No Download Link
Rate this Novel
Episode 30
شادی کی پہلی صبح وجدان سکندر کے لیے نہایت خوشگوار ہونے والی تهی عالیاب اس کے پہلو سے اٹھ چکی تهی جب کہ وجدان ابهی تک خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہا تها وہ رات کو دیر تک گفتگو کرتے رہے تهے اور تقریباً تین چار بجے تک سوئے تهے لیکن عالیاب پهر بهی اٹھ گئی تهی
عالیاب واشروم سے نکلی اور بیڈ پر سوئے وجدان کو دیکها اس کے دماغ میں شرارت کی گهنٹی بجی تهی اور سائیڈ سے پانی سے بهرا جگ اٹهاتی وجدان کی جانب آئی اور نچلا ہونٹ دانتوں میں دبائے پورا اس کے اوپر انڈیل دیا تها وہ جو نیند کی وادیوں میں گم تها خود پر سیلاب آنے پر وہ ہڑبڑا کر اٹها
“شادی کی پہلی صبح مبارک….”
وہ دونوں ہاتھ اٹهائے ہنستے ہوئے بولی تو وجدان کو سب سمجھ آیا تو منہ کهولے حیرت سے اسے دیکهنے لگا جس کی شادی کی اگلی خوبصورت صبح کا آغاز ایسے ہوا تها
“سیریسلی عالیاب…؟”
وہ صدمے سے دوچار بولتا خود کے گلیے چہرے اور کپڑوں کو دیکها تها اور پیچهے دوبارہ گرا تها
“عالیاب ایسے کون کرتا ہے وہ بهی شادی کی پہلی صبح ہی….”
وہ منہ بنائے بولا تو اس نے خود کی جانب اشارہ کیا وجدان نے ہاتھ آگے بڑهایا جسے اس نے بنا دیری کیے تهاما تها وجدان نے ہاتھ کهینچتے اس کو پاس بیٹهایا
“تمہیں چاہیے تها خوبصورت صبح کا آغاز خوبصورت انداز میں کرتی…”
وہ اس کی گال کو چهوتے ہوئے بولا
“یہ بهی تو خوبصورت طریقہ ہی تها…”
وہ اس کے ماتهے پر چپکے گیلے بال پیچهے کرتے سنجیدگی سے بولی
“خوبصورت طریقہ تم کو میں بتاوں…”
وہ شوخ سے لہجے میں بولا
“کوئی بهی بدتمیزی کی تو یہ مار دونگی…”
وہ ہاتھ میں تهاما جگ اس کی جانب کرتے بولی تو اس نے آنکهیں چهوٹی کیے اسے دیکها
“ہاں پهر نیوز میں آئے گا کہ ایس پی وجدان سکندر اپنی شادی کی پہلی صبح ہی معصومانہ باتوں کی وجہ سے اپنی بیوی کے ہاتهوں قتل ہو کر سیدها جنت کی سیر کو نکل گیا افسوس عالیاب سکندر….”
اس کی دہایاں سنتے وہ کهلکهلا کر ہنسی تهی
“ایس پی وجدان سکندر اٹهیں اگر قتل نہیں ہونا تو…”
وہ ہنستے ہوئے اس کے پاس سے اٹهی وجدان نے بهی مسکرا کر اس کو دیکها تها اور خود بهی اٹھ گیا تها
…………………………………
“جاو دعا بیٹا بهائی اور عالیاب کو ناشتے کے لیے بلا لاو….”
پریہان آبریش میرب اور زرش نے ملازمین کے ساتھ مل کر ناشتے میں بہت سی ڈشز تیار کیں تهیں اور اب ٹیبل پر سجانے کے بعد پریہان دعا سے بولی تهی
“میں میسج کر دیتا ہوں مامی جان….”
ذوہان نے پلیٹیں الٹی کرتے موبائل نکالتے کہا تو پریہان نے نفی میں سر ہلایا جیسے خود سے کہ رہی ہو ان کا کچھ نہیں ہو سکتا
سب گهر کے ممبرز ناشتے کے لیے موجود تهے سوائے عالیاب اور وجدان کے تقریباً پانچ منٹ بعد وہ بهی بلند آواز میں سلام کرتے داخل ہوئے تهے سب نے مسکرا کر خوشدلی سے جواب دیا تها
“کیسی ہو میری بچی…؟”
شیرام نے عالیاب کو سینے سے لگاتے پیار سے پوچها
“میں نے کون سا ایک رات میں بچی کو دہشت گرد بنا دیا ہے….”
وی آخری بات منہ میں بڑبڑایا جو کہ شہرام نے بخوبی سنی تهی شہرام کے گهورنے پر اس نے دانت دیکهائے تو اور کرسی پر بیٹها تها پهر ان سب نے ناشتہ کیا اور اپنے اپنے کاموں میں جڑ گئے تهے ولیمہ بهی شام چار بجے کا تها اور اس کی اتنی تیاریاں نہ تهیں اسی لیے سب تسلی سے کام نبٹا رہے تهے
…………………………………
وجدان بیڈ پر نیم دراز ہوئے عالیاب کو کبهی کپڑے نکالتے کبهی شوز تو کبهی کچھ ایک جمع اکهٹے کرتے دیکھ رہا تها
“سکندر کتنے ریلیکس لیٹے ہیں آپ…”
وہ اس کو ریلیکس سا بیڈ پر نیم دراز دیکھ کر بولی تهی
“جانان ولیمہ ہے سکون سے تیار ہونگے کهانا کهائیں گے واپس کمرے میں آجائیں گے تم بهی ریلیکس رہو ایسے سمجهو جیسے ہمارا نہیں کسی اور کا ولیمہ ہو صرف کهانا کهانے ہی جانا ہے…”
وہ اس کی گهوریوں کو نظر انداز کیے بول رہا تها
“نکاح سے پہلے تک تو بڑے بےصبرے تهے آپ اور کل رخصتی کے لیے ابهی آپ دیکهیں کیسے کہ رہے ہیں کہ کسی اور کا ولیمہ سمجھ کر ریلیکس رہو…”
اس کی بات پر وہ زور سے ہنسا
“جانم جب من چاہی چیز مل جائے تو کسی اور کی خواہش کہاں رہتی ہے…”
وہ اسکو کو گہری نظروں سے دیکهتے بولا جو بنا اس کی بات کا مطلب سمجهے آنکهیں گهماتے اپنی جیولری ڈهونڈهنے لگی
“سکندر میری جیولری کہاں ہے…؟”
وہ پریشانی سے بولی
“یہی کہی ہو گی نہیں مل رہی تو کل والی پہن لو میں کیمرہ مین سے کہ کر اس کا کلر چینج کروا دوں گا پکس میں…”
اس کی بات سنتے وہ مکمل اس کی جانب مڑی اور کها جانے والی نظروں سے گهورا تها جو نظروں سے ہی اس کا ایکس رے کر رہا تها
“ہاں وہ تو دعا کے کمرے میں ہے…”
اچانک یاد آنے پر سر پر ہاتھ مارتے بولی اور اپنے کپڑے اٹهائے تهے
“کملی ہوئی پهرتی ہے میری بیوی شادی کے اگلے روز ہی…”
“اچها کپڑے نکال دیے ہیں تیار ہو جائیں میں اپنے پرانے کمرے میں جا رہی ہوں پارلر والی آتی ہو گی…”
وہ اس کو ہدایت دیتی کمرے سے نکلی تو وہ اوندهے منہ لیٹا تها
“سوچا تها اگلے روز بیگم کے ہاتهوں تیار ہونگا…”
وہ الماری کے باہر ہینگر پر ٹنگے اپنے سوٹ کو دیکهتے بڑبڑایا تها
…………………………………
وجدان تهری پیس میں ملبوس بالوں میں برش کرنے کے بعد داڑهی پر برش کرتا خود کو شیشے میں دیکھ رہا تها
“ہینڈسم لگ رہا ہے تو وجدان…”
وہ پرفیوم خود پر چهڑکتے بولا تها اور دروازے کو دیکها
“یہ بیگم کہاں رہ گئی…”
خود سے بڑبڑاتا فون اٹهایا تها اور اس کا نمبر ڈائیل کیا
دوسری جانب عالیاب جو حجاب کروا رہی تهی فون کی بیل پر اس جانب متوجہ ہوئی
“دعا دیکهنا کس کا فون ہے…؟”
اس نے شوز پہنتی دعا سے کہا تو اس نے فون اٹهایا تها
“بهائی کا ہے…”
وجدان کا نام جگمگاتا دیکھ وہ اس سے بولی
“اٹها لو….”
اس کے کہنے پر اس نے فون اٹهاتے کان سے لگایا تها
“جان من کتنا وقت لگے گا پهر تعریف کرنے میں بهی تو ٹائیم لگنا ہے سویٹ ہارٹ جلدی….”
وجدان جو اپنی رو میں ہی بول رہا تها دعا کے قہقے سے اس کی زبان کو بریک لگی اور فون کان سے ہٹائے دیکها کہ کہیں نمبر غلط تو نہیں ملایا لیکن عالیاب کا نمبر دیکھ کر اس نے دوبارہ کان سے لگایا
“بهائی میں دعا ہوں…”
ہنستی ہوئی دعا کی آواز سنتے وہ تهوڑا شرمندہ ہوا تها لیکن فورا خود کو سنبهالا
“یار تم لوگوں نے میری بیوی کو پاس ہی رکھ لیا ہے بهیج بهی دو میں مکمل تیار ہو گیا ہوں پهر میاں بیوی کے سو کام ہوتے ہیں جو کرنے ہوتے ہیں….”
وہ شرم ایک سائیڈ پر رکهتے بولا تو وہ پهر سے ہنسی
“بس تیار ہے آپ کی بیوی بهیج رہے ہیں…”
اس کی بات سنتے اس نے مسکرا کر فون کاٹا تها اور شوز پہننے لگا
…………………………………
“سکندر آپ بهی حد کرتے ہیں شرم کیا کریں….”
عالیاب کمرے کا دروازہ کهولتی اس پر چڑ دوڑی تهی وہ جو بیڈ پر بیٹها فون میں مگن تها سر اٹها کر اسے دیکها تنے عصاب ڈهیلے پڑے تهے اور بیڈ سے کهڑا ہوتا سینے پر ہاتھ باندهے اسے دیکهنے لگا جو انگوری رنگ کی میکسی اس پر اسی رنگ کا حجاب لیکن تهوڑا ڈارک میں ولیمے کی مناسبت سے میک پر چہرے خفگی اور غصے کے ملے جلے تاثرات وہ سیدها اس کے دل میں اتر رہی تهی
“سکندر…”
اپنے نام کی پکار سنتے وہ اس کی جانب آیا اور اس کی کمر پر دونوں ہاتھ ٹکائے تهے
“تو کیا غلط کہا تمہیں دیکهنا تها کہ میری بیوی ولیمے میں کیسی لگ رہی ہے اس کی تعریف بهی تو کرنی تهی…”
وہ بنا اس کی خفگی کو نوٹ کیے اس سے کہتا اس کے ماتهے پر اپنے ہونٹ رکهے تهے اور آنکهیں موندتے خود کے اندر تک سکون بخشنے لگا عالیاب کا مکمل غصہ ہوا ہوا تها وہ بهی اس کے سینے پر ہاتھ ٹکائے اس کے لمس کو محسوس کرنے لگی
“سکندر چلیں…”
اس کا پرتپش لمس اب اسے جهلسانے لگا تو وہ وہ بولی تهی
“ہاں موم کا فون آیا تها سب مہمان آچکے ہیں ہمارا انتظار ہے….”
وہ پیچهے ہوتے بولا تها
“چلیں…”
اس نے اپنا بازو اس کی جانب کیا جس میں سے اس نے اپنا بازو گزارا تها اور دونوں کمرے سے نکلے تهے
…………………………………
“تکدے ہی رہیے تینوں
نیناں نوں صبر نہ آوے
نینداں فیر کیتهوں آون
جے تیری کوئی خبر نہ آوے
مینوں پیڑ چو کلی کیتا اے
تیری لوڑ نے ٹلی کیتا اے
مہکن ہون لگیا اے
تیرے عشق دا بوٹا”
وجدان اور عالیاب کے زینے اترتے ہی سب ان کی جانب متوجہ ہوئے تهے دونوں پر رج کر روپ آیا تها دهیمی آواز میں چکتا میوزک سب کے دل کے تار چهیڑ رہا تها
“توں شے ہوویں کوئی دنیا دی
تینوں مٹهی دے وچ بند کر لاں
تیرے لئیے پینا پے جاوے
زہر نوں وی میں کهنڈ کر دیواں
مینوں ایناں نہ تڑپایا کر
کردی شہر میرے وی آیا کر
اب اور نہ کر برباد مجهے میرا صبر ہے ٹوٹا”
گانے کے اس بول کی آخری لائن پر وجدان کے لب مسکرائے تهے بالکل وہ برباد ہو چکا تها ہر وہ شخص برباد ہو جاتا ہے جسے عشق یا محبت نے گهیر لیا ہو یہ دیمک کی طرح ہوتی ہے اس کا مل جانا حددرجہ ضروری ہے ورنہ یہ انسان کو دهیرے دهیرے ختم کر دیتی ہے
“ذوہان اتنا فوٹو شوٹ کافی ہے…”
وہ دهڑا دهڑ ہوتے فوٹو شوٹ سے اکتا کر بولا تها
“صبر کر جا بهائی…”
وہ فون پر میسج دیکهتا اسے بولا جو خود بهی تهری پیس میں ایک شان و شوکت سے اس کے ساتھ کهڑا تها جو اب فون ہر ہوتی کال کی وجہ سے دوسری جانب گیا
“میوزک کیوں بند کیا ہے…؟”
میوزک بند ہونے پر پارس بولا تو انہوں نے دوبارہ سے میوزک چلایا تها
ذوہان کی نظریں فون سنتے ہوئے کسی کی متلاشی تهیں لیکن تلاش سامنے کرسی پر بیٹهی تعبیر کو دیکهتے ختم ہوئی تهی وہ اسے دیکهنے لگا جو آج گرین ویلوٹ کے فراک کو اپنے جسم کی زینت بنائے ہوئے تهی
تعبیر کی نظریں بار بار اس کی جانب آرہی تهیں لیکن وہ جانتی تهی ذوہان اسی کو دیکھ رہا ہے لیکن اس کی نظریں بهی بهٹک کر اس کی جانب جا رہیں تهی آخر اس کی نظر بهی اس پر ٹک گئی تهی
“تینوں گل نال لانا کی ہوندا
باہاں تو پوچھ لا
تیتهوں کہو بنا نہیں جی ہوندا
ساہاں نوں پوچھ لا
مینوں میتهوں کهو کے لے جاویں
عمراں لئی کول ہی رہ جاویں
میں دهواں بن جاوں تیرے لئیے میرا لاویں سوٹا”
تعبیر کی نظروں تب شرمندگی جاگی جب ذوہان نے اس کو آنکھ ماری تهی وہ خود کی وجہ سے حد سے زیادہ شرمندہ ہو گئی تهی اسی لیے خود کو کوستی دوسری جانب نظریں کیں تهی ذوہان فون ہٹاتے ان کی جانب گیا تها خود کی جانب آتے دیکھ تعبیر کو کسی گڑبڑ کا احساس ہوا تها
“السلام و علیکم مس روحا…”
ذوہان نے تمام تر تمیز سمیٹتے روحا سے کہا جس کا جواب اس نے نہایت خوش اخلاقی سے دیا تها
“یقیناً آپ کے ساتھ ساتھ دوسرے لوگ بهی کمفورٹیبل فیل کر رہے ہونگے…”
وہ روحا سے کہتا ایک سرسری نظر اس پر ڈالتے بولا جس نے دانت کچائے تهے
“کوئی کمفورٹیبل ہو نہ ہو ہم کیا کر سکتے ہیں ان کے تو نخرے ہی ختم نہیں ہونگے…”
روحا کی بات پر جہاں ذوہان ہنسا تها وہاں تعبیر منہ کهولے اسے دیکهنے لگی جو اس کی ہی بہن تهی
“خیر انجوائے کریں اور ان کمفورٹیبل فیل کرنے والے لوگ بهی انجوائے کرنے کی کوشش کریں…”
وہ دل جلا دینے والی مسکراہٹ پیش کرتا وہاں سے چلا گی جب کہ روحا نے بهی مسکراہٹ دبائی تعبیر نے خفگی سے اپنی بہن کو دیکها ہهر اپنے موبائل میں مگن ہو گئی تهی
…………………………………
“لیڈیز اینڈ جینٹل مین السلام و علیکم….”
سب جو اپنی باتوں میں مگن تهے پارس کے مائیک پر بولنے پر سب اس کی جانب متوجہ ہوئے
“یہ کیا کرنے والا ہے….؟”
ذوہان جو عالیاب کے ساتھ بیٹها پکس کهینچ رہا تها وجدان سے بولا تها
“سب متوجہ ہو جائیں…”
“بهائی سب متوجہ ہی ہیں…”
سعد بولا تها
“یہ تو سپیکر چیک کرنے کے لیے کہا تها…”
وہ دانت دیکهائے بولا تها تو سب مسکرا اٹهے تهے
“وجدان بهائی آپ نے کہا تها کہ میں نے کوئی سرپرائز نہیں دیا…”
اس کے کہنے پر اس نے اثبات میں سر ہلایا
“ایسا ممکن نہیں کہ پارس احتشام اپنی کیوٹ سی بہن پلس دوست پلس کزن اور پیارے بهائی کی شادی پر انہیں کوئی سرپرائز نہ دے میرے پاس سرپرائز ہے…”
وہ خوشی سے چہکا تها
“اوئےے غدار کون سا سرپرائز ہے جو ہمیں نہیں بتایا…”
ذوہان نے گهورتے ہوئے کہا تو وہ کهسیانی ہنسی ہنسا تها
“زوایار پلے کرو…”
وہ مائیک میں ہی بولا تو سب نے ناسمجهی سے اسے دیکها
“یہ الو کا پٹها کیا کرنے والا ہے…؟”
احتشام بڑبڑایا تها
“تمہارا بیٹا ہے کچھ انوکها ہی چن چاڑے گا….”
شیرام اردو پنجابی مکس کرتے ہنستے بولا تو وہ بهی ہنسا ایک دم سے سب لائیٹس بند ہوئیں تهی اور سامنے وال پر سکرین کی روشنی نمایا ہوئی تهی اس روشنی نے سب کی نظروں کا رخ اپنی جانب کیا تها
سکرین پر سب سے پہلے احتشام رامز شہرام اور مصطفی کی جوانی کی تصویر جگمگائی تو پورے لاونچ میں شور سا اٹها تها اس کے بعد آبریش زرش پریہان اور میرب کی تصویر جگمگائی تهی جو وشما کی شادی کی تهی ایک بار پهر سے شور اٹها تها ایک دم سے سکرین بند ہوئی اور پهر چلی تو صائم کی تصویر جس میں وہ شلوار قمیض میں ملبوس شہرام کے ساتھ کسی بات پر ہنس رہا تها اس تصویر کو دیکهتے نم ان کی آنکهیں نم ہوئیں تهی وہ نم آنکهوں سے مسکرا اٹهے تهے
اس تصویر کے بعد وشما اور خاور کی شادی کی تصویر تهی اب کہ عالیاب کی آنکهیں بهی نم ہوئیں تهی
“مما…”
وہ ہولے سے بولی تو وجدان نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے دبایا اور نظریں دوبارہ سکرین کی جانب متوجہ کیں جہاں اب شہرام پریہان آبریش مصطفی ان سب کی شادی کی پکس چل رہی تهیں ساتھ ہلکا ہلکا شور بهی اٹھ رہا تها
اب اگلی تصویر وجدان اور عالیاب کی تهی جس میں وہ اس کی کمر میں ہاتھ ڈالے کهڑا اس کے کان میں جهکا کچھ کہ رہا تها اور وہ چہرہ جهکائے مسکرا رہی تهی وہ پک بارات کی تهی اس بار شور کچھ زیادہ تها پورے لاونچ میں ہوٹنگ ہوئی تهی سکرین پر اب فیملی پک نمودار ہوئی تهی
اور پهر سب سے اخر میں مصطفی کی شادی پر گایا گیا شہرام کا گانا بجا تها گانے کو سنتے شور اس قدر بلند تها کہ سکرین پر چلتے گانے کی آواز کم محسوس ہوئی تهی گانا ختم ہوتے ہی سکرین بند ہوئی اور لائٹس جلیں تهی
مصطفی نے ہنستے ہوئے شہرام کے گرد بازو حمائل کیا تها
“واہ پارس کیا دن یاد کروا دیے….”
رامز نے مسخراتے ہوئے کہا تو اس نے سینے پر ہاتھ رکهتے سر کو خم دیے ہر جانب سے تعریف قبول کی تهی
“دهوکے باز…”
سعد کی آواز پر قہقے گونجے تهے
“تیرے دهوکے نے سجنا مینوں مار مکایا
میں مر تے گئی آں فر سا کیوں ہے آیا”
ذوہان نے چهوٹے آنسوؤں صاف کرتے کہا ایک بار پهر سے قہقے گونج اٹهے تهے تعبیر کے ہونٹ بهی اس فیملی کی ہر حرکت کو دیکھ کر مسکرا رہے تهے کتنا پیار تها ان میں وہ دیکھ چکی تهی
“ڈیڈ….”
وجدان نے شہرام کو پکارا تها تو اس نے اس کی جانب دیکها تها
“پارس نے تو یادگار لمحے تازہ کیے کیوں نہ آپ بهی کچھ لمحے تازہ کر دیں…”
اس کی بات پر اس نے ناسمجهی سے دیکها
“کیوں نہ ایک گانا ہو جائے آپ کی آواز میں….”
وجدان کی فرمائش پر سب نے وجدان کا ساتھ دیا تها
“ارے نہیں یار ایک عرصہ ہوا گانا گائے اب تو آواز کم پهٹا سپیکر زیادہ ہو گیا ہو گا….”
اس نے انکار کرنا چاہا
“یار شہرام شرماو مت گاو پری کو ایمیجن کر کے ہی…”
مصطفی پریہان کو دیکهتے اس کو چهیڑتے ہوئے بولا تو وہ ہنسا تها
“پارس جاو ماموں کے کمرے سے گٹار لاو…”
سعد نے پارس سے کہا تها پارس اثبات میں سر ہلاتا فورا کمرے کی جانب گیا
“ارے یار میرے سے اب گٹار نہیں بجنا…”
“کم اون شہرام….”
رامز بهی بولا تها اتنے میں پارس گٹار لے آیا تها کہیں شہرام کہیں ڈیڈ کہیں ماموں کے نعرے لگنا شروع ہوئے تهے تو اس نے گٹار تهامتے بجانا شروع کیا تها پہلے سہی نہ بجنے پر وہ رکا تها اور نفی میں سر ہلایا
“اگین ڈیڈ پلیز…”
وجدان اس کو رکتے دیکهتے بولا تو اس نے دوبارہ بجانا شروع کیا اس بار تار سہی جڑ گئے تهے پورے لاونچ میں خاموشی پهیل گئی تهی صرف گٹار کی آواز تهی
“ساری دنیا سے جیت کے میں آیا ہوں ادهر
تیرے آگے ہی میں ہارا کیا تو نے کیا اثر
میں دل کا راز کہتا ہوں
کہ جب جب سانسیں لیتا ہوں
تیرا ہی نام لیتا ہوں
یہ تو نے کیا کیا”
شہرام پریہان کو دیکھ کر گا رہا تها اتنا سا گاتا رکا تها اور گٹار بهی رکا اس کے رکتے ہیں سعد پارس وجدان ذوہان اور کچھ اور لڑکوں نے سیٹیاں ماریں تهے پورے لاونچ میں تالیاں گونجیں تهی مصطفی نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگایا تها
…………………………………
وجدان اور دعا کهڑے کیمرہ مین سے پکس کهینچوا رہے تهے ذوہان بهی تها لیکن احتشام کے بلانے پر وہ دوسری جانب گیا تها عالیاب بیٹهی خاور سے وڈیو کال پر بات کر رہی تهی
“تم خوش کو سعد بهائی کے ساتھ…؟”
اس کے اچانک سوال پر وہ چونکی اور پهر مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا
“جب اسلامہ باد آیا تها تب اس لیے نہیں پوچها کیونکہ تب ابهی اتنا وقت نہیں ہوا تها میں نہیں چاہتا تها میرے اس سوال پر تم کشمکش کا شکار ہوتی اسی لیے اب پوچها کیونکہ میں دیکھ سکتا ہوں سعد بهائی کی وجہ سے تمہارے چہرے پر خوشی…”
وہ اس کے کندهے کے گرد بازو حمائل کرتے بولا
“آپ کا سب کا فیصلہ بہت اچها تها میں بہت خوش ہوں سعد بہت خیال رکهتے ہیں مجهے…”
وہ دهیرے سے بولی تهی
“تم خوش میں بهی خوش…”
وہ اس کا ماتها چومتے بولا تها
“کچھ ہمارے لیے بهی چهوڑ دے بهائی….”
سعد کی آواز پر وہ دونوں چونکے اس کی طرف دیکها جو اب ان کو مسکرا کر دیکهتا سٹیج پر چڑهتا عالیاب کے ساتھ بیٹها تها یہ دونوں بهی مسکراتے سٹیج پر چڑهے تهے
…………………………………
“اس بیغیرت نے تمہیں کیا منہ دیکهائی میں دیا ہے….؟”
ذوہان بیٹهے ہوئے وجدان اور عالیاب کے پیچهے کهڑا صوفے پر دونوں کہنیاں ٹکائے اگے کو ہو کر پوچها تها
“چین دی تهی…”
“دیکهاو…”
اب کہ اس کے ساتھ بیٹهی دعا بولی تهی
“وہ کمرے میں رہ گیا مجهے بهول گیا….”
وہ اداسی سے بولتی وجدان کو دیکها جو اس کی بات سنتے خفگی سے اسے دیکھ رہا تها پهر مسکرا دیا
“کوئی بات نہیں…”
وہ اس کی گال کهینچتے بولا تها
“تم دونوں ایسے ہی ہمیشہ خوش رہو…”
ذوہان پیچهے سے ہی عالیاب کے کندهے پر ہاتھ رکهتا اس کا سر چومتے بولا تها اور وجدان کے بالوں میں ہاتھ پهیرا تها تو وہ مسکرائے تهے لیکن کوئی تها جسے عالیاب کے سر پر پیار کرنا اچها نہ لگا تها وہ ناچاہتے ہوئے بهی ذوہان پر نظر رکهے ہوئے تهے اس کی آنکهوں میں مرچی سی لگی تهی
وجدان نے پارس کی کسی بات پر قہقہ لگاتے سامنے دیکها لیکن سامنے سے آتی ہستی کو دیکهتے اس کے قہقے کو بریک لگی تهی چہرے پر سختی سی چهائی تهی کیونکہ سامنے ہی داور خان اور کاکا آرہے تهے کاکا کے ہاتھ. میں پهولوں کا گلدستہ موجود تها
“یہ یہاں کیا کر رہا ہے….؟”
وہ ہولے سے بڑبڑایا
“کیا ہوا بهائی تم نے کچھ کہا…؟”
اس نے اس کو بڑبڑاتے دیکھ پوچها اس سے پہلے وہ کچھ بولتا داور اور کاکا سٹیج پر چڑهے تهے وہ سب ان کے چڑهنے پر ان کی جانب متوجہ ہوئے ذوہان بهی سیدها ہو کر کهڑوا ہوا تها
“بہت بہت مبارک ہو مسٹر ایس پی وجدان سکندر….”
داور کاکا سے گلدستہ لیتا وجدان کی جانب بڑهاتے بولا جس نے کهڑے ہو کر وصول کیا تها اور اس کے ہاتھ بڑهانے پر وجدان نے تهاما تها وہ یہاں کسی کو بهی کسی صورت کسی قسم کا شک نہیں کروانا چاہتا تها کیونکہ اس کے باپ کی نظریں بهی یہاں تهیں وہ کاکا کو پہچان گیا تها ویسے بهی داور خان کو کون نہیں جانتا تها
“مبارک ہو مسسز وجدان سکندر….”
وہ اب کہ بار عالیاب کی جانب دیکهتے مسکرا کر بولا عالیاب زبردستی مسکراتے چہرہ جهکا گئی اور وجدان کا دل کیا اس کی آنکهیں نوچ لے جس سے اس نے اسکی عالیاب کی جانب دیکها اور ہونٹ زخمی کر دیں جن سے وہ اسے دیکھ کر مسکرایا تها
“جزاک اللہ داور خان آپ کی آمد خوشی کا باعث بنی ان شاءاللہ یہ آمد خیر پر مبنی ہو گی….”
وہ چباتے ہوئے بولا
“بالکل ہر بری نظر سے بچو دونوں…”
وہ پہلے وجدان پهر عالیاب کو دیکهتے بولا تو وجدان عالیاب کے سامنے کهڑا ہوا تها اس کی حرکت پر ان کو حیرت ہوئی تهی سوائے داور کے
“جی ہاں میں حفاظت کرنا بخوبی جانتا ہوں اور بری نظروں کو نوچنا بهی میری چیزوں پر نظر رکهنے والی کی آنکهیں نکالنا بهی جانتا ہوں….”
وہ دلکش مسکراہٹ چہرے پر سجائے بولا تو اس کی بات کے پیچهے چهپا مفہوم سمجهتے وہ بهی دهیرے سے مسکرایا
“فکر مت کرو جب ایسی کوئی نوبت آئے گی تم داور خان کو خود کے ہمدم پاو گے وہ اپنے دوستوں کے ساتھ ہمیشہ مخلص رہتا ہے….”
“اتنے برے دن نہیں آئے داور خان کے وجدان سکندر کو اللہ کے علاوہ کسی کی ضرورت پیش آئے…”
اس کی مسکراہٹ میں رتی برابر فرق نہ آیا تها البتہ داور خان کی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں سے نوچ گیا تها لیکن وہ پهر بهی زبردستی مسکرا رہا تها
“اتنا گهمنڈ اچها نہیں…”
اس کی بات پر وجدان نے کندهے اچکائے
“اچها خیر کهانا کها کر جاو گے یا ابهی….”
اس نے معصومیت سے کہا تو اب کہ اس نت دانت پیسے تهے
“نہیں مسٹر وجدان مجهے کام ہے چلتا ہوں…”
وہ مصافحے کے لیے ہاتھ آگے بڑهاتا چباتے ہوئے بولا جسے اس نے دلکشی سے تهاما تها
“کهانا کها کر جاتے تو اچها لگتا خیر جیسے مرضی…”
اس نے ہاتھ ملانے کے بعد کہا تو ایک نگاہ اس پر ڈالتا سٹیج سے اترا تها اس کا ارادہ مختلف تها البتہ وجدان سکندر نے اس کے ارادوں کو ڈهیر کیا تها اس کا ارادہ وجدان کو شرمندہ کرنا تها البتہ وہ خود ہو گیا تها
…………………………………
“دعا بیٹا جاو کچن میں پهولوں کی تهال ہے وہ لاو….”
پریہان کی آواز پر وہ جی اچها کہتی کچن کی جانب چل دی لیکن وہاں پہنچنے پر سعد کو کچن کے دروازے پر کهڑا پایا جو پریہان کی بات سنتا پہلے یہاں پہنچ چکا تها
“آپ یہاں کیا کر رہے ہیں…؟”
وہ اس کے پاس سے گزرتے ہوئے بولی تو سعد نے ہاتھ پکڑ کر کهینچا تها اور خود کے سامنے کرتے قریب کیا
“کیا کرتے ہیں سعد چهوڑیں مامی جان نے پهولوں کی تهال منگوائی ہے…”
وہ اس کے ہاتھ کمر سے ہٹانے کی کوشش کرتے بولی
“یار میری جان پرسوں بهی مجهے ٹائیم نہیں دیا کل بهی نہیں اور اج تو بالکل تم نے اپنے شوہر کو بهی نہیں دیکها اپنا دیدار تو دور کی بات….”
وہ خفگی سے بولتا اس کے حجاب پر انگلی پهیری تهی
“مجهے کام تهے اسی لیے….”
“کام مجھ سے زیادہ ضروری تهے….؟”
اس کے پوچهنے پر اس نے فوراً سے نفی میں سر ہلایا
“تو پهر….؟”
اس سے پہلے وہ کچھ کہتی پریہان کی آواز آئی تهی اس نے سعد کے کندهے سے سر نکالتے پیچهے دیکها اور آنے کی آواز کی تهی
“سعد چهوڑیں مامی بلا رہی ہیں…”
وہ پهر سے خود کو آزاد کروانے کی کوشش کرتے بولی
“یار نہیں مت جاو بس میرے پاس رہو….”
وہ گرفت مزید سخت کرتا بضد ہوا
“چهوڑیں سعد….”
اس نے دوبارہ کہا تو سعد نے نفی میں سر ہلایا
“پلیز سعد ضد مت کریں….”
وہ تهک ہار کر بولی تو سعد نے کچھ پل اس کی آنکهوں میں دیکها ہهر ایک جهٹکے سے چهوڑا کہ وہ گرتے گرتے بچی تهی
“سس-سعد….”
اس نے اس کے اس ردعمل سے گهبرا کر اس کا نام پکارا
“جاو پلیز دعا…”
اس کا لہجہ اس کو حددرجہ دکهی لگا تها
“مم-میری بات…”
اس سے پہلے وہ اس کی جانب بڑتی سعد کچن کے اندر گیا اور کچن میں نظر دوڑائی اس کو شیلف پر مطلوبی چیز ملی اس نے پهولوں کی تهال اٹهائی اور اس کی جانب آتے اس کے ہاتھ میں تهمائی
“اب جاو…”
دعا نے اسکی شکوہ کناہ آنکهوں میں دیکها تها
“آئی ایم سوری سس-سعد میرا….”
وہ گهبرا گئی تهی اس کی ناراضگی سے
“جاو سمجھ میں نہیں آرہی ایک بات…..”
وہ اس کی بات بیچ میں ٹوکتا دهاڑا تها کہ وہ ڈر کر پیچهے ہوئی اور سعد کے غصے زدہ چہرے کو دیکهتی وہ دو سیکند میں وہاں سے فرار ہوئی تهی پیچهے سعد نے اس کے نظروں سے اوجهل ہوتے ہی کچن کی سائیڈ پر لگے سرخ پردوں کو ہاتھ میں لیتے مڑوڑا تها اور دیوار میں مارا تها لیکن پردے لگے ہونے کی وجہ سے وہ دوبارہ کهل کر لہرانے لگے تهے
…………………………………
ہر جگہ کهانے کا دورا شروع تها سب گارڈن میں سجے ٹیبلوں پر بیٹهے کهانے سے رغبت حاصل کر رہے تهے جیسے جیسے کهانا کهاتے شہرام مصطفی رامز اور احتشام ان میں سے کسی سے بهی مل کر اجازت لیتے وہاں سے چلے جاتے ویسے بهی تقریباً سات بج چکے تهے
مہمانوں کے جانے کے بعد اب گهر والے کهانا کها رہے تهے اور تهوڑی دیر باتیں کرنے کے بعد سب تقریباً آٹھ یا ساڑهے آٹھ اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے تهے کیونکہ سب ہی تهکن سے چور ہو گئے تهے اب سب ہی آرام کا ارادہ رکهتے تهے
…………………………………
دعا بیڈ پر بیٹهی کب سے اپنے برابر پر کچھ فاصلے پر لیٹے سعد کو دیکھ رہی تهی جو آنکهوں پر بازو رکهے اس کی موجودگی کو بالکل فراموش کیے لیٹا ہوا تها اور اس میں بهی ہمت نہ تهی وہ اس کو ہلا یا بلا سکے لیکن کب تک اب ہمت تو کرنی تهی نہ اس کی وہ اس کی جانب کهسکی تهی
“سعد…”
اس نے اس کے سینے پر ہاتھ رکهتے دهیرے سے پکڑا لیکن سعد نے دوسرے ہاتھ سے اس ہاتھ دور کیا تها اس کی بےرخی پر اس کی آنکهیں نم ہوئیں تهی
“دعا اگر ایک آنسووں بهی گرا نہ تو انجام دیکھ لینا اپنا…”
وہ آنکهوں پر بازو رکهے ہی بولا تو وہ چونکی پهر آنکهیں رگڑیں تهی لیکن وہ بار بار نمکین پانی سے بهر جاتیں اور پهر آخر کار آنکهوں سے آنسووں گال پر پهسلے تهے
“سعد آئی ایم سوری…”
اس کی نم آواز سنتے اس نے آنکهوں سے ہاتھ ہٹایا اور اس کی نم آنکهوں کو دیکهتے بیڈ سے اٹها تها اور پیروں کی جانب پڑی اپنی قمیض اٹهائی تهی اس کے ارادے جانتی وہ فوراً بیڈ سے اٹهی اور اس کی جانب آئی
“سعد مت کریں ایسے…”
وہ اس کی قمیض پکڑتے بولی وہ جو قمیض پہننے لگا تها اس کے ہاتھ رکے
“جو تم کرتی ہو اس کے برابر یہ کچھ نہیں…”
اس نے اپنی قمیض کهینچتے بےرخی سے کہا تو اس کو مزید رونا آی
“میرے جانے کے بعد اچهے سے آنسووں بہا لینا…”
وہ اس کو روتے دیکھ بولا تو اس نے سعد سے قمیض کهینچتے دور اچهالی تهی اور روتے ہوئے اس کے سینے پر مکے برسانے لگی اور پهر اس کے گرد ہاتھ باندهتی زوروشور سے رونے لگی تهی سعد اپنے ہاتھ اس سے دور پهیلائے اس کو روتے دیکھ رہا تها
اس کو چپ نہ ہوتے دیکھ اس نے اس کے گرد حصار باندها تها اور ایک ہاتھ سے اس کی پیٹھ سہلانے لگا
“اچها بس چپ بس اب نہیں رونا…”
وہ اس کی کمر سہلائے نرمی سے بولا تو اس کے رونے میں شدت ائی
“میری جان مت رو اور بس کرو چپ ہو جاو…”
وہ اس کے سر پر اپنے لب رکهتے بولا تو تقریباً دو منٹ بعد اس کے رونے میں کمی ائی تهی تو وہ سوں سوں کرنے لگی
“لو یو نہ سعد…؟”
وہ سر اٹها کر نم سرخ چہرے سے اس کو دیکهتے پوچهنے لگی
“ہاں لو یو لو یو میری جان لو یو بہت…”
وہ اس کے ماتهے پر شدت سے ہونٹ رکهتے بولا تو اس نے دوبارہ اس کے سینے سے سر ٹکایا تها
…………………………………
“وجدان مجهے عجیب فیل ہو رہا ہے….”
عالیاب ولیمے کے ڈریس میں موجود وجدان کا ہاتھ تهامے اس کے ساتھ فٹ پاتھ پر چلتے بولی
“اس میں عجیب کیا اپنے شوہر ساتھ ہو کسی غیر کے ساتھ تو نہیں…”
وہ اس کے ہاتھ پر دباو ڈالتا بولا تها
“مجهے ڈریس تو چینج کرنے دیتے…”
وہ منہ پهلائے سب کی نظریں محسوس کرتے بولی
“اگر روم میں جاتے تو دوبارہ نکلنا مشکل ہوتا….”
وہ شرارت آمیز لہجے میں بولا اس کی بات سنتے اس نے مسکراہٹ روکنے کے لیے نچلا ہونٹ دانتوں تلے دبایا تها
“ماموں جان مجهے بہت اچهے لگتے ہیں…..”
وہ کچھ توقف کے بعد کچھ سوچتے ہوئے بولی تو وجدان اس کی اس بات سے چونکا
“ڈیڈ کیوں اچهے لگتے ہیں اچانک کیسے خیال آیا…؟”
“پتا نہیں ایسے زہن میں آیا سب ماموں اچهے ہیں مصطفی ماموں رامز ماموں احتشام ماموں سب اچهے ہیں سب بہت پیار کرتے ہیں مجهے انہوں نے بہت خوشیاں دی ہیں مجهے آئی لو آل….”
اس کے لہجے سے جهلکتی محبت وجدان بخوبی محسوس کر سکتا تها وہ ہولے سے مسکرایا اور اس کے کندهے کے گرد بازو پهیلاتے واپسی گهر کی جانب قدم بڑهائے تهے
…………………………………
السلام و علیکم !کیسے ہیں سب…؟ تو فائنلی طبعیت کے ٹهیک ہوتے ہی دس دن بعد ولیمہ اسپیشل لکھ ہی لیا دراصل میں تو ٹهیک تهی لیکن بارات میں شرکت کرنے والے سب حضرات نے کهانا زیادہ کها لیا دلہا دلہن سمیت تو سب بیمار پڑے تهے اور ڈاکٹرز کے چکر لگا رہے تهے پهر میں نہیں چاہتی تهی کہ ولیمے میں مہمانوں کی بجائے ڈاکٹرز موجود ہوں اسی لیے بارات اور ولیمے میں اتنا گیپ ہو گیا
اچها خیر یہ بتائیں قسط کیسی لگی….؟ اور یہ بهی بتائیں کہ کوئی سین پہلے سیزن والا تو نہیں لکھ دیا…؟ ویسے تو میں نے بار بار پہلے سیزن کی شادی پڑهی تاکہ کوئی سین اس سیزن میں نہ لکھ دوں میں نے بہت احتیاط برتی ہے باقی آپ سب بتائیں کچھ لکھ تو نہیں دیا
اور بہت معذرت قسط کی دیری کی وجہ سے اپ سب کا رسپانس بهی اچها تها لیکن میری طبعیت نہیں ٹهیک تهی جس وجہ سے لکھ نہیں سکی ایک دو دن پہلے ٹهیک ہوئی تو ویسے ہی لکھ کر دے دی
