No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
”قابض ہونے لگے ہیں وہ ہمارے دل پر
زرا ٹھہریے قصہ ابهی کچھ باقی ہے”
دوپہر تقریباً ایک بجے کا وقت تها سورج اپنے عروج پر چمک رہا تها اس کی کرنیں کچھ کے لیے سکون بخش تو کچھ کے سکون میں خلل پیدہ کررہی تهیں لیکن وہاں گونجتی ظہر کی آذانیں سب کے لیے راحت کا سامان تهیں جس کی سماعتوں سے آذان کے الفاظ ٹکراتے وہ اندر تک سرشار ہوجاتا آذان کے ختم ہوتے ہی سب دوبارہ کاموں میں جٹ گئے تهے کیونکہ نماز میں ابهی کچھ وقت باقی تها
اسی کے ساتھ کچھ اور لوگ بهی تهے جن کے گهر سے کلکاریوں کی آوازیں گونج رہی تهیں اگر ہم نظر ملک ویلا پر ڈالیں تو ڈرائینگ روم سے کسی کے رونے تو کسی کے قہقے گونج رہے تهے
“ڈیڈ اس کا نام میں رکهوں گا….”
پانچ سالہ وجدان سکندر ایک دن کی بچی جو کہ وشما کی گود میں تهی اس کو نرمی سے چهوتے ہوئے شہرام سے بولا
“بالکل آپ کے زہن میں کوئی نام کیا….؟”
مصطفی گود میں بیٹهے ذوہان کی گال چومتے ہوئے وجدان سے بولا
“میں سوچتا ہوں…”
وہ گال پر انگلی ٹکائے بولا تو سب کے چہروں پر تبسم پهیلا تها
“ڈیڈ….”
اس نے دوبارہ شہرام کو پکارا تو وہ اس کی جانب متوجہ ہوا
“اس کی گال پر بهی ڈمپل ہوگا جیسے موم کے ہے…”
اس نے اس کی گالوں کو چهوتے ہوئے کہا
“معلوم نہیں بیٹا…”
“کیسے معلوم نہیں اس کی گال پر بهی ڈمپل ہونا چاہیے….”
وہ وشما کو گهورتے ہوئے بولا جیسے سب وشما کا قصور ہو
“کچھ نام سوچا ہے وجدان….؟
چائے سروو کرتی پریہان نے وجدان سے کہا اور شہرام کے ساتھ بیٹهی تهی تو اس نے پهر سے اس بچی کی جانب دیکها
“اس کا نام عالیاب، عالیاب سکندر ہے…..”
وہ پرسوچ انداز میں بولا
“لیکن آپ اپنا کیسے نام لگا سکتے ہو عالیاب کے ساتھ…..”
شہرام نے حیرانگی سے پوچها
“موم آپکا نام کیوں لگاتی ہیں اپنے نام کے ساتھ. ..؟”
اس نے بهی اسی کے انداز میں پوچها
“وہ تو بیوی ہے میری….”
اس کی بات پر کچھ پل کو وجدان خاموش ہوا
“تو یہ بهی بیوی بنے گی میری اسی لیے لگایا….”
اس کے الفاظوں کے ساتھ وہاں گہرہ سکوت چهایا تها اور پهر ایک دم سے وہاں سب کے قہقے گونجے تهے وجدان ان کو اگنور کرتا وشما کی گود سے اس روئی جیسے گالوں والی لڑکی کو اٹهایا تها اور چٹا چٹ چومنے لگا
…………………………………
“انیس سال بعد”
“عالیاب کی بچی کتنی دیر ہے پوری دنیا میری آوازوں سے اکٹهی ہو جائے گی لیکن تم نہیں آو گی….”
لاونچ کے بیچو بیچ کهڑا ایک لڑکا جو لگ بهگ انیس سال کا لگ رہا تها بار بار ٹائیم کو دیکهتے آوازیں دے رہا تها
“ہم آرہے ہیں پارس بس ابهی آئے….”
عالیاب کمرے کے وسط میں کهڑی ایک ہاتھ سے شوز پہنتی جبکہ دوسرے ہاتھ میں دوسری شوز پکڑے وہ ہاتھ دیوار کے ساتھ لگائے ہوئے تهی اور پارس کی ان گنت آوازوں کو سنتے بولی تهی اور ایک شوز پہنتی دوسرا ویسے ہی ہاتھ میں پکڑے سیڑهیوں کی جانب بهاگی تهی
“مت آو ابهی بهی….”
وہ ناراضگی سے بولا تو وہ سیڑهیوں کے بیچ کهڑی ہی دوسری شوز پہنی اور جلدی سے اترتی اس کے پاس آئی
“اچها سوری پارس ہم آتو گئے ہیں…”
اس کو ناراضگی سے منہ دوسری جانب موڑتے دیکھ اس کا ہاتھ پکڑتے منمنائی تهی
“اچها اور وہ چشمش کدهر ہے…؟”
“وہ پہلے ہی گاڑی میں جا چکی ہے…..”
عالیاب اپنا حجاب ٹهیک کرتے باہر کی جانب قدم بڑهاتے ہوئے بولی عالیاب جو پارس سے بهی زیادہ تیز قدم لیتی باہر جارہی تهی کہ اندر داخل ہونے والی شخصیت سے اتنی زور کے ٹکر ہوئی کہ وہ کراہ کر رہ گئی اس نے سر اٹها کر دیکها تو اس شخصیت کو دیکھ کر فوراً پیچهے ہوئی اور پارس کے ساتھ کهڑی ہوئی
وجدان سکندر ہاتھ میں ایک فائل لیے اور پولیس یونیفارم میں ملبوس اپنی ساری شان و شوکت سمیتے کهڑا ان دونوں کو باری باری دیکھ رہا تها اور وہ دونوں سانس روکے چہرہ نیچے کیے چور نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تهے
“کہاں جا رہے ہو دونوں…”
اس کی بهاری مردانہ آواز گونجی تهی
“سس-سکندر ہم باہر جارہے ہیں ماموں جان سے ہم اجازت لے چکے ہیں….”
عالیاب ہکلاتے ہوئے بولی
“مجھ سے اجازت لی…؟”
انداز غصیلا تها
“مارے گئے اب پکا….”
پارس منہ میں بڑبڑایا تها سکندر اگے بڑها اور عالیاب کا حجاب درست کیا تها اور پیچهے ہٹا
“جاو جلدی آجانا اور پارس….”
اب وہ پارس کی جانب مڑا تو وہ فوراً الرٹ ہو
“جی بهائی…”
“گاڑی دهیان سے چلانا اگر کہیں گاڑی ماری تو لوک اپ میں بند کرکے اس کی ٹهنڈی ہوائیں دوں گا….”
وارن انداز میں کہتا اندر چلا گیا ان دونوں کی سانس میں سانس آیا اور فوراً باہر نکلے
“کہاں رہ گئے تهے تم دونوں کب سے انتظار کررہی ہوں…؟”
دعا اپنا چشما درست کرتی گهورتے ہوئے بولی
“ارے وجدان بهائی مل گئے تهے چلو بیٹهو چلتے ہیں….”
پارس گاڑی میں بیٹهتے ہوئے بولا تو وہ دونوں بهی بیٹهی تهیں
…………………………………
“ڈاکٹر ذوہان اگر آپ فری ہوں تو پلیز روم نمبر سیون میں ایک پیشنٹ دیکھ دیں میں کسی اور پیشنٹ کو دیکهنا ہے….”
ذوہان جو اپنا کوٹ بازو پر ڈالے اور سیدهے ہاتھ میں فون تهامے اس پر نظریں گاڑے چل رہا تها کہ کسی جانی پہچانی زنانہ آواز سے رکا اور پیچهے پلٹا
تعبیر اپنا کوٹ پہنے سر پر حجاب کے ساتھ ماسک بهی لگائے جو کے نیچے تهوڑی پر کیا تها اسی کی جانب متوجہ تهی
“جی ڈاکٹر تعبیر میں دیکھ لیتا ہوں…”
وہ اس کے چہرے کو نظروں میں لیتے بولا تو وہ واپس مڑی تهی
“ڈاکٹر تعبیر….”
ذوہان کی پکار پر اس کے قدم رکے اور پلٹ کر سوالیہ نظروں سے اس کی جانب دیکها
“اگر لنچ کے وقت فری ہوں تو آپ میرے ساتھ لنچ کرنا پسند کریں گی یا کافی ہی….”
اسکی پیشکش پر وہ چند پل خاموش ہوئی تهی
“معذرت ڈاکٹر ذوہان دراصل مجهے آج گهر جلدی جانا ہے اور اللہ حافظ مجهے پیشنٹ دیکهنا ہے…”
جلدی سے کہتی مڑی تهی اور تیز تیز قدم بڑهانے لگی ذوہان نے گہرہ سانس بهرا تها
“یہ میری محبت کبهی نہیں سمجھ سکتی….”
بالوں میں ہاتھ پهیرتے روم نمبر سیون کی جانب قدم بڑهائے تهے
…………………………………
“گڈ ایوننگ سر…..”
رامز کمپنی میں جہاں سے گزرتا وہاں سے ورکز سلام کرتے اور گڈ ایوننگ کہ رہے تهے جسکا رامز اثبات میں سر ہلاتا جواب دے رہا
“سعد کہاں پر ہے…؟”
رامز نے سعد کی سیکرٹری سے پوچها
“سر وہ میٹنگ روم میں ہیں…”
اس کی بات پر اس نے میٹنگ روم کی جانب قدم بڑهائے اور دروازہ کهول کر اندر داخل ہوا
سعد جو لیپ ٹاپ کی مدد سے کچھ سمجهاتے میٹنگ میں مصروف تها رامز کو دیکھ کر سیدها ہوا
“گڈ ایوننگ سر….”
سعد کے ساتھ باقی سب نے بهی کہا تو وہ سر ہلاتا کرسی پر بیٹها سعد کو دیکهنے لگا اور بےاختیار مسکرایا سعد نے رامز کو دیکها تو آئیبرو اچکایا لیکن انہوں نے نفی میں سر ہلایا
میٹنگ تقریباً آدهے گهنٹے بعد ختم ہوگئی تهی میٹنگ روم میں اب صرف رامز اور سعد تهے
سب کے جاتے ہی سعد شرٹ کے دو بٹن کهولتا کرسی پر ریلکس سا بیٹها تها
“اس وقت کیوں مسکرا رہے تهے…؟”
وہ رامز کو دیکهتے بولا
“دیکھ رہا تها میرا شیر اتنا بڑا ہوگیا ہے کہ میری اور مصطفی کی مدد کے بنا ہی پوری کمپنی سنبهال سکتا ہے…..”
اس کی بات پر وہ کهل کر مسکرایا اور ماتهے پر بکهرے بال سر ہلاتے پیچهے کئیے تهے گوری رنگت بهوری آنکهوں کے ساتھ بهوری ہی داڑهی چہرے پر بکهری تهکان وہ بےحد ہینڈسم تها
“بابا یہ تو آپ سب کی محنت ہے آپ سب کا پیار مجهے اس قابل بنایا….”
“اب ایک اور چیز کے قابل بنانا چاہتے ہیں ہم….”
رامز نے نیچلا لب دبایا تها تو وہ سیدها ہوا مکمل اپنے باپ کی جانب متوجہ ہوا تها
“شادی کرلو یار بہت ٹائیم ہوا کوئی فنکشن نہیں ہوا….”
روز کا ہونے والے ٹاپک کو دوبارہ شروع ہوتے دیکھ سعد کرسی سے اٹها تها
“میرے خیال سے بابا گهر چلتے ہیں….”
وہ کوٹ اٹهائے بولا
“یااللہ اس کم عقل کو ہدایت دے…”
وہ بهی اٹهتے ہوئے بولے
“واہ اب کم عقل ہوگیا پہلے بڑی تعریفوں کے پل باندهے جا رہے تهے…”
وہ ان کے ساتھ چلتے ہوئے بولا
“تو کرلو نا شادی…”
انکی خفا سی آواز گونجی
“فکر نہ کریں کرلوں گا جس سے کرنی ہے وہ ابهی چهوٹی ہے…..”
آخری بات اس نے زہن میں سوچی تهی وہ بهی خاموش ہوتے ساتھ چلنے لگے تهے
…………………………………
“ارے وجدان خیر تو ہے اس وقت تم گهر پر….؟”
آبریش وجدان کو کچن کی طرف جاتا دیکھ بولیں تو وہ ان کی جانب مڑا
“ماما جان ڈیڈ کہاں ہیں…؟.”
اس نے آبریش سے سنجیدگی سے استفارہ کی
“وہ اور مصطفی کمرے میں ہیں خیر تو ہے….”
آبریش نے پریشان سے پوچها
“نہیں کچھ بات کرنی بس…”
مسکرا کر گال پر پیار کرتے شہرام کے کمرے کی جانب قدم بڑهائے
“کهانا لگاو وجدان….”
“نہیں ماما….
وجدان نے بنا پلٹے جواب دیا تها اور شہرام کے کمرے میں گیا
“السلام و علیکم….”
وجدان دونوں کو مشترکہ سلام کرتا صوفے پر بیٹها جسکا مصطفی اور شہرام دونوں نے جواب دیا تها
“عالیاب کو باہر جانے کی اجازت آپ نے دی ڈیڈ…؟”
وجدان نے کڑے تیوروں سے شہرام سے پوچها
“بالکل کیوں…؟”
“مجھ سے اجازت نہیں لی اس نے وجہ….؟”
اس نے آگے ہوتے ہوئے کہا
“وہ تمہاری غلام نہیں سکندر….”
شہرام نے ماتهے پر بل ڈالے کہا
“ڈیڈ مجهے وجدان سے پکارا کریں سکندر صرف مجهے عالیاب کہتی ہے……”
اس نے حددرجہ سنجیدگی سے کہا
“اپنا روعب کم جمایا کرو اس پر…”
“اس پر صرف میں ہی روعب جما سکتا ہوں….”
اس نے بهی اسی کے انداز میں کہا
“یہ باتیں کہیں بهاری نہ پڑجائیں تم پر…”
شہرام نے چباتے ہوئے کہا
“وجدان تمیز سے بات کرو….”
مصطفی نے شہرام کا دماغ گهومتے دیکھ وجدان سے کہا
“بابا تو ڈیڈ سے کہیں میں صبر میں ہوں تو صبر کا امتحان نہ لیں …”
وہ اٹهتے ہوئے بولا
“تو کیا کرلو گے تم باپ ہوں میں تمہارا….”
“ڈیڈ آئی لو ہر آپ اچهے جانتے ہیں….”
اپنے ڈیڈ کا پارا ہائی ہوتے دیکھ وجدان بولا اور دروازے کی جانب قدم بڑهائے
“دیکهو میرے سامنے کتنی بےشرمی سے کہ رہا ہے ڈیڈ آئی لو ہر….”
آخر میں وجدان کی نقل اتاری تو وہ مسکراہٹ دباتا کمرے سے نکل گیا جبکہ مصطفی ہنسا تها
“تمہارے کیوں دانت نکل رہے ہیں…؟”
“مجهے تمہارا وقت یاد آگیا اتنی ہی بےشرمی سے تم نے بهی بڑے ابو سے پریہان کے لیے کہا تها…”
اس کی بات پر شہرام نے آنکهیں گهمائیں تهی
…………………………………
یہ ملک ویلا جس کی فیملی کچھ چهوٹی نہ تهی مصطفی اور آبریش کے دو بچے تهے بڑا ذوہان اور چهوٹی دعا، ذوہان ڈاکٹر تها جبکہ دعا بی ایس سیکنڈ سمیسٹر کی سٹوڈنٹ تهی اس کے بعد شہرام جس کا ایک ہی بیٹا وجدان تها جو ایس پی وجدان تها احتشام اور میرب کا بهی ایک ہی بیٹا تها جس کا نام پارس تها وہ بهی بی ایس سیکنڈ سمیسٹر کا سٹوڈنٹ تها میرب کی حالت خراب کی وجہ سے احتشام نے مزید بچوں سے بریک لگا لی تهی جبکہ رامز کا بهی ایک ہی بیٹا سعد تها وشما کی ایک بیٹی عالیاب تهی وہ بهی پارس اور دعا کی ہم عمر تهی اور وشما عالیاب کی پیدائش کے پانچ سال بعد ہی اس دنیا سے کوچ کرگئی تهی غفلت میں پڑی پی جانی والی شراب نے اس کی جان اس وقت لے لی تهی
سعید صاحب اور سعدیہ بیگم کا دس سال پہلے انتقال ہوگیا تها جبکہ شازیہ بیگم کا بهی چار سال پہلے انتقال ہوا تها حماد صاحب اور عالیاب کا پاپا لندن شفٹ ہوگئے تهے وہاں ان کا اپنا بزنس تها وہاں کا بزنس وہ سنبهالتے جبکہ یہاں مصطفی رامز اور سعد سنبهالتے تهے
…………………………………
اسلام و علیکم کیسا لگا پہلا ایپیسوڈ یقیناً سب کا تعارف ہو گیا ہوگا ان شاءاللہ میں اس کو کوئین اوف مائے ہارٹ سے زیادہ بہتر لکهنے کی کوشش کروں گی اور قسط دن کے کسی بهی وقت آجایا کرئے گی لیکن زیادہ کوشش رات میں دینے کی ہوگی
