93.4K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Alhamd se Wannass (Episode 10)

وانیہ کی آنکھ ہسپتال کے بستر پر کھلی تھی۔

“آہ…!”اسے اپنے سر میں ٹھیس سی اٹھتی محسوس ہوئی تھی۔اس نے اپنا ہاتھ ہلانے کی کوشش کی تھی مگر اس کے ایک ہاتھ پر ڈرپ لگی ہوئی تھی تو دوسرے ہاتھ پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔آخری چیز جو اسے یاد تھی وہ گاڑی کا

پیڑ سے ٹکرانا تھا۔

ہوش میں آنے کے بعد اس کا خیال تو بہت رکھا گیا تھا مگر نائل اور ماہم دونوں نے ہی اس سے بات چیت بند کر دی تھی۔

دو دن ہسپتال میں ایڈمٹ رہنے کے بعد وانیہ کو گھر لے جایا گیا تھا۔ناصرف اس کا گھر سے باہر جانا بند ہوا تھا بلکہ اس کے بستر سے اٹھنے پر بھی پابندی لگ چکی تھی۔

خیر یہ سب اس کی توقع کے عین مطابق تھا۔اس کا اصل مقصد تو شاہین سے بات کرنا تھا جو کہ یقینا پورا ہو

چکا تھا۔

سب کے کمرے سے باہر جاتے ہی اس نے چھپکے سے اپنے ہاتھ میں پہنا بریسلیٹ اتارا تھا۔اب وہ بریسلیٹ کے ہر اک کونے کو چھو کر دیکھ رہی تھی۔اپنی انگلیوں کے پوروں سے وہ کچھ کھوج رہی تھی۔ایک جگہ اسے کچھ چھبا تھا۔وانیہ نے جلدی سے اپنے انگوٹھا وہاں رکھا تھا۔وہ بریسلٹ دو حصوں میں تقسیم ہوا تھا۔اس کے اندر ایک چھوٹا سا خط تھا جو کہ وانیہ نے ہی رکھا تھا۔یہ اس کا اور شاہین کا بات کرنے کا انداز تھا۔وہ کبھی اس کے سامنے نہیں آتا تھا مگر ہمیشہ اسے ہر مصیبت سے بچاتا تھا۔کافی سال پہلے ایک دفعہ اس کا ایکسیڈینٹ ہوا تھا۔جب اسے ہوش آیا تھا تو اس اسے اپنے پاس یہ بریسلیٹ ملا تھا۔وہ اتنی ذہین

تو تھی کہ بریسلیٹ کی بناوٹ سے ہی اندازہ لگا لے کہ وہ محض ایک عام بریسلیٹ نہیں تھا۔آدھے گھنٹے کی محنت کے بعد وہ اس بریسلیٹ کو کھولنے میں کامیاب ہو ہی گئی تھی۔اس پر اپنے انگوٹھے کا نشان سیکیورٹی کے طور پر اس نے خود ہی لگایا تھا،تاکہ اس کے علاؤہ اسے کوئی اور 

نا کھول سکے۔

وہ جب بھی مصیبت میں ہوتی تھی،شاہین نا صرف اسے بچاتا تھا بلکہ اسے حوصلہ بھی دیتا تھا۔ضرورت پڑنے پر

وہ اسے مشورہ بھی دیتا تھا اور وانیہ اس پر عمل بھی کرتی تھی۔آہستہ آہستہ اسے شاہین کی عادت ہوتی جا رہی تھی۔وہ اسے بغیر دیکھے،بغیر جانے بھی اس کے لیے کچھ

محسوس کر رہی تھی۔کوئی احساس تھا جسے سمجھنے سے وہ قاصر تھی۔پچھلے دو سال سے وہ اسے ملنے کے لیے الٹے سیدھے راستے اختیار کرتی تھی۔وہ جان بوجھ کر خود

کو مصیبت میں دھکیلتی تھی تا کہ وہ آ کر اسے بچا لے۔اور ساتھ ہی ساتھ وہ خود سے ایک خط بھی رکھتی تھی جس کا جواب اسے مل جاتا تھا۔بریسلیٹ سے خط نکالے وانیہ نے اسے کھولا تھا۔

“نین کون ہے اور کہاں ہے؟”وانیہ نے اپنے لکھے گئے الفاظ دہرائے تھے۔اصل جھٹکا تو اسے جواب پڑھ کر لگا

تھا۔

“مجھے اپنی طرح فارغ مت سمجھو بےوقوف لڑکی!یہ آخری بار ہے۔آج کے بعد مجھ سے کوئی اچھی امید مت رکھنا۔”وانیہ کا تو منہ ہی کھل گیا تھا۔

“کھڑوس…!”وانیہ نے خط کی بال بنائے ایک طرف پھینکی تھی۔

“ایک طرف میرے لیے تحائف بجھواتا ہے،میرے حسن پر شاعری لکھتا ہے اور دوسری طرف…!”اسے غصہ آیا تھا۔

عائزہ کو زیادہ چوٹیں نہیں لگی تھیں مگر وانیہ کی حالت اس سے زیادہ خراب تھی۔آج اتنے دنوں بعد وہ وانیہ سے ملنے اس کے گھر آئی تھی۔

یہ ملاقات نائل کی غیر موجودگی میں ہو رہی تھی۔اس حادثے کے بعد وہ تو کبھی بھی وانیہ کو عائزہ سے نا

ملنے دے۔اس کے مطابق یقینا عائزہ نے ہی وانیہ کو ورغلایا ہو گا ورنہ اس کی بہن تو بےحد معصوم ہے۔اس بیچاری

کو تو دنیاداری کی کوئی خبر ہی نہیں ہے۔

“بہت ہی کھڑوس شخص ہے۔”وانیہ کی دہائیاں کب سے جاری تھیں۔

“ایک طرف اتنی محبت اور دوسری طرف اتنی بےرخی…؟”وہ ہمیشہ سے ہی سٹیڈ فارورڈ تھا۔اس کے جواب وانیہ کو ہمیشہ ہی طیش دلاتے تھے۔

“ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ یہ دو الگ الگ لوگ ہوں۔”عائزہ نے اپنی رائے دی تھی۔

“ہاں ہو بھی سکتا ہے۔”وانیہ خود بھی کنفیوژ تھی۔

“نہیں وہ شاہین ہی ہے۔”اس نے سر جھٹکتے خود کو یقین دلایا تھا۔

“شاہین کبھی میرے سامنے نہیں آیا اور نا ہی وہ شخص…

اس کا مطلب تو یہ ہوا نا کہ وہی شاہین ہے۔”

“دل بہلانے کو خیال اچھا ہے غالب”عائزہ نے آنکھیں گھمائی تھیں۔

“ویسے یہ کچھ عجیب سا نام نہیں ہے؟میرا مطلب ہے شاہین…؟یہ کیسا نام ہوا؟؟”

“اتنا اچھا نام تو ہے۔”وانیہ نے باقاعدہ برا منایا تھا۔

“ویسے ایک بات بتاؤ تمہیں کیسے پتا چلا کہ اس کا نام شاہین ہے؟اس نے خود بتایا ہے تمہیں؟؟”

“اس بریسلیٹ نما چیز پر عقاب بنا ہوا ہے اور مجھے خواب میں بھی ایک شخص دکھتا ہے جسے میں شاہین کہہ

کر بلاتی ہوں،اور اس وڈیو میں بھی میں یہی نام لے رہی تھی۔”

“اور تم نے اخذ کر لیا کہ اس کا نام شاہین ہے؟”وانیہ کی تائید پر عائزہ نے اپنا سر پیٹا تھا۔

“شاہین کے چکر میں کہیں کسی غلط شخص کے ہاتھ نا لگ جانا۔”عائزہ نے اسے سمجھایا تھا۔

“میں تو چاہتی ہوں کہ مجھے کوئی غلط شخص ہی ملے۔”دونوں ہاتھوں کو مس کیے وہ آکسائیڈ ہو کر اس کی 

طرف جھکی تھی۔

“مطلب…؟”اس کی جانب دیکھے وہ کچھ دیر لب کچلتی رہی تھی پھر اس نے ایکدم ہی دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے

تھے۔

“اے اللہ پاک!میں یہ سیدھی سادھی زندگی نہیں گزار سکتی میں۔مجھے ایک پر خطر زندگی چاہیئے۔مجھے نو سے پانچ کام کرنے والا شخص نہیں چاہیئے،مجھے ایک غنڈہ

چاہیئے۔”وہ آنکھیں بند کیے مسلسل ہل ہل کر دعائیں مانگ رہی تھی۔عائزہ نے وانیہ کی عقل پر ماتم کیا تھا۔اس کے علاؤہ وہ کر بھی کیا سکتی تھی؟

“نہیں نہیں اللہ جی!”اپنی تیز چلتی زبان کی روانی کا احساس ہوتے ہی اس نے فورا آنکھیں کھولی تھیں۔

“غنڈہ نہیں چاہیئے اللہ جی!غنڈے تو بالکل بھی ہیندسم نہیں ہوتے۔مجھے نا ایک خوش شکل،امیر،ہینڈسم سا انسان چاہیئے۔بالکل جیسے کوئی ڈان یا مافیا ٹائپ…!”وہ ہاتھ

پھیلائے جو دعا کر رہی تھی،اگر اسے علم ہوتا کہ یہ دعا اسے کتنی مہنگی پڑنے والی ہے تو وہ خواب میں بھی یہ نا

سوچتی۔

“تمہیں تو شاہین سے محبت نہیں تھی؟”عائزہ کی آواز پر اس کی سوچوں کا طلسم ٹوٹا تھا۔

“مجھے اس سے محبت نہیں ہے۔مجھے بس اسے جاننے کا تجسس ہے۔اس کی شخصیت مجھے پراسرار لگتی ہے۔ہاں

مگر میں جب اس کے دیے گئے تحائف اور خطوط کے بارے میں سوچتی ہوں تو مجھے کچھ عجیب سا محسوس ہوتا

ہے۔”بستر پر بیٹھے سامنے ڈریسنگ ٹیبل پر بنے آئینے میں اپنا حسین سراپا دیکھ کر اس کے لبوں پر اداس مسکراہٹ چھائی تھی۔

عائزہ کے جانے کے بعد ماہم کافی دیر وانیہ کے پاس بیٹھی رہی تھی۔اسے کھانا کھلانے کے بعد ماہم نے اسے دوائی

دی تھی۔وانیہ نے آنسوؤں کا ایسا جال بجھایا تھا کہ ناچار ماہم کو پگھلنا ہی پڑا تھا۔

“پھوپھو ایک بات پوچھوں آپ سے…؟”

“ہمم پوچھو…”

“میری کیا کوئی بڑی بہن تھی؟”اس کے سوال پر ماہم چونکی تھی۔

“نہیں میرا مطلب ہے کہ اگر میری کوئی بڑی بہن ہوتی تو کتنا مزا آتا نا…یا پھر کوئی جڑواں بہن…”اس نے فورا اپنی

بات تبدیل کی تھی۔وہ نہیں چاہتی تھی کہ ماہم کو بالکل بھی شک ہو۔

ماہم کچھ دیر وانیہ کو دیکھتی رہی تھی،پھر اچانک ہی وہ ہنس دی تھی۔

“اتنی فضول باتیں کہاں سے آتی ہیں تمہارے دماغ میں…؟”وانیہ منہ بسورے خاموش ہو گئی تھی۔غلطی اس ہی کی تھی،آخر وہ کیسے ماہم سے کسی تسلی بخش جواب کی توقع رکھ سکتی تھی؟

نا تو ماہم اسے کچھ بتانے کی روادار تھی،نا نائل اور اب تو شاہین بھی…یعنی اس راز کی تلاش اسے خود ہی کرنی تھی۔

“چلو تیار ہو جاؤ،ساتھ والے پارک چلتے ہیں۔تمہارے بھائی کے سخت آڈرز ہیں کہ تمہیں چہل قدمی کروائی جائے۔”وانیہ کی آنکھیں چھلکنے لگی تھیں۔وہ اس سے ناراض ضرور تھا مگر بےخبر نہیں….

اس بند طے خانے میں مشعلوں کی مدھم سی روشنی تھی۔ایک مخصوص کمرے میں کھڑے وہ چار درندے معصوم

لوگوں کی زندگی اس سے چھیننے کی پلیننگ کر رہے تھے۔

“ہم مسجد میں بم پلانٹ کریں گے۔”الیکس نے ایک چھری نفشے کے ایک حصے پر رکھی تھی۔

“نہیں!ہم یہ نہیں کریں گے۔”ڈیوڈ کی آواز پر الیکس،جیمز یہاں تک کہ ماریہ نے بھی چونک کر اس کی طرف دیکھا

تھا۔

“تمہیں مسلمانوں سے کب سے ہمدردی ہونے لگی ڈیوڈ؟؟”

الیکس نے ماتھے پر تیوری چڑھائے عجیب نظروں سے اسے

گھورا تھا۔

“مجھے کسی سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔”اس کے لبوں پر معنی خیز مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی۔

“میں تو بس یہ کہہ رہا ہوں کہ ہم مسجد کے بجائے مزار پر بم پلانٹ کریں گے۔”الیکس کے ہاتھ سے چھری پکڑے وہ نقشے کے دوسرے کونے تک لے گیا تھا۔

“مسجدیں تو خالی رہتی ہیں مگر مزار…وہاں تو ہمیشہ لوگوں کا ہجوم رہتا ہے۔”ڈیوڈ کی آنکھوں میں چمک تھی۔

سب کچھ فنا کر دینے کی چمک…

“ہم جمعے کے دن یہ دھماکہ کریں گے۔اس دن تو کافی لوگ مسجد میں موجود ہوتے ہیں۔”ماریہ کی بات پر ڈیوڈ نے

نفی میں سر ہلایا تھا۔

“زیادہ سے زیادہ کتنے…؟سو ڈیڑھ سو…بس؟مگر اگر ہم 

مزار پر حملہ کریں تو وہاں لوگوں کا ہجوم اکھٹا رہتا ہے۔”وہ تمسخرانہ ہنسا تھا۔

“اب وقت آ گیا ہے کہ ان مسلمانوں کو ان کے پیروکاروں کی قبروں سمیت فنا کر دیا جائے۔”ڈیوڈ کی بات مکمل ہوتے ہی وہاں موجود سب افراد کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ رینگ آئی تھی۔یہی تو ان کا کام تھا۔ملک کو تباہ و برباد کرنا،معصوم لوگوں کی جانیں لینا،لڑکیوں اور ڈرگز کی سمگلنگ کرنا اور ہر قسم کا شیطانی کام کرنا….

گاڑی ویرانے میں ایک گھر کے پاس روکے الیکس اندر داخل ہوا تھا۔گھر کافی بوسیدہ تھا،بالکل کھنڈر نما…

گھر کے اندر داخل ہوتے ہی اس نے اپنے قدم سٹور روم کی جانب بڑھائے تھے۔سٹور روم کا لاک کھولتے وہ دبے قدموں اندر داخل ہوا تھا۔

ایک الماری کے قریب پہنچتے اس نے الماری کھولے اندر چھپا ہوا ایک بٹن دبایا تھا۔دیوار دو حصوں میں تقسیم ہوئی تھی۔دیوار کے اس پار ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جسے بہت نفاست سے سجایا گیا تھا۔یہ گھر بھی ان کے تہ خانے کی طرز کا تھا۔

بستر پر لیٹے وجود کو دیکھ اس کے چہرے پر اداس مسکراہٹ بکھری تھی۔وہ چت لیٹا ہوا مسلسل چھت کو گھور رہا تھا۔بڑھی ہوئی شیو،بکھرے ہوئے سفید بال اور اجڑی ہوئی آنکھیں…

“کیسے ہو سیم…؟”کوٹ کا بٹن کھولے وہ اس کے پاس بیٹھا تھا۔اس کے اشارے پر وہاں موجود شخص ادب سے آنکھیں جھکائے باہر گیا تھا۔الیکس نے سیم کی دیکھ بھال کے لیے اپنے بھروسے کا ایک آدمی رکھا تھا۔

وہ بغیر کسی حس و حرکت کے چھت کو گھورتا رہا تھا۔

“اتنے سال بیت گئے اور تم ابھی تک سوگ منا رہے ہو؟اٹھ جاؤ سیم!پلیز جاگ جاؤ۔وہ ڈیوڈ اب میری برداشت سے باہر ہے۔میں چاہتا ہوں کہ تم لوٹ آؤ۔وہ تم سے زیادہ خطرناک

ہے۔مجھے اس سے خوف محسوس ہوتا ہے۔تم ہوش میں آ جاؤ پلیز!”اس کے لہجے میں بےبسی کے ساتھ ساتھ نمی بھی گھلی تھی۔

“بھول جاؤ اس لڑکی کو…جو کچھ ہوا بھول جاؤ۔تم نے تو ہزاروں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا ہے تو پھر تم کیوں اس لڑکی کو ماری گئی ایک گولی کو نہیں بھول پا رہے ہو؟

موت اس کا مقدر تھی۔”الیکس نے سیم کے منجمد اور بےحرکت ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا تھا۔

“ٹھیک ہے مت بولو۔”الیکس نے گہری سانس خارج کیے ہار مانی تھی۔

“چلو تمہاری پسندیدہ جگہ پر چلتے ہیں۔”اچانک ہی سیم کی بنجر آنکھوں میں چمک ابھری تھی۔

اسے اپنے آدمیوں کی مدد سے گاڑی میں بٹھائے وہ گاڑی کو فراٹے سے آگے بڑھا گیا تھا۔وہ پارک کے خوشگوار موسم میں 

مسلسل ٹہلتے ہوئے ویل چیئر پر بیٹھے سیم سے باتیں کر رہا تھا۔پھر اچانک ہی فون کال کے آنے پر وہ سیم کو وہیں چھوڑے وہاں سے گیا تھا۔

سیم نے زبان نے کچھ نہیں کہا تھا مگر اس کی آنکھیں مسکرا رہی تھیں۔یہی تو وہ جگہ تھی جہاں پہلی بار دیدار یار ہوا تھا۔وہ آنکھیں بند کیے اس ہوا کی تازگی کو اسے محسوس کر رہا تھا تبھی ایک ہنسی کی کھنک سے اس کے

تخیل میں ارتعاش پیدا ہوا تھا۔بند آنکھوں کے ساتھ اس کے چہرے پر اضطراب چھایا تھا۔یہ کھنک اسے کہیں پاس سے ہی سنائی دے رہی تھی۔سیم نے پٹ سے آنکھیں کھولی تھیں۔

تیز ہوا کا جھونکا اسے وہی منجمند کر گیا تھا۔سامنے بینچ پر بیٹھی وہ لڑکی اسے ساکت کر گئی تھی۔وہ سانس لینا بھول گیا تھا۔اس کی پلکیں جھپکنے سے انکاری تھیں۔

بھورے لمبے بال،دوھیا رنگت،ستوا ناک اور تھوڑی پر گہرا سیاہ تل….وہ وہی تھی،ہاں وہ وہی تھی۔

گلابی رنگ کے سوٹ میں ملبوس وہ حسینہ وہی تو تھی جس کے ایک دیدار کے پیچھے وہ دیوانہ تھا۔

ماہم کو اپنی ایک سہیلی مل گئی تھی جس سے بات کرتے کرتے وہ دوسری طرف چلی گئی تھی جبکہ وانیہ پارک میں موجود ایک بچے سے بات کرنے میں مصروف تھی۔وہ چہرے کے مختلف زاویے بنائے،ٹھوڑی پر ہاتھ رکھے اس بچے کے ساتھ محو گفتگو تھی۔

کسی کی نظروں کے احساس کے تحت وانیہ نے اپنے دائیں طرف دیکھا تھا۔وہیل چیئر پر موجود شخص کو اپنی طرف دیکھتے دیکھ کر وانیہ نے مسکرا کر ہاتھ ہلایا تھا۔

اب وہ قدم قدم چلتی اس تک گئی تھی۔چوٹ لگنے کی وجہ سے اسے چلنے میں دشواری ہو رہی تھی۔اس شخص تک

پہنچے وہ نیچے زمین پر بیٹھی تھی۔

“کسی کو چوری چھپے دیکھنا غلط ہے۔”وانیہ نے آنکھیں چھوٹی کیے اسے گھورا تھا۔سیم کو ٹھنڈے پسینے آنے لگے

تھے۔یہ وہی آواز تھی،چاشنی بھری میٹھی

آواز…

“لیکن خیر آپ کی عمر کی وجہ آپ کو معاف کیا۔”وانیہ نے ایک ادا سے بالوں کو جھٹکا دیا تھا۔

“میرے خیال سے کافی ہینڈسم ہیں آپ،بس تھوڑا سا حلیہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔”اپنی باتونی فطرت کے پیش نظر وہ کسی انجان سے بھی گھل مل جاتی تھی۔اور اس طرح گھل مل جانے کی سب سے اہم وجہ نائل کی پابندیاں تھیں۔اس شخص کے لب نیم وا ہوئے تھے۔وہ کچھ کہنا چاہتا تھا۔

“نینا…!”اتنے سالوں بعد اس نے نام لیا تھا بھی تو کس کا…؟

اس دشمن جان کا…

“میں نینا نہیں وانیہ ہوں۔”وانیہ نے مسکرا کر اپنا تعارف کروایا تھا۔

اس بار سیم نے بغور اس کے چہرے کے ہر اک نقش کو دیکھا تھا۔وہ سہی کہہ رہی تھی۔وہ نینا نہیں تھی۔اتنے سالوں بعد نینا اتنی جوان کیسے رہ سکتی تھی؟اور اس کی باتونی فطرت؟نینا تو خاموش طبیعت انسان تھی۔اور سب سے بڑی بات اس کے چہرے کی بناوٹ…نینا کا چہرہ بیضوی تھی جبکہ اس لڑکی کا چہرہ گول تھا۔بس ایک یہی فرق تھا ان

دونوں میں…مگر سوال یہ تھا کہ یہ ہو بہو نینا کی شکل و صورت دینے والی لڑکی آخر تھی کون؟