Alhamd se Wannass By Umaima Shafeeq Qureshi readelle50265 Alhamd se Wannass (Episode 51)
Rate this Novel
Alhamd se Wannass (Episode 51)
وانیہ کو احمر پر شدید غصہ تھا کیونکہ وہ اسے اکیلا چھوڑ کر چلا گیا تھا۔گھر آتے ہی اس نے نوچ کر اپنا حجاب اتارا تھا۔کپڑے تبدیل کیے اس نے رول کیے بستر پر پٹخے تھے۔اب وہ منہ بنا کر بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھی تھی۔
تقریبا ایک گھنٹے بعد اسے احمر کا ایک لمبا چوڑا وائس نوٹ آیا تھا۔پہلے پہل تو وانیہ نے اسے بغیر پڑھے ہی ڈیلیٹ کرنے کا فیصلہ کیا تھا مگر پھر اس نے منہ بسورے اسے کھول ہی لیا تھا۔
“آئی۔ایم۔سوری وانیہ!مجھے تمہیں اسطرح چھوڑ کر نہیں جانا چاہیئے تھا۔مگر میں مجبور تھا۔میرے گھر ایک ایمرجنسی ہو گی ہے جس وجہ سے میں واپس جا رہا ہوں اور اب کبھی واپس نہیں آؤں گا۔لیکن ہم دوست ہیں اور ہمیشہ رہے گے۔تمہیں اگر زندگی میں کبھی بھی میری ضرورت پڑے تو تم مجھے بس ایک کال کر لینا،میں آ جاؤں گا۔الوداع وانیہ….!”وہ کچھ دیر شاک کی کیفیت میں بیٹھی رہی تھی پھر اچانک ہی اس کی بائیں آنکھ نے ایک موتی گرایا تھا۔
احمر اس کے ساتھ ایسا کرے گا یہ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔وہ تو اسے اپنا دوست مانتی تھی اور اس نے کیا کیا….؟اسے اسطرح اکیلا چھوڑ کر چلا گیا۔
کچھ دیر آنسو بہانے کے بعد وہ اپنے کمرے سے باہر آئی تھی۔دل کی عجیب کیفیت تھی۔وہ بہت اکیلا پن محسوس کر رہی تھی۔وانیہ نے پہلے نائل کو کال کرنے کا سوچا تھا مگر پھر اس کی آنا آڑے آ گئی تھی۔لہذا اسنے اپنا رخ ماہم کے کمرے کی جانب کیا تھا۔
دروازہ ناک کرتے ساتھ ہی ماہم نے اسے اندر آنے کی اجازت دی تھی۔
“آپ کہیں جا رہی ہیں پھوپھو….؟”اسے اپنے بال سٹریٹ کرتے دیکھ وانیہ نے استفسار کیا تھا۔
“ہاں ضروری کام ہے۔”آئینے میں خود کو دیکھتے اس نے سرسری سے انداز میں کہا تھا۔
بلاشبہ وہ بہت حسین تھی۔ماہم کی عمر لک بھک چالیس سے بیالیس سال کے درمیان تھی۔نائل اور اس کی عمر میں چند سالوں کا ہی فرق تھا مگر وہ پھر بھی اسے ماں جیسی عزت ہی دیتا تھا۔
“آپ کچھ دیر میرے پاس نہیں رک سکتیں؟”وانیہ نے ایک آس سے کہا تھا۔
“ضروری کام نا ہوتا تو میں ضرور رک جاتی۔”ماہم نے اجلت بھرے انداز میں اپنا بیگ اٹھایا تھا۔
“پھوپھو پلیز رک جائیں۔”وانیہ نے ایک بار پھر منت کی تھی۔
“میری جان!میں نے کہا نا کہ ضروری کام ہے اور ویسے بھی میری گڑیا بور تو ہو ہی نہیں سکتی،اتنی ٹیلنٹڈ جو ہے۔”ماہم کے لبوں پر مدھم مسکراہٹ تھی۔
“ویسے ہیکنگ اور زہر بنانے کے علاؤہ اور کیا کیا کر سکتی ہے میری گڑیا….؟”اپنا بیگ اتارے وہ ایک بار پھر ڈریسنگ ٹیبل کے پاس گئی تھی۔کھلے بال اسے الجھن میں مبتلا کر رہے تھے لہذا اس نے انہیں باندھنے کا فیصلہ کیا تھا۔
ماہم نے لمبے گھنے بالوں کو پونی ٹیل میں جکڑا تھا۔
“ایسا تو کچھ خاص نہیں،بس میں…..”وانیہ کی نظروں نے اچانک ماہم کے سراپے کا طواف کیا تھا۔
اس کے پونی ٹیل میں جکڑے بال،لمبا سیاہ کوٹ اور جینز کے اوپر ٹوپ…..وہ کہیں اور ہی پہنچ گئی تھی۔کہیں بہت پیچھے…..سڑک کے پار کھڑی گاڑی،تین درندے اور ایک عورت….
“پھوپھو….”اس کے نا صرف لب پھڑپھڑانے تھے بلکہ قدم بھی لڑکھڑائے تھے۔آٹھ سال اتنی کم عمر بھی نہیں ہوتی کہ اسے کچھ یاد نا رہتا مگر یہ وانیہ کی ذہنی حالت تھی جس وجہ سے اسے کچھ یاد نہیں رہتا تھا۔
گہری گہری سانسیں لیتے وہ نفی میں سر ہلاتے پیچھے ہٹی تھی۔
“نہیں!نہیں…..”مسلسل چلاتے ہوئے وہ وہاں سے بھاگی تھی۔ماہم اس کے اس رویے پر ایک لمحے کے لیے بہت حیران ہوئی تھی مگر پھر اس نے منہ بھی کچھ بڑبڑاتے ہوئے سر جھٹکا تھا۔
“پاگل…..”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وانیہ اندھا دھندھ بھاگتی ہوئی اپنے کمرے کی جانب گئی تھی۔اس نے فورا اپنے کمرے کو لاک کیا تھا۔اس کا سارا وجود ہی کپکپا رہا تھا۔دل کی دھڑکنیں اس قدر تیز تھیں معنوں جیسے ابھی باہر آ جائے گا۔
وہ اتنی بیواقوف نہیں تھی کہ کچھ سمجھ نا سکے۔وہ آج سب سمجھ چکی تھی۔ماہم کو نہ پہچاننے کی وجہ اس کا حلیہ تھا اور پھر کچھ ادویات کا اثر…..
“زہر کیسے بناتی ہو تم….؟”
“کس کیمیکل کا استعمال کرتی ہو؟”
“ہیکنگ کے لیے کون سا پروگرام استعمال کرتی ہو؟”
وانیہ کے ذہن میں اس کے کیے گئے سوال گردش کرنے لگے تھے۔اپنے ہاتھوں سے اپنا سر تھامتے وہ بستر پر بیٹھی تھی۔
اسے آج شدت سے اپنی بیواقوفی کا احساس ہو رہا تھا۔اس نے ماہم کی باتوں میں آ کر نائل کو خود سے بدگمان کر دیا تھا۔
“یہ میں نے کیا کر دیا….؟”اس کی آنکھیں اشق بہا رہی تھیں۔
نائل پر وانیہ کا راز افشاں ہونے کے بعد وہ اپنے کمرے میں بیٹھی مسلسل رو رہی تھی جب ماہم اس کے کمرے میں داخل ہوئی تھی۔
“پھوپھو پھوپھو ٹرسٹ می!میں نے کوئی دوائیاں تبدیل نہیں کیں۔مجھے کسی رپورٹس کے بارے میں کچھ نہیں پتا۔”وہ روتے ہوئے ماہم کے گلے لگی تھی۔
“میں جانتی ہوں میری گڑیا….”ماہم نے اس کی پیٹ سہلائی تھی۔
“میرا یقین کریں،میں نے کچھ نہیں کیا۔میں سچ کہہ رہی ہوں۔رات کو وہ آوازیں….مجھے بہت تکیلف ہوتی ہے پھوپھو!بہت زیادہ….میرا یقین کریں۔”اس سے الگ ہوتے وہ روتے ہوئے اسے اپنی بےگناہی کا یقین دلا رہی تھی۔
“مجھے تم پر پورا یقین ہے وانیہ مگر نائل کو تم پر اعتبار نہیں ہے۔”ماہم نے قدرے افسردگی سے کہا تھا۔
“میں کیا کروں پھوپھو،میں انہیں کیسے یقین دلاؤں؟”وہ روتے ہوئے مسلسل سسک رہی تھی۔
“تم جو مرضی کر لو،وہ تمہارا اعتبار نہیں کرے گا۔وہ تو تم سے ہمیشہ ہی بیزار رہتا ہے۔ایسے جیسے جان چھڑوانا چاہتا ہو اور دیکھو،آج تو اسے بہانہ بھی مل گیا۔”اپنی چاشنی زبان سے وہ وانیہ کے دماغ میں نائل کے خلاف زہر اندیل رہی تھی۔
“یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں پھوپھو….؟بھائی ایسے نہیں ہیں۔”اپنے بھائی کی شان میں گستاخی وہ کسی صورت برداشت نہیں کر سکتی تھی۔
“بیٹھو یہاں پر….”ماہم نے اسے بستر پر بٹھایا تھا۔
“نائل تم سے بہت محبت کرتا ہے مگر دیکھو نا!ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے جب انسان تھک جاتا ہے۔تمہیں نہیں لگتا کہ تم اس کی خوشیوں میں رکاوٹ ہو؟اس نے ابھی تک شادی نہیں کی،صرف تمہاری وجہ سے….کیا یہ اس کے ساتھ زیادتی نہیں ہے؟”
“میری وجہ سے….؟”وہ شاکڈ تھی۔
“ہاں تمہاری وجہ سے….وہ نہیں چاہتا کہ شادی کر کے اس کا دھیان بٹ جائے۔وہ صرف تم پر توجہ دینا چاہتا ہے۔”وانیہ کے اندر بہت کچھ ٹوٹا تھا۔اس کا بھائی اس کے لیے اتنی بڑی قربانی دے رہا تھا،اور اسے تو خبر تک نہیں تھی۔
“تمہیں پتا ہے نائل نے مجھ سے کل کیا کہا…؟”وانیہ نے سوالیہ نظروں سے ماہم کی جانب دیکھا تھا۔
“اس نے کہا کہ اب اس کی برداشت ختم ہو گئی ہے۔وہ تمہیں پاگل خانے میں داخل کروانا چاہتا ہے۔”وانیہ کی سانس پل میں سوکھی تھی۔اسے اپنے کانوں میں سائیں سائیں کی آواز سنائی دینے لگی تھی۔اس کا بھائی….اس پر جان چھڑکنے والا بھائی ایسا کیسے کہہ سکتا تھا؟؟
“بھائی ایسا کیسے….کیسے کہہ سکتے ہیں؟”گلے سے پھنسی پھنسی سی آواز نکلی تھی۔آنکھوں میں بےیقینی در آئی تھی۔
“وانیہ….میں نے اسے بہت سمجھایا ہے مگر وہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہے۔”وہ کبھی اس بات پر یقین نا کرتی اگر اسے یہ بتانے والی اس کی ماں جیسی پھوپھو نا ہوتی تو…..
“میں پاگل نہیں ہوں پھوپھو!میں پاگل خانے نہیں جاؤں گی۔”وہ تڑپ اٹھی تھی۔
“میں کیا کہہ سکتی ہوں وانیہ!یہ نائل کا فیصلہ ہے۔”
“نہیں پھوپھو!پلیز کچھ کریں،بھائی کو سمجھائیں۔”وہ بہت بری طرح ڈر گئی تھی۔
“اس کا ایک ہی حل ہے۔”
“کیا….؟”وہ فورا بولی تھی۔
“تم قبول کر لو کہ تمہیں کبھی کوئی اٹیک نہیں ہوا۔نائل کو ابھی صرف شک ہے۔تم اس کا شک یقین میں بدل دو۔مجھ سے تھوڑی سی بدتمیزی بھی کرنی ہو گی تمہیں….اس کے بعد ہم دونوں لندن چلے جائے گے۔کچھ عرصے بعد نائل کا غصہ جب ٹھنڈا ہو گا تو وہ تمہیں خود ہی بلا لے گا۔”وہ حد سے زیادہ شاطر اور چالاک تھی۔
“میں جھوٹ بولوں پھوپھو؟؟”
“اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔لندن جانا پاگل خانے جانے سے کئی گنا زیادہ بہتر ہے۔”وانیہ ایک لمحے کے لیے سوچ میں پڑ گئی تھی۔اسے ماہم کی بات بری نہیں لگی تھی۔
“یہ میں نے کیا کر دیا۔”اپنی بیواقوفی کو یاد کرتے وانیہ نے اپنے بال نوچے تھے۔
“اس کا مطلب وہ آواز بھی پھوپھو کی ہی تھی اور میں….میں کبھی پاگل تھی ہی نہیں….مجھے پاگل کیا گیا ہے۔”اتنے سارے انکشافات نے اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب کر دی تھی۔
کچھ دیر اپنی قسمت پر اشق بہانے کے بعد اس نے پھرتی سے فون اٹھایا تھا۔اسے نائل کو کال کر کے سب کچھ بتانا تھا مگر ہاتھوں میں اس قدر لرزش تھی کہ فون چھوٹ کر اس کے ہاتھ سے گرا تھا۔فون کے گرتے ساتھ ہی چھن کی آواز کے ساتھ اس کی سکرین ٹوٹی تھی۔وانیہ نے جھک کر فورا فون اٹھایا تھا مگر سب بے سود….وہ نہیں چل رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈیوڈ نے فون کر کے نائل کو ملنے کے لیے بلایا تھا۔نائل کچھ حد تک خوش بھی تھا اور کچھ خدشات نے بھی اسے گھیرا ہوا تھا،نجانے ڈیوڈ کو کیا پتا چلا تھا اور آج وہ کس طرح سے ری ایکٹ کرے گا؟
وہ دونوں رات کی تاریکی میں ایک بار پھر ایک سنسان جگہ پر ملے تھے،جہاں دود دور تک کوئی انسان تو دور بلکہ جانور تک نہیں تھا۔
نائل اپنی گاڑی روکے باہر نکلا تھا۔ڈیوڈ پہلے سے ہی کھڑا اس کا انتظار کر رہا تھا۔نائل کو دیکھتے وہ بغیر اسے کچھ کچھ سمجھنے کا موقع دیے تیزی سے آگے بڑھ کر اس کے گلے لگا تھا۔نائل ہکا بقا رہ گیا تھا۔یہ اس کی توقعات سے بالکل برعکس تھا۔
“نائل بھائی….”اس کے لہجے میں نمی گھلی تھی۔
“میں آپ سے معافی مانگنے کے قابل بھی نہیں رہا۔”اس سے الگ ہوتے ڈیوڈ نے نظریں جھکائے شرمندگی سے کہا تھا۔
“مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ میں کس منہ سے معافی مانگوں؟”وہ نظریں اپنے جوتوں پر گاڑے مسلسل اپنے ہونٹ کچل رہا تھا۔
نائل تو ششدر تھا۔کیا یہ سب اتنا آسان تھا؟کیا اتنی آسانی سے ڈیوڈ کو سب پتا چل گیا تھا اور تو اور اس نے یقین بھی کر لیا؟؟
“میں سب ٹھیک کرنا چاہتا ہوں نائل بھائی!کیا یہ ممکن ہے؟بتائیں نائل بھائی!کیا میں واپس لوٹ سکتا ہوں؟میں نے تو اپنا مذہب تک چھوڑ دیا۔مجھے لگا تھا کہ یہ حق نہیں ہے۔مجھے لگا تھا کہ بائبل مقدس ہی حق ہے۔مجھے ایسا کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔مجھے اسلام سے منتشر کیا گیا تھا لیکن اب میں سب سمجھ گیا ہوں۔میری آنکھوں پر بندھی پٹی اب کھل چکی ہے۔میں لوٹنا چاہتا ہوں۔بتائیں نائل بھائی!کیا یہ مذہب مجھے دوبارہ قبول کرے گا؟”نائل کچھ لمحے بےیقینی سے اسے دیکھتا رہا تھا پھر اس نے گہری سانس ہوا میں تحلیل کرتے ڈیوڈ کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔
“اللہ بہت غفور و رحیم ہے۔وہ تمہیں ضرور معاف کرے گا۔ان شاء اللہ!”نائل مدھم سا مسکرایا تھا۔
“میں آپ کی اور آئی۔ایس۔آئی کی پوری پوری مدد کرنے کو تیار ہوں لیکن….”وہ سانس لینے کو رکا تھا۔نائل نے سوالیہ نگاہیں اس کے چہرے پر مرکوز کی تھیں۔
“پہلے میں اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں۔”نائل کو سچے دل سے خوشی ہوئی تھی۔
“میری خواہش ہے کہ کل جمعے کے وقت ہم اس شہر کی
سب سے بڑی مسجد میں جائیں اور میں امام مسجد کے ہاتھوں اسلام قبول کروں۔”نائل اس کی فرمائش پر ایک لمحے کے لیے چونکا ضرور تھا مگر پھر اس نے رضامندی دے دی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وانیہ ساری رات شاک کی کیفیت میں رہی تھی۔جو بھی ہوا،اس پر یقین کرنا بےحد مشکل تھا۔اس نےسارا کمرہ چھان مارا تھا مگر اس کا پاسٹ پورٹ،ویزا کچھ بھی موجود نہیں تھا۔یقینا اس سب کے پیچھے ماہم کا ہاتھ تھا۔وہ اسے نائل سے دور لندن لائی تھی مگر کیوں….؟اس سب کے پیچھے اس کا کیا مقصد تھا؟؟
صبح کے آٹھ بجے وہ اپنے کمرے سے باہر نکلی تھی۔ماہم ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھی کسی سے محو گفتگو تھی۔وانیہ اس شخص کو اچھے سے جانتی تھی۔وہ کئی بار یہاں ماہم سے ملنے آتا تھا۔ماہم نے اسے اپنا دوست کہہ کر مخاطب کروایا تھا۔اسے صبح صبح ناشتے کی ٹیبل پر دیکھے وانیہ کو بہت حیرت ہوئی تھی۔وہ قدم قدم چلتی اس تک گئی تھی۔
“ارے میری گڑیا اٹھ گئی؟”ماہم نے ایک نرم مسکراہٹ اس کی جانب اچھالی تھی۔
“آؤ بیٹھو ناشتہ کرو ہمارے ساتھ….”وانیہ چپ چاپ کرسی گھسیٹتے ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھی تھی۔اب وہ گہری نظروں سے سامنے بیٹھے شخص کا جائزہ لے رہی تھی۔اس نے آج سے پہلے کبھی اسے اتنے غور سے نہیں دیکھا تھا۔
چہرے سے کچھ شناسائی کی رمق واضح ہوئی تھی۔شاید یہ شخص ان تین درندوں میں سے ایک تھا۔ابھی وہ اندازہ ہی لگا سکی تھی،کچھ بھی واضح نہیں تھا۔
اس کا دماغ مختلف سوالات اٹھا رہا تھا۔
“اگر اس سب کے پیچھے ماہم کا ہاتھ تھا تو اس نے یہ سب کیوں کیا؟اس کی ماں کے ساتھ اس قدر ظلم کیوں….؟
ماہم اس کی سگی پھوپھو نہیں تھی،یہ تو وہ بھی جانتی تھی مگر اس نے تو اسے ماں کی طرح پالا تھا پھر وہ ادویات کیوں تبدیل کیں؟اس کی رپورٹس کیوں تبدیل کیں؟اسے کیوں ہر رات اذیت پہنچائی؟کیوں اسے اس کا ماضی بھولنے نہیں دیا؟”
“آج میں اپنی گڑیا کو اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلاؤں گی۔”ماہم کی آواز پر وانیہ کی سوچوں کا تسلسل ٹوٹا تھا۔
“وانیہ!ویسے تم نے بتایا نہیں کہ وہ زہر کیسے بناتی ہو؟”اپنے ہاتھ میں ٹوسٹ پکڑے ماہم نے وانیہ کے سامنے کیا تھا۔وانیہ نے ضبط سے مٹھیاں بھینچی تھیں۔
“اچھا چلو بعد میں بتا دینا!ابھی میرے ہاتھ سے ناشتہ تو کر لو۔”وانیہ کا صبر یہیں پر جواب دے گیا تھا۔وہ اپنی ماں کے قاتل کے ہاتھ سے ناشتہ تو ہر گز نہیں کر سکتی تھی۔
وانیہ ایک جھٹکے سے کرسی سے اٹھی تھی۔
“کیا ہوا وان…..”
“چٹاخ….”ابھی ماہم کے الفاظ منہ میں ہی تھے جب وانیہ نے ایک زبردست تمانچہ اس کے منہ پر رسید کیا تھا۔پھر یہ سلسلہ رکا نہیں تھا۔وہ دیوانہ وار اس پر تھپڑوں کی برسات کر رہی تھی۔
“قاتل….بے شرم….جان لے لوں گی میں تمہاری….”وانیہ نے اسے گلے سے دبوچا تھا۔
“یہ کیا کر رہی ہو تم لڑکی….؟”الیکس نے آگے بڑھ کر اسے پیچھے ہٹانے کی کوشش کی تھی مگر اس نے ایسا کر کے اپنے ہی پیروں پر کلہاڑی ماری تھی کیونکہ وانیہ اب ماہم کو چھوڑ الیکس پر جھپٹی تھی۔
“تم بھی تھے نا…..”اس نے اس کے پیٹ میں ایک زبردست گھونسا مارا تھا۔
“دماغ خراب مت کرو پاگل لڑکی!”الیکس نے غصے سے اس کے دونوں ہاتھ اپنی گرفت میں لیے تھے جبکہ ماہم ابھی بھی اپنا گلہ پکڑے بری طرح کھانس رہی تھی۔
“پاگل کسے کہا تم نے….؟تم بےغیرتوں نے مجھے پاگل کیا۔مجھے غلط دوائی دی۔سب جان گئی ہوں میں،سب کچھ….”الیکس اور ماہم نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا تھا۔
“میری ماں کے قاتل ہو تم لوگ،اتنے سالوں تک مجھے بیواقوف بناتے آئے ہو۔میں چھوڑوں گی نہیں تمہیں….”وہ الیکس کی گرفت میں بری طرح مچلی تھی۔وانیہ کا بس چلتا تو وہ ماہم کو زمین میں ہی گاڑھ دیتی۔
“الیکس…..”ماہم نے اسے اشارہ کیا تھا۔اس کا اشارہ سمجھتے الیکس نے وانیہ کی گردن پر ہاتھ رکھے مخصوص نس دبائی تھی اور اگلے ہی لمحے وہ ہوش و ہواس سے بیگانہ ہو گئی تھی۔
تقریبا دو گھنٹے بعد وانیہ کو ہوش آیا تھا۔اس نے اپنا آپ کمرے کے فرش پر گرا پایا تھا۔وہ بامشکل اٹھ کر بیٹھی تھی۔ابھی اس نے کھڑے ہونے کی کوشش ہی کی تھی کہ اسے اپنا وجود کھینچتا ہوا محسوس ہوا تھا۔
اس کی نظروں نے اپنے پیروں تک کا سفر کیا تھا،وہاں بیڑیاں بندھی ہوئی تھیں۔وانیہ نے اپنے ہاتھ وہاں لے جانے کی کوشش کی تھی مگر اس کے دونوں ہاتھ بھی بندھے ہوئے تھے۔
“خوش آمدید گڑیا!ایک نئی زندگی مبارک ہو۔”اس کے کانوں سے نسوانی آواز ٹکرائی تھی۔وانیہ نے اس آواز کی پیروی کرتے سامنے دیکھا تھا۔منظر دھندلا تھا مگر ہیل کی ٹک ٹک کی آواز واضح سنائی دے رہی تھی۔
اس شخصیت کے قریب آتے منظر بھی بالکل صاف ہوا تھا۔وہ ماہم تھی،لمبے کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے،بالوں کو پونی ٹیل میں جکڑے اور ہونٹوں پر گہری لال لپسٹک لگائے….
اسے دیکھتے ہی وانیہ کا خون کھولنے لگا تھا۔اس نے اٹھنے کی کوشش کی تھی مگر سب بےسود….ایسا کرنے کی کوشش میں وہ خود کو ہی نقصان پہنچا رہی تھی۔کیونکہ ان لوہے کی بیڑھیوں کا وزن بہت زیادہ تھا،وہ جتنی مزاحمت کرتی،اتنا ہی نقصان اٹھاتی….
“چچ….چچ….چچ….!کیا حال کر لیا ہے تم نے اپنا…. ؟مجھے تو سوچ سوچ کر ترس آ رہا ہے کہ آگے کیا کیا سہنا ہے تمہیں….”ماہم نے مصنوعی افسوس سے کہا تھا۔وانیہ بغیر کچھ کہے برابر اسے گھور رہی تھی۔
“ویسے پتا کیسے چلا کہ وہ عورت میں تھی؟”ہاتھ باندھے ماہم نے دلچسبی سے استفسار کیا تھا۔
“مجھے یاد ہے،مجھے اچھے سے یاد ہے کہ وہ تم ہی تھی۔”وانیہ نے ایک ایک لفظ چبا چبا کر ادا کیا تھا۔
“اور تم جانتی ہو کہ تمہیں سب کیوں یاد ہے؟”ماہم دو قدم چلتی اس کے قریب آئی تھی۔اس نے اب نفرت سے وانیہ کے بال نوچے تھے۔وہ کراہ اٹھی تھی۔
“وہ اس لیے پیاری بھتیجی کیونکہ پچھلے کچھ عرصے سے میں نے تمہیں کسی قسم کی کوئی غلط دوائی نہیں دی۔اور میں نے یہ اس لیے کیا کیونکہ تم سے مجھے بہت کام ہیں اور ان کاموں کو کرنے کے لیے تمہارا ٹھیک ہونا بےحد ضروری تھا۔”ماہم نے ایک جھٹکے سے اس کے بال چھوڑے تھے۔وانیہ کا سر بیڈ سے ٹکرایا تھا۔اس کے سر سے خون کی ایک لکیر نمودار ہوئی تھی۔
ماہم نے اس کا سر پکڑے اس کے ماتھے پر بےدردی سے ٹشو رگڑا تھا۔
“ابھی کسی قسم کا اٹیک میں افورڈ نہیں کر سکتی۔”ماہم نے وہ ٹشو دور ڈسٹ بین میں پھینکا تھا۔
“مجھ سے کیا چاہتی ہو؟”وانیہ لب بھینچے چلائی تھی۔
“بہت کام ہیں،وقت آنے پر پتا چل جائے گا۔”ماہم کے لبوں پر معنی خیز مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی۔
“میرے ساتھ یہ سب کیوں کیا،میں نے تمہارا کیا بگاڑا تھا،ایک آٹھ سالہ بچی نے تمہارا کیا بگاڑا تھا؟کیوں مجھے پاگل پن کی دوائیاں دیں،کیوں مجھے کبھی وہ سب بھولنے نہیں دیا؟”بےبسی سے اسکی آنکھیں چھلکنے لگی تھیں۔
“تمہارا یہ چہرہ….سارے فساد کی جڑ تمہارا یہ چہرہ ہے۔”ماہم نے اس کا منہ دبوچا تھا۔
“تمہارا یہ حسن،تمہاری ٹھوڑی کا یہ تل….ہو بہو اپنی ماں پر گئی ہو۔اس عورت پر جس سے سب سے زیادہ نفرت کی میں نے….”ماہم نے اس کا منہ چھوڑے اسے پڑے دکھیلا تھا۔
“ساری فساد کی جڑ وہی تو تھی۔اس کی وجہ سے میں نے اپنی محبت کھو دی۔دو بچوں کے بعد بھی کمبخت اتنی حسین اور جوان دکھتی تھی کہ سمیر اس پر بری طرح دل ہار بیٹھا۔سیم صرف میرا تھا۔میں نے اسے چاہا تھا مگر تمہاری ماں….اس نے اسے مجھ سے چھین لیا۔”وہ چلائی تھی۔وانیہ ناسمجھی سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔وہ کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھی۔
آخر کون تھا یہ سمیر….؟اس کے باپ کا نام تو مصطفی تھا تو پھر ماہم کس کے بارے میں بات کر رہی تھی؟؟
“لیکن دیکھو کیا انجام ہوا اس نینا کا….”ماہم نے قہقہ لگایا تھا۔
“نا صرف سمیر کے ہاتھوں گولی کھائی بلکہ مرتے وقت عزت بھی گنوا دی۔”وانیہ کی آنکھوں میں خون اترا تھا۔
“کون تھا وہ شخص….؟بتاؤ مجھے….باقی کے دو کون تھے؟ایک تو جیمز نامی شخص تھا تو دوسرا کون تھا؟؟بتاؤ مجھے کون تھا وہ….؟”وہ پوری قوت سے چلائی تھی۔
“آہستہ بولو!کان کے پردے پھاڑو گی کیا….؟ابھی ضروری کام سے باہر جانا ہے مجھے….آ کر بات کرتے ہیں۔تب تک تم انجوائے کرو۔”ایک تیکھی مسکراہٹ اس کی جانب اچھالے وہ واپس پلٹی تھی۔
“بتاؤ مجھے کون ہے وہ….؟”وہ اس قید میں مسلسل پھڑپھڑا رہی تھی مگر ساری کوششیں بےکار تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جمعے کے وقت ساری مسجد لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔سفید کرتے میں سادے سے حلیے میں ملبوس دو شخص مسجد کے اندر داخل ہوئے تھے۔نائل اور ڈیوڈ نے ساتھ میں نماز ادا کی تھی۔نائل کچھ عجیب سا محسوس کر رہا تھا۔اصولا پہلے ڈیوڈ کو اسلام قبول کرنا چاہیئے تھا پھر نماز ادا….اس کا دل خدشات میں گھرا ہوا تھا مگر اس نے پھر بھی اپنے ہر غلط خیال کی تردید کی تھی۔اس نے حاتم پر بھروسہ کیا تھا مگر وہ اس بات سے انجان تھا کہ سامنے موجود شخص اب حاتم نہیں رہا،وہ ڈیوڈ ہے۔
جمعے کی نماز پڑھنے کے بعد ابھی صرف دو منٹ ہی گزرے تھے کہ ہر طرف فائرنگ سٹارٹ ہوئی تھی۔
ہر طرف بھگ در مچ گئی تھی۔ڈیوڈ تو باآسانی اپنے بندوں کے زیر نگرانی وہاں سے نکل گیا تھا مگر نائل….اسے جب تک ساری صورت حال سمجھ آئی تھی،تب تک وہاں لاشیں بھیچ چکی تھیں۔مسجد کی در دیوار نمازیوں کے خون سے رنگیں جا چکی تھی۔نائل کے پاس اس وقت نا کوئی گن تھی اور نا ہی موبائل…..ڈیوڈ نے اسے شدید قسم کا دھچکا دیا تھا۔وہ اسے ایک ایسا سبق پڑھا گیا تھا جسے نائل ساری زندگی نہیں بھول سکتا تھا۔
فائرنگ اب بھی جاری تھی۔چند نقاب پوش لوگ مسجد کے ستونوں کے پیچھے سے دھرا دھر فائرنگ کر رہے تھے۔لوگ باہر جانے کے لیے جیسے ہی سربراہی دروازے کی جانب بھاگتے،ان کا سارا وجود گولیوں سے بھون دیا جاتا۔نائل کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا تھا۔یہ ساری کاروائی صرف سات منٹ کے اندر اندر ہوئی تھی۔پولیس کے وہاں تک پہنچتے یا کسی بھی قسم کے ردعمل سے پہلے ہی وہ نقاب پوش لوگ وہاں سے بھاگ چکے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈیوڈ نے جو جھٹکا نائل کو دیا تھا،وہ چاہ کر بھی اسے بھول نہیں پا رہا تھا۔
“نائل سنبھالو خود کو….”محسن نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے اسے تسلی دی تھی۔
“میں اسے چھوڑوں گا نہیں….میں اسے جان سے مار دوں گا۔”اس کی آنکھوں میں سرخی نمودار ہوئی تھی۔
“میں خود کو اس ملک کا محافظ کہتا ہوں اور آج اتنے سارے لوگوں کا قاتل بن گیا۔”اس کی آواز سے بےبسی صاف چھلک رہی تھی۔
“میں خود کو کیسے معاف کروں گا محسن….؟”اس کی آنکھیں متورم تھیں جبکہ لہجہ شکست خور تھا۔
“تمہارا اس میں کوئی قصور نہیں ہے۔”وہ اسے تسلی دینے کی کوشش کر رہا تھا۔
“تو پھر کس کا قصور ہے؟میں نے کیوں اس پر اعتبار کیا؟”وہ مسلسل خود کو ہی ملامت کر رہا تھا۔
“نائل!تم اسے وہاں نا بھی لے کر جاتے تب بھی اس نے یہی کرنا تھا۔”محسن بالکل ٹھیک کہہ رہا تھا۔یہ سب تو پہلے سے ہی پلینڈ تھا۔
“لیکن اس سب کا باعث میں بنا،اس نے یہ جان کر کیا۔”اس سے پہلے کہ ان دونوں کے درمیان مزید کوئی بات ہوتی،نائل کا فون بجا تھا۔
ڈیوڈ کا نمبر دیکھ کر اس کی آنکھوں میں لہو اترا تھا۔نائل نے لب بھینچے فون اٹھایا تھا۔
“کیسا لگا سرپرائیز سالے صاحب؟”اس کا لہجہ تمسخرانہ تھا۔نائل نے سختی سے آنکھیں میچی تھیں۔
“امید کرتا ہوں کہ یہ سبق ساری زندگی نہیں بھولیں گے آپ….”صوفے پر شاہانہ انداز میں لیٹے اس نے سلگار کا کش بھرتے نائل کا مذاق اڑایا تھا۔
“آپ کو کیا لگا تھا کہ یہ جھوٹی فائلز مجھے دکھا کر آپ میرا بھروسہ جیت لے گے؟سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،میں کوئی چھوٹا بچہ نہیں ہوں جو سب سمجھ نا سکوں۔”نائل کے ڈیوڈ کو فائل دینے سے پہلے ہی بدر اسے سب کچھ بتا اور سمجھا چکا تھا۔اس کے ذہن میں اس قدر زہر بھر دیا گیا تھا کہ اسے نائل کی ہر بات اور ہر ثبوت ہی جھوٹا معلوم ہوتا تھا۔
“تمہیں پتا ہے حاتم!ایک دن تم بہت پچھتاؤ گے،بہت زیادہ…..”نائل بس اتنا ہی کہہ سکا تھا۔
“پچھتانے کی باری میری نہیں اب آپ کی ہے۔”
“جن لوگوں نے تمہیں اتنا ٹارچر کیا،تم انہی کا ساتھ دے رہے ہو؟”نائل نے چڑ کر کہا تھا۔
“انہوں نے میرے خاندان کو نہیں مارا،انہوں نے میری بہن کو نہیں مارا….ان لوگوں تک میں صرف آپ کی وجہ سے پہنچا تھا۔اور ویسے بھی اس عمل سے تو سب گزرتے ہیں۔اس وقت میں گزرا تھا تو آج نجانے کتنے نوجوان گزر رہے ہیں۔یہ سب ضروری تھا،خود کو مضبوط کرنے کے لیے بےحد ضروری….”نائل نے بےاختیار گہری سانس خارج کی تھی۔
وہ اسے نہیں سمجھا سکتا تھا۔
“میں نے تمہارے ساتھ غلط کیا تو تم بھی میرے ساتھ غلط کرو نا….تم کیوں معصوم لوگوں کی جان لے رہے ہو؟”
“معصوم تو کوئی بھی نہیں ہے سالے صاحب!اور ویسے بھی اپنی تسکین کے لیے کسی کو مارنا غلط نہیں ہے۔لوگوں کی چیخ و پکار،یہ خون خرابہ مجھے سکون دیتا ہے۔اور بلیک مونسٹر اپنے سکون کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے۔ویسے میرا ارادہ بم بلاسٹ کرنے کا تھا مگر مسجد میں اس تعداد میں لوگ موجود نہیں تھے بس اسی لیے ارادہ بدل دیا۔”
“ایک پل کے لیے سوچو اگر اس جگہ تمہارا عزیز ہوتا پھر….؟”
“میں وہ کیوں سوچوں جو ممکن ہی نہیں ہے۔میرے سارے عزیز تو ویسے ہی مر چکے ہیں اب کسی اور کے مرنے اور جینے سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔”سفاکیت کی انتہا تھی۔
“اللہ بہت جلد تمہیں سب دکھائے گا۔”نائل اس وقت شدید صدمے کی حالت میں تھا جس وجہ سے اس کا دماغ ٹھیک سے کام نہیں کر رہا تھا۔
“بس جب خود سے کچھ نہیں ہوتا تو بددعائیں دینا شروع ہو جاتے ہیں آپ مسلمان….”ڈیوڈ نے ہنکارا بھرتے تمسخر اڑایا تھا۔
“تم بھی مسلمان تھے۔”
“تھا ہوں نہیں…..جو حق تھا میں نے اسے چن لیا۔”نائل اس سے مزید بحث نہیں کر سکتا تھا لہذا اس نے فورا ہی کال کاٹ دی تھی۔دوسری طرف ڈیوڈ کے لبوں پر فاتحانہ مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی۔
نائل کبھی بھی ڈیوڈ تک نہیں پہنچ سکتا تھا،نا تو اس کے پاس اتنی طاقت تھی اور نا ہی کوئی ثبوت…..
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وانیہ نجانے کتنے گھنٹے وہاں بیٹھی اپنی قسمت پر اشق بہاتی رہی تھی پھر اچانک ہی دروازہ کھلنے کی آواز آئی تھی۔ماہم کو اندر آتے دیکھ وانیہ نے ناگواری سے منہ پھیرا تھا۔
“کھانا کھا لو۔”ماہم نے اس کے سامنے پلیٹ رکھی تھی۔
“دفع ہو جاؤ یہاں سے…..”اس نے سرخ انگارہ آنکھوں سے ایک نظر ماہم کو تو دوسری نظر اس پلیٹ کو دیکھا تھا۔
“تمہارا خیال ہے کہ میں تمہیں مرنے دوں گی؟ہر گز نہیں میری پیاری بھتیجی….ابھی تو تم سے بہت سارے کام نکلوانے ہیں۔بہت سارے اکاؤنٹس ہیں جو تمہیں ہیک کرنے ہیں اور وہ زہر بلکہ ہر قسم کا زہر بنا کر دو گی تم مجھے….”
“تمہاری سوچ ہے۔”وانیہ نے اس کی بات مذاق میں اڑائی تھی۔
“یہ تو وقت بتائے گا میری جان!”ماہم نے آگے بڑھ کر اس کا گال تھتھپایا تھا۔
“ویسے بہتر ہے کہ چپ چاپ میری بات مان لو ورنہ بہت زیادہ تکلیف ہو گی تمہیں….”
“جو کرنا ہے کر لو،میں نہیں ڈرتی تم سے…..اور ایک بات اپنے دماغ میں بٹھا لو،میں وانیہ آفندی ہوں۔تم مجھے قید نہیں کر سکتی۔میں بہت جلد فرار ہو جاؤں گی۔”ماہم تو اس کے اعتماد کو سراہے بنا نا رہ سکی تھی۔
“ویسے ترس آتا ہے مجھے تم پر….اگر بھائی کو یہ سب پتا چل گیا تو کیا حشر کریں گے وہ تمہارا….؟”ماہم کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئی تھی۔نائل اس کے ساتھ کیا کیا کر سکتا تھا یہ وہ بخوبی جانتی تھی۔
“ہر دو گھنٹے بعد کال آتی ہے تمہارے بھائی کی،تمہاری خیریت پوچھنے کے لیے….”وانیہ نے چونک کر سر اٹھایا تھا۔
“بات کرنا چاہتا ہے وہ تم سے لیکن میں ہمیشہ ہی منع کر دیتی ہوں۔جانتی ہو میں اسے کیا وجہ بتاتی ہوں؟”جہاں ماہم کے لبوں پر شیطانی مسکراہٹ تھی وہیں وانیہ کی آنکھوں میں بےیقینی…..
“یہی کہ تم اس سے بات نہیں کرنا چاہتی یہاں تک کہ اس کا نام بھی نہیں سننا چاہتی۔اور جب جب میں تمہارے سامنے نائل کا ذکر کرتی ہوں تو تمہاری حالت خراب ہو جاتی ہے۔بس اسی لیے وہ بیچارا نا تو تمہیں کال کرتا ہے اور نا ہی یہاں تم سے ملنے آتا ہے۔”وانیہ کی آنکھ سے آنسو ٹوٹ کر گرا تھا۔
“میں تمہاری جان لے لوں گی۔”وہ اس قید میں ایک بار پھر مچلی تھی۔
اس نے کیسے سوچ لیا تھا کہ اس پر جان چھڑکنے والا بھائی اسے ایسے ہی چھوڑ سکتا تھا؟
“وہ تو ابھی بھی تڑپتا ہے تمہارے لیے….پتا ہے مجھے کیا کہتا ہے؟وہ کہتا ہے کہ مجھے وانیہ سے کوئی شکایت نہیں ہے۔میں نے اسے کب کا معاف کر دیا۔بس آپ جلدی سے اسے میرے پاس لے آئیں۔”وانیہ کی آنکھیں برسنے لگی تھیں۔
“میں نے اسے یقین دلایا ہے کہ تمہاری دماغی حالت بالکل بھی ٹھیک نہیں ہے اور اس سب کی وجہ غلط ادویات کا استعمال ہے جو تم نجانے کتنے سالوں سے محض اپنے بھائی کی توجہ حاصل کرنے کے لیے کھا رہی ہو۔”
“ایک بار کھول دو مجھے….تمہیں تو میں جان سے مار دوں گی۔”وانیہ نے نم آواز سے کہا تھا۔
“آج کے لیے اتنا ہی بہت ہے۔اب اگلا انکشاف کل…..”ہاتھ جھاڑتے وہ کمرے سے باہر گئی تھی۔
وانیہ اپنی بےبسی پر پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
