Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

وجدان ہونٹوں پر انگلی ٹکائے اپنی کرسی پر جهولتا بہت گہری سوچ میں مبتلا تها اور اسکی سوچ کا مرکز کوئی اور نہیں ذوہان تها وہ ذوہان سے بہت پیار کرتا تها ذوہان ہی کیا وہ اپنی فیملی سے بہت پیار کرتا تها ابهی وہ یہی سوچ رہا تها کہ محبوب اندر داخل ہوا
“سر آپ نے یاد فرمایا تها…”
وہ تابعداری سے بولا تو وجدان کا تسلسل ٹوٹا اور محبوب کی جانب دیکها
“وہ آگ جس نے لگائی اسکو ڈهونڈهنے کی ذمہ داری مجهے دی ہے داور نے….”
وہ اسکی جانب دیکھتے ہوئے بول
“تو سر اب کیا کریں گے آپ….؟”
اسنے ناسمجهی سے پوچها
“ایک دن کا وقت ہے محبوب تمہارے پاس جتنے بهی مجروم ہیں جنکے خلاف کسی نے کاروائی نہیں کی اور وہ آزاد گهوم رہے ہیں وہ فائلز نکالو اور ایسی فائل تلاش کرو جسکے خلاف کیسسز باقی کے مقابلے ذیادہ ہوں…”
وہ ہونٹوں کے نیچے انگلیاں ٹکائے بولا

“اور ہاں یہ چیک رکهو..”
یاد آنے پر اسنے چیک ٹیبل پر رکهتے ہوئے کہا
“تو کیا سر ایک اور تباہی….”
وہ مسکراتے ہوئے بولا
“نہیں محبوب ہر کام دماغ سے کرنا ہے خیر جتنا کہا ہے اتنا کرو….”
اسکی بات پر وہ اثبات میں سر ہلاتا باہر نکل گیا
وجدان نے پیچهے سر کرسی سے ٹکایا اور دونوں ہاتھ کی انگلیوں کو آپس میں پهنسایا تها

“یار ذوہان کیسے ہوگے تم….؟”
اسنے آنکهیں موندیں تهیں
“مس تعبیر حسن میں تمہیں جان سے مار دوں گا اگر میرا بهائی تمہاری وجہ سے تکلیف میں ہوا تو…..”
وہ غصے سے بڑبڑایا اور فون اٹهایا جو رنگ ہو رہا تها اور برو کالنگ لکها آرہا تها
“ہیلو ذوہان کیسے ہو…؟”
فون اٹهاتے ساتھ اس نے پوچها تها
“ہاں میں ٹهیک ہوں دراصل یار میں آج گهر نہیں آوں گا تم گهر سنبهال لینا کہ دینا کہ ہوسپٹل میں مصروف ہونگا….”
“کیا مطلب گهر نہیں آو گے ہوسپٹل میں تمہاری ڈیوٹی نہیں رات کی تم گهر آو گے سمجھے. …”
اسنے غصے سے کہا

“پلیز وجدان یار سمجھو بات کو….”
اسکی بےبس سی آواز گونجی
“کیا ہوا ہے بتاو برو میں آرہا ہوں ابهی کہاں ہو تم….؟”
اسنے پریشانی سے کہا
“فکر نہیں کرو میرے بهائی میں ٹهیک ہوں….”
“مجهے سکون نہیں آئے گا ذوہان مصطفی ملنا ہے مجهے میں آرہا ہوں ہوسپٹل….”
“فلحال برو ایک مریض کو چیک کررہا ہوں تم ایسا کرو کل ڈیوٹی پر جانے سے پہلے مجهے ہوسپٹل مل لینا…”
وہ اسکی فکر پر مسکرا اٹها تها اسکو یاد تها وہ اسکی تکلیف پر بچپن سے ہی تڑپ اٹهتا تها اگر دونوں کو ایک ساتھ بخار ہوتا تو وجدان خود کے بخار کو اگنور کرتا اسکی خدمت خاطر تواضع کرنے لگتا

“ٹهیک ہے کل ملیں گے خیال رکهنا گهر کہ دوں گا…”
اسنے گہرہ سانس لیتے ہوئے کہا اور پهر فون بند کیا تها کچھ پل ذوہان کو سوچتے اسنے فائل اٹهائی اور سوچوں کو جهٹکتے فائل دیکهنے لگا
…………………………………
تعبیر سیڑهیوں پر بیٹهی ناجانے کونسی سوچوں میں گم تهی کہ اسکی امی اسکے پاس آئی
“بیٹا تم آج واپس کیوں آگئی…”
وہ پریشانی سے پوچهنے لگیں
“امی آپی کو جس نے دهوکہ دیا جس نے آپی کے ساتھ زبردستی کرنا چاہی وہ کون تها…؟”
وہ سوالیہ نظروں سے دیکهتے ہوئے بولی تو ماریہ بیگم نے حیرت سے اس کی جانب دیکها
“تت-تم اچانک یہ سب کیوں پوچھ رہی ہو تعبیر…؟”
“بس بتائیں آپ وہ کمینہ انسان کون تها…..؟”
وہ کهڑے ہوتے ہوئے بولی
“مم-مجهے نہیں پتا بیٹا وہ کون تها…؟”
انہوں نے نظریں چرائیں تهی
“آپی کہاں ہے میں اسی سے ہی پوچھ لیتی ہوں…”
وہ اوپر سیڑهیوں کی جانب قدم بڑهاتے ہوئے بولی
“نہیں تعبیر رکو وہ بہت مشکل سے سنبهلی ہے مت پوچهنا اس سے…”
وہ اسکا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولیں
“تو آپ بتائیں امی پلیز….”
وہ منت بهرے انداز میں بولیں

“اسکو اس حال میں پہنچانے والا وجدان سکندر ہے…”
انہوں نے نظریں چرائیں تهی تعبیر کا مکمل دهیان وجدان کی طرف گیا تها
“نن-نہیں…”
وہ بڑبڑائی تهی
“امی وہ اا-ایس پی ہے اب….؟”
اسنے کسی احساس کے تحت پوچها
“ہاں بیٹا وہ اب ایس پی بنا ہے اسکا بات بهی ریٹائر ایس پی ہے شہرام ملک….”
وہ شکست خور لہجے میں بولیں
تو وہ ایک نظر اپنی ماں کو دیکهتی اپنے کمرے کی جانب گئی تهی اسکی امی پیچهے سے آوازیں دیتی رہ گئی لیکن اس نے ایک نہ سنی

“نہیں وجدان سکندر ذوہان کا بهائی نہیں ہو سکتا دنیا میں ہزار وجدان ہونگے اور ویسے بهی ذوہان کے والد کا نام مصطفی ہے….”
وہ لیپ ٹاپ کهولتے خود کو تسلیاں دے رہی تهی اور ایس پی وجدان سکندر سرچ کیا جس پر پہلے ہی وجدان کی تصویر آئی تهی اسنے دهڑکتے دل سے والد کا نام سرچ کیا تو بڑے الفاظوں میں ریٹائر ایس پی شہرام ملک لکها آیا تها
تعبیر کے دل پر کسی نے گهونسہ مارا تها مطلب اسکی آپی کو جهانسا دینے والا اور کوئی نہیں ذوہان مصطفی کا بهائی تها
“ذوہان تمہارا بهائی تها وہ اچها ہوا میں تمہارے جهانسے میں نہیں آئی ورنہ تم بهی اپنے بهائی کی طرح…..”
وہ بات ادهوری چهوڑتے سر ہاتهوں میں تهام گئی تهی
…………………………………
“پارس سمجها دو نہ یار اگزامز نزدیک ہیں….”
وہ پارس کو زور سے ہلاتے ہوئے بولی جو مصروف سے انداز میں اثبات میں سر ہلاتا گیم کهیل رہا تها
“یار عالی میری جان پڑهائی میں کیا رکها ہے….”
وہ موبائل کو ٹیڑها کرتے خود بهی ساتھ ٹیڑهے ہوتے ہوئے بولا
“اچها پارس دو اور دو کتنے ہوتے ہیں…”
وہ دونوں ہاتهوں کی انگلیاں اسکے سامنے کرتے ہوئے بولی
“چار…”
“تین اور تین کتنا ہوتا ہے….”
اسنے اب تین تین انگلیاں آگے کیں
“آٹھ آئی مین چھ….”
وہ مصروف سا بولا
“دیکهو کتنے زہین ہو سمجها دو نہ والا لیکچر پلیز…”
وہ اسکا بازو تهامے بولی

“کیا بات ہے کس بات پر منتیں ہو رہی ہیں…”
سعد بالوں میں ہاتھ پهیرتے عالیاب کے ساتھ صوفے پر بیٹهتے ہوئے بولا
“بهائی یہ سمجها نہیں رہا…”
وہ خفا سے بولتی اسکے سینے پر سر رکھ گئی
“کیا نہیں سمجها رہا…؟”
وہ اسکے سر پر پیار کرتے ہوئے بولا نظریں کسی کی متلاشی تهیں
“بهائی ہم یونیورسٹی گئے تهے پر میں نے اور دعا نے بهوک کی وجہ سے لیکچر مس کیا لیکن غلطی سے اس نے لے لیا اور اب یہ سمجها نہیں رہا…”
وہ اسکے سینے سے سر اٹهائے اسکی داڑهی پر ہاتھ رکهتے ہوئے بولی

“دعا کہاں ہے…؟”
وہ اسکو دیکهتے ہوئے پوچهنا لگا
“وہ چشمش بکس لینے گئی ہے…”
“اچها دعا آئے تو کمرے میں آجانا میں سمجها دوں گا…”
وہ اٹهتے ہوئے بولا
“میں بهی آجاوں…؟”
پارس موبائل پر گیم بند کرتے ہوئے بولا
“تم کیوں تم نے لیکچر نہیں لیا کیا….؟”
عالیاب نے گهورتے ہوئے کہا تو سعد بهی آئبرواچکائے پارس کو دیکهنے لگا
“لیکچر لینے اور سمجهنے میں بہت فرق ہے اگر میں نے سمجها ہوتا تو تم دونوں کو نہ سمجها دیتا پاگل…”
وہ دانت دیکهائے بولا تها
“سعد بهائی اسکی نظر اسکی ہونے والی منگیتر سے ہٹے تو کچھ سمجهے…”
وہ گهنٹہ منتیں کرنے کے بدلے اسکے بازو پر تین چار مکے برساتے ہوئے بولی
“آجاو تم بهی…”
وہ مسکرا کر بولا اور کمرے کی راہ لی پیچهے وہ دونوں بهی آپس میں لڑتے اسکے کمرے کی جانب جانے لگے
…………………………………
پوری فیملی سوائے ذوہان کے سب کهانا کهانے میں مصروف تهے اور ساتھ خوش گپیاں بهی لگا رہے تهے
“آبر ذوہان نہیں آیا اب تک تو اسے آجانا چاہیے تها….”
مصطفی ذوہان کو نا پاکر آبریش سے پوچهنے لگا
“بابا وہ ذوہان نے بتایا تها کہ ایمرجنسی ہے وہ رات ہوسپٹل میں ہی ہوگا تهوڑا کام ہے کل انشاءاللہ آجائے گا…”
وجدان تسلی بخش جواب دیتا کهانا کهانے لگا
“اللہ خیر کرئے…”
آبریش گہرہ سانس بهرتے بولی اور کهانا کهانے لگی

“وجدان کهانے کے بعد فری ہوکر مجهے کمرے میں ملو…”
سعد ہاتھ صاف کرتے ہوئے بولا زرش نے اپنے بیٹے کے چہرے کی طرف دیکها جو ہر تاثرات سے پاک تها
“جی بهائی فری ہوں آجاونگا…”
اسنے مسکرا کر کہا تو سعد اسکے بال بگاڑتا وہاں سے چلا گیا
“سعد آجکل بہت عجیب حرکات کررہا ہے رامز خیر تو ہے…؟”
مصطفی عالیاب پارس اور دعا کے اٹهنے کے بعد رامز سے بولا سب اسکی بات جانب متوجہ ہوئے تهے
“کیسی حرکات…؟”
شہرام کرسی پر ریلکس ہوکر بیٹهتے ہوئے بولا

“بہت سیریس بہت دنوں سے اسکا چہرہ مسکرایا نہیں دیکها اور گهر بهی کم ملتا ہے آفس میں بهی صرف کام کرتا ہمارے پاس نہیں آتا اور ایسی بہت سی باتیں….”
وہ رامز کو تفصیل بتاتے ہوئے بولا
“موم چاول ڈالیے گا…”
پریہان جو وجدان کے لیے پانی ڈال رہی تهی اسکی بات پر اثبات میں سر ہلایا اور چاول ڈالنے لگی

“ارے نہیں یار بس کام کر برڈن ہے اور کچھ نہیں…..”
رامز نے بات ہوا میں اڑانی چاہی
“بهابهی آپ بتائیں رامز تو نہیں بتائے گا کیا پریشانی ہے سعد کو بیٹا ہے وہ ہمارا بتائیں آپ…
وہ اب زرش سے مخاطب ہوا جو گڑبڑائی تهی
“رامز سس-سہی کہ رہے ہیں ایسا کچھ نہیں ہے…”
وہ زبردستی مسکرائے بولی

“کل مجهے سعد کہ رہا تها کہ اسکی کچھ میٹنگز میں اٹینڈ کرلوں اسنے اسلامہ باد جانا ہے…”
احتشام ہاتھ صاف کرتے ہوئے بولا
“ارے کچھ نہیں بےشک خود بیٹها کر پوچھ لیں بیٹا ہے وہ آپ سب کا…
رامز خود کو نارمل کرتے ہنستے ہوئے بولا تو سب خاموش ہوئے تهے وجدان بهی خاموشی سے کهانے کے ساتھ سن رہا تها
“میں چائے بناتی ہوں…”
میرب اٹهتے ہوئے بولی تو باقی برتن سمیٹنے لگے مرد حضرات بهی ایک دو باتوں کے بعد اٹھ گئے تهے
…………………………………
“اس قدر تیرے دل میں اتر جائیں گے کہ
تیری دهڑکنوں کا تسلسل بهی بگڑ جائے گا”

وجدان مسلسل سیگرٹ پهونکتا ماضی کی کچھ تلخ یادوں کو سوچتا جس اذیت سے گزر رہا تها وہ وہی جانتا تها ماضی میں بہت سے ایسے حادثات ہیں جن کو وہ چاہ کر بهی نہیں بهلا سکتا تها
“روحا دعا ابراہیم….”
وہ یہ تین نام بڑبڑاتا آنکهیں موند گیا تها

“پلیز وجدان….”
کسی کی روتی آواز اسکے کانوں میں گونجی تو وہ فوراً سے آنکهیں کهول گیا
“وجدان میں مر جاوں گی اگر تم نے یہ سب کیا….”
ایک اور سرگوشی گونجی وہ اردگرد دیکهنے لگا
“تم کہاں ہو گی روحا بہت تلاش کر چکا ہوں تمہیں ہزار میسجز ہزار کالز کے باوجود تم نے میرا فون نہیں اٹهایا نہ کس میسج کا جواب دیا…….”
وہ سلگتی ہوئی سیگرٹ کو مٹهی میں دباتے اور زور سے بند کرتے بولا انہی خیالوں میں اسے عالیاب کا خیال آیا تو پهیکی مسکراہٹ اسکے لبوں پر پهیلی تهی
“اپنی شادی سے پہلے روحا تمہیں ڈهونڈهنا چاہتا ہوں میں….”
وہ بڑبڑایا تها
“کیا تم زندہ ہوگی….؟”
وہ خود سے سوال کررہا تها
“جو کچھ ہوا کیا اسکے بعد تم زندہ ہوگی پلیز تمہاری سانسیں باقی ہوں ایک بار ملنا چاہتا ہوں…”
خود سے بڑبڑاتے اپنا فون نکالا اور ایک میسج روحا کے نمبر پر چهوڑا تها
…………………………………
وجدان ذوہان کے روم میں اسکی کرسی پر بیٹها ذوہان کا انتظار کررہا تها جو اسکو ویٹ کا کہتے ایک مریض چیک کرنے گیا تها وجدان اردگرد کا جائزہ لیتے اسکا فون اٹهایا تها جو وہ اسکے پاس ہی رکھ کر گیا تها
اسنے لاک کهولا اور گیلری کهولی تهی ایک فولڈر پرائیوٹ تها جس پر پاسورڈ لگا ہوا تها
“چار منٹ چهوٹے بهائی نے اس فولڈر میں ضرور تعبیر کی پکس رکهی ہونگی…”
ہنس کر کہتے باقی فولڈر دیکهنے لگا ایک فولڈر جس میں ہزار سے قریب پکس تهی اسنے وہ کهولا تو سب اسکی اور ذوہان کی تهیں سب پکس اوپر نیچے کرکے دیکها تو صرف ذوہان اور اسکی ہی تهیں چیک کرنے کے بعد واپس موبائل رکها تها اور کرسی پر سر ٹکائے جهولنے لگا کہ ذوہان اندر آیا

“بڑے پرائیوٹ فولڈر رکهے ہوئے ہیں…”
اسنے مسکراہٹ دبائے شیطانیت سے کہا تو اسنے گهورا اور دوسری کرسی اسکے پاس کهینچتے ہوئے بیٹها
“شرم نہیں آتی کسی کا فون چیک کرتے ہوئے…”
اسنے شرم دلانا چاہی تو وہ مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلا گیا تو وہ بیچارا محض گهور کر رہا گیا
“چائے کافی پیو گے…؟”
“تمہارے پیسوں کی یا مفت کی ہوگی…؟”
وہ آنکهوں میں شرارت لیے بولا اسکو گهورتا پاکر وہ ہنسا تها
“نہیں پینی چهوڑو ان باتوں کو بتاو کل کیا ہوا تها…؟”
وہ آگے ہوتے سنجیدگی سے بولا تو ذوہان گہرہ سانس لیتے سب بتانے لگا سب سننے کے بعد وہ اب وجدان کو دیکھ رہا تها جو ہاتھ کی مٹهی بنائے تهوڑی کے نیچے ٹکائے اسکو ہی دیکھ رہا تها

“اب کچھ بکو بهی…”
وہ اسکو خود کو مسلس تکتا پاکر جهنجهلا کر بولا
“کونسی گال پر تهپڑ پڑا تها ویسے…
وہ فل سنجیدگی سے بولتا ذوہان کو قہر چڑها گیا تها اور قہر آلود نظروں سے وجدان کو دیکهنے لگا جسکے چہرے پر زرا بهی شرارت کے اثرات نہ تهے
“وجدان میری بینڈ بجی پڑی ہے اور تم ابهی یہی اٹکے ہو کہ تهپڑ کونسی گال پر پڑا…”
وہ کها جانے والی نظروں سے گهورتے ہوئے بولا تو اسنے گہرہ سانس لیا

“تم مجهے اجازت دو ذوہان میں اسکو مجبور کردوں گا تم سے شادی کو….”
“اوو میرے بهائی مجهے زبردستی کا رشتہ نہیں چاہیے جب تک اسکا دل مطمئن نہیں ہوگا میں ایسا کچھ نہیں کروں گا…”
وہ اسکو ٹوکتے ہوئے بولا
“بهائی یہ نہ ہو اسکے مطمئن کے چکروں میں اسکو کوئی اور لے اڑے اور وہ ساری زندگی تیری محبت کو ہوس ہی سمجهتی رہے….”
وجدان کی بات پر وہ خاموش ہوا
“وجدان کم از کم حوصلہ ہی دے دیا کرو ہمیشہ دل دہلانے والی بات کرتے ہوئے…”
کچھ توقف کے بعد وہ مظلوم سی شکل بنائے بولا
“اور اسنے تجهے تهپڑ مارا ایک دن بهی سلاخوں کے پیچھے نہیں گزار سکتی اسکو سزہ تو ملنی چاہیے نا…”
“برو صبر رکھ اسکا رد عمل سوچ کے کچھ مطابق تها افسوس یہ کہ وہ میری محبت کو حوس سمجهتی ہے…”
وہ ہاتهوں کا پیالا بنائے اس میں منہ رکهتے ہوئے بولا
“یوں بیٹهنے سے کچھ نہیں ہوگا…”
وہ بهی اسی کی طرح بیٹهتے ہوئے بولا تو ذوہان نے منہ بنایا وجدان کے موبائل پر میسج کی ٹیون بجی تو اسنے موبائل چیک کیا جہاں ڈی ایس پی صاحب کا میسج تها اور وہ اسے ارجنٹ بلا رہے تهے

“چل بیٹا میرا بلاوا آگیا ہے ڈی ایس پی صاحب ارجنٹ بلا رہے ہیں تم نے تو چائے کافی پلائی نہیں اب خود کے پیسے ہی لگانے پڑیں گے…”
وہ اٹهتے ہوئے ٹهنڈی آہ بهرتے ہوئے بولا تو ذوہان نے گهور
“احسان فراموش…”
وہ اتنا ہی کہ سکا تو وجدان ہنستا ہوا اسکے گلے لگا اور گال کهینچتے روم سے نکلا تها ساتھ میں فون کان سے لگائے راہداری سے گزرنے لگا تعبیر جو سامنے سے آرہی تهی فورا ایک روم میں گهستی زرا سا سر نکالے وجدان کو دیکهنے لگی اسکی نظروں میں صرف نفرت تهی
“گهٹیہ شخص ناجانے اور کس کس کی زندگی برباد کی ہوگی اس نے…”
اسکی پشت کو دیکهتے تعبیر بڑبڑائی اور وہاں سے چلی گئی
…………………………………