No Download Link
Rate this Novel
Episode 25
تقریباً بیس دن تهے شادی کو وجدان کو وہاں تین چار دن کی بجائے پورا ہفتہ لگ گیا تها دعا اور سعد سے ملتا وہ واپس کراچی کے لیے نکل چکا تها دعا اس کے جانے سے بہت اداس تهی جب کہ ملک ویلا میں زوروشور سے تیاریاں جاری تهیں روز بازار کا چکر لگ رہا تها دعا کا بہت دل تها ملک ویلا جانے کو لیکن سعد کی وجہ سے خاموش تهی عالیاب اسے روز وڈیو کال پر جو چیز بازار سے خریدتی وہ دیکها دیتی تهی
…………………………………
“کیا ہوا اداس کیوں ہو….؟”
سعد بیڈ پر تقریباً لیٹا پیٹ پر لیپ ٹاپ رکهے میلز چیک کر رہا تها ساتھ سامنے صوفے پر بکس پڑهتی دعا کو دیکھ لیتا جو افسردہ تهی وہ اس کی افسردگی کی وجہ اچهے سے جانتا تها لیکن وہ بهی دل کے ہاتهوں مجبور تها کیا کرتا
“کچھ بهی نہیں…”
وہ اپنی افسردگی چهپانے کی کوشش کرتے بولی
“اچها ادهر آو….”
وہ اپنا ایک ہاتھ بیڈ پر پهیلائے اس کو آنے کا اشارہ کیا جو بکس ٹیبل پر رکهتی منہ بناتے اٹهی تهی اور بیڈ پر اس کے پاس آئی
“ایسے سیڈ مت ہو مجهے اچها نہیں لگتا اگر ہم ابهی گئے بہت لاس ہوگا مجهے تم چاہتی تمہاری شوہر کو لاس ہو…؟”
اس کی بات پر اس نے نفی میں سر ہلایا تها
“پهر سمائیل دو..”
اس کی بات پر وہ زبردستی مسکرائی
“زبردستی کی سمائیل نہیں چاہیے…”
وہ اس کی گال سہلاتے بولا تو وہ چہرہ جهکا گئی تهی
“آو لیٹ جاو سو جاو….”
وہ اپنا بازو واپس بیڈ پر رکهتے بولا تو دعا اس کے بازو پر سر رکهتے لیٹی اور ایک ہاتھ اس کے سینے پر رکهتی آنکهیں موندیں تهی ان کو ایک مہینہ ہونے والا تها ساتھ میں سعد نے وعدے کے مطابق اپنی حد پار نہیں کی تهی اور اس کو خوش رکهنے کی ہر ممکن کوشش کرتا اس کی پسند کا خیال رکهتا وہ بهی بہت خوش تهی بس تهوڑا افسردہ تهی وہ خود بهی اب سعد سے دوری نہیں چاہتی تهی وہ بهی سعد کی سنگت چاہتی تهی محبت تو نہیں خیر وہ اسے پسند کرنے لگی تهی اور خوش تهی کہ اس نے اپنے بهائی کی بات مان لی اس کے والدین کا فیصلہ برا نہ تها بلکہ اس کے لیے نہایت خوش کن تها
سعد لیپ ٹاپ پر ایک ہاتھ سے کام کرتا اپنے قریب سوئی دعا کو بهی دیکهتا جس کی سانسیں بهاری تهیں یقیناً وہ سو چکی تهی
“آئی لو یو…”
سعد اس کے کان کے قریب جهکتے ہوئے سرگوشانک انداز میں بولا اور دهیرے سے کان کی لو کو لبوں سے چهوا تها کہ وہ ہولے سے کسمسائی تهی
“اب اس قدر خوبصورت بیوی کے قریب ہوتے کام کرنا توہین کی بات ہے…”
اپنا سارا کام چهوڑا لیپ ٹاپ بند کرتا بڑبڑایا تها اور لیپ ٹاپ ٹیبل رکهتئ خود بهی لیٹا تها اس کے لیٹتے ہی دعا نے نیند میں ہی اپنی ایک ٹانگ اس کے اوپر رکهی تهی وہ ہولے سے مسکرایا اور اس کی طرف منہ کیے ایک ہاتھ اس کی کمر پر رکها تها اور اپنا سر اس کے سر کے ساتھ جوڑتا خود بهی آنکهیں موندیں تهی
“میری زندگی کا ہر وہ پل خوبصورت ہے جو تمہارے ساتھ گزرے…”
آنکهیں موندیں ہی وہ ہولے سے بڑبڑایا تها اور پهر خود بهی کچھ ہی پل میں نیند کی گہرایوں میں کهو گیا تها
…………………………………
وجدان گهر میں داخل ہوا اور سرونٹ سے کہ کر سامان کمرے میں رکهوایا تها اور پریہان کے کمرے کی جانب جانے لگا کہ سامنے ہی عالیاب نظر آئی جو خوشی سے اسے دیکهتی منہ پر ہاتھ رکھ چکی تو وجدان کو بهی اسے دیکھ کر آنکهوں میں ٹهنڈک سی پڑی تهی لیکن ناراضگی یاد آتے اس نے خفگی سے منہ پهلایا تها
“سکندر آپ آگئے…”
وہ اس کی جانب جاتے بولی تو وہ خفگی سے کوئی بهی جواب دیے بنا اس کے پاس سے گزرنے لگا کہ وہ سامنے آئ
“ابهی تک خفا ہیں…؟”
اس کی بات پر اس نے زوروشور سے اثبات میں سر ہلایا
“مجهے تو لگا بهول گئے ہونگے…”
وہ معصوم سی شکل بنائے بولی تو اس نے گهورا تها
“ارے بیٹا تم آگئے…”
اس سے پہلے وجدان کچھ بولتا پریہان کی خوشی سے بهرپور آواز اسے سنائی دی
“جی موم ابهی آیا ہوں…”
وہ مسکرا کر اس کے قریب جاتا اس کا ماتها چوما تها اس نے بهی اس کے منہ پر پیار کیا تها
“گدها بڑا ہو گیا ہے دولہا بننے والا ہے…”
مصطفی کی آواز پر وہ کهل کر ہنسا تها
“بابا بس کیا کریں گدهے بهی تو گدهیوں سے شادی کرتے ہیں…”
اس نے عالیاب کو شرارت سے دیکهتے کہا جو ورڈ “گدهیوں” پر اٹک گئی تهی
“گدهیوں ورڈ کچھ ڈاوٹ فل لگ رہا ہے مجهے…”
پریہان وجدان اور مصطفی تینوں ہنسے جو خود کو گدهی کہنے کو اگنور کرتی ورڈ گدهیوں پر اٹکی تهی
“اچها تم کمرے میں جا کر فریش ہو جاو میں کهانا بهیجتی ہوں..”
پریہان کی بات پر اس نے اثبات میں سر ہلایا اور جاتے جاتے عالیاب کے پاس رکا
“کهانا تم لے کر آنا میں ابهی بهی خفا ہوں مجهے منانا ہے تم نے…”
مصنوعی خفگی سے منہ پهلائے بولا تو اس نے اس کی پشت کو گهورا تها
وجدان اوپر گیا کہ اس کا سامنا پارس سے ہوا پارس اسے دیکهتا اس سے پہلے کمرے میں بهاگتا وجدان اسے دبوچ چکا تها
“کیا بکواس کررہا تها میری ہونے والی بیوی کے ساتھ ڈیش انسان تجهے شرم نہیں آئی میرا سارا سرپرائز خراب گیا…”
اس کی چینخ و پکار کو نظرانداز کرتا وہ اس کی گردن دبوچے ہوئے کہا
“یہ کیا کررہے ہو تم دونوں…؟”
میرب کی آواز پر وجدان نے چهوڑا اور دونوں سیدهے ہوئے
“مامی جان بڑے حساب ہیں آپ کے بیٹے سے…”
وہ پارس کو کها جانے والی نظروں سے دیکهتے ہوئے بولا جو میرب کے پیچهے کهڑا زبان چڑها رہا تها
“اچها خود ہی نمٹو…”
وہ وہاں سے جاتے ہوئے بولی
“ارے امی جان آپکا بیٹا..”
وہ مظلوم سی شکل بنائے بولا میرب نے جاتے جاتے ہاتھ اٹهاتے غداری کا الارم دیا تها
“ہاں تم آو کہاں تهے ہم…”
وہ دوبارہ اس کی گردن دبوچ چکا تها اس کی دہایاں پورے گهر میں گونج رہیں تهی کمرے میں داخل ہوتی میرب نے اس کے دہائی سنی تو مسکرا اٹهی اور دل سے دعا کی ان کا پیار ہمیشہ ایسے ہی قائم رہے لیکن وقت کا کیا معلوم کہ ہر چیز ہمیشہ اکهٹی نہیں رہتی ایسے ہی ان کی چیزیں بهی بکهرنی تهیں وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا ان کا وقت بهی بدلنا تها
…………………………………
وجدان ریسٹورنٹ میں پچهلے دس منٹ سے بیٹها کبهی جمائی لیتا تو کبهی انگڑائی لے رہا تها دس منٹ میں وہ دو کپ چائے پی چکا تها اور تیسرے کا آرڈر کر چکا تها
“کیا مسئلہ ہے کس لیے بلایا ہے….؟”
روحا اس کے سامنے بیٹهتی بنا سلام دعا کے تڑخ کر بولی تهی
“تیری راہوں کو تکتے تکتے
دو کپ چائے پی چکے ہیں”
وجدان نے ہنس کر گانے کو توڑتا مڑوڑتا گایا تها کہ وہ اس کو گهورنے لگی
“تمہاری فضولیات ہو گئیں ہوں تو عرض کریں وجدان سکندر صاحب…”
وہ طنز کرتے بولی تو وہ کهل کر ہنسا تها
“اس سے ایک اور سونگ یاد آیا…”
وہ سیدها ہو کر بیٹهتے ہوئے بولا
“وجدان…”
اس نے تنبیہ لہجے میں پکارا
“اچها اچها خفا نہ ہو دراصل ڈئیر روحا میری شادی ہے اور تمہیں آنا ہو گا…”
اس کی بات پر اس نے ایک جهٹکے سے اس کی جانب دیکها
“عالیاب سے…؟”
اس کی بات پر اس نے اثبات میں سر ہلایا تو وہ تلخی سے مسکرائی
“حیرت ہے تمہیں تمہاری محبت مل گئی…”
اس نے کندهے اچکائے کہا اس کی بات کے پیچهے چهپا مفہوم وجدان کی مسکراہٹ خوشی سب اس کے چہرے سے نوچ گیا تها وہ بےتاثر نظروں سے روحا کو دیکهنے لگا جو وجدان کے لیے آئی چائے اٹها چکی تهی
“ایسے مت دیکهو وجدان…”
اس کی نظروں نے اسے اپنی کہی بات پر شرمندگی کی دلدل میں گرا دیا تها وہ ایسا نہیں چاہتی تهی لیکن خود کو روک نہ پائی تو وجدان نے خود کے چہرے پر ہاتھ پهیرا تها
“تمہیں آنا ہو گا….”
اس نے ضبط کرتے کہا
“تمہیں لگتا ہے میں آوں گی…”
اس کی بات پر اس نے اثبات میں سر ہلایا تها
“یقین ہے تمہیں…؟”
“بالکل…”
اس کے اتنا پریقین ہونے پر وہ کچھ پل اس کو دیکهتی رہی پهر دوسری جانب دیکهنے لگی
“اپنی بہن کو بهی لیتی آنا میرا بهائی خوش ہو جائے گا اور وہ خوش ہوا تو میں بهی خوش…”
“تمہارے بهائی کی خوشی کا ٹهیکہ نہیں لیا میں نے…”
وہ غصے سے بولی
“لیکن میں ایسا چاہتا ہوں…”
“وہ نہیں آئے گی…”
اس نے صاف بتایا
“وہ مجهے نہیں پتا اسے کیسے لانا ہے وہ تمہیں پتا ہے وہ بس آنی چاہیے…”
وہ کرسی سے اٹهتے ہوئے بولا
“وجدان یہ غلط ہے ہمیشہ تم مجهے پهنسا دیتے ہو…”
وہ بےبسی سے بولی تو وجدان مسکرایا جانتا تها وہ چاہ کر بهی اس کی بات نہیں ٹال سکتی بےشک وہ خوش نہ بهی ہو لیکن وہ وجدان کی بات ضرور مانے کی یہ یقین تها اسے
“آو چهوڑ دیتا ہوں..”
وہ جاتے جاتے پلٹا تها
“چلی جاوں گی میں…”
اس نے بےرخی سے کہا
“نہیں لیتا کرایہ آجاو…”
وہ شرارت سے بولا تو اس نے گهورا تها اور اپنا بیگ اٹهایا تها
“وجدان پتا نہیں کیوں تم مجهے زہر لگ رہے ہو ابهی…”
اس کی بات پر وہ اس کے ساتھ چلتا کهل کر ہنسا تها
“اور پتا نہیں کیوں تم مجهے زومبی لگ رہی ہو…”
“وجدان….”
وہ غصے سے تقریباً چلائی تهی وجدان کا قہقہ گونجا تها وہ یونیورسٹی میں اسے ہمیشہ زومبی کہہ کر ہی چڑاتا تها اور ہمیشہ کی طرح وہ آج بهی چڑه گئی تهی
…………………………………
“سر سنا ہے ایس پی کی شادی ہے…”
کاکا داور کے لیے مشروب گلاس میں انڈیلتا بولا
“ہاں علم ہوا ہے مجهے خیر اس کا بهی حق ہے خوشی کا ابهی تک تو وہ ہمارے کام ہی آیا ہے ہمیں خوشی دی ہے تو ہمارا حق نہیں بنتا اس کی خوشی میں ٹانگ اڑائیں…”
داور ہنستے ہوئے بولا تو کاکا بهی ہنسا تها
“اور آگے وہ ہمارے حلق کا کانٹا بن گیا تو…؟”
اس نے آگے درپیش خطرے کا پوچها
“تو حلق کا کانٹا نکال کر باہر پهینکنا آتا ہے مجهے…”
وہ اگے ہوتے بولا اور گلاس اٹهایا تها
“میں ایس پی کی خوشی میں شامل ہونے کا سوچ رہا ہوں اس نے تو بلانا نہیں لیکن میں جاوں گا اس کی خوشی دوبالا کرنے…”
اس کی بات پر کاکا پهر سے ہنسا تو داور بهی ہنسا تها
…………………………………
آج دعا کی کام والی نہیں آئی تهی اسی لیے دعا کچن میں کهڑی خود ہی برتن دهو رہی تهی کہ کسی نے اس کو زور سے باہوں میں لیا کہ اس کی چینخ نکلی لیکن دعا نے بروقت اس کے منہ پر ہاتھ رکها
“جانو میں ہوں چینخ کیوں رہی ہو…”
وہ گردن سے اس کے بال ہٹاتا بولا تو اس نے کہنی ماری تهی سعد نے اس کے منہ سے ہاتھ ہٹایا تها اور دونوں ہاتھ اس کے پیٹ پر رکهے تهے
“سعد حد کرتے ہیں دروازے کی آواز بهی نہیں آئی کیا ابهی آئے ہیں…؟”
اس کے پوچهنے پر اس نے اثبات میں سر ہلاتے اس کی گردن میں منہ چهپایا تها دعا نے برتن پر گرفت مضبوط کی تهی
“سس-سعد بب-برتن دهو رہی ہوں پلیز…”
اس کے کہنے پر اس نے پیٹ سے ہاتھ ہٹاتے اس سے برتن تهاما اور پانی کے نیچے کرتے پهر سائیڈ پر رکهتے گیلے ہاتھ اس کے منہ پر لگائے تو وہ اچهلی تهی اس سے پہلے وہ اس کی گرفت سے نکلتی سعد نے اس کو گرفت میں لیا تها وہ اس کے باہوں میں مچلنے لگی تهی
“ہیٹ یو ہیٹ یو…”
“لو یو لو یو…”
وہ اسی کے انداز میں بولا تو وہ ہنسی تهی سعد نے اس کا رخ خود کی جانب کیا تها
“اچها جائیں مجهے کام کرنے دیں…”
وہ اس کے سینے پر ہاتھ رکهے پیچهے کرنے کی کوشش کرتے بولا
“مل کر کرتے ہیں نہ کام..”
وہ اس پر جهکتے ہوئے بولا دعا نے اس کے منہ پر ہاتھ رکها اور اس کو آنکھیں پهیلائے دیکها
“مل کر کام میں برکت ہوتی ہے سویٹ ہارٹ…..”
وہ اپنے منہ سے اس کا ہاتھ ہٹائے بولا
“مجهے برکت نہیں چاہیے…”
وہ ہنستے ہوئے بولی
“گستاخ لڑکی….”
وہ اس کی گال کهینچے بولا
“کام کرنے دیں…”
وہ اس کے بال مٹهیوں میں جکڑے کهینچتے ہوئے بولی وہ دونوں کهلکهلا رہے تهے ان کی خوشیاں آباد ہو گئیں تهی لیکن کچھ طوفان ایسے ہوتے ہیں جن کی زد میں بہت سے لوگ آجاتے ہیں
…………………………………
