہقہ لگایا تھا۔
“سنیہا واقعی بہت خوش قسمت ہے جو اسے مجھ جیسا شوہر ملا ہے۔”نائل نے خود کو سراہتے ہوئے کہا تھا۔
اس بات پر محسن نے بامشکل قہقہ ضبط کیا تھا۔وہ کتنا اچھا شوہر تھا یہ تو صرف اس کی بیوی ہی بتا سکتی تھی۔
اور محسن کو یقین تھا کہ سنیہا کے خیالات یقینا نائل کے خیالات سے مختلف ہوں گے۔
“لیکن بیویوں کے معاملے میں نا میری قسمت بہت خراب ہے۔فرنبردار بیوی تو میری قسمت میں ہی نہیں لکھی۔ایک وہ پہلے والی تھی جسے میں کہہ کہہ کر تھک گیا تھا کہ مجھ سے نظریں ملا کر بات کیا کرو مگر مجال ہے جو اس نے کبھی میری بات مانی ہو اور ایک یہ آخری والی ہے جس سے میں کہہ کہہ کر تھک گیا ہوں کہ نظریں جھکا کر بات کیا کرو مگر وہ میری سنتی ہی نہیں….”کچھ فاصلے پر
موجود درخت پر نظریں جمائے نائل نے نہایت افسوس سے
کہا تھا۔
“باقی کی انیس بیویوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟”محسن اب بھی شرارت کے موڈ میں تھا۔
“وہ خاصی فرنبردار تھیں۔”نائل کے چہرے کی سنجیدگی پر
محسن گردن پیچھے کی طرف کیے پاگلوں کی طرح ہنسا دیا تھا۔
“افسوس کہ وہ تمہاری اصل بیویاں نہیں تھیں۔”اس نے سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ بامشکل کہا تھا۔
“صد افسوس!”نائل نے اس انداز سے سر نفی میں ہلایا تھا جیسے وہ واقعی اپنی نام نہاد انیس بیویوں کو بےحد مس کر رہا ہو۔وہ بیویاں جنہیں اس نے خود ہی جہنم واصل کیا تھا۔
آج مصطفی ہارون سے ملنے اس کے آفس گئے تھے۔وہ کافی دیر اضطراب کا شکار رہے تھے۔ان کے چہرے کی یہ پریشانی دیکھ کر ہارون نے خود ہی بات کا آغاز کیا تھا۔
“کوئی مسئلہ ہے کیا؟؟”
“نہیں تو…!”انہوں نے نظریں چرائی تھیں۔
“تم مجھ سے کوئی بھی بات شیئر کر سکتے ہو مصطفی۔”ہارون نے اسے اعتماد میں لیا تھا۔اور مصطفی نے بھی بالآخر سچ بولنے کا فیصلہ کر ہی لیا تھا۔
“میں تم سے معذرت خواہ ہوں ہارون مگر یہ شادی نہیں ہو سکتی۔میرا بیٹا نہیں مان رہا۔اس نے مجھے گھر چھوڑنے کی دھمکی دی ہے۔وہ سر پھرا ہے،کچھ بھی کر سکتا ہے۔میں اپنے اکلوتے بیٹے کو کھو نہیں سکتا۔”
“تمہارا بیٹا تمہیں بلیک میل کر رہا ہے اور تم ہو بھی گئے؟”ہارون نے گویا اس کا تمسخر اڑایا تھا۔
“تو پھر میں کیا کروں ہارون…؟”وہ اس وقت بےبسی کی انتہا پر تھے۔
“تم بھی اسے بلیک میل کرو۔”ہارون کی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی۔
“کیا مطلب…؟”
“میری بیٹی تمہاری بہو نہیں بن سکتی مگر تمہاری بیٹی تو میری بہو بن سکتی ہے نا…”ہارون نے مسکراتی نگاہوں سے مصطفی کی جانب دیکھا تھا۔
“یہ تم کیا کہہ رہے ہو ہارون…؟تم نے ایسا سوچا بھی کیسے…؟میری مانو بہت چھوٹی ہے۔میں اس کے ساتھ یہ زیادتی کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔”مصطفی کو ہارون کی بات سخت ناگوار گزری تھی۔
“ہم ایسا سچ میں نہیں کرے گے مگر تم اپنے بیٹے کو دھمکی تو دے سکتے ہو نا….؟”مصطفی نے چونک کر اس کی جانب دیکھا تھا۔
ہارون کی بات پر وہ گہری سوچ میں پڑ گئے تھے۔مانو عبداللہ کے لیے بہت اہم تھی۔وہ اس کے لیے کچھ بھی کر سکتا تھا،صوفی سے شادی بھی….
اس شادی کے پیچھے اصل مقصد ایک بزنس ڈیل تھی۔مصطفی اور ہارون کے درمیان ایک سودا ہونا تھا جس کا انحصار اس شادی پر تھا۔
ممصطفی کو آجکل بزنس میں بہت لاس ہو رہا تھا۔ہارون نے اسے کم قیمت پر کچھ شیئرز اور پارٹی دینے کی آفر کی تھی مگر شرط یہ شادی تھی۔جس وجہ سے مصطفی اس بارے میں کافی سیریس تھا ورنہ وہ اپنے بیٹے کی اتنی کم عمری میں شادی ہر گز نہیں کرتے۔
عبداللہ ابھی ابھی گھر کے اندر داخل ہوا تھا جب ملازمہ نے اسے ہارون کے بلاوے کی اطلاع دی تھی۔وہ بادل نخواستہ ان کے کمرے کی جانب بڑھا تھا۔
دل میں تو وہ پکا عہد کر ہی چکا تھا چاہے کچھ بھی ہو جائے وہ اپنی بات سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
دروازہ ناک کرتے وہ اندر داخل آیا تھا۔صطفی نے اسے بیٹھنے کا کہا تھا۔
“صوفی سے شادی نا کرنا تمہارا آخری فیصلہ ہے؟”بغیر کسی لگی لپٹی کے انہوں نے سیدھا استفسار کیا تھا۔
“جی بالکل!”لہجہ ہموار تھا۔
“ٹھیک ہے!تم مت کرو صوفی سے شادی…”عبداللہ نے عجیب نظروں سے اپنے باپ کی جانب دیکھا تھا۔اس کے چہرے پر خوشی کی کوئی رمق در نا آئی تھی۔اسے یقین تھا کہ یقینا اس کے باپ کے دماغ میں کچھ چل رہا ہے۔
“مجھے کسی بھی قیمت پر ہارون سے رشتہ داری قائم کرنی
ہے۔اگر اس کی بیٹی میرے گھر کی بہو نہیں بنے گے تو پھر میری بیٹی اس گھر کی بہو بنے گی۔”عبداللہ کا سانس رکا تھا۔اسے لگا جیسے اسے کسی نے جلتی بھٹی میں جھونک دیا ہو۔
“ڈیڈ….!”وہ چلاتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
“آپ کو پتا ہے آپ کیا کہہ رہے ہیں؟”اس کی آنکھیں پل میں سرخ ہوئی تھیں۔
“جب میرا بیٹا میرا سہارا نہیں بن سکتا تو میری بیٹی میرا سہارا بنے گی۔”مصطفی کے چہرے کا سکون عبداللہ کو مزید طیش دلا گیا تھا۔وہ تو اپنی شادی کو چائلڈ میرج سمجھتا تھا تو پھر مانو تو ابھی بچی تھی۔
“آپ نے ایسا سوچا بھی کیسے…؟میں اپنی معصوم بہن کو کسی بزنس ڈیل کا حصہ نہیں بننے دوں گا۔”مصطفی نے چونک کر اس کی جانب دیکھا تھا یعنی وہ بےخبر نہیں تھا۔
“میں باپ ہوں مانو کا،اس کے لیے تمام فیصلے لینے کا اختیار رکھتا ہوں۔”وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔
“میرے جیتے جی تو یہ ناممکن ہے۔میں ایسا ہر گز نہیں ہونے دو گا چاہے اس کے لیے مجھے اس لڑکے کو قبر میں ہی کیوں نا پہنچانا پڑے۔”وہ دھمکی نہیں دے رہا تھا۔وہ جو کہتا تھا وہ کر کے دکھاتا تھا۔
“آ گئے نا اپنے اصل پر…انہیں سب چیزوں سے روکنے کے لیے تو میں تمہاری پیروں میں ذمہ داری کی بیڑیاں ڈالنا چاہتا ہوں۔آرمی تو تمہیں کبھی جوائن نہیں کرنے دوں گا۔”وہ ان کا اکلوتا بیٹا تھا۔وہ اسے ملک کے لیے وقف نہیں کر سکتے تھے۔
“ان سب میں آرمی کہاں سے آ گئی؟میں اپنا وہ خواب بھول چکا ہوں اور آپ بھی پلیز بھول جائیں۔”نہایت صفائی سے اس نے ایک بار پھر جھوٹ بولا تھا۔
“میں تم سے آخری بار پوچھ رہا ہوں۔کیا تم صوفی سے نکاح کرو گے یا نہیں…؟”
“میں انکار کروں تو….؟”دونوں باپ بیٹا ایک بار پھر آمنے سامنے آئے تھے۔
“پھر میں مانو کی شادی حاتم سے کروا دوں گا۔”وہ بھی ضد پر اڑے تھے۔
“یہ زیادتی ہے ڈیڈ!”اس نے احتجاج کیا تھا۔
“تم صوفی سے نکاح کرو گے یا نہیں…؟”انہوں نے ایک بار پھر اپنی بات دہرائی تھی۔
“ڈیڈ…”
“ہاں یا نا….؟”
“ٹھیک ہے!میں کروں گا۔”اس نے گویا ہار مانی تھی۔اسے اپنے باپ کے ارادے کچھ ٹھیک نہیں لگے تھے۔وہ ہمیشہ تو اپنی بہن کی حفاظت کے لیے یہاں موجود نہیں ہوتا تھا۔اگلے چند دنوں میں بھی اسے ایک مشن پر جانا تھا۔وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کے پیچھے کچھ ایسا ہو جائے جس پر اسے ساری زندگی پچھتانا پڑے۔
مصطفی ایسے ہر گز نہیں تھے مگر جب سے ان کی ہارون کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ بڑھا تھا تب سے وہ کافی حد تک تبدیل ہو گئے تھے۔عبداللہ کو ان کا یہ دوست ہمیشہ سے ہی کھٹکھٹا تھا اور اس کی نظریں…عبداللہ کو ان نظریں سے وحشت محسوس ہوتی تھی۔
شاید کچھ ایسا ضرور تھا جو چھپا ہوا تھا۔
صوفی سے شادی کی حامی بھرنے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ وہ ہارون پر نظر رکھ سکے۔
ــــــــــــــــــ
