Alhamd se Wannass By Umaima Shafeeq Qureshi readelle50265 Last updated: 24 September 2025
Rate this Novel
Alhamd se Wannass By Umaima Shafeeq Qureshi
"میں تمہیں سارے گھر میں ڈھونڈھ رہا ہوں اور تم یہاں بیٹھی ہو۔"اپنا کوٹ کرسی پر رکھتے وہ اس کے پاس جھولے پر بیٹھا تھا۔وہ ٹیرس پر گول بڑے سائز کے جھولے پر اپنا فراک پھیلائے ٹانگیں اوپر کیے بیٹھی بہت سکون سے نیک پینٹ لگا رہی تھی۔ "اٹھو یہاں سے،تم اسے توڑ دو گے۔"اس نے بہت زور سے اپنا پیر عمر کو مارا تھا۔ "نین….!"عمر نے اسے سخت گھوری سے نوازا تھا۔اسے نین کی یہ حرکت بالکل پسند نا آئی تھی۔ "کیا نین….؟اتنے موٹے ہو تم،میرا جھولا ٹوٹ جائے گا۔"نین نے منہ پھلائے اسے بھی گھوری سے نوازا تھا۔ "میں موٹا نہیں ہوں،اور تم نے دوبارہ اس طرح پیر چلائے نا تو میں تمہارے یہ پیر کاٹ دوں گا۔"اس کے پیروں کو اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے سہلاتے عمر نے سنجیدگی سے کہا تھا۔ "میں تمہارے ہاتھ کاٹ دوں گی اگر تم نے بری نگاہوں سے میرے پیروں کی طرف دیکھا بھی تو۔۔۔!"اپنے پیر سمیٹتے وہ پھر سے نیل پینٹ لگانے میں مصروف ہو گئی تھی۔ "لاو میں لگا دیتا ہوں۔"عمر نے اس کا ہاتھ تھامتے پاس پڑی نیل پینٹ اٹھائی تھی۔فلحال وہ اس سے لڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ "سچ سچ بتاؤ،آج سے پہلے کس کس کو نیل پینٹ لگائی ہے تم نے…؟"اس کے کام کی پرفیکشن دیکھ نین نے مشکوک انداز سے اسے گھورا تھا۔ "ٹھیک سے یاد نہیں ہے اب۔"نین نے فورا اپنا ہاتھ واپس کھینچا تھا۔ "میری جان!میں اس نیل پینٹ کی بات نہیں کر رہا۔یہ تو میں صرف تمہیں ہی لگاؤں گا۔"اس کا ہاتھ واپس اپنی گرفت میں لیتے عمر مسکرا دیا تھا۔ "مجھے بھی وہی نیل پینٹ لگاؤ جو تم دوسروں کو لگاتے ہو۔"نین کی فرمائش پر وہ ایک لمحے کے لیے چونک گیا تھا پھر اچانک ہی وہ ہنس دیا۔ اس کی مسکراہٹ ٹھہری ہوئی اور بےحد دل فریب تھی۔ہنسنے کی وجہ سے اس کے بائیں گال میں ہلکا سا گڑھا ابھرا تھا۔نین کو اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا تھا۔ "یہ ظلم میں تمہاری ننھی سی جان پر نہیں کر سکتا۔"اس کا گال تھپتھاتے وہ وہاں سے اٹھا تھا۔ "پاؤں ابھی رہتے ہیں۔"نین نے اسے یاد دلایا تھا۔ "اس کی ضرورت نہیں ہے،تمہارے پیر ایسے ہی اچھے لگ رہے ہیں۔"وہ نیل پینٹ اٹھاتے وہاں سے گیا تھا۔ سر جھٹکتے اپنے چہرے پر واپس وہی سختی لائے وہ ناب گھمائے کمرے کے اندر داخل ہوا تھا۔ وہاں موجود سب لوگ ہی ادب سے کھڑے ہوئے تھے۔ "کیا پتا چلا۔۔۔؟"وہی سختی،وہی سرد مہری… "سر کالز کا سارا ڈیٹا میں کل ہی نکال چکی تھی مگر کچھ کنفیوژن تھی بس اسی وجہ سے آپ کو نہیں بتایا۔"کرسی سے اٹھتے ماریہ نے نظریں جھکائے ادب سے کہا تھا۔ اس کمرے میں فائلز کا انبار لگا ہوا تھا۔ہر طرف کمپیوٹرز اور مختلف ڈیوائسز رکھی گئی تھیں،وہ لوگ یہی سے سب آپریٹ کرتے تھے۔ "کیسی کنفیوژن۔۔۔؟"اس کے ماتھے پر شکنیں ابھری تھیں۔ "بلیک مونسٹر وہ….!"اپنے ہاتھوں کی کپکپاہٹ پر قابو پانے کی ناکام کوشش کرتے ماریہ نے انہیں سختی سے مس کیا تھا۔ "کیا وہ….؟"اب کی بار وہ دھاڑا تھا۔سب کے دل ہی کانپ اٹھے تھے۔ "وہ…آخ…آخری کال آپ…آپ کے گھر سے کی گئی تھی۔" سختی سے آنکھیں میچے ماریہ نے کہہ ہی ڈالا تھا۔ "کیا بکواس کر رہی ہو تم….؟"پاس پڑی کرسی کو پٹختے وہ غرایا تھا۔ جیمز کو ابھی ابھی باہر عارف نے ساری صورت حال سے آگاہ کیا تھا۔وہ بھاگتا ہوا انچارج روم کی طرف بڑھا تھا مگر اس نے آنے میں دیر کر دی تھی۔ "یہ سچ ہے۔"ماریہ منمنائی تھی۔ "اگر یہ جھوٹ ہوا تو اپنے انجام سے تم اچھی طرح واقف ہو۔"اس کے لہجے میں ہنوز سختی تھی۔ اسی انجام کے خوف سے وہ کل سے ایک ہزار بار فون ریکارڈ چیک کر چکی تھی۔وہ اپنے کام میں بہت ماہر تھی مگر جس حقیقت کا انکشاف اس پر ہوا تھا اس کا یقین کرنا بےحد مشکل تھا۔ "کون ہے وہ….؟کس ملازم میں اتنی ہمت ہے کہ میرے ساتھ غداری کرے؟"ماریہ کا دل بس باہر آنے کو تھا۔جو انکشاف اس پر ہوا تھا،وہ سامنے کھڑے درندے کو بتانا بےحد مشکل تھا،مگر اسے بتانا ضروری بھی تھا۔ "کال آپ…آپ کے گھر کے لین لائن سے کی گئی ہے۔"اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتے ماریہ اس بار بہت آہستگی سے منمنائی تھی۔ "کون ہے وہ….؟بولو کون ہے وہ….؟"جیمز نے نفی میں سر ہلاتے ماریہ کو کچھ بھی کہنے سے روکا تھا۔ "بولو کون ہے وہ….؟"اس دھاڑ پر تو جیمز بھی سہم گیا تھا۔ "کوئی لڑکی ہے۔"اس کی آواز بھرا گئی تھی۔اتنی سخت ٹریننگ کے باوجود بھی آج ماریہ کو اپنے انجام سے ڈر لگ رہا تھا۔وہ چاہ کر بھی وہ نام نہیں لے پا رہی تھی۔ "نام تو ہو گا نا…؟بتاؤ کیا نام ہے اس کا…؟"اس کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو چکا تھا۔ اگر ماریہ اس کے قریبی ساتھیوں میں سے نا ہوتی تو اب تک وہ اسے گولیوں سے بھون چکا ہوتا۔ "ن…نین…!"ماریہ کی زبان کھولنے کی دیر تھی،بلیک مونسٹر نے اسے گلے سے دبوچے دیوار سے لگایا تھا۔ "کس کا نام لیا ہے تم نے….ہاں….؟"وہ بالکل آپے سے باہر ہو گیا تھا۔ماریہ کو اپنی سانس رکتی محسوس ہوئی تھی۔ "ماریہ سچ کہہ رہی ہے بلیک مونسٹر….!"عارف کی آواز پر اس کے ہاتھوں کی گرفت ایک لمحے کے لیے ڈھیلی پڑی تھی۔ "ہمارے پاس ریکاڈنگ بھی ہے۔" "کہاں ہے وہ ریکاڈنگ….؟"ماریہ کو پرے دھکیلتے وہ تیزی سے عارف کی جانب بڑھا تھا۔ عارف نے خاموشی سے آگے بڑھ کر کمپیوٹر پر ریکارڈنگ آن کی تھی۔نسوانی آواز سنتے وہ ساکت ہو گیا تھا۔ٹھیک دو منٹ بعد عارف نے ریکاڈنگ بند کی تھی۔ اب سب کی نظریں ہی اس ظالم اور سفاک شہزادے پر تھی جو کہ بالکل خاموش کھڑا تھا۔ اچانک ہی اپنی مٹھیوں کو بھینچے وہ تیزی سے باہر گیا تھا۔اس کی رگیں تنی ہوئی تھیں،آنکھیں آگ برسا رہی تھیں۔وہاں موجود سب افراد ہی اس معصوم،فرشتہ صفت لڑکی کے انجام پر افسردہ تھے۔ •••••••••••••••
