Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 61

وہ کمرہ جہاں پچھلے تین مہینوں سے کبھی بچے کے رونے کی آوازیں آتی کبھی ماں کے رونے کی
“میرا بچہ چپ ہو جائے مما کا صبح پیپر ہے وہ گندا ہوا تو کتنی غلط بات ہے۔۔۔۔”
دعا چار مہینے کے شازل کو اٹھائے کمرے میں ٹہلتی اس کی کمر سہلا رہی تھی جو گالا پھاڑے اسے بہرہ کرنے پر تلا ہوا تھا جب کہ دوسرے ہاتھ میں وہ کتاب پکڑے رونی شکل بنائے اسے کہہ رہی تھی

“شازل بیٹا مما کو کچھ نہیں آتا پیپر کا اللہ کا واسطہ ہے تھوڑی دیر کے لیے چپ ہو جاو۔۔۔”
اس کو مسلسل گلا پھاڑتے دیکھ وہ ایک جگہ رکتی کتاب بند کرتی اپنے سر پر مارتے بولی تھی اس نے اس کو خاموش نہ ہوتے دیکھ کتاب بیڈ پر پھینکی تھی

“میرا پیارا بیٹا مما کی جان چپ ہو جائے ورنہ وہ اپ کے بابا کی جان کھا جائے گی۔۔۔۔”
وہ اس کو ہوا میں اچھالتے ہوئے بولی تھی جس سے وہ اور منہ کھولے آنکھیں بند کیے رونے لگا اور سعد جو ابھی ابھی گھر آیا تھا روم سے باہر آتی اس کی آواز اس کے الفاظ سنتے وہ مسکرایا تھا وہ جانتا تھا اس کی چشمش سے وہ پھر چپ نہیں ہو رہا

“ادھر لاو مجھے دو تھوڑا گھما کر لاتا ہوں باہر۔۔۔”
وہ اپنا بیگ بیڈ پر پھینکتے شازل کو اس سے لیتے ہوئے بولا تھا تو اس نے فوراً سے اسے پکڑایا جیسے وہ پہلے ہی تیار ہو سعد شازل کو اٹھاتا کمرے سے نکلا تھا تو دعا بیڈ پر بیٹھتی گہرا سانس لیا اور اپنا سر تھاما تھا وہ پاگل ہو کر رہ گئی تھی

کچھ منٹ بعد سعد واپس آیا تو اپنی شریک حیات کو سر تھامے بیڈ پر بیٹھا دیکھ اپنی مسکراہٹ چھپائی تھی ورنہ وہ اس پر چڑھ دوڑتی وہ دھیرے سے چلتا اس کے پاس آیا اور اس کے ہاتھوں کو تھاما تھا اور تقع کے عین مطابق وہ رو ہی رہی تھی

“اب رو کیوں رہی ہو۔۔۔۔؟”
وہ اس کے انسووں صاف کئیے بولا تھا
“شازل نے کچھ بھی پڑھنے نہیں دیا مجھے کچھ یاد نہیں ہو رہا اور کل پیپر ہے۔۔۔۔”
وہ روتے ہوئے بولی
“اووو میرا بچہ تو اس میں رونے کی کیا بات ہے میں آ گیا ہوں نہ جلدی آج میں سنبھال لوں گا رات کو بھی اسے تم صرف پڑھ لو۔۔۔”
وہ محبت سے اس کا چہرہ تھامے بولا تھا جس نے سوں سوں کرتے سر اثبات میں ہلایا

” شازل کہاں ہے۔۔۔۔۔؟”
اس نے چشمہ اٹھاتے لگاتے پوچھا تھا
“زوہان کے کمرے میں ہے۔۔۔۔”
وہ اس کے سرخ چہرے سرخ ناک کو دیکھتا اور خوبصورت آنکھوں پر لگایا چشمہ دیکھتا تو قربان ہی ہو گیا تھا

“اوف یہ چشمہ عفیف آنکھوں پر
ہم نے مانی ہے ہار توبہ ہے”

وہ بےاختیار شعر پڑھتا چشمہ اس کی آنکھوں سے ہٹایا تھا شعر سنتے وہ شرمیلا سا مسکرائی تھی

“دعا تم دن با دن مزید نکھرتی میرا ایمان ڈگمگاتی ہو یقین جانو کتنی مشکل سے قابو کیا ہوا ہے نہ سوچ نہیں سکتی کہ نکی سی جان ہے کہیں نقصان نہ پہنچ جائے۔۔۔۔”
وہ بیٹھے بیٹھے ہی اپنا ہاتھ اس کی کمر کی جانب لے جاتے ہوئے بولا تھا
“سعد پپ-پڑھنے دیں۔۔۔۔”
وہ اس کے جذباتوں سے گھبرائی تھی

“پڑھو نہ میری ان آنکھوں میں جہاں تمہاری محبت کی ہر تحریر جذباتوں سے لکھی ہے۔۔۔۔”
جذبات سے بوجھل لہجہ اس کو نظریں جھکانے پر مجبور کر گیا تھا
“بس دو سمیسٹرز باقی ہیں تمہارے تب تک شازل بھی بڑا ہو جائے گا پھر۔۔۔۔۔”
وہ اسے قریب کرتا بات ادھوری چھوڑ گیا تھا اس کی بات کا ادھورا مطلب سمجھتی اس نے سعد کو گھورا تھا پھر مسکرا کر اس کی تھوڑی پر اپنے لب رکھے اور پھر شرارت سے اس کی داڑھی کے کچھ بالوں کو دانتوں میں لیتی کھینچے کہ وہ کراہ اٹھا تھا دعا اس کے کراہنے پر کھلکھلائی تھی

“اب تم خود پنگا بازی کر رہی ہو پھر کہو گی سعد پڑھنے دیں نہ۔۔۔۔”
وہ آخر میں اس کی نکل اتار کر بولتا دونوں ہاتھوں سے پکڑتا قریب کرتے اس کے ناک پر کاٹا تو اس پر چینخنے کی باری دعا کی تھی دعا اپنی ناک سہلاتے اسے دیکھنے لگا جو اب اسے زبان دیکھا رہا تھا اس کی بچکانا حرکت پر دعا کی ہنسی نکلی تھی اور پھر ہنستے ہوئے سعد کے گلے لگی تھی

“آئی لو یو سو مچ سعد لو یو سو مچ۔۔۔۔”
وہ زور سے اسے ہگ کرتے بولی تو جوابا وہ ہنسا تھا
“لو یو ٹو بولیں سعد۔۔۔۔”
اس کو ہنستے دیکھ اس نے ماتھے پر خفگی کے بل ڈالے کہا تھا
“لو یو ٹو سعد کی جان سعد کے بیٹے کی مما۔۔۔۔”
وہ بھی اسے زور سے خود میں بھینچتا بولا تھا
………………………………
“زوہان اور تعبیر اسپیشل”❤️

“میرا بچہ حورے دل چاچو کی جان شان بان ٹھان پان دان۔۔۔۔”
زوہان جو حورے دل کو اٹھائے اپنی ہی دھن میں بولتا کمرے میں داخل ہوا تھا کہ تعبیر کے پاس شازل کو موجود دیکھ اس کے الفاظوں کو بریک لگی تھی
“شازل میرا بےبی کب آیا۔۔۔۔؟”
اس نے حورے دل کو بیڈ پر لیٹاتے شازل کو تعبیر سے لیتے پوچھا تھا جو اب مسکراہٹ چہرے پر سجائے حورے دل کو اٹھا چکی تھی

“دعا کا پیپر ہے اور دعا کی ناک میں دم کیا ہوا تھا شازل نے میں باہر نکلی تو سعد بھائی بیچارے شازل کو اٹھائے بہت مشکل سے چپ کرواتے ٹہل رہے تھے ان کے حلیے سے لگ رہا تھا جیسے ابھی کام سے ائے ہوں تو میں ان سے شازل کو لے ائی۔۔۔۔”
وہ حورے دل کی گالوں کو چٹا چٹ چومتے ہوئے بولی تھی

“ہاں عالیاب کا بھی پیپر ہے وہ بھی حورے دل کو اٹھائے رٹا لگانے میں مصروف تھی۔۔۔۔”
وہ شازل کو لیتا بیڈ پر اس کے ساتھ بیٹھا تھا اور حورے دل کی گال کو نرمی سے چھوا تھا
“حورے دل دیکھو شازل بھائی۔۔۔۔”
تعبیر نے محبت سے کہا تو وہ آنکھیں ملتی کبھی تعبیر کو دیکھتی کبھی زوہان تو کبھی شازل کو
وجدان کی بیٹی کا نام تعبیر نے رکھا تھا جب کہ سعد کے بیٹے کا نام پارس نے رکھا تھا

“زوہان کے دل اپنے دل ہر بھی دھیان دو نہ۔۔۔۔”
وہ لاڈ سے تعبیر سے بولا جو حورے دل کو ساتھ لگائے شازل کے ننھے ننھے ہاتھ تھامے ہونٹوں سے لگائے تھے
“کیا دھیان دوں۔۔۔۔؟”
اس نے مسکراہٹ دبائے ناسمجھی سے پوچھا
“ایک سال ہو گیا ہے ہمارے بچے کب آئیں گے کب تک وجدان اور سعد بھائی کے بچوں سے پیار کریں گے۔۔۔۔”
وہ منہ بنائے بولا تو تعبیر نے آنکھیں دیکھائیں تھی

“زیادہ جلدی نہیں آپ کو۔۔۔۔”
“ایک سال سے زیادہ ہونے والا ابھی بھی جلدی کہہ رہی ہو۔۔۔۔”
وہ پہلے منہ کھولے اسے دیکھنے لگا پھر جلدی سے بولا تھا

“مجھے تو لگتا ہے تعبیر زوہان مصطفی ہم ساری زندگی ڈاکٹر ڈاکٹر کھیلتے ہی گزار دیں گے اپنے بچوں کو کھیلانے کا شوق ہی رہ جائے گا۔۔۔”
وہ منہ بنائے بولتا اس کے کندھے سے سر ٹکایا تھا اس نے بامشکل اپنی ہنسی ضبط کی تھی
“ہاں تو کتنی اچھی بات ہے ڈاکٹر ڈاکٹرنی ایک ساتھ کام کرتے ہی اس فانی دنیا سے کوچ کر جائیں گے۔۔۔۔”
اس نے اس کو تپانا چاہا تھا اور وہ تپ بھی گیا تھا

“یار تعبیر تمہارا کیا مسئلہ ہے تمہیں اس کے علاوہ اور کوئی کام نہیں جب دیکھو مر جانے کا شوق چڑھا ہوتا ہے۔۔۔۔”
وہ خفگی سے ماتھے پر بل ڈالے بولا تھا تو اس نے حورے دل کو بیڈ پر لیٹاتے زوہان سے شازل کو لیا اور اسے بھی حورے دل کے قریب بیڈ پر لیٹا کر خود زوہان کے ہاتھ تھامتی اس کے قریب ہوئی تھی

“جب اللہ کو منظور ہوا زوہان تب ہمارے بھی بچے آجائیں گے۔۔۔۔”
وہ محبت سے اس کے ہاتھوں پر دباو ڈالے بولی تھی
“تو اس کے لیے محنت کریں گے تو آئیں گے تن تو دور بھاگتی ہو بس۔۔۔۔”
وہ ایک انچ کا فاصلہ ہی ہٹائے اس کے مزید قریب ہوتا اا کے ماتھے پر لب رکھ گیا تھا وہ جو اس کی بات سنتے خفگی سے اسے دیکھ رہی تھی اس کے عمل سے دل و جان سے مسکرائی تھی زوہان نرمی سے اسے خود میں بھینچتا اپنے لمس سے اسے سکون بخشنے لگا تھا وہ بھی اس کے گلے میں باہیں ڈالے آنکھیں موندیں اس کی قربت سے لطف اندوز ہو رہی تھی

“میرے دل میری جان میرے ایمان کی طرح مضبوط میری محبت میرے دل کا قرار میری جند جان میرا سب کچھ ہو تم۔۔۔۔”
وہ ہونٹ اس کی گال سے ٹکائے دھیرے دھیرے بول رہا تھا اور وہ ہونٹوں پر تبسم بکھیرے اس کے الفاظوں کو اپنے سینے میں اتار رہی تھی
زوہان کی گرم سانسیں اپنے چہرے محسوس کرتی اس کو شرٹ سے تھامے مزید قریب کیا تھا اور اس سے پہلے وہ مزید گستاخیاں کرتا رونے کی آواز نے دونوں کو ہوش کی دنیا میں لا پٹخا تھا وہ دونوں ہوش میں آتے اپنے قریب لیٹے ان دونوں کو دیکھا تعبیر نے روتی ہوئی حورے دل کو فوراً سے اٹھایا تھا

“اوئے شازل کے بچے تو نے کچھ کہا ہے۔۔۔۔”
زوہان نے شازل کے اوپر ہوتے اس کے دونوں ہاتھوں کو پکڑتے پوچھا تھا جو کبھی زوہان کو دیکھتا اور کبھی روتی ہوئی حورے دل کو

“نن-نہیں شازل نہیں۔۔۔۔”
زوہان شازل کو نچلا ہونٹ نکالے اور ایک آنکھ ملتے دیکھ فوراً بولا اور اس سے پہلے وہ شازل کو اٹھاتا وہ بھی گلا پھاڑتا شروع ہو چکا تھا زوہان نے منہ بنائے ہنستی ہوئی تعبیر اور گلا پھاڑتے حورے دل اور شازل کو دیکھا تھا پھر گہرا سانس لیتے شازل کو اٹھاتے ٹہلنے لگا تھا جب کہ تعبیر بھی مسکراتی ہوئی حورے دل کو کندھے سے لگائے اس کی کمر سہلانے لگی تھی
………………………………
“وجدان اور عالیاب اسپیشل”❤️
وجدان نہا کر نکلا تو اکیلی عالیاب کو بیڈ پر بیٹھے دیکھ متلاشی نظروں سے اردگرد دیکھا تھا
“عالی جان حورے دل کہاں ہے۔۔۔۔؟”
جب اسے حورے دل نظر نہ آئی تو اس نے عالیاب سے پوچھا تھا
“زوہان بھائی لے گئے ہیں۔۔۔۔”
اس نے نوٹس سے پک کھینچتے مصروف سے انداز میں کہا تھا
“بےبی تھوڑی دیر باہر گھومنے چلیں بہت دل کر رہا ہے۔۔۔۔”
وہ تولیے سے بال رگڑتا عالیاب سے بولا تھا لیکن اس نے کوئی جواب نہ دیا تھا
“عالیاب تم سے مخاطب ہوں۔۔۔۔”
اس نے دوبارہ سے عالیاب کو مخاطب کیا تھا

“سکندر صبح میرا پیپر ہے تنگ مت کریں حورے دل کو لے جائیں۔۔۔۔”
اس نے اپنے کام میں مشغول ہی کہا
“حورے دل کی مما بھی ساتھ چلے۔۔۔۔”
وہ تولیہ صوفے پر اچھالتا بولا تھا
“سکندر مجھے تنگ نہیں کریں سمجھ نہیں آتا کیا مجھے نہیں جانا۔۔۔۔”
اس نے اسے ٹالنا چاہا تھا لیکن وہ بھی وجدان سکندر تھا اتنی آسانی سے ٹل جاتا ایسا ہو ہی نہیں سکتا تھا

“ایسی کی تیسی جائے گی تو مطلب جائے گی۔۔۔۔”
وہ اگے بڑھتا کتابیں سائیڈ پر کرتا ایک گھٹنہ بیڈ پر ٹکائے وہ اس کے چہرے سے تھامتا اس پر جھکا تھا لیکن اگلے ہی لمحے کراہتا ہوا بیڈ پر لیٹا تھا عالیاب نے منہ ہاتھ رکھتے اسے دیکھا جو اپنے احتجاج میں شاید اس کا نقصان کر چکی تھی

“سس-سوری سکندر میں نے جان بوجھ کر نہیں مارا۔۔۔۔۔”
وہ اس کے سینے پر ہاتھ رکھے بولی جو آنکھیں بند کیے کراہ رہا تھا
“سس-سکندر۔۔۔۔۔۔”
اس نے ڈر سے پھر اس کو پکارا تھا
“عالیاب جاو یہاں سے کچھ دیر سامنے مت آنا۔۔۔۔”
وہ غصے سے بند آنکھوں سے ہی بولا تھا وہ لب کچائے اسے دیکھنے لگی جو اس کو بہت غلط جگہ پر مار چکی تھی
“عالیاب جاو سمجھ میں نہیں آتا۔۔۔۔”
اس کی دھاڑ سنتے وہ ایک دم سے اچھلی تھی اور نم آنکھیں لیے فوراً بیڈ سے اٹھی تھی اور اپنے آنسووں کو باہر نکلنے پر پابندی لگاتے بیڈ پر تیز تیز سانس لیتے وجدان کو دیکھا تھا

“ابھی تک یہاں ہو کیوں جاو یہاں سے سمجھ نہیں ایا۔۔۔۔۔”
وہ پھر سے غصے سے دھاڑا اور وہ جو دوبارہ معافی چاہی تھی منہ پر ہاتھ رکھتے باہر جانے کو پلٹی تھی اس سے پہلے وہ بھاگتی وجدان نے ہاتھ کھینچتے اسے اپنے اوپر گرایا تھا ایک ہلکی سی چینخ کے ساتھ وہ اس کے اوپر آ گری تھی

“ڈر گئی۔۔۔۔۔”
وہ اس کی نم آنکھوں اور سہمے سے چہرے کو دیکھتے بولا جس نے خوف سے نظریں اٹھائے اسے دیکھا تھا اس کی خوف زدہ نظروں کو دیکھتے وہ زور سے ہنسا تھا جب کہ وہ حیرت سے اس کو یوں ہنستے ہوئے دیکھنے لگی تھی
“سوری سکندر۔۔۔۔”
اسے لگا شاید اس کا غلط اثر ہوا ہے جو اس کے دماغ پر چڑھ گیا ہے

“اوو میرے دل کی ملکہ مزاق کر رہا تھا ہاہاہاہا۔۔۔۔۔”
وہ ہنسنے کے دوران بامشکل بولا تھا اور اس کی کارستانی سمجھتی اس نے غصے سے اسکے سینے پر مکے برساتے اٹھنا چاہا تھا لیکن وہ اسے نیچے کرتا خود اوپر ہوتا اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنی گرفت میں لیا اور اس کے حسین چہرے کو دیکھا جو غصے سے سرخ ہو گیا تھا

“مزاق کر رہا تھا میری جان۔۔۔”
وہ اپنا ماتھا اس کے ماتھے سے رگڑتے بولا تھا تو وہ اس کی گرفت میں مچلنے لگی تھی
“دور ہو جائیں ورنہ وہی دوبارہ مار دوں گی بتا رہی ہوں۔۔۔۔”
اس کی بات سنتے اس نے عالیاب کو گھورا تھا لیکن اس کی شکل دیکھتے دوبارہ ہنسا تھا
“اچھا سوری میری جان صرف تھوڑا ریلیکس کرنا چاہتا تھا تمہیں۔۔۔۔”
وہ اس کے ہاتھ چھوڑے اس کے بالوں کو سہی کرتے بولا تھا جو خفگی سے اسے دیکھ رہی تھی

“مائے موم از دا کوئین اوف مائے ڈیڈز ہارٹ اینڈ یو۔۔۔۔۔”
اس نے پل کو رکتے اپنی نیلی آنکھوں کو اس کی آنکھوں میں گاڑا تھا
“اینڈ یو آر مائے ہارٹ بیٹ مائے لو۔۔۔”
وہ شدت سے اس کا ماتھا چومتے ہوئے بولا تھا اور وہ اس کی خوبصورت نیلی آنکھوں میں اپنا آپ ڈوبتا ہوا محسوس کر رہی تھی
“میں نے تم سے پہلے اپنی موم کو بہت چاہا بہت اب بھی بےانتہا چاہتا ہوں لیکن پھر تم میری چاہت بنی اور اب اس چاہت کا حصہ ہماری بیٹی حورے دل بھی ہے۔۔۔۔”
وہ انگوٹھے سے اس کی گال سہلائے بولا تھا اور پھر کتابوں کو دور ہٹاتا وہ اس کو مکمل اپنے حصار میں لے چکا تھا وہ بھی ہر ٹینشن ہر چیز اس کی قربت میں بھول گئی تھی
………………………………
“شافع اور روحا اسپیشل”❤️
مری کی شال میں ٹھنڈی یخ بستہ تھرتھرا دینے والی ہوائیں کسی کو بھی باہر نکلنے سے روک رہی تھی شام پانچ بجے کا وقت بھی سات بجے سا سماں دے رہا تھا وہ دونوں بھی بھی ٹھنڈے ہاتھوں کو آپس میں رگڑتے ایک ہٹ میں گئے تھے جہاں شافع نے کچھ دیر پہلے آگ جلائی تھی وہاں جاتے ساتھ روحا آگ کے قریب بیٹھ گئی تھی جب کہ اس کو یوں بیٹھتے دیکھ شافع مسکرایا اور اس کے سامنے بیٹھتا اسے دیکھنے لگا تھا جو اگ پر ہاتھ گرم کرتی کبھی منہ پر لگاتی تو کبھی ان کو رگڑتی تھی

شافع نے اس ٹھنڈی شام میں اس حسن کی پیکر لڑکی کو دیکھا جو اگ کے قریب بیٹھے ہونے کی وجہ سے اس کی سرخ لپٹیں اس کے چہرے پر سایہ چھوڑتیں اس کی خوبصورتی کو مزید چار چاند لگا رہی تھی اوپر سے کھلے بال بار بار پیچھے کرتی اس کا دل مزید بےایمان کر گئی تھی

وہ اپنی جگہ سے اٹھتا اس کے قریب آیا اور اس کے پیچھے بیٹھتا اس کے ہلکے ہلکی گرم ہوتے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھامتے اس کے کندھے پر اپنی تھوڑی ٹکائی تھی روحا نے تیز سانس لیتے اسے دیکھا تھا سانس لیتے وقت اس کے منہ سے دھواں نکل رہا تھا جہاں کراچی میں گرمی پڑ رہی تھی وہی مری ابھی تک تھرتھرا دینے والا تھا

“زیادہ سردی لگ رہی ہے میری جانم۔۔۔”
بولتے ہوئے اس کے منہ سے بھی دھواں نکل رہا تھا
“کتنی سردی۔۔۔۔؟”
وہ اس کی گردن پر اپنے ہونٹوں کا لمس چھوڑتے بولا تھا جب کہ اپنی گردن پر اس کا گرم لمس محسوس کرتے اس نے آنکھیں بند کرتے اسے محسوس کیا تھا اس کو یوں آنکھیں بند کرتے دیکھ اس کے حسن کو اپنے نظروں کے حصار میں لیا تھا

“آج ہماری شادی کو چھے مہینے ہو گئے جانان لیکن مجھے ابھی بھی یقین نہیں آتا تم میری بن گئی ہو۔۔۔۔۔”
بولتے ہوئے شافع کے ہونٹ روحا کے کان سے ٹچ ہو رہے تھے اس کے لمس کے باعث اس سے کچھ بھی بولا نہیں جا رہا تھا
“میں اللہ کا جتنا شکر ادا کرتا ہوں کم ہے میں بہت خوش ہوں بہت بہت بہت۔۔۔۔۔”
یہ بولتے اس نے روحا کے کان کی لو کو چوما تھا

“شش-شافع۔۔۔۔۔”
روحا کی گہری سانسوں کے درمیان شافع کا نام گونجا تھا شافع نے اپنا ہلکا ٹھنڈہ ہاتھ اس کی گردن پر لگایا تھا اس کے عمل سے وہ تھوڑا مزاحمت میں آئی تھی لیکن شافع نے اسے مکمل حصار میں لیا ہوا تھا روحا نے بھی ریلیکس سے اندازہ میں اس کے سینے سے اپنی پشت ٹکائی تھی اور اس کے ایک ہاتھ کو اپنے بیٹ سے گزارا تھا

“کیا تم خوش ہو رہا۔۔۔۔؟”
وہ اس کی گال پر کس کرتے پوچھنے لگا تھا
“بہت خوش شاید زندگی میں اتنا کبھی نہیں ہوئی جتنا تم نے ان چھے مہینوں میں مجھے رکھا ہے۔۔۔۔”
وہ سر تھوڑا اٹھاتے اس کی طرف دیکھتے بولی تھی تو وہ شدت سے اس پر جھکا تھا جب کہ روحا نے بھی آنکھیں بند کیے ایک ہاتھ اس کے چہرے پر رکھا تھا جب کے دوسرا ہاتھا اپنے پیٹ پر موجود اس کے ہاتھ پر تھا اس کو مزید شدت اختیار کرتے دیکھ اس نے مزاحمت چاہی تھی اس کو مزاحمت میں آتے دیکھ شافع پیچھے ہوا اور پھر پیچھے سے سختی سے اسے خود میں بھینچا تھا

“آئی لو یو مائے ہارٹ۔۔۔۔”
روحا سرگوشانہ انداز میں بولی جسے بامشکل شافع نے سنا تھا
“بٹ آئی ہیٹ یو۔۔۔”
اس نے شرارت سے کہا تو روحا نے پھٹ سے آنکھیں کھولتے اسے گھورا تھا اور فوراً اس کی گرفت سے نکلی تھی
“بات مت کرو شافع۔۔۔۔”
وہ ناراضگی دیکھاتی اٹھی تھی اس سے پہلے جاتی شافع نے فوراً اس کا ہاتھ تھاما تھا
“اچھا سوری قریب آجاو واپس دوبارہ نہیں کہوں گا مزاق کر رہا تھا۔۔۔۔”
وہ معصوم سی شکل بنائے بولا اور خود کو کوسا اس نے ایسا مزاق کیوں کیا اگر نہ کرتا تو وہ اس کے قریب سے نہ اٹھتی

“نہیں آوں گی۔۔۔۔؟”
وہ مزید ناراضگی دیکھائے بولی البتہ اپنا ہاتھ نہیں چھڑوایا تھا
“اتنا بڑا فیصلہ ایک ہی بار میں۔۔۔”
وہ شرارت سے بولا تو اس نے کوئی جواب نہ دیا تھا شافع بھی کھڑا ہوا تھا اور اس کو کندھوں سے تھامتے رخ اپنی جانب کیا تھا

“بھلا شافع اپنی روحا سے نفرت کر سکتا ہے اس کی محبت تو اپنی حدوں سے نکلتی عشق کی حد میں گھس چکی ہے شافع بھلا نفرت کر سکتا ہے جس کی ہر سانس روحا کا ورد کرتی ہو وہ بھلا کیسے اپنی شریک حیات سے نفرت کر سکتا ہے۔۔۔۔”
وہ اس کے ماتھے پر مہر ثبت کیے بولا تو روحا اس کے سینے سے لگی تھی جب کہ شافع نے بھی اسے خود میں بھینچا تھا
………………………………
“پارس اسپیشل”🤣
“بابا مجھے نہیں پتا میری شادی کروائیں یہ کیا بات ہوئی بوڑھا کرنا ہے کیا اپنے بیٹے کو۔۔۔۔”
پارس احتشام کے سامنے کھڑا اج پھر اپنے حق میں آواز اٹھا رہا تھا یہ کوئی نئی بات نہیں تھی روز کا معمول تھا
“پارس پہلے پڑھائی تو مکمل کر لو پھر شادی بھی کروا دیں گے۔۔۔۔”
وہ کچھ فائلز دیکھتے بولا تھا

“عالیاب دعا بھی تو میرے ساتھ ہیں اور شادی تو پیچھے کی بات وہ تو ایک ایک بچے کی ماں بن گئی ہیں اور میں جو پارس ان سب سے پہلے منگنی ہوئی ابھی تک کنوارہ بیٹھا ہوں۔۔۔۔”
اس کی بات پر احتشام کے لبوں پر مسکراہٹ ائی تھی
“ایک سال کی بات ہے پھر کروادیں گے۔۔۔”
اس نے میرب کو دیکھتے کہا جو اپنے بیٹے کے احتجاج پر مسکرا رہی تھی
“یہ بات چھے مہینے پہلے بھی کہی تھی کہ شافع بھائی کی شادی پر میرا نکاح کروائیں گے لیکن جب وقت آیا سرے سے ہی بھول گئے۔۔۔”
وہ اس وقت کو یاد کرواتے بولا تھا

“بیٹا فکر مت کر میں بھی ایسے ہی احتجاج کیا کرتا تھا سنتا کوئی نہیں تھا پھر خود ہی شادی کر لی۔۔۔۔”
اس نے مسکراہٹ دبائے کہا تھا
“اچھا تو میں بھی خود ہی شادی کر لوں۔۔۔۔”
“اوئے نہیں بےغیرت۔۔۔۔”
احتشام ہنستا ہوا فوراً سے بولا تھا
“پارس بیٹا کمرے میں جاو میں بات کرتی ہوں حارز بھائی سے۔۔۔۔”
میرب نے پارس کو ایک آس دلائی تھی
“میں جا رہا ہوں لیکن اپنے حق کے لیے پھر آوں گا۔۔۔۔۔”
انگلی دیکھا کر کہتا کمرے سے نکلا پیچھے وہ دونوں نفی میں سر ہلاتے ہنسے تھے
………………………………