No Download Link
Rate this Novel
Episode 32
“تمہارا کام تمام…”
کاکا نے گن کوڈ کرتے اس پر تانتے ہوئے کہا اور اگلے ہی لمحے گولی کی آواز چلی تهی تهی اور گہرہ سکوت چها گیا
وجدان نے گولی کی آواز پر آنکهیں بند کیا منہ میں کچھ پڑها تها لیکن جسم پر کسی قسم کی بهی درد محسوس نہ ہوتے دیکھ اس نے آنکهیں کهولتے جهکتے ہوئے خود کے جسم کے دیکها گولی کی اگلی آواز پر وہ چونکا اور دروازے کی جانب دیکها جہاں اس کے آدمی موجود تهے اور کاکا لوگوں کو دیکها جو اب اس کی بجائے اس کے آدمیوں پر گن تانے ہوئے تهے
“سر ہم مجبور تهے اسی لیے آپ کے اشارے کے بنا آگئے….”
محبوب کی بات پر وہ مسکرایا
“کاکا تمہاری گن کہاں گئی…؟”
وجدان نے انگلی دانتوں میں دباتے چہرے پر فکر سجائے اس سے پوچها جو خود پریشان تها اچانک یہ ہوا کیا تها کیونکہ گولی کاکا کی بندوق کو لگی تهی اور وہ دور جا گری تهی
“ختم کر دو سب…..”
ابهی وہ اتنا ہی بولا تها کہ اگلی گولی وجدان کی گن سے کاکا کی ٹانگ پر چلی تهی اور اس سے پہلے وجدان اور اس کے آدمی کاکا اور اس کے آدمیوں کا کام تمام کرتے لیکن اس کے آدمی نے زمین پر ایک چهوٹا سا ببم نما چیز پهینکی جس سے چارو جانب دهواں چها گیا تها جو ان کے گلوں میں پڑ رہا تها
“سر کو کوور کرو…”
محبوب کی آواز پر وہ لوگ وجدان کی جانب گئے جو بری طرح کهانس رہا تها اور خود بهی کهانستے ہوئے اسے بامشکل باہر لانے لگے وہاں ہفراتفری مچ گئی تهی دهواں اس قدر تها کہ کوئی بهی سمجهنے سے قاصر تها کہ کون کس کا آدمی ہے لیکن جب وجدان اور وہ سب باہر نکلے تهے سوائے وجدان اور اس کے آدمیوں کے کوئی نہ تها وجدان کی آنکهیں مکمل سرخ ہو گئیں تهی اور ان سے پانی آرہا تها محبوب اور باقیوں کے چہرے پر ماسک تها اسی لیے اس زہریلے دهویں نے ان پر زیادہ اثر نہ کیا تها
“سر یہ گیس زہریلی ہے ہمیں پہلے ہاسپٹل جانا چاہیے…”
محبوب اس کو مسلسل کهانستے دیکھ فکرمندی سے بولا تو اس نے ہاتھ کے اشارے سے رکنے کا اشارہ کیا اور تقریباً پانچ منٹ بعد وہ خود کی سانس بحال کرتا ان کو دیکها
“تت-تم لوگ جاو…”
اس نے بامشکل کہا تها
“لیکن سر یہ زہریلی گیس آپ کو بہت نقصان پہنچا سکتی ہے…..”
وہ اس کو چهوڑ کر کسی صورت نہیں جانا چاہتا تها
“محبوب ان کو ہمارے یہاں آنے کی اطلاع پہلے مل چکی تهی جن جن کو ہمارے پلین کا پتا تها ان سب کو اکهٹا کرو اور چانچ پرتال کرو کسی کو خبر نہ ہونے پائے میں ہوسپٹل سے سیدها پولیس سٹیشن آوں گا اور اس کا حساب لوں گا کہ ہمارے بیچ کون حرامی پن کر رہا ہے…”
ایک آفیسر جو گاڑی سے پانی کی بوتل لایا تها وجدان اس سے منہ دهوتے محبوب سے بولا جس نے اثبات میں سر ہلایا تها اور وجدان کو اس کی جیپ کی چابی دی تهی
…………………………………
ذوہان ایک کامیاب آپریشن کے بعد اپنے روم میں تهکن سے چور کرسی پر بیٹها ٹانگیں میز پر جمائے چائے پی رہا تها جیسے جیسے چائے خود میں انڈیلتا ویسے چائے کے ساتھ ساری اس میں سکون بهی اتر رہا تها کہ ایک دم سے دروازہ کهلا تها ہڑبڑی میں دروازہ کهلنے کی وجہ سے اس نے غصے سے دروازے کی جانب دیکها لیکن وجدان کو دیکهتے اس کے ماتهے کے بل غائب ہوئے تهے
“ارے برو کیا ہوا…”
وہ چائے ٹیبل پر رکهتا اٹها اور اس کے پاس آیا جس کا چہرہ اور آنکهیں حددرجہ سرخ ہو چکیں تهی اور وہ نڈهال سا کرسی پر بیٹها وہ یہاں تک کیسے پہنچا وہی جانتا تها اس کے جسم میں زرا سی بهی حرکت اس کو تکلیف میں مبتلا کر رہی تهی
“وجدان بتاو کیا ہوا ہے….؟”
وہ فکرمندی سے بولا تو اس نے اس گیس کے بارے میں بتایا اس کی بات سنتے ذوہان نے جلدی سے ٹیبل سے اپنا فون اٹهاتے کال ملائی تهی اور کچھ انجیکشن اور ادوایات منگوائیں تهی کیونکہ وجدان میں مزید چلنے کی سکت نہ تهی
ذوہان نے اس کے آگے سے شرٹ کے سارے بٹن کهولے تهے اور اے سی چلایا تها کیونکہ اس کا چہرہ اور جسم سرخ ہونے کے ساتھ ساتھ پسینے سے بهی شرابور ہو رہا تها
“بهائی یہ زہریلا ہے لیکن اس کا اثر زیادہ وقت تک نہیں رہتا لیکن جتنا رہتا ہے نہ انسان کی مت مار دیتا ہے…”
وہ اس کے کندهوں سے تهوڑی شرٹ سرکاتے بولا جیسے جیسے اے سی کی ٹهنڈک اس تک پہنچ رہی تهی اسے سکون مل رہا تها اتنے میں ڈاکٹر یاسر وہ انجیکشن اور میڈسن لے آیا تها ذوہان نے اس کے بازو پر دو انجیکشن لگائے اور ایک میڈسن دی تهی روم میں موجود سنگل بیڈ پر اسے لیٹایا تها
“کچھ دیر میں تم ٹهیک ہو جاو گے…”
وہ فکرمندی سے چہرے پر تفکر کے اثرات سجائے اس کے بالوں میں ہاتھ پهیرتے بولا تها اس کی یہ حالت ذوہان کو بهی اسی درد میں مبتلا کر گئی تهی جس میں وجدان تها وہ جانتا تها اس کا اثر دهیرے دهیرے شروع ہوتا اور کچھ ٹائیم ایک دو گهنٹوں تک اس کا اثر رہتا ہے لیکن ایک دو گهنٹے جس ازیت میں گزرتے ہیں وہ یہ اچهے سے جانتا تها
“شش-شرٹ بند کر دے اگر کسی نے دیکها تو کیا سوچے گا…”
کچھ دیر بعد اس کے ہوش سنبهلے تو وہ شرارت سے بولا تها
“فکر نہ کر میں کون سا تیرا ریپ کر رہا ہوں…”
وہ بهی مسکراتے بولا اور اس کے پاس آیا تها
“ٹائیم کیا ہو گیا ہے….؟”
“چار بج گئے ہیں…”
وہ ٹائیم دیکهتے بولا تها تو وہ بیڈ سے اٹها
“کیا ہوا طبعیت نہیں ٹهیک تمہاری لیٹے رہو…”
“مجهے پولیس سٹیشن جانا ہے…”
“چائے منگوائی ہے وہ پیو تروتازہ ہو کر جانا…”
وہ اس کی شرٹ کے بٹن بند کرتے بولا
“یہ کام عالیاب کو کرنے چاہیں جو تم کر رہے ہو پوری بیوی بن رہے ہو میری…”
وہ اب بهی شرارت سے باز نہ آیا تها
“لازم نہیں یہ کام بیویاں ہی کریں بهائیوں کے بهی بہت سے فرض ہوتے ہیں….”
وہ گهورتے ہوئے اٹها تها تو اس نے ہنستے ہوئے باقی بٹن خود بند کیے تهے جو اس نے خفگی میں ویسے ہی چهوڑ دیے تهے اور پهر چائے آتے وہ چائے سے لطف اندوز ہونے لگے اس کی طبعیت کافی سنبهل گئی تهی
…………………………………
“تم لوگوں نے اتنا اچها موقع ہاتھ سے جانے دیا جان سے کیوں نہیں مارا اس ایس پی کو…”
داور کاکا پر برسا تها
“سر ہمیں صرف یہی حل سوجها لیکن جو گیس ہم نے وہاں پهیلائی یقیناً اس نے وجدان کو کچھ دیر ہی سہی لیکن بہت ازیت دی ہوگی…”
کاکا کی بات پر اس نے قہر برساتی نظروں سے اسے دیکها
“میں بےصبری سے منتظر تها اپنی جیت کا
میں نے تیاری کر رکهی تهی ہر جشن کی”
وہ گلاس میں شراب انڈیلتے بولا تها اور پهر کچھ یاد آنے پر کاکا کو دیکها
“اس خبری کو دنیا سے رخصت کر دو یقیناً وجدان اس کا متلاشی ہو گا…”
“سر میں نے آدمی بهیجے ہیں وجدان سے پہلے وہ اس کا کام تمام کر دیں گے…”
وہ تابعداری سے بولا
“اگر اس میں بهی تم ناکام ہوئے تو اپنی لاش میرے سامنے پیش کرنا اب دفع ہو جاو….”
اس سے بولتا آخر میں ہاتھ سے جانے کا اشارہ کیا
…………………………………
وجدان چائے پینے کے بعد اٹها تو ذوہان بهی اٹها تها اس سے پہلے وجدان دروازے کی جانب جاتا تعبیر دروازہ کهٹکهٹائے بغیر دروازہ کهولتی اندر داخل ہوئی وہ جو پہلے غصے میں تهی وجدان کو وہاں موجود پا کر اس کا پارہ مزید ہائی ہوا تها
“ڈاکٹر ذوہان اگر فون نہیں اٹهانا ہوتا تو سمندر میں پهینک دیں….”
وہ غصے سے چباتے ہوئے بولی تو اس نے ٹیبل سے فون اٹهایا جہاں تعبیر کی پانچ مس کالز تهی
“سوری سائلنٹ پر تها…”
وہ سائلنٹ ہٹاتے بولا
“کیا آپ کو خبر نہیں ڈاکٹرز کی میٹنگ ہے آج اور آپ یہاں ہیں…”
“میں اپنے بهائی ساتھ تها زہن سے نکل گیا…”
وہ نارملی انداز میں بولتا اس کو مزید آگ بگولا کر گیا تها
“بهائی ضروری نہیں وہ میٹنگ جہاں سب آپ کا انتظار کر رہے ہیں وہ زیادہ اہم ہے…”
“لیکن میرے لیے میرا بهائی اہم ہے…”
ذوہان سنجیدگی سے بولا کیونکہ تعبیر کا لہجہ اس کا ناگوار گزا تها تو تعبیر نے ناگواریت سے وجدان کو دیکها جو سر داڑهی کهجاتا کبهی اسے تو کبهی ذوہان کو دیکھ رہا تها
“جب جاب سے نکل جائیں گے تو پهر یہی خود غرض بهائی دیکهتی ہوں کتنا ساتھ….”
“تعبیر سوچ سمجھ کر بولو…”
وہ اس کی بات بیچ میں ٹوک کر بولا تها
“ہونہہہ ایک تم پارسا ایک تمہارا بهائی پارسا…”
وہ حقارت سے بولی یقیناً میٹنگ روم میں اس کی بہت بےعزتی ہوئی تهی
“کیوں کیا تم ہی اس دنیا میں پارسا ہو…”
وہ خود ک سخت الفاظوں سے روک نہ سکا تها
“تمہارے بهائی جیسی گهٹیا کیچڑ جیسا کردار رکهنے والی…..”
“تعبیر…”
اس کی بات پوری ہونے سے پہلے اس کا ہاتھ اٹها تها اس سے پہلے وہ تعبیر کے منہ کی زینت بنتا وجدان نے ہوا میں ہی اس کا ہاتھ تهاما تها اور غصے سے ذوہان کو دیکها
“دماغ خراب ہو گیا ہے ذوہان یہ تربیت نہیں کہ ایک عورت پر ہاتھ اٹهائیں…”
وہ چباتے ہوئے دهیرے سے بولا جو بامشکل تعبیر نے سنا
“ڈاکٹر تعبیر اپنے الفاظوں کا استعمال سہی سے کیا کریں ان کا چناو سہی سے کیا کریں ہر ہاتھ کو روکنے والا موجود نہیں ہوتا اور نہ ہی ہر ہاتھ ہوا میں رکتا ہے….”
وہ اب کہ تعبیر سے بولا تو وہ نم آنکهیں لیے روم سے نکلی لیکن وجدان کی بات سنتے اس کے قدم دروازے کے باہر ہی رکے تهے
“ذوہان پاگل ہو گئے ہو تم کیسے ایسے کر سکتے ہو مجهے جو کہتی کہنے دیتے میں نہیں جانتا وہ اتنی بدگمان کیوں ہے مجھ سے اور مجهے فرق نہیں پڑتا اس کے الفاظوں اس کی بدگمانیوں سے مجهے صرف تیری فکر ہے تیرے لیے سب برداشت کر سکتا ہوں وہ مجهے کیچڑ کہ رہی تهی کہنے دیتے سب برداشت تها لیکن یہ نہیں کر سکتا برداشت کے وہ تم سے بدگمان ہو تم سے دور ہو تمہارے لیے اس کے دل میں نفرت پیدا ہو سمجهے…”
وہ اس کا لمبا لیکچر دیتے بولا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا
“سوری بولو گے اسے اب تم….”
وجدان کی اس بات پر تعبیر چونکی تهی اور ہلکے سے کهلے دروازے کو دیکها لیکن اندر خاموشی ہوئی تهی وہ بهی آنسوؤں پیتی وہاں سے گئی تهی
“میں چلتا ہوں اور خود ک ریلیکس کرو…”
وہ اس کے گلے لگا بولا اور خود بهی روم سے نکلا تها
“تعبیر تم میری محبت کا غلط فائدہ اٹهاتی ہو….”
خود سے سوچتا خود بهی اپنا کوٹ موبائل اور گاڑی کی چابیاں اٹهاتا روم سے نکلا تها ایک پیشنٹ کی خریت جاننے کے بعد اس کا ارادہ گهر جانے کا تها وہ جانتا تها میٹنگ میں سب اس کے منتظر ہیں لیکن اس کا دل نہیں تها وہاں جانے کا بیشک اس کی جاب پر گہرا اثر ہی کیوں نہ پڑتا
…………………………………
وجدان کو پولیس سٹیشن سے فارغ ہوتے ہوتے رات تقریباً گیارہ بج گئے تهے وہ جتنا جلدی فری ہونے کی کوشش کر رہا تها اسے اتنا ہی وقت لگ رہا تها اسے عالیاب کی ناراضگی کا بهی ڈر تها اوپر سے کل ہی تو اس کی شادی ہوئی تهی اور وہ دوپہر ایک بجے کا نکلا رات گیارہ بج گئے تهے
وجدان گهر کا سفر جلدی جلدی تہ کرتا گهر پہنچا تها دیر ہونے کی وجہ سے وہ اس کی بتائی گئی چیزیں بهی نہیں خرید سکا تها وجدان کمرے میں آیا تو توقع کے برعکس وہ سوئی تهی وجدان اپنی شرٹ اتارتا واشروم گیا اور منہ دهونے بعد گیلا چہرہ لیے ہی بیڈ پر اس کے قریب لیٹنے کے انداز میں بیٹها تها اور سوئی ہوئی عالیاب کو دیکهنے لگا
وجدان کے چہرے سے گرنے والے پانی کے قطرے عالیاب کو اپنے چہرے پر محسوس ہوئے تو وہ کسمسائی اور دهیرے سے آنکهیں کهولیں تو نظر خود پر جهکے وجدان سے ٹکرائی اسے دیکھ کر وہ ایکسائیٹڈ ہوئی لیکن ناراضگی کا یاد کرتے منہ پهلائے دوسری جانب کڑوٹ لیتے آنکهیں موندیں تهی
“میری جان…”
وہ اس کے کندهے پر ہونٹ رکهتے آہستہ سے بولا لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا
“آئی ایم سوری….”
اس کے ہونٹ کندهے سے ہوتے گردن کی جانب گئے تهے اور اس کا نرم گرم لمس محسوس کرتے اس نے سختی سے آنکهیں موندیں تهی اور تهوڑا آگے کهسکی تهی وجدان نے اس کے پیٹ پر ہاتھ رکهتے رخ خود کی جانب گیا
“آنکهیں کهولو…”
وہ اس کی بند آنکهوں کو دیکهتے اس کی گهنی پلکوں کو انگلیوں کی پوروں سے چهوتے بولا تها تو اس نے سختی سے نفی میں سر ہلایا
“ناراض ہو…؟”
اس کے پوچهنے پر اس نے اثبات میں سر ہلایا
“ایک بار معاف کردو دوبارہ تمہارہ سکندر ایسا نہیں کرے گا….”
اب کہ بار اس نے نفی میں سر ہلایا لیکن ہونٹوں پر لمس محسوس کرتے اس نے پهٹ سے آنکهیں کهولیں اور اس کو دور کرنے کی تگ ودو کرنے لگی وجدان پیچهے ہوتا مسکرایا اور خود کے چہرے سے گیلے ہوئے اس کے چہرے کو چهوا
“ان ہونٹوں سے کام تو لے نہیں رہی تهی سوچا میں خود کام لے لوں….”
وہ اپنا ماتها اس کے ماتهے سے رگڑتے بولا وہ اب بهی کچھ نہ بولی تهی
“جانان یار زیادتی ہے یہ بولو تو سہی کچھ. ..”
اب کہ وہ اس کی خاموشی سے تنگ آکر جهنجهلا کر بولا تو اس نے پهر سے نفی میں سر ہلایا اور اگلے ہی لمحے وہ چینخ اٹهی تهی کیونکہ وجدان پورا اس کے اوپر چڑھ گیا تها
“سکندر بہت بهاری ہیں آپ اتریں…..”
وہ اس کو پیچهے کرنے کی کوشش کرتے بولی جب کہ وجدان اس پر چڑها مسلسل ہنس رہا تها پهر اس پر رحم کهاتا پیچهے ہوا اور اس کو دیکهنے لگا جو رونی شکل بنائے اسے ہی دیکھ رہا تها اور وہ پهر سے چلا اٹهی تهی کیونکہ وجدان نے اپنے دانت زور سے اس کی گال پر گاڑے تهے
“اتنا مت چینخو سب کہیں گے پتا نہیں اندر کیا کر رہے ہیں میں تو صاف بتا دوں گا پهر تم ہی منہ چهپاتی پهرو گی…”
وہ پیچهے ہوتے آنکھ دبائے بولا تو وہ اپنی گال پر ہاتھ رکهے گهورنے لگی
“اچها مان جاو ورنہ بہت کاٹوں گا….”
“ایسے کون مناتا ہے سکندر…”
وہ غصے اور صدمے سے بولی
“میں تو ایسے ہی منایا کروں گا…”
وہ کندهے اچکائے بولا تو عالیاب نے تکیہ اٹهاتے اس کو مارا تو اس نے تکیہ کهینچتے دور اچهالا اور اس کو کهینچے سینے سے لگایا تها
“مان جاو جانان کل سارا دن تمہارے ساتھ رہوں گا پکا…”
وہ اس کے سر پر پیار کرتے بولا
“پکا…؟”
اس نے ویسے ہی سینے پر ہاتھ رکهے ہتهیلی اس کے سامنے پهیلائی جسے وجدان نے تهاما تها
“پکے سے بهی پکا…”
اس کی یقین دہانی پر اس نے اس کے گرد بازو پهیلائے تهے
