Alhamd se Wannass By Umaima Shafeeq Qureshi readelle50265 Alhamd se Wannass (Episode 42)
Rate this Novel
Alhamd se Wannass (Episode 42)
اپنے کمرے میں آتے ہی وانیہ نے دروازہ لاک کیا تھا۔اپنے بال نوچتی وہ زمین پر گرتی ہی چلی گئی تھی۔اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ نائل….اس پر جان چھڑکنے والا اس کا بھائی اس سے اس طرح بدگمان ہو جائے گا۔
شدید ڈپریشن کی وجہ سے اس کے ہاتھ پیر کانپ رہے تھے۔اسے سانس لینے میں دشواری پیش آ رہی تھی مگر آج اسے سنبھالنے والا کوئی نہیں تھا۔آج اسے خود ہی خود کو سنبھالنا تھا۔
“میں دوبارہ نہیں کروں گی۔میں سچ میں دوبارہ نہیں کروں گی۔میں سب چھوڑ دوں گی مگر بھائی مجھ سے ناراض مت ہوں۔پلیز!مجھ سے ناراض مت ہوں۔”بستر سے ٹیک لگائے وہ خود سے ہی ہم کلام تھی۔
“مجھے کچھ نہیں جاننا۔میں لعنت بھیجتی ہوں ہر اک چیز پر….مجھے بس میرا بھائی چاہیئے۔مجھے اور کوئی نہیں چاہیئے۔”اس نے اپنے ہاتھوں کی کپکپاہٹ پر قابو پانے کے لیے بستر کی چادر کو مضبوطی سے اپنے ہاتھوں میں جکڑ لیا تھا۔
“مجھے کوئی نہیں چاہیئے۔”دیوانہ وار اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتی وہ اٹھی تھی۔لڑکھراتے قدموں کے ساتھ اس نے کپ بورڈ سے تمام خطوط نکالے تھے۔وہ خطوط جو ڈیوڈ اسے لکھتا تھا۔
وانیہ نے ہر ایک خط کو ٹکروں میں پھاڑ کر پھینکا تھا۔خطوں کے پرخچے ہر جانب بکھر گئے تھے۔
“مجھے شاہین بھی نہیں چاہیئے۔وہ بھی مطلبی ہے،جھوٹا ہے۔مجھے کچھ نہیں جاننا۔”اس نے آگے بڑھتے ڈرار سے وہ لاکٹ نکالا تھا۔لاکٹ پر وہ دو نام دیکھتے اس کا چہرہ سرخ ہوا تھا۔
“اس سب کی ذمہ دار تم ہو۔تمہارے نام نے میری زندگی عذاب بنا دی نین….”اتنا تو وہ سمجھ ہی چکی تھی کہ نین اس کی ماں ہر گز نہیں ہے۔
“بس تم کبھی میرے سامنے مت آنا۔مار ڈالوں گی میں تمہیں….تمہاری ذات میں اب کوئی دلچسبی نہیں رہی مجھے….میں آج ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنی زندگی سے نین نام کا باب بند کرتی ہوں۔”وانیہ نے پوری قوت سے وہ لاکٹ اٹھا کر پھینکا تھا۔
“دعاؤں کا تو پتا نہیں لیکن بددعا ضرور دوں گی میں تمہیں آج….سسک سسک کر جیو….تمہیں کبھی موت نصیب نا ہو….ہمیشہ تڑپتی رہو۔”زمین پر بیٹھتے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔اسے خود نہیں سمجھ آ رہا تھا کہ وہ کیا بول رہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نائل آج کافی دنوں بعد فارم ہاؤس جا رہا تھا۔وجہ سنیہا کی بار بار کی گئی کالز تھیں جس وجہ سے وہ شدید مشتعل تھا۔
“کیا مصیبت ہے؟”کمرے میں داخل ہوتے ساتھ ہی وہ دھاڑا تھا۔
“نائل….!”وہ روتے ہوئے اس کے سینے سے لگی تھی۔
“ڈیڈ!انہیں….انہیں ہارٹ اٹیک آیا ہے۔مجھے جانا ہے۔”اس کے سینے پر ہاتھ رکھے وہ ہچکیوں سمیت رو دی تھی۔
“تم اس وجہ سے مجھے کال کر رہی تھی؟”نائل نے اسے بازو سے پکڑے خود سے دور کیا تھا۔سنیہا نے روتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
“غلطی میری ہی ہے،مجھے تمہیں فون دینا ہی نہیں چاہیئے تھا۔”نائل نے افسوس سے سر جھٹکا تھا۔
“میرے ڈیڈ کو ہارٹ اٹیک آیا ہے۔وہ اس وقت زندگی اور موت کے بیچ لڑ رہے ہیں۔”وہ بےبسی سے چیخ اٹھی تھی۔
“تو….؟موت تو ویسے ہی سب کو آنی ہے اور جہاں تک بات ہے تمہارے باپ کی….تو بےفکر رہو،وہ خبیث اتنی جلدی مرنے نہیں والا….اور پیسے چاہیئے ہوں گے تبھی یہ ڈرامہ رچایا ہے۔”سنیہا بےیقینی سے اسے دیکھتی رہی تھی۔وہ شخص دل تو رکھتا ہی تھا۔اس کے سینے میں تو شاید پتھر تھا۔
“نائل!مجھے جانا ہے۔میں بس ایک دفعہ انہیں دیکھنا چاہتی ہوں۔مام کہہ رہی تھیں کہ وہ مجھے یاد کر رہے ہیں۔”وہ مسلسل روتے ہوئے التجا کر رہی تھی۔
“شاید یہ وہی باپ ہے جس نے تمہیں بیچ دیا تھا اور مڑ کر ایک بار پوچھا بھی نہیں….”
“وہ جو بھی ہیں،میرے ڈیڈ ہیں۔مجھے جانا ہے۔”اتنے عرصے سے سوئی ہوئی تڑپ آج جاگ چکی تھی۔ایک بیٹی ہونے کی حیثیت سے اسے آج باپ کی یاد شدت سے ستا رہی تھی۔
“میرا دماغ خراب مت کرو۔تمہارے ان مگر مچھ کے آنسوؤں کا مجھ پر کوئی اثر نہیں ہو گا۔تم سب عورتیں ایک جیسی ہوتی ہو،منافق اور جھوٹی….تم کہیں نہیں جاؤ گی۔چپ چاپ یہی پڑی رہو۔”وہ وانیہ کا غصہ سنیہا پر اتار رہا تھا۔
“نائل!میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں،میں تمہارے پیر پڑتی ہوں….پلیز مجھے جانے دو۔”وہ روتے ہوئے اس کے قدموں میں گر گئی تھی۔
“اگر تم نے میری مرضی کے بغیر اس گھر سے ایک قدم بھی باہر نکالا تو طلاق دے دوں گا میں تمہیں….”وہ تنفر سے کہتا وہاں سے گیا تھا۔
وہ نجانے کتنی دیر اپنی بےبسی پر آنسو بہاتی رہی تھی۔وہ چاہ کر بھی یہ اخذ نہیں کر پا رہی تھی کہ آخر اس کا قصور کیا ہے؟آخر کیوں اسے بار بار اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتنی پڑتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوپہر کے وقت وہ کسی فائل کو لینے کے لیے گھر کے اندر داخل ہوا تھا۔لاؤنچ میں اس کا سامنا وانیہ سے ہوا تھا۔اس سے پہلے کہ نائل منہ پھیر کر وہاں سے گزر جاتا،وانیہ نے اس کا ہاتھ تھاما تھا۔
“بھائی!پلیز مجھے معاف کر دیں۔میں بےقصور ہوں۔”اس کے لہجے میں نمی صاف واضح تھی۔
“وانیہ میرا ہاتھ چھوڑیں۔”نائل نے اس کی جانب دیکھنے سے گریز برتا تھا۔
“بھائی!پلیز معاف کر دیں۔”آنسو پھسل کر گال پر بہہ رہے تھے۔
“میں اس بارے میں سوچ سکتا ہوں اگر آپ سچ مجھ سے صرف سچ کہے۔”نائل نے آہستگی سے اس کے ہاتھ سے اپنا بازو چھڑوایا تھا۔
“بھائی جو سچ تھا،میں بتا چکی ہوں۔”
“نائل!تم ایک بار ٹھنڈے دماغ سے وانیہ کی بات سن تو لو۔”ماہم ابھی ابھی لاؤنچ میں داخل ہوئی تھی۔
“آپ تو چپ ہی رہیں۔یہ ساری آگ آپ ہی کی لگائی ہوئی ہے۔”ماہم کی جانب دیکھے وہ تقریبا چیخ اٹھی تھی۔
“یہ بات کرنے کا کون سا انداز ہے وانیہ؟”نائل کو اس پر شدید غصہ آیا تھا۔
“بھائی!میں کچھ نہیں جانتی۔مجھے بس اتنا پتا ہے کہ میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی۔میں نے کچھ نہیں کیا۔بس ہم سب بھول جاتے ہیں نا….”وانیہ نے ایک بار پھر نائل کو بازو سے پکڑا تھا۔
“پاگل پن کے دورے نہیں پڑتے نا آپ کو….؟”اسے شانوں سے تھامے نائل نے اپنی سرخ آنکھیں اس کی نم سنہری آنکھوں میں گاڑھی تھیں۔
“بھائی….”
“آپ کو میری قسم ہے وانیہ!میں جھوٹ نہیں سننا چاہتا۔”اس بات پر وانیہ کا دل زور سے ڈھرکا تھا۔
“وانیہ!جو بھی سچ ہے بتا دو۔”ماہم بھی قدم قدم چلتی اس کے پاس آئی تھی۔
“ہم تمہارا علاج کروائیں گے۔تم ٹھیک ہو جاؤ گی۔”ماہم نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے اسے تسلی دی تھی۔
“مجھے کسی علاج کی ضرورت نہیں ہے۔میں بالکل ٹھیک ہوں۔کوئی دورے نہیں پڑتے مجھے….!”ماہم کا ہاتھ جھٹکتی وہ چیخ اٹھی تھی۔
“اب بہت ہو گیا۔جب سچ سامنے آ ہی گیا ہے تو پھر ٹھیک ہے۔بالکل نارمل ہوں میں….”نائل اور ماہم دونوں کو ہی جھٹکا لگا تھا۔
“کیوں کیا یہ سب….؟”کچھ دیر بعد نائل کے گلے سے بامشکل آواز نکلی تھی۔
“ایک خاص عمر تک صرف آپ کی توجہ حاصل کرنے کے لیے….مجھے اچھا لگتا تھا جب آپ اپنے سارے کام چھوڑ کر صرف مجھ پر توجہ دیتے تھے مگر پھر آہستہ آہستہ میں بیزار ہونے لگی۔وہ کہتے ہیں نا کہ چائے میں چینی ایک حد تک اچھی لگتی ہے۔ضرورت سے زیادہ میٹھا بھی زہر ہی لگتا ہے۔”وہ عجیب انداز سے ہنسی تھی۔
“لیکن میں کیا کرتی بھائی؟ایک دم سے تو میں یہ نہیں کہہ سکتی تھی کہ میں بالکل ٹھیک ہوں۔اس لیے ناچاہتے ہوئے بھی مجھے یہ ڈرامہ کرنا پڑا۔رپورٹس تبدیل کرنا میرے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ڈاکٹر سیف کو بیواقوف بنانا بھی میرے لیے بہت آسان تھا۔اس بیچارے کو تو سمجھ ہی نہیں آئی کہ اس کے ساتھ ہوا کیا ہے اور اور بھی بہت کچھ کیا میں نے…..”وہ نظریں چرا گئی تھی۔نائل کے لیے اپنے قدموں پر کھڑے رہنا مشکل ہو گیا تھا۔
“پھوپھو!آپ پیکنگ کر لیں۔کل آپ لندن جا رہی ہیں اور انہیں ساتھ لے کر جائیں گا۔میں اب ساری زندگی ان کی صورت نہیں دیکھنا چاہتا۔”وہ کہہ کر رکا نہیں تھا۔
اس کے جانے کے بعد وانیہ بھی ایک پل وہاں نا رکی تھی۔
وہ بھاگتی ہوئی اپنے کمرے کی جانب گئی تھی۔
دونوں بہن بھائیوں کے درمیان ایک چپقلش کی دیوار قائم ہو گئی تھی۔لیکن دونوں ہی اس بات سے انجان تھے کہ یہاں سے ایک نئے سفر کا آغاز ہونا تھا۔
الحمد سے والناس تک کے سفر کا آغاز……
اب دیکھنا یہ تھا کہ اس سفر کو طے کرتے کرتے کس کس نے کیا کیا کھونا اور کیا کیا پانا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
