Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

دعا جو کچھ ٹاپکس کو سمجهنے کی غرض سے سعد کے پاس آئی تهی اسکو واشروم میں گهسے دیکھ وہ کتاب لے کر بیڈ پر بیٹهی تهی دعا عالیاب اور پارس اکهٹے سٹڈی کرتے تهے ان کے کچھ ٹاپکس رہتے تهے وہ دونوں وہ کررہے تهے جبکہ انہوں نے دعا کو سمجهنے کے لیے بهیجا تها
سعد واشروم سے باہر نکلا اور تولیہ اٹها کر چہرے کا پانی صاف کرنے لگا
“باقی پیپر کی تیاری مکمل ہوگئی….؟”
وہ تولیہ رکهتے اس کے پاس بیٹهتے ہوئے بولا
“جی بس یہی ہے….”
وہ کتاب اسکے سامنے رکهتے ہوئے بولی
“باقی اگزامز کیسے ہوئے ہیں…؟
وہ کتاب اٹهائے بولا
“بہت اچهے….”
اتنا کہتے وہ اسکے چہرے کو دیکهنے لگی جو نظریں کتاب پر مرکوز کیے ٹاپکس دیکھ رہا تها
“کیا دیکھ رہی ہو….؟
وہ نظریں کتاب پر مرکوز کیے ہی بولا تو وہ گڑبڑائی تهی اور نظریں ہٹائی تهیں
“کچھ نہیں…”
وہ سامنے خود کو شیشے میں دیکهتے ہوئے بولی

“دعا الماری کهولو اندر تم نے جو نوٹس منگوائے تهے وہ موجود ہیں لے آو….”
اسنے دعا سے کہا تو وہ اثبات میں سر ہلاتی اٹهی اور الماری کهول کر نوٹس نکالے لیکن جلد میں ایک چیز نیچے گری وہ کوئی تصویر تهی جسکا رخ زمین کی جانب دیکها دعا نے جهک کر وہ اٹهائی اور دیکها وہ ایک بہت خوبصورت لڑکی کی تصویر تهی دعا اس کو یک ٹک دیکهنے لگی ایک دم سے دماغ میں کچھ دهندلی دهندلی سی تصویر بننے لگی اس نے سر جهٹکا اور سعد کی جانب دیکها

“سعد یہ حسین لڑکی کون ہے…؟”
وہ اشتیاق سے پوچهنے لگی سعد نے سر اٹها کر دیکها تو آنکهیں پهٹی کی پهٹی رہ گئیں دعا نے دیکها اس کی آنکهیں میں غصہ ابهرا تها
“تمہاری ہمت بهی کیسے ہوئی اسکو اٹهانے کی…”
وہ اٹهتے ہوئے دهاڑا اور اس کے ہاتھ سے وہ تصویر کهینچی تهی
“سس-سعد….”
وہ خوف سے صرف اتنا ہی بول سکی
“کیوں اٹهایا اسکو نوٹس کہے تهے وہی اٹهانے چاہیے تهے….”
وہ غصے بهری آنکهیں اس کی نم آنکهوں میں گاڑی تقریباً چلایا تها
“غلطی سے…”
اسکے منہ سے صرف اتنے ہی الفاظ ادا ہو سکے تهے
“دفعہ ہو جاو اپنے کمرے میں دوبارہ شکل مت دیکهانا…”
وہ دروازے کی جانب اشارہ کرتا پهر سے دهاڑا تها کہ وہ دو قدم پیچهے ہوئے تهی آنکهوں سے آنسووں پهسلے تهے وہ جتنا بهی کبهی غصہ کرتا لیکن ایسے کبهی نہیں کیا ایک زخمی نظر سعد پر ڈالتی کمرے سے بهاگی تهی سعد نے دروازے کو گهورا اور اس پک کو لبوں سے لگایا تها اور آنکهیں موندیں کتنی ہی دیر لب اس تصویر پر رکهے تهے جب آنکهیں کهولی تو آنکهیں نم تهیں اور دعا کا چہرہ سامنے وہ شکستہ سا بیڈ پر بیٹها تها
“شاید بہت زیادہ غصہ کردیا….”
وہ خود سے بڑبڑایا اور پک بیڈ پر رکهی
“شاید وہ مجھ سے اب کبهی بات نہ کرئے یہ میں نے کیا کردیا لیکن دعا یہ سب تمہارے لیے اچها نہیں…”
اتنا کہتے وہ انگوٹها پک پر پهیرنے لگا
…………………………………
“تعبیر یہ کس کشمکش میں ڈال دیا ہے تم نے روحا کون اور وجدان سے اس کا کیا تعلق ہے….”
ذوہان کرسی پر بیٹهے کہنیاں ٹیبل پر ٹکائے دونوں ہاتهوں کی انگلیاں آپس میں پهنسائے تهوڑی نیچے ٹکائے وہ کب سے انہی سوچوں میں گم تها
“کہیں سچ میں وجدان نے…”
“نہیں ذوہان تیرا بهائی کبهی کچھ غلط نہیں کر سکتا کچھ عرصہ پہلے آئی لڑکی کے لیے تو اپنے بهائی کے بارے غلط نہیں سوچ سکتا وہ تیرا بهائی بعد میں بیسٹ فرینڈ پہلے ہے….”
خود کی سوچ کو ہی نفی کرتے وہ نفی میں سر ہلاتے بولا تها پهر فون نکالا اور وجدان کا نمبر ملایا
“شاید مجهے یہ بات آمنے سامنے کرنی چاہیے…”
کال ملانے سے پہلے اس نے سوچا اور موبائل واپس ٹیبل پر رکها تها اور کرسی کی پشت سے سر ٹکائے آنکهیں موندیں تهی
…………………………………
وجدان کرسی پر بیٹها نیوز پیپر دیکھ رہا تها جہاں دو دن پہلے داور خان کی ایک فیکٹری کو سیل کروایا گیا تها جس کے پیچهے وجدان کا ہاتھ تها اس نے یہ کام اس طریقے سے کیا تها کہ کوئی بهی یہ نہیں کہ سکتا تها اس کے پیچهے پولیس کا ہاتھ ہے داور اپنی فیکٹری بند ہونے پر آگ بگولہ تها اور وجدان ک بار بار کالز کرتا جن کا وہ کوئی خاص جواب نہ دیتا

“سر ایک گڑبڑ ہوگئی ہے…”
محبوب پریشان سا اندر داخل ہوتے ہوئے بولا
“کیا ہوا ہے…؟”
اس کو پریشان دیکھ اس نے فکر مندی سے پوچها تها اور پهر جو خبر محبوب نے دی تهی اس پر وجدان نے مٹهیاں بهینچی تهیں اور غصے سے گاڑی کی چابی اٹهاتے پولیس سٹیشن سے نکلا تها اسکا دماغ ٹوٹلی آوٹ ہو چکا تها
…………………………………
وجدان رش ڈرائیونگ کرتا گهر پہنچا تو سامنے ہی اسے میرب نظر آئی
“مامی جان ڈیڈ کہاں ہیں…؟”
وہ خود کو نارمل کرتے بولا
“وہ ڈرائینگ روم میں ہی ایک مہمان آیا ہے اور یہ لیتے جاو….”
وہ اسکی بات سن کر جو پلٹا تها میرب نے اس کے سامنے ٹرے کی جس میں چائے کے ساتھ مختلف لذومات سجائے گئے تهے
“اسکی ضرورت نہیں مامی…”
وہ بنا ٹرے پکڑے ڈرائنگ روم کی جانب جاتے ہوئے بولا تو میرب نے کندهے اچکائے تهے

وجدان ڈرائینگ روم پہنچا تو سامنے اپنے باپ کے ساتھ بیٹهی ہستی کو دیکھ کر اس نے مٹهیاں بهینچی تهیں
“آو ایس پی وجدان سکندر تمہارا ہی انتظار تها…”
کاکا شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ بولا تو وجدان نے پہلے شہرام کو دیکها پهر کاکا کو جس کی آنکهوں میں واضع شر تها
“تم یہاں کیا کررہے ہو…؟”
وہ چباتے ہوئے بولا
“تم کالز نہیں اٹها رہے تهے تو داور خان نے مجهے بهیجا تمہارے لیے…”
“میری گهر میں آنے کی ہمت بهی کیسے ہوئی دفعہ ہو جاو یہاں سے…”
وہ تقریبا دهاڑا تها تو کاکا ہنسا

“ارے ایس پی شہرام صاحب کیا آپ کے گهر میں آئے مہمانوں کے ساتھ ایسا برتاو کیا جاتا ہے ویری بیڈ…”
وہ افسوس سے نفی میں سر ہلاتے بولا وجدان نے شہرام کو دیکها جو خاموش تها
“یہ تم پر بالکل نہیں گیا آخر جاتا بهی کیسے یہ کونسا تمہارا سگا بیٹا ہے…”
شہرام کا دل اسکی بات سے جلا تها تو یہ حقیقت ہی تهی وہ اسکا بیٹا تو نہیں تها البتہ وجدان کو طیش دلا گیا تها اور اس کا دل کیا وہ کاکا کو شوٹ کردے

“تمہیں ہمارے ذاتی معاملات میں دخل اندازی کا کس نے حق دیا ہی از مائے ڈیڈ اور میں زرا برداشت نہیں کروں گا کوئی ان سے کسی قسم کی ایسی بات کرئے ورنہ میں اس کی زبان کاٹ کر چیل کووں کو ڈال دونگا…”
وہ غصے سے پهنکارا تها کاکا بهی صبر کے گهونٹ بهر کر رہ گیا

“ہمارے ٹکروں پر پلتے ہمیں ہی پهنکارتے ہو اور یہ بات تو سب جانتے یہ تمہارا باپ نہیں ویسے بهی اتنا ایماندار باپ اور تمہارے جیسی خیانت کار اولاد چچچچ…..”
اسکی بات پر وجدان کی آنکهیں لال انگارہ ہوئیں تهی اور شہرام نے بهی ناسمجهی سے وجدان اور کاکا کی جانب دیکها فلوقت وہ کسی قسم کی دخل اندازی نہیں چاہتا تها لیکن یہ بات اس کی سمجھ سے باہر تهی

“اوو تو ملک شہرام اپ کو آپ کے بیٹے نے ان بلینک چیک کا نہیں بتایا یہ بهی اب ہمارا پالتو…”
ابهی اتنا ہی بولا تها کہ وجدان کے مکے سے وہ صوفے سے گرا تها
“وجدان…”
شہرام نے پیچهے ہونے کا اشارہ کیا تو اس نے مٹهیاں بهینچی تهیں
“مسٹر کاکا اتنی عزت افزائی اور حترام کافی ہے اب آپ یہاں سے جا سکتے ہیں…..”
شہرام کی بات پر وہ منہ پر ہاتھ رکهتا اٹها تها اور وجدان کے پاس رکا
“اس کا حساب وجدان سکندر تم دو گے….”
“دوبارہ میرے گهر مت آنا ورنہ دو پیروں پر واپس نہیں جا سکو گے بتا دینا داور خان کو اگر وہ بهی آیا میرے گهر تو اسکے بهی ٹکرے کرنے سے باز نہیں آوں گا…”
وہ خود کو قابو کرتے غرایا اور وہ محض گهورتا وہاں سے نکلا تها اسکے جاتے ہی وجدان نے گہرہ سانس لیتے خود کے غصے کو ضبط کرنا چاہا پهر اپنے باپ کو دیکها جو ہزار سوال لیے اسی کی جانب دیکھ رہا تها

“ڈیڈ…”
وہ اتنا ہی بولا کہ شہرام نے ہاتھ اٹهاتے چپ کروایا اور اٹها تها اور اس سے کچھ فاصلے پر کهڑا ہوا
“مجهے نہیں پتا یہ بلینک چیک کا کیا معاملہ ہے اور جاننا بهی نہیں چاہتا اگر تم نے ایسا کچھ کیا ہے تو سوچ سمجھ کر کیا ہوگا مجهے تم پر پورا یقین ہے اور جتنی وہ بکواس کر کے گیا ہے میں چاہتا تو اس کو اس قابل نا چهوڑتا کہ وہ دوبارہ بول سکتا لیکن میں چاہتا تها ہر چیز تم خود ہینڈل کرو اور جو تمہاری جاب ہے اس میں کبهی دشمنوں کو گرانے کے لیے ان کے ساتھ بهی کهڑا ہونا پڑتا ہے لیکن….”
وہ اتنا کہتے رکا اور اس سے دو قدم کے فاصلے پر کهڑے ہوتے اسکی نیلی آنکهوں میں دیکهنے لگا

“اگر مجهے لگا کہ تم کچھ ایسا کررہے ہو جو صرف تمہیں بربادی کہ طرف لے جائے گا اور تمہاری دنیا کے ساتھ آخرت بهی تباہ کرئے گا تو یاد رکهنا میں ریٹائر ہوا ہوں میری طاقت ابهی بهی تم سے سو گنا زیادہ ہے تمہیں دوسروں سے پہلے میرا مقابلہ کرنا ہوگا….”
وہ اس کی آنکهوں میں اپنی وارن سے بهری آنکهیں گاڑتے ہوئے بولا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا

“میرے بیٹے میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں اور یقین ہے کچھ غلط نہیں کرو گے لیکن میری ایک نصیحت اچهے سے یاد رکهنا….”
وہ اس کے کندهے پر ہاتھ رکهتے ہوئے بولا
“شیر اگر گیڈروں کے بل میں جائے تو وہاں اسکو جهپٹنے کی بجائے دماغ سے کام لینا چاہیے کیونکہ بازووں میں زور سے زیادہ دماغ میں زور ہوتا ہے اگر چهپٹو گے تو مارے جاو گے اگر دماغ سے کام لو گے تو گیڈر کیا پوری دنیا کو قائل کرلو گے….”
اسکی بات پر وجدان نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا تو وہ بهی اس کی گال تهپتهپاتے وہاں سے چلا گیا تها

“بس داور خان میرے باپ کے سامنے ان باتوں کا حساب بهگتو گے….”
خود سے بڑبڑاتا ڈرائینگ روم سے نکلا تها
…………………………………
“پوری دنیا عنقریب جان جائے گی کہ وجدان ہمارا بیٹا نہیں….؟”
پریہان شہرام کے سینے ہر سر رکهے بولی
“میرے دل دنیا کے منہ بند نہیں ہو سکتے ہمارا بیٹا وجدان جانتا ہے حقیقت لیکن وہ خود کو ہمارا بیٹا ہی مانتا ہے…”
وہ اس کے بال سہلائے بولا
“اگر وہ کبهی ہم سے بدگمان ہوگیا تو….؟”
اس کے سوال پر شہرام کے ہاتھ رکے تهے یہ بات تو وہ بهی نہیں جانتا تها آخر کو وہ حقیقی بیٹا تو مصطفی کا ہی ہے
“شہرام میں وجدان سے بہت پیار کرتی ہوں پلیز ایسا کچھ مت کرئیے گا جس سے وہ مجھ سے دور ہو جائے…”
وہ بهرائی آواز سے بولی تو اس کو تکیے پر لیٹاتا خود اس پر جهکا تها
“مت سوچا کرو ایسی باتیں…”
وہ اسکے مزید قریب ہوتے بوئے بولا اس کو یقیناً یہی حل پریہان کو سوچوں سے جهٹکنے کا بہتر لگا تها
…………………………………
ذوہان رات کے بارہ بجے لاونچ میں بیٹها بےصبری سے وجدان کا انتظار کررہا تها جو آنے کا نام نہیں لے رہا تها
“وجدان کب آو گے یار…؟”
اس نے آخر میں سر گرائے خود سے کہا کہ وجدان گنگناتا ہوا اندر داخل ہوا اور ذوہان کو دیکھ کر چونکا تها
“طبعیت تو ٹهیک ہے ڈاکٹر صاحب یہاں کیوں بیٹهے ہو…؟”
اسکی آواز پر ذوہان نے سر اٹهایا اور خود بهی اٹها تها
“تمہارا انتظار کررہا تها….”
“اوہو کیا رات کی طرح اکهٹے سونے کا ارادہ ہے…”
وہ سیٹی بجا کر شرارت سے بولا اور اپنی کیپ اتار کر اسکے سر پر کیپ دی تهی لیکن ذوہان کے تاثرات سنجیدہ تهے

“کیا ہوا برو…؟”
وہ بهی پریشانی سے بولا
“ہم بهائی کم دوست زیادہ ہیں نہ وجدان…؟”
اسکی بات پر اس نے بنا دیری کے اثبات میں سر ہلایا
“ایک بات پوچهوں گا سچ بتانا….؟”
“ہاں پوچهو تم سے کہا چهپا میرا….”
وہ مکمل اس کی جانب متوجہ ہوا

“روحا کون ہے….؟”
اسکے سوال پر حیرت کے ہزار جهٹکے وجدان کو لگے تهے
“یہ نام کہاں سے سنا ہے تم نے اور مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہو….؟”
وہ ماتهے پر بل ڈالے بولا
“کسی نے مجهے کہا ہے کہ وجدان سکندر دهوکے باز انسان ہے لیکن خدا قسم مجهے اس کہ بات پر رتی برابر یقین نہیں پر میں تم سے جاننا چاہتا ہوں کہ کیا تم کسی روحا کو جانتے ہو….”
وہ اسکو بازو سے تهامے بولا
“ایسا کس نے کہا ہے….؟”
وہ چباتے ہوئے بولا

“وجدان کچھ پوچھ رہا ہوں کیا تم کسی روحا کو جانتے ہو….؟”
وہ سنجیدگی کی آخری حد کو چهوتے ہوئے بولا تو اس نے ضبط سے چہرہ موڑا تها
“ہم بیٹھ کر بات کرتے ہیں ذوہان کمرے میں چلو…”
وہ گہرہ سانس بهرتے بولا
“یہی بتاو میں دل کو سکون چاہتا ہوں وجدان میں اس شخص کو اس کے کہے الفاظوں پر شرمندہ کرنا چاہتا ہوں خدارا بتاو…..”
وہ بےسکونی سے بولا لیکن وہ خاموش تها

“وجدان بتاو یار….”
اسکی بےچینی بڑه رہی تهی
“ہاں میں روحا کو جانتا ہوں…..”
اس نے نظریں چرائے کہا تو ذوہان بےیقینی سے دو قدم پیچهے ہوا تها
“کیا تم نے روحا کی زندگی برباد کی…؟”
ایک اور سوال ابهرا تها
“ایسا کچھ نہیں میں سب سمجهاتا….”
وہ مزید بولتا چہرے پر پڑنے والے مکے سے وہ پیچهے ہوا اور چہرے پر ہاتھ رکهے وہ بےیقینی سے دیکهنے لگا وہ ذوہان تها جو اتنی جرات پر اپنے پیروں پر کهڑا تها اگر کوئی اور ہوتا تو وجدان سکندر اس کے ہاتھ کاٹ دیتا پر یہ تو جان سے عزیز بهائی تها جو ابهی ناجانے کونسی بدگمانی کا شکار تها
…………………………………