93.4K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Alhamd se Wannass (Episode 20)

نائل اپنے کمرے میں موجود صوفے پر اضطراب کی حالت میں بیٹھا تھا۔آج جو کچھ بھی ہوا،وہ اس کی سمجھ سے باہر تھا۔
“مجھے پتا ہے کہ تم یقین نہیں کرو گے لیکن میں پھر بھی تمہیں سچ بتاؤں گا۔وانیہ جیسی دکھتی ہے ویسی ہے نہیں۔میرے اکاؤنٹ سے جو پیسے غائب ہوئے تھے اس کے پیچھے وانیہ تھی،اور تم دیکھ لینا،وہ سعدیہ کو زیادہ عرصے تک برداشت نہیں کرے گی۔وہ ضرور اسے اس گھر سے نکالوانے
کے لیے کچھ نا کچھ کرے گی۔نائل میں جانتا ہوں کہ وانیہ تمہاری بہن ہے مگر پلیز! تم ایک دفعہ اپنی آنکھوں پر سے یہ محبت کی پٹی ہٹا کر دیکھو۔سب صاف نظر آ جائے گا تمہیں…”نائل نے بےاختیار اپنی پیشانی مسلی تھی۔
محسن کی کہی ساری باتیں اسے شک میں مبتلا کر گئی تھیں۔محسن کبھی بھی اتنی گری ہوئی حرکت نہیں کر سکتا تھا یہ بات تو وہ اچھے سے جانتا تھا۔مگر وانیہ…اس کی معصوم بہن!وہ یہ سب کیسے کر سکتی تھی؟
“وانیہ بچی ہے۔وہ غلطی تو ضرور کر سکتی ہے مگر یہ ہیکنگ…یہ اس کے بس کی بات نہیں ہے۔”نائل نے خود کو تسلی دی تھی۔وہ اپنی جگہ ٹھیک بھی تھا کیونکہ وانیہ تو بامشکل پاس ہونے والے سٹوڈنٹس میں سے تھی اور کمپیوٹرز کے سسٹمز کو جاننا اس کے لیے بہت مشکل تھا وہ تو ایک اسائمینٹ بھی نائل کی مدد کے بغیر نہیں بنا سکتی
تھی تو پھر آکاونٹ ہیک کرنا تو بہت دور کی بات تھی۔

وانیہ یونیورسٹی سے واپسی پر اپنی گاڑی میں بیٹھنے ہی لگی تھی جب محسن نے اسے پکارا تھا۔
“وانیہ…!”وہ فورا پلٹی تھی۔
“مجھے تم سے بات کرنی ہے۔”وانیہ نے لاپروائی سے کندھے اچکاۓ تھے۔اسے محسن سے بات کرنے میں کوئی اعتراض
نہیں تھا۔
وہ دونوں یونیورسٹی میں موجود کیفے میں بیٹھے تھے۔وانیہ کے بھورے کھلے بال بار بار اس کے چہرے پر آ کر اسے ستا رہے تھے۔وہ اپنے بالوں کو سمیٹنے میں مصروف تھی جب محسن نے بات کا آغاز کیا تھا۔
“میرے آکاونٹ کو ہیک کیوں کیا تھا؟”وانیہ نے ناسمجھی سے اس کی طرف دیکھا تھا۔
“تمہارے اور میرے علاؤہ یہاں کوئی نہیں ہے۔تو تم سچ بول سکتی ہو۔”محسن کی بات پر وہ مسکرا دی تھی۔
“آپ میرے بھائی کو مجھ سے کیوں چھیننا چاہتے ہیں؟”اپنی جگہ سے تھوڑا آگے ہوتے اس نے غصے سے پوچھا تھا۔
“میں ایسا کیوں کروں گا؟”محسن اس کی بات پر حیران ہوا تھا۔کم از کم یہ وہ جواز نہیں تھا جس کی وہ توقع کر رہا تھا۔
“آپ انہیں مجھ سے بدگمان کرنا چاہتے ہیں۔”وہ اپنی بات پر مصر تھی۔محسن نے بغور سامنے بیٹھی لڑکی کی جانب دیکھا تھا۔وہ اسے اس وقت ایک نہایت ہی جذباتی اور بیواقوف ٹین ایجر لگی تھی۔
“میرے اور میرے بھائی کے درمیان جو بھی آئے گا میں اسے نقصان پہنچاؤ گی۔”وانیہ کی بات پر محسن نے اپنی پیشانی مسلی تھی۔یہ سب اس کی توقعات کے بالکل برعکس تھا۔وہ تو نجانے وانیہ کے بارے میں کیا کیا سوچ رہا تھا مگر وہ تو سب کچھ اپنی ان سکیورٹیز کی وجہ سے کر رہی تھی۔
“ہیکنگ کہاں سے سیکھی؟”وہ اس کی بےبنیاد باتوں کا جواب نہیں دے سکتا لہذا وہ مدعے پر آیا تھا۔
“آتی ہے مجھے شروع سے…!”وانیہ نے ناک سے مکھی اڑائی تھی۔
“کیسے…؟؟”محسن کو تجسس ہوا تھا۔
“شوق ہوا تو کوشش کرتی رہی،خود بخود ہی آ گیا۔”وانیہ نے عام سے لہجے میں کہا تھا۔
“کیمرہ کس نے لا کر دیا تمہیں…؟”وہ خاموش رہی تھی۔
“میں کچھ پوچھ رہا ہوں وانیہ…؟”
“اپنی ایک دوست سے منگوایا تھا۔”اس نے کوئی صفائی نہیں دی تھی اور نا ہی وہ اپنے کیے پر شرمندہ تھی۔محسن نے ضبط سے مٹھیاں بھینچی تھی۔
“سعدیہ نے جھوٹ کیوں بولا؟”تحمل کا مظاہرہ کرتے محسن نے اگلا سوال پوچھا تھا۔
“دھمکایا تھا میں نے اسے تھوڑا سا…”انداز اب بھی عام ہی تھا۔
“میرے علاؤہ اور کس کس کا اکاؤنٹ ہیک کیا ہے تم نے؟”
“کسی کا بھی نہیں کیا۔”
“مجھ سے جھوٹ مت بولو وانیہ!ایسا نا ہو کہ میں نائل کو سب کچھ بتا دوں۔”
“وہ آپ کی بات پر یقین نہیں کرے گے۔”لہجہ پراعتماد تھا۔وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ اس کا بھائی صرف اسی پر
بھروسہ کرے گا۔
“یقین نا بھی کرے مگر کم از کم وہ سوچے گا تو سہی،اور اگر اس نے ایسا کچھ بھی سوچا تو وہ بہت جلد سب جان
جائے گا۔”وانیہ کے گلے میں گلٹی ابھری تھی۔
“یونیورسٹی میں سٹوڈنٹس جس کا کہتے ہیں کر دیتی ہوں۔بدلے میں وہ لوگ مجھے پے کرتے ہیں۔”دھمکی کارآمد ثابت ہوئی تھی۔وانیہ کسی بھی صورت نائل کو کھونا نہیں چاہتی تھی۔
“تمہیں پتا ہے یہ کتنا بڑا جرم ہے؟”محسن کو وانیہ پر شدید غصہ آیا تھا۔
“میں نے کچھ غلط نہیں کیا۔میں تو بس…”
“نائل نے کہاں کمی چھوڑی ہے جو تمہیں اس سب کی ضرورت پڑ گئی؟وہ تمہاری ہر خواہش تو پوری کرتا ہے۔”محسن کا بس نہیں چل رہا تھا کہ سامنے موجود
چھٹانک بھر کی لڑکی کو دو کھینچ کر ہی لگا دے۔
“ایسی بات نہیں ہے۔میں یہ سب صرف شوقیہ طور پر کرتی ہوں۔”وانیہ نے اسے یقین دلایا تھا۔
“میں نائل سے بات کرتا ہوں۔”
“نہیں محسن بھائی پلیز!میں وعدہ کرتی ہوں آئیندہ کسی کا اکاؤنٹ ہیک نہیں کروں گی۔بھائی کے سامنے بھی
اپنی غلطی تسلیم کر لوں گی کہ کیمرہ میں نے ہی فکس کیا تھا مگر آپ پلیز انہیں ہیکنگ والی بات مت بتائیں گا۔”
وہ منت کرتے کرتے رو دی تھی۔
“دیکھو بیٹا!میں آپ کا دشمن نہیں ہوں اور نا ہی میں آپ کو نائل سے دور کرنا چاہتا ہوں۔میں بس اتنا کہہ رہا ہوں کہ
یہ ٹھیک کام نہیں ہے۔آپ کا ٹیلنٹ کسی غلط ہاتھ بھی لگ سکتا ہے۔بہتر یہی ہے کہ دوبارہ اس قسم کی کوئی حرکت نا
ہو۔”
“میں وعدہ کرتی ہوں بھائی!دوبارہ ایسا کچھ نہیں ہو گا۔”اپنے آنسو صاف کرتے اس نے محسن کو یقین دلایا تھا۔
“اس کے علاؤہ کچھ اور تو نہیں چھپا رہی نا آپ…؟”وانیہ نے فورا نفی میں سر ہلایا تھا۔
محسن کے جانے کے بعد وہ کچھ دیر سپاٹ چہرہ لیے وہاں بیٹھی رہی تھی۔عائزہ اسے ڈھونڈھتے ہوئے اس کے پاس پہنچی تھی۔
“تم نے انھیں سب بتا دیا؟”کرسی پر بیٹھتے اس نے بےچینی سے پوچھا تھا۔
“ہاں!”وانیہ کا لہجہ اب بھی سپاٹ تھا۔عائزہ کے چہرے کی رنگت فورا اڑی تھی۔وہ بےیقینی سے وانیہ کو دیکھتی رہی تھی۔وانیہ نے اپنی نظروں کا رخ اس کے چہرے کی جانب کیا تھا پھر اچانک ہی وہ ہنس دی تھی اور پھر ہنستی ہی
چلی گئی تھی۔
“میں نے ان کا شک دور کر دیا۔”اس نے بہت فخر سے اپنا کارنامہ بیان کیا تھا۔عائزہ کی تو سانس اب کہیں جا کر بحال ہوئی تھی۔
“تم کسی دن بہت برا پھنسو گی وانیہ!”عائزہ نے اسے وارن کیا تھا۔
“میں نے کبھی کچھ غلط نہیں کیا۔اگر میرے ٹیلنٹ کی وجہ سے کسی کا فائدہ ہوتا ہے تو اس میں برائی ہی کیا ہے؟”وانیہ نے بالوں کو جھٹکا دیے شانے اچکائے تھے۔
“تم ملک اور بیرون ملک کے بڑے بڑے بزنس مینز کے راز دوسروں تک پہنچاتی ہو۔سیاستدانوں کے راز فاش کرتی
ہو۔یہ بہت خطرناک کام ہے وانیہ!”عائزہ نے اسے ڈرانا چاہا تھا۔
“میری مجبوری ہے۔”ٹھوڑی پر ہاتھ رکھے اس نے منہ بسورا تھا۔
“بس کر دو،اچھی طرح جانتی ہوں کہ یہ سب تم کیوں کرتی ہو۔”وہ اس کی دوست تھی۔اسے اچھے سے جانتی
تھی۔
“لوگ مجھ سے کنٹیکٹ کرتے ہیں اور دوسروں کے راز جانتے ہیں۔ بدلے میں میں چارج کرتی ہوں۔میں ان سے وہ سب مانگتی ہوں جو مجھے چاہیئے ہوتا ہے۔کبھی کوئی بہت ہی قیمتی پتھر،کبھی کسی بہت ہی خاص اور زہریلے سانپ یا بچھو کا زہر یا کبھی کوئی ڈیوائس…ان سب چیزوں کا استعمال کر کے میں کچھ نیا بناتی ہوں،کچھ الگ…یہ میرا مشغلہ ہے۔میں اسے نہیں چھوڑ سکتی۔”وانیہ نے گہری سانس خارج کرتے کرسی کی پشت سے ٹیک لگایا تھا۔
“بھائی مجھے بالکل بچوں جیسا ٹریٹ کرتے ہیں۔بلاوجہ مجھ پر پابندیاں لگاتے ہیں۔گارڈز کو میرے سر پر مسلط کر
دیتے ہیں۔میں ان سب چیزوں سے تنگ آ چکی ہوں۔مجھے آزادی چاہیئے۔مجھے پڑھائی نہیں کرنی،مجھے شادی کرنی
ہے۔مجھے شاہین کے ساتھ زندگی گزارنی ہے مگر یہ بات میں اپنے منہ سے کیسے کہوں اور میں تو یہ بھی جانتی کہ شاہین ہے کون؟”وانیہ نے بےبسی سے آنکھیں میچی تھیں۔عائزہ خاموشی سے اسے سن رہی تھی۔
“ٹھیک ہے مجھے اٹیکس آتے ہیں مگر اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ میں ہر وقت قید میں رہوں۔”وہ نائل کی پابندیوں
سے بہت تنگ تھی۔اب اسے راہ فرار چاہیئے تھی۔
“میں یہ سب صرف سکون کے لیے کرتی ہوں۔جب میں اس قید سے نکل جاؤں گی تو چھوڑ دوں گی یہ سب…”وانیہ یہ سب صرف فن کے لیے کرتی تھی،ڈپریشن سے دور رہنے
کے لیے…نئی نئی چیزیں بنانا اس کا سٹریس ریلیز کرتا تھا۔وہ نائل کو یہ سب نہیں بتا سکتی تھی کیونکہ وہ اسے یہ سب نہیں کرنے دے گا۔محسن کی طرح اسے بھی یہ سب کرائم اور غیر قانونی ہی لگے گا۔

رات کے وقت نائل نے ایک ریسٹورنٹ کے باہر گاڑی روکی تھی۔گاڑی سے نکلتے ہی اس نے ایک طائرانہ نظر اپنے اردگرد ڈالی تھی۔کوئی بھی کسی بھی وقت اس کا پیچھا کر سکتا
تھا۔وہ ہمیشہ ہی محتاط رہتا تھا۔ریسٹورنٹ کے اندر داخل ہوتے ہی وہ زینے چڑھتا اوپر والے پورشن میں گیا تھا۔ایک ٹیبل کے پاس پہنچے اس کے لب مسکرائے تھے۔
“اسفند…!”نائل کے پکارنے پر سامنے بیٹھا شخص چونکا تھا پھر اگلے ہی لمحے وہ فورا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔اس نے بہت گرم جوشی سے نائل کو گلے لگایا تھا۔نائل نے بھی اس کی پیٹ تھپتھپائی تھی۔وہ لوگ اتنے دنوں بعد مل رہے تھے۔
رسمی سی علیک سکیک کے بعد وہ دونوں ہی بیٹھے تھے۔
“کیسے ہو اسفند عرف…”نائل نے جان کر جملہ ادھورا چھوڑا تھا۔مقابل کے لبوں پر مدھم مسکراہٹ ابھری تھی۔
“میں بالکل ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں؟”
“میں بھی ٹھیک ہوں بس آج کل کوئی نئی لڑکی ڈھونڈھ رہا ہوں،شادی جو کرنی ہے۔”نائل نے سنجیدگی سے کہا تھا۔
یہ سنجیدگی اس کے مزاج کا حصہ تھی۔
“اگر مجھے کوئی ملی تو ضرور بتاؤں گا۔”مقابل نے لب دبائے کہا تھا۔نائل نے جیب سے کاغذ نکالے مقابل کے سامنے رکھا تھا۔کاغذ کو الٹ پلٹ کر دیکھنے کے بعد مقابل نے قلم اٹھایا تھا۔وہ جانتا تھا کہ اسے کیا کرنا ہے۔
“تمہارے ہاتھ پر چوٹ لگی ہے تم سائن کیسے کرو گے؟”اس کے دائیں ہاتھ پر بندھی پٹی کو دیکھ کر نائل نے فکرمندی سے کہا تھا۔
“شاید آپ بھول رہے ہیں۔میں دونوں ہاتھوں سے لکھنے کی صلاحیت رکھتا ہوں۔”مسکراتے ہوئے مقابل نے کاغذ پر قلم گھسیٹا تھا۔وہ سائن نہیں تھا،یہ بات وہ دونوں ہی جانتے تھے مگر بظاہر دکھنے میں وہ سائن ہی تھا۔وہ دائیں اور بائیں دونوں ہاتھوں سے بالکل ٹھیک لکھ لیتا تھا۔دونوں ہاتھوں کی ہیںڈرائٹنگ میں انچ برابر بھی فرق نہیں تھا۔
“چلیں…؟”نائل کے اشارہ کرنے پر دونوں ہی اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔
شہر سے کافی دور آ کر نائل نے گاڑی روکی تھی۔سارا راستہ خاموشی سے کٹا تھا۔وہ ضرورت سے زیادہ محتاط رہتے
تھے۔کوئی بھی بات کرنے سے پہلے وہ ہزار بار سوچتے تھے۔
گاڑی سے باہر نکلتے ہی دونوں نے اپنا چہرہ ماسک سے دھکا تھا۔اسفند نے اپنی ہڈی پہنی تھی۔ہڈی کی بیک سائیڈ پر عقاب بنا ہوا تھا۔جنگل کے اندر سے گزرتے وہ ایک مخصوص
جگہ آ کر رکے تھے۔دونوں نے ہی اپنے فونز گاڑی میں چھوڑ دیے تھے۔اس وقت ان کے پاس کوئی ڈیوائس بھی نہیں تھی۔یہ جگہ نائل نے مختص کی تھی۔وہ ہمیشہ اس جگہ پر بات کرنے آتے تھے۔یہاں نیٹ ورک کا کوئی نام و نشان نہیں تھا اور نا ہی دور دور کسی انسان کا…
“مشن کہاں تک پہنچا شاہین؟”نائل نے گفتگو کا آغاز کیا تھا۔
“یہ ہماری سوچ سے زیادہ پیچیدہ ہے۔وقت لگے گا۔”مقابل کے جواب پر وہ بھڑک اٹھا تھا۔
“اتنا وقت تو گزر چکا ہے اب اور کتنا وقت لگے گا؟”
“میں پوری کوشش کروں گا کہ ایک سال کے اندر اندر ہی یہ مشن مکمل ہو جائے۔”لہجہ ٹھہرا ہوا اور ادب سے بھرپور تھا۔
“کوشش نہیں کرنی ہے۔تمہیں یہ کرنا ہے۔”نائل نے رات کے گھپ اندھیرے میں سامنے موجود درخت پر ایک زوردار پنچ مارا تھا۔
“آپ بےفکر رہیں،ایسا ہی ہو گا۔”
“جلدی سے ختم کرو اس مشن کو…ایک اور ذمہ داری انتظار کر رہی ہے تمہارا…”نائل کی بات پر وہ چونکا
تھا پھر اگلے ہی لمحے آنکھوں میں چمک ابھری تھی۔
“میں اس قابل نہیں ہوں۔”اس نے مدھم آواز میں کہا تھا کیونکہ مقابل کا ردعمل وہ اچھی طرح جانتا تھا۔
“Just shut up!”
نائل نے اسے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی بری طرح جھڑکا تھا۔
“آپ نے اس سے پوچھا کہ وہ کیا چاہتی ہے؟”
“وقت آنے پر پوچھ لوں گا اور مجھے یقین ہے کہ وہ میرے فیصلے کا احترام کرے گی۔”
“میری زندگی کی کوئی گارنٹی نہیں ہے۔”چاند کی روشنی میں اس کے چہرے پر بےبسی صاف واضح تھی۔
“گڈ!میری بھی نہیں ہے۔”نائل نے اس کی بات ہوا میں اڑائی تھی۔
“آپ اپنی بہن کو زبردستی میرے سر پر مسلط کر رہے ہیں۔”یہ احتجاج تھا۔
“میرے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔”
“اگر میں اسے خوش نا رکھ سکا تو…؟”لہجے میں خوف تھا۔
“وہ جانتی ہے کہ اسے کیسے خوش رہنا ہے۔اور تم وانیہ کے لیے بہترین انتخاب ہو۔”نائل نے اس کا کندھا تھپتھپایا تھا۔
“مگر اولین نہیں!میں آپ کا اولین انتخاب نہیں ہوں۔”نائل ایک لمحے کے لیے خاموش ہو گیا تھا۔اپنے پیروں تلے موجود مٹی کو اپنے بوٹ سے مسلتے وہ کچھ دیر سوچتا رہا تھا۔شاید وہ الفاظ ترتیب دے رہا تھا۔
“وہ محض ایک غلطی تھی۔”اپنے بوٹوں کی طرف دیکھتے نائل آہستگی سے گویا ہوا تھا۔
“اگر وانیہ کی تین شادیاں بھی ہو جائے نا تو میرا چوتھا انتخاب تم ہی ہو گے۔”اس بات وہ ہنس دیا تھا اور پھر ہنستا ہی چلا گیا تھا۔
“اور مجھے لگا کہ شاید میں دوسرا آپشن ہوں مگر مجھے تو چوتھے نمبر پر رکھا گیا ہے۔”
“سدھر جاؤ۔”نائل نے اسے تنبیہہ کی تھی۔
دونوں کے درمیان کافی دیر بات چیت ہوتی رہی تھی پھر وہ دونوں ہی وہاں سے گئے تھے۔

صبح کے تقریبا نو بجے وانیہ نے نائل کے کمرے کا دروازہ بجایا تھا۔نائل نے خوشدلی سے اسے اندر آنے کی اجازت دی تھی۔
“بھائی وہ مجھے آپ سے ضروری بات کرنی تھی۔”انگلیوں کو مڑورتے اس نے نظریں جھکائے کہا تھا۔لاکھ بندھ باندھنے کے بعد بھی اس کی آنکھیں چھلکنے لگی تھیں۔
“وانیہ…!”ہمیشہ کی طرح وہ آج بھی اس کے آنسوؤں پر تڑپ اٹھا تھا۔
“بھائی…!”وہ بھاگتے ہوئے اس کے گلے لگی تھی۔نائل کے سینے سے لگی وہ اب ہچکیوں سمیت رو رہی تھی۔
“میں نے جان کر نہیں کیا۔میں ڈر گئی تھی۔مجھے لگا تھا کہ محسن بھائی آپ کو مجھ سے دور کر دیں گے۔بس اسی لیے میں نے…!”بات ادھوری چھوڑے وہ ایک بار پھر رو دی تھی۔
“اس لیے آپ نے اپنے کمرے میں کیمرہ لگایا تھا۔”وانیہ نے چونک کر سر اٹھایا تھا۔اس کا شک بالکل درست تھا،نائل
اس بارے میں جانتا تھا۔
“مجھے معاف کر دیں بھائی!”اس نے شرمندگی سے نظریں چرائی تھیں۔
“کوئی بات نہیں!لیکن دوبارہ ایسا کچھ نہیں ہونا چاہیئے۔”نائل نے پیار سے اس کا گال تھپتھپایا تھا۔وانیہ کی آنکھوں خوشی سے ٹمٹما اٹھی تھیں۔وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ ہمیشہ کی طرح اسے اس بار بھی معافی ہی ملنی تھی۔
نائل اور محسن کا شک دور کرنے کے لیے یہ سب قبول کرنا بےحد ضروری تھا۔اب وہ باآسانی اپنا کام جاری رکھ سکتی تھی۔