Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 60

روحا تعبیر سے وجدان کا کمرہ پوچھتی لاونچ سے نکلی تھی اور سیڑھیاں چڑھتی اس کے کمرے کی جانب گئی تھی
“ہاں بولو جلدی کیوں بلایا۔۔۔۔۔”
وہ جو دروازہ کھولتی اپنی رو میں بولتی اندر داخل ہوئی تھی وجدان کے ساتھ شافع کو دیکھ اس کے الفاظوں کو بریک لگی تھی اور بنا کچھ بولے پلٹی تھی کہ وجدان نے آگے بڑھتے اسے بازو سے پکڑتے روکا تھا تو اس نے پلٹ کر سنجیدگی سے وجدان کو دیکھا تھا

“وہ بات کرنا چاہتا ہے تم سے۔۔۔”
اس نے بھی اس کی سنجیدہ نظروں میں دیکھتے کہا تھا
“کیا بات کرنا چاہتا ہے رشتے سے ہاں کیا ہے نہ تو اب کیا چاہتا ہے۔۔۔۔”
وہ اکھڑے ہوئے لہجے میں بولی تھی
“کیا بات کرنی ہے اس نے وہ تمہیں بتا دیتا ہے میں باہر جاتا ہوں۔۔۔۔”
اس نے روحا کا بازو چھوڑتے کہا تھا
“نن-نہیں میں اس پر کیسے یقین کر کے اکیلے میں وہ بھی کمرے میں اس سے بات کر سکتی ہوں۔۔۔”
وہ اس کی بات سنتے فوراً گڑبڑائی تھی

“مجھ پر تو یقین کر سکتی ہو نہ۔۔۔۔؟”
اس کے پوچھنے پر اس نے بنا دیری کے اثبات میں سر ہلایا تھا
“کچھ نہیں ہوتا اس سے خوف کھانے کی ضرورت نہیں بات کر لو پھر آ جانا نیچے۔۔۔”
سنجیدگی سے کہتا شافع کو دیکھا جس نے اثبات میں سر ہلایا تھا پھر ایک نظر روحا کو دیکھتا کمرے سے نکلا تھا دروازہ بند ہوتے ہی روحا نے شافع کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا

“جلدی بولو کیا بات کرنی ہے مجھے نیچے جانا ہے پھر۔۔۔”
وہ پریشان زدہ چہرے سے اسے دیکھتی بولی تھی
“مجھ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں روحا۔۔۔۔”
وہ اس کی جانب قدم بڑھاتا دو قدم کے فاصلے پر رکا تھا
“جو بات کرنی ہے وہ کرو۔۔۔۔”
وہ کیے دیے انداز میں بولی تھی

“کیا میں تمہیں اچھا نہیں لگتا۔۔۔۔؟”
اس کے سوال پر وہ ماتھے پر بل ڈالے اسے دیکھنے لگی تھی
“نہیں۔۔۔۔”
یک لفظی جواب تھا لیکن اس کی روح کو مکمل گھائل کر گیا تھا
“کیوں۔۔۔۔؟”
وہ ایک قدم مزید اس کے قریب ہوا تھا
“شادی کے لیے ہاں کر دی ہے نہ اب کیا چاہتے ہو۔۔۔۔؟”
وہ غصے سے بولی تھی
“احسان کیا ہے کیا۔۔۔۔؟”
اس نے اس کی انکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تھا
“جو مرضی سمجھو احسان ہی سمجھو۔۔۔۔”
اس کا انداز پھیکا سا تھا

شافع نے کچھ پل اسے دیکھا پھر بازو سے پکڑتے قریب کیا تو وہ گڑبڑائی تھی دل کی دھڑکنوں نے اس کے عمل سے بھی زیادہ تیز رفتار پکڑی تھی

“میری جان۔۔۔۔۔”
اس نے اس قدر محبت سے اسے پکارا کہ روحا کا دل کیا وہ اس کے منہ سے یہی سنتی رہے لیکن پل میں خود کی اس خواہش پر لانت بھیجی تھی

“اتنے احسان مت کرو مجھ پر کہ ساری زندگی بھی محبت کروں تو ان احسانوں کا بدلا نہ چکا سکوں۔۔۔۔”
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے بولا تو وہ اس کی نظروں میں ایک پل بھی نہ دیکھ سکی اور نظروں کی تاب نہ لاتے ہوئے فوراً جھکا گئی تھی

“شش-شافع مجھے جانا چاہیے۔۔۔۔”
وہ دھیرے دھیرے اپنا بازو اس سے آزاد کروانے کی کوشش کرتے بولی تھی
“میں بھی جانا چاہتا ہوں تمہارے ساتھ زندگی کے ہر سفر میں۔۔۔۔”
وہ گرفت مزید مضبوط کرتے بولا تھا
“سستے ڈائیلوگ مت جھاڑو۔۔۔۔”
وہ خفگی سے دیکھتی اپنا بازو پھر سے آزاد کرانے لگی تھی اس کی بات سنتا وہ ہولے سے ہنسا تھا

“ڈائیلوگ سستے ہی سہی لیکن باخدا قسم دل بہت مہنگا ہو گیا ہے جب سے تمہیں اس دل میں رکھا ہے۔۔۔۔۔”
اس کی بات سنتے اپنا بازو چھڑواتے اس کے ہاتھ رکے تھے اور اس کی طرف دیکھنے لگی جہاں کہیں بھی اسے فریب نظر نہ آیا تھا آنکھوں میں محبت اور عزت تھی وہ پاگلوارانہ انداز میں اسے دیکھتا اسے بھی پاگل کر رہا تھا

“شافع چھوڑو میرا بازو۔۔۔۔”
ہوش میں آتے جب اسے اور کوئی چارہ نہ ملا تو رونی شکل بنائے بولتی اسے بھی ہوش کی دنیا میں پٹچ چکی تھی

“اوئے اوئے رونا نہیں اچھا چپ چپ چپ چھوڑ دیا کچھ نہیں کہتا۔۔۔۔”
وہ اس کا بازو چھوڑتا ایک قدم پیچھے ہوتا ہاتھ اٹھائے سلنڈر کرتا گڑبڑایا تھا اس کے انداز پر روحا کو بےاختیار ہنسی آئی جسے اس نے فوراً سے چھپایا تھا

“جاوں۔۔۔۔؟”
ناجانے کیوں روحا نے اجازت لی تھی
“نہیں۔۔۔۔”
وہ مسکراتا نفی میں سر ہلاتے بولا تھا تو وہ آنکھیں گھماتی کمرے سے نکلی تھی ہونٹوں کے کناروں پر مسکراہٹ نے چھوا تھا
“شافع بندہ اچھا ہے میں چاہتا ہوں ماضی بھول کر اپنی زندگی کھل کر جیو۔۔۔۔”
وہ جو جا رہی تھی وجدان کی آواز پر رکی اور پلٹ کر دیکھا جہاں وجدان پلر سے ٹیک لگائے ہاتھ سینے پر باندھے کھڑا تھا

“بس اپنے دوست سے کہو زیادہ فری نہ ہوا کرے۔۔۔”
وہ شوخ سی کہتی رکی نہیں تھی وہاں سے تیز تیز قدم لیتی چلی گئی تھی جب کہ اس کے پیچھے موجود شافع اس کی بات سنتے مسکراتا بالوں میں ہاتھ پھیرا تھا

“سن لیا نہ۔۔۔۔”
وجدان نے اس کے کندھے پر بازو رکھتے کہا تو اس نے مسکرا کر اسے دیکھتے ایک آنکھ دبائی تھی اور پھر دونوں ہنستے ہوئے نیچے چلے گئے تھے
………………………………
“تعبیر۔۔۔۔۔۔”
زوہان کچن میں کھڑا کب سے تعبیر سے گلے شکوے کر رہا تھا جنہیں وہ نظر انداز کر رہی تھی اسے لیے اب غصے سے بولا تھا
“زوہان میں مصروف نظر نہیں آ رہی کہا۔۔۔۔”
وہ مصروف سی بولی تھی
“بھاڑ میں جائے کام میرا دماغ مت خراب کرو تعبیر۔۔۔۔”
وہ سختی سے اس کے ہاتھوں کو پکڑتا ماتھے پر بل ڈالے بولا تو اس نے حیرت سے زوہان کو دیکھا تھا

“کیا مسئلہ ہے زوہان گھر مہمانوں سے بھرا پڑا ہے اور آپ ہیں کہ۔۔۔۔”
وہ بھی خفگی سے بولی تھی
“کیا تمہیں نظر نہیں آ رہا کیا مسئلہ ہے۔۔۔۔؟”
وہ مزید غصے سے بولا تھا
“زوہان جائیں یہاں سے۔۔۔۔”

“نہیں جاوں گا اگر یہیں چلتا رہا تو ہمارے بچے کب پیدا ہونگے۔۔۔۔”
“ششش زوہان آہستہ دماغ خراب ہے کیا۔۔۔۔”
اس کو بلند آواز میں بولتے دیکھ وہ اس کو ٹوکتے کچن کے دروازے کی جانب دیکھتے بولی تھی
“ہاں خراب ہے دماغ مزید مت خراب کرو چلو میرے ساتھ۔۔۔۔۔”
وہ اس کے ہاتھوں سے پکڑ کر قریب کرتا بولا تھا
“میں کہیں نہیں جا رہی۔۔۔۔”
وہ اپنا ہاتھ اس کی سخت ترین گرفت سے آزاد کروانے کی کوشش کرتے بولی تھی

“نہیں جانا۔۔۔۔؟”
“نہیں۔۔۔”
وہ فوراََ سے بولی تو زوہان نے ایک لمحہ اسے دیکھا اور اگلے ہی لمحے وہ اس پر جھکتا بنا کسی لحاظ کے اس کو بولنے کے قابل نہ چھوڑا تھا وہ اس کی سخت گرفت میں مچلنے لگی تھی سانس تھا گویا جیسے اخری ہو جیسے بند ہو گیا ہو اور زوہان تھا جو اسے چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھا
کچھ منٹ بعد رحم کھاتا وہ پیچھے ہوا تھا وہ کھانستے ہوئے تیز سانس لینے لگی اور پھولی سانس سے خفگی سے اسے دیکھا تھا

“یہ سزا تھی اب مزید ایسے کیا میرے ساتھ تو اس سے سخت ترین سزائیں ملیں گی پھر وہ جگہ کوئی بھی ہو جان سے مار دوں گا۔۔۔۔”
تنبیہ لہجے میں کہتا اس کے لبوں کو سختی سے رگرتا کچن سے چلا گیا تھا جب کہ محض وہ کھڑی اس کے الفاظوں کو ہی سوچ سکی تھی
………………………………
رات کا کھانا اور اس کی چائے کے بعد سب کچھ دیر خوش گپیاں لگانے کے بعد اپنے اپنے گھر چلے گئے تھے جب کہ ملک ویلا کے تمام افراد تھکن سے چور ہونے کی وجہ اپنے اپنے کمروں میں آرام کی غرض سے چلے گئے تھے
………………………………
روحا گھر آنے کے بعد واشروم فریش ہونے چلی گئی تھی لیکن جیسے ہی نکلی سامنے بیڈ پر موجود شخصیت کو دیکھتے اس کے حلق سے چینخ نکلی تھی لیکن ہوش میں آتے فوراً منہ پر ہاتھ رکھتی بند دروازے کو دیکھا پھر بیڈ پر موجود شافع کو جس نے اس کی چینخ سنتے کانوں پر ہاتھ رکھا تھا

تم یہاں کیا کر رہے ہو کیسے آئے یہاں۔۔۔۔؟”
وہ حیرانگی سے اس سے پوچھنے لگی تھی جس نے پوری ایمانداری سے کھڑکی کی جانب اشارہ کیا تھا پھر اپنا کندھا تھپتھپاتے خود کو داد دی تھی روحا نے دانت پیسے تھے

“شافع جاو یہاں سے کسی نے دیکھا تو قیامت برپا ہو جائے گی پلیز جاو۔۔۔۔”
وہ خود کا غصہ قابو میں رکھتے بولی تھی تو اس نے نچلا ہونٹ دانتوں میں دبائے نفی میں سر ہلایا اور پھر بیڈ پر اٹھ کر بیٹھا تھا
“میں یہاں ایک کام سے آیا ہوں پریشان مت ہو تمہیں مجھ سے کبھی تنہائی میں ڈرنے یا خوف کھانے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔”
اس نے سنجیدگی سے کہتے اسے یقین دلانا چاہا تھا تو وہ بال کان کے پیچھے اڑیستے اسے دیکھنے لگی تھی جو بیڈ سے اترا تھا

“کک-کیا کام۔۔۔۔؟”
اسے اپنی جانب بڑھتا دیکھ اس نے قدم پیچھے لیے تھے اس کو یو قدم پیچھے لیتے دیکھ شافع رکا تھا
“آنکھیں بند کرو۔۔۔۔”
“نن-نہیں۔۔۔۔”
اس کی خوف سے آنکھیں پھیلیں تھی تو شافع نے گہرا سانس لیتے اردگرد متلاشی نظروں سے دیکھا تھا پھر کانچ کے ٹیبل پر موجود کانچ کا خالی جگ اٹھایا تھا اس کی اس کاروائی پر وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی تھی شافع نے وہ کانچ کا جگ اس کی جانب بڑھایا جسے اس نے ناسمجھی سے تھاما تھا

“اگر تمہیں زرا بھی لگے کہ میری نیت ٹھیک نہیں تو یہ میرے سر پر مار دینا۔۔۔”
اس نے سنجیدگی سے کہا تو وہ خاموشی سے اسے دیکھنے لگی اس نے آنکھیں بند کرنے کا اشارہ کیا تو روحا نے جگ پر گرفت مضبوط کرتے اپنی آنکھیں بند کیں تھی

“روحا۔۔۔۔۔”
وہ گھٹنوں کے بل بیٹھتا بولا تو اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولے اسے دیکھا تھا جو گھٹنوں کے بل بیٹھا ہاتھ میں خوبصورت رنگ لیے آنکھوں میں محبت کا جہاں سمائے اسے دیکھ رہا تھا اس کا دل زورو سے دھڑکا تھا وہ سانس روکے اسے دیکھ رہی تھی

“روحا میرا اللہ گواہ ہے میرے اس دل نے تمہیں پوری ایمانداری سے چاہا ہے میرا اللہ گواہ ہے تمہارا کیا مقام ہے اس دل میں۔۔۔۔”
وہ پل کو رکتا اس کی نم ہوتی آنکھوں میں دیکھنے لگا تھا
“میری نیت صاف ہے میں صاف نیت سے تمہیں اپنا محرم بنانا چاہتا ہوں ساری زندگی تمہارے نکھرے اٹھانا چاہتا ہوں تمہیں بےتحاشا پیار کرنا چاہتا ہوں کہ تمہیں رشک ہو خود پر میں تمہارے ماضی کی ہر تلخ یاد تمہارے دل و دماغ سے نکال کر اس میں اپنی سچی محبت کو موتیوں کی طرح پرونا چاہتا ہوں انہیں ڈائیلوگ سمجھو یا جو بھی لیکن۔۔۔۔”
وہ پھر سے رکا تھا

“لیکن خدا قسم میں سچائی بیان کر رہا ہوں میرا ہر لفظ تمہاری محبت کا گواہ ہے اور اس محبت کو نکاح میں بدلنا چاہتا ہوں روحا ول یو ٫ ول یو میری می۔۔۔۔۔”
اس نے اپنا دوسرا ہاتھ بھی اگے بڑھایا تھا روحا نے نم آنکھوں سے مسکرا کر اسے دیکھا اور سر اثبات میں ہلاتے اپنا بائیاں ہاتھ اس کے ہاتھ میں تھمایا تھا شافع مسکراتا ہوا کھڑا ہوا اور مسکراتے ہوئے اسے دیکھتا اا کو رنگ پہنائی تھی روحا نے اس رنک کو دیکھا جو ایک چھوٹے سے نگ والی سادہ سی بہت بہت خوبصورت تھی

“آئی لو یو روحا۔۔۔۔”
اس نے بولتے جگ اس کے ہاتھ سے لیتے ٹیبل ہر رکھا تھا اور اس کے دونوں ہاتھ تھامے تھے
“میں تمہیں مجبور نہیں کرونگا یا زبردستی نہیں کرونگا کہ مجھ سے محبت کرو کیونکہ میں جانتا ہوں تم خود میری محبت میں رنگ جاو گی مجھے معلوم ہو۔۔۔۔”
اس نے دھیرے سے اس کے ہاتھوں کو لبوں سے لگایا تھا کہ روحا کی دھڑکنوں میں اشتعال برپا ہو گیا تھا
“اب میں چلتا ہوں خیال رکھنا آئی لو یو۔۔۔۔”
مسکرا کر اس کی گال تھپتھپائی تو جوابا وہ بھی مسکرائی تھی

وہ اسے دیکھتا کھڑکی کی جانب گیا تھا
“شافع دھیان سے جانا۔۔۔۔”
وہ بھی اس کے پیچھے کھڑکی کی جانب آئی تھی وہ جو کھڑکی سے اترنے والا تھا اس کی پریشان زدہ آواز سنتے رکی تھی
“اب تو جانا ہی پڑے گا دھیان سے۔۔۔۔”
ایک آنکھ دبا کر کہتا نیچے اترنے لگا تھا نیچے اترنے جے بعد اس نے روحا کو ہاتھ ہلایا جواباً روحا نے بھی ہاتھ ہلایا تھا پھر شافع اردگرد دیکھتا وہاں سے نو دو گیارہ ہوا تھا اس کے نظروں سے اوجھل ہوتے ہی اس نے ہاتھ کی انگلی میں موجود اس انگوٹھی کو دیکھا اور مسکراتے ہوئے اس پر انگوٹھا پھیرا تھا اور پھر گہرا سانس لیتی کھڑکی بند کرتی کمرے میں واپس آ گئی تھی
………………………………
السلام و علیکم کیسی لگی قسط میرا دل تھا کہ تھوڑا روحا اور شافع کا بھی اسپیشل ہو جائے ان میں بھی تقریباً سب ٹھیک ہو جائے تو کیسی لگی قسط