93.4K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Alhamd se Wannass (Episode 31)

الیکس رات کے وقت ڈرائیو کر کے کہیں جا رہا تھا جب اچانک ہی اس کی گاڑی کے سامنے ایک اور گاڑی رکی تھی۔
اس نے بروقت بریک لگائی تھی۔وہ غصے سے باہر آیا تھا۔دوسری گاڑی میں بیٹھے دو شخص بھی فورا باہر نکلے تھے۔اسے کچھ سوچنے سمجھنے کا موقع دیے بغیر ہی ایک شخص نے اس کے چہرے پر سپرے کی تھی۔وہ اسی وقت
ہوش و ہواس سے بیگانہ ہوتے سڑک پر گرا تھا۔
الیکس کو پورے دو گھنٹے بعد ہوش آیا تھا۔ہوش آتے ہی اسے اپنے سامنے ڈیوڈ دکھا تھا۔
“ڈیوڈ…؟”اس نے یقین کرنا چاہا تھا۔
“آج میں صرف بلیک مونسٹر ہوں۔”اس کے سامنے کرسی پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھے وہ سرد لہجے میں گویا ہوا تھا۔
الیکس نے حرکت کرنے کی کوشش کی تھی مگر اس کے ہاتھ اور پیر باندھے ہوئے تھے۔
“مزار کیا کرنے گئے تھے؟”بغیر کسی لگی لپٹی کے وہ سیدھا مدعے پر آیا تھا۔
اب جا کر کہیں الیکس کے اوسان بحال ہوئے تھے۔اس نے اپنے اردگرد دیکھا تھا۔یہ ان کے تہ خانے کا ٹارچر سیل تھا جہاں نجانے کتنے لوگوں کی آہیں اور سسکیاں دفن تھیں۔اس کے حلق میں کانٹے چھبنے لگے تھے۔اس کا وجود پسینے سے تر ہو گیا تھا۔
“کچھ پوچھا ہے میں نے؟”وہی سرد اور سفاک لہجہ…
الیکس کی زبان جیسے تالو سے چپک گئی تھی۔اسے ہر گز توقع نہیں تھی کہ ڈیوڈ کو اتنی جلدی اس بات کا علم ہو جائے گا۔
“مم…میرا یقین کرو بلیک مونسٹر!میں تو ویسے ہی گیا تھا بس!”
“چادر چڑھانے گئے تھے؟”آنکھیں قہر برسا رہی تھیں۔
“میں کسی قسم کی فضول بات سننے کے موڈ میں نہیں ہوں۔سچ سچ بتاؤ وہاں کیوں گئے تھے؟وانیہ کے پیچھے
کیوں گئے تھے؟”اس نے زور سے اپنا ہاتھ میز پر مارا تھا۔الیکس کا سانس ایک لمحے کے لیے سوکھ گیا تھا۔
“میں نے کچھ نہیں کیا بلیک مونسٹر! میں نے تمہاری محبت کی جان بچائی ہے۔وہ کچا علاقہ تھا۔وہاں پتا نہیں کیسے سانپ آ گیا۔میں نے اپنی جان پر کھیل کر اس لڑکی کی…میرا مطلب ہے کہ میم کی جان بچائی تھی۔”وہ بالکل بوکھلا گیا تھا۔اس کے سامنے بیٹھا شخص انسان نہیں بلکہ حیوان تھا۔اور وہ
حیوان کچھ بھی کر سکتا تھا۔
“وہاں جانے کا مقصد…؟”سوال اب بھی وہی تھا۔
“میں دیکھنا چاہتا تھا تمہاری محبت کو….میں دیکھنا چاہتا تھا کہ اس میں ایسی کیا خاص بات ہے جو…”
“خاموش،بالکل خاموش…!”وہ دھاڑتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔اس کی دھاڑ پر باہر کھڑے جیمز اور ماریہ کا دل بھی کانپ اٹھا تھا۔
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری محبت کو دیکھنے کی…؟”اس نے الیکس کا منہ دبوچا تھا۔
“تم نے اسے کیسے اس نظر سے دیکھا؟”ڈیوڈ کے اعصاب تن چکے تھے۔وہ بالکل
آپے سے باہر ہو گیا تھا۔
“تت…تم غلط…!”الیکس کے الفاظ ابھی منہ میں ہی تھے جب ڈیوڈ نے اس کی کرسی کو لات مارتے زمین پر گرایا تھا۔
رسیوں میں جکڑا وہ کرسی سمیت اوندھے منہ فرش پر گرا تھا۔
“کتنی دفعہ سمجھایا ہے کہ میرے ذاتی معاملات سے دور رہا کرو۔”اسے بالوں سے دبوچتے اس نے کرسی واپس ٹھیک
کی تھی۔الیکس بری طرح کراہ رہا تھا مگر سامنے والا شخص بےرحم تھا، حد سے زیادہ بےرحم….
“مجھ سے غلطی ہو گئی بلیک مونسٹر! مجھے معاف کر دو۔”یہ بچنے کا آخری راستہ تھا۔
“بلیک مونسٹر کی ڈکشنری میں معافی نام کا کوئی لفظ نہیں ہے۔”اس نے ایک جھٹکے سے الیکس کے بالوں کو چھوڑا تھا۔
“سانپ کہاں سے آیا تھا؟”ایک بار پھر اپنی جگہ بیٹھتے اس نے سرد لہجے میں پوچھا تھا۔
“مجھے نہیں پتا…یقین کرو اس میں میرا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔”
“وہ تو میں پتا لگا لوں گا۔فلحال تو تم وہاں جانے کی قیمت ادا کرو۔”ڈیوڈ نے ایک گارڈ کو اشارہ کیا تھا۔الیکس کے اعصاب شل ہوئے تھے۔نجانے وہ اس کے ساتھ کیا کرنے والا تھا؟
“چلو ایک کھیل کھیلتے ہیں۔”چہرے پر تیکھی مسکراہٹ سجائے ڈیوڈ نے اس کی آنکھوں میں اپنی آنکھیں گاڑھی تھیں۔جہاں الیکس کا سانس رکا تھا وہیں باہر کھڑے جیمز اور ماریہ کا دل بھی کانپا تھا۔وہ لوگ اس کے کھیل سے اچھی طرح واقف تھے۔
تھوڑی دیر میں میز پر کچھ کیل اور ہتھوڑی رکھ دی گئی تھی۔
“میرے سر میں اس وقت بہت درد ہے۔کسی قسم کی چیخ یا کراہٹ میں بالکل برداشت نہیں کروں گا۔”اس نے کہتے
ساتھ ہی ایک کیل اور ہتھوڑی اٹھائی تھی۔
“نہیں!بلیک مونسٹر تم….”الیکس کا رنگ خوف سے پیلا پڑ چکا تھا۔
“بولنے کی اجازت نہیں ہے الیکس!میرا پہلے ہی روزہ ہے اور اس وقت مجھے کافی کی شدید طلب ہو رہی ہے۔اگر تمہاری زبان نے میرے سر درد میں مزید اضافہ کیا تو میں یہ زبان کاٹنے میں ایک لمحہ ضائع نہیں کروں گا۔”
(ایسٹر ایک مسیحی تہوار ہے۔جو کہ 46 دنوں پر مشتمل ہوتا ہے۔46 دنوں بعد عیسائی عید مناتے ہیں۔اسے اردو
میں ‘عید الفصح’ بھی کہتے ہیں۔عیسائی اتوار کو نکال کر چالیس دن روزہ رکھتے ہیں اور اس کے بعد عید مناتے ہیں۔
ایسٹر کے مطلق عیسائیوں کے اپنے عقائدہیں۔کچھ کے مطابق یہ روزہ چھ گھنٹے پر مشتمل ہوتا ہے،تو کچھ کے مطابق آٹھ،بارہ یا چوبیس گھنٹے پر…اکثریت چوبیس گھنٹے کا روزہ رکھتی ہے۔)
اس کا دائیاں ہاتھ کھولے اب ڈیوڈ نے کیل ہتھوڑی کی مدد سے اس کے ہاتھ کے درمیان میں گاڑھی تھی۔الیکس نے بہت مشکل سے اپنی سسکیوں کا گلا گھوٹا تھا۔وہ جانتا تھا کہ چیخنے چلانے کے بعد وہ شخص اس کا کیا حال کرے گا۔بہتر یہی تھا کہ چپ چاپ اس کی دی ہوئی سزا کو سہہ جائے۔
“مجھے تمہارا اس کے پیچھے جانا بالکل پسند نہیں آیا۔”اسی کیل کی سیدھ میں اس نے تھوڑے فاصلے پر اگلا کیل گاڑھا تھا۔پورے کمرے میں صرف ہتھوڑی بجنے کی آواز گونج رہی تھی۔
الیکس کے منہ سے ایک آہ تک نا نکلی تھی۔اس نے خود پر بہت مشکل سے قابو پایا ہوا تھا۔
“یہ تو بہت اچھا لگ رہا ہے۔”تقریبا آدھے گھنٹے بعد وہ مختلف کیلوں سے اس کے ہاتھ پر ایک پھول بنانے میں کامیاب ہو ہی گیا تھا۔اب وہ سراہتی نگاہوں سے اپنا کارنامہ دیکھ رہا تھا۔الیکس کی آنکھوں سے آنسو پھسل پھسل کر اس کے گال بھگو رہے تھے۔
“یہ پھول تو میں اپنی جان جہاں کو تحفے میں دیتا مگر کیا کروں…تمہارا ہاتھ دیکھ کر وہ ڈر جائے گی۔”اسے شدت سے افسوس ہوا تھا۔
“تھکا دیا تم نے مجھے الیکس…”اپنا غصہ اس پر اتارنے کے بعد اب وہ کافی حد تک ریلیکس تھا۔ اپنا کورٹ اٹھاتے اب وہ باہر کی جانب بڑھا تھا۔
“ماریہ ایک گلاس جوس لے کر آؤ۔”ماریہ کو حکم صادر کرتے وہ مغرورانہ چال چلتا آگے بڑھا تھا۔
“بلیک مونسٹر کا تو روزہ نہیں تھا؟”وہ حیران ہوئی تھی۔
“عیسائیوں کے چار گروہ ہیں جن کے مختلف
عقائد ہوتے ہیں بالکل جیسے تم مسلمانوں کے ہاں فرقے ہوتے ہیں۔روزہ رکھنے کا طریقہ سب کا مختلف ہوتا ہے۔کچھ مکمل
طور پر روزہ رکھتے ہیں،بغیر کچھ کھائے پیے…کچھ صرف روزے کے دوران پانی پیتے ہیں اور کچھ روزے کے دوران سب کچھ کھا پی سکتے ہیں سوائے آگ پر پکی ہوئی چیزوں کے…بلیک مونسٹر ان ہی میں سے ہے۔”جیمز کی بات پر ماریہ کا سر چکرایا تھا۔
“یہ کون سا روزہ ہوا بھلا….؟”وہ صحیح معنوں میں شاک تھی۔
“چپ چاپ جا کر جوس پیش کرو بادشاہ سلامت کو…اس سے پہلے کہ وہ جوس کے طور پر تمہارا خون پی جائے۔”
ماریہ نے سوچتے ساتھ ہی جھرجھری لی تھی۔اب وہ تقریبا بھاگتی ہوئی وہاں سےگئی تھی۔

ہارون اور مصطفی کی ملاقاتوں کا تسلسل ویسے ہی جاری تھا۔آج مصطفی اپنے گھر والوں کے ساتھ ہارون کے گھر آئے تھے۔لنچ کے بعد سب لوگ لاؤنچ میں بیٹھے چائے پی رہے تھے جب صوفی اندر داخل ہوئی تھی۔یونیفارم پہنے،سر پر حجاب باندھے اس کا چہرہ پسینے سے تر تھا۔اس کا سارا وجود کپکپا رہا تھا۔
“صوفی کیا ہوا بیٹا؟”شہلا بھاگتی ہوئی اپنی بیٹی کی طرف گئی تھی۔
“مم…میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔” کہتے ساتھ ہی وہ تیزی سے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی تھی۔صوفے پر بیٹھے
عبداللہ نے ایک سرسری سی نگاہ اس لڑکی پر ڈالی تھی پھر وہ دوبارہ اپنے موبائل پر مصروف ہو گیا تھا۔
کچھ دیر بعد ہارون کو فون آیا تھا۔وہ اضطراب کی حالت میں فورا وہاں سے اٹھے تھے۔مصطفی بھی ان کے پیچھے گئے تھے۔ان دونوں کے اسطرح وہاں سے جانے پر سب لوگ ہی پریشان ہوئے تھے۔
تقریبا ایک گھنٹے بعد وہ لوگ گھر آئے تھے۔حاتم بھی ان کے ساتھ تھا۔اس کا یونیفارم جگہ جگہ سے پٹھا ہوا تھا اور چہرے پر نیل کے نشان تھے۔ شہلا بھاگتی ہوئی اپنے بیٹے کی جانب گئی تھیں۔
“حاتم!یہ سب کیا ہے؟”اس کے چہرے کو چھوتے وہ تڑپ اٹھی تھیں۔وہ خاموشی سے نظریں جھکائے کھڑا تھا۔
“یہ سب تمہاری تربیت ہے۔اور یہ نالائق…!” انہوں نے حاتم کو گریبان سے پکڑےاس کے گال پر دو تمانچے رسید کیے
تھے۔
“ہارون یہ کیا کر رہے ہو؟”مصطفی نے آگے بڑھ کر اسے روکا تھا۔سب کے سامنے اس بےعزتی پر حاتم شرمندگی کےاحساس سے زمین میں گڑھتا چلا گیا تھا۔
“تو اور کیا کروں؟میں نے اسے وہاں پڑھنے کے لیے بھیجا ہے اور یہ وہاں غنڈہ گردی کرتا پھر رہا ہےاسے تو میں…”مصطفی نے ایک بار پھر ہارون کے بڑھتے ہاتھ کو روکا تھا۔
“جوان اولاد پر ہاتھ نہیں اٹھاتے۔اگر حاتم نے ایسا کچھ کیا ہے تو یقینا اس کے پیچھے کوئی وجہ ہو گی۔”مصطفی نے سمجھداری سے کام لیتے کہا تھا۔
“وجہ تو ہے نا!وہ لڑکے کسی لڑکی کو تنگ کر رہے تھے اور یہ حاتم تائی بن کر اسے بچانے پہنچ گئے۔”وہاں موجود
سب افراد ہی پریشان تھے سوائے ایک شخص کے…صوفے پر بیٹھا موبائل میں مصروف وہ شخص…ہر چیز سے بےنیاز
وہ گیم کھیلنے میں بےحد مصروف تھا۔اس نے معاملے کی سنگینی کو جاننے کے لیے ایک بار بھی نگاہ اٹھا کر دیکھنے
کی زحمت نہیں کی تھی۔
“اگر اتنی ہی ہمدردی سوار تھی تو کمپلین کر دیتے۔کالج کے باہر لڑائی کرنے کی کیا ضرورت تھی؟”وہ شدید طیش کی حالت میں گویا ہوئے تھے۔
ہارون کی اونچی آواز سنتے ہی وہ بھاگ کر اپنے کمرے سے آئی تھی۔حاتم کو کھٹہرے میں کھڑا دیکھ اس کے سارے
وجود پر لرزش طاری ہوئی تھی۔اس نے کچھ کہنے کے لیے اپنے لب کھولےتھے جب حاتم کی سخت گھوری پر اس
کی زبان کو فقل لگ گیا تھا۔ان دونوں بہن بھائیوں کی آنکھوں کا یہ تضاد کسی نے بہت دلچسبی سے دیکھا
تھا۔وہ زیرک نگاہیں رکھتا تھا۔ایک لمحہ لگا تھا عبداللہ کو ساری صورتحال سمجھنے میں….

حاتم اس سب کے بعد فورا ہی گھر سے نکل گیا تھا۔رات کے تقریبا نو بجے کے قریب وہ کالونی کے پارک میں موجود
بینچ پر بیٹھا تھا۔عبداللہ کا گھر پارک کے بہت قریب تھا۔وہ اپنے کمرے کی کھڑکی بند کرنے لگا تھا جب اس کی نظر حاتم پر پڑی تھی۔کھڑکی بند کیے وہ اپنے کمرے سے باہر
نکلا تھا۔چند ثانیوں بعد وہ پارک میں موجود تھا۔حاتم کی نظریں اپنے بوٹوں پرجمی ہوئی تھیں جبکہ وہ ساتھ ساتھ
دانتوں سے اپنے ہونٹ بھی کچل رہا تھا۔
“Are you ok?”
بینچ کی دوسری طرف بیٹھتے عبداللہ نے نرمی سے استفسار کیا تھا۔اس کی آواز پر حاتم نے چونک کر سر اٹھایا
تھا۔
“آپ…؟”سامنے موجود شخص کی موجودگی اس کے لیے بالکل غیر متوقع تھی۔
“تم ٹھیک ہو؟”اس کے دوبارہ استفسار کرنے پر کہیں جا کر حاتم کو ہوش آیا تھا۔
“جی…!”اس نے یک لفظی جواب دیا تھا۔
“گھر جاؤ۔”اس بات پر حاتم کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔اس نے بغور سامنے بیٹھے شخص کو دیکھا تھا جو کہ اس کی
جانب نہیں دیکھ رہا تھا۔وہ سپاٹ چہرے کے ساتھ سامنے دیکھ رہا تھا۔ اصل حیرت تو اسے اس کے لہجے سے ہوئی تھی۔سامنے بیٹھے شخص کے لہجے میں کوئی ہمدردی یا نرمی کا تاثر نہیں تھا۔اس کا لہجہ حکمیہ تھا۔
“میں یہیں ٹھیک ہوں۔”حاتم نے منہ بسورے جواب دیا تھا۔
“یہاں بیٹھنے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔گھر جاؤ اور جا کر اپنے ڈیڈ سے معافی مانگو۔”اب کی بار لہجے میں تھوڑی
نرمی در آئی تھی۔
“میں کیوں معافی مانگوں؟میں نے کچھ غلط نہیں کیا۔”وہ بگڑا تھا۔
“غلطی تمہاری ہی تھی۔اس طرح لڑائی جھگڑا کسی مسئلے کا حل نہیں….تمہیں کالج کی انتظامیہ سے بات کرنی چاہیئے تھی۔”
“کیا کسی لڑکی کو چھیڑنے والے کو نہیں مارنا چاہیئے؟”اس نے ایک دفعہ بھی اپنی زبان سے اپنی بہن کا نام نہیں لیا
تھا۔وہ اسے سب کے سامنے رسوا نہیں کرنا چاہتا تھا۔اور وہ اپنے باپ کی فطرت سے بھی اچھی طرح واقف تھا۔وہ
غیرت میں آ کر صوفی کی پڑھائی ہی چھڑوا دیتے۔
“بالکل بھی نہیں…!”لہجہ تحمل سے بھرپور تھا۔
“اچھا!تو پھر آپ کے خیال سے کیا کرنا چاہیئے؟”یہ طنز تھا۔مقابل کی باتوں سے اس کا دماغ گھومنے لگا تھا۔
“اسی وقت ان لڑکوں سے بات چیت کر کے معاملے کو رفع دفع کرنا چاہیئے اور پھر ان سے دوستی کر کے بات کو ختم
کرنا چاہیئے۔”
حاتم کا منہ بےاختیار کھل گیا تھا۔اس نے پھٹی پھٹی نگاہوں سے سامنے بیٹھے شخص کی جانب دیکھا تھا مگر مجال تھی جو اس شخص کے ماتھے پر ایک شکن بھی موجود ہو۔اس کے چہرے پر سنجیدگی تھی،حد سے زیادہ سنجیدگی…
“اگر اس لڑکی کی جگہ آپ کی بہن ہوتی تو بھی آپ یہی کہتے؟”حاتم نے طنزیہ انداز میں پوچھا تھا۔وہ جانتا تھا کہ
اس سوال کے جواب میں یقینا سامنے بیٹھا شخص یا تو انکار کرے گا یا پھر وہ کم از کم گڑبڑائے گا ضرور….اور یہی
حاتم کی جیت ہوتی۔مگر یہ اس کی سب سے بڑی غلط فہمی تھی کیونکہ مقابل کے یک لفظی جواب نے اس کے
اعصاب بالکل شل کر دیے تھے۔
“ہاں…!”حاتم کو اپنے آس پاس دھماکوں کی آواز سنائی دینے لگی تھی۔
“آپ سچ میں یہی کرتے؟”اس نے جیسے یقین کرنا چاہا تھا۔
“بالکل میں یہی کرتا کیونکہ میں تمہاری طرح بیواقوف نہیں ہوں۔”
“کیا مطلب…؟”
“مطلب یہ کہ اگر کوئی میری بہن پر بری نظر ڈالے گا تو میں اسے ہر گز اتنی آسانی سے نہیں چھوڑوں گا۔”حاتم
نے ناسمجھی سے اس کی طرف دیکھا تھا۔
“میں کالج کے باہر کبھی ان لڑکوں کو نا پیٹتا کیونکہ وہاں کیمرے لگے ہوئے ہوتے۔انتظامیہ کے سامنے دوستی کر
لیتا اس کے بعد میں انہیں رات کےاندھیرے میں اٹھواتا اور وہ حشر کرتا کہ زندگی بھر یاد رکھتے۔”حاتم تو بس اسے دیکھتا ہی رہ گیا تھا۔
“میری زندگی کا ایک اصول ہے۔میرے نزدیک موت سزا نہیں ہے بلکہ زندگی سزا ہے۔”حاتم خاموشی سے اسے بس دیکھتا ہی رہا تھا۔
“گھر جاؤ اپنے۔”کہتے ساتھ ہی وہ اٹھا تھا۔
“آپ کیا ان لڑکوں کو اٹھوانے کے لیے غنڈے ہائیر کرتے؟”حاتم کی آواز پر اس کے بڑھتے قدم رکے تھے۔
“بالکل بھی نہیں!میرے دوست اس کام میں میری مدد کرتے۔”کہتے ساتھ ہی وہ آگے بڑھ گیا تھا جبکہ حاتم گہری سوچ میں ڈوبا تھا۔