Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode 63

“پہلی نظر میں کیسا جادو کر دیا
تیرا بن بیٹھا ہے میرا جیا
اب کیا ہوگا کیا ہو گا کیا پتا
اس پل کو مل کے آ جی لیں زرا”

ہمیشہ کی طرح شہرام ملک اپنی خوبصورت آواز میں گانے کا ستیاناس کرتا پریہان کو دیکھتے گنگنا رہا تھا اس کا گانا سنتے پریہان نے آنکھیں گھمائیں تھی

“عمر دیکھ لیں اپنی اور گانے دیکھ لیں۔۔۔”
پریہان اپنے بالوں کو ٹھیک کرتے بولی تھی
“دل تو ابھی جوان ہے اور اس جوان دل میں اس کی جانان ہے۔۔۔۔”
وہ شوخ سے لہجے میں بولا تو اس نے مسکراہٹ دبائی تھی

“او جانے جاں دونوں جہاں
میری باہوں میں آ
دھڑکنوں میں سما۔۔۔”

پریہان بھی اسی کے انداز میں گانے کو توڑتی مروتی ہولے سے گنگنایا تھا
“باہوں میں آو تو سہی دھڑکنوں میں بھی سما جائیں گے پر میری والی تو دور دور بھاگتی ہے۔۔۔۔۔”
وہ اس کی بڑبڑاہٹ میں بھی گایا جانے والا گانا سن کر بولا تو پریہان نے گھورتے ہوئے ڈریسنگ کے سامنے لپسٹکس کی ترتیب درست کی تھی

“ویسے یہ گانا مصطفی کی شادی پر گایا تھا نہ۔۔۔؟”
“پتا نہیں مجھے تو یاد نہیں کس کی شادی پر کیا گایا تھا۔۔۔۔”
وہ کندھے اچکا کر بولتی اپنے سر میں موجود چند سفید بالوں کو دیکھنے لگی تھی
“بیگم کو میں تو یاد ہوں نہ۔۔۔۔؟”
اس کی بات سنتے پریہان نے مصروف سے انداز میں نفی میں سر ہلایا تو گھورنے کی باری اب شہرام کی تھی

“پریہان ریڈ لپسٹک لگاو…..”
اس کو لائیٹ سی لپسٹک اٹھاتے دیکھ شہرام نے کہا تھا
“ابھی عمر نہیں کہ وہی جوانی والی لال سرخیاں لگائیں۔۔۔۔”
وہ اس لائیٹ سی لپسٹک کو اپنے لبوں کی زینت بنائے بولی تھی
“کیا ہوا ہے عمر کو۔۔۔؟میرے لیے تو تم ویسے ہی حسین دلکش ہر روپ میں قیامت ڈھاتی میری پریہان ہی رہو گی نہ میرے سامنے تم ویسے ہی سجا کرو جیسے پہلے سجا کرتی تھی۔۔۔۔”
وہ محبت سے اس کے خوبصورت چہرے کو تکتے ہوئے بولا تھا تو مسکرائی تھی

“آپ کی یہی محبت مجھے بوڑھا ہونے نہیں دیتی۔۔۔۔”
وہ اس کے قریب آتی بیڈ پر بیٹھتے بولی تھی
“تم میں ایک دانت بھی باقی نہ رہے پریہان میں تب بھی تمہیں پہلے دن کی طرح دیوانوں کی طرح چاہوں گا میری محبت میرا جنون میرا عشق تمہارے لیے میری آخری سانس تک ختم نہیں ہو گا وہ روز کی طرح بڑھتا رہے گا۔۔۔۔”
وہ اس کا ہاتھ تھامتا اپنے لبوں سے لگائے بولا تھا تو پریہان نے محبت سے اس کے دونوں ہاتھ تھامے اپنے آنکھوں سے لگائے تھے

“آپ کی محبت میری آنکھوں کا نور ہے آپ کی محبت میرے دل کا سکون میری حیات کا مقصد ہے۔۔۔۔۔”
وہ ہمیشہ کی طرح محبت سے اس کا ماتھا چومتے ہوئے بولی اور اس کی داڑھی پر ہاتھ رکھا جن میں چند سفید بال نمایا تھا کتنی محبت سکون بھری زندگی گزری تھی ان کی اور تاعمر ایسے ہی گزرے گی
………………………………
“مصطفی اور آبریش اسپیشل”😍
“مصطفی دیکھیں یہ کیسی لگ رہی ہے۔۔۔۔؟”
“سویٹ ہاٹ تم پر تو ہر چیز سوٹ کرتی ہے یہ بھی خوبصورت لگ رہی ہے۔۔۔۔”
وہ بنا اس کی طرف دیکھے لیپ ٹاپ کو دیکھتے بولا تو اس نے ناسمجھی سے چہرہ اٹھائے مصطفی کو دیکھا اور پھر اپنے دانت پیسے تھے
“مصطفی ایک بار دیکھ تو لیں شاید یہ الفاظ نہ کہتے۔۔۔۔”
اس نے دانت ہیسے ہی کہا تھا
“ارے بیگم دیکھ کر ہی بولا۔۔۔۔۔”
وہ جو بول رہا تھا کہ چہرہ اٹھا کر جب آبریش کی جانب دیکھا تو لفظوں کو بریک لگی تھی اور پھر سر کھجانے لگا تھا کیونکہ آبریش کے ہاتھ میں حورے دل کی چھوٹی سی فراک تھی جو اس نے بہت خوبصورتی سے اس نے خود سلائی کی تھی

“مصطفی آپ نہ۔۔۔۔”
وہ خفگی سے بس اتنا ہی بول سکی تھی
“ہاں تو میری جان تم یہ پہن کر بھی ہاٹ لگو گی ایک بار ٹرائے کرو نہ۔۔۔۔”
وہ شرارت سے بولا تو آبریش منہ کھولے اسے دیکھنے لگی اور پھر اس چھوٹی سی فراک کو دیکھا تھا
“مصطفی یہ میری پیر پر بھی نہیں چڑھے گی۔۔۔۔”
وہ شاید مصطفی کی بات سیریس لے گئی تھی

“ہاتھ پر چڑھا کر دیکھ لو کیا پتا چڑھ جائے۔۔۔۔”
وہ مسکراہٹ دبائے سنجیدگی سے بولا تو اس نے فراک کو دیکھا تھا
“ہاں شاید چڑھ جائے۔۔۔۔”
وہ خود سے بڑبڑائی تھی لیکن اپنی بات اور اس کی بات پر دھیان دیتے اس نے مصطفی کو گھورا تھا جو اس کی شکل دیکھتا ہنسنا شروع ہو گیا تھا

“آئی ہیٹ یو مصطفی۔۔۔۔”
وہ صوفے پر پڑے کشن اٹھاتی اس کی جانب اچھالے تھے جو وہ ہنستا ہوئی بہت مہارت سے ان کو کیچ کر رہا تھا اور پھر وہ صوفے سے اٹھتی مصطفی کے پاس موجود کشن کھینچتی اس کو مارنے لگی تھی اور اب ساتھ خود بھی ہنسی میں اس کا ساتھ دے رہی تھی

کوئی بھی ان کو دیکھ کر یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ دونوں نانا نانی بن چکے ہیں ان کی عمر پچاس سال سے اوپر ہونے والی ہے لیکن محبت آج بھی ویسے ہی پہلے دن کی طرح ٹھاٹھیں مارتی تھی
………………………………
“رامز اور زرش اسپیشل”😍
رامز نیچے بیڈ کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھا اپنی بیگم کو پر چیز پٹختے ہوئے خاموشی سے دیکھ رہا تھا
“دادا بن گئے ہیں پر مجال ہے جو زرا بھی سدھار آیا ہو ان میں شروع دن سے جو عادتیں ابھی بھی وہی ہیں میں کہہ کہہ کر تھک گئی ہوں پر سنتا ہی کوئی نہیں۔۔۔۔”
وہ صوفے سے تولیہ اٹھاتے الماری میں رکھتے بڑبڑا رہی تھی رامز نے اپنی جرابیں دیکھی جو ایک صوفے جب کہ دوسری ڈریسنگ پر پڑی تھی اس کو اپنی شامت پھر سے نظر آئی تھی اور وہی ہوا تھا آبریش نے اس کی جرابوں کی جگہ دیکھی تو تپ اٹھی تھی

“رامز کبھی تو کوئی کام اچھا کر لیا کریں بچوں کی طرح جگہ جگہ چیزیں پھینک دیتے ہیں اتنا تو سعد کیا شازل بھی نہیں پھینکتا ہوگا جتنا آپ پھینکتے ہیں کوئی دیکھ لے تو کیا سوچے۔۔۔۔”
وہ اس کو گھور کر کہتی جرابیں اٹھانے لگی تھی

“کیا سوچیں گے۔۔۔۔؟”
شاید رامز کی زبان پھسلی تھی اسی لیے بولنے کے بعد فوراً دانتوں تلے زبان دبائی تھی اور آبریش نے کڑے تیوروں سے اسے گھورا تھا
“اچھا کیوں غصہ ہو وجہ تو بتاو۔۔۔۔؟”
رامز نے اب کہ محبت سے پوچھا تھا تو اس نے منہ بنائے رامز کو دیکھا تھا

“اچھا ادھر او نیچے سے اٹھاو بوڑھی ہڈیاں ہیں اب کہاں خود اٹھا جائے گا۔۔۔۔”
رامز ہاتھ بڑھائے بولا تو وہ اس کی جانب آئی تھی
“جب پتا ہے تو بیٹھے ہی کیوں تھے۔۔۔۔”
وہ اس کا ہاتھ تھامتے بولی اور پھر وہ اٹھا تھا
“بس بیگم کا خوف ہی اتنا ہے۔۔۔۔”
وہ مصنوعی خوف چہرے پر طاری کیے بولا تھا تو اس نے آنکھیں گھمائیں جب کہ رامز نے اس کے دونوں کندھوں پر اپنے بازو رکھے تھے

“کیا ہوا ہے بتاو۔۔۔۔؟”
” بس تھک جاتی ہوں فری میں ہی ہر وقت چڑچڑا پن بس ایسے ہی اور سوری رامز ذپ کو بھی پتا نہیں کیا کیا بول گئی۔۔۔۔”
وہ اپنے غصے کی وجہ بتانے لگی تو وہ مسکرایا
“کچھ نہیں ہوتا تم مجھ پر اتار لیا کرو غصہ جب بہت زیادہ آئے میں کس لیے ہوں میری جان۔۔۔”
وہ اس کے ماتھے سے اپنا ماتھا ٹکرائے بولا تھا

“رامز آپ بہت اچھے ہیں۔۔۔۔”
وہ اس کے سینے سے لگے بولی تھی
“یہ دادی بننے کے بعد یاد آیا ہے اس عمر میں۔۔۔”
وہ شرارت سے بولا تو اس نے سر اٹھائے خفگی سے دیکھا پھر اس کے پیٹ میں دھیرے سے مکا مارا پھر خود بھی ہنستے ہوئے واپس اس کے سینے سے لگی تھی
………………………………
احتشام اور میرب اسپیشل”😍
احتشام مصطفی کے پاس سے ہوتا کمرے میں آیا تو میرب کو حورے دل کے ساتھ کھیلتے دیکھ مسکرایا تھا
“اگر اتنا ہی شوق ہے تو ہم بھی اس بارے کچھ سوچ سکتے ہیں اور اچھا ہے نہ پارس بھی خوش ہو جائے گی اس عمر میں اس کا بھائی یا بہن آجائے۔۔۔۔”
احتشام کے الفاظوں پر وہ شرم سے سرخ ہوئی تھی اس کو یوں سرخ ہوتے دیکھ مسکرایا ہے
“یار مجھے لگتا ہے ہم لوگ بوڑھے سے بوڑھے بھی ہو جائیں تم بھی تم ایسے ہی شرماو گی جیسے پہلے دن سے میرے مسکرا کر دیکھنے سے بھی شرما جایا کرتی تھی۔۔۔”
وہ شرارت سے بولتا پاس بیٹھا اور حورے دل کو اٹھایا تھا

“تمہاری مامی بہت شرماتی ہے حورے دل۔۔۔۔”
وہ مسلسل اس کو شرم سے سرخ ہوتے دیکھ بولا تھا
“احتشام آپ کچھ زیادہ نہیں بولنے لگے۔۔۔”
وہ اپنی شرم کو چھپاتے بولی تھی
“یہ بولنے کا موقع کبھی کبھی ہی تو ملتا ہے ورنہ غریب شوہروں کی کہاں اپنی بیویوں سامنے چلتی ہے۔۔۔۔”
وہ حورے دل کو ہوا میں اچھالتے اس کو تپا گیا تھا

“احتشام آپ آپ جاو یہاں سے۔۔۔۔”
وہ منہ پھلائے بولی تھی
“کہاں جاوں ایک ہی بیوی ہے ہوتی پانچ سات بیویاں تو ایک نکالتی دوسری کا در تو ہوتا۔۔۔۔”
وہ شرارت آمیز لہجے میں بولتا اس کو مزید تر غصہ دلا گیا تھا
“احتشام آپ ایک نمبر کے بدتمیز ہیں جائیں یہاں سے بات مت کرنا مجھ سے۔۔۔۔”
وہ غصے سے سرخ ہوتے چہرے سے بولی تھی

‘یار اتنے ڈیشنگ ہسبنڈ کو کمرے سے نکالو گی تو اگر کوئی حسینہ تمہارے ہسبنڈ کے اوپر ڈورے ڈالنے لگ گئی تب بھی تمہیں ہی مسئلہ ہو گا۔۔۔۔”
وہ شاید آج خود کی جان بوجھ کر شامت بلوانا چاہتا تھا میرب نے غصے سے اسے گھورا تھا

“ویسے یاد ہے وہ بات جب میں نے تمہیں دوسری بیوی کا زکر۔۔۔۔”
اور سینے پر پڑنے والے مکے نے اس کے الفاظوں کو بریک لگاتے قہقے میں بدلا تھا وہ ہنستا ہوا اس کو اور زیادہ غصہ دلا رہا تھا
“اوئے میرے جان۔۔۔۔”
وہ ایک ہاتھ سے اس کا ہاتھ پکڑے جب کہ دوسرے سے حورے دل کو بیڈ پر لیٹاتے بولا تھا اور پھر اس کے دونوں ہاتھوں کو تھامے اپنے لبوں سے لگایا تھا

“اتنا غصہ لگتی نہیں ہو ایک جوان بچے کی ماں غصہ تو ابھی بھی فل جوش مارتا ہے۔۔۔۔”
وہ اس کے بالوں کو کیچر سے آزاد کراتے بولا تھا تو اس نے خفگی سے منہ پھیرا تھا
“یار باتوں کا کیا ہے اس دل مین جھانکو جہاں صرف میرب لکھا ہوا ہے۔۔۔۔”
وہ میرب کی تھوڑی پر لب رکھے بولا تو اس نے آنکھوں میں ناراضگی سموئے خفا سی اس کی جانب دیکھا جو مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا
“اچھا صرف مزاق کر رہا تھا۔۔۔۔”
وہ فلائنگ کس دیتے بولا تھا
“بدتمیز۔۔۔۔”
منہ پھلا کر کہتی بیڈ سے اٹھی اور حورے دل کو اٹھایا تھا اور دروازے کی جانب گئی تھی

“ایک کپ چائے بنا دو یارا۔۔۔۔”
وہ اس کا آگے سے جواب جانتا ہوا بھی نچلا لب دانتوں میں دبائے بولا تھا
“ان حسیناؤں سے جا کر پیئیں جن کے ڈورے ڈالنے کا زکر کر رہے تھے۔۔۔۔”
خفا سی کہتی کمرے سے نکلی تھی
“اوو میری حسینا تو تم ہو مائے وائفی۔۔۔”
اس کی ہانک سنتے وہ مسکرائی تھی پیچھے احتشام بھی ہنستا ہوا لیپ ٹاپ اٹھا چکا تھا جب کہ میرب سے حورے دل کو سعد پکڑتا اپنے کمرے میں کے گیا اور وہ کچن میں چلی گئی تھی گھر میں دو بچے تھے جو سارا دن کبھی کسی کمرے میں پائے جاتے تھے تو کبھی کسی کمرے میں اکثر وجدان خفا ہوتا تھا کیونکہ اسے حورے دل کو اٹھانے کا موقع ہی نہیں ملتا تھا یہہ حال سعد کا تھا وہ بےچارہ بھی اپنے بیٹے کو اٹھانے کے لیے منتیں کرنا پڑتی تھی
………………………………
“ملک ویلا اسپیشل”😍
یہ تھا ملک ویلا جس کا بڑا سا خاندان جو خوشحال زندگی گزار رہا تھا ہزار مصیبتوں کے باوجود وہ لوگ تسبیح کے دانوں کی طرح ایک ہی لڑی میں تھے کچھ بھی ہو گیا ایک دوسرے کا ساتھ نہ چھوڑا تھا
ابھی بھی ملک ویلا کے ہر فرد کے ساتھ ساتھ حارز کی فیملی اور تعبیر کی فیملی بھی موجود تھی اور لاونچ سے قہقوں کی آوازیں اپنے عروج پر تھیں سب بیٹھے آپس میں گوش گپیوں میں مصروف تھے اور مختلف لذومات سے لطف اندوز ہو رہے تھے شافع اور روحا بھی کچھ دن پہلے ہی آئے تھے جس کی وجہ سے وہ لوگ بھی موجود تھے

“موم ڈیڈ کو جلائیں۔۔۔۔”
وجدان پریہان کے ساتھ بیٹھا اس کے کان کے قریب ہوتے بولا پریہان نے اسے دیکھتے پھر شہرام کو دیکھا جو کبھی کسی سے بات کرتا ہنس رہا تھا تو کبھی کسی سے جب کہ اس کی گود میں شازل موجود اس کی داڑھی سے کھیل رہا تھا جن میں چند سفید بال تھے

“وجدان انسان بنو۔۔۔”
اس نے وجدان کے ہاتھ میں موجود پلیٹ سے کباب کا تھوڑا سا ٹکرا اٹھاتے کہا تھا جس نے شرارت سے ایک آنکھ دبائی تھی
“موم آپ کا ڈمپل بہت خوبصورت ہے آج تک کسی کا اتنا خوبصورت ڈمپل نہیں دیکھا۔۔۔۔”
وہ ایک آنکھ سے شہرام کو دیکھتے پریہان سے تھوڑا بلند آواز میں بولا جو یہ الفاظ سنتے فورا اس کی جانب متوجہ ہوا تھا وہ کیا وہاں موجود ہر فرد اس کی بات سنتا ان کی جانب دیکھا تھا پھر اس کی شرارت پر مسکراہٹ دبائی تھی جب کہ پریہان نے اسے گھورا تھا

“موم آئی لو یور ڈمپل۔۔…”
وہ لاڈ سے بول کر اگے بڑھتا اس کی گال پر موجود ڈمپل جو اس کے مسکرانے سے واضع ہوا تھا اس پر دو چومیاں لینے کے بعد شہرام کو دیکھا اور پھر اس کی گھوریوں پر اسے آنکھ دباتا دوبارہ سے اس کی دو چومیاں لی تھی

“اوئے بیوی ہے میری دور ہٹ۔۔۔۔”
اس سے پہلے وہ پانچویں چمی لیتا شہرام نے ماتھے پر بل ڈالے کہا تھا اس کے فیس سے لگ رہا تھا وہ کس قدر جیلس ہو رہا تھا
“کیوں ہٹوں پیچھے میری موم ہیں۔۔۔”
وہ بنا اس کی بات پر رکے ایک اور چمی لی تھی
“وجدان قتل ہو جاو گے۔۔۔”
اس نے غصے سے کہا تھا
“ڈرتا نہیں میں۔۔۔۔”
وہ اس کی دھمکی کو ہوا میں اڑاتا بولتا پریہان کی گال کو نرمی سے کھینچا تھا شہرام نے مٹھیاں بھینچے اسے دیکھا تھا

“پریہان ادھر آجاو ۔۔۔”
شہرام اپنے ساتھ تھوڑی جگہ بناتے بولا تھا
“ایویں ادھر اجائے یہ میرے ساتھ بیٹھیں گی۔۔۔۔”
وہ پریہان کے گرد حصار باندھے بولا تو پریہان نے بےبسی سے شہرام کو دیکھا جو کچا چبا جانے کے در پر تھا

“دنیا ادھر سے ادھر ہو جائے گی شہرام کے دانت ٹوٹ جائیں گے لیکن اس کی جیلسی والی عادت نہیں جائے گی۔۔۔۔”
حارز نے ہنستے ہوئے کہا تھا
“ہاں مجھے ابھی بھی وہ کیا نام تھا تھوڑی یاداشت کمزور ہوئی ہے ہاں حمزہ ہاہاہا کیا سین تھے یار اس کے ساتھ۔۔۔۔”
مصطفی ہنستے ہوئے بولا وہی اس کے ساتھ سب بڑے ہنسے تھے جب کہ شہرام کی گھوریوں کا رخ ان کی جانب ہوا تھا

“ماموں جان یہ حمزہ والا کیا سین ہے۔۔۔۔؟”
وجدان نے اپنے ڈیڈ کی شکل دیکھتے ہوئے پوچھا جو غصے سے تپ رہی تھی
“ہاہاہاہا یار مت پوچھ ہاہاہاہا۔۔۔۔”
احتشام بھی ہنستے ہوئے بولا تھا اور پھر مختصر سا بتایا جس پر پورا لاونچ سب کے قہقوں سے گونج اٹھا تھا
“تم جیسے بغیرتوں کو اللہ پوچھے جو میرے زخموں پر نمک چھڑکتے ہو۔۔۔۔۔”
ان کی ہنسی نے جلتی ہر تیل کا کام کیا تھا اسی لیے ان کو گھورا تھا

“مطلب ماموں جان کے جوانی کے بھی اعلی ترین کارنامے تھے۔۔۔۔”
زوہان نے ہنستے ہوئے کہا جس پر اس نے سر کھجایا تھا کہہ تو سہی ہی رہا تھا
“یار تم لوگ مر جاو گے میرے ہاتھوں۔۔۔۔”
وہ پاس بیٹھے مصطفی کو مکا رسید کرتے بولا تھا اور پھر ان کو ہنستا دیکھ خود بھی ہنسنے لگا تھا اور پھر دوبارہ سب اپس میں باتوں میں مصروف ہو گئے تھے

“یار زوہان۔۔۔۔۔”
شاید آج وجدان کے اندر کا کیڑا سکون سے نہیں بیٹھ سکتا تھا اسی لیے اپنی دوسری جانب بیٹھے زوہان کو پکارا تھا
“ہاں بول شریف النفس انسان۔۔۔۔”
“مجھے لگتا ہے کہ شافع خوشخبری تیرے سے پہلے دے دے گا ہمیں۔۔۔۔”
اس نے شافع کو بھی بیچ میں گھسیٹا تو زوہان کے ساتھ بیٹھے شافع نے آنکھیں گھمائیں تھی

“یار ایک تیری بیٹی ایک سعد بھائی کا بیٹا ان سے میری بیگم کو فرصت ملے تو تھوڑی ہم بھی محنت اہممم استغفار چھوڑو کیا کافرانہ باتیں کروا رہے ہو۔۔۔”
وہ بولتا بولتا رکا تھا کیونکہ اس سے شریفانہ الفاظ نہیں بن رہے تھے جس پر وہ دونوں ہنسے تھے
“کیا خیال ہے مقابلہ لگا لیں زوہان۔۔۔۔”
شافع نے ٹیبل سے چائے اٹھاتے کہا تھا
“نہ یار اتنی پاوور نہیں مجھ میں چھوٹے بندے ہیں ہمارا آپ سے کیا مقابلہ۔۔۔۔”
اس نے مظلومانہ انداز میں کہا کہ دونوں نے بےوقت اس کے مکا جڑا تھا کہ اس نے اردگرد دونوں کو گھورا تھا

“ہاتھ قابو میں رکھو کمینوں ورنہ۔۔۔۔”
اس نے انگلی اٹھائے کہا تھا
“ورنہ کیا۔۔۔۔؟”
دونوں اس کو ٹوکتے بولے جب کہ وجدان نے اس کی انگلی تھامی تھی
“ورنہ کیا میں اٹھ جاوں گا یہاں سے۔۔۔”
وہ ان دونوں کے بیچ پھس چکا تھا کیونکہ وہ دونوں آج اس کی درگت بنانے کو تھے اس کی بات سنتے دونوں پھر سے ہنسے تھے

شہرام نے مسکراتے ہوئے پورے لاونچ میں نظر دوڑائی تھی جہاں اپس میں باتیں کرتے قہقے لگا رہے تھے اس نے تعبیر کو اشارہ کیا جس نے اس کی گود میں حورے دل کو دیا تھا اب اس کی ایک گھٹنے پر حورے دل جب کہ دوسرے پر شازل تھا اس نے گہرا سانس لیتے نم آنکھوں سے اپنی اس ہنستی کھیلتی فیملی کو دیکھا تھا جو اس کی زندگی تھی
اور پھر آخر میں نظر اپنی جان سے عزیز تر بیوی پر ڈالی جو اس کا سکون اس کا عشق تھی پریہان نے اشارے سے پوچھا کیا ہوا تو اس نے مسکرا کر نفی میں سر ہلاتے باری باری شازل اور حورے دل کو سر پر پیار کیا تھا
ہزاروں مشکلات کے باوجود وہ اکھٹے تھے خوش تھے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ختم شدہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
………………………………