Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

وجدان کرسی پر بیٹها دهیرے دهیرے چئیر پر جهولتا بہت گہری سوچ میں مبتلا تها جب سے دعا کے بارے میں پتا چلا تها گهر کا ماحول بہت سنجیدہ ہو گیا تها ہر کوئی دعا کے رد عمل کے انتظار میں تها ذوہان نے اپنے سنئیر ڈاکٹر سے اس حوالے سے پوچها تها جس نے دعا کی خاموشی کی اچهی علامت نہ دی تهی
“دعا اتنا سب ہو گیا تم نے اتنا سب برداشت کیا تمہارا چہرہ تیزاب سے جلا دیا اور ریپ….”
خود سے سوچتے اس نے آنکهیں سختی سے موندیں تهی دل میں اٹهتے درد آنکهوں میں ہوتی چبهن اس کو تکلیف کی کهائی میں گرا رہی تهی اس نے آنکهیں کهولیں جو ضبط سے حد درجہ سرخ تهیں جیسے ابهی لہو نکل آئے گا دل کی تکلیف کم نہ ہوتے دیکھ گہرا سانس بهرتے اٹها اسکا ارادہ گهر جانے کا تها
…………………………………
سعد ایک فائل لینے گهر کو آیا تها اس کا ارادہ ایک بار دعا کو بهی دیکهنے کا تها لیکن اس میں ہمت نہ تهی اس کا سامنا کرنے کی لیکن وہ دور سے ہی سہی دیکهنا چاہتا تها سعد گهر میں داخل ہوا تو سامنے ہی پریہان سے سامنا ہوا تو اسکو سلام کیا جس کا جواب اس نے مسکرا کر دیا تها سعد نے اردگرد نگاہ دوڑائی لیکن نظریں جس کی متلاشی تهیں وہ کہیں نظر نہیں آئی
“دعا کو ڈهونڈه رہے ہو….؟”
اسکی نظروں کا تقاضا سمجهتی پریہان نے پوچها تو اس نے شرمندگی سے چہرہ جهکایا

“کمرے میں سوئی ہوئی ہے جاو مل لو اس سے بیوی ہے تمہاری…”
وہ اسکے بال ہولے سے خراب کرتے پیار سے بولی تو اس نے جهکے سر سے ہی اثبات میں سر ہلایا
“تمہیں شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں دعا کو سب سے زیادہ تمہاری ضرورت ہے جاو اب….”
وہ اسکے جهکے سر کو دیکهتے بولی تو وہ زبردستی مسکراتا وہاں سے چلا گیا
…………………………………
سعد دعا کے کمرے کا دهیرے سے دروازہ کهولتا اندر داخل ہوا تو سامنے ہی دشمن جاں بیڈ پر خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہی تهی سعد بنا قدموں کی آواز پیدا کیے بیڈ کی جانب گیا اور آرام سے بیڈ پر بیٹهتا اسکے خوبصورت گلابی چہرے کو دیکهنے لگا جو ہیٹر کی شدت سے سرخ ہو رہا تها اس نے آگے بڑھ کر اس کے ماتهے پر اپنے لب رکهے تهے وہ نیند کی بہت پکی ہے یہ بات تو وہ اچهے سے جانتا تها وہ جانتا تها دعا رات بهر سوئی نہیں ہوگی اگر دعا نہیں سوئی تهی تو سعد کی آنکهوں میں کہاں نیند آنی تهی یہ بات تو تہ شدہ تهی کہ رات ملک ویلا میں کوئی نہیں سویا تها

“بس کچھ دن پهر میں تمہیں اپنا اس قدر عادی بنا ڈالوں گا کہ تمہیں سعد رامز کے بنا سانس لینا بهی محال لگے گا تم ابهی میرے وجود میں محبت کے بهڑکتے شعلوں سے ناواقف ہو اور جس دن تم ان شعلوں کی ایک چنگاری سے بهی واقف ہو گئی اس دن تم میری اسیر ہو جاو گی…”
محبت کے عالم میں بولتا انگوٹها اسکی گال پر پهیرا تها اور کتنے ہی پل اپنی آنکهوں کو ٹهنڈک بخشتا وہاں سے چلا گیا تها
…………………………………
تعبیر جب سے آئی تهی محسوس کررہی تهی جیسے ذوہان کهویا کهویا سا ہو چہرے پر پریشانی اور فکر کے اثرات نمایا تهے وہ رات کے واقع کے بعد صبح ہی ڈاکٹر سے ملا تها ان سب کا دل بهاری تها جیسے منوں بوجھ تلے دبے ہوں
“ڈاکٹر ذوہان….”
تعبیر کی پکار پر وہ پیچهے پلٹا اور ناسمجهی سے تعبیر اور اس کے ہاتھ میں میٹهائی کا ڈبہ دیکها تها

“لیں میٹهائی کهائیں…”
وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے بولی
“کس لیے….؟”
وہ میٹهائی کا ایک چهوٹا سا ٹکرا اٹهائے بولا تها
“الحمدللہ سے میرا رستہ میرے کزن کے ساتھ ہو گیا ہے…..”
وہ خود کو نارمل کرتی مسکراتے ہوئے بولی ذوہان جو وہ ٹکرا منہ کی طرف لےجا رہا تها وہ ہاتھ رکا اور ناسمجهی سے اسکو دیکها جیسے بات سمجهنے کی کوشش کررہا ہو

“یہ آپ کک-کیا کہ رہی ہیں…؟”
اس نے یقین دہانی چاہی تهی
“جو آپ سن رہے ہیں کهائیں میٹهائی سب سٹاف کو بانٹی ہے انشاءاللہ شادی پر بهی….”
ابهی وہ اتنا ہی بولی تهی کہ ذوہان نے اسکے ہاتھ میں موجود میٹهائی کا ڈبہ دور اچهالا تها تعبیر کی زبان گویا تالو کو لگ گئی ہو اس نے اسکی جانب دیکها جو قہر برساتی نظروں سے اسے دیکها تها
“یی-یہ کیا بدتمیزی ہے…؟”
وہ ہوش میں آتے بولی تهی
“درد دل کیا ہوتا ہے تم کیا جانو تعبیر حسن اور میرے درد کو ہوا نہ ہی دو تو بہت اچها ہے تمہارے لیے…”
قریب ہوتے غرا کر کہا تها اور وہاں سے چلا گیا لیکن جاتے ہوئے کندها مارنا نہ بهولا تها وہ لڑکهڑائی تهی اور اپنے کندهے پر ہاتھ رکها

“سہی کہا آپ نے درد دل میں کیا جانوں…”
آنکهوں پر لگا بند آنسوؤں کی صورت میں ٹوٹا تها پهر اس نے زمین بوس ہوئی میٹهائی کو دیکها
“مجهے نہیں پتا میں کیا چاہتی ہوں…”
بےدردی سے اپنے آنسووں صاف کرتے بولی اور روم سے خود بهی نکلی تهی
…………………………………
وجدان گهر آیا اور سیدها اپنے کمرے میں گیا تها دماغ کی پهٹتی رگوں کو سکون بخشنے کے لیے وہ واشروم میں گهسا تها اور یونیفارم سمیت شاور کے نیچے کهڑا ہوتا گہرے سانس لینے لگا اتنے ٹهنڈے موسم میں وہ کپڑوں سمیت پانی کے نیچے کهڑا تها تقریباً آدها گهنٹہ کهڑا رہنے کے بعد سردی کا احساس ہوا تو واشروم سے نکلا اور کپڑے تبدیل کرتے گیلے بالوں کو خشک کرتے وہ کمرے سے نکلا تها بال ویسے ہی بکهرے ہوئے تهے جن کو سنوارنے کی زحمت اس نے نہ کی تهی

وجدان نے گارڈن میں نظر دوڑائی تو اس کو عالیاب جهولے پر بیٹهی نظر آئی تهی وہ جانتا تها وہ دعا کے لیے بہت افسردہ ہے وجدان نے عالیاب کی جانب قدم بڑهائے اور جهولے پر اسکے ساتھ بیٹها تها عالیاب نے اسکی جانب نہیں دیکها تها
“چهوٹی چوہیا موٹی چڑیل چپ کیوں ہے….؟”
وہ جانتا تها وہ اس نام سے بہت چڑتی ہے اس لیے اس نے جان بوجھ کر پکارا تها لیکن اس نے اسکی جانب نہیں دیکها

“عالی…”
اس نے بہت پیار سے پکارا اور تهوڑی سے پکڑ کر چہرہ اٹهایا تو دیکھ کر ٹهٹهکا وہ رو رہی تهی
“اوئے کیوں رو رہی ہو…؟”
وہ مزید قریب ہو کر بیٹهتا پیار سے پوچهنے لگا
“دعا کے لیے….”
وہ سوں سوں کرتے بولی تو وجدان نے سینے میں اٹهتے درد کو چهپایا تها
“تو تمہیں رونے کی بجائے دعا کے ساتھ ہونا چاہیے نہ….”
وہ اسکے آنسووں نرمی سے صاف کرتا بولا تها
“میں اس کے پاس گئی تهی لیکن اس نے بات نہیں کی…”
اسنے مزید افسردگی سے کہا

“وہ تهوڑا دکهی ہے نہ اسی لیے ایسے ہے تم اسکے پاس جاو تو وہ بات کرئے گی تم دونوں تو پکی والی بیسٹ فرینڈ ہو نہ…”
وہ آہستہ سے بولا
“مجهے دعا کے لیے بہت برا لگ رہا ہے اس کے ساتھ اتنا سب کچھ ہوا…”
وہ روتے ہوئے بےاختیار اس کے سینے سے سر ٹکا گئی تهی وجدان ایک دم سے ٹهٹهکا تها اسے اس چیز کی امید عالیاب سے ہرگز نہ تهی
“اللہ کی مرضی کے آگے کچھ نہیں ہو سکتا میری جان…”
وہ اس کے بالوں میں انگلیاں پهیرتے ہوئے بولا

“دعا بہت اچهی ہے….”
وہ چہرہ اٹهائے بولی تو وجدان مسکرایا تها اور اثبات میں سر ہلایا وہ دوبارہ اس کے سینے سے سر ٹکا گئی تهی
“عالیاب ایک بات پوچهوں…؟”
کچھ پل بعد زہن میں مچلتا سوال اس نے پوچها تو اس نے سینے سے لگے ہی اثبات میں سر ہلایا تها
“میرے ساتھ ہمیشہ رہنا چاہو گی…؟”
“کیوں…؟”
اسکا سوال مکمل ہونے سے پہلے بولی تهی
“کیونکہ میں چاہتا ہوں تم وجدان سکندر کے ساتھ ہمیشہ رہو بہت پیار کرونگا ڈانٹوں گا بهی نہیں…”
وہ بالوں سے سرکاتا ہاتھ اسکی کمر پر ہولے سے ٹکاتے بولا تها
“آپ پیار کرتے ہیں مجھ سے….؟”
وہ سینے سے سر اٹهائے آنکهیں پٹپٹاتے بولتی وجدان کو گڑبڑانے پر مجبور کر گئی تهی وہ تو اسے بچی سمجهتا تها لیکن اسکے سوال نے اسے گڑبڑا دیا تها

“بتائیں میں سب جانتی ہوں محبت پیار کے بارے میں بچی نہیں اب میں…”
اسکی بات پر وہ آنکهیں بڑی کیے اسے دیکهنے لگا اور پهر مسکراتے کمر سے تهامتے قریب کیا
“کتنی بڑی ہوگئی ہو…؟”
وہ شرارت سے بولا تو وہ ناسمجهی سے اسے دیکهنے لگا وہ زور سے ہنسا تها
“جتنا میں چاہتا اتنا بڑی نہیں ہوئی…”
وہ اسکے چہرے کے ہر نقوش کو نظروں میں لیتے بولا
“کتنا بڑی ہوجاوں بتا دیں….”
وہ معصومیت سے بولی

“کیوں تم میری بات مانو گی…؟”
اسکی آواز جذبات سے بوجهل ہو رہی تهی اس نے زوروشور سے اثبات میں سر ہلایا تها
“کیوں مانو گی کیا تم بهی مجھ سے پیار کرتی…؟”
اسکے سوال پر اب گڑبڑانے کی باری عالیاب کی تهی اس نے نظریں چرائیں تهی جو اسکی نظروں سے چهپی نہ رہی
“نن-نہیں سکندر آپ نے موبائل لے کر دیا نہ اسی لیے…”
وہ اسکے ہاتھ میں موجود واچ پر نظریں ٹکائے بولی جو اس نے تحفے میں دی تهی
“لیکن موبائل کے بدلے تو تحفہ دے چکی ہو تم…”
وہ مزید چہرہ قریب کرتے بولا

“پپ-پلیز سکندر….”
وہ اسکی گرم سانسوں سے گهبرائی تهی چہرہ حد درجہ سرخ ہوا تها
“مطلب تم کافی بڑی ہوگئی ہو…”
اسکے چہرے پر بکهرے رنگ دیکھ کر وہ دانتوں تلے لب دبائے بولا تو اس نے چہرہ جهکایا اور تیز سانس لینے لگی

“سس-سکندر سنیں..”
وہ تیز سانس لیتے بولی
“سکندر کی جان بهی حاضر حکم کریں…”
وہ نثار ہوتے لہجے سے بولا
“چچ-چهوڑیں….”
وہ اسکے سینے پر ہاتھ رکهے پیچهے کرنے کی کوشش کرتے بولی تو وجدان ہنستا ہوا پیچهے ہوا اسکے پیچهے ہوتے ہی وہ گہرے سانس لینے لگی اور اٹهی تهی اس سے پہلے وہاں سے جاتی وجدان نے اسکا ہاتھ پکڑا تها

“ول یو میری می عالیاب سکندر….”
اسکی اچانک اس بات پر وہ آنکهیں پهاڑے اس کو دیکهنے لگی جو مسکرا رہا تها اور پهر اسکا ہاتھ چهوڑا وہ بنا جواب دیے وہاں سے بهاگی جبکہ پیچهے اس کو سکندر کا قہقہ سنائی دیا تها
“بےذوق انسان ایسے کوئی پرپوز کرتا ہے کیا….”
خود سے بڑبڑاتی کچن کی راہ لی تهی جبکہ وجدان جهولے پر بیٹها جهولا جهولنے لگا تها
…………………………………
“کب ایسے دیکھ رہے ہو خیر ہے….؟”
وجدان جب سے آیا تها سعد کو تکے جا رہا تها اس نے مسلسل خود کو تکتا پا کر ایک آئبرواچکائے کہا تو اس نے نفی میں سر ہلایا
“اچها کیسے آنا ہوا بتاو…؟”
سعد لیپ ٹاپ سائیڈ پر کرتا اب فرصت سے دیکهتے ہوئے بولا وجدان اس وقت سعد کے آفس میں بیٹها تها
“دعا کے بارے بات کرنا چاہتا ہوں بهائی…”
اسکی بات سن کر وہ چونکا تها
“دعا کے بارے کیا بات…؟”
اسنے ناسمجهی سے پوچها
“شاید دعا آپ کے ساتھ رہنا نا چاہے…”
اسکی بات پر اس نے گہرہ سانس بهرا یہ بات تو وہ بهی اچهے سے جانتا تها دعا اس کو دیکهنا بهی نہیں چاہتی

“تو کیا کیا جا سکتا ہے پهر…؟”
“دعا نہ مانی تو میں مدد کرسکتا ہوں..”
اس نے اگے ہوتے ٹیبل پر کہنیاں ٹکائے کہا
“کیسے…؟”
وہ ناسمجهی سے پوچهنے لگا
“اغواہ کروا دیں گے…”
وہ مسکراہٹ دبائے نارمل سا بولا تو سعد کو ایک دم سے کهانسی آئی تهی وجدان نے فوراً گلاس میں پانی انڈیلٹے اس کی جانب بڑهایا جس کو اس نے فوراً تهاما اور تین چار گهونٹ بهرتے واپس گلاس ٹیبل پر رکهتے اطمینان سے بیٹهے وجدان کو دیکها

“دماغ خراب ہے وجدان تمہارا….”
“جب پیار کیا تو ڈرنا کیا
پیار کیا کوئی چوری نہیں کی
چهپ چهپ کے آہیں بهرنا کی”
مسکرا کر گانا گنگناتے آخر میں ٹهنڈہ آہ بهرتے سعد کو گهورنے پر مجبور کر گیا تها
“وہ شاید بہن ہے تمہاری…”
وہ اس کو غیرت دلانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے بولا

“بہن ہے تو کیا بیوی ہے وہ آپکی….”
وہ لب دانتوں تلے دبائے بولا
“غیرت سچ میں مرگئی ہے تمہاری….”
اسنے افسوس سے کہا تو اس نے اطمینان سے اثبات میں سر ہلایا تها
“دعا تو آپکی بیوی ہے اور یہ مشورہ دے رہا عالیاب تو بیوی بهی نہیں اور من کرتا اغواہ کرکے دور لے جاوں…”
وہ ایک دبائے بولا تو سعد نے اردگرد دیکها گویا کوئی چیز اٹها کر اسکے سر پر مارنا چاہتا ہو لیکن کچھ نہ ملنے پر صرف گهور ہی سکا

“بهائی مزاق سے ہٹ کر میں دعا کو اس کی ہر گز اجازت نہیں دوں گا وہ آپکو یا آپکی محبت کو ٹهکرائے…”
چہرہ حد درجہ سنجیدہ ہوا تها چہرے پر شرارت کی زرا رمق موجود نہ تهی
“دعا اپنا فیصلہ کرنے کا حق رکهتی ہے…”
“تو کیا آپ پیچهے ہٹ جائیں گے…؟”
اسکے ماتهے پر بل پڑت
“تمہیں لگتا ہے میں پیچهے ہٹوں گا…؟”
اسنے الٹا سوال کیا تو وہ چہرہ موڑے وہاں موجود صوفے کی جانب دیکهنے لگا
“دعا کے ساتھ زبردستی اسکی جان لے سکتی ہے اور میں اپنی محبت کی خاطر ایسا نہیں چاہتا…”
“دعا صرف آپ کے ساتھ زندہ رہ سکتی آپکو لگتا ہے آپ دونوں کے الگ ہونے سے دونوں زندہ رہ پاوں گے….؟”
اس نے آئبرواچکاتے کہا تو سعد نے کرب سے اسے دیکها

“فیصلہ آپکا اور دعا کا ہے زندگی آپ دونوں کی ہے کسی تیسرے کا گهسنے کا کوئی مقصد نہیں بنتا صرف بتانا یہ چاہتا وجدان سکندر آپ کے ساتھ ہے دعا بعد میں پہلے آپ…”
اسکی بات پر سعد مسکرایا
“سب سے پاور فل بندے کی سپورٹ مل گئی اب اور کیا چاہیے…”
وہ شرارت سے ہنستے ہوئے بولا وجدان بهی ہنسا اور پهر دونوں باتوں میں مصروف ہو گئے
…………………………………
آبریش دعا کے کمرے میں آئی تو اوندهے منہ لیٹی ہوئی تهی
“دعا…”
آبریش پکارتے ہوئے اس کے پاس بیٹهی اور اسکے سر پر ہاتھ پهیرا وہ سیدهی ہوئی تهی
“امی آپ….”
وہ اٹهتے ہوئے بولی
“بیٹا کمرے سے باہر نکلو تمہارے بابا بهی تمہارے بارے پوچھ رہے تهے…”
وہ اسکے الجهے بال ہاتهوں سے سہی کرتے ہوئے بولی
“امی دل نہیں کرتا…”
وہ بهی ہاتھ سے بال سیدهے کرتے بولی
“کچھ کہو کچھ بولو کیا ہے دل میں مت چهپاو بتاو ہمیں بیٹا ہمیں نہیں تو پریہان کو بتادو….”
وہ جانتی تهی دعا پریہان سے بہت اٹیچ تهی لیکن پریہان نے بتایا اس نے اس سے بهی بات نہیں کی تهی
“امی کچھ نہیں…”
وہ چہرہ جهکائے بولی
“بیٹا تمہاری یہ خاموشی تمہارے لیے ٹهیک نہیں تمہاری جان کے لیے خطرناک ہے اندر ہی اندر گهل کر مت مرو ہمیں بتاو ہم تمہارے اپنے ہیں…”
وہ نم آنکهوں سے بولی لیکن وہ خاموش رہی

“ہم بہت ازیت میں ہیں تمہارے بابا کی حالت بهی ٹهیک نہیں تم خود کو ایسے مت کرو ہمیں اور اذیت میں مبتلا کررہی ہو..”
“میرے وجود سے آپکو ازیت پہنچ رہی ہے…؟”
وہ لفظ “اذیت” پر اٹکی تهی
“نہیں بیٹا تم ہمارے جینے کی وجہ ہو ہمارا دل ہو کبهی دل سے بهی اذیت ہوئی ہے لیکن تمہاری ایسی حالت ہمیں برداشت نہیں…”
وہ آنسووں صاف کیے بول
“امی سونا ہے مجهے نیند آرہی ہے…”
خود کی آنکهیں نمکین پانی سے بهرتے دیکھ وہ بولی اور لیٹی تهی آبریش کچھ پل اسکے سر پر پیار کرتی رہی پهر اٹهی تهی اور اسکا ماتها چومتے چلی گئی
…………………………………
دعا آبریش کے جانے کے تقریباً آدهے گهنٹے بعد اٹهی اور خود کو شیشے میں دیکها تها اسنے نہ تو بالوں کو سہی کیا تها نہ کپڑے تبدیل کیے تهے کچھ ہی پل میں چہرہ مرجها گیا تها اس نے ٹیبل پر دیکها اس کا چشمہ پڑا تها پهر دوبارہ خود کو شیشے میں دیکها
“ہم بہت ازیت میں ہیں تمہارے بابا کی حالت بهی ٹهیک نہیں تم خود کو ایسے مت کرو ہمیں اور اذیت میں مبتلا کررہی ہو..”
آبریش کے الفاظ اس کے کان میں گونجے تو وہ شیشے میں خود کو دیکهتی تلخی سے ہنسی تهی
“سب اذیت ختم کر دیتی ہو سب پر بوجھ ہوں خاص کر سعد پر، سعد بهلا ایسی لڑکی کے ساتھ کیسے رہ سکتے ہیں جسکا چہرہ جل گیا جس کے ساتھ دو بار ریپ….”
ریپ کا سوچتے اسکی آنکهوں سے آنسووں پهسلے تهے
“یقیناً سعد مجبور ہیں اور میں ایسا نہیں چاہتی سب پریشان ہیں نہ سب کی پریشانی ختم کردیتی ہوں…”
وہ بےدردی سے آنکهیں صاف کرتے شیشے میں خود کو دیکهتے ہوئے بولی اور پلٹ کر پنکهے کو دیکها تها
پهر کمرے سے باہر نکلتی باہر سنسان تها کوئی موجود نہ تها دعا سٹور روم میں جاتی ایک رسی اور چهوٹا سٹول اٹهایا تها آنکهوں میں بار بار پانی آنے کی وجہ سے دهندهلا رہیں تهی

کمرے میں آتی اس سٹول کو بیڈ پر رکها اور اس پر چڑهتی رسی کو پنکهے کی جانب پهینکا تها جو دو بار کوشش سے دوسری سائیڈ سے نیچے آگئی تهی دعا نے رسی کو گرہ باندهتے کهینچا اور پهر سٹول سے نیچے اتری بیڈ سے بهی نیچے اتر کر اس پهندے کو دیکهنے لگی جو اس نے خود کے لیے بنایا تها

“خود کشی حرام ہے خود کشی کرنے والا جہنم میں جائے گا اور روز ہزار بار ویسے ہی مرئے گا جیسے دنیا میں اس نے اپنی جان لی”(کوتاہی معاف)
ایک حفیث کی تفسیر اسکے کانوں میں گونجی تهی
“یااللہ….”
بند ہوتے دل کے ساتھ اس نے دل پر ہاتھ رکها اور پکار کر بیڈ پر چڑهتی دوبارہ سٹول پر چڑهتی اس پهندے کو ہاتھ میں پکڑے دیکهنے لگی
“معاف کردیں سب لوگ آج سے آپ سب آزاد ہیں…”
روتے ہوئے بڑبڑاتی اس پهندے کو گلے کی جانب بڑهایا تها