No Download Link
Rate this Novel
Episode 20
“سعد بهائی کا فون آیا تها بتا رہے تهے خریت سے پہنچ گئے ہیں…”
ذوہان نے کرسی پر بیٹهتے سب سے کہا جو اس وقت کهانے کے لیے موجود تهے تو انہوں نے اثبات میں سر ہلایا
“ڈیڈ آپ سے بات کرنی تهی…”
وجدان نے عالیاب کو دیکهتے کہا جو کهانے میں مصروف تهی
“ہممم بولو….”
شہرام اس کی جانب متوجہ ہوا تها
“میں اب شادی چاہتا ہوں…”
اس نے عالیاب کو دیکهتے کہا جس کو اس کی بات سنتے کهانسی آئی تهی پریہان نے جلدی سے اسے پانی پلایا تها
“اچانک….؟”
شہرام نے آئبرواچکائے کہا
“یار ڈیڈ تو کیا ساری زندگی کنوارہ رہوں ویسے بهی میری ووٹی(بیوی) راضی ہے…”
اس کی بات پر سب کی نظریں عالیاب پر گئیں جو خود پر سب کی نظریں دیکهتی گڑبڑائی تهی اور پهر چہرہ جهکایا
“سیریسلی عالیاب…؟”
ذوہان کے پوچهنے پر وہ خاموش ہی رہی
“میں ایک بار خود بات کروں گا تمہارا بهروسا نہیں مجهے معلوم ہے تم نے ضرور دهمکایا ہو گا…”
شہرام نے عالیاب کے جهکے سر کو دیکهتے کہا
“یار ڈیڈ اب میں ایسا لگتا ہوں آپ کو…”
وہ مظلوم شکل بنائے بولا سب کے چہروں پر مسکراہٹ بکهری تهی شہرام نے بهی مسکراہٹ دبائے اثبات میں سر ہلایا تو وجدان نے منہ بنایا تها
“ڈیڈ ایک مہینے تک میری شادی کر دیں…”
وہ عالیاب کیا سب پر ببم پهوڑ رہا تها
“کیوں بیٹا ایک مہینے بعد کیا ہونا ہے…؟”
مصطفی بولا تو اس نے سر کهجایا
“یار بابا آپ سے کیا چهپانا اب اکیلے بندے کو بیڈ کاٹتا ہے….”
وہ سر کے ساتھ داڑهی بهی کهجائے بولا اور عالیاب اس کی باتوں سے جہاں شرم سے دہری ہو رہی تهی وہی سب کے چہروں پر مسکراہٹ تهی
“بڑے بهیا ابهی میں بهی ہوں میرے حق کے لیے بهی آواز اٹهائیں….”
ذوہان نے معصوم شکل بنائے کہا
“بیٹا تیرے لیے تو ڈاکٹرنی ہی آئے گی..”
اس نے آنکھ دبائے کہا تو زوہان نے گهورا تها اور وہ ہر بار یہ سوچ کر پچهتاتا تها کہ اس نے وجدان کو کیوں بتایا
“جو میرا بیٹا کہے گا وہی آئے گی…”
آبریش نے محبت سے زوہان کو دیکهتے کہا جس نے شرٹ کا کارلر کهڑے کرتے وجدان کو زبان چڑھائی تهی
“چهوڑیں یہ تو فضول بندہ ہے اس سے چار منٹ بڑے بهائی کے بارے میں سوچیں…”
وہ زوہان کو اکڑتے دیکھ بولا تو زوہان نے دانت کچائے اس کو دیکها مجال ہے جو چار منٹ بڑے ہونے کا موقع ہاتھ سے جانے دے سب ان کی باتوں کو انجوائے کر رہے تهے
“میں بات کروں گا خود پہلے عالیاب اور پهر خاور سے…”
شہرام نے کہا تو اس نے پهر سے منہ بنایا
“ڈیڈ عالیاب راضی ہے اور خاور انکل بهی راضی ہیں میں جانتا ہوں…”
وہ کسی طرح ہاں کروانا چاہتا تها
“کس بات کی جلدی ہے وجدان…؟ میں اپنی تسلی کروں گا ایک بار…”
اس نے گهورتے ہوئے کہا جو بہت بےصبرہ ہو رہا تها
“آپ کی تسلی ہو نہ ہو مجهے شادی کرنی ہے…”
اس کی بات پر شہرام نے چہرہ اٹها کر جس نظروں سے اسے دیکها وجدان نے بےساختہ نظریں پهیریں تهی کیونکہ وہ جانتا تها وہ غلط بول گیا ہے سب ان دونوں کے چہرے دیکھ رہے تهے ماحول مزاق سے دور سنجیدگی میں بدل گیا تها
“زبان کو لگام دو وجدان بوڑهے نہیں ہو رہے جو اتنے بےصبرے ہو رہے ہو…”
مصطفی نے شہرام کے تاثرات دیکھ کر وجدان کر جهڑکا جو کرسی پیچهے کرتا وہاں سے اٹها تها
“وجدان کهانا تو مکمل کرو بیٹا…”
پریہان نے اس کو کهانا بیچ میں چهوڑ کر اٹهتے دیکھ کہا
“نہیں موم بس…”
“کیا کہا ہے کهانا مکمل کرو….”
وہ جو ابهی بول رہا تها شہرام غصے سے دهاڑا تو وہ مٹهیان اور لب بهنچے شہرام کو دیکهنے لگا اور واپس کرسی پر بیٹها تها
“مم-مامو جان آپ سس-سکندر کو مم-مت ڈانٹیں…”
عالیاب سکندر کی غصے بهری شکل دیکھ کر شہرام سے بولی جس کے اس کی بات سن کر تنے اعصاب ڈهیلے پڑے تهے اور مسکرایا
“یہ لفنگا اسی لائک ہے کسی کے ہاتھ بهی نہیں آتا بیٹا…”
شہرام نے وجدان کے مکا جڑتے کہا تو ایک بار سب پهر مسکرا اٹهے سنجیدگی پهر سے مدهم ہوئی تهی اور اس کی جگہ مزاح نے لی تهی
“یہاں سب سکندر صاحب کے سگے ہیں معصوم تو ہم بےچارے ہیں کوئی طرف داری ہی نہیں کرتا……”
زوہان منہ میں نوالا ڈالتا آہ بهرتے بولا جہاں سب ہنسے تهے وہی وجدان نے خود کو سکندر کہنے پر اسے گهورا اور پهر ہلکی پهلکی باتوں میں سب کهانا کهانے لگے
…………………………………
دعا کی رات تقریباً نو بجے آنکھ کهلی تو نظر سامنے صوفے پر گئی جہاں سعد ٹیبل پر ٹانگے رکھ کر بیٹها پیچهے سر ٹکائے ہی سویا ہوا تها لیپ ٹاپ بهی ویسے ہی گود میں پڑا تها
“پلیز سعد آپ کی محبت کہیں صرف ہمدردی نہ ہو…”
اس کو دیکهتے اس نے سوچا تها پهر بنا آواز پیدا کیے اٹهی اور اس کے قریب جاتے کانپتے ہاتهوں سے اس کی گود سے لیپ ٹاپ اٹهانا چاہا اس سے پہلے وہ لیپ ٹاپ اٹهاتی اس کا بڑهایا گیا ہاتھ سعد نے فوراً تهاما اچانک تهامنے پر وہ اچهلی تهی سعد نے خمار زدہ نظروں سے اسے دیکها نیند سے اس کی آنکهیں سرخ تهیں اس میں دوڑتی سرخی دعا کے دل کی سرخیاں بڑها رہا تها
“سس-سیدهے ہو کر سو جائیں…”
وہ نظریں جهکائے بولی
“فکر ہو رہی ہے…”
وہ ویسے ہی اس کا ہاتھ تهامے بولا تو اس نے نفی میں سر ہلایا سعد نے آئبرو اٹهائے اسے دیکها تو وہ چہرہ جهکا گئی سعد نے اس کے بازو کو جهٹکا دیا وہ جو اس حملے کے لیے تیار نہ تهی سنبهل نہ سکی اور اس پر گری تهی سعد نے خود پر جهکی دعا کو دیکها جو اس سے دور ہونے کی محنت کر رہی تهی اور اس کے سینے پر ہاتھ رکهے اٹهنا چاہ رہی تهی
“وہ دن کب آئے گا جب میری فکر ہو گی خیر ابهی دو مہینے ہم ساتھ ہیں دیکهنا ان دو مہینوں کے بعد تم مجھ سے ایک سیکنڈ کی دوری بهی برداشت نہیں کر سکو گی…”
چہرے پر جهولتے لٹوں کو وہ کان کے پیچهے کرتا محبت سے بولا تو وہ احتجاج روکے اس کو دیکهنے لگی سعد نے دهیرے سے اسے چهوڑا تو وہ ایک سیکنڈ میں اٹھ کهڑی ہوئی تهی اور تیز سانس لینے لگی
“کچن میں سب سامان موجود ہے ایک کپ تازہ دم چائے بنا دو…”
وہ لیپ ٹاپ بند کر کے ٹیبل پر رکهتے اٹها تها اور ساتھ میں اس سے بولا جو اثبات میں سر ہلاتی فورا کمرے سے نکلی تهی پیچهے وہ بهی بیڈ پر لیٹا دروازے کو تکنے لگا اس کو معلوم تها تیس منٹ سے پہلے وہ اب اپنی شکل بالکل نہیں دیکهایے گی
…………………………………
رات کا تیسرا پہر تها شاید فجر کی آزانیں فضا میں گونج رہی تهیں سب نماز تک خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے تهے ملک ویلا میں بهی سب نیند میں گرک تهے
ذوہان جو کمرے میں اوندهے منہ لیٹا تها اور نیند کی وادیوں میں گم تها کہ فون کی ہوتی بیل نے پورے کمرے میں شور برپا کیا وہ کسمساتے ہوئے سیدها ہوا اور ہاتھ مار کر فون اٹهاتے کام سے لگایا
“ہیلو…”
اس کی نیند سے ڈوبی آواز گونجی
“سوری ڈاکٹر زوہان ڈسٹرب کیا لیکن ایک ایمرجنسی کیس ہے آپ کو فورا آنا ہو گا…”
اس نے کچھ شرمندگی سے کہا تو اس نے آنکهیں ملتے کمبل فورا پیچهے کیا تها
“آرہا ہوں…”
وہ جلدی سے اٹها شرٹ پہنتا جیکٹ پہنی تهی موبائل والٹ اور گاڑی کی چابیاں اٹهاتا کمرے سے نکلا تیزی سے زینے اترتا لاونچ تک پہنچا کہ اس کو سامنے سے وجدان آتا دیکهائی دیا جو موبائل میں مصروف تها
“تم اس وقت کہاں سے آ رہے ہو جہاں تک میرا خیال ہے نماز میں ابهی وقت ہے…”
وہ موبائل پر ٹائیم دیکهتے مشکوک انداز میں بولا تو اس کی آواز سنتے وہ چونکا تها اور اس کی جانب دیکها
“تهوڑا سا کام تها…”
“اس وقت…؟”
اس نے آئبرواچکائے کہا
“تم کیا بیویوں جیسے سوال کر رہے ہو میری ڈیوٹی ایسی ہے کچھ چیزوں کا سفایا رات کے اندهیرے میں ہی اچها ہوتا ہے خیر تم اس وقت کہاں جہاں تک میرا خیال ہے نماز کا وقت تو ابهی نہیں ہوا…”
اب کی بار وہ تفشیشی انداز میں بولا
“ایمرجنسی کیس ہے ہوسپٹل جا رہا ہوں کل شاید ناشتے تک واپسی نہ ہو بتا دینا گهر…”
اس نے وجدان سے کہا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا اور پهر زوہان باہر چلا گیا جب کہ وجدان کچن میں کیوں کہ بهوک سے اس کے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے تهے(ویسے بهی یہ ناول ہے رات کے کسی پہر بهی بہترین کهانا مل سکتا ہے ہاہاہاہا)
…………………………………
وجدان کا ارادہ آج عالیاب کو یونیورسٹی سے پک کرنے کا تها کیوں کہ وہ آج اکیلی یونیورسٹی گئی تهی شہرام کو بتاتے وہ ٹائیم پر یونیورسٹی کے باہر پولیس یونیفارم میں سینے پر ہاتھ باندهے گاڑی سے ٹیک لگائے کهڑا وہاں موجود سب لڑکیوں کے حواسوں پر چها رہا تها لیکن اس کو اس کی پرواہ نہ تهی کیوں کہ اس کے حواسوں پر جو چهائی تهی وہ اسی کے انتظار میں کهڑا تها
“آمنہ دیکهو کس قدر ہینڈسم ہے….”
ایک لڑکی جو اپنی دوست کے ساتھ کهڑی کب سے وجدان کو تاڑ رہی تهی جو چہرے پر سنجیدگی سجائے یونیورسٹی کے گیٹ کو دیکھ رہا تها اس نے اپنہ دوست کو بهی وجدان کی جانب متوجہ کیا جو خود مبہوث سی دیکهنے لگی
“عائشہ ایسا ایک پولیس والا مل جائے تو زندگی سیٹ ہو جائے….”
وہ بهی حسرت سے بولی
وجدان جو عالیاب کا منتظر تها سامنے سے سرخ چہرہ لیے عالیاب کو آتے دیکھ پریشانی سے دیکهنے لگا جس کی آنکهیں بهی سرخ تهیں شاید وہ روئی تهی
“آمنہ وہ دیکھ عالیاب اس کے ساتھ آج ہم نے بہت اچها کیا یہ جو اپنی کزن دعا اور کزن پارس کی وجہ سے بہادر بنتی تهی نہ آج بہت مزہ آیا اس کے ساتھ. ..”
عائشہ عالیاب کو گیٹ سے نکلتے دیکھ کہا
“یہ تو اس ہینڈسم کی طرف جا رہی شاید…”
آمنہ کی بات پر اس نے بهی دهیان دیا
وجدان بهی اس کے گیٹ سے نکلتے اس کی جانب بڑها
“کیا ہوا میری جان…؟”
اس کا رویا رویا چہرہ دیکھ کر اس نے پریشانی سے اس کا چہرہ تهامتے اس سے پوچها
“عالیاب کا اس سے کیا تعلق ہو سکتا ہے مارے گئے اگر اس نے بتا دیا تو وہ تو پولیس والا ہے کہیں ہمارے گهر تک بات نہ پہنچ جائے…”
آمنہ نے پریشان سے کہا پریشان تو عائشہ بهی ہو رہی تهی
“سکندر…”
وہ روتے ہوئے اس کے سینے سے لگی
“عالیاب سٹاپ کرائینگ کیا ہوا ہے بتاو کسی نے کچھ کہا ہے….”
وہ اس کو پیچهے کرتا پریشانی سے پوچھ رہا تها
“سکندر میری کلاس کی دو لڑکیاں اور تین لڑکوں نے مل کر مجھ پر پانی پهینکا سب بوکس بیگ سے نیچے پهینک دی موبائل بهی توڑ دیا….”
اس نے روتے ہوئے کہا اور موبائل اس کے سامنے کیا جس کی سکرین پر سکریچ تها اس کی بات سنتے وجدان کی آنکهوں میں لاوا ابلنے لگا تها اس کا دل کیا سب تہس نہس کر دے اس نے فون پکڑے زور سے مٹهی میں دبوچا اور اس کا سر سینے سے لگاتے چپ کروانے لگا جو ہچکیوں سے رو رہی تهی یہ بات وہی جانتا تها وہ کیسے کنٹرول کر کے بیٹها ہے ورنہ اس کا بس نہیں چل رہا تها کہ پوری یونیورسٹی ان پر گرا دے
“صبح میں خود چهوڑنے آوں گا مجهے بتانا کون تهے دوبارہ کسی کی ہمت نہیں ہو گی تمہیں تنگ کرنا تو دور دیکھ بهی جائے اور رونا بند کرو ورنہ تمہارا رونا مجھ میں مزید اشتعال برپا کر رہا ہے میں جان سے مار دوں گا ان کو…”
اس نے اس کے آنسووں صاف کرتے پیار سے کہا اور اس کے لیے گاڑی کا دروازہ کهولا اس کے بیٹهتے ہی خود کے غصے کو قابو کرتے وہ بهی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹها تها
“عائشہ مجهے ڈر لگ رہا ہے…”
آمنہ نے ڈر کر کہا
“صدا ڈرپوک ہی رہنا وہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے چلو چلیں ڈرائیور آ گیا ہو گا….”
عائشہ خود کے ڈر کو قابو میں پاتے بولی
“عالیاب بس کرو میری جان ورنہ ابهی واپس چلتے بتاو کون ہیں…”
وہ مسلسل اس کو روتے دیکھ گاڑی روکتے بولا
“نہیں رو رہی..”
وہ سوں سوں کرتے بولی تو وہ مسکرایا
“اچها میں رو رہا ہوں…”
وہ اس کے آنسووں کو انگلی کی مدد سے چنتے بولا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا تو وہ پهر سے مسکرایا
“اور ہاں دوسرا موبائل لے دوں گا…”
تو اس نے نفی میں سر ہلایا
“کیوں….؟”
“ٹهیک ہے پروٹیکٹر ٹوٹا ہے بس یا بیک کوور چینج کروا لوں گی…”
اس نے آنسووں صاف کرتے ہوئے کہا
“اچها پهر رونا بند کرو شاباش آج لنچ کرواتا ہوں باہر سے بہت گپ لگائیں گے ساتھ پهر گهر جائیں گے…”
اس نے اس کا موڈ فریش کرنے کے لیے کہا
“لنچ نہیں آئس کریم…”
وہ جلدی سے مطلب پر آئی تو اس نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلاتے گاڑی سٹارٹ کی تهی
