93.4K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Alhamd se Wannass (Episode 57)

وانیہ کی آنکھ کسی بھیانک خواب کے زیر اثر کھلی تھی۔وہ ہانپتے وجود کے ساتھ اٹھ کر بیٹھی تھی۔چہرہ پسینے سے تر تھا۔
“میم!آپ ٹھیک ہیں؟”کسی نے اس کی جانب پانی کا گلاس بڑھایا تھا۔منظر کچھ واضح نا تھا۔اس نے دھندلاتی نظروں سے وہ گلاس تھاما تھا۔پانی اپنے اندر اتارتے جیسے ایک سکون اس پر طاری ہوا تھا۔اس نے اپنا سر تھامتے اپنے دائیں جانب دیکھا تھا۔دو عورتیں ہاتھ باندھ کر ادب سے کھڑی تھیں جبکہ ان کی نظریں اسی پر جمی تھیں۔
“میم آپ کو کچھ چاہیئے؟”اب کی بار آواز بائیں جانب سے آئی تھی۔وانیہ نے چونک کر اس طرف دیکھا تھا۔وہاں بھی دو عورتیں کھڑی تھیں۔وہ بھی اسی یونیفارم میں ملبوس تھیں جس میں پہلی دو عورتیں….وانیہ نے اپنی آنکھیں بار بار جھپکے جیسے یقین کرنا چاہا تھا۔
“ان کا بی پی چیک کرو۔”یہ آواز سامنے سے آئی تھی۔ایک جوان عورت جس نے سفید رنگ کا کوٹ پہنا ہوا تھا وہ کسی کو ہدایات دے رہی تھی۔یقینا وہ ڈاکٹر تھی اور شاید نرس کو ہدایات دے رہی تھی۔
اپنے اردگرد چھے چھے لوگوں کو دیکھ وانیہ کا دم گھٹنے لگا تھا۔
“کون ہو تم لوگ؟”اس نے پہلے کہ نرس اس کا بی پی چیک کرتی وہ چلا اٹھی تھی۔
“میم آپ بالکل ریلیکس ہو جائیں۔سب ٹھیک ہے۔”اس نرس نے اسے تسلی دی تھی۔
“کون ہو تم لوگ،میں کہاں ہوں؟”وہ چلاتے ہوئے بستر سے اٹھی تھی۔
“میم پلیز ریلیکس ہو جائیں۔”انہوں نے اسے ریلیکس کرنے کی کوشش کی تھی مگر وانیہ بہت زیادہ گھبرا گئی تھی۔انجان جگہ،غیر شناسہ لوگ اوپر سے اس کی دماغی حالت…..
“نہیں!”وہ نفی میں سر ہلاتی ننگے پیر وہاں سے بھاگی تھی۔ملازماؤں نے اسے روکنے کی کوشش کی تھی مگر وانیہ کسی کے قابو میں نہیں آ رہی تھی۔
وہ کمرے سے اندھا دھند بھاگتی لاؤنچ کی جانب گئی تھی۔صوفے کے پاس پہنچتے کسی سے اس کا گہرا تصادم ہوا تھا۔
ڈیوڈ نے اسے گرنے سے بچانے کے لیے اس کے گرد حصار قائم کیا تھا۔
“چھوڑو مجھے،جانے دو مجھے۔مجھے کوئی قید نہیں کر سکتا۔میں بھاگ جاؤں گی۔”اس کے چوڑے سینے پر ہاتھ رکھے وہ مسلسل اسے پیچھے دھکیلنے کی کوشش کر رہی تھی۔
“کیا ہو گیا ہے وانیہ؟ریلیکس ہو جاؤ۔”وہ سمجھ سکتا تھا کہ وہ اس وقت ٹراما سے گزر رہی ہے۔ایک عام انسان کا اس طرح کی صورت حال دیکھنا اس کے دماغ پر کس قدر بہت گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔
“نہیں چھوڑو مجھے…..مجھے نہیں باندھو۔”وہ اپنی ہی دھن میں کہتی اسے پیچھے دھکیلنے کی کوشش کر رہی تھی۔
“مانو ریلیکس ہو جاؤ۔”ڈیوڈ نے پیار سے اس کی پیٹھ سہلائی تھی۔ملازموں کو اشارے سے وہ پہلے ہی بھیج چکا تھا۔
“چھوڑو مجھے…..”وہ اب بھی مزاحمتیں کر رہی تھیں۔
“نین!ہوش میں آؤ۔”حاتم نے اسے شانوں سے تھام کر جھنجھوڑا تھا۔اس کے سینے پر چلتے ہاتھ ایک لمحے کے لیے رکے تھے۔عینین نے نظر اٹھا کر سامنے کھڑے شخص کی جانب دیکھا تھا۔
ہلکی بڑھی ہوئی شیو،دلکش نقوش،لمبا دراز قد،چوڑا سینہ اور وجیہہ شخصیت مگر جس چیز نے اسے ساکت کیا تھا وہ اس شخص کی آنکھیں تھیں۔عجیب سی آنکھیں…..وہ فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی کہ اس کی آنکھوں کا رنگ کیسا ہے۔وہ ہلکی نیلی اور بھوری تھیں۔
اس کے دل نے ایک بیٹ مس کی تھی۔
“کیا انسانوں کی بھی اس قسم کی آنکھیں ہوتی ہیں؟”وہ اس کی آنکھوں میں کھو سی گئی تھی۔
“نین….؟”حاتم کے ایک بار پھر مخاطب کرنے پر وہ کرنٹ کھا کر پیچھے ہٹی تھی۔
“مجھے جانا ہے۔”وہ بوکھلا کر باہر کی جانب بھاگی تھی جب حاتم نے اسے کلائی سے پکڑے اپنی جانب کھینچا تھا۔
“مم….مجھے چھوڑو ورنہ مار دوں گی میں تمہیں۔زہر دے کر مار دوں گی۔”وہ ایک بار پھر ہواس کھو بیٹھی تھی۔
“اچھاااا!دو زہر،مارو مجھے…..”اس کی کمر کے گرد گرفت مضبوط کرتے حاتم نے دلچسبی سے اس کے چہرے کا طواف کیا تھا۔
“کک….کون ہو تم؟”اس کی گرفت میں پھڑپھڑاتے ہوئے اس نے پہلا سوال پوچھا تھا۔
“سانپ….”حاتم نے جہاں لب دبائے تھے وہیں وانیہ کا دل دھک سے رہ گیا تھا۔آخر کون تھا وہ اور کیا جانتا تھا اس کے بارے میں؟؟
“تمہیں پتا ہے تم کون ہو؟”اپنی ٹڈی کی آڑی رنگت دیکھ وہ اچھا خاصا محظوظ ہوا تھا۔
“ناگن،چلو ڈسو مجھے،اور اتارو اپنا زہر میرے اندر…..”اس نے گھیرا مزید تنگ کیا تھا۔
“تم واقعی نہیں جانتے کہ میں کون ہوں،میں ایک قاتل ہوں اور ایک قتل کر کے بھاگی ہوں۔”وانیہ نے لہجے کو مضبوط کرتے کہا تھا جبکہ حاتم کی سانسوں کی تپش اپنے چہرے پر محسوس کرتے اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا تھا۔حاتم اس کے دل کی تیز ہوتی دھڑکن واضح سن سکتا تھا۔
“اووو!یہ تو بہت اچھی بات ہے۔انڈر ورلڈ کے ڈان کے بیوی کو کم از کم قاتلہ تو ہونا ہی چاہیئے۔”وانیہ کی نا صرف آنکھیں پھیلی تھیں بلکہ اس کے گلے میں گلٹی بھی ابھری تھی۔
“ڈان….؟”بیوی والی بات پر اس نے دھیان نہیں دیا تھا۔
“ہاں ڈان!”حاتم نے کہتے ساتھ ہی اسے بغیر کچھ سوچنے سمجھنے کا موقع دیے اپنی بانہوں میں اٹھایا تھا۔
“یہ تم کیا کر رہے ہو چھوڑو مجھے…..”وہ اس کے سینے پر ایک بار پھر مکے برسانے لگی تھی۔
“ابھی طبیعت ٹھیک نہیں ہے تمہاری،ایک بار ٹھیک ہو جاؤ پھر ہر چیز کا حساب لوں گا تم سے…..”حاتم نے اسے محبت بھری دھمکی دی تھی۔
“یہ تم ٹھیک نہیں کر رہے۔مجھے نیچے اتارو۔کہاں لے کر جا رہے ہو مجھے؟”حاتم کے بڑھتے قدموں کے ساتھ وہ ایک بار پھر چیخ اٹھی تھی۔
“بین ٹین دیکھنے…..”ایک آنکھ ونگ کرتے وہ اسے اس کے کمرے میں لے گیا تھا۔اس کی بات وانیہ کے سر پر سے گزری تھی۔
کمرے میں لا کر حاتم نے اسے بستر پر لٹایا تھا۔
“کون ہو تم…..؟”وہ غصے سے اٹھ کر بیٹھی تھی۔
“بین…..”حاتم کے یک لفظی جواب پر وہ تلملا اٹھی تھی۔
“مطلب….؟”
“مطلب بین ٹین بہت اچھے کارٹون ہیں۔تم دیکھو گی؟”وہ جان بوجھ کر اسے چھیڑ رہا تھا۔
“تم پاگل ہو کیا؟میں کوئی چھوٹی سی بچی ہوں جو کارٹون دیکھوں۔میں نے تو کبھی بچپن میں بھی نہیں دیکھے۔”اس نے کھا جانے والی نظروں سے حاتم کو گھورا تھا۔
“Really…..?”
اس کا حیران ہونا بالکل جائز تھا۔
“ہاں میں بچپن میں بھی بہت زیادہ میچیور تھی۔”
I see…..”
حاتم نے لب دبائے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
“تم جو بھی ہو،مجھے یہاں کیوں لائے ہو؟”اس نے بستر سے اٹھنے کی کوشش کی تھی مگر حاتم نے اسے کلائی سے کھینچے واپس بٹھایا تھا۔
“ابھی تم کچھ کھاؤ گی اور آرام کرو گی۔باقی باتیں بعد میں….”اس کے لہجے کی سختی وانیہ کو خاموش رہنے پر مجبور کر گئی تھی۔
“اس بستر سے نیچے قدم رکھنے کا سوچنا بھی مت ورنہ…..”وہ اس کے تھوڑا قریب ہوا تھا۔
“ورنہ کیا…..؟”اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے وانیہ نے مضبوط انداز میں کہا تھا۔
“ورنہ…..”حاتم نے اپنے کوٹ کی جیب سے گن نکالی تھی۔وانیہ کا سانس وہیں رکا تھا۔
“تمہیں نہیں ماروں گا مگر یہ جتنے ملازم کھڑے تھے نا یہاں پر،ان سب کو مار دوں گا۔”وانیہ کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھیں۔
“غلطی تم کرو گی لیکن سزا دوسروں کو ملے گی۔تو اس لیے کچھ بھی کرنے سے پہلے ہزار بار سوچنا…..”اس کا گال تھپتھاتے وہ وہاں سے چلا گیا تھا مگر وانیہ کا دماغ تو بالکل مفلوج ہو گیا تھا۔اس کے سرد لہجے سے کہیں سے بھی نہیں لگ رہا تھا کہ وہ مذاق کر رہا ہے۔
“ہائے وانیہ تمہاری قسمت،ایک عذاب سے جان چھوٹی تو دوسرے سے پالا پڑ گیا۔”اپنی قسمت پر ماتم کرنے کے سوا اور کوئی راستہ نہیں تھا اس کے پاس…..
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نائل بستر پر لیٹا سونے کی کوشش کر رہا تھا لیکن گانے کا تیز والیم اسے سونے نہیں دے رہا تھا۔
“رات کے اس پہر یہ دیکھنا ضروری ہے؟”وہ جھنجھلا کر اٹھا تھا۔
“مجھے نیند نہیں آ رہی۔”سنیہا نے سرسری سے انداز میں جواب دیا تھا۔
“تمہیں نیند نہیں آ رہی تو کم از کم مجھے تو سونے دو۔”
“لو سو جاؤ “آف بٹن دبائے اس نے ریمورٹ ٹیبل پر پٹخا تھا۔
“تمہارے ساتھ مسئلہ کیا ہے آخر؟”نائل کو اس کے دن بدن بدلتے انداز بالکل پسند نہیں تھے۔
“کوئی مسئلہ نہیں ہے۔مجھے بھلا کیا مسئلہ ہو سکتا ہے؟میرا شوہر مجھے چھوڑ کر دوسری عورتوں میں دلچسبی لے،مجھے تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہونا چاہیئے نا؟”وہ صوفے سے اٹھ کر بستر پر آ بیٹھی تھی۔
“تم پاگل ہو؟”نائل نے بےبسی سے اس کی جانب دیکھا تھا۔نجانے وہ کون سی منہوس گھڑی تھی جب اس کی زبان سے صوفی کا نام نکلا تھا۔
“ہاں پاگل ہوں اور بیواقوف بھی……مائی لو کے نام سے تم اس چڑیل کا نمبر سیو کرتے ہو اور مجھے کہتے ہو کہ وہ مر گئی ہے۔”وہ غصے سے چیخ اٹھی تھی۔
“کیا کہا تم نے…..؟”وہ فورا بستر سے اٹھا تھا۔
“وہی جو سچ ہے۔وہ چڑیل زندہ ہے لیکن میں نے بھی اس کی ایسی طبیعت صاف کی ہے کہ یاد رکھے گی زندگی بھر…..اسی لیے تو آپ اتنے اداس ہیں شوہر جی،منہ جو نہیں لگا رہی وہ آپ کو…..”
“کیا کہا تم نے؟کیا کیا تم نے…..؟”نائل غصے سے اس کی جانب بڑھے دھاڑا تھا۔
“کیا کہا ان سے تم نے، بولو…..؟”اسے انسان سے حیوان بننے میں ایک سیکنڈ لگا تھا۔سنیہا کی سانسیں رکنے لگی تھیں۔اس کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی تھی۔
“بولو کیا کہا تم نے…..؟”نائل نے اس کی کلائی مڑوڑی تھی۔
“میں….میں نے کچھ نہیں کہا۔”وہ شیرنی سے فورا بھیگی بلی بنی تھی۔
“سچ سچ بتاؤ کیا کہا ہے تم نے؟”ماہم ویسے ہی اس کی کال ریسیو نہیں کر رہی تھی اوپر سے سنیہا کی یہ بات…..
“میں نے بس اپنی اور آپ کی شادی کا بتایا تھا بس…..”سنیہا منمنائی تھی۔
“بیواقوف عورت!وہ میری بہن کا نمبر ہے۔”سنیہا کو بستر پر دھکہ دیے وہ اپنا موبائل اٹھائے باہر گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حاتم کی باتوں کا اثر نا لیتے وانیہ نے پورے گھر میں ادھم مچا رکھا تھا۔گھر میں دس ملازم،ایک ڈاکٹر اور ایک نرس موجود تھے مگر وہ اکیلی سب پر بھاری تھی۔حاتم کسی ضروری کام سے باہر گیا تھا۔اس بات سے انجان کہ اس کی معصوم بیوی نے اس کے گھر کا نقشہ ہی بگاڑ دیا ہے۔آخرکار چلا چلا کر تھک کر وہ سو ہی گئی تھی۔یہ اس دوائی کا بھی اثر تھا جو کہ اسے جوس میں ملا کر زبردستی پلائی گئی تھی۔
حاتم کے واپس آتے ہی ساری داستان اس کے گوش گزار کی گئی تھی مگر مجال تھی کہ وہ اپنی نین کے حوالے سے کچھ غلط سن لے،وہ الٹا ملازموں پر چڑھ دوڑا تھا۔
مختصر یہ کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے لیے ہی بنے تھے۔صرف حاتم ہی عینین کو اور عینین ہی حاتم کو برداشت کر سکتی تھی۔
اس کی آنکھ صبح نو بجے کے قریب کھلی تھی۔وہ فورا بستر سے اٹھی تھی۔یہاں سے بھاگنے کا وہ پکا ارادہ کر چکی تھی۔بستر سے اٹھتے اس کی نظر سائیڈ ٹیبل پر پڑے گلدستے پر پڑی تھی۔
گلاب کے پھولوں کا گلدستہ…..
اس نے ہاتھ بڑھا کر وہ اٹھایا تھا۔اس کے ساتھ ایک چھوٹا سا کارڈ بھی چسپاں تھا۔حاتم نے اس بار کارڈ نہیں چھپایا تھا،اس کی ضرورت ہی نہیں تھی۔
“Good morning darling……”
“ٹیرس پر آؤ۔”وانیہ ساکت ہو گئی تھی۔
جس چیز نے اسے چوکنے پر مجبور کیا تھا وہ ہینڈ رائٹنگ تھی۔
“یہ تو بالکل ویسی ہی ہے جیسے وہ خط….”
“شاہین….”اس کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے تھے۔ایسے ہی تو اس کا دل نہیں دھڑکا تھا۔
“کتنی بڑی بیواقوف ہوں میں….”اس نے اپنے سر پر ایک چپت لگائی تھی مگر ماتھے پر بندھی پٹی نے اسے کراہنے پر مجبور کر دیا تھا۔
آہستہ آہستہ اسے سب سمجھ آنے لگا تھا۔
“اگر سمیر نے نینا کو اغوا کیا تھا تو پھر نین کون ہے؟مام نے تو کہا تھا نا کہ نین بھاگ جاؤ۔تو کیا وہ صوفی کو نین کہہ رہی تھیں؟”ماہم کی جانب دیکھے اس نے سوال کیا تھا۔
“نینا صوفی کو نین کیوں کہے گی۔وہاں صوفی کے علاؤہ بھی تو کوئی تھا نا؟ایک آٹھ سالہ بچی….عینین آفندی،نینا کی بیٹی نین…..”
“میں….میں نین ہوں۔”حیرت کا ایک سمندر اس کی آنکھوں میں ابھرا تھا۔
“وہ لاکٹ اور وہ تصویریں؟”وہ بالکل بھی یقین نہیں کر پا رہی تھی۔
“وہ تو جان کر رکھی تھیں میں نے،تمہیں اذیت دینے کے لیے۔اور یہ دیکھنے کے لیے کہ تمہیں کتنا یاد ہے۔حقیقت تو یہ ہے عینین کہ میں نا تو تمہیں کچھ بھولنے دینا چاہتی تھی اور نا ہی یہ چاہتی تھی کہ تمہیں ٹھیک سے کچھ یاد آئے۔”
“عمر نین…..”کارڈ ہاتھ میں پکڑے اس کے لب ہلے تھے۔
اس کے دیے ہوئے کپڑے پہن کر وہ اچھے سے تیار ہو کر ملازمہ کی رہنمائی کے ساتھ ٹیرس پر گئی تھی۔
وہ کسی سے فون پر محو گفتگو تھا۔
نین نے چور نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا تھا۔اسکی طرف حاتم کا دائیاں رخ تھا۔
“ڈریسنگ تو اچھی کرتا ہے۔”کالے رنگ کی پینٹ کے اوپر اس نے ہلکے بھورے رنگ کی شرٹ پہنی ہوئی تھی۔
“بال بھی اچھے ہیں۔”حاتم نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا تھا۔
“بیئرڈ بھی ٹھیک بنائی ہوئی ہے۔”نین نے اپنی انگلی دانتوں تلے دبائی تھی۔
“دکھنے میں تو میری سوچ سے بھی زیادہ ہینڈسم ہے۔”وہ لاشعوری طور پر انگلی دانتوں تلے دبا گئی تھی۔
“آہ…..”اس کی ہلکی سی چیخ پر حاتم اس کی جانب متوجہ ہوا تھا۔فون آف کیے وہ مسکرا کر اس کی جانب بڑھا تھا۔نین کا دل اس کی ہتھیلی پر آیا تھا۔
“کیسی طبیعت ہے اب؟”حاتم نے نرم مسکراہٹ اس کی جانب اچھالی تھی۔
“مجھے یہاں سے جانا ہے۔”منہ کے زاویے بگاڑے اس نے کل والا مطالبہ پھر سے دہرایا تھا۔اتنے سالوں کی دوری کا بدلہ لینا تو بنتا تھا نا…..
“کہاں جانا ہے؟”حاتم اس کے مزید قریب آیا تھا۔
“یہاں سے بہت دور…..”اس کی قربت پر وہ نظریں چرا گئی تھی۔
“کتنی دور…..؟”اپنے کان کے پاس سرگوشی سنتے وہ دبک کر پیچھے ہٹی تھی۔
“دیکھو تم مجھے جانتے نہیں ہو،تم میرے بھائی کو جانتے نہیں ہو؟”انگلی اٹھا کر دھمکی دیتے وہ حاتم کو بہت کیوٹ لگی تھی۔
“اس سالے کو مجھ سے بہتر اور کون جان سکتا ہے؟”کرسی پر شاہانہ انداز میں بیٹھتے حاتم نے تنفر سے سر جھٹکا تھا۔
سامنے میز پر ناشتے کے لوازمات سجے ہوئے تھے۔
“تم….تم نے میرے بھائی کو گالی دی؟”بےیقینی ہی بےیقینی تھی۔
“گالی تو نہیں دی بس رشتہ بتایا ہے۔”وہ حد سے زیادہ ڈھیٹ تھا۔
“میں جا رہی ہوں یہاں سے…..”وہ پیر پٹخے ابھی مڑی ہی تھی جب حاتم کی آواز اس کے کانوں میں گونجی تھی۔
“میری مرضی کے بغیر نہیں جا سکتی۔”اس نے کافی کا کپ لبوں سے لگائے لاپروائی سے کہا تھا۔
اس بات کا اندازہ تو وہ کل ہی لگا چکی تھی کہ گھر کے اندر اور باہر کتنی سیکیورٹی ہے۔
“کیوں؟کس رشتے کے تحت رکوں میں یہاں پر؟”ہاتھ پر ہاتھ باندھے اس نے دانتوں تلے مرچی چبائے کہا تھا۔
“جو رشتہ چاہے بنا لو۔”اس کا لہجہ اب بھی لاپروہ تھا۔
“دوست بنا لوں تمہیں،ویسے بھی مجھے جانوروں سے دوستی کرنا بہت پسند ہے۔”حاتم کے ماتھے پر شکنیں ابھری تھیں۔
“کیا کہا تم نے؟”اپنی جگہ سے اٹھے وہ اس کے قریب گیا تھا۔ساتھ ہی ساتھ اس نے گن نکال کر نین کے دل کے مقام پر رکھی تھی۔گن لوڈ ہونے کی آواز پر نین کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی سانس نیچے رہ گئی تھی۔
“یہ چل جائے گی۔”اس نے سانس روکے کہا تھا۔
“چلانے کے لیے ہی رکھی ہے۔”وہ اس کی حالت سے محظوظ ہوا تھا۔شاید وہ بچپن کی ہر ایک بات کا اس سے انتقام لے رہا تھا۔
“دیکھو مجھے مت مارنا۔میرے اندر نا تو خون بھی تھوڑا سا ہی ہے۔میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گی،تمہاری سچائی کسی کو نہیں بتاؤں گی۔”حاتم کے لبوں کی مسکراہٹ کہیں غائب ہوئی تھی۔
“کیا نہیں بتاؤ گی تم؟بولو کیا جانتی ہو تم؟”وہ ہر گز نہیں چاہتا کہ نین کو کبھی بھی اس کے کالے کارناموں کا علم ہو۔
“یہی کہ تم شاہین ہو اور آئی۔ایس۔آئی ایجینٹ ہو۔”وہ روانی میں بول گئی تھی۔
“What…..?”
حاتم کو حیرت کا شدید دھچکا لگا تھا۔
“میں شاہین ہوں؟”وہ یقین نہیں کر پا رہا تھا۔
“میں کسی کو نہیں بتاؤں گی پکا۔بھائی بھی شاید اسی لیے تمہیں پسند نہیں کرتے کہ تم آئی۔ایس۔آئی سے ہو۔”
“میں ایسے ہی اسے ڈھونڈھنے میں وقت ضائع کر رہا ہوں۔”وہ بڑبڑایا تھا
“تمہیں کس نے کہا کہ میں آئی۔ایس۔آئی سے ہوں؟”چہرے پر سختی لائے اس نے استفسار کیا تھا۔
“مجھے پتا ہے۔تم نے آ کر بچایا تھا نا مجھے،تم ہمیشہ مدد کرتے ہو۔بریسلیٹ کے ذریعے مجھ سے کنٹیکٹ بھی تو کرتے ہو۔”
“بریسلیٹ…..؟”حاتم کو وہ ایک کے بعد دوسرا دھچکہ دے رہی تھی۔
“ہاں!بالکل ٹھیک کہا تم نے،میں شاہین ہی ہوں۔”اس نے کچھ سوچتے ساتھ ہی فورا اعتراف کیا تھا۔
“ویسے کہاں ہے وہ بریسلیٹ،دکھانا مجھے…..”