93.4K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Alhamd se Wannass (Episode 45)

سنیہا نے صبح صبح اٹھ کر بہت محبت سے نائل کے لیے ناشتہ تیار کیا تھا۔اس کے کل رات کے اظہار محبت نے تو جیسے اسے ایک نئی زندگی بخشی تھی۔
“آج کوئی خاص دن ہے کیا؟”اپنے عقب سے وجاہت سے بھرپور مردانہ آواز سنتے وہ پلٹی تھی۔بالکل سادہ حلیہ،بھوری ٹی شرٹ کے ساتھ ٹراؤزر پہنے وہ سنیہا کے دل کی ڈھرکنیں بےترتیب کر گیا تھا۔اوپر سے ماتھے پر بکھرے گیلے بال….وہ ہمیشہ ہی اس کے آگے ہار جاتی تھی۔وہ اس وقت بالکل رف اینڈ ٹف لگ رہا تھا۔
“نہیں تو….؟”اپنے جذبات پر قابو پاتے وہ مسکرائی تھی۔
“تو پھر یہ سب….؟”نائل کا اشارہ ڈائننگ ٹیبل پر بکھرے لوازمات کی جانب تھا۔
“بس ویسے ہی دل چاہ رہا تھا۔”
“ہممم…..!”گہری نظروں سے اس کا جائزہ لیتے نائل نے سربراہی کرسی سنبھالی تھی۔
نیلے اور سفید رنگ کے امتیاز کے سوٹ میں ملبوس،بالوں کو آدھ کیچر میں مقید کیے وہ نائل کو اچھی لگی تھی۔اوپر سے اس کا گلال،بھرا ہوا چہرہ….
“آج تم کچھ الگ سی لگ رہی ہو۔”وہ کہے بنا نا رہ سکا تھا۔سنیہا کے رنگ ڈھنگ آج اسے کچھ عجیب لگے تھے۔
“جب شوہر اپنی بیوی سے اظہار محبت کرتا ہے نا تو اس کے چہرے پر ایسے ہی رونق چھا جاتی ہے۔”کرسی گھسیٹتے سنیہا نے پلیٹ اٹھائی تھی۔
“اظہار محبت….؟”وہ نا صرف چونکا تھا بلکہ اس کے ماتھے پر شکنیں بھی ابھری تھیں۔
“ہاں!اظہار محبت….!”اس کے کپ میں گرینٹی انڈیلتے وہ دلکشی سے مسکرائی تھی۔نائل کچھ دیر افسوس سے اسے دیکھتا رہا تھا پھر اس نے سر جھٹکتے گرینٹی کا سپ بھرا تھا۔
“یہ اظہار محبت تمہارے لیے نہیں تھا۔”کچھ دیر بعد اس نے ہنوز سنجیدگی سے کہا تھا۔
“تو پھر کس کے لیے تھا؟”اس کا حیران ہونا بنتا تھا۔وہ اس کی بیوی تھی،اور اس نے یہی کہا تھا کہ اسے اپنی بیوی سے بےانتہا محبت ہے۔
“میری پہلی بیوی کے لیے….”ٹیبل پر رکھے ہاتھ ایک لمحے کے لیے کانپے تھے۔یہ اس کی برداشت سے باہر تھا۔شراکت داری وہ برداشت نہیں کر سکتی تھی۔
کچھ دیر خاموشی کی نظر ہوئی تھی۔پھر بامشکل اپنے وجود کی لرزش پر قابو پاتے سنیہا کے لب ہلے تھے۔
“مجھ سے پہلے تمہاری زندگی میں کتنی لڑکیاں تھیں؟”اس کا سارا وجود انگاروں پر لوٹ رہا تھا۔کاش کہ وہ انکار کر دے۔کاش کہ وہ کہہ دے کہ میں مذاق کر رہا تھا۔میری زندگی میں تمہارے علاؤہ اور کوئی نہیں….سنیہا کا دل دعاؤں کا ورد کر رہا تھا۔مگر اس بیچاری کے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس شخص کا جواب اس کے اعصاب بالکل شل کر دے گا۔
“اب تم نے پوچھ ہی لیا ہے تو بتا دیتا ہوں۔پچاس گرل فرینڈز تھیں میری،پندرہ منگیتر….چار بار بات مہندی تک پہنچی لیکن بیویاں ٹوٹل اکیس تھیں میری….ایک خود مر گئی،انیس کو میں نے مار دیا اور ایکسویں تم ہو۔اب بتاؤ تمہارے ساتھ کیا کروں۔زندہ دفنا دوں تمہیں….؟”نائل اس کے چہرے کے بدلتے ہر تاثر سے محظوظ ہوا تھا۔
اس کے چہرے پر نجانے کتنے رنگ آ کر گزرے تھے۔حیرانگی،بےیقینی،صدمہ اور نجانے کیا کیا…..
“تت….تم مذاق کر رہے ہو نا….؟”اس بیچاری کے چہرے کی ناصرف ہوائیاں اڑی تھیں بلکہ اس کا چہرہ تو بالکل زرد پڑ چکا تھا۔
“میرا تمہارا کیا مذاق….؟”چہرے پر آج بھی وہی ازلی سنجیدگی تھی۔ابھی اگر وہ کرسی پر نا بیٹھی ہوتی تو یقینا زمین پر گر جاتی۔
“ناشتہ اچھا بنایا ہے تم نے….”اس کا دائیاں گال تھپتھپاتے وہ اسے اس بےیقینی کی کیفیت میں چھوڑ کر جا چکا تھا۔
سنیہا نے پانی کا گلاس لبوں سے لگائے خود کو ریلیکس کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی۔
“میں پاگل ہو جاؤں گی۔”اس نے اپنا سر تھامتے بےبسی سے کہا تھا۔وہ نائل آفندی کی بیوی تھی،وہ اسے کیسے نارمل رہنے دے سکتا تھا۔
سنیہا اپنے پوچھے گئے سوال پر ہی پچھتائی تھی۔آخر ضرورت ہی کیا تھی اس قسم کا سوال پوچھنے کی….کوئی سیدھا جواب تو دے نہیں سکتا تھا وہ شخص….سنیہا نے اپنا سر جھٹکا تھا۔
وہ اسے مذاق ہی سمجھی تھی،ایک بھیانک مذاق جبکہ درحقیقت وہ سچ بول کر بھی اس کا دھیان بھٹکانے اور اسے گمراہ کرنے میں کامیاب ٹھہرا تھا۔
نائل تیار ہو کر اپنی گاڑی کی جانب بڑھا ہی تھا جب اسے محسن کا میسج موصول ہوا تھا۔وہ اس سے ملنا چاہتا تھا اور وہ بھی اسی وقت….نائل نے گاڑی کا رخ اس کے گھر کی جانب موڑا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(لندن)

طلوع فجر کے وقت موسم میں موجود خنکی جسم کو چٹخا دینے کی صلاحیت رکھتی تھی۔پورے گھر میں ہیٹنگ سسٹم آن تھا۔فلیٹ کے ایک کمرے میں وحشت چھائی ہوئی تھی،کسی قبرستان سے کئی گنا زیادہ وحشت اور سناٹا….
لیمپ کی روشنی نے کمرے کو روشن کیا ہوا تھا۔وہ بستر کے ایک کونے میں دبکی بیٹھی تھی۔آنکھوں میں نیند کا خمار تھا۔وہ سونا چاہتی تھی مگر کوئی انجانہ خوف اسے سونے نہیں دے رہا تھا۔
وانیہ کو یہاں آئے ایک ہفتہ گزر چکا تھا مگر اس کی حالت بد سے بدتر ہوتی جا رہی تھی۔وہ رفتہ رفتہ اپنے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھوتی جا رہی تھی۔دن میں وہ بالکل ٹھیک رہتی تھی مگر رات….رات اس کی پل صراط پر گزرتی تھی۔اسے اب صرف اس آواز کا خوف نہیں تھا بلکہ اسے اب ہر چیز خوفزدہ کرتی تھی۔
پردہ کی سرسراہٹ،لیمپ کا بجھنا،ہلکی سی آواز….وہ ہر چیز سے خوف محسوس کرنے لگی تھی۔دن کے وقت یہ خوف کہیں غائب ہو جاتا تھا مگر رات کے وقت یہ خوف اس پر غالب آ جاتا تھا۔
آج کی رات بھی بہت مشکل گزری تھی۔سورج کی روشنی کمرے میں آنے تک وہ بستر سے ایک انچ بھی نہیں ہلی تھی۔صبح ہونے کا یقین کرتے وانیہ نے شاور لیے چینج کیا تھا۔آج اس کا یونیورسٹی میں پہلا دن تھا۔
وہ خود بھی یونیورسٹی جانا چاہتی تھی،شاید اسطرح اس کا یہ خوف ختم ہو سکے۔
فلیٹ میں موجود چھوٹی سی ڈائننگ ٹیبل پر وانیہ اور ماہم نے ناشتہ کیا تھا۔دونوں کے درمیان کسی قسم کی کوئی گفتگو نہیں ہوئی تھی اور یہ روز کا معمول تھا۔نا ماہم اسے خود سے مخاطب کرتی تھی اور نا ہی وانیہ نے کبھی کوشش کی تھی۔
یونیورسٹی جاتے ساتھ ہی وانیہ نے خاموشی سے اپنی کلاسیز لی تھیں۔وہاں کی خوبصورتی میں اسے کوئی نہیں دلچسبی نہیں تھی۔
لیکچرز لینے کے بعد وہ خاموشی سے کوریڈور سے گزر رہی تھی جب اس کی نظر ایک لڑکے پر پڑی تھی جو مسلسل ایک فرنگن کے ساتھ بحث کر رہا تھا۔وانیہ یہاں سے اس کی پشت ہی دیکھ پائی تھی۔اس سے پہلے کہ وہ سر جھٹک کر آگے بڑھتی،اس لڑکے کی حرکت نے اسے رکنے پر مجبور کر دیا تھا۔
اس نے چند نوٹ اس لڑکی کے منہ پر مارے تھے۔وانیہ کا دماغ گھوم گیا تھا۔وہ خود ایک لڑکی تھی،کسی اور لڑکی کی تذلیل برداشت کرنا اس کے لیے بہت مشکل تھا۔
“Excuse me!”
وانیہ نے اپنا ہاتھ اس کے کندھے پر رکھا تھا۔
“Yes….?”
وہ اس کی جانب پلٹا تھا۔
سادہ سا حلیہ،ہلکی بڑھی ہوئی شیو،کسرتی جسامت اور شعلے کی مانند جلتی آنکھیں….وانیہ کو یہی محسوس ہوا تھا۔وہ زیادہ دیر تک ان آنکھوں میں نہیں دیکھ سکی تھی۔
“کیا آپ کو یہ سب زیب دیتا ہے؟”وانیہ نے آنکھیں سکیڑے سر تا پیر اس شخص کو گھورا تھا۔دیکھنے میں وہ بھی سٹوڈنٹ ہی معلوم ہوتا تھا۔
“کیا….؟”اس نے حیران ہوتے پوچھا تھا۔
“اسطرح ایک لڑکی کے ساتھ اس قسم کا سلوک کرنا….”اس کے حلیے سے وہ پہچان چکی تھی کہ وہ مشرقی ہے اور اردو اچھی طرح سمجھتا ہے۔
“آپ ہوتی کون ہیں مجھ سے یہ سوال کرنے والی؟”ان دونوں کی بحث میں وہ امیرکن لڑکی موقع کا فائدہ اٹھاتی وہاں سے رفو چکر ہو چکی تھی۔
“ایک پاکستانی ہو کر آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟”
“کس نے کہا کہ میں پاکستانی ہوں،میں انڈین ہوں اور آپ….”اس کی نظر اب سامنے پڑی تھی جہاں سے وہ لڑکی غائب تھی۔
“بھاگ گئی،آپ کی وجہ سے بھاگ گئی وہ….”اسے شدید صدمہ پہنچا تھا۔
“سارے پیسے ڈوب گئے میرے۔”اس نے افسوس سے سر نفی میں ہلایا تھا۔وانیہ کو کچھ کھٹکھنے لگا تھا۔
“مطلب….؟”
“مطلب یہ کہ اس نے میرا نقصان کیا اور جب میں نے پیسے مانگے تو چند چلر میرے منہ پر دے مارے،میں نے بھی اٹھا کر وہی اس کے منہ پر دے مارے۔اس سے پہلے کہ میں اس سے ساری رقم وصول کرتا،آپ آ گئیں۔”وانیہ نے آنکھیں میچے نظریں چرائی تھیں۔
“اب بتائیں کہ کہاں ڈھونڈو میں اسے….؟”
“آئی۔ایم۔سوری!”وہ صحیح معنوں میں شرمندہ ہوئی تھی۔
“آپ مجھے بتا دیں کہ آپ کا کتنا نقصان ہوا ہے۔میں بھر دوں گی۔”
“اس کی ضرورت نہیں ہے۔”اپنا بیگ پہنے وہ منہ میں کچھ بڑبڑاتا ہوا وہاں سے گیا تھا۔
“لیکن میری بات تو سنیں….”وہ اس کے پیچھے گئی تھی۔
“آپ مجھے بتا دیں کہ آپ کا کتنا نقصان ہوا ہے۔ایسے مجھے سکون نہیں آئے گا۔”وانیہ نے اس کے سامنے جاتے راستہ روکا تھا۔
“جتنا نقصان ہونا تھا،ہو گیا۔میں بلاوجہ اجنبیوں سے پیسے نہیں لیتا۔”وہ بڑی رسانیت سے اس کی آفر ٹھکرا چکا تھا۔
“ٹھیک ہے،پھر ہم دوستی کر لیتے ہیں۔میرا نام وانیہ ہے اور آپ کا….؟”وانیہ نے دوستی کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا تھا،جسے وہ مکمل طور پر نظرانداز کر گیا تھا۔
“آپ پلیز میرا راستہ چھوڑ دیجیں۔”اس نے نہایت تحمل اور ادب کے دائرے میں رہ کر کہا تھا۔
“حد ہے یار!ایک تو میں دوستی کا ہاتھ آگے بڑھا رہی ہوں اور تمہارے نخرے ہی نہیں ختم ہو رہے۔”وہ اپنی پہلی ٹون میں واپس آئی تھی۔
“تو آپ سے کس نے کہا ہے کہ یہاں کھڑے رہ کر میرے نخرے برداشت کریں؟”وانیہ کا بےاختیار منہ کھل گیا تھا۔کس قدر اکھڑ مزاج تھا وہ شخص…
“ہو نا پھر انڈین….؟دکھا دی نا اوقات….”وہ غصے سے پیر پٹختی وہاں سے گئی تھی۔
“Excuse me….?”
احمر کے تو تن بدن میں آگ ہی لگ گئی تھی۔اس نے تیزی سے وانیہ کا راستہ کاٹا تھا۔
“اپنی بات کی وضاحت دینا پسند کرے گئی آپ….؟”اس کا چہرہ غصے سے سرخ پڑا تھا۔
“نہیں!”وانیہ تو پھر وانیہ تھی۔
“ہیں نا پھر آپ پاکستانی….؟”منہ بنائے وہ بھی آگے بڑھا تھا۔اس تذلیل پر وانیہ کا دماغ تو ہتھے سے ہی اکھڑ گیا تھا۔
وہ ایک بار پھر اس کے پیچھے گئی تھی۔
“سمجھتے کیا ہو تم خود کو….؟”
“اگر یہی سوال میں آپ سے پوچھوں تو….؟”وہ اچھا خاصا زچ ہوا تھا۔وہ لڑکی تو اس کا پیچھا ہی نہیں چھوڑ رہی تھی۔
“میں تو ایک نہایت عقلمند لڑکی ہوں۔”وانیہ نے ایک ادا سے بالوں کو جھٹکا دیا تھا۔احمر تو اس کے کانفیڈینس پر دنگ ہی رہ گیا تھا۔
“اور میں انتہائی بیواقوف جو آپ سے بات کر کے اپنا قیمتی وقت ضائع کر رہا ہوں۔”وہ ایک دوسرے کو بھگو بھگو کر مار رہے تھے۔
“دیکھیں مسٹر انڈین!اب آپ اپنی حد پار کر رہے ہیں۔”وانیہ نے اسے انگلی دکھائی تھی۔
“دیکھیں مس پاکستانی!میرا راستہ چھوڑ دیجیں۔”اس کی ڈریسنگ اور بات چیت کے انداز سے صاف واضح تھا کہ وہ پاکستانی ہے۔
“ہاں ٹھیک ہے،مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے تم سے مزید بات کرنے کا….ویسے تم شکل سے بالکل بھی ہندو نہیں لگتے۔”احمر کے ماتھے کی شکنیں مزید گہری ہوئی تھیں۔
“آپ سے کس نے کہا کہ میں ہندو ہوں؟”وہ اس کے ضبط کو اچھا خاصا آزما رہی تھی۔
“تم انڈین ہو….”وانیہ نے نہایت فضول لاجک پیش کیا تھا۔
“انڈیا میں بھی مسلمان رہتے ہیں اور پاکستان سے زیادہ رہتے ہیں۔بالکل ویسے ہی جیسے پاکستان میں ہندو رہتے ہیں،خود کو ہی دیکھ لیجیں۔”احمر نے پورا پورا انتقام لیا تھا۔
“What….?”
“میں ہندو نہیں ہوں۔”وانیہ نے دانت کچلاتے کہا تھا۔
“تو پھر کرسچن ہوں گی۔”انداز بےحد لاپرواہ تھا۔
“میں مسلمان ہوں۔”وہ احتجاجا چیخ اٹھی تھی۔
“کیا….؟”اب کی بار حیران ہونے کی باری احمر کی تھی۔
“لگتی تو نہیں ہیں۔”احمر نے بےیقینی سے اس کی جانب دیکھا تھا۔وانیہ کی ڈریسنگ ویسے ہی کافی بولڈ تھی اور لندن آ کر تو اس نے بچا کچا لحاظ بھی چھوڑ دیا تھا۔
ابھی بھی اس کی جینز کے گھٹنے برہنہ تھے اور شرٹ نہایت چست،گلا گہرا اور بازو نیم برہنہ تھے۔
“اچھا….!تو آپ ہی بتا دیجیے کہ آپ کی نظر میں مسلمان ہونے کی کیا پہچان ہے؟”کمر پر دونوں ہاتھ رکھے وانیہ نے منہ بنائے استفسار کیا تھا۔
“مسلمان کا تو پتا نہیں مگر مومن عورتوں کی کچھ خصوصیات بتا دیتا ہوں آپ کو….مومن عورتیں پردہ کرتی ہیں۔اپنی زینت کسی نامحرم پر عیاں نہیں کرتیں۔وہ نماز پڑھتی ہیں اور اپنے دین پر کبھی کمپرومائز نہیں کرتیں۔
اب براہ مہربانی میرا راستہ چھوڑیں اور مزید ایک مومن مرد کا ایمان خراب مت کیجیے۔”وہ ایک سائیڈ سے ہو کر نکل گیا تھا۔
وانیہ ہکابقا وہیں کھڑی رہ گئی تھی۔
“میں ایمان خراب کر رہی ہوں؟”
“ٹھرکی انڈین کہیں کا….”پیر پٹختے وہ غصے سے آگے بڑھی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔