Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

وجدان رباب اور پهر پارس اور عالیاب کو گهر چهوڑنے کے بعد ڈائیرکٹ پولیس سٹیشن گیا تها کیوں کہ غصہ اس کے دماغ کو چڑه رہا تها پارس اور عالیاب بهی پارس کے کمرے میں گئے تهے اور دعا کو فون لگاتے سب رواداد سنائی تهی

“اوو تیری بهائی نے سب کے سامنے یہ سب کہ دیا…”
دعا کی حیرت سے بهرپور آواز گونجی
“ہاں نہ میں تو ابهی بیوی نہیں بنی سکندر نے ایسا کیوں کہا….”
عالیاب ابهی تک حیرت کے سمندر میں غوطہ زن تهی
“اور تمہیں پتا دعا عالیاب ایویں ہی سرخ ہو رہی تهی…”
پارس نے شرارت سے کہا تو عالیاب نے گهورا اور ایک تهپر اس کی کمر میں جڑا تها
“نہیں دعا بکواس کر رہا ہے…”
وہ اس کو ہنستے دیکھ بولی تهی تو وہ مزید ہنسی
“اچها تم بتاو کیسی ہو کیسے گزرے دو دن سعد بهائی کیسے ہیں…”
عالیاب نے باتوں کا رخ بدلا تو اس کی ہنسی کو بریک لگی
“دو دن سے سعد گهر ہی ہیں کل سے کام پر جائیں گے لیکن مجهے پهر بهی تم دونوں کے بنا بوریت محسوس ہو رہی تهی…”
وہ آخر میں منہ بنائے بولی
“فکر مت کرو بوریت ختم کر دیں گے بهائی ابهی نئی نئی رخصتی ہوئی ہے نہ تو تهوڑا وقت لگے گا…….”
اس نے پارس کے ہاتھ پر ہاتھ مارتے کہا تو اس نے فون کو کان سے ہٹائے گهورا اور دوبارہ کان سے لگایا
“شرم تو نہیں آرہی ایسی بات کرتے….”
“کیوں تم بهی شرم سے سرخ ہو رہی ہو…؟”
پارس نے اب اس کو چهیڑا تو اب ہنسنے کی باری عالیاب کی تهی
“مجهے نہ بات ہی نہیں کرنی تم دونوں سے…”
جب کچھ اور بس نہ چلا تو اس نے فوراً سے فون کاٹا تها دوسری جانب وہ دونوں ہنسے پهر عالیاب بهی اپنے کمرے میں چلی گئی تهی
…………………………………
“کیا ہوا کس کی کال تهی…؟”
دعا جو ابهی ان کی بات پر اپنی شرماہٹ ہی ہٹا رہی تهی کہ سعد کمرے میں داخل ہوا اور اس سے پوچهنے لگا
“پارس اور عالیاب تهے…”
اس نے سعد کے ہاتھ میں بکس دیکهتے کہا سعد نے بیڈ پر اس کے سامنے بکس رکهیں تهی
“کیا کہ رہے تهے…؟”
وہ خود بهی بیڈ پر بیٹها تها
“بس ویسے فون کیا تها اور یہ بکس میری ہیں…؟”
جواب دیتے آخر میں اس نے ایک بک اٹهاتے سوال کیا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا

“میری سر سے بات ہو گئی ہے وہ تمہارا جو ایک اگزام رہتا ہے وہ لے لیں گے اٹینڈس کا مسلہ بهی سولو کردیا ہے یہ بکس ہیں تم عالیاب اور پارس سے لیکچر پوچھ لینا رات میں میں تمہیں پڑها دیا کروں گا…”
اس نے تفصیل سے اگاہ کیا تو اس نے اثبات میں سر ہلاتے بکس اٹهائیں تهی

“سنو…”
وہ جو بکس رکھ رہی تهی اس کی بات پر پلٹ کر ناسمجهی سے اسے دیکها جو ویسے بیٹها ہی پیچهے کو دونوں ہاتھ نیچے رکهتا لیٹا تها
“آئی لو یو…”
اس نے مسکرا کر کہا تو وہ گڑبڑائی تهی اور واپس بکس رکهنے لگی
“میاں بیوی میں محبت کا اظہار ہمارے پیارے نبی(ص) کی سنت ہے….”
اس کی بات پر وہ پلٹی تهی
“بشرطیہ کہ محبت ہو….”
وہ یہ کہتی دروازے کی جانب جانے لگی
“تو تمہیں کیا لگتا ہے مجهے تم سے محبت نہیں…”
وہ ایک جهٹکے سے اٹهتے ہوئے بولا اس کے قدم رکے تهے

“میرا یہ مطلب نہیں تها…”
وہ بنا پلٹے بولی
“تو تم مانتی ہو مجهے تم سے محبت ہے…؟”
لہجہ اب شرارت آمیز تها
“میرا یہ بهی مطلب نہیں…”
وہ جهنجهلائی تهی
“تو کیا مطلب ہے وضاحت کرو گی…”
اس نے اس کے کان کے قریب سرگوشی کی اور وہ اتنے قریب سے آواز سنتے اچهلی تهی
” آپ بهی نہ…”
اس نے دل پر ہاتھ رکهے کہا
“بہت کیوٹ ہوں نہ پتا ہے…”
اس نے مسکرا کر قریب ہوتے اس کے ماتهے سے ماتها ہولے سے ٹچ کرتا پیچهے ہوا اس کی حرکت پر بےساختہ اس کے لبوں پر مسکراہٹ پهیلی لیکن فوراً سمیٹی تهی پر سعد پہلے ہی اس کی پل میں پهیلی مسکراہٹ دیکھ چکا تها

“مسکرا لو کوئی ٹیکس نہیں اس پہ….”
اس کی بات پر دعا کی مشکل سے کی جانے والی ہنسی نکلی تهی
“سعد پلیز…”
وہ منہ پر ہاتھ رکھتے بولی اور دوسری جانب منہ کیا
“ہاہاہا ٹماٹر کیوں ہو رہی ہو میں تو اب اچهی نیک شریفانہ باتیں کر رہا ہوں…”
وہ بهی ہنستے ہوئے بولا تو وہ مزید کهلکهلائی تهی

“❣️ﮐﺎﺵ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﺳﻮﭺ ﮐﺎ ﻣﺤﻮﺭ
ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺗﺮﺍﺷﻮﮞ _ﺗﯿﺮﮮ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻧﻈﺮ ﺳﮯ..🥀”

اس نے دهیرے سے شعر پڑتے چہرے پر جهولتی لٹوں کو کام کے پیچهے اڑیسہ تها وہ بےساختہ پلکوں کی باڑ گرا گئی اور اس کے ہاتهوں کو اپنے چہرے پر گستاخیاں کرتے دیکھ اس نے اس کا ہاتھ تهاما تها
“کک-کهانا لگاتی ہوں…”
اس کے ہاتھ کو چهوڑتی کمرے سے فورا نکلی تهی وہ بهی بالوں میں ہاتھ پهیرتے کمرے سے نکلا تها
…………………………………
وجدان کی وہ وڈیو آگ کی طرح پهیلی تهی دو تین گهنٹوں میں ہی وہ وڈیو جگہ جگہ پہنچ گئی تهی ایک لاکھ کے قریب شئیرز ہو گئے تهے وجدان بهی پولیس سٹیشن میں بیٹها اس وڈیو کو دیکھ رہا تها جب فون ہر زوہان کی کال آنے لگی تهی

“یس برو…”
اس نے کال اٹهاتے کہا تها
“بروکس یہ وڈیو….؟”
اس نے بات ادهوری چهوڑی تو اس نے گہرہ سانس بهرا تها تو اس نے شروع سے لے کر سب بات بتا دی
“بهیا جی ماموں کو پتا چلا تو کیا ریکٹ کریں گے تم جانتے ہو…”
“زوہان تو کیا ہوا عالیاب میری ہونے والی بیوی ہے اگر میں نے سب کے سامنے کہ دیا تو اس میں حرج تو کوئی نہیں….”
اس کی بات پر اس کا دل کیا اپنا ماتها پیٹ لے
“اس بات میں کوئی حرج نہیں لیکن شئیرز دیکهو اپنے ایس پی صاحب شرعام کیا کہتے پهر رہے ہیں وہ تو شکر عالیاب اور رباب کی فیس وڈیو میں نہیں آئی ورنہ کتنی غلط بات تهی….”
اس نے بهی اپنے ماتهے پر ہاتھ مارا اس نے تو اس بارے سوچا نہیں تها
“پولیس سٹیشن آ جا اس بارے بات کرتے…”
اس نے سر زور زور سے کهجاتے کہا
“اور بٹ میں کام کر رہا ہوں…”
“اچها پهر میں رات میں دیر سے گهر آوں گا سونا مت بات کریں گے…”
اس نے اپنے سامنے موجود داور کی پک کو دیکهتے کہا
“اوکے…”
یہ کہتے فون بند کیا تها
…………………………………
“عالی یہ وڈیو اتنی شئیر کیسے ہو گئی…”
پارس عالیاب کے کمرے میں آتے موبائل اس کے سامنے کرتے بولا
“سکندر کتنے ہینڈسم لگ رہے ہیں نہ…”
اس کی بات پر اس نے اس کے سر پر چپٹ لگائی تهی
“پاگل…”
ابهی وہ اتنا ہی بولا تها کہ دروازہ کهلا اور شہرام اندر داخل ہوا
“ماموں…”
عالیاب بولی دونوں بیڈ سے اترے تهے شہرام نے عالیاب کے ہاتھ سے فون لیا اور وہ وڈیو دیکهی تهی ان دونوں نے ایک دوسرے کی شکل کو دیکها تها
“میں بهی ابهی وجدان صاحب کا یہ کارنامہ دیکھ کر آرہا ہوں….”
اس نے واپس عالیاب کو فون پکڑایا عالیاب نے پارس کو دیا تها

“مم-میں جاتا ہوں…”
پارس بولا تو شہرام نے اثبات میں سر ہلایا تو وہ وہاں سے گیا تها
“بیٹهیں ماموں جان…”
شیرام بیڈ ہر بیٹها اور اس کے اشارے ہر عالیاب بهی بیٹهی تهی
“بیٹا یہ کہا بات تهی پوری بتاو مجهے…”
اس کے پوچهنے پر وہ چہرہ جهکائے اپنے ہاتهوں کو آپس میں ملنے لگی
“بتاو میری جان اپنے ماموں کو بتاو…”
وہ اس کے سر پر پیار کرتے بولا تو اس نے دهیرے دهیرے سب بتایا شہرام نے گہرہ سانس لیا تها انہوں نے آج تک کبهی اپنی عورتوں کو یوں فضول کے سکینڈلز میں شرعام لوگوں میں نہیں دیکهایا تها اور اس کے بیٹے نے تماشا بنا ڈالا تها

“اچها ریسٹ کرو بیٹا…”
وہ اس کے ماتهے پر پیار کرتا اٹها کہ عالیاب نے اس کا ہاتھ پکڑا
“مم-ماموں سکندر کی غلطی نہیں اس نے میرے لیے سب کیا پلیز اسے ڈانٹیے گا مت…”
اس کی بات پر وہ زبردستی مسکرایا اور اس کی گال تهپتهپاتا کمرے سے نکلا تها
…………………………………
وجدان رات گیارہ بجے گهر میں داخل ہوا تها ابهی لاونچ میں پہنچا ہی تها کہ موبائل پر میسج کی ٹیون پر اس نے موبائل دیکها اور میسج کهولا جہاں زوہان کا میسج تها
“برو ماموں بڑے غصے میں ہیں گهر مت آنا یا تو پولیس سٹیشن رہو یا مجهے بتا دو تمہارے لیے باہر انتظام کرتا ہوں….”
آگے ہنسنے والی اور رونے والی ایموجی تهی
“چول انسان…”
میسج پڑتے اس کے منہ سے بےساختہ نکلا اور موبائل کو گهورتے موبائل جیب میں رکها تها اور کمرے کی جانب جانے لگا

“کہاں سے آرہے ہو…؟”
اس نے جو ابهی پہلی سیڑهی پر قدم رکها تها شہرام کی بات پر اس کے قدم رکے اور داڑهی کهجاتے ویسے ہی پلٹا تها
“پولیس سٹیشن سے…”
اس نے مختضر سا جواب دیا
“یہ کیا گهٹیہ حرکت کی ہے تم نے…”
“کونسی ڈیڈ…”
اس کے انجان بننے پر اس نے اپنے امڈنے والے غصے کو ضبط کیا تها
“انجان بننے کی کوشش مت کرو یہ کیا ہے….”
اس نے وڈیو اس کے سامنے کی تهی تو وہ گہرہ سانس لیتا اس کی جانب آیا

“ڈیڈ میں کسی قسم کی بات یا فضول نظریں عالیاب پر برداشت نہیں کر سکتا….”
“تو یہ کیا ہے اگر اس میں عالیاب کا فیس آجاتا تو تب جو اب لاکهوں لوگ دیکھ رہے ہیں تب دیکهتے تب کیا…”
وہ غصے سے بولا تها
“میں سب کی آنکهیں موچ لیتا….”
اس کی بات پر اس نے گہرہ سانس لیا
“خود کی غلطی مت ماننا اور کس کس کی آنکهیں نوچتے ہاں….”

“ڈیڈ اس کا فیس نہیں آیا اور اس میں اتنا ریکٹ کرنے کی کیا بات ہے…”
وہ نارملی انداز میں بولا
“تم وہاں شرعام بکواس کررہے ہو کہ عالیاب تمہاری بیوی ہے ہاں…”
وہ اس کے غصے کو مزید ہوا دے گیا تها
“ہونے تو والی ہے نہ وہ تو میری ہے صرف تو میں دنیا کے سامنے بیوی بتاوں یا منگیتر یا جو بهی اس سے فرق نہیں پڑتا….”
وہ ڈهیٹائی سے بولا

“دل تو کر رہا ہت تمہارے دو لگاوں لیکن اتنے بڑے ہو گئے ہو تمہارے مارتے بهی مجهے شرم آئے گی…”
اس کی بات پر وہ کهل کر ہنسا
“دانت اندر کرو ورنہ توڑ دوں گا…”
اس کی بات پر اس کی مزید ہنسی نکلی تهی
“میرے پیارے ڈیڈ….”
اس نے آگے بڑھ کر زور سے اس کی گال پر کس کی تو شہرام نے آنکهیں گهمائیں
“شرم کر لو باپ ہوں…”
اس نے شرم دلانا چاہی

“باپ ہیں تو ایسے کس کی ہے عالیاب ہوتی تو یہاں تهوڑی کرتا کس….”
“وجدان…”
اس نے اس کی بےشرمی پر تنبیہ انداز میں پکارا تو جوابا وجدان نے ایک آنکھ دبائی تهی
“اچها بابا نکاح کا سوچیں نہ کچھ….”
وہ مظلوم سی شکل بنائے بولا
“ہاں خاور سے بات ہو گئی ہے اسے اعتراض نہیں ایک بار عالیاب سے پوچهوں گا پهر تیاری کرو دلہا بننے کی..”
وہ اس کا کندها تهپتهپائے بولا
“یاہووو…”
اس نے خود کے بال بگاڑتے کہا تو شہرام بهی ہنسا تها اور پهر شہرام اپنے کمرے میں جب کہ وجدان زوہان کے کمرے میں چلا گیا تها
…………………………………
وجدان زوہان کے کمرے میں داخل ہوا تو وہ اوندهے منہ لیٹا شاید سو گیا تها
“زوہان سوئے ہو….؟”
اس نے بیڈ پر بیٹهتے اس کو کندهے سے جهنجهورتے کہا
“یار وجدان….”
وہ منہ بناتے بولا
“گهر سے بے گهر ہو گیا ہے تیرا بهائی چل تجهے بهی ساتھ لے کر جانا ہے…”
اس کی بات پر وہ فوراً سیدها ہوا
“سچی….”
“بڑے ڈیش ہو بڑا بےصبری سے انتظار ہے میرے بےگهر ہونے کا….”
اس نے گهورتے کہا تو اس نے اپنی آنکهیں ملی تهی
“وجدان مجهے آج تین بجے ٹیوٹی پر جانا ہے چند گهنٹے سونے دے میرے بهائی…”
وہ دوبارہ اوندهے منہ لیٹے بولا تو وہ بهی بیڈ پر لیٹا تها
“وجدان میں نے سونا ہے…”
اس کو بهی بیڈ پر لیٹتے دیکھ اس نے مظلومیت سے کہا
“بهائی میں بهی سونے لگا ہوں…”
اس نے لیٹے لیٹے ہی شرٹ کے بٹن کهولتے کہا
“تو تمہارا کمرہ ماموں کے غصے کی زد میں آگیا کیا آہہہ…”
وہ جو بات کر رہا تها وجدان کے زور سے پیر مارنے پر وہ کراہ اٹها تها
“یار بهائی ترس کهاو یار مجهے قسمے بہت نیند آرہی بہت تهکا ہوا ہوں…”
وہ تقریباً رونے والا تها
“تو سو جاو میں کون سا ڈسٹرب کر رہا بس زرا زبان سنبهال کے ورنہ بیڈ سے نیچے پهینک دوں گا…”
اس نے ایک ٹانگ اس پر رکهتے کہا
“بدتمیز…”
زوہان خود سے بڑبڑاتا آنکهیں بند کیں تهی
“سن چکا ہوں پر میں چهوٹوں پر رحم کرتا ہوں اس لیے معاف کیا…”
وہ جمائی لیتے بولا
“مہربانی ایس پی صاحب…”
اس کی بات پر وہ ہولے سے ہنسا اور پهر خاموشی چهائی تهی

“بهائی….”
وجدان نے تقریباً دس منٹ بعد دوبارہ پکارا لیکن دوسری جانب سے خاموشی تهی مطلب وہ سو چکا تها وہ اس کے سر کو دیکهتے مسکرایا اور ہولے سے ہاتھ پهیرا تها
پهر خود بهی آنکهیں بند کرتا نیند کی وادیوں میں گم ہو گیا تها