93.4K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Alhamd se Wannass (Episode 62) Part 02

“دے دیے پھر اپنے بھائی کو پیپیرز؟”کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد وہ سنبھل کر بولا تھا۔سنیہا نے چونک کر سر اٹھایا تھا۔وہ مطمئن سا کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
“جو پیپرز تم نے مجھ سے سائن کروائے،وہ دے تو دیے ہوں گے اسے؟”وہ عجیب نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔وہ جیسے شرم سے پانی پانی ہوئی تھی۔آخر اس نے کیسے سوچ لیا تھا کہ وہ اس کی آنکھوں میں دھول جھونک سکتی تھی۔
“جب ساری دنیا نے مجھے دھوکہ دیا تو پھر میری بیوی کیسے پیچھے رہ سکتی تھی؟؟”وہ بےبسی سے ہنس دیا تھا۔
“تم نے جب گھر کی بات کی تھی نا،میں تب ہی ٹھٹک گیا تھا پھر تم نے جان بوجھ کر کافی گرائی اور مجھ سے پراپرٹی کے پیپرز سائن کروائے اور میں نے کر بھی دیے۔جانتی ہو کیوں…..؟”پلنگ کے قریب آتے اس نے سنیہا کو بازو سے کھینچ کر کھڑا کیا تھا۔
“مجھے لگا تھا شاید تم یہ اپنی سیکیورٹی کے لیے کر رہی ہو۔اس سب میں میری بہن کا بھی حصہ ہے لیکن پھر بھی میں نے سائن کر دیے۔لیکن آج جب مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ سب تم اپنے ان دو ٹکے کے گھر والوں کے کہنے میں آ کر کر رہی ہو تو یہ میری برداشت سے باہر ہے۔”وہ اندھا نہیں تھا،مگر اعتبار کی پٹی اسے کچھ دیکھنے نہیں دیتی تھی۔وہ سب کچھ دیکھ کر بھی انجان بن جاتا تھا۔وہ ہمیشہ سے اپنے آپ کو بہلا لیتا تھا۔
“آپ نے کہا کہ ساری دنیا نے آپ کو دھوکہ دیا،لیکن مسٹر نائل آفندی….میں نے آپ کو دھوکہ نہیں دیا۔سنیہا کبھی نائل کو دھوکہ نہیں دے سکتی۔”اس کے ہاتھ سے اپنا آپ چھڑواتے اس نے اپنا بیگ اٹھایا تھا۔
“یہ لیجیں…..”بیگ سے پیپرز نکالے اس نے نائل کی جانب بڑھائے تھے۔
“میں ان کی باتوں میں ضرور آ گئی تھی لیکن آپ کو دھوکہ نہیں دے سکی۔”سنیہا کا باپ اور بھائی کافی عرصے سے اس سے کنٹیکٹ کرنے کی کوشش کر رہے تھے بالآخر ایک دن اس نے کال ریسیو کر ہی لی تھی۔انہوں نے اسے نائل کے خلاف بھڑکانے کی پوری کوشش کی تھی،وجہ محض اس کی دولت حاصل کرنا تھا۔وہ اتنی سمجھدار نہیں تھی،اسی لیے باآسانی ان کی باتوں میں آ گئی تھی۔اور پھر نشے کی حالت میں نائل کا صوفی کا ذکر کرنا اسے بالکل توڑ گیا تھا۔اس نے نائل کو چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔واپس لندن جانے کی شرط یہی رکھی گئی تھی کہ وہ یہ پیپرز سائن کروائے گی۔پیپرز تو اس نے سائن کروا لیے تھے مگر وہ کبیر کو نہیں دے سکی تھی۔عین وقت پر ہی مگر اسے سمجھ آ گیا تھا کہ وہ لوگ محض اس کا استعمال کر رہے ہیں۔اسے یہ عقل بھی اس کی ماں نے ہی دی تھی اور اس سے کبھی واپس نا آنے کا وعدہ بھی لیا تھا۔
“لیکن اب میں تھک گئی ہوں۔یہ سب میری برداشت سے باہر ہے۔آپ رہیں اپنی صوفی کی یادوں کے مقبرے کے ساتھ…..مجھے اب کوئی اعتراض نہیں ہے۔”اس نے بہت مشکل سے امڈتے آنسوؤں کو روکا تھا۔
“بہت محبت ہے نا آپ کو اس سے…..تو پھر آج میں آپ کو آپ کی محبت کی قسم دیتی ہوں،میں آپ کو صوفی کی قسم دیتی ہوں۔مجھے آزاد کر دیں۔مجھے طلاق دے دیں۔”وہ ہی جانتی تھی کہ اس نے یہ الفاظ کیسے ادا کیے تھے۔رہنے کا کوئی ٹھکانہ نا ہونے کے باوجود بھی وہ اب نائل کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تھی۔اس کے الفاظ کسی ہتھوڑے کی مانند نائل کے کانوں میں بجے تھے۔
سنیہا کی جانب سے اس قسم کے کسی مطالبے کے بارے میں وہ خواب میں بھی نہیں سوچ سکتا تھا۔اس کی بیوی نے تو خود کو اس کے سامنے ریت کا ڈھیر کر دیا تھا۔وہ تو عشق کی دعویدار تھی اور اب یہ مطالبہ…..
“میں تمہاری دی ہوئی قسم کو ماننے سے انکار کرتا ہوں۔میں یہ کبھی نہیں کروں گا،کبھی نہیں…..”
“میں آپ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔”
“مگر میں رہنا چاہتا ہوں۔”نائل نے اسے شانوں سے تھامتے نرمی سے کہا تھا۔
“میں آپ کے کسی فریب میں نہیں آنے والی۔”اس کے ہاتھ جھٹکتے وہ پیچھے ہٹی تھی۔
“آپ مجھے بس آزاد کر دیں ورنہ….”
“ورنہ کیا…..؟”اسے کلائی سے پکڑے وہ اسے اپنے بےحد قریب کر چکا تھا۔
“ورنہ میں خلع لے لوں گی۔”اس نے خشک لبوں پر زبان پھیرتے خود کو مضبوط ظاہر کرنے کی کوشش کی تھی۔
“سنیہا…..”نائل نے اسے کھینچ کر مزید قریب کیا تھا۔دونوں کے درمیان فاصلہ اب ایک انچ برابر بھی نہیں تھا۔اس کی سانسوں کی تپش اپنے چہرے پر محسوس کرتے وہ سختی سے آنکھیں میچ گئی تھی۔
“اگر میری اجازت کے بغیر اس گھر سے باہر قدم بھی نکالا تو جو حشر تمہارے بھائی کے ہاتھ کے ساتھ کیا ہے وہی تمہاری ٹانگوں کے ساتھ کروں گا۔”اس کا گال نرمی سے سہلاتے وہ پیچھے ہٹا تھا۔
“کبیر،وہ ٹھیک تو ہے نا؟؟”اس سب میں اسے تو وہ بھول ہی گئی تھی۔
“ظاہر ہے زندہ ہی ہو گا۔”نائل نے لاپروائی سے کہا تھا۔اسے اپنے کیے پر ذرا برابر شرمندگی نہیں تھی۔
“کس قدر بےحس انسان ہیں آپ،میرے بھائی کے ساتھ اتنا غلط کیا آپ نے….نجانے وہ کیسا ہو گا؟”اسے اب کبیر کی فکر ستانے لگی تھی۔
“دوبارہ تمہارے منہ سے میں نے کسی کا بھی ذکر سنا نا تو مار ڈالوں گا سب کو…..”وہ بےحسی کی انتہا پر تھا۔
“مجھے اس کے پاس جانا ہے۔”
“چپ چاپ بیٹھی رہو۔ورنہ سچ میں ٹانگیں توڑ دوں گا۔پتا کرتا ہوں اس کا…..لیکن تم اگر اپنے گھر والوں کی سلامتی چاہتی ہو تو چپ چاپ یہاں بیٹھی رہو اور دوبارہ ان کا ذکر مت کرنا ورنہ ٹریلر تو تم دیکھ ہی چکی ہو۔”وہ اسے ڈرا رہا تھا اور وہ واقعی ڈر گئی تھی۔جو کچھ اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا،وہ اسے خوفزدہ کرنے کے لیے کافی تھا۔
“مجھے طلاق چاہیئے۔”بھرائی آواز کے ساتھ وہ منمنائی تھی۔
Ohh Shut up!”
اسے شٹ اپ کال دیتے وہ تیزی سے وہاں سے گیا تھا۔
وہ کچھ دیر بری طرح روتی رہی تھی پھر اس نے ایک فیصلہ کرتے اپنے آنسو صاف کیے تھے۔
“بس بہت رو لیا میں نے…..اگر رہنا آپ ہی کے ساتھ ہے تو پھر اب میری مرضی چلے گی۔ہر چیز کا انتقام لوں گی میں….جینا حرام کر دوں گی آپ کا…..”اس نے معصومیت بھرا پیماں کیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہاتھ مسلتے اضطراب کی حالت میں بستر پر بیٹھی تھی۔جو تماشہ وہ نیچے لگا کر آئی تھی اس کے بعد حاتم کے تیور کافی بگڑے ہوئے تھے۔یقینا اس کی کلاس لگنی تھی۔اپنی شادی کی پہلی رات تو اس نے یہ سب نہیں سوچا تھا۔اے سی چلنے کے باوجود بھی اس کے ماتھے پر پسینے کی ننھی ننھی بوندیں نمایاں تھیں۔
دروازہ کھلنے کے آواز پر وہ جلدی سے آنکھیں بند کیے لیٹ گئی تھی۔جب وہ جاگ ہی نہیں رہی ہو گی تو وہ اسے ڈانٹے گا کیسے؟؟
اسے بستر پر نیم دراز دیکھ حاتم کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔وہ قدم قدم چلتا اس کے سراہنے کھڑا ہوا تھا۔ہاتھ پر ہاتھ باندھے،آنکھیں سکیڑے وہ اب مسلسل اسے گھور رہا تھا۔
“یہ تمہارے بالوں پر کیا ہے؟یہ تو مجھے کاکروچ لگتا ہے،مگر اس کا رنگ تو نیلا ہے۔کیا نیلے رنگ کا بھی کاکروچ ہوتا ہے۔”وہ کرنٹ کھا کر اٹھی تھی۔
“کہاں ہے،کہاں پر ہے؟نیلے رنگ کا کاکروچ،یہ تو نئی دریافت ہو گی۔”عادت سے مجبور وہ آکسائیڈ ہو کر بیٹھی تھی۔وہ مسلسل اپنے بالوں میں ہاتھ پھیر کر دیکھ رہی تھی۔
“ادھر آؤ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ کہاں ہے کاکروچ….”اس کی چوڑیوں والی کلائی تھامے عمر نے ایک جھٹکے سے اسے کھینچ کر کھڑا کیا تھا۔
“تم نے ایسا سوچا بھی کیسے کہ میں خود تمہیں کسی اور کو سونپ….”وہ جملہ تک مکمل نہیں کر سکا تھا۔
“نین میں اپنے ہاتھوں سے تمہاری جان تو لے سکتا ہوں مگر تمہیں کسی اور کا ہوتے نہیں دیکھ سکتا۔”
“غلطی تمہاری ہے۔تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا کہ تمہارا نام عمر نہیں حاتم ہے۔”سارا الزام اس کے سر ڈالے وہ بری الزمہ ہوئی تھی۔
“میں تمہارے لیے صرف عمر ہوں۔”حاتم کو وہ خود کب کا دفنا چکا تھا۔یہ نام اس نے صرف عینین سے نکاح کے لیے استعمال کیا تھا۔وہ ڈیوڈ کے نام سے نکاح نہں کر سکتا تھا۔
“حاتم اتنا اچھا نام تو ہے،عمر اتنا اچھا نام نہیں ہے۔”عینین نے آنکھیں گھماتے اسے کے سارے اپنی رائے رکھی تھی۔وہ بس اس پر ایک خشمگیں نگاہ ڈال کر رہ گیا تھا۔بچپن میں اسے حاتم نام پسند نہیں تھا اور اب عمر…..وہ آسانی سے راضی ہونے والوں میں سے نہیں تھی۔
“خیر اس بارے میں صبح بات کریں گے۔”اپنی شادی کی پہلی رات وہ اس سے مزید نہیں لڑ سکتا تھا۔
“تم نے مجھ سے کاکروچ کے متعلق جھوٹ کیوں بولا؟”اس نے ایک شکایتی نگاہ حاتم پر ڈالی تھی۔
“تمہیں کاکروچ عزیز ہے یا شوہر؟”وہ اچھا خاصا تپا تھا۔
“مجھے نہیں پتا اب مجھے منہ دکھائی میں کاکروچ چاہیئے وہ بھی نیلے رنگ کا…..جہاں سے مرضی لا کر دو۔”وہ ضد ہر اتر آئی تھی جبکہ حاتم کا منہ بےاختیار کھلا تھا۔اس نے اس لمحے کو کوسا تھا جب اس نے یہ کاکروچ والی بات کی تھی۔
“نین میرا دماغ مت خراب کرو۔اگر تم نے مجھے مزید تنگ کیا نا تو میں تمہیں سٹور میں بند کر دوں گا جو کہ سارا کا سارا کاکروچ سے بھرا ہوا ہے۔”حاتم نے اسے ڈرانا چاہا تھا۔
“ٹھیک ہے کر دو۔”وہ لاپروائی سے گویا ہوئی تھی۔وہ لب بھینج کر رہ گیا تھا۔اسے اس وقت کاکروچ اپنے رقیب لگ رہے تھے۔
“نین!میرے خیال سے اس رات محبت بھری باتیں کی جاتی ہیں؟”گہری سانس خارج کیے اس نے اپنے لہجے کو حد درجہ نرم رکھا تھا۔
“ہاں تو پھر کرو نا محبت بھری باتیں،میں نے کب منع کیا ہے۔”اس نے گویا حاتم پر احسان کرتے کہا تھا۔
“تھوڑا سا شرما ہی لو۔”حاتم نے سرد آہ بھری تھی۔
“زبردستی شرماؤں؟؟”اس سوال پر حاتم کا چہرہ غصے سے سرخ پڑا تھا۔
“تم رہنے دو،میں خود ہی تمہیں شرم دلا دوں گا۔”اس کے معنی خیز لہجے پر وہ بری طرح جھنپ گئی تھی۔جسم کا سارا خون سمٹ کر چہرے پر آیا تھا۔
“شرماتی ہوئی اچھی لگتی ہو۔”حاتم نے اس کے ہاتھ پر دباؤ ڈالے کہا تھا۔
“عمر….”نظریں جھکائے اس نے ہلکا سا احتجاج کیا تھا۔
“حکم عمر کی جان….”وہ ایک بار پھر شرما گئی تھی۔
“تم وضو کر لو،ہم نفل ادا کرتے ہیں۔”وہ جس قدر خوشی سے گویا ہوئی تھی،حاتم کا رنگ اس قدر ہی سفید پڑا تھا۔
“آج صبح میں ایک ڈرامہ دیکھ رہی تھی۔تمہیں پتا ہے شادی کے بعد دونوں دولہا دلہن نماز پڑھتے بہت اچھے لگ رہے تھے۔میں چاہتی ہوں کہ ہم بھی ساتھ میں نفل ادا کریں۔اللہ کا شکر ادا کریں….تمہیں پتا ہے ایک وقت تھا جب میں اللہ کی موجودگی کے بارے میں شبہات کا شکار تھی مگر پھر کچھ ایسے حالات پیدا ہوئے اور پھر کسی نے مجھے سمجھایا تو مجھے سمجھ آ گئی۔”آنکھوں کے سامنے ایک مہربان دوست کا سایہ لہرایا تھا۔اپنی شادی کی پہلی رات بھی وہ اسے یاد کر رہی تھی۔وہ عملی مسلمان نہیں تھی مگر اللہ کی موجودگی پر وہ یقین کر چکی تھی۔اسے حضرت محمد(صلی اللہ علیہ وسلّم) کے آخری نبی ہونے پر بھی یقین تھا۔اس نے قید میں کئی بار شہادت بھی دی تھی۔اب بھی وہ نجانے کیا کیا بول رہی تھی مگر حاتم کا دماغ تو بالکل شل تھا۔
“عمر جاؤ نا،وضو کر کے آؤ۔”اس کے جھنجھوڑنے پر وہ جیسے ہوش میں آیا تھا۔
“یہ ضروری ہے،میرا مطلب نفل پڑھنا…..تم پڑھ لو نا….”اس نے اپنی تر پیشانی پر ہاتھ پھیرا تھا۔
“جی نہیں!ہم ساتھ پڑھے گے۔میں نے تو پہلے ہی وضو کر لیا تھا۔تم بھی کر لو۔”
“میں….؟”وہ سراسیمہ رہ گیا تھا۔
“ہاں تو اور کون…..؟”کمر پر ہاتھ رکھے اس نے حاتم کو گھورا تھا۔
“افف عمر تم بھی نا!چلو میرے ساتھ…..”وہ اس کا ہاتھ تھامتے اسے آگے گھسیٹی جا رہی تھی۔وہ چپ چاپ اس کے ساتھ چل رہا تھا۔انکار کرنے کی صورت میں ہزار سوالوں کے جواب دینے پڑتے۔
“چلو کرو وضو…..”واش بیسن کے پاس کھڑے ہوتے اس نے عمر کا ہاتھ چھوڑا تھا۔