Alhamd se Wannass By Umaima Shafeeq Qureshi readelle50265 Alhamd se Wannass (Episode 21)
Rate this Novel
Alhamd se Wannass (Episode 21)
نائل کی لاکھ منتیں کرنے کے بعد بالآخر وانیہ مزار پر جانے کی اجازت لے ہی آئی تھی۔نائل اور ماہم دونوں ہی حیران
ہوئے تھے جب وانیہ نے انہیں منت مانگنے کا کہا تھا۔وہ دونوں ہی اچھے سے جانتے تھے کہ وانیہ کو مذہب میں
کبھی کوئی دلچسبی نہیں رہی تھی۔یہاں آنے کا اصل مقصد ایک الیکڑانک ڈیوائس حاصل کرنا تھا جو کہ اس کے کسی پروجیکٹ کے عوض اسے ملنی تھی۔وہ خود کبھی بھی سامنے نہیں آتی تھی۔ہمیشہ ہی وہ کسی نا کسی انجان کو بھیجتی تھی۔وہ ضرورت سے زیادہ محتاط رہنے والوں میں سے تھی۔
آدھے گھنٹے انتظار کرنے کے بعد اسے میسیج آیا تھا۔اج اس کا سامان ڈیلیور نہیں ہو سکتا تھا۔اسے شدید غصہ آیا تھا۔مگر اس نے تحمل کا بھرپور مظاہرہ کیا تھا کیونکہ یہ ڈیوائس اس کے لیے بہت اہم تھی۔
وہ کچھ دیر مزار کے پچھلے حصے میں ٹہلتی رہی تھی۔واپس جانے کا فلحال کوئی موڈ نہیں تھا۔گارڈز مزار کے
دروازے کے باہر ہی رکے تھے۔یہ بھی ان منتوں کا ہی کمال تھا جو اس نے نائل کی کی تھیں۔
تیز ہوا کے جھونکے بار بار اس کے حسین چہرے سے ٹکرا رہے تھے۔ہرے اور سفید رنگ کے امتزاج کے فراک میں ملبوس وہ ادھر ادھر ٹہلتی رہی تھی۔ہمیشہ کی طرح آج بھی بال کھلے ہی ہوئے تھے جنہیں وہ بار بار سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی۔اچانک ہی اس کی نظر ایک درخت کے نیچے بیٹھی عورت پر پڑی تھی۔وہ کچھ عجیب و غریب
حلیے میں ملبوس تھی۔یہ کوئی بڑی بات نہیں تھی کیونکہ یہ مزار تھا۔مگر اس عورت کا سب سے الگ تھلگ بیٹھنا وانیہ کو کھٹکا تھا۔وہ اسے کچھ پراسرار لگی تھی۔وانیہ نے اس کی جانب قدم بڑھائے تھے۔
“کون ہو تم…؟”اس کے سر پر کھڑے ہوتے وانیہ نے ہاتھ باندھے استفسار کیا تھا۔
اس عورت نے اسے نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا تھا۔
“اماں میرا ہاتھ دیکھ کر میرا مستقبل بتا نا…!”ایک عورت ڈورتی ہوئی اس تک آئی تھی۔اب وہ اس بوڑھی عورت کے پیر پکڑے منتیں کر رہی تھی۔تقریبا پانچ منٹ یہ سلسلہ چلتا رہا تھا پھر وہ عورت تھک ہار کر اس بوڑھی عورت کو برا بھلا کہہ کر وہاں سے چلی گئی تھی۔
اس عورت کے جانے کے بعد وانیہ اس بوڑھی عورت کے پاس بیٹھی تھی۔
“کیا تم مجھے میرا مستقبل بتا سکتی ہو؟”پہلی بار اس عورت نے نظر اٹھا کر سامنے بیٹھی لڑکی کو دیکھا تھا۔
“جتنے پیسے کہو گی،اتنے دوں گی۔”وانیہ کی بات پر اس عورت نے واپس اپنا سر جھکا لیا تھا۔
“جس کے پاس خود کچھ نہیں ہے۔وہ مجھے کیا دے گی؟”
وانیہ کا تو سارا چہرہ ہی سرخ پڑ گیا تھا۔
“میں وانیہ آفندی ہو۔میرے پاس سب کچھ ہے۔تم جتنا کہو گی میں اتنا دوں گی۔”
“میں یہ کام چھوڑ چکی ہوں۔”اس عورت نے آہستگی سے کہا تھا۔
“کیوں…؟”وانیہ کو ہمیشہ سے ہی ایڈوانچرز کا شوق تھا۔اور اس پراسرار عورت سے گفتگو کرنا اسے ایک نیا ایڈونچر ہی لگ رہا تھا۔
“جب مستقبل کو اللہ نے پوشیدہ رکھا ہے تو میں کون ہوتی ہوں اسے بتانے والی…؟”وانیہ چند لمحے اس عورت کو گھورتی رہی تھی پھر اچانک ہی اس کا قہقہ چھوٹا تھا۔
“اگر اتنی ہی اللہ والی ہو تو مزار پر کیوں پڑی ہو۔یہاں پر تو صرف قبریں ہیں اور شرک ہے۔”انداز طنزیہ تھا۔
“اللہ کی قدرت ہر جگہ ہے۔یہاں رہنے کا واحد مقصد پیٹ بھرنا ہے۔”
“کیوں…؟کیا تمہارا اللہ تمہارے گھر میں تمہارا پیٹ نہیں بھر سکتا؟”وہ واضح طور پر مذاق اڑا رہی تھی۔
“اللہ تو بھر سکتا ہے مگر اس کے بندے…اس کے بندے مزاروں پر دیگیں تو چھڑوا دیتے ہیں مگر کبھی کسی سفید
پوش کے گھر کھانا نہیں پہنچاتے۔میرا بیٹا بھوک سے مر گیا تو میں نے ساری سفید پوشی کو لات مار کے یہاں اپنا
بسیرا کر لیا۔”وانیہ کو افسوس ہوا تھا۔وہ دیر خاموش بیٹھی رہی تھی پھر اس نے اپنے بیگ سے چند نوٹ نکال
کر اس عورت کی جانب بڑھائے تھے۔
“اب ان کی ضرورت نہیں ہے۔جب تھی تب تم نے نہیں دیے۔”اس عورت کی بات پر وانیہ کے ماتھے پر شکنیں ابھری
تھیں۔
“اگر تمہارا بیٹا بھوک سے مر گیا تو اس میں میرا کیا قصور؟مجھے تھوڑی معلوم تھا کہ تمہارا بیٹا بھوکا ہے؟”
“معلوم نہیں تھا تو معلوم کرنا چاہیئے تھا نا…لیکن تم لوگ تو اپنے محلوں سے باہر نکلنے کی زحمت ہی نہیں کرتے۔”
اس عورت کا تلخ لہجہ وانیہ کے تن بدن میں آگ لگا گیا تھا۔
“تم لوگ ہمدردی کے قابل ہی نہیں ہو۔”اپنا بیگ سنبھالتے وہ غصے سے اٹھی تھی۔
“لیکن تم تو ہمدردی کے قابل ہو۔مجھے ترس آ رہا ہے تجھ پر…”اس کی بات پر وانیہ الٹے پاؤں واپس گھومی تھی۔
“اپنی حالت دیکھو اور مجھے دیکھو۔کون ہے ترس کے قابل…؟”لہجہ حقارت آمیز تھا۔
وہ عورت اپنی لاٹھی پکڑے بامشکل کھڑی ہوئی تھی۔
“میں نے ہاتھ دیکھنا چھوڑ دیا ہے لیکن چلو آج میں تمہیں تمہارا چہرہ پڑھ کر بتا دیتی ہوں۔”
“جھوٹ…صرف جھوٹ…!”اس عورت کی بات اسے مزید طیش دلا گئی تھی۔
“اگر اتنا ہی پتا ہے تمہیں تو مجھے میرا ماضی بتاؤ۔”یہ کھلا چیلنج تھا۔
“ماضی…راز،حال…جھوٹ اور مستقبل…کھٹن۔اپنے تمام تر غرور کے ساتھ منہ کے بل گرو گی۔”اپنی لاٹھی پکڑے اب وہ مسلسل آگے قدم بڑھا رہی تھی۔
“بھاڑ میں جائے مستقبل اور حال…مجھے صرف ماضی جاننا ہے۔کیا تم بتا سکتی ہو کہ نین کون ہے؟”وانیہ نے آگے بڑھ کر اس کا راستہ روکا تھا۔
“اس کے بدلے تم جو کہو گی میں دینے کو تیار ہوں۔”وہ ان سب چیزوں پر یقین نہیں رکھتی تھی لیکن اپنے ماضی کی کھوج نے اسے پاگل کر دیا تھا۔وہ کسی بھی حد تک جانے
کے لیے تیار تھی۔
“جس کے پاس اپنی پہچان ہی نہیں ہے۔وہ مجھے کیا دے گی؟”وانیہ ایک لمحے کے لیے ساکت ہو گئی تھی۔
“تم…تم کہنا کیا چاہتی ہو؟”
“وقت سب سمجھا دے گا۔”وانیہ نے گہری خارج کرتے خود کو نارمل کیا تھا۔
“مجھے ان فضول باتوں میں کوئی دلچسبی نہیں ہے۔مجھے صرف اتنا بتاؤ کہ کیا میری ماں ہی نین تھی یا نہیں؟”
وہ عورت چند لمحے مسکرا کر اسے دیکھتی رہی تھی پھر اس نے اپنے پرانے تھیلے سے غلاف میں لپٹی ہوئی ایک چیز وانیہ کی جانب بڑھائی تھی۔
“وقت سب سمجھا دے گا۔”یہ کہتے ساتھ ہی وہ آگے بڑھ گئی تھی۔وانیہ ہاتھ میں وہ غلاف پکڑے ساکت کھڑی رہی تھی۔
اپنی گاڑی سے باہر نکلتے ڈیوڈ مختلف گلیوں سے گزرتا ایک گھر کے اندر گیا تھا۔صبح صبح کے وقت وہ ٹرکینگ سوٹ میں ملبوس تھا۔سیاہ بال پیشانی پر بکھرے ہوئے تھے۔ہلکی
بڑھی ہوئی ڈارھی اسے مزید دلکش بنا رہی تھی۔
گھر کے اندر داخل ہوتے ہی وہ لاؤنچ سے گزرتا ہوا آگے بڑھا تھا۔ایک کمرے کے پاس پہنچتے اس نے دروازہ ناک کیا تھا۔
اجازت ملنے پر وہ اندر داخل ہوا تھا۔کمرے میں مدھم مدھم سی روشنی تھی۔کوئی شخص کرسی پر بیٹھا مسلسل تسبیح کے دانے گرا رہا تھا۔اس کے لب ہل رہے تھے۔ڈیوڈ مسکراتا ہوا اس سمت بڑھا تھا۔اب وہ پاس رکھی گئی ایک کرسی پر بیٹھا انتظار کر رہا تھا۔تقریبا دس منٹ بعد اس شخص نے تسبیح چوم کر بہت احترام سے ایک سائیڈ پر رکھی تھی۔
“آپ مجھ سے ناراض ہیں بابا؟”ڈیوڈ نے آہستگی سے پوچھا تھا۔
“تو کیا نہیں ہونا چاہیئے؟”مقابل کے لہجے میں بےپناہ سختی تھی۔
“مجھے یہ سب ٹھیک نہیں لگ رہا تھا۔بس اسی لیے…”
“ڈیوڈ!تم کب سے احساسات رکھنے لگ گئے؟تم تو بلیک مونسٹر ہو۔بلیک مونسٹر احساسات نہیں رکھ سکتا۔”
“ایسی بات نہیں ہے مگر مجھے یہ ٹھیک نہیں لگا۔لڑکیوں کے ذریعے سمگلنگ کرنا تو ٹھیک ہے مگر میں انہیں اس طرح عربی شہزادوں کے بستروں کی زینت بنانے کے سخت خلاف ہوں۔”ڈیوڈ نے ہاتھوں کو مس کیے اپنے جوتوں پر نظریں جمائی تھیں۔
“کن لڑکیوں کی بات کر رہے ہو تم…؟جو خود چند تحائف کے عوض اپنا آپ بیچ دیتی ہیں۔یہ لڑکیاں کوٹھوں پر پائی جاتی ہیں۔مگر ہم تو انہیں امراء کو بیچ کر ان کی زندگیاں سنوار رہے ہیں۔ساری زندگی عیش کرے گی اور ہمیں دعائیں دے گے۔”مقابل اپنی چادر اوڑھے کرسی سے اٹھا تھا۔اس کے اٹھنے کے چند لمحے بعد تک کرسی ہلتی رہی تھی۔ڈیوڈ اب بھی گہری سوچ میں ڈوبا تھا۔
“تمہیں کیا ہو گیا ہے ڈیوڈ؟”اس کے پاس جاتے اس شخص نے ڈیوڈ کے کندھے
پر ہاتھ رکھا تھا۔
“آپ ٹھیک کہتے ہیں مگر نجانے کیوں مجھے کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ کہیں کچھ غلط ہے۔کہیں ہم کچھ غلط تو
نہیں کر رہے بابا؟”ڈیوڈ نے سوالیہ نظروں سے سامنے کھڑے شخص کی جانب دیکھا تھا۔
“نہیں!ہم کچھ غلط نہیں کر رہے۔غلط تو ہمارے ساتھ ہوا ہے بلکہ تمہارے ساتھ ہوا ہے۔”اس نے ایک افسوس بھری نگاہ ڈیوڈ کی جانب ڈالی تھی۔
“تم بھول گئے کیسے اس ملک نے تم سے تمہارا سب کچھ چھین لیا۔تمہارے خوشحال گھرانے کو اجاڑ دیا۔کیا قصور
تھا تمہارے ماں باپ کا…؟کیا قصور تھا تمہاری معصوم بہن کا…؟”ڈیوڈ کی آنکھوں میں خون اترا تھا۔
“کس نے مارا تھا تمہاری بہن کو…؟”سامنے کھڑا شخص واضح طور پر اسے بھڑکا رہا تھا۔
“نائل آفندی…!”ڈیوڈ کے ہاتھوں کی نسیں پھول گئی تھیں۔اندر کا شیطان جاگ گیا تھا۔اسے جگایا گیا تھا۔
“اور نائل آفندی کا تعلق کہاں سے ہے؟”
“آئی۔ایس۔آئی سے…!”آگ برساتی آنکھوں سے وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
“برباد کر دوں گا میں اسے،میں اسے تڑپا تڑپا کر ماروں گا۔میں اس ملک کے ہر گھر کو تباہ کر دوں گا۔جس طرح میرا خاندان تباہ ہوا ہے بالکل اسی طرح میں سب کچھ تباہ کر دوں گا۔”طیش کی حالت میں اب وہ چیزیں اٹھا اٹھا کر پٹخ رہا تھا۔
سامنے کھڑے شخص نے اسے نہیں روکا تھا۔وہ یہی تو چاہتا تھا۔ڈیوڈ کے اندر موجود لاوے کو باہر لانا…
کافی دیر تک وہ چیزوں پر اپنا غصہ نکالتا رہا تھا پھر وہ ہانپتے ہوئے تھک ہار کر زمین پر بیٹھا تھا۔
“مجھے انجیکشن چاہیئے۔”مقابل کے لبوں پر مسکراہٹ ابھری تھی۔یہی تو وہ چیز تھی جو ڈیوڈ کو یہاں کھینچ
لاتی تھی۔اسے ڈرگز کا عادی بنایا گیا تھا۔
یہی تو ان لوگوں کا کام تھا۔نوجوان لڑکوں کو کڈنیپ کرنا،ان کا برین واش کرنا،انہیں ڈرگز کا عادی بنا کر ان کی معصومیت چھین لینا،انہیں شیطان بنا دینا…ڈیوڈ کے ساتھ بھی یہی کیا گیا تھا۔مگر اپنی بےپناہ صلاحتیوں اور بہادری
کی بنا پر وہ ہر کام بہت پھرتی سے کر لیتا تھا۔وہ جسمانی اور دماغی دونوں طرح سے طاقتور تھا۔یہی وجہ تھی کہ
سیم کے جانے کے بعد اسے اس منصب کے لیے چنا گیا تھا۔اور ڈیوڈ کی بدولت آج وہ لوگ انڈر ورلڈ پر راج کر رہے تھے۔
ان میں سے کچھ مسلمان تھے تو کچھ عیسائی اور کچھ ایتھیسٹ…لیکن سب ہی ملک کے غدار تھے۔
ڈیوڈ کے جانے کے بعد فورا الیکس کمرے میں داخل ہواتھا۔وہ اس تمام صورت حال میں دوسرے کمرے میں موجود ایک چھوٹے سے سوراخ سے سب دیکھ رہا تھا۔کیونکہ اس
طیش کی حالت میں ڈیوڈ اس کمرے میں موجود شخص کے علاوہ ہر کسی کو نقصان پہنچا سکتا تھا۔
“ڈوز بڑھانی پڑے گی الیکس!ڈیوڈ کے اندر کی انسانیت ایک بار پھر سے جاگ رہی ہے۔”بدر کی بات پر الیکس بھی سوچ میں پڑ گیا تھا۔
“اس کے اندر کے الاوے کو مزید ہوا دو۔ہم اتنا کامیاب صرف اور صرف ڈیوڈ کی وجہ سے ہیں۔میں اسے کسی قیمت پر کھونا نہیں چاہتا۔”
“مجھے کبھی کبھی اس سے ڈر لگتا ہے۔”الیکس ہمیشہ سے ہی ڈیوڈ سے خوف محسوس کرتا تھا۔وجہ اس کا غصہ اور تحکمانہ انداز تھا۔
“اس سے ڈرنے کے بجائے اس سے دوستی کرو۔جہاں تک مجھے لگتا ہے۔اس سب کے پیچھے وہ لڑکی ہے۔ڈیوڈ اس کے لیے احساسات رکھتا ہے۔اس لڑکی کو ختم کر دو۔نائل کی بہن کو مار دو۔”
“میں یہ نہیں کروں گا۔ڈیوڈ کی دی ہوئی اذیت ناک زندگی
نہیں چاہیئے مجھے…اس سے بہتر ہے کہ آپ مجھے اپنے ہاتھوں سے ہی مار دیں۔”
“ایسا بھی کیا خاص ہے اس لڑکی میں جو ڈیوڈ اس کے پیچھے اتنا دیوانہ ہے؟”
“میں نہیں جانتا!لیکن مجھے اتنا ضرور معلوم ہے کہ جب بات اس لڑکی پر آئے گی تو ڈیوڈ اور نائل دونوں ہی ایک ہو سکتے ہیں۔”
“پھر تو وہ لڑکی ہمارے لیے صرف خطرہ ہے۔اسے مار دو۔لیکن کچھ ایسا کرنا کہ اس کی موت قدرتی لگے۔نائل اور ڈیوڈ دونوں ہی کو شک نا ہو۔”بدر کی بات پر الیکس ایک بار پھر سوچ میں پڑ گیا تھا۔بدر ٹھیک کہہ رہا تھا۔وہ لڑکی محض خطرہ تھی۔لیکن ایک بات سے دونوں ہی انجان
تھے کہ وہ لڑکی ڈیوڈ اور نائل دونوں سے بھی بڑا خطرہ
اور مصیبت تھی جو انہیں ناک و چنے چبوانے کی صلاحیت
رکھتی تھی۔
“ہم نائل کو مار کر سارا قصہ ہی کیوں نہیں ختم کر دیتے؟”
“نائل کو نہیں مار سکتے۔وہ اہم ہے۔اسے مار دیں گے تو شاہین تک کیسے پہنچے گے؟اور ویسے بھی اس کے پاس بہت سارے راز ہیں۔اس کے مرتے ساتھ ہی سارے راز دفن ہو جائے گے۔”
“ٹھیک ہے!میں اس لڑکی کا بندوست کرتا ہوں۔”اندر سے کہیں نا کہیں وہ ڈرا ہوا تھا کیونکہ ڈیوڈ کو اگر اس
بات کا علم ہو جاتا تو…اس کے آگے وہ سوچنا نہیں چاہتا تھا۔
“جلد از جلد اس لڑکی کا بندوبست کرو اور ہاں!اس بات کو یقینی بناؤ کہ ڈیوڈ کو کبھی بھی سچ معلوم نا ہو۔اسے کبھی پتا نہیں چلنا چاہیئے کہ اس کے خاندان کی بربادی کے پیچھے آئی۔ایس۔آئی یا نائل آفندی نہیں بلکہ ہم تھے۔”بدر
کی بات پر الیکس اثبات میں سر ہلاتے باہر گیا تھا۔
ڈیوڈ اضطراب کی حالت میں ادھر سے ادھر ٹہل رہا تھا جبکہ اسفند صوفے پر بیٹھا مسلسل اس کی حالت سے محظوظ ہو رہا تھا مگر بظاہر وہ فکرمند تھا۔
“بلیک مونسٹر!ہم سب ریکور کر لے گے۔”
“کیسے کر لیں گے؟”کرسی کو اٹھا کر زمین پر پٹختے وہ دھاڑا تھا۔
“کیا ہے وہ شخص…؟کون ہے وہ…؟کون جن،کوئی دیو یا پھر کوئی اور مخلوق…؟ہر جگہ پہنچ جاتا ہے۔اتنی محنت سے میں نے یہ ڈرگز کی سمگلنگ کروائی تھیں لیکن اس نے…اس نے سب برباد کر دیا۔”غصے سے اس کا چہرہ تمتما اٹھا تھا۔
“میں اسے ڈھونڈھ لوں گا بلیک مونسٹر!آپ بےفکر رہیں۔”
کھڑے ہوتے ساتھ ہی اسفند نے اسے تسلی دی تھی۔
“اسے جلد از جلد ڈھونڈو اسفند!میں اپنے ہاتھوں سے اس کا گلا دباؤ گا۔میں اسے اذیت ناک موت دوں گا۔اس کی ہمت تو دیکھو!میرے گھر میں،میرے کمرے میں وہ میرے ڈریسنگ
ٹیبل کے آئینے پر مجھے ہی دھمکی دے کر چلا گیا۔”اسفند کے لب ایک لمحے کے لیے مسکرائے تھے مگر اگلے ہی لمحے اس نے اپنے چہرے پر سنجیدگی سجا لی تھی۔
“اسفند!ڈیوڈ شاہین سے ملنا چاہتا ہے۔میں چاہتا ہوں کہ تم اس کی یہ خواہش پوری کر دو۔اسے بتاؤ کہ دشمن اس
کے کتنا قریب ہے۔اس ہی کے کمرے میں اسے ہی دھمکاؤ۔”نائل کی بات یاد کرتے اسفند کی آنکھوں میں ایک بار پھر چمک ابھری تھی۔
“آپ فکر نا کریں بلیک مونسٹر!میں بہت جلد اسے لا کر آپ کے قدموں میں پٹخوں گا۔”اسفند کی بات پر وہ تھوڑا ریلیکس ہوا تھا۔اسے اسفند پر مکمل بھروسہ تھا۔وجہ اس کے کام کرنے کا انداز تھا۔وہ ڈیوڈ کے لیے بہت بڑے بڑے کام کر چکا تھا۔وہ اس کا بھروسہ جیت چکا تھا۔
