No Download Link
Rate this Novel
Episode 33
صبح ناشتے کے بعد وجدان دعا اور سعد کو ایرپورٹ پر چهوڑنے گیا تها اور واپسی پر اس نے پولیس سٹیشن جانا تها جس کی خبر اس نے عالیاب کو نہ دی تهی کیونکہ اس نے سوچا ایک گهنٹہ ہی لگے گا اس کے بعد وہ سارا وقت عالیاب کے ساتھ ہی گزارے گا
وجدان پولیس سٹیشن آیا اور ٹارچر روم میں گیا جہاں ایک آدمی رسیوں سے بندها ہوا تها اس کے جسم پر جگہ جگہ زخم تهے جس میں سے خون رس رہا تها اور وہ نڈهال سا شاید بےہوش تها
“کچھ بولا…؟”
وجدان نے کڑی نظروں سے اس نڈهال سے بندهے آدمی کو دیکهتے محبوب سے پوچها تها
“نہیں سر…”
وہ شرمندہ سا بولا
“کہاں سے ملا یہ…؟”
“سر داور کے آدمی اسے مارنے والے تهے عین وقت پر ہم پہنچ گئے اور ان کا کام تمام کرتے اسے یہاں لے آئے اور کب سے اس کا منہ کهلوانے کی کوشش کر رہے ہیں…”
اس نے تفصیلی آگاہ کیا تها تو وجدان نے آگے اس کے پاس جاتے اس کو منہ سے دبوچتے اس کو منہ اٹهایا تها تو اس نے مشکل سے آنکهیں کهولتے اسے دیکها تها
“تم جیسے لوگ پولیس کے نام پر دهبا ہیں تم جیسے کتے جب تک ہمارے درمیان موجود ہیں داور جیسے کمینوں کو کبهی شکست نہیں ہو سکتی تم جیسوں کی وجہ سے اس کی اتنی جرات کے وہ اپنے کالے کام کالے دهندهے دور تک پہنچا چکا ہے…”
ہر ایک لفظ چبا کر کہتے اس کے منہ پر مکا جڑا تها کہ وہ درد کے باوجود ہنسا تها
“داور تمہیں زندہ نہیں چهوڑے گا ایس پی…”
“ہاں بالکل میں تو دشمن ہوں اس کا وہ میری جان کے پیچهے ہے لیکن تم تو اس کے پالتو وفادار تهے اس نے تو تمہیں بهی مارنے سے گریز نہ کیا چچچچ میرے آدمیوں نے ہی تمہیں اس سے بچایا افسوس…”
اس کی بات پر اس کی ہنسی کہیں غائب ہوئی کیونکہ وہ کہ تو سچ ہی رہا تها
“کیا چاہتے ہو…؟”
“تم غریبوں کا بهلا کر کے چند نیکیاں کما کر مرنا چاہتے ہو یا اپنے گناہوں میں مزید اصافہ کر کے مرنا چاہتے ہو صرف یہ پوچهنا چاہتا ہوں…”
“کیا مطلب…؟”
اس کی بات پر اس نے گہرہ سانس بهرا
“تم جو جانتے ہو سب بتاو گے آسان موت دوں گا لیکن اگر چوں چراں کی تو موت کو ترسو گے…”
“مم-میں کچھ نہیں آہہہہ…”
اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ایک اور پڑنے والے مکے سے وہ کراہ اٹها تها
“تمہارے پاس رات تک کا وقت ہے…
اس سے کہتا وہ محبوب کی جانب مڑا تها
“محبوب اگر یہ رات تک اپنا گندہ نالے جیسا منہ نہ کهولے تو ڈرل مشین سے اس کے پیٹ میں سراخ کر دینا اور مرنے سے پہلے اس کا اپریشن میرے خیال سے خود ہی کر لینا ویسے بهی اس دن تم کہ رہے تهے کہ تمہاری ڈاکٹر بننے کی خواہش تهی تو آزما لینا اس پر…”
اس کی بات سنتے وہ آدمی منہ کهولے وجدان کو دیکهنے لگا اور پهر اس کو باہر جاتا دیکھ چلا رہا تها لیکن وجدان نے اس کی کسی چینخ و پکار پر دهیان نہیں دیا تها محبوب اس کا منہ بند کرتا خود بهی وہاں سے نکلا تها
…………………………………
سعد اور دعا جہاز میں بیٹهے اس کے سفر سے (صرف سعد) لطف اندوز ہوتے اپنی منزل کی جانب گامزن تهے دعا بنا کسی کی موجودگی کا خیال کیے اس کے ساتھ چپک کر بیٹهی تهی ساتھ اردگرد کے لوگوں کو بهی دیکھ رہی تهی جبکہ سعد ایک بار سو کر بهی اٹھ چکا تها
“سعد یہ آپ کو دیکھ رہی ہے یا مجهے…؟”
دعا اپنے سامنے چشمہ لگائے بیٹهی لڑکی کو دیکهتے ہوئے سعد سے بولی جو اسے الجهن میں ڈال رہی تهی کہ اس کی نظریں دونوں میں سے کسے دیکھ رہی ہیں
“مجهے ہی دیکھ رہی ہو گی اس نے دوسری چشمش کو دیکھ کر کیا کرنا ہے ویسے بهی ہینڈسم بندہ ہوں کوئی بهی دیوانی ہو سکتی ہے….”
اسکے چشمش کہنے پر اس نے اپنا چشمہ درست کیا اور آخری بات پر آنکهیں گهمائیں
“میں تو دیوانی نہیں ہوئی آپ کے حسن سے…”
“تم تو چشمش ہو نہ اسی لیے سہی سے نظر نہیں آیا ہو گا میرا حسن…”
اس نے شرارت سے کہا
“تو اس چشمش کو آپ کا حسن کیسے نظر آرہا ہے…؟”
اس نے چشمے کے پیچهے سے ہی آنکهیں چهوٹی کیے کہا تها
“اس کی آنکهوں کی خوبصورتی…”
اس کی بات سنتے اس نے ہونٹوں کو گول کیا پهر اس لڑکی کو دی
“ہم ایک گهنٹے میں اسلامہ باد پہنچ جائیں گے…”
دعا نے اس لڑکی سے کہا تو اس لڑکی کے ساتھ ساتھ سعد بهی اس کی بےتکی سی بات سمجهنے کی کوشش کرنے لگا
“ایکسیوزمی واٹ یو مین…؟”
“آئی مین کہ دوبارہ آپ میرے ہسبنڈ کو دیکھ نہیں سکیں گی تو سوچ رہی ہوں آپ کے ساتھ ان کی پک بنوا دوں دیکهتی رہیے گا…
اس کی بات پر جہاں سعد نے مسکراہٹ دبائی وہاں وہ شرمندہ ہوئی جب کہ دعا سنجیدگی سے اس لڑکی کو دیکھ رہی تهی جو اب مکمل شرمندہ ہوتی وہاں سے اٹھ گئی تهی
“میری چشمش بڑی تیز ہو گئی ہے….”
وہ زور سے اس کی گال کهینچتے بولا تو اس نے اس کے سینے پر کہنی ماری تهی
…………………………………
وجدان گهر میں داخل ہوتا سب سے بچتا خاص کر عالیاب سے لائبریری میں داخل ہوا تها اور اندر سے لاک کرتے ایک بڑا سا شاپر ٹیبل پر رکهتے اس میں سے بہت سی چاکلیٹس نکالیں تهیں اس شاپر میں چاکلیٹس کے علاوہ اور بهی بہت سا سامان موجود تها وہ سب چاکلیٹس ٹیبل پر پهیلائے اب یہ سوچنے لگا ان کا کرئے کیا پهر ایک چاکلیٹ کهولتا خود کهانے لگا تها
پهر شاپر میں سے ایک ٹیڈی بیر نکالا جو نہ تو زیادہ بڑا تها نہ چهوٹا تها ان سب چاکلیٹس کو ٹیپ کی مدد سے اکهٹا کرتے اس نے اس ٹیڈی بئیر کے ساتھ باندها تها پهر شاپر سے مختلف بالونز نکالنے لگا
وہ جو بالون پهولانے لگا تها کہ پهلاتے ہوئے وہ اس کے منہ پر ہی پهٹا جس کی وجہ سے وہ زور سے اس کے ہونٹ پر لگا تها وجدان ہونٹ کو سہلاتے اب سفید رنگ کا بالون اٹهائے اسے گهورنے لگا
“دیکھ تجهے بڑے پیار سے خرید کر لایا ہوں اپنے پیار کے لیے اب یار تم مت پهٹنا….”
بالون کو دیکھ کر بڑبڑاتا اس کو پهلایا تها اور پهر ایسے ہی پانچ چھ بالونز پهلائے تهے اور پهر اپنے پلین کو ترتیب دینے لگا تها
…………………………………
وجدان مکمل تیاری کرنے کے بعد ٹیبل پر موجود اپنی تیاری کو دیکهنے لگا
“اب یہ چڑیل پتا نہیں کہاں ہو گی…؟”
وہ فون اٹهاتے عالیاب کا نمبر ڈائیل کرتے بڑبڑایا تها اور کان سے لگایا جو کہ تیسری بیل پر ہی اٹها لیا گیا تها
“جاناں کہاں ہو…؟”
“کمرے میں ہوں آپ کہاں ہیں….؟”
وہ بیڈ پر لیٹتے بولی تهی
“جاناں بس گهر پہنچنے والا ہوں اور کیا تم ہر وقت کمرے میں رہتی ہو نکلو کمرے سے…”
وہ آخر میں کسی روعب سے بولا تو اس نے فون کان سے ہٹائے حیرت سے فون کو دیکها پهر دوبارہ کان سے لگایا تها
“تو اور کیا کروں…؟”
“چاو اور اپنے سرتاج کے لیے چائے بناو نہیں چائے نہیں اس میں وقت کم لگے گا….”
اس نے پہلے حکمیہ انداز میں لیکن آخر میں خود سے بڑبڑایا لیکن اس کی بڑبڑاہٹ عالیاب نے نہ سنی تهی
“کیا سکندر آخر میں کیا کہا ہے…؟”
“کچھ نہیں جانم ایسا کرو میرے آنے تک اچهی سی میکرونی بناو یار بہت دل کر رہا ہے…”
وہ اپنی امڈنے والی ابکائی روکتے ہوئے بولا
“لیکن آپ کو تو پسند نہیں…”
اس نے مشکوک سی کہا
“لانت وجدان سکندر تیرے ایس پی ہونے پر لانت جو مجرموں کو گهروں سے ٹهوک ٹهوک کر باہر نکالتا ہے اب ایک بیوی کو کچھ وقت کے لیے روم سے نہیں نکلوا سکتا…”
وہ خود سے سوچتا گہرا سانس لیا
“کیا ہوا خاموش کیوں ہوئے ہیں…؟”
اس کو خاموش پاکر وہ بولی تهی
“ہاں نہیں میرا مطلب بس بیوی کے نرم و نازک ہاتهوں سے کهانے کا بہت دل ہے پلیز بنا دو اور آرام سے بنانا آدها گهنٹہ لگا کر بنانا زیادہ ٹائیم بهی لگے تو خیر ہے…”
خود کی کہتے بنا اس کی سنے اس نے فون کاٹا
“عجیب…”
فون کو دیکھ کر کہتی وہ بیڈ سے اٹهی تهی اور دوسری جانب وہ ہلکا سا دروازہ کهولے عالیاب کا کچن میں جانے کا ویٹ کرنے لگا
…………………………………
ذوہان ہوسپٹل سے جلدی فری ہو گیا تها تو کچھ شاپنگ کا سوچتے اس نے ہمیشہ کی طرح پہلے وجدان کو یاد کیا تها اور اسے فون ملایا تها
دوسری جانب وجدان جو کمرے میں سرپرائز کر رہا تها کہ بیڈ پر پڑا اس کا فون بجا تها وہ جو بیڈ پر کهڑا تها نیچے بیٹهتا فون اٹهاتے سپیکر کرتے دوبارہ اپنا کام کرنے لگا تها
“ہاں بڈی کیا ہوا…؟”
وجدان مصروف سا ہی بولا تها
“خیر تو ہے آواز ایسے آرہی جیسے مریخ سے بول رہے ہو….”
وہ گاڑی میں بیٹهتے ہوئے بولا
“بکواس ہو گئی ہو تو جلدی بول مصروف ہوں میں….”
“ہاں جی اب ہمارے لیے ٹائیم ہی نہیں….”
اس نے ٹهنڈہ آہ بهری تهی تو وجدان نے بیڈ پر پڑے فون کو گهورتے دیکها تها
“عرض کریں ڈاکٹر ذوہان مصطفی میرے کام ترس رہے ہیں آپ کی بکواس آئی مین آپ کے خوبصورت الفاظوں کو سننے کے لیے…”
اس کا طنز سنتے ذوہان ہنسا تها
“میں فری ہو گیا ہوخ تو شاپنگ کا سوچا اور یہ بهی سوچا کہ تجهے بهی بلا لوں مل کر چلتے ہیں…”
اس نے گاڑی سٹارٹ کرتے کہا تها
“سوری بٹ آئی ایم بزی…”
وہ ایک ایٹیٹیوڈ سے بولا تها
“کونسا مکهیوں کا کاروبار کررہا ہے جو بزی ہے…”
اس نے گاڑی روڈ پر ڈالتئ مزاق اڑایا تها
“عالیاب کے لیے سرپرائز کر رہا ہوں اسی لیے نہیں آسکتا….”
وہ بیڈ سے بالون اٹهاتے بولا تها
“ہائے شادی شدہ کہ آبادی میں شامل ہو گئے ہو تم اب تو تمہاری لائف بهی بچوں سے پہلے سرپرائز کرتے اور بچوں کے بعد پیمپر چینج کرتے ہی گزر جانی ہے….”
اس کی بات سنتے اس سے چاکلیٹس گرتی گرتی بچی تهیں
“منہوس انسان…”
اس نے بلند آواز میں کہا تها
“پتا نہیں ہم کب یہ سب کریں گے میرے بچے اپنے باپ سے پیمپر چینج کروانے کو بےتاب ہونگے…”
اس کی ٹهنڈی آہیں سنتے وجدان نے آنکهیں گهمائیں تهی
“ذوہان شاید میں نے کہا ہے کہ میں بزی ہوں اور اگر زیادہ بےتابی ہے تو ڈاکٹرنی کو لے جاو….”
اس کی بات سنتے اب منہ بنانے کی باری ذوہان کی تهی
“یار وہ آج آئی ہی نہیں…”
اس نے منہ بنا کر کہا تو وہ ہنسا اور بیڈ سے اترا تها
“ذوہان نے ارماں آنسووں میں بہ گئے….”
وہ اس کا مزاق اڑاتے دروازہ کهول کر باہر چیک کرتے بولا اور دروازہ لاک کرتے بیڈ کی جانب آیا تها
“اچها تم کرو سرپرائز بیسٹ اوف لک تمہارے لیے کچھ پسند آیا تو لیتا آوں گا…”
اس نے روڈ پر مکمل فوکس کرتے کہا جہاں ٹریفک زیادہ تهی وجدان نے بهی خدا حافظ کرتے کال کاٹی اور تیز تیز ہاتھ چلانے لگا تها
…………………………………
ذوہان ایک کے بعد ایک ڈریس دیکهتا اور ریجیکٹ کرتا اب شرٹس دیکهنے لگا تها کہ جانی پہنچانی آواز پر اس کو پہلے تو اپنا وہم لگا لیکن دوبارہ وہی آواز سنتے وہ پلٹا اور اپنے سامنے تعبیر کو دیکهتے اسے جتنی حیرت ہوئی اس سے دگنی حیرت اسے ایک لڑکے کے ساتھ دیکھ کر ہوئی تهی جلن کی لہر اس کے جسم میں دوڑی تهی
“تم بتاو تعبیر یہ کیسا ہے…؟”
وہ ایک گرئے کلر کا کڑتا اس کے سامنے کرتے بولا جس نے اثبات میں سر ہلایا تها
“ہر چیز میں خود سلیکٹ کر رہا ہوں تم کچھ بول ہی نہیں رہی…”
اس نے خفگی بهری آواز سے کہا
“نن-نہیں اچها ہے اچها لگے گا آپ پر…”
وہ زبردستی مسکرا کر بولتی ذوہان کو قہر دلا گئی تهی لیکن وہ خود پر ضبط کیے خاموش تها
“میں چینج کروں…؟”
تعبیر کے اثبات میں سر ہلانے پر وہ چینجنگ روم کی جانب چل دیا جب کہ تعبیر سامنے لٹکے بےشمار ڈریسز کو دیکهنے لگے کتنے خوبصورت تهے یہ سوچتی ان کی جانب گئی اور ذوہان بهی اس کے پیچهے گیا تها
وہ جو کونے میں موجود ڈریسسز دیکھ رہی تهی کہ ذوہان نے پیچهے سے اس کے منہ پر ہاتھ رکهتے ڈریسسز کے پیچهے لے کر گیا تها اس سے پہلے وہ کچھ سمجهتی ذوہان اس کا رخ اپنی جانب کرتے دوبارہ اس کے منہ پر ہاتھ رکھ چکا تها وہ جو سیکنڈز میں ہوئی کاروائی سے گهبرا گئی تهی کہ ذوہان کو ایسے دیکھ کر اس نے آنکهیں پهاڑے اس کو دیکها تها جب کہ ذوہان کی آنکهوں میں مچلتا قہر وہ بخوبی دیکھ چکی تهی
“یہ آدمی کون ہے….؟”
وہ اس کے منہ سے ہاتھ ہٹاتے چباتے ہوئے غصے سے بولا
“آپ..آپ کون ہوتے ہیں یہ پوچهنے والے اور یہ کرنے کی جرات کیسے ہوئی….؟”
وہ غصے سے اس کو خود سے دور کرنے کی کوشش کرتے بولی
“میں ڈاکٹر ذوہان مصطفی ہوتا ہوں….”
وہ مزید اسے خود سے قریب کرتے بولا
“آپ دور رہیں شرم نہیں…”
“شششش…”
وہ جو بول رہی تهی کہ ذوہان نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکهتے اس کو خاموش کروایا تها تو وہ اس کی نیلی آنکهوں میں دیکهنے لگی تهی
“کہو کہ ذوہان مصطفی سے محبت ہے تمہیں….”
وہ چہرہ مزید اس کے چہرے کے قریب کرتے بولا تو وہ اس کی بات پر گڑبڑا اٹهی تهی
“کہو….”
وہ اس کا ہاتھ مڑوڑتے اس کی کمر سے لگاتے غرایا تها
“ذوہان پلیز…”
وہ نم آنکهوں سے صرف اتنا ہی بول سکی
“غصہ میرے شان شیان نہیں تعبیر حسن لیکن تمہارے پیار میں اس قدر پاگل ہو چکا ہوں کہ میرا غصہ میری ضرورت بنتا جا رہا ہے….”
وہ اس کی نم آنکهوں میں اپنی نیلی آنکهیں گاڑتے بولا وہ اس کے سرد لہجے سے گهبرا گئی تهی جب کہ بازو سے اٹهتی درد اس کی آنکهوں سے موتی گرا گئی تهی
“یہ آدمی کون تها جس کے ساتھ تم تهی…؟”
وہ اب اس سے استفارہ کر رہا تها
“مم-منگیتر….”
وہ بامشکل بول سکی تو اس کے ماتهے پر بل پڑے تهے
“گهر جاو مزید یہاں یا اس کے ساتھ نظر نہ آو مجهے…”
وہ حکمیہ انداز میں بولا
“اپنے حکم اپنے پاس رکهیں سمجهتے کیا ہیں خود کو….”
وہ اس کے حکم پر غصے سے بولی تهی جو اس پر روعب جما رہا تها غصہ جهاڑ رہا تها اس کی بات سنتے اس کے ماتهے کے بل پل میں ختم ہوئے تهے اور مسکرایا تها
“بہت پیار کرنے لگا ہوں تم سے…”
اسکے انداز پر وہ جهنجهلائی تهی وہ سمجهنے سے قاصر تهی ذوہان کا انداز کیونکہ یہ وہ زوہان تو نہیں تها جسے یہ جانتی تهی نہ تو غصہ اور نہ تو جنونیت اس کی خاصیت تهی وہ تو ہنس مکھ اور چهیڑ چهاڑ والا انسان تها لیکن جب سے اس نے محبت کا اظہار کیا تها وہ ہر روز الگ نیا ہی روپ دیکها رہا تها اب وہ ذوہان کو خود سے کیسے دور رکهے یہ اس کو سوچنا تها
“جاو میری جان…”
وہ اس کو چهوڑتا بولا کیونکہ اس کا منگیتر جگہ جگہ اس کو ڈهونڈه رہا تها وہ پل میں وہاں سے غائب ہوئی تهی
