Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 55

ابراہیم روحا کو لانے کے بعد فوراً ہی اس پر پانی ڈالتا اس کو اٹھا چکا تھا
“شاباش اٹھ جا اتنا وقت نہیں کہ تجھے بےہوش رکھا جائے۔۔۔۔”
اس کو دھیرے سے آنکھیں کھولتے دیکھ وہ بیزاریت سے بولا تھا سب سمجھنے پر اس کی آنکھیں مکمل پھیلیں تھی اس نے خوف سے ابراہیم اور اس کے ساتھ موجود تین لڑکوں کو دیکھا تھا

“ابراہیم۔۔۔۔۔”
وہ تیزی سے فرش سے اٹھتے ہوئے خوف سے بولی تھی
“جی میری جان۔۔۔۔”
اس نے دو قدم اس کے قریب لیتے شیطانیت سے کہا اور پھر چاروں قہقہ لگا اٹھے تھے
“ابراہیم مم-مجھے جانے دو۔۔۔”
وہ شاید ان کی آنکھوں میں پلپتی حوس پہچان چکی تھی
“نہ بےبی نہ ایسے کیسے جانیں دیں۔۔۔۔”
اس کے چہرے کو چھوتے بولا تھا

“وجدان۔۔۔۔۔”
وہ خوف سے آنکھیں بند کرتی چلائی تھی تو وہ دوبارہ ہنسے
“وجدان یہاں نہیں پہنچے گا بےبی جتنا بھی پکارو اسے شاید وہ پاگلوں کی طرح تمہیں ڈھونڈھ رہا ہو۔۔۔۔۔”
وہ اس کا منہ دبوچتے ہوئے بولا تو وہ اپنا منہ چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی اور اگلے ہی لمحے وہ اس کے منہ سے ہاتھ سرکا کر کندھے پر لاتے وہاں سے ایک جھٹکے سے فراک پھاڑ چکا تھا ایک دل خراش چینخ اس کے حلق سے برامد ہوئی تھی اس نے پیچھے ہٹنا چاہا لیکن فرار کے راستے بند تھے وہ روتے ہوئے اس سے منتیں کرنے لگی تھی لیکن وہ بےرحم اس کے دوسرے کندھے سے بھی پھاڑ چکا تھا جس سے ایک اور چینخ اس کے منہ سے نکلی تھی ابراہیم شیطانیت سے مسکراتا پیچھے ہوا

“وجدان کو گمراہ کرنے کے لیے یہ اس کی چینخوں کی وائس دوسرے حصے میں کسی روم میں رکھو دو کیونکہ وہ پہلے دوسرے حصے میں ہی جائے گا مجھے یقین ہے۔۔۔۔۔۔۔”
روحا نے روتے ہوئے نفی میں سر ہلایا تھا اور دل ہی دل میں اللہ سے اپنی عزت کی حفاظت کی دعا گو تھی

“ابراہیم مجھے جانے دو اللہ کا واسطہ ہے میں تمہارا زکر کسی سے نہیں کروں گی۔۔۔۔”
وہ ہاتھ جوڑتے بولی تو اس نے ناگواریت سے روحا کو دیکھا تھا
“ہاں تم جاؤ جو کہا ہے کرو تمہیں بھی مزہ چکھنے کو ملے گا۔۔۔۔”
اس کی بات سنتے اس نے بےاختیار خود کے گرد ہاتھ باندھے تھے اور دیوار کے ساتھ لگی خوف سے انہیں دیکھ رہی تھی جو ابھی کسی درندے سے کم نہیں لگ رہے تھے وہ جانتی تھی یہ لائبریری ایریا تھا یہاں کوئی نہیں ہو گا کیونکہ یہ تیسرے حصے میں موجود لائبریری میں تھے جہاں پارٹی ہو رہی تھی اس حصے سے اس حصے میں پہنچنے کے لیے بھی کم سے کم بیس سے تیس منٹ لگ سکتے تھے

“وجدان کوئی ہے۔۔۔۔۔”
پھر بھی کوشش کے تحت وہ چلائی تھی رونے سے اس کی آواز بہت بھاری ہو گئی تھی
وہ لوگ درندگی اپنی آنکھوں میں سموئے اسے دیکھ رہے تھے جو اب اردگرد متلاشی نظروں سے دیکھ رہی تھی لیکن ایک طرف یہ درندے اور دوسری طرف دیوار تھی
“کوئی ہے ہیلپ می اہہہہ۔۔۔۔۔”
اور اگلے ہی لمحے اس کا دوپٹہ بھی بےدردی سے اس کے تن سے جدا کر دیا گیا تھا
“ابراہیم اللہ کا واسطہ ہے ابراہیم یہ ظلم مت کرو۔۔۔۔”
وہ اپنے سینے پر ہاتھ رکھے روتے ہوئے منتیں کر رہی تھی لیکن وہ درندہ بنا اس کے بالوں کو دبوچتا اس کے چہرے کو اپنا نشانہ بنانے لگا کہ اس نے اپنے ناخن پےدردی سے اس کے چہرے پر مارے تھے کہ وہ کراہتا ہوا پیچھے ہوا اور پھر ابراہیم کا بھاری برکم ہاتھ اسے اپنے نازک گال پر پڑتا اس کا جبڑہ ہلا گیا تھا وہ سنبھل نہ سکی کہ سر دیوار سے لگا تھا سر میں درد کی شدید لہر دوڑی تھی وہ پھر سے زاروقطار رونا شروع ہو گئی تھی

“شراب کا انتظام ہوا یا نہیں ورنہ مجھ میں صبر ختم ہو رہا ہے جلدی کرو ہمیں اسے یہاں سے لے کر اپنے اڈے پر لے جانا ہو گا یہاں وہ مزے لینا مشکل ہے اور اتنے ہیرے نایاب کو بنا مزے لیے مار نہیں سکتا جب تک پورا لطف نہ ہو ۔۔۔”
وہ روحا کو دیکھتے بولا جو دیوار سے لگی رو رہی تھی اس کی بات سنتے اس کے رونے میں روانی آئی تھی

“وجدان پلیز آجاو اللہ جی وجدان کو بھیج دیں۔۔۔۔”
وہ من ہی من میں بہت دعا گو تھی
………………………………
وہ جہاں سے چینخیں آرہی تھی اس سمت مسلسل بھاگ رہا تھا کہ اچانک سے چینخوں کی آواز ختم ہوئی تھی اس کے قدم بھی رکے تھے اور چاروں سو اندھیرے میں نظر گھمانے لگا تھا جہاں وہ اکیلا تن تنہا کھڑا اپنی دوست کو ڈھونڈھنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا تھا

“روحا روحا۔۔۔۔”
وہ دھیرے دھیرے سے قدم آگے بڑھاتا اس پکارنے لگا تھا اس خاموشی میں اس کے بوٹوں کی آواز وجدان کی تیز سانسوں کا برپا ہوتا الگ سا شور اور دل کی تیز چیر دینے والی دھڑکنیں عجیب سا خوفناک ماحول پیدا کر رہیں تھی

“روحا کہاں ہو۔۔۔۔۔؟”
وہ دوبارہ سے پکارنے لگا تھا بولنے کے دوران اس کی سانسیں مزید واضع ہو رہی تھی دل کی دھڑکنوں نے بھی ادھم مچا رہا تھا کہ اچانک سے پھر چینخنے کی آواز گونجی تو اس وہ آواز اپنے پیچھے موجود کمرے سے آئی تھی وہ بنا دیری کئیے اس کمرے میں کی طرف بھاگتا اس میں گیا تھا جہاں کوئی نہیں تھا اس نے موبائل کی لائٹ جلاتے پورے روم میں دیکھا لیکن کوئی نہ تھا پھر اچانک نظر سامنے کھڑکی میں موجود موبائل پر پڑی اس نے قدم قدم بڑھاتے کانپتے ہاتھ سے اس موبائل کو اٹھایا جہاں سے چینخنے کی آواز آ رہی تھی اس نے غصے سے موبائل اٹھا کر دیوار میں دے مارا تھا

دل تھا کہ خوف سے کانپ رہا تھا اور وہ خوف روحا کہ عزت کا تھا اس کا نقصان نہ پہنچے اس کا خوف تھا اچانک سے اسے اپنے پیچھے قہقے کی آواز سنائی دی تھی وہ پلٹا تو دروازے میں ایک لڑکا کھڑا زوروشور سے ہنس رہا تھا

“کون ہو تم۔۔۔۔۔؟”
اس نے اس کو یوں ہنستے دیکھ پوچھا
“ابراہیم کے ساتھ جو لڑکی تھی اسے ڈھونڈھ رہے ہو۔۔۔۔۔۔؟”
وہ ہنسنا بند کرتے پوچھنے لگا تھا
“ہاں ہاں روحا کو کہاں ہے وہ۔۔۔۔؟”
وہ ایک دم سے تڑپ کر بولا تھا تو وہ دوبارہ قہقہ لگا اٹھا تھا
“ہنسنا بند کرو ورنہ دانت طور کر گندی نالی میں پھینک دوں کا بتاو روحا کہاں ہے۔۔۔”
اس کو یوں ہنستے دیکھ وہ پوری قوت سے چلایا تھا

“جہاں اسے ہونا چاہیے۔۔۔۔”
“مطلب۔۔۔۔۔؟”
دل پھر سے دھڑکا تھا
“بہت سی مردوں کی باہوں میں یا یوں کہوں حوا کی پیاس بجھا رہی ہے۔۔”
وہ بولتا پھر سے قہقہ لگایا تھا
وجدان کے قدم لڑکھڑائے تھے آنکھیں نمکین پانی سے دھندلا گئیں تھی
“نن-نہیں۔۔۔۔وہ خود سے بڑبڑاتا اس کی جانب طیش سے بڑھا تھا
“کہاں ہے روحا بتاو خبیث انسان۔۔۔۔”
وہ اس جا گریبان دبوچے بولا تھا تو وہ خاموشی سے اسے دیکھنے لگا

“شاید وہاں پہنچ گئی ہو جہاں اس خبیث انسان نے میری بہن کو پہنچایا تھا۔۔۔۔”
اب کہ وہ لڑکا نم آنکھوں سے بولا تھا اس کا بھیگا لہجہ اس کا قرب بیان کر رہا تھا
“مم-مطلب۔۔۔۔؟”
اس نے گریبان چھوڑتے پوچھا تھا
“اس نے میری بہن کو بھی جال میں پھنساتے اپنا اور اپنے دوستوں سے حوس کا نشانہ بنوایا تھا۔۔۔۔”
وہ روتے ہوئے بولا تھا

“لیکن میں نے اسے جاتے دیکھا ہے ہمیں ڈھونڈھنا ہوگا ورنہ وہ کہیں میری بہن کی طرح اپنی حوس پوری کرتے مار نہ دیں۔۔۔۔”
وہ جلدی سے اسے بولا
“کہاں دیکھا ہے چلو۔۔۔۔۔”
وجدان بھی جلدی سے بولا پھر دونوں روم سے بھاگے تھے
………………………………
وجدان لوگ تیسرے حصے میں پہنچتے چپا چپا چھان مار رہے تھے
“مجھے یقین ہے وہ لوگ یہی آئے تھے میں نے دیکھا تھا۔۔۔۔”
وجدان نے اثبات میں سر ہلایا تھا اور پھر بنا رکے اسے ڈھونڈھ رہے تھے یونیورسٹی کون سا چھوٹی تھی وہ جس حصے میں اس وقت ڈھونڈھ رہے تھے وہ سب سے بڑا حصہ تھا وہ ایسے تھا جیسے مختلف گھر بنے ہوں

“ابراہیم مجھے لگتا ہے ہمیں وقت ضائع نہیں کرنا چاہی وجدان ڈھونڈھ رہا ہو گا وہ کسی بھی لمحے پہنچ جائے گا۔۔۔۔”
اس کے ایک دوست نے روحا کو دیکھتے لار ٹپکاتے ہوئے کہا تھا ابراہیم سوچ میں پڑا تھا
“یہ سہی کہہ رہا ہے ابراہیم کیا معلوم اس نے ہماری تاک میں کچھ لڑکوں کو لگایا ہو اور اگر پکڑے گئے تو جیل سے کبھی نہیں چھوٹ پائیں گے۔۔۔”
اس کا ایک اور دوست بولا
“ٹھیک ہے تمہاری قسمت یہی ہے۔۔۔۔”
وہ آگے بڑھتا بولا تو روحا نفی میں سر ہلانے لگی تھی وہ اس دبوچتا اس پر جھکا تھا اور اس کے چہرے کو بےدردی سے نشانہ بنانے لگا تھا وہ حلق پھاڑتی چنخنے لگی تھی

“ابراہیم وجدان اس سمت پہنچ گیا ہے۔۔۔۔”
اس کا ایک دوست ان کی جانب آتا ہانپتے ہوئے بولا تو انہوں نے دانت کچائے تھے جب کہ روحا کے لیے امید کی کرن جاگی تھی

“وجدان۔۔۔۔”
وہ چلائی تھی لیکن ابراہیم نے فوراً اس کے منہ پر ہاتھ رکھتے اس کو چلانے سے باز رکھا تھا وہ بن پانی کے مچھلی کی مانند اس کی گرفت میں تڑپنے لگی تھی ابراہیم نے ہاتھ بڑھاتے اس کے سینے سے اس کی فراک کو تار تار کر دیا تھا روحا اس کے عمل سے پتھر کا مجسمہ بن کر رہ گئی تھی اور پھر کمر سے اس کی فراک پھاڑ دی کہ اس کا جسم واضع ہو گیا تھا

“روحا کہاں ہو تم۔۔۔۔؟”
وجدان کی آواز پر وہ روتے ہوئے ہمت کرتی مزاحمت کرنے لگی تھی
“روحا۔۔۔م”
اسے یہ آواز لائبریری کے بہت قریب محسوس ہوئی تھی اور ایسے لگا جیسے وہ لائبریری کے عین دروازے پر کھڑا ہو اس نے اہنے سائیڈ پر دیکھا جہا کتابیں ترتیب اے جڑیں ہوئیں تھی اس نے ہمت کرتے پیروں جان لگاتے بہت سی کتابوں کو نیچے گرایا کہ لائبریری میں جو مکمل خاموشی تھی ایک دم سے شور کا طوفان آ گیا ہو جیسے وجدان جو آگے بڑھنے والا تھا رکا تھا

“روحا کیا تم یہاں ہو پلیز بولو۔۔۔”
وہ لائبریری کے اندر قدم بڑھائے بولا تھا اس کے بوٹوں کی آواز بہت تیز سنائی دے رہی تھی اس سے پہلے وہ دوبارہ کوئی مزاحمت کرتی اس کے دوستوں نے اس کو ٹانگوں سے بھی پکڑا تھا وہ مکمل ان کی گرفت میں تھی

“روحا۔۔…”
اس نے پھر سے پکارا تھا اور وہ روتے ہوئے اسے بلانا چاہتی تھی لیکن ابراہیم کے ہاتھ نے اس کی آواز کو دبایا ہوا تھا
“بھائی کیا معلوم وہ یہاں نہ ہو ہمیں وقت ضائع کئیے بنا کہیں اور دیکھنا چاہیے۔۔۔۔”
وہ دوسرا لڑکا پیچھے سے اتا بولا تو اس نے ایک نظر لائبریری کو دیکھتے اثبات میں سر ہلایا تھا جب کہ روحا نے روتے ہوئے نفی میں سر ہلایا وہ ہر قسم کی مزاحمت کرنے سے عاری تھی

“تیرا وجدان تو گیا۔۔۔۔”
وہ دھیرے سے قہقہ لگائے بولا تھا لیکن اگلے ہی لمحے اسے اپنے پیچھے گرنے کی آواز آئی تھی ابراہیم پلٹا تو پیچھے وجدان ہاتھ میں ڈنڈا لیے ہوئے تھا اس نے اپنے دوستوں کو دیکھا جو دونوں زمین بوس تھے شاید وہ جو پہرے پر لگایا تھا وہ بھاگ گیا تھا وہ فوراً سے روحا کے اوپر سے کھڑا ہوا تھا
وجدان روحا کو اس حالت میں دیکھتا تڑپ اٹھا تھا اس نے فوراً نگاہیں پھیرتے اپنی شرٹ اتارتے اس کی جانب پھینکی تھی کیونکہ وہ روحا کو یوں دیکھنے کی گستاخی قطعاً نہیں کر سکتا تھا اور کڑے تیوروں سے ابراہیم کی جانب بڑھتا اسے در پے در مکے مارنے لگا تھا کہ وہ پیچھے گرا تھا روحا خود کو اس کی شرٹ سے کوور کئیے روتے ہوئے نیچے بیٹھی ہوئی تھی

وجدان اس سے پہلے دوبارہ ابراہیم کی جانب بڑھا ابراہیم نے گن نکالی تھی
“رک جا وہی ورنہ تیرے سینے میں اس کی ساری گولیاں اتار دوں گا۔۔۔۔”
وہ اس پر گن تانے بولا تھا اس نے آنکھیں بند کیں تھی اس کے باپ کی بتائی بہت سی باتیں اس کے زہن میں گونجی تھیں

“وجدان جب تمہیں لگے تم دماغ چلانے کے ساتھ اب ہاتھ نہیں چلا سکتے تو ہاتھ چلانے کی بھی ساری قوت دماغ میں لگاو ۔۔۔۔”
ان الفاظوں سے اس کے لب مسکرائے تھے پھر آنکھیں کھولے اسے دیکھا
“ابراہیم تم میرے ہاتھوں زندہ نہیں بچو گے۔۔۔۔”
وہ اس کی جانب قدم لیے بولا تھا
“وجدان گولی چلا دوں گا۔۔۔۔”
قہ خوف سے بولا
“چلا۔۔۔۔”
اس نے بےخوفی سے کہا کیونکہ وہ بخوبی دیکھ سکتا تھا کہ گن لوڈ نہیں اور اگلے ہی سیکنڈ وہ پھرتیلی سے اس کے ہاتھ پر پیر مارتا گن اس کے کانپتے ہاتھوں سے گرا چکا تھا وجدان اس کے اٹھانے سے پہلے گن اٹھاتا بنا اس کو موقع دیے لوڈ کرتا چھے کی چھے گولیاں اس کے سینے میں اتار چکا تھا روحا کی دل خراش چینخیں نکلیں تھی وہ کان پر ہاتھ رکھے اس خوفناک منظر کو دیکھ رہی تھی وجدان نے گن دور اچھالی اور اس کی جانب بڑھا تھا

“روحا۔۔۔۔”
وہ تڑپ کر اس کی جانب بڑھتا اس کے چہرے کو چھوا تھا جو روتے ہوئے اس کے سینے سے لگی تھی اس کی ہچکیاں بہت بلند تھیں وجدان کے چند آنسووں روحا کے بالوں میں جذب ہو گئے تھے اس نے جب روحا کی ہچکیاں بند ہوتی محسوس ہوئیں تو دیکھا وہ اپنے ہوش گنوا بیٹھی تھی
“روحا۔۔۔۔”
اس نے اس کا چہرہ تھپتھپایا تھا اور پھر گود میں اٹھاتا باہر کو بھاگا تھا وہ یہ تو جانتا تھا قتل کا انجام بہت برا ہے لیکن اسے یقین تھا اللہ اس کا ساتھ دے گا اس نے بہت سی عزتوں کو تار کرنے والے کی جان لی تھی وہ بےگناہ تھا

وہ اسے اس حالت میں کہیں ہوسپٹل بھی نہیں لے جا سکتا تھا وہ اسے گاڑی میں بیٹھائے اسے ہوش دلانے کی کوشش کر رہا تھا وجدان نم انکھوں سے ٹھنڈے پانی سے ہاتھ گیلے کئیے اس کے منہ پر لگا رہا تھا اور ساتھ اسے اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ کچھ مشقت کے بعد اسے ہوش آگیا تھا وہ خالی خالی نظروں سے وجدان کو دیکھ رہی تھی جو اس کے ہوش میں آنے پر شکر ادا کر رہا تھا

“وجدان۔۔۔۔”
اس نے سسکی بھرتے اسے پکارا تھا
“ششش خاموش رونا نہیں ان میں سے ایک تو فساد کی جڑ مر گیا لیکن اس کے دوست انہیں بھی موت کے منہ میں دھکیل کر چھوڑوں گا تم پریشان مت ہو۔۔۔۔”
وہ نرمی سے اس کے آنسووں صاف کئیے طرح بولا تھا
“کاش میں تمہاری بات سن لیتی لیکن محبت میں اندھی ہو گئی تھی اس ظالم انسان نے۔۔۔۔”
وہ بولتے بولتے خاموش ہو گئی تھی اس میں آگے بولنے کی ہمت باقی نہ تھی
“سب حساب دیں گے چلو میرے ساتھ تمہیں گھر چھوڑ دیتا ہوں۔۔۔۔”
“نن-نہیں گھر نہیں۔۔۔۔۔”
وہ فوراََ سے بولی تھی
“لیکن سب بہت پریشان ہونگے رات کا ایک بج رہا ہے۔۔۔۔۔”
“لل-لیکن میں اس حالت میں گھر نہیں جا سکتی وجدان۔۔۔”
وہ روتے ہوئے بولی
“میں تمہارے ساتھ جاوں گا اور۔۔۔۔۔”
اس سے پہلے وہ مزید کچھ بولتا ان کو پولیس کے سائرن سنائی دیے تھے

“وجدان یہ پولیس یہ لوگ کہیں تمہیں پکڑ نہ لیں تم نے ابراہیم کو مارا اس کے دوست تمہارا نام لے دیں گے اور۔۔۔۔۔”
وہ خوف سے بول رہی تھی
“چپ ریلیکس ہو جاو کچھ بھی نہیں ہو گا بھول جاو میں خود سب سنبھال لوں گا تم سر پر سوار مت کرو۔۔۔۔”
وہ سائیڈ سے نظر اتے اس کے کندھے سے اپنی شرٹ سہی کیے بولا تھا
“چلو گھر چھوڑ دیتا ہوں پہلے رستے میں تمہیں دوسرے کپڑے لے دیتا ہوں اپنی حالت ٹھیک کرو۔۔۔۔”
وہ اس کے بکھرے بال سہی کرتا پیار سے بولا اور گاڑی سٹارٹ کی تھی وہ جانتا تھا ابھی سب کو یونیورسٹی سے نکلنے پر پابندی لگا دی جائے گی اور وہ اس سے پہلے نکلنا چاہتا تھا
پورے راستے روحا خاموش تھی وہ رستے میں روحا کے لیے کپڑے خریدتا روحا کو اپنے ساتھ لیتا شہرام کے فلیٹ میں ایا تھا جس کی چابی اس کے پاس موجود تھی فلیٹ میں آیا تھا

“یہ کون سی جگہ ہے۔۔۔؟”
وہ اس فلیٹ کو دیکھتے پوچھنی لگی
“یہ ڈیڈ کا فلیٹ ہے تم ریلیکس ہو کر فریش ہو جسو چینج کر لو تھوڑا سا کچھ کھاو پھر گھر چلتے ہیں کیونکہ آگے کے حالات مشکل ہو سکتے ہیں اور اس کے کیے تمہارا مضبوط ہونا ضروری ہے۔۔”
وہ اس کے ساتھ چلتے ہوئے بولا اور اسے کپڑے تھماتا خود کچن میں جاتا کھانا نکالنے لگا پھر اس کے چینج کرنے کے بعد زبردستی کچھ نوالے اس کو کھلاتے اپنی شرٹ جو رستے میں خریدی تھی وہ پہلے ہی پہن چکا تھا تھا پھر واپس اسے گاڑی میں بیٹھتاتے گاڑی اس کے گھر کی جانب گامزن کر دی تھی
………………………………
اس نے روحا کے گھر کے سامنے گاڑی روکی تو اسے گڑبڑ کا احساس ہوا تھا وجدان نے موبائل پر ٹائیم دیکھا تو وقت تین کا ہندسہ عبور کرنے والا تھا وہ دونوں گاڑی سے نکلے
“چلو روحا۔۔۔۔”
وہ اس کو یوں وہی قدم جمائے دیکھ بولا تھا
“میں کیا کہوں گی وجدان اگر انہیں اصلیت بتائی اور پولیس کا چکر ہوا کیا مجھے بھی پولیس سٹیشن یا عدالت میں کیا میری رسوائی کا ڈھنڈھورا بھی۔۔۔”
وہ بےربط سے جملے ادا کر گیا تھا لیکن اس کے ان بےربط جملوں کا مطلب بخوبی سمجھ گیا تھا

“میں ہوں نہ تمہارے ساتھ کچھ بھی نہیں ہو گا میں جو بھی کرونگا تم اس پر کسی قسم کا سوال نہیں اٹھاو گی خاموش رہو گی باقی نیں خود سنبھال لوں گا چلو اب۔۔۔”
وہ کچھ سوچتے ہوئے بولا تھا اور جو اس نے سوچا تھا اسے نہیں معلوم تھا اس کا کیا انجام ہو گا
“تم کیا کرنے والے ہو وجدان۔۔۔؟”
اس نے آنسووں صاف کیے کہا تھا
“چلو لیکن تمہیں قسم ہے اللہ کی تم خاموش رہو گی اب چلو۔۔۔”
وہ مسکرایا تھا اور پھر دونوں اندر گئے تھے سامنے ہی اس کی امی اور ابو چکر کاٹ رہے تھے

“روحا تم اتنی دیر۔۔۔۔۔”
اس کی امی کے باقی کے الفاظ اس کی حالت دیکھتے منہ میں رہ گئے تھے
“روحا کیا ہوا تمہیں۔۔۔”
وہ اس کے قریب آتی اس کی سوجھی انکھوں بکھرے بالوں کو دیکھتے بولی
“سب ٹھیک تو ہے بیٹا۔۔۔۔”
حسن نے اس کے قریب آتے اسے خوف سے پوچھا کیونکہ یونیورسٹی میں موجود قتل کی واردات چاروں سو پھیل گئی تھی اتنی رات میں بھی وہ خبر چھپی نہ رہی تھی وہ خود پر ضبط نہ باندھ سکی اور اس کے سینے سے لگی زاروقطار رونے لگی تھی

“وجدان بیٹا کیا ہوا ہے تم ہی بتاو یہ ایسے حالت کیوں ہے اس کی۔۔۔۔۔۔؟”
روحا کی امی نے وجدان سے پوچھا تھا جو ہونٹ بھینچے کھڑا تھا
“اس کی اس حالت کا زمہ دار میں ہوں۔۔۔۔”
اس کے الفاظوں پر روحا نے ایک جھٹکے سے اس کی جانب دیکھا تھا
“میں نے اسے اپنی حوس کا نشانہ بنانا چاہا تھا۔۔۔۔”
روحا نے نفی میں سر ہلایا تھا
“یی-یہ تم کیا بکواس کر رہے ہو۔۔۔۔؟”
روحا کی امی نے دل پر ہاتھ رکھے پوچھا تھا

“میں ہوں اس کا مجرم نیت۔۔۔۔نیت ڈگمگا گئی تھی میری۔۔۔۔”
وہ روحا کو دیکھے بولا رہا تھا جو منہ پر ہاتھ رکھے نفی میں سر ہلا رہی تھی
“آپ کا مجرم روحا کا مجرم سامنے ہے قبول کرتا ہوں میں جو سزہ دینی ہے دے دیں اوفف بھی نہیں کرونگا فضول میں اگر میرے خلاف کیس کریں گے تو عزت آپ لوگوں کی ہی تار تار ہوگی میرا کچھ نہیں جائے گا باقی اپ سب کی مرضی۔۔۔۔”
وہ حسن صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے بولا جن کا تھپڑ اس کا جبڑہ ہلا گیا تھا

“نہیں بابا۔۔۔۔”
روحا فوراً آگے ہوئی تھی
“تم ابھی بھی نہیں کہہ رہی ہو اس درندے نے۔۔۔۔”
حسن صاحب نے ایک اور تھپڑ اس کے چہرے پر رسید کیا تھا
“فکر مت کریں میری درندگی مکمل جاگنے سے پہلے مجھ میں انسانیت جاگ گئی تھی اسی لیے اسے واپس لے آیا ہوں۔۔۔۔”
وہ روحا کو انکار کرتا ان سے بولا تھا
“تم اتنے بےشرم ہو گے سوچا نہیں تھا تمہیں تو میں۔۔۔۔”
وہ غصے سے آگے بڑھے تھے کہ روحا بیچ میں آئی
“بابا چھوڑ دیں مجھے ایسے ہی جانے دیں اسے دفنا دیں یہ بات یہی بابا۔۔۔۔۔”
وہ اپنے باپ کے سینے سے لگی زاروقطار روتے ہوئے بولی

“تمہیں شرم نہیں آئی خدا کرے تمہیں یہ دکھ ملے تمہیں پتا چلے ایک باپ کی عزت جب اپنی حوس میں تار تار کی جائے تو اس کا دکھ کیا ہوتا ہے۔۔۔۔۔”
وہ بھی روحا کو سینے سے لگائے روتے ہوئے بولے
“ان شاءاللہ۔۔۔۔۔”
وہ روتی ہوئی روحا کو دیکھ کر بولا تھا
“چلے جاو یہاں سے چھوڑ دو ہمیں ہمارے حال پر دفعہ ہو جاو۔۔۔۔”
وہ اس کو دھکا دیتے بولے تھے
“اپنا خیال رکھنا روحا۔۔۔۔”
روحا سے کہتا آنکھیں رگڑتا وہاں سے چلا گیا تھا جب کہ وہ بکھری سی نیچے بیٹھتی چلی گئی تھی اس گھر میں ماتم سا سماں تھا وہ تو شکر تھا کہ صبح ہی تعبیر لاہور کے لیے نکل گئی تھی کیونکہ وہ وہاں کی یونیورسٹی میں سٹڈی کرتی تھی ورنہ اس پر کیا گزرتا وہ یہ لوگ اچھے سے جانتے تھے
………………………………
وجدان نے گھر جاتے سب سے پہلے شہرام کو سب بتایا تھا لیکن روحا کی بجائے اس نے اپنی کلاس فیلو جا کہا تھا اور سب حقیقت بتائی لیکن یہ نہیں بتایا کہ وہ روحا کے والدین سے کیا کہہ کر آیا ہے اور کہا کہ وہ ان تین زندہ لڑکوں کو بھی مردہ دیکھنا چاہتا ہے شہرام کو اپنے بیٹے پر بہت فخر ہوا تھا اور اسے یقین دلایا کہ ان تینوں میں سے کسی کو بھی سزہ کے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا اور ابراہیم کے کیس کو بھی خود ہینڈل کروا لے گا وجدان کے یہ کرنے کی جو وجوہات تھی ایک یہ کہ وہ روحا کو یوں بدنام نہیں کروانا چاہتا تھا دوسرا یہ وہ ان لڑکوں کو ہماری پولیس کے حوالے نہیں کرنا چاہتا تھا اگر پولیس کے حوالے کرتا تو کیس ہوتا پھر روحا کا نام ہی آتا اور اس کا بھی اسی لیے وہ شہرام کو ہر چیز واضع کر چکا تھا
اس واقع کے ایک مہینے بعد وجدان نے روحا سے رابطہ کرنا چاہا لیکن فون بند تھا اس کا اس کے گھر گیا تو وہاں تالا تھا اس پڑوس سے معلوم پڑا کہ وہ لوگ گھر چھوڑ چکے ہیں وہ ٹریننگ پر جانے سے پہلے ایک بار اس سے ملنا چاہتا تھا اور یہ بھی بتانا چاہتا تھا ان حوس پرستوں کو ان کے انجام تک پہنچا دیا گیا ہے
………………………………