No Download Link
Rate this Novel
Episode 45
سعد مصطفی کے ساتھ میٹنگز کے حوالے سے اہم گفتگو کرنے کے بعد اپنا لیپ ٹاپ اٹھائے اپنے کمرے میں آیا تو کمرہ مکمل خالی تھا اور واشروم سے پانی گرنے کی آواز پر اس کے ماتھے پر بل پڑے تھے اس نے لیپ ٹاپ ٹیبل پر رکھا تھا
“دعا یہ کون سا وقت ہے نہانے کا بیمار ہو جاو گی دو منٹ میں کپڑے پہنتی باہر نکلو۔۔۔”
وہ باتھروم کے بند دروازے کو دیکھتا بولا تھا
“پانچ منٹ بس۔۔۔۔”
اس نے باتھروم سے ہی ہانک لگائی تھی
“پاگل لڑکی باتھروم سے نہیں بولتے اور پانچ منٹ نہیں دو منٹ مین نکلو تمہاری عقل ٹھکانے لگاتا ہوں۔۔۔۔”
اس کو ڈپٹتے آخری بات منہ میں بڑبڑائی تھی اور بیڈ پر بیٹھا شیشے میں خود کو دیکھتا بال سیٹ کرتے اس کا انتظار کرنے لگا تھا
“کچھ ہی منٹس میں وہ تولیے سے بول رگڑتی باہر نکلی تھی
“دو منٹ کہے۔۔۔۔۔”
سعد جو بولنے لگا تھا لیکن دعا کو دیکھتے اس کے باقی کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے تھے جو سرخ فراک جس کا لگا بین والا تھا بنا دوپٹے کے گیلے بالوں کو رگڑتی سیدھا اس کے دل میں اترتی اس کے جزباتوں میں کھلبلی مچا گئی تھی اور بنا پلکوں کو جھپکنے کی تکلیف دیے اسے دیکھنے میں مصروف تھا
“ہاں تو کسی نے شیمپو بھی لگایا ہوتا ہے تو بنا دھوئے باہر آ جاتی اور میرے کپڑے خراب ہو گئے تھے کچن میں برتن رکھتے وقت اسی لیے چینج کرنا تھے تو سوچا نہا بھی لیتی ہوں اور۔۔۔”
وہ بنا اس کی نظروں کا تقاضا سمجھے اپنی ہی رو میں بول رہی تھی اور ہوش کی دنیا میں وہ تب لوٹی اور زبان کو بریک لگی جب سعد نے اسے پیچھے سے تھامتے اس کے ہاتھ سے تولیا لیتے دور اچھالا تھا اور اس کا رخ اپنی جانب کرتے اس کی کمر پر گرفت مضبوط کرتے دیوانہ وار اسے دیکھ رہا تھا
“سس-سعد۔۔۔”
وہ اس کی لو دیتی نظروں سے گھبراتی فقط اس کا نام ہی پکار سکی تھی
“شوہر کو بہکانے کے سب ہنر سے واقف ہو گئی ہو جاناں۔۔۔”
اس کی بات کو سمجھتے اسے اپنا ہوش آیا تو دوپٹہ موجود نہ دیکھ سخت شرمندگی کا شکار ہوئی تھی
“وہ دھیان نہیں رہا۔۔۔”
وہ گھبرائی سی بولی تھی
“میرے سامنے ایسے دھیان رکھنے کی ضرورت بھی نہیں اب صرف خود پر ٹوٹتے میری جذباتوں پر دھیان دینا۔۔۔”
وہ اس کی گردن پر گیلے بالوں سے گرتی پانی کی بوندوں کو انگلیوں کی پوروں سے چھوتے بولا تو اس کی جان حلق کو آئی تھی
“نن-نہیں سعد۔۔۔”
وہ اس کا ہاتھ بالوں کی وجہ سے پیچھے کمر سے گیلی ہوئی قمیض پر جاتے دیکھ گڑبڑا کر بولی تھی
“اب مت روکو بہت وقت دے لیا تمہیں٫ تمہیں بھی بے پناہ محبت ہے مجھ سے تو اب میاں بیوی کے اس اہم تقاضے کو پورا کرنے دو اب مت روکو میں اپنے وعدے پر پورا اترا ہوں اپنی حد میں رہا ہوں اب مجھے میری حدود پار کرنے دو۔۔۔”
وہ اس کی گردن سے فراک کا کپڑا ہٹاتے اس پر اپنا لمس چھوڑتے بولا تو دع نے آنکھیں میچتے اس کی شرٹ کو کندھوں سے سختی سے دبوچا تھا سعد نے چہرہ اٹھائے اس کی بند آنکھوں کو دیکھا تھا
“آجاو جاناں دونوں بہکتے ہیں ایک دوسرے کے نشے میں گم ہوتے سب قائم کردہ حدود کو توڑ دیتے ہیں بس سمان جاتے ہیں ایک دوسرے میں۔۔۔”
کان کے قریب سرگوشی کرتا وہ اسے مزید قریب کرتا خود میں سمیٹ گیا تھا جب کے وہ آنکھیں میچیں اس میں سمٹتی چلی گئی تھی
………………………………
وجدان عالیاب کہ گود میں سر رکھے لیٹا ایک گہری سوچ میں مبتلا تھا عالیاب اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتی بغور اس کا جائزہ لے رہی تھی
“کن سوچوں میں گم ہیں سکندر۔۔۔؟”
آخر رہا نہ گیا تو وہ پوچھ بیٹھی تھی وہ ایک دن سے چونکا پھر مسکرا کر اس کی گال کو چھوتا نفی میں سر ہلایا تھا عالیاب نے نوٹ کیا تھا اس کی مسکراہٹ پھیکی تھی
“آپ زبردستی مت مسکرائیں۔۔۔۔”
اس کی بات سنتے اس کی مسکراہٹ غائب ہوئی اور گہرا سانس بھرتا اٹھا تھا
“کیا بات ہے بتائیں۔۔۔؟”
وہ اس سے تھوڑا نزدیک ہوتے بولی تھی تو اس نے پھر سے نفی میں سر ہلایا
“کوئی بات ضرور ہے ورنہ یوں پریشانی آپ کے چہرے سے عیاں نہ ہوتی۔۔۔”
اس کی بات پر اس نے نچلا ہونٹ دانتوں میں دبایا تھا
“شاباش بتائیں میں تو آپ کی عالی ہوں نہ بیوی ہوں بتائیں کیوں پریشان ہیں۔۔۔؟”
وہ اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں سے تھامے بولی تھی
“میں زوہان کے بارے میں سوچتا پریشان ہوں۔۔”
اس نے عالیاب کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے کہا تھا تو اس نے ناسمجھی سے اسے دیکھا
“مطلب۔۔۔”
وہ اتنا بولتا پھر سے رکا تھا
“ریلیکس ہو کر کھل کر بات کریں۔۔۔”
اس کو یوں خاموش دیکھ وہ بولی تھی
“کہیں زوہان مجھ سے دور نہ ہو جائے یہی خدشا میری جان نکال رہا ہے میں اپنے بھائی سے بہت پیار کرتا ہوں کہیں ہمارے پیار میں کمی نہ آ جائے تم سمجھ رہی ہو نہ۔۔۔؟”
وہ بولتے بولتے آخر میں اس سے پوچھنے لگا تو عالیاب نے اثبات میں سر ہلایا تھا
“پتا نہیں کیوں ہو رہا ایسے یو نو جیلس والی فیلنگز آ رہی ہیں مطلب میں بہت خوش تھا شاید دنیا میں سب سے زیادہ لیکن اب جیلسی ٹائپ سا ہو رہا پتا نہیں کیا سمجھ نہیں آ رہا۔۔۔”
وہ اپنا ماتھا مسلتے بول رہا تھا وہ خود بہت زیادہ کنفیوز تھا
“یہی ہو رہا کہ اب میں بےدھڑک اس کے کمرے میں نہیں جا سکتا اس کے بیڈ پر حق سے نہیں لیٹ سکتا اس کو تنگ نہیں کر سکتا مطلب پہلے والا حساب جیسے اب نہ رہے۔۔۔”
وہ بہت افسردگی سے بول رہا تھا عالیاب اس کے لہجے سے افسردگی واضع محسوس کر سکتی تھی وہ خاموش ہو چکا تھا تھا عالیاب مزید اس کے قریب ہوتی اس کی تھوڑی پر اپنے لب رکھ چکی تھی
‘جس کا جو مقام ہے وہ وہی رہے گا ہماری بھی تو شادی ہوئی لیکن بھائی نے کوئی ایسا خدشا دل میں نہیں پالا معلوم ہے کیوں۔۔۔۔؟”
اس نے آخر میں سوال پوچھا تو اس نے نفی نیں سر ہلایا
“کیونکہ انہیں آپ کی محبت پر یقین تھا انہیں یقین تھا کہ ہزار لوگ بھی آپ کی زندگی میں آجائیں لیکن جو ان کا مقام ہے وہ وہی رہے گا کسی مضبوط پہاڑ کی مانند جسے اللہ کے سوا کوئی نہ سرکا سکے۔۔۔”
وہ دھیرے دھیرے بولی اسے اپنے لفظوں کے سحر میں جکڑتی اسے سکون بخش رہی تھی
“آپ کو بھی یقین ہونا چاہی ان کی محبت پر جیسے انہیں آپ پر یقین تھا کہ آپ کی محبت کم نہیں ہو گی چاہے جو بھی ہو ویسے آپ بھی ان پر یقین رکھتے ہوئے سب خدشات کو دور کر دیں ورنہ یہ خدشات آپ کا پیار کم کر دیں گے اور غلط سائڈ لے کر جائیں گے۔۔۔”
وہ آخر میں مسکرا دی تو وجدان نے مسکرا کر اس کو سینے سے لگایا تھا
“لو یو جان من۔۔۔”
وہ اس کے بالوں میں منہ چھپائے بولا تھا
“ویسے جیلس مجھے ہونا چاہیے آپ کی زوہان بھائی کے لیے ایسی شدت بھری محبت دیکھتے۔۔۔”
وہ شرارت چھپائے مصنوعی خفگی سے بولی تو وہ کھل کر ہنسا تھا
“تم تو جان کو میری دل ہو میرا تمہیں تو کھا جاوں گا۔۔۔”
وہ اس کی ناک سے اپنی ناک رگڑتا بولتا اس پر جھک گیا تھا جب کہ وہ نا نا کرتی رہ گئی لیکن وجدان نے اس کی نا کو کسی خاطر میں نہیں لایا تھا آخر وہ بھی تھک ہار کر تین چار مکے اس پر برساتی خود کو اس کے حوالے کر چکی تھی
………………………………
زوہان صوفے پر بیٹھا کب سے تعبیر کو بیڈ پر بیٹھا دیکھ رہا تھا جو اس کی نظروں سے پزل ہوتی کبھی ایک سائیڈ دیکھتی تو کبھی دوسری سائیڈ تو کبھی ہاتھوں کو اپس میں مسلتی۔۔زوہان اس کی سب حرکتیں نوٹ کرنے کے باوجود ایک ہی پوزیشن میں بیٹھا اس کو تاڑ رہا تھا
“زوہان پلیز کیا مسئلہ ہے۔۔۔؟”
آخر وہ تنگ آ کر الجھ کر بولی تو وہ دلکشی سے مسکرایا کیونکہ وہ یہی چاہتا تھا کہ وہ اسے خود ٹوکے
“مسئلہ محبت کا ہے۔۔۔”
وہ آگے کو ہوتا بولا تھا
“مجھے نیند آ رہی ہے۔۔۔۔”
وہ نظریں چرائے بولی تھی
“تو سو جاو۔۔۔یا پھر میری باہوں کے انتظار میں ہو۔۔۔۔”
وہ صوفے سے اٹھتا بے باکی سے بولتا تو اس کی بے باکی پر اس کے اوسان خطا ہوئے تھے اور تھوڑا پیچھے کو کھسکی تھی زوہان سکون سے بیڈ پر لیٹا تھا اور اس کی جانب کروٹ لیے اس کا ہاتھ تھاما تھا اس کا بی پی جو پہلے لو ہونے کو تھا اب مزید وہ برف کی مانند ہونے لگی تھی
“کتنی خوبصورت رات ہے میرے لیے تمہارا پتا نہیں۔۔۔۔”
وہ اسے کھینچتا خود پر گرا گیا تھا
“زوہان آپ یہ۔۔۔۔”
“ششششش۔۔۔۔۔”
وہ اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھتا اسے مزید بولنے سے روک گیا تھا اور وہ اس پر جھکی کبھی اس کی آنکھوں میں دیکھتی تو کبھی نظریں چراتی زوہان نے خود پر گرتے اس کے بالوں کو تھاما تھا اور پھر کان سے پیچھے کرتے بالوں سے انگلی پھیرتے گردن تک لایا تھا اپنی گردن پر اس کی انگلی کا لمس محسوس کرتے اس نے سختی سے آنکھوں کو میچا تھا
زوہان نے ایک جھٹکے سے اسے نیچے کیا اور خود اس جے اوپر ہوا تھا بند آنکھوں سے ہی اس کے حلق سے چینخ برامد ہوئی تھی زوہان اس کے اوپر جھکا اس کے چہرے کے ہر نقش کو غور سے دیکھنے لگا تھا
“میں تمہیں بہت چوش رکھوں گا بہت زیادہ پیار کرونگا کہ تم خود کی قسمت پر رشک کرو گی…”
وہ پورے استحاق سے اس کے ماتھے پر اپنے تشنہ لب رکھے بولا تھا تعبیر کی بند آنکھوں سے ہی آنسووں نکلتے اس کے بالوں میں جذب ہو گئے تھے
“میں تم سے بہت بہت پیار کرتا ہوں بہت زیادہ۔۔۔۔۔”
وہ اپنا ماتھا اس کے ماتھے سے ٹکائے آنکھیں موندیں سرگوشانہ انداز میں بولا تھا
“آئی لو یو آئی رئیلی لو یو۔۔۔۔”
تعبیر کو اس کے ہونٹ اپنی گال پر محسوس ہوئے تو دھڑکنوں نے پھر سے رفتار پکڑی تھی وہ اس کی ڈھڑکنوں میں برپا شور کو سنتے مسکرایا تھا اور پیچھے ہوتا بیڈ پر لیٹتا اس کا سر اپنے سینے پر رکھا تھا اور اس آنکھیں موندتا اس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا تھا وہ اس کے سینے پر سر رکھے گھبرائی ہوئی تھی پر خود پر قابو پاتے خود بھی آنکھیں بند کیں تھی اور جلدی ہی دونوں کی بھاری سانسیں کمرے میں گونجنے لگی تھیں
………………………………
صبح کا سورج طلوع ہوتے ہی ملک ویلا میں چہل پہل شروع ہو گئی تھی ناشتے کے بعد سب اپنی تیاریوں میں جڑ گئے تھے کیونکہ بارہ کے قریب انہیں تعبیر کے گھر جانا تھا
وجدان نے ناشتہ کمرے میں ہی کیا تھا کیونکہ ساتھ اسے ایک ضروری کام کرنا تھا پھر یونیفارم پہنتا نیچے آیا تو سامنے ہی اسے زوہان فون پر بات کرتا نظر آیا تھا وجدان کو زوہان سے نجانے کیوں ایک جھجھک سی محسوس تھی وہ وہی کھڑا اسے دیکھنے لگا جب زوہان کال ختم کرنے کے بعد مڑا تو وجدان کو دیکھتا مسکرایا اور اس کی جانب آیا تھا
“کیسے ہو برو۔۔۔۔؟”
وہ اس کے پاس آتے بولا تھا
“ٹھیک ہوں۔۔۔”
وہ زبردستی مسکرائے بولا تو زوہان کی مسکراہٹ غائب ہوئی تھی
“کیا ہوا بروکس۔۔۔۔”
اس نے پریشانی سے پوچھا تو وجدان نے نفی نیں سر ہلایا تو وہ چانچتی نظروں سے اسے دیکھنے لگا تھا
“تم آج ہمارے ساتھ نہیں جاو گے۔۔۔؟”
اس کو یونیفارم میں موجود دیکھ اس نے پوچھا تھا
“نہیں تھوڑا ارجنٹ کام ہے۔۔۔”
“مجھ سے زیادہ ارجنٹ۔۔۔۔؟”
اس نے آئبرواچکائے کہا تو وجدان نے نفی میں سر ہلایا
“میں تمہارے بنا کیسے جاسکتا ہوں شرافت سے جلدی آ جانا کیونکہ میں تمہارے بنا جانے والا نہیں۔۔۔”
اس نے وارن کیا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا تھا
“کیا صرف سر ہی ہلائی جا رہے ہو کچھ بولو تو سہی۔۔۔۔”
اس کو بار بار سر ہی ہلاتے دیکھ اس نے اکتا کر کہا تو اس نے دو پل اسے دیکھا پھر آگے بڑھتے اس کو گلے سے لگایا تھا
“اوئے کیا ہوا وجدان۔۔۔؟”
اس کو یوں ٹائیٹلی ہگ کرتے دیکھ اس نے فکرمندی سے پوچھا تھا اس سے پہلے وہ وجدان کو یوں ایموشنلی ہوتے دیکھتا کہ وجدان کا فون بجا تھا وہ پیچھے ہوا اور فون نکالا جہاں ڈی ایس پی کی کال آ رہی تھی
“ڈی ایس پی صاحب کی کال میں جاتا ہوں آ جاوں گا جلدی۔۔۔”
وہ بنا اس کی طرف دیکھے جلدی سے بولتا باہر کی جانب چلا گیا اور وہ پیچھے ارے ارے ہی کرتا رہ گیا تھا اور پھر پریشانی سے اس کے بارے سوچنے لگا تھا
………………………………
وجدان گیارہ کے قریب گھر آ گیا تھا اور اس کے ریڈی ہوتے ہی ملک ویلا کی گاڑیاں آگے پیچھے تعبیر کے گھر کی جانب روانہ ہو گئیں تھی سب اپنی اپنی گاڑیوں میں موجود تھے تعبیر کو پہلی بار یوں اپنے گھر جاتے تھوڑی کنفیوزن ہو رہی تھی تعبیر کے گھر پہنچتے ہی ان کا بہت اچھے سے استقبال کیا گیا تھا تعبیر اپنی امی بابا کے گلے لگ کر بہت روئی تھی جب کہ باقی سب سے ملنے کے بعد ان کو ڈرائینگ روم میں بیٹھایا گیا تھا
………………………………
“تعبیر زوہان مصطفی کی فیملی کیسی ہے۔۔۔؟”
تعبیر جو روحا کا ہاتھ بٹانے کے لیے کچن میں آئی تھی سب ملازمین کو دوسرے کام کرتے دیکھ اس نے موقع پاتے تعبیر سے پوچھا تھا
“اب تک تو سب ٹھیک ہے لیکن ایک دن میں کہاں پتا چلتا ہے۔۔۔”
اس نے لیز کا کوفتے پلیٹ میں سجائے کہا تھا
“جن حالات میں شادی ہوئی پہلے دن ہی ان کا لہجہ بگڑ جاتا لیکن وہ سب بہت خوش اخلاقی محبت سے ملے تم سے مطلب وہ بہت اچھے لوگ ہیں۔۔۔”
روحا نے کولڈ ڈرنگز نکالتے ہوئے کہا
“ہے تو ایس پی وجدان سکندر کی ہی فیملی۔۔۔”
اس کی بات سنتے روحا کے ہاتھ رکے تھے
“تمہیں مسئلہ کیا ہے اس سے وہ میرا اور وجدان کا معاملہ ہے تم اپنی یہ نفرت دور رکھو اس خاندان سے اور جیسے وہ محبت سے پیش آئے ویسے ہی رہو۔۔۔”
اس نے غصے سے کہا تو تعبیر ہونٹ بھینچے مختلف لزومات سے سجی پلیٹس کو ٹرالی میں رکھنے لگی تھی
اور پھر دونوں نے ڈرائینگ روم میں جاتے سب کو کولڈرنگس اور وہ لزومات پیش کیے تھے وہاں ہنسی مزاق گفتگو سب کچھ ہو رہا تھا
………………………………
ہم اب مدعے کی بات پر آتے ہیں۔۔۔۔”
مصطفی کے اشارہ کرنے پر رامز نے بات کا آغاز کیا تھا تو سب خاموشی سے ان کی جانب متوجہ ہوئے تھے
“ہمیں بہت زیادہ اچھا لگا آپ سب سے مل کر آپ کی یہ چھوٹی سی خشیوں بھری فیملی بہت خوبصورت ہے ہمیں اگر زوہان پہلے بتا دیتا ہم تب بھی اس کی پسند کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ کے گھر عزت سے رشتہ لاتے۔۔۔”
مصطفی کی بات پر زوہان نے اپنے سامنے حسن صاحب کے ساتھ بیٹھی اپنی شریک حیات کو دیکھا تھا
“جیسا کہ حالات مختلف تھے تو ہم یہ سوچ کر کہ شاید اللہ ایسے ہی نکاح چاہتا تھا اس میں خوش ہو گئے لیکن۔۔۔۔”
مصطفی کہتے کہتے خاموش ہوا تھا
“لیکن ہم چاہتے ہیں کہ ہم بہت دھوم دھام سے ولیمے کا کام سر انجام دیں یوں سب سے تعارف بھی کروا دیا جائے گا ۔۔”
مصطفی کی بات پر حسن نے مسکرا کر اپنی بیوی کی جانب دیکھا تھا
“ہم بھی کچھ یہی سوچ رہے تھے آپ نے تو ہمارے منہ کی بات چھین لی۔۔۔”
حسن صاحب ہنستے ہوئے بولے تو وہ بھی مسکرا دیے
“تو ٹھیک ہے ایک ہفتے بعد ہم ولیمے کی شاندار تقریب رکھ لیتے ہیں کیا خیال ہے۔۔۔؟”
شہرام کی بات پر سب نے حامی بھری تھی
“چلیں ٹھیک ہو گیا منظور ہے ہمیں۔۔۔۔”
حسن صاحب نے کہا تو وہ مزید آپس میں باتیں کرنے لگے تھے
………………………………
عالیاب ان کے بیچ کب سے خود پر ضبط کئیے بیٹھی تھی جی تھا کہ بہت زیادہ متلا رہا تھا وجدان کی نظر اس پر پڑی تو ماتھے پر فکر کے بل ڈالے اس سے اشارے میں پوچھا جو جواب دینے کی بجائے اٹھی تھی اور باہر کو گئی تھی اس کو یوں جاتے دیکھ وجدان بھی اٹھتا اس کے پیچھے گیا تھا
“کیا ہوا عالی میری جان۔۔۔؟”
اس نے پریشانی سے اسے پوچھا جو پلر کا سہارا لیے کھڑی تھی
“پپ-پتا نہیں سکندر میرا دل بہت خراب ہو رہا ہے سر گھوم رہا ہے۔۔۔”
وہ مشکل سے بولی تھی
“تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا چلو ابھی ڈاکٹر پاس یا میں زوہان کو بلاتا۔۔۔”
“نن-نہیں۔۔۔”
اس نے اسے فورا سے روکا تھا
“سب پریشان ہو جائیں گے خوشی کا موقع ہے۔۔۔”
اس نے اسے روکتے ہوئے کہا
“اچھا چلو ہم دونوں چلتے ہیں میں موم کو بتا دیتا ہوں فون کر کے چلو۔۔۔”
وہ اس کو سہارا دیتے بولا تھا تو اس نے بےبسی سے اسے دیکھا
“میرا سر گھوم رہا ہے مجھ میں ہمت نہیں۔۔۔”
اس نے اس کے ہاتھ پر گرفت مضبوط کرتے کہا تو وجدان نے بنا کوئی جواب دیے آگے بڑھتے اسے گود میں اٹھایا تھا
“اچھا بس گھبراو نہیں ابھی ہم چیک کروا لیتے ہیں…..”
وہ اسے گاڑی میں بیٹھاتے بولا تھا اور خود بھی دوسری جانب آتے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی تھی پھر پریہان کو فون کرتے مختصر سا بتایا اور کہا پریشانی کی بات نہیں اور سب کو بتانے سے منع کیا تھا اور یہ بھی کہا کہ پریشانی سے آنے میں جلد بازی نہ کریں سکون سے اپنا کام نبٹا لیں وہ عالیاب کا خیال رکھ لے گا جس پر بہت تسلیوں کے بعد پریہان مان گئی تھی
………………………………
زوہان کب سے وجدان کو ڈھونڈھ رہا تھا جو اسے مل نہیں رہا تھا معلوم نہیں کہا چلا گیا تھا اس نے یہ سوچتے فون نکالا تھا
“کیا ہوا زوہان۔۔۔۔؟”
زوہان جو فون ملانے لگا تھا تعبیر کی آواز پر چونکا اور پلٹا تھا
“وجدان کو دیکھا ہے تم نے۔۔۔؟”
اس نے وجدان کے بارے پوچھا تو اس نے نفی میں سر ہلایا
“عالیاب بھی موجود نہیں۔۔۔”
اس نے عالیاب کو بھی موجود نہ پا کر کہا تھا
“سب خریت ہو۔۔۔۔”
اس نے وجدان کا نمبر ملاتے کان سے لگاتے کہا لیکن دوسری جانب سے اٹھایا نہ گیا تھا پریہان جو واشروم سے فارغ ہوتی واپس ڈرائینگ روم میں جا رہی تھی ان دونوں کو یوں کھڑے دیکھ ان کے پاس آئی تھی
“کیا ہوا بیٹا پریشان ہو۔۔۔؟اس ںے پریشانی سے زوہان سے پوچھا تھا
“مامی جان وجدان اور عالیاب کہیں نظر نہیں آ رہے بس ان کو فون کر رہا ہوں۔۔۔”
“بیٹا وہ لوگ ڈاکٹر پاس گئے ہیں۔۔۔”
پریہان نے کہا تھا
“ڈاکٹر پاس کیوں سب خریت کیا ہوا۔۔۔؟”
وہ بےچینی سے پوچھنے لگا تھا
“عالیاب کی تھوڑی طبعیت نہیں ٹھیک تھی وہ اسے لے کر گیا ہے۔۔۔”
اس نے مختصر سا بتایا تھا
“کیا ہوا تھا اسے اور مجھے کیوں نہیں بتایا میں چیک کر لیتا۔۔۔”
“وہ کہتا وہ پریشانی نہیں دینا چاہتا تھا یوں خوشی کے موقع پر اسی لیے وہ اسے دوسرے ڈاکٹر پاس لے گیا۔۔۔۔”
پریہان کی بات سنتے اسے وجدان پر بہت غصہ آیا تھا لیکن ضبط کر گیا اور خاموش ہو گیا تھا
