No Download Link
Rate this Novel
Episode 46
وجدان گاڑی چلاتا بار بار پریشانی سے اسے دیکھتا اور پوچھتا جو باہر کی جانب دیکھ رہی تھی
“میری جان بس پہنچنے والے ہیں کیسی ہے طبعیت۔۔۔۔؟”
اس نے دوسرے روڈ پر گاڑی ڈالتے آخر میں فکر مندی سے پوچھا تو اس نے مسکراہٹ دبائے اثبات میں سر ہلایا تھا
“سکندر۔۔۔”
اس نے نچلا ہونٹ دانتوں میں دبائے وجدان کو پکارا تھا
“کیا ہوا طبعیت زیادہ خراب ہو رہی ہے۔۔۔۔؟”
اس نے گاڑی کی سپیڈ بڑھاتے پریشان زدہ لہجے میں بنا اس کے چہرے پر شرارت دیکھے بولا تھا اور وہ کب سے اپنی ہنسی کنٹرول کرنے کے چکروں میں سرخ ہو رہی تھی اب اس کی شکل دیکھتے بہت زور سے ہسی تھی وجدان نے ناسمجھی سے اسے دیکھا تھا
“ہاہاہاہا گاڑی زرا سائیڈ پر لگائیں۔۔۔۔”
اس نے ہنسنے کے دوران کہا تو اس نے ویسے ہی ناسمجھی سے گاڑی روڈ کے سائیڈ پر لگائی تھی اور اس کی جانب پلٹا
“کیا ہوا ہنس کیوں رہی ایسے کیا درد سر کو چڑھ گیا ہے۔۔۔؟”
اس نے ماتھے پر تفکر کے بک ڈالے پوچھا تو اس نے ہنستے ہی نفی میں سر ہلایا
“ہاہاہا سوری سکندر وہ نہ میں ٹھیک ہوں مجھے کچھ نہیں ہوا۔۔۔۔”
اس نے اپنی ہنسے روکے کہا تھا
“مطلب۔۔۔۔؟”
وہ ابھی بھی الجھا ہوا تھا
“وہ میں نے آپ سے جھوٹ بولا تھا کہ میری طبعیت خراب ہو رہی ہے دل تو خراب ہو رہا تھا لیکن تھوڑا سا۔۔۔۔”
اس کی بات سنتے اس کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے تھے
“کیوں بولا جھوٹ۔۔۔؟”
اس نے غصہ ضبط کیے کہا تھا وجدان جس کی جان حلق کو آئی ہوئی تھی اور وہ میڈم کتنے مزے سے اس کی فکر پر ہنستی کہتی جھوٹ بول رہی تھی
“وہ تو بعد میں پتا چلے گا پہلے میں آپ کو لوکیشن دیکھاتی ہوں وہاں گاڑی لے کر جائیں۔۔۔”
اس نے اپنا موبائل نکالتے کہا تو اس نے بنا کوئی بات کیے گاڑی سٹارٹ کی تھی پریہان کو اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ حد سے زیادہ ناراض ہو گیا تھا لیکن وہ جانتی تھی جہاں وہ جانے والے ہیں وہ اسے ضرور منا لے گی
………………………………
“تعبیر بیٹا جاو زوہان بیٹا کو اپنا کمرہ دیکھاو۔۔۔۔”
تعبیر کی امی زوہان کو دیکھتے تعبیر سے بولی جو آبریش سے کوئی بات کر رہا تھا تعبیر کی امی کی بات پر اس نے تعبیر کو دیکھا جو پہلے ہی زوہان کو دیکھ رہی تھی پھر اثبات میں سر ہلایا تو زوہان بھی اٹھا تھا اور دونوں ڈرائینگ روم سے نکلے تھے اور سیڑھیوں کی جانب گئے تھے
“تمہارا گھر اچھا ہے۔۔۔”
وہ تعبیر کے پیچھے زینے چڑھتے ہوئے بولا تو اس نے پلٹ کر اسے دیکھا پھر واپس سیڑھیاں چڑھنے لگی تھی اور پھر وہ اسے اپنے کمرے میں لائی تھی جو کہ بہت بڑا اور شاندار تھا وہ دیکھ کر ایسا نہیں لگتا کہ کسی لڑکی کا کمرہ ہو کیونکہ اس کی ترتیب ایسے تھی جیسے کسی لڑکے کا کمرہ ہو
“ہممم نائس مجھے تو لگا تھا اپنے جیسا سڑا ہوا کمرہ رکھا ہو گا بٹ امپریسوو۔۔۔۔”
وہ کمرے کو داد دیتی نظروں سے دیکھتے بولا تو تعبیر نے خود کو سڑا کہنے پر اس کی پشت کو گھورا تھا زوہان بیڈ پر بیٹھتا پیچھے کو ہی لیٹا تھا اور سر کے نیچے دونوں ہاتھ رکھے اپنے سامنے کھڑی تعبیر کو دیکھا
“تم زوہان مصطفی کی بیوی ہو اب یہ سڑی ہوئی شکل اچھی نہیں لگتی تھوڑا مسکراو اور مجھے پیار سے دیکھو نہ بیگم۔۔۔”
وہ آنکھوں میں شرارت لیے بولا تو اس نے پھر سے گھورا تھا
“آپ مجھے سڑی کہنا بند کریں گے۔۔۔؟”
اس نے چباتے ہوئے کہا تو زوہان نے لیٹے لیٹے ہی نفی میں سر ہلایا تھا اور ایک آنکھ دبائی تو وہ سٹپٹائی تھی
“زوہان چلیں۔۔۔”
اس نے اس کو ٹکٹکی باندھے دیکھتا گھبرا کر کہا
تو زوہان اٹھتا اس کے قریب آیا تھا وہ جیسے اس کے قریب قدم بڑھاتا وہ ویسے پیچھے کو قدم لیتی اس کے تیور دیکھتی اس سے پہلے کمرے سے باہر بھاگتی زوہان اس کو بازو سے دبوچتا قریب کر چکا تھا
“کہاں جا رہی ہو میری دلربا۔۔۔۔”
وہ اس قریب تر کرتے بولا
“زوہان اپنی حد۔۔۔”
“آہاں یہ بات تب اچھی لگتی تھی جب ہمارے بیچ کوئی تعلق نہ تھا اب تم بیوی ہو میری اب تو جو حدیں قائم رکھیں تھی وہ بھی توڑ دینی ہیں اب تو سب پردے چاک کرنے کا وقت ہے۔۔۔”
وہ اس کی گردن سے بال ہٹائے وہاں اپنے تشنہ لب رکھ چکا تھا تعبیر اس کے لبوں کا لمس اپنی گردن پر محسوس کرتی اس کا سانس لینا دوبھر ہو گیا تھا
اس کو اپنی گردن پر قابض ہوتے دیکھ اس نے مزاحمت شروع کی تو زوہان نے اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنی قید میں لے کر پیچھے کو مروڑتے کمر سے لگاتے ایک ہاتھ سے پکڑا تھا اور جب کہ دوسرا ہاتھ اس کے کی گردن پر رکھے اس کے لبوں کو اپنی قید میں لے چکا تھا
وہ بن پانی کی مچھلی کی طرح اس کی سخت گرفت میں پھڑپھڑائی تھی وہ اس کے ایک ہاتھ سے اپنے دونوں ہاتھوں کو آزاد کرنے سے قاصر تھی وہ اس کی سانسوں کو مکمل طور پر خود میں بسائے اس میں سے سانسیں ختم کیے اس کے لبوں کو آزاد کیا تھا اور چہرہ اٹھائے اس کو دیکھنے لگا جو آنکھوں میں نمی لیے اس کی گرفت میں تیز تیز سانس لے رہی تھی
زوہان نے اس کے لبوں پر انگوٹھا پھیرا تو وہ پھر سے مچلنے لگی تھی
“تم تو میری ایک دن کی تڑپ نہیں مٹا سکتی اور سوچوں میں صدیوں سے تمہارے عشق میں مبتلا کتنا پیاسا ہونگا۔۔۔”
اس نے اس کے ہاتھ چھوڑے اس کی کمر پر ہاتھ پھیرتے بوجھل لہجے میں کہا تھا
اس کی بےباک گفتگو بےباک حرکتیں اس کی جان لینے کے در پر تھی
“زوہان۔۔۔۔”
وہ تیز سانسوں میں صرف اتنا ہی بول سکی تھی
“مت لو میرا یوں نام بہت بہکاتے ہیں تمہارے لب جب ان سے میرا نام ادا ہوتا ہے اگر بہک گیا تو تمہارے لیے بہت مشکل ہو گی۔۔۔”
وہ اس کے لبوں پر نظریں گاڑے بولا تو وہ پلکوں کی باڑ گرائے اس کی طرف دیکھنے سے گریز کر رہی تھی جس کی نیلی جذبے لٹاتی آنکھیں اس کو خود میں جکڑ رہیں تھی
“میری طرف دیکھو نہ میری جان۔۔۔۔”
اس نے اس جو تھوڑی سے پکڑے اس کا چہرہ اٹھائے بڑے لاڈ سے کہا تو اس نے ہونٹوں کو ہلکا سا کھولے اپنی پلکوں کو دھیرے سے اٹھائے اس کی نیلی گہری سمندر جیسی آنکھوں میں دیکھا تھا جن نیں وہ دھیرے دھیرے ڈوبنے لگی تھی
“کتنی کشش تھی اس کی آنکھوں میں مت پوچھو
میرا دل مجھ سے لڑا پڑا مجھے وہ شخص چاہیے”
“یوں اب مجھ سے نفرت رکھے کیا فائدہ جان جاناں اب تو ساری زندگی ساتھ گزارنی ہے تو کیوں نہ پیار محبت سے سکون کی گزاری جائے۔۔۔”
وہ اس کی گال انگوٹھے کی مدد سے سہلائے بولا تھا
“آپ میری محبت میں٫ میری محبت کے لیے٫ میرے لیے کیا کر سکتے ہیں۔۔۔۔؟”
اس نے اس کی آنکھوں نیں دیکھتے پوچھا تھا
“سب کچھ جان چاہیے وہ بھی تمہارے ایک اشارے پر دے دوں گا۔۔۔۔”
اس نے مسکرا کر کہا
“جان سے بھی قیمتی چیز کی قربانی مانگوں تو دیں گے۔۔۔۔؟”
اس کی بات پر وہ الجھا
“جان سے قیمتی کیا ہو سکتا ہے۔۔۔؟”
اس نے الجھتے ہوئے کہا
“وقت آنے پر بتاوں گی ابھی نیچے چلتے ہیں۔۔۔”
اپنی امی کی آواز سنتے اس نے بات کو ختم کرنا چاہا تو اس نے بھی اثبات میں سر ہلاتے اسے چھوڑا تھا اور پھر دونوں کمرے سے نکلے تھے
………………………………
وجدان عالیاب کو اس کی بتائی گئی لوکیشن پر لایا تھا
“ہم یہاں کیوں آئے ہیں۔۔۔۔”
وہ اردگرد دیکھتے بولا تھا وہ بہت بڑا ہوٹل تھا
“چلیں تو سہی۔۔۔”
وہ گاڑی سے نکلی تو وجدان بھی اترا تھا اور اس کے پیچھے پیچھے اندر جانے لگا
“السلام و علیکم پارس کے نام سے ایک روم بک کروایا تھا۔۔۔۔”
وہ آہستہ آواز نیں وہاں موجود آدمی سے بولی تو اس نے روم نمبر بتاتے اس کو چابی دی تھی وجدان نے ماتھے پر بل ڈالے اسے دیکھا تھا
“کیا بات کر رہی تھی اس سے۔۔۔؟”
اس ںے کڑے تیوروں سے پوچھا تھا
“بعد میں غصہ ہو جائیے گا ابھی میرے ساتھ آئیں۔۔۔۔”
وہ اس کا ہاتھ تھامے بولی اور لفٹ میں داخل ہوئے تھے پھر لفٹ تھرڈ فلور پر پہنچتے رکی تو دونوں باہر نکلے تھے وہ ضبط سے اس کی کاروائیاں دیکھ رہا تھا روم کے سامنے پہنچتے دروازہ ان لاک کرتے اس کی جانب مڑی تھی
“آنکھیں بند کریں۔۔۔”
اس نے مسکرا کر کہا تو وجدان نے بنا کوئی سوال کئیے گہرا سانس بھرا اور آنکھیں بند کیں تھیں
“کھولئیے گا مت۔۔۔۔”
وہ دروازہ کھولتے بولی اور اسے اندر لاتی پھر سے دروازہ بند کیا تھا کمرے میں مکمل اندھیرا تھا
“کھولیں سکندر۔۔۔۔”
اس کے کہنے پر اس نے آنکھوں کو کھولا تو آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا کیونکہ کمرے میں اندھیرا ہی موجود تھا
“یا تو کمرے میں سچ میں اندھیرا ہے یا میری آنکھوں کے سامنے۔۔۔۔”
ابھی وہ اتنا ہی بولا تھا کہ عالیاب کے لائٹس جلانے پر پورا کمرہ روشنیوں سے نہا گیا اچانک روشنی ہونے کی وجہ سے اس نے بےاختیار آنکھیں موندیں تھیں اور پھر دوبارہ کھولتے سامنے دیکھنے لگا تھا بے ساختہ اس جے منہ سے “واوو” نکلا تھا
پورا کمرہ گلاب کی پتیوں سے نہایا ہوا تھا جہاں وہ کھڑے تھے اس کے علاوہ ہر جگہ گلاب کی سرخ پتیاں تھیں اور بیڈ پر بھی پتیاں بجھی ہونے کے ساتھ اس کے گرد سرخ پردے لگائے گئے تھے
“کیسا لگا۔۔۔۔؟”
اس نے اس کے قریب آتے اس کا بازو تھامے پوچھا تھا
“بہت خوبصورت۔۔۔۔”
اس نے اردگرد داد دیتی نظروں سے دیکھتے کہا تھا
“ابھی ایک اور سرپرائز ہے وہ بس بیس منٹ ویٹ کریں میں ابھی آئی۔۔۔۔”
وہ اس کو کہتی واشروم میں گھس گئی تھی وہ بھی اردگرد کبھی بیڈ تو کبھی ڈریسنگ کے آگے سے گلاب کی پتیاں اٹھائے ان کی خوشبو اپنے اندر اتارتا تھا
تقریبا تیس منٹ بعد عالیاب واشروم سے نکلی تو وجدان کے واشروم کا دروازہ کھلنے پر اس جانب دیکھا اور پھر دیکھتا ہی رہ گیا جو مہرون ساڑھی خود پر زیب تن کئیے کھلے بال اور چہرے پر صرف میرون لپسٹک جو کہ اس کی گوری رنگت پر قیامت کی مانند تھی اور وہ خود بھی ایک قیامت بنتی اس کے دل پر بجلیاں کیا طوفان گرا چکی تھی وجدان کا دل شدت سے دھڑکا تھا
اور عالیاب بھی تیز سانسوں کے ساتھ ہونٹ کھولے کبھی اسے دیکھتی تو کبھی مسکرا کر چہرہ جھکاتی تھی وجدان قدم قدم لیتا اس کے پاس آیا اور ایک جھٹکے سے خود کے قریب کر گیا تھا
“کیسی لگ رہی ہوں۔۔۔؟”
وہ اس کی نظریں سمجھنے کے باوجود اس کے سینے پر دونوں ہاتھ رکھے اس سے پوچھنے لگی تھی
“یقینا تعریف کے لیے سب الفاظ کم پڑ جائیں یا پھر کوئی ایسا لفظ نہیں موجود جس سے تمہاری تعریف کر سکوں۔۔۔”
وہ اس کے بالوں کو ایک سائیڈ سے آگے کی جانب پھیلائے بولا تو وہ مسکراتی چہرہ جھکا گئی
“وہ جھوٹ میں نے اسی لیے بولا تھا میں ایک خوبصورت دن آپ کے لیے بنانا چاہتی تھی سرپرائز دینا چاہتی تھی۔۔۔”
وہ دھیرے دھیرے بول رہی تھی
“ایسے سرپرائز پر تو ہزار چیزیں قربان۔۔۔۔”
وہ اس کی گال ہولے سے چھوتے بولا تھا
“اور آپ۔۔۔۔؟”
اس نے مسکرا کر اس کی نیلی آنکھوں نیں جھانکتے ہوئے پوچھا تھا
“میں تم پر قربان٫ میری جند جان قربان٫ میں صدقے اپنی جان پر۔۔۔”
اس کے انداز پر وہ کھل کر مسکرائی پھر ایڑھیاں اٹھائے اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھ دیے تھے پھر اس کے گلے میں باہیں ڈالے اس کی آنکھوں نیں دیکھنے لگی تھی
“مجھے تمہارے ہونٹوں سے عشق تو ہے ہی لیکن مجھے لپسٹک کے اس رنگ سے بھی عشق ہونے لگا ہے جو مجھے بہکا رہا ہے۔۔۔”
وہ دھیرے سے انگوٹھا اس کے ہونٹ پر پھیرتے بولا تھا
یا مجھے جلن ہونی چاہیے میرے علاوہ اس کو اپنے لپس پر لگانے کی وجہ سے۔۔۔۔”
اب کے وہ شرارت سے بولا تو اس نے مسکراہٹ دبائے اسے گھورا لیکن پھر ہنس دی تھی
“آج تو چھمک چھلو کے ساتھ چھیاں چھیاں کرنی ہے۔۔۔۔”
وہ اس کی گردن میں منہ چھپاتا بولا اور داڑھی آہستہ سے پھیرنے لگا کہ اس کی چبھن سے وہ کھلکھلا اٹھی تھی اور ہنستے ہوئے اسے پیچھے کرنے لگی تھی جو اب اس کو مزید اپنے قابو میں کرتے اس پھولوں سے سجے بیڈ کے قریب لے گیا تھا
………………………………
حسن صاحب کے گھر سے واپس آتے وہ سب اپنے اپنے کمروں میں گھس گئے تھے جب کہ عالیاب کے حوالے سے وہ بہانا لگاتا سب کو مطمئین کر چکا تھا ورنہ وہ سب ملنے کی ضد لگائے بیٹھے تھے
زوہان ڈیوٹی پر جا چکا تھا جب کہ تعبیر کو ریسٹ کا کہا تھا کیونکہ ویسے بھی اس نے شادی کی چھٹیاں لی ہوئیں تھی وہ زوہان کو بھی آرام کا کہنا چاہتی تھی لیکن کہہ نہ سکی اور اثبات میں سر ہلاتی کمرے میں چلی گئی تھی
………………………………
“سعد ابھی کہاں جا رہے ہیں۔۔۔۔؟”
دعا سعد کے لیے چائے بنا کر کمرے میں لائی تو اس کو ٹائی باندھتے دیکھ پوچھا تھا
“کچھ لوگ ملنے آ رہے ہیں ان سے میٹنگ یے تھوڑی۔۔۔۔”
اس نے ٹائی باندھے مصروف سے انداز میں کہا تھا
“مت جائیں تھکے ہونگے۔۔۔۔”
اس نے چائے ٹیبل پر رکھتے منہ بنائے کہا
“تم تھوڑی تھکن دور کر دو نہ۔۔۔”
وہ اس کی جانب آتا شرارت سے بولی تو وہ پیچھے ہوئی تھی
“شرم کر لیں۔۔۔”
اس نے شرم دلانا چاہی تھی
“مجھ میں بہت شرم ہے رات کو اس شرم کا مظاہرہ پریکٹیکل کر کے دیکھایا تو تھا۔۔۔”
اس نے نچلا ہونٹ دانتوں میں دبائے کہا تو رات کا سوچتی سرخ ہوئی تھی وہ صبح سے اس سے کترا رہی تھی لیکن آخر اس نے بات کر ہی دی تھی
“چائے پئیں اور جائیں۔۔۔”
اس نے بات بدلی تھی اور اس سے پہلے وہ کچھ بولتا وہ کمرے سے نکل چکی تھی سعد ہنستا ہوا چائے کا کپ اٹھا چکا تھا
