Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 29

اگلے دن کا سورج اپنی تمام تر بےقراریاں آشنا کرتے طلوع ہوا تها اس کی گدگدا دینے والی روشنی چاروں سو پهیل گئی تهی بعد از فجر نماز آسمان پر پهوٹتی پوہ کے بعد بہت سے لوگ گهنے درختوں کے سائے تلے سورج کے جلوے دیکهنے کو بےتاب ہو جاتے تهے اور اس کی زمین پر گرتی کرنیں ان کے چہروں پر مسکراہٹ بکهیر دیتی تهیں مارچ کا آغاز ہونے کی وجہ سے سورج کی خوبصورتی جبهتی نہ تهی
کہیں وقت کی ذیادتی کی وجہ سے ان کرنوں سے لوگ لطف اندوز ہو رہے تهے تو کہیں وقت کی کمی کی وجہ سے بهاگ دوڑ مچی ہوئی تهی اور یہ بهاگ دوڑ ملک ویلا میں بخوبی دیکهائی دے رہی تهی
چونکہ بارات شام کی تهی سب کو ریلیکس ہونا چاہیے تها لیکن جب کہ بارات گهر کے لاونچ میں تهی تو اس حساب سے سجاوٹ ضروری تهی جس وجہ سے دلہا سمیت سب ادهر ادهر بهاگتے نظر آرہے تهے

“یار میرے بهائی کی بارات ہے پتا نہیں سمجهتا ہی نہیں کوئی میرے بنا اگر وہ گهوڑی چڑھ گیا ظالمو تو میری کیا عزت رہ جائے گی….”
ذوہان تیزی سے کمرے سے نکلتا ساتھ کسی سے فون پر بات کر رہا تها
“اچها بکو مت آرہا ہوں بس بیس منٹ میں…”
وہ تیزی سے زینے اترتا بولا اور فون کان سے ہٹاتے ایک دم سے کچھ یاد آنے پر سیڑهیوں کے درمیان رکا

“یار ایک تو جب جلدی ہو تبهی سب سیاپے ہوتے ہیں…”
وہ خود کو کوستا جس سپیڈ سے اتر رہا تها اسی سپیڈ سے واپس اوپر چڑها اور کمرے سے گاڑی کی چابی اٹهاتا واپس زینے اترتا نیچے آیا تها
“ذوہان بیٹا کہاں جا رہے ہو اتنی ہڑبڑی میں…؟”
آبریش اس کو یوں ہڑبڑی میں جاتا دیکھ کر بولی
“امی جان ہوسپٹل جا رہا ہوں ایک گهنٹے تک آجاوں گا…”
وہ آبریش کی گال پر کس کرتا جلدی سے باہر کی جانب جاتے جاتے ہی بولا اور بنا اس کی سنے وہاں سے چلا گیا
“یہ لڑکا بهی نہ پاگل ہے…”
خود سے بڑبڑاتی ہاتهوں میں تهامی پهولوں کی تهال کو دیکهتی گارڈن کی جانب چلی گئی
…………………………………
دعا کمرے میں کسی کام کے غرض سے آئی تو سامنے سعد کو بیڈ پر سویا دیکھ کر اس کو حیرت ہوئی وہ فوراً اس کی جانب بڑهی اور بیڈ پر بیٹهتے اس کے ماتهے کو ہاتھ کی پشت سے چهوتے چیک کیا تها اس کو یوں سویا دیکھ کر اس کو لگا شاید سعد کی طبعیت خراب ہے ورنہ گهر میں شادی ہے ہزاروں کام ہیں اور سعد تو پچهے ہٹنے والوں میں سے نہیں پهر ایسے کیوں سویا تها

“سعد اٹهیں کیوں سوئے ہیں کیا ہوا ہے…؟”
وہ اس پر جهکی ایک ہاتھ سے اپنے بال کان کے پیچهے کرتی جب کہ دوسرے سے اس کا کندها ہلائے بولی تهی تو اس نے دهیرے سے اپنی آنکهیں کهولیں اور نظر خود پر جهکی دعا کے پریشان زدہ چہرے سے ٹکرائی اس نے ایک ہاتھ بڑهاتے اس کی گردن سے گزارتے تهوڑا سا بالوں میں انگلیاں پهنساتے مزید خود پر جهکایا تها اس کے اس عمل سے اس نے پلکوں کی باڑ گرائی تهی

“سس-سعد…”
وہ اس سے پیچهے ہونے کی کوشش کرتے بولی لیکن اس نے اس کا چہرہ اپنے چہرے کے مزید قریب کیا تها
“رات سویا نہیں تها کام کی وجہ سے تو ابهی آنکھ لگ گئی…”
وہ انگوٹهے کی مدد سے اس کی گال سہلاتے بولا
“میں پریشان ہو گئی تهی کہ کہیں طبیعت تو خراب نہیں…”
وہ فکرمندی سے کہتی اس کے سینے پر سر رکھ گئی تهی وہ ہولے سے مسکرایا
“میری فکر ہونے لگی ہے نہ تمہیں بہت…؟”
اس نے اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتے پوچها تو اس نے ویسے ہی سر رکهے اپنا سر اثبات میں ہلایا

“محبت کرنے لگی ہو نہ مجھ سے…؟”
وہ بےاختیار پوچھ بیٹها تها اس نے بنا سوچے سمجهے اثبات میں سر ہلایا لیکن سمجھ آنے پر فوراً سر اٹهایا اور اس کو گهورا
“ایسا کچھ نہیں ہے اور اٹهیں شاباش…”
وہ بیڈ سے اٹهتے نظریں چراتے بولی تو وہ ہنسا تها
“جس دن میری جان تم نے اظہار کیا نہ سمجھ لینا تمہاری تباہی کا دن ہے…”
اس کی ذومعنی بات سے وہ شرم سے سرخ پڑی اور باہر کی جانب چلی گئی لیکن جاتے جاتے صوفے سے کشن اٹها کر مارنا نہ بهولی تهی
…………………………………
تعبیر ہوسپٹل میں داخل ہوئی تو ذوہان کو ہوسپٹل میں موجود دیکھ کر ٹهٹهکی تهی
“یہ یہاں کیا کر رہے ہیں…؟”
وہ خود سے بڑبڑائی ذوہان خود پر نظریں محسوس کرتا اس جانب دیکها تو نظریں تعبیر سے ٹکرائیں تهی تعبیر نے گڑبڑا کر نظریں پهیریں تهی
“ڈاکٹر تعبیر اگر آپ مراکبے سے نکل جائیں تو بات سن لیں…”
اس کے طنز پر وہ منہ بناتی اس کے پاس آئی
“میں نے اس پیشنٹ کو پراپرلی چیک کر لیا ہے میں گهر جا رہا ہوں اگر کوئی مسئلہ ہو تو آپ دیکھ لیجئیے گا…”
وہ موبائل پر ٹائیم دیکهتے بولا جہاں ایک بج رہا تها اس نے اثبات میں سر ہلایا ذوہان کے فون پر رنگ ہوئی تو اس نے فوخ اٹهاتے اس کو دیکها تها اور اس کے پاس سے گزرا
“آرہا ہوں بس نکلنے والا ہوں میرے کپڑے ریڈی رکهنا…”
اس نے فون کی دوسری جانب پارس سے کہا اور روم سے بهی نکلا تها

“کپڑے ریڈی رکهنا رہتا نہیں نواب…”
اس کی نکل اتارتے وہ بهی واپس پلٹی لیکن دروازے پر ذوہان کو موجود دیکھ کر اس کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا
“میرے ان گناہگار کانوں نے سن لیا ہے…”
وہ گهورتی نگاہ اس پر ڈالتا واپس اندر آیا اور کرسی سے اپنا کوٹ اٹهایا تها اور واپس گیا اس کے جاتے ہیں اس نے سر پر ہاتھ مارا تها
…………………………………
“وجدان بیٹا تمہاری شادی ہے تم شیروانی پہنو یہ شلوار قمیض کیوں پہننی ہے…”
وہ شیروانی کی بجائے کڑتا پہننا چاہتا تها جس کی وجہ سے پریہان اس کو کب سے کہ رہی تهی
“موم سب شلوار قمیض پہن رہے ہیں مجهے بهی پہننی ہے میں نے سپیشل بنوائی ہے…”
وہ شلوار قمیض کی جانب اشارہ کرتے بولا جو بیڈ پر پڑی تهی
“بیٹا تمہاری شادی ہے سب کی شادی نہیں اور تم شیروانی پہنو گے بس…”
وہ اس کو بضد دیکھ کر بولی
“نہیں موم مجهے نہیں پہننی…”

“نہیں پہننی…؟”
اس کی ایک ہی ضد پر اس نے غصے سے آخری بار پوچها تو اس نے نچلا ہونٹ دانتوں میں دبائے نفی میں سر ہلایا تها
“اچها پہنتے رہو مجھ سے بات مت کرنا موم کی تو بات کی اہمیت ہی نہیں…”
وہ غصے سے ہاتھ میں پکڑی خوبصورت شیروانی کو صوفے پر پهینکتے بولی اور کمرے سے نکل گئی
“ارے موم سنیں تو…”
وہ پیچهے سے بس اتنا ہی کہ سکا پهر گہرا سانس لیتے کبهی شیروانی تو کبهی شلوار قمیض کو دیکهتا
…………………………………
“دعا تم نے مہندی کیوں نہیں لگوائی…؟”
عالیاب جو تیار ہو رہی تهی دعا کے خالی ہاتھ دیکھ کر پوچها
“تمہیں پتا تو ہے مجهے پسند نہیں…”
وہ تیار ہونے کے لیے بیٹهتے ہوئے بولی
“لیکن تهوڑی سی تو لگوا لیتی…”
“پهر الجهن ہوتی مجهے…”
پارلر والی کے کہنے پر اس نے آنکهیں بند کرتے کہا تو عالیاب بهی خاموش ہوئی تهی
“رباب تیار ہو گئی ہے..؟”
رباب کا خیال آنے پر اس نے پوچها
“ہاں ہو گئی ہے…”
عالیاب خود کی تیاری شیشے میں دیکهتے ہوئے بولی
…………………………………
روحا تعبیر کے کمرے میں آئی تو اس کو ویسے ہی بیڈ پر لیٹا دیکھ کر اس کا پارا ہائی ہوا تها
“تم ابهی تک تیار نہیں ہوئی…؟”
وہ خود کا غصہ کنٹرول کرتے بولی
“آپ کو لگتا ہے میں جاوں گی..؟”
اس نے تیوری چڑهائے کہا
“تمہیں لگتا ہے میں نے تم سے پوچها ہے…؟”
اس نے آئبرواچکائے اسی کے انداز میں کہا تو اس کو گویا صدمہ لگا ہو
“آپ ایسا نہیں کر سکتی آپ ان کے لیے اپنی بہن کے ساتھ ایسے بیہیوو رکھ رہی ہیں…”
وہ اس کو الماری سے کپڑے نکالتے دیکھ کر صدمے سے بولی

“تمہیں مسئلہ کیا ہے وجدان یا ذوہان سے ہاں…؟”
وہ پلٹتے ہوئے غصے بولی
“آپ کے ساتھ وجدان سکندر نے جو کیا آپ اس کو کیسے فراموش کر سکتی ہیں کیسے اس انسان کی شادی میں جا سکتی ہیں جس نے آپ کی محبت….”
“شٹ اپ تعبیر….”
اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے روحا غصے سے چلائی
“جب کسی بات کا پتا نہ ہو تو بکواس نہیں کرنی چاہیے اور ویسے بهی میرے ساتھ سب ہوا میں جا رہی ہوں تو تمہیں کیا مسئلہ ہے…”
وہ تڑخ کر بولی تو تعبیر نے پہلو بدلا
“آپ میری بہن ہی نہیں..”
وہ نم آنکهوں سے دیکهتے بولی
“ہاں نہیں بہن مزید کوئہ بات سننے کا دل نہیں بیس منٹ ہیں تمہارے پاس ریڈی ہو جاو اور نیچے آجاو انتظار کر رہی ہوں گاڑی میں…”
ڈریس بیڈ پر رکهتی بنا اس کی بات کو خاطر میں لائے خود کی کہتی کمرے سے نکل گئی پیچهے وہ الجهتی ہوئی واشروم میں گهس گئی وہ خود نہیں جانتی تهی وہ یہ سب کیوں کر رہی ہے
…………………………………
تین بجے کے قریب تقریباً سب مہمان آنا شروع ہو گئے تهے ملک ویلا میں بهی سب تیار تهے بےشمار کهانے لذومات کی خوشبو پورے ملک ویلا میں پهیلی ہوئی تهی جو فضول میں ہی سب کی بهوک بڑها رہی تهی

“میرے بهائی کہ شادی ہے میں نہیں آسکتا تم خود سب مینج کر لو…”
سعد چہرے پر پریشانی اور غصے کے ملے جلے تاثرات سجائے فون پر کسی سے کہ رہا تها
“بهاڑ میں جائیں سب ڈیلز….”
وہ غصے سے بولا مہمانوں کے ہونے کی وجہ سے آہستہ آواز میں بول رہا تها
“سر اس ڈیل سے ہمیں کڑوڑوں کا نقصان ہو سکتا ہے…”
اس کے مینجر نے پریشانی سے کہا
“تم ہینڈل کر لو میں نہیں آسکتا میٹنگ آگے رکھ لو…”
وہ سر کهجاتے الجها سا بولا آگے سے کچھ کہا گیا کہ اس نے فون بند کیا تها

“کیا ہوا میرے شیر….؟”
مصطفیٰ اس کو یوں پریشان سا دیکھ کر اس کے پاس آیا اور اس سے پوچها
“کچھ نہیں چهوٹے ابو…”
اس نے زبردستی مسکرانے کی کوشش کرتے کہا
“کوئی مسئلہ ہے تو بتاو…”
اس نے اس کے کندهے پر ہاتھ رکهتے کہا تو اس نے گہرہ سانس لیے سب بتایا مصطفی نے دو پل سوچا پهر اس کی جانب دیکها
“جس کے ساتھ ڈیل ہے اس کا نمبر دو…”
اس کے کہنے پر سعد نے ناسمجهی سے اس کا نمبر دیا
“پریشان مت ہو تم پر پریشانی اچهی نہیں لگتی بےفکری سے شادی کی زمہ داریاں نبهاو چهوڑو سب کو…”
مصطفی مسکرا کر اس کی گال تهپتهپاتے بولا تو اس نے خاموشی سے اثبات میں سر ہلایا

“پری وجدان کو کتنی دیر ہے تقریباً مہمان بهی آگئے ہیں….”
شہرام کچھ عورتوں کے ساتھ کهڑی پریہان کے پاس آتے آہستہ سے پوچها
“میں دیکهتی ہوں اس کو…”
یہ کہتے وہ پلٹہ تو سامنے ہی وجدان شیروانی میں ملبوث آبریش کے پاس کهڑا تها پریہان کے لب ہولے سے مسکرائے اور شہرام اور پریہان اس کی جانب گئے وجدان نے پریہان کو دیکهتے مسکراہٹ دبائی تهی
“ماشاءاللہ اللہ ہر بری بلا سے بچائے…”
وہ اس پر آیتلکرسی پڑھ کر پهونک مارتے بولی تهی
“شہرام بهائی کتنی دیر ہے…؟”
احتشام ان کے پاس آتا بولا
“ہاں بس سب ریڈی ہے…”
شہرام نے وجدان کے گرد باو حمائل کرتے ہوئے کہا

اور پهر کچھ ہی دیر میں بارات کا شور اٹها جب کہ بارات پیچهے دروازے سے نکلتی اگلے دروازے کی جانب سے انی تهی تو وقت سے پہنچ گئی تهی دعا دروازے پر وجدان کو اچها خاصا لوٹنے کے بعد اندر داخل ہونے دیا تها اور پهر سٹیج پر بیٹهایا تها نکاح تو پہلے ہی ہو چکا تها بس دلہن کا انتظار تها
روحا اور تعبیر بهی پہنچ چکیں تهی اور روحا وجدان سے مل چکی تهی جس نے شہرام اور پریہان سے بهی ملوایا تها اور ان کا بیہیوو ان سب کی ہر چیز تعبیر کر لیے کنفیوزایبل تهی …………………………………
دعا بار بار فون پر ہوتی زرش کی کال پر نیچے جا رہی تهی کہ کسی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے سامنے کیا
“سعد چهوڑیں بڑی امی بلا رہی ہیں….”
وہ اپنا ہاتھ اس سے آزاد کروانے کی کوشش کرتے بولی
“شوہر سے تو نمٹ لو پہلے….”
اس نے اس کا مکمل جائزہ لیتے کہا جو چاکلیٹ کلر کے کڑہائی دار لانگ خوبصورت فراک اور چاکلیٹ کلر کے سلک کے دوپٹے سے حجاب کیے بارات کے حساب سے میک اپ اور الجهی سی وہ کوئی آسمان سے اتری پری ہی لگ رہی تهی اس کی نظروں کا تسلسل اس کی آواز نے توڑا تها

“سعد بعد میں بات کرتی ہوں نہ…”
وہ فون پر آتی زرش کی کال دیکھ کر دوبارہ ہڑبڑی میں بولی سعد نے اس کا ہاتھ چهوڑا تو وہ بنا اس کے ایکسپریشنز دیکهے وہاں سے نیچے کو بهاگی تهی اس کے نظروں سے اوجهل ہوتے ہی بهی سر جهٹکتا نیچے چلا گیا تها سعد ذوہان پارس تینوں نے چاکلیٹ کلر کی شلوار قمیض جب کہ اوپر براون واسکٹ پہنی تهی ان کے سوٹ کا کلر سیم تها لیکن ڈیزائن چینج تها
…………………………………
تعبیر کی نظریں سامنے چاکلیٹی شلوار قمیض میں ملبوس ذوہان پر ٹکی تهیں جو نفاست سے سیٹ کیے بال بار بار داڑهی پر ہاتھ پهیرتے فون پر کچھ ٹائپ کرتا ساتھ ہنس بهی رہا تها اس کی آنکهوں میں مرچیں لگ رہیں تهی جلن کی لہر اس کے دل میں دوڑی تهی

“تم محبت کرتی ہو ذوہان مصطفی سے…”
روحا کی آواز پر وہ چونکی تهی
“نن-نہیں تو….”
وہ ذوہان سے مشکل سے نظریں ہٹاتے روحا سے بولی
“آنکهوں میں محبت کا سمندر ابلنے کو باہر ہے اور تم کہتی نہیں محبت…”
اس کی بات پر اس نے اپنی بہن سے نظریں چرائیں
“آپ غلط سمجھ رہی ہیں….”
اس کی زبان آنکهوں کا ساتھ نہیں دے رہیں تهی

“تمہارا گڑبڑانا تمہاری آنکهیں تمہاری زبان سے ادا ہونے والے الفاظوں کے خلاف گواہی دے رہی ہیں…”
“آپ پلیز…”
وہ بےبسی سے بولی
“اقرار کیوں نہیں کرتی کہ ذوہان مصطفی نے تمہارے دل میں تہلکہ مچا رکها ہے تمہاری اس سے نظریں ہٹنے سے عاری ہیں جہاں تک مجهے نظر آتا ہے اس سے زیادہ محبت کے شعلے تم میں بهڑک رہے ہیں…”
وہ آج اس سے اقرار پر تلی تهی
“پلیز میرا منگتیر ہے شادی ہونے والی ہے یہ سب بتایں مت کریں…”
وہ بےبسی کی کس انتہا پر تهی اس کے چہرے سے واضع تها

“محبت خاموشی سے نہیں بیٹهتی وہ بےتاب ہوتی ہے ڈهنڈورا پیٹنے کو تو فیصلپ خود کر لو رسوائی چاہیے تها محبت میں موجود عزت…”
وہ آگے ہوتے بولی اور پهر خاموشی سے اپنا موبائل دیکهنے لگی تعبیر نے دوبارہ ذوہان کو دیکها جو اب کسی سے وڈیو کال میں ہنس کر بات کر رہا تها اس میں غصے کی لہر تب دوڑی جب وہ فون پر وڈیو کال میں فلائنگ کس دینے لگا اس نے فوراً نظروں کا زاویہ بدلا تها کہ ایک دم سے دلہن کی آمد کا شور اٹها تها زوہان بهی بائے بولتا اس جانب بهاگا تها سب کیمرہ مین کا رخ سیڑهیوں کی جانب دعا اور رباب کے درمیان موجود عالیاب کی جانب ہوا تها

وجدان سٹیج پر سعد کے ساتھ کهڑا یک ٹک عالیاب کو دیکهنے لگا جو گولڈن لہنگے جس پر ہیوی کام کہ لہنگا اس سے سنبهالنا مشکل تها اور گولڈن کلر کا حجاب کیے برائیڈل میک اپ کے ساتھ وہ سہی اس کے دل کی ملکہ ثابت ہو رہی تهی وہ بےتابی سے اس کے قریب آنے کا منتظر تها لیکن کیمرہ مین تهے کہ رستے میں دیوار کی مانند کهڑے تهے
عالیاب نے بامشکل لہنگا سنبهالے ہوئے تهی ایک جانب سے دعا جب کہ دوسری جانب سے رباب نے پکڑا ہوا تها اور اس کو چلنے میں مدد دے رہیں تهی

پورے دس منٹ بعد کیمرہ مینز نے جان چهوڑی تو وہ سٹیج کی جانب بڑهی
“یہی کهڑا رہے گا…؟”
اس کو بنا پلک چهپکے عالیاب کو دیکهتے سعد نے کہنی مارتے کہا تو وہ ہوش میں آیا اور سٹیج سے نیچے اترا تها عالیاب جیسے ہی اس کے قریب پہنچی وہ اس کے سامنے کهڑا اسی کو دیکھ رہا تها عالیاب نے پلکوں کی جهالر اٹهاتے ایک پل ہی اس کی آنکهیں میں موجود جذباتوں کے سمندر کو دیکها تها کہ پلکوں کی باڑ گرا گئی تهی

دعا پیچهے ہوئی تو وجدان اس کی جانب آیا اور ایک ہاتھ کمر میں ڈالتے دوسرے سے لہنگا اٹهایا تها

“قاصر ہیں میری نگاہیں تیرے چہرے سے ہٹنے کو
کہ جادو تیرے حسن نے ایسا کیا میں بےبس ہوگیا”

وجدان کان میں جهکتا سرگوشانہ انداز میں شعر پڑهتا بنا ہوٹنگ کی پرواہ کرتے اس نے عالیاب کو سٹیج پر چڑهنے میں مدد کی تهی
“مجهے ایک بات کلئیر ہو گئی ہے شہرام…”
مصطفی ان کو دیکهتے شہرام سے بولا جس نے ناسمجهی سے اسے دیکها
“کہ اس نے بےشرمی میں تمہارا بهی ریکارڈ توڑ دیا ہے….”
مصطفی نے شرارت سے کہا تو شہرام کے ساتھ ساتھ پاس کهڑے ذوہان کا بهی قہقہ گونجا تها
“شرم کر ماموں کی بستی ہو گئی تیرے دانت نہیں رک رہے….”
ذوہان کو مسلسل ہنستے دیکھ شیرام نے ہنستے ہوئے اس کی کمر پر دهمکا جڑا تها
“میں بهی ٹوٹلی ایگری ہوں بابا آپ کی اس بات سے ماموں آپ نہیں جانتے آپ کا بیٹا کتنا بےشرم ہے….”
وہ پہلے مصطفی سے کہتا آخر میں ہنستے ہوئے شہرام سے کہا تو وہ دونوں بهی ہنسے تهے اور وجدان اور عالیاب کو دیکها جو اب ساتھ بیٹهے تهے کیمرہ مین دهڑا دهڑ اپنا کام سر انجام دے رہے تهے
“رباب….”
وجدان کے پکارنے پر رباب اس کی جانب متوجہ ہوئی پهر وجدان نے اس کے کان میں کچھ کہا کہ اس نے اثبات میں سر ہلایا تها

“کتنے خوبصورت لگ رہے ہیں دونوں….”
روحا نے دونوں کو دیکهتے آہ بهرتے کہا تو تعبیر نے اپنی بہن کو دیکها
“آپ کو برا نہیں لگ رہا…؟”
اس کی بات پر اس نے ناسمجهی سے دیکها اس سے پہلے روحا کچھ کہتی رباب ان کی جانب آئی
“آپ دونوں میرے ساتھ چلیں وجدان بهائی نے کہا ہے آپ کی پکس بهی بنائی جائیں…”
رباب اپنے حجاب پر ہاتھ رکهتے پن سہی کرتے بولی
“ہاں کیوں نہیں…”
روحا اٹهتے ہوئے بولی
“لیکن آپی…”
“خاموش رہو چلو….”
وہ بنا اس کی بات کو کسی خاطر میں لاتی اپنے ساتھ لے گئی اور پهر ان کی بهی بہت سی پکس بنائیں گئیں تهی
…………………………………
روحا اپنی امی کا فون سننے شور سے دوسری سائیڈ گئی تهی تعبیر ایک جانب کهڑی اس کا انتظار کر رہی تهی کے اپنے قریب کسی کی موجودگی کا احساس ہوا تو گردن موڑے دیکها نظریں ڈائیرکٹ اس کی نیلی آنکهوں سے ٹکرائیں تهی اور دو قدم فاصلے پر کهڑی ہوئی

“بہت خوبصورت لگ رہی ہیں…”
وہ مسکرا کر اس کا مکمل جائزہ لیتے بولا
“آپ بهی اچهے لگ رہے ہیں بہت…”
وہ اس کو دیکهتے صرف دل میں سوچ سکی
“میرے منہ مت لگیں ڈاکٹر ذوہان…”
وہ اس کے پاس سے جانے لگی کہ ذوہان نے بازو سے پکڑ کر کهینچ کر خود سے قریب کیا
“ابهی وہ رشتہ نہیں کہ تمہارے منہ لگ سکوں لیکن حلال رشتہ بنتے ہی سب سے پہلے یہی ٹرائے کروں گا…”
وہ اس کے لبوں کو فوکس کرتے بولا اور اس کی بات سننتے وہ کچھ شرم اور کچھ غصے سے سرخ ہوئی تهی

“اپنی حد میں رہیں….”
وہ چباتے ہوئے بولی
“اپنی حد سے بہت دور گزر گیا ہوں تعبیر ذوہان مصطفی….”
آخر میں اس کا نام اپنے نام کے ساتھ لیتے ہوئے بولا تو اس نے اس کو گهورا تها لیکن اس کی آنکهوں میں محبت کی تاثیر دیکهتے وہ نظریں گرا گئی تهی کیمرے کی آنکھ نے یہ منظر بهی قید کیا تها پک کهینچنے کی آواز پر وہ ہوش میں آیا اور اس کو خود سے دور کیا

“سر اچهے لگ رہے ہیں دوبارہ تهوڑا کلوز ہو جائیں…..”
وہ کیمرے کو دوبارہ سیٹ کرتے اس سے سنجیدگی سے بولا “بکواس بند کرو اپنی….”
اس کو غصے سے کہتی وہاں سے چلی گئی
“کیا ہوا سر کوئی غلط بات کر دی…”
وہ معصومیت سے ذوہان سے پوچهنے لگا جو سر کو کهجاتا اس کی جانب آیا
“نہیں میرے بهائی میری بیگم غصہ ہے کہ ہمارے ابهی تک بچے کیوں نہیں ہوئے…”
وہ اس کا کندها تهپتهپا کر بولتا وہاں سے چلا گیا جب کہ وہ الجها سا ذوہان کی پشت دیکهنے لگا جو اب سٹیج پر پہنچ چکا تها
…………………………………
“جانم بہت خوبصورت لگ رہی ہو میرا من کر رہا ہے بس تمہیں ہی دیکهتا رہوں…”
وہ سٹیج پر رش کم ہونے کے بعد عالیاب کی جانب جهکتے ہوئے بولتا اس کی دهڑکنیں بڑها رہا تها
“میں کیسا لگ رہا ہوں…؟”
اس کے پوچهنے پر اس نے پلکوں کی جهالر اٹهاتے اس کو دیکها لیکن جهالر فورا گرا گئی تهی
“بب-بہت اچهے لگ رہے ہیں…”
وہ آہستہ آواز میں بولی پهر ایک دم سے سی کرتے ناک کو چهوا تها وجدان فورا اس کی جانب ہوا

“کیا ہوا میری جان…؟”
کیمرے اور لوگوں کی پرواہ کیے بغیر اس نے اس کا چہرہ ہاتهوں میں تهامے کہا پهر اس کی نتهلی کو دیکها جو ناک سے نکل چکی تهی اس سے پہلے عالیاب پکر کر دوبارہ پہنتی وجدان نے نتهلی کو پکڑتے بہت آرام سے بنا درد کیے اس کے ناک میں پہنایا تها ہوٹنگ ہونے کی وجہ سے وہ ہوش میں آیا مطلب سب کی نظریں ان پر ہی تهیں عالیاب تو شرم سے پانی پانی ہو گئی تهی بهلا کیا ضرورت تهی ایسے کرنے کی لیکن وجدان بےشرموں کی طرح بالوں میں ہاتھ پهیرتا ہنس رہا تها ساتھ سیٹی مار رہا تها
…………………………………
“اووو آگئے لٹیرے….”
دعا اور رباب کے ساتھ کچھ اور کزنز کو ہاتھ میں گفٹ پکڑے سٹیج پر چڑهتے دیکھ وجدان کے پیچهے کهڑے ذوہان نے اونچی سی ہانک لگائی جس پر ان دونوں نے آنکهیں گهمائیں اب سب مہمانوں کا کیمرے مین سمیت اب کی نظریں سٹیج پر تهیں وجدان اور عالیاب کے پیچهے پارس سعد اور ذوہان کهڑے تهے جب کہ باقی فیملی دونوں سائیڈز پر کهڑیں تهی

“ذوہان بهائی آپ تو چپ ہی رہیں….”
رباب نے ذوہان سے کہا پهر دونوں سائیڈز پر بیٹهیں تهی
“ہاں جی کدهر…”
وجدان نے ان دونوں کو بیٹهتے دیکھ پوچها تو ان دونوں نے آنکهیں پٹپٹائیں اور دعا نے ہاتھ میں موجود گفٹ آگے کیا
“ارے واہ چلو گفٹ کهولتے…”
وجدان نے گفٹ پکڑنا چاہا لیکن دعا نے فوراً پیچهے کیا تو اس نے سوالیہ نظروں سے دیکها
“پیسے دو گفٹ لو….”
ان دونوں نے ایک ساتھ گنگنایا تها
“شاباش پتلی گلی پکڑو دونوں رستہ روکائی دودھ پلائی پہ میری دو مہینوں کی سیلری اڑا گئی ہو یار غریب بندہ ہوں رحم کرو…”
وہ منہ بنائے بولا تها سب کے چہروں پر تبسم پهیلا تها

“بهائی یہ تو ضروری ہے اب گفٹ کهولنا ہے تو پیسے تو دینے ہونگے…”
رباب بولی تهی
“تم لوگوں کو کس نے کہ میں نے گفٹ کهولنا ہے یا مجهے بےتابی ہے گفٹ کهولنے کی…”
اس نے آنکهیں بڑی کرتے کہا
“جو بهی ہو کهولنا ہو گا کهولے بغیر ہم یہاں سے ہلیں گے نہیں آپ کو ہی دیر ہو گی ہمارا تو کچھ نہیں جانا…”
دعا سیدهی ہوتے بولی تو اس نے گهورا

“چچچچ بهائی پولیس والا ہو کر ان ڈاکووں کو نہیں پکڑ سکتا کتنا ناکارہ پولیس والا ہے نام ڈبو دیا ہمارے خاندان کا آج تاریخ لکهے گی کہ ایک پولیس والے کو دو لڑکیوں نے لوٹ لیا….”
ذوہان نے افسوس سے کہا تو اس نے گهورا
“تم بهڑکا مت اور تم میری سائیڈ پر ہو یا ان کی فضول کی بکواس نہ کر….”
اس نے گهورتے کہا تو اس نے آنکھ دبائی تهی
“بهائی ان کو چهوڑیں یہ آپ کا ٹائیم بڑها رہے ہیں ایک ہاتھ سے پیسے دیں دوسرے سے گفٹ لیں…”
دعا نے وجدان کو خود کی جانب متوجہ کیا

“سعد بهائی کچھ کریں ان کا…”
وجدان نے مظلومیت سے کہا
“میری جان حکم کریں کتنے چاہیے…”
سعد دونوں ہاتھ ٹکاتا آگے ہوتا محبت سے دعا سے بولا
“جتنے آپ دے دیں سعد…”
وہ شرما کر بولی
“اووو ہیلو ایکسیوزمی…”
وجدان نے ایکسیوزمی کو لمبا کهینچا تو سب کا قہقہ گونجا تها
“نہیں مطلب سیریسلی سب کو موقع چاہیے یہاں….”
وجدان نے منہ بنائے کہا
“اب آپ کو نہیں بل رہا بهائی تو ہم کیا کریں…”
پارس کی بات پر ایک بار پهر سے اب کے قہقے گونجے تهے
“تمہیں تو بعد میں بتاتا ہوں مینڈک…”
وہ چباتے ہوئے بولا

“اچها بهائی مزاق ختم بیس ہزار دیں اور گفٹ لیں…”
دعا سیریس ہوئی
“رقم سن کر مجهے لگتا ہے مزاق ابهی شروع ہوا ہے…”
ذوہان نے ہنستے ہوئے کہا تو وہ کهلکهلائی تهی
“میری بہن زیادہ سے زیادہ یہ تین چار سو کا گفٹ ہو گا تیس بیس کی پیکنگ ہوگی جس کا تم مجھ سے بیس ہزار مانگ رہی ہو میں خود خرید لوں گا تم رہنے دو…”
رقم سنتے اس نے آنکهیں چهوٹی کیں تهی اور کہا بیس تیس کی پیکنگ کا سنتے اس نے آنکهیں گهمائیں تهی

“بهائی اب تیس بیس کا زمانہ گیا پوری ستر روپے کی پیکنگ ہوئی ہے…”
رباب نے اپنا لقمہ دیا
“اترا تو ایسے رہی ہو دونوں جیسے ستر ہزار کی پیکنگ ہوئی ہو….”
سعد نے گفٹ کو ہاتھ پکڑ کر دیکهتے کہا اور واپس دعا کو پکڑایا
“سعد آپ تو میری طرف ہو جائیں….”
اس نے لاڈلے پن سے کہا
“جی میرے دل میں تو آپ کی طرف ہی ہوں بس اب بهائی کی شادی ہے کیا کروں ناٹک بهی تو کرنا ہے…”
اس کی بات پر وجدان کا دل کیا کوئی چیز اٹها کر خود کے سر پر ہی دے مارے لیکن فوراً سوچ پر لانت بهیجی کیونکہ ابهی نئی نئی شادی ہوئی ہے اتنی جلدی تو نہیں مرنا تها

“بهائی دس ہزار دے کر ان کو رفع دفع کریں…”
وجدان نے گہرہ سانس لیتے کہا تو مزید کچھ دیر بحث کے بعد بات ساڑهے دس ہزار پر ختم ہوئی تهی دعا نے وجدان کو گفٹ دیا جسے وہ اب کهولنے میں مصروف تها جس کی پیکنگ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تهی
“یار اتنا زیادہ کهول دیا ہے مجال ہے جو پیکنگ ختم ہو جائے….”
وجدان ریپر نیچے بکهرے دیکھ کر بولا

“مجهے تو کارون کا خزانہ لگا تها لیکن اب کارون کیا کسی چیونٹی کا خزانہ بهی نہیں لگ رہا…”
پارس نے گفٹ کو دیکهتے کہا جو اب آدهے سے کم ہو گیا تها
“پارس اچها اچها بول یار تیرے بهائی نے ساڑهے دس ہزار بهرا ہے…”
وجدان نے پیکنگ کهولتے کہا سب متجسس انداز سے گفٹ کو دیکھ رہے تهے ان کی گفتگو بهی سب انجوائے کرتے ہنس رہے تهے
“یار دعا یہ دس ہزار کا تم نے مجهے دیا ہے…”
وہ آخر میں ایک ڈبیا نکالتے بولا

“بهائی یہ ڈبیا تو کهولیں…”
دعا نے کہا تو وجدان کو ایک امید کی کرن جاگی کہ شاید کوئی قیمتی رنگ یا کچھ اور ہوگا لیکن جیسے ہی کهولا جہاں سب کے قہقے بلند ہوئے تهے وہی وجدان حیرت سے دیکهنے لگا
“بهائی تم تو لٹ گئے…”
سعد نے اپنی ہنسی کے دوران مشکل سے کہا جو صدمے میں تها

“سیریسلی دعا….”
وہ اس ڈبیا میں سے فیڈر نکالتا صدمے سے دوچار بولا
“سیریسلی تم نے اس کے دس ہزار لیے ہیں…”
وہ کسی صورت صدمے سے نہیں نکل رہا تها
“بهائی ساڑهے دس ہزار….”
ذوہان نے اس کے کندهے پر ہاتھ رکھ کر کہتے اس کے زخموں پر نمک چهڑکا تها
“پیچهے کر صدمے میں ہوں میں…”
وہ اس کا ہاتھ ہٹاتا بولا اور بار بار اس فیڈر کو دیکهتا اس کی شکل اور اس فیڈر کو دیکهتے کسی کی ہنسی نہیں رک رہی تهی

“بهائی شیلڈ کا فیڈر بهی سو یا دو سو کا مل جاتا ہے لیکن افسوس تم نے دس ہزار آئی مین ساڑهے دس ہزار دیے تهے…..”
پارس نے صدمے سے کہا تو اس نے وہ فیڈر ٹیبل پر رکها تها
“مینو نہیں چائیدا گفٹ واپس کرو میرے پیسے…”
وہ رونی شکل بنائے پنجابی میں بولا
“اب تو نہیں ملنے…”
دعا ہنس کر اس کے پاس سے اٹهتے ہوئے بولی

“ایس پی صاحب سنبهال لو بڑے پیار سے دیا ہے میری بیوی نے اپنے بچوں کے لیے سنبهال لو کام آئے گا…”
سعد نے ہنستے ہوئے دعا کی سائیڈ لی
“آپ ہی سنبهالیں اپنے بچوں کے لیے…”
وہ چباتے ہوئے بولا وہ کسی صورت صدمے سے نہیں نکل رہا تها
“اچها بهائی اب افسوس کا فائدہ نہیں…”
رباب بهی اٹهتے ہوئے بولی

“اچها چهوڑ میرے بهائی صدقہ سمجھ کر جانے دے…”
اس نے ہنسی روکتے تسلی دینا چاہی
“یار میں صدقہ نکالوں تب بهی اتنا نہ نکلے…”
اس کی بات نے گویا اس کے زخموں پر نمک چهڑکا ہو
انہی ہنسی مزاق میں یہ فنکشن آٹھ بجے کے قریب اپنے اختتام کو پہنچا تها تقریباً سب مہمان جا چکے تهے عالیاب کو بهی وجدان کے کمرے میں بیٹها دیا گیا تها جب کہ بے چارہ وجدان دوستوں میں گهیرا نیچے بیٹها تها
…………………………………
عالیاب وجدان کے کمرے میں بیٹهی ہاتهوں پر چهوٹتے پسینے بار بار صاف کرتے پهولوں سے سجا کمرہ دیکھ رہی تهی وہ یہاں پہلی بار تو نہیں آئی تهی لیکن آج احساس تهوڑا مختلف تها ابهی وہ کمرے کا جائزہ ہی لے رہی تهی کہ وجدان باہر دعا اور رباب سے بهڑتا کمرے میں داخل ہوا عالیاب نے فوراً سے گهونگهٹ اوڑها تها وجدان اس کی جلدی پر مسکرایا اور دروازہ لاک کرتے اس کی جانب آیا اور اس سے کچھ فاصلے پر بیٹها

“وہ دن آگیا جس کا مجهے بےصبری سے انتظار تها…”
دونوں کے بیچ خاموشی کو وجدان کی بوجهل آواز نے توڑا تها وجدان نے اس کا گهونگهٹ اٹهایا اور جهکے سر کو دیکها اس نے اس کو تهوڑی سے پکڑے اس کا چہرہ اٹهایا تها عالیاب نے سختی سے آنکهیں میچی ہوئیں تهی وجدان کو اس پر ٹوٹ کر پیار آیا تو آگے ہوتے اس کے ٹهنڈے پڑتے ماتهے پر اپنے ہونٹوں سے گرمائش بخشی تهی

“گفٹ لینا ہے…؟”
اس نے اس کی تهوڑی پر انگلی پهیرتے کہا تو اس نے بند آنکهوب سے ہی اثبات میں سر ہلایا وجدان نے مسکرا کر سائیڈ دراز کهولی اور اندر سے ایک لمبی ڈبیا نکالی
“یہ دیکهو…”
اس نے وہ کهولتے اس سے کہا تو اس نے دهیرے سے آنکهیں کهول کر اس میں موجود نیکلس کو دیکها
“بہت خوبصورت….”
اس نے اس کو دهیرے سے چهوتے کہا تو وجدان نے وہ نیکلس نکالا اور اس کی گردن میں پہنایا تها اپنی گردن پر اسکا لمس محسوس کرتے اس کی جان حلق کو آئی تهی

وجدان نے دهیرے سے اس کا حجاب کهولتے اس کے بالوں کو جوڑے سے آزاد کیا تها اور اس کے بالوں پر اپنے لب رکهے تهے دهڑکنوں کا اٹهتا شور گلاب کی مہکی خوشبو وجدان کی بےقراریاں اور کمرے میں معنی خیر خاموشی وجدان کو اکسا رہی تهی لیکن فلحال وہ ایسا کچھ نہیں چاہتا تها اسے لیے دهیرے سے زیور اتارتے وہ پیچهے ہوا

“جاو چینج کر لو پهر دو نوافل ادا کریں گے اس کے بعد…”
وہ آخر میں بات ادهوری چهوڑ گیا تو وہ گڑبڑا کر بیڈ سے اٹهی اور واشروم میں گهس گئی تهی وجدان نے بهی شیروانی اتارتے بالکونی میں آیا اور آسمان پر چمکتئ دمکتے چاند کو دیکهنے لگا جس کے گرد تارے رقص کررہے تهے کچھ دیر بعد ہی عالیاب بهی وہاں آئی اور اس کو بازو سے تهامتے اس کے بازو سے سر ٹکایا تها دونوں اپنی حسین رات میں ایک دوسرے کے ہمرا کهڑے آسمان پر موجود اس چاند کو تک رہے تهے جو تاروں کے بیچ گهیرا اپنا حسن بکهیر رہا تها
…………………………………
سعد واشروم سے نکلتا بیڈ پر لیٹی دعا کو دیکها جو کهلی بند آنکهوں سے اسے ہی دیکھ رہی تهی وہ اس کے پاس آتا بیڈ پر لیٹا اور کہنی کے بل اٹهتا اس کو دیکهنے لگا
“تهک گئی میری جان…”
اس نے اس کی گردن میں موجود نیکلس پر انگلی پهیرتے کہا اس نے اثبات میں سر ہلایا
“جتنا آج تم نے وجدان کو لوٹا ہے مجهے لگتا ہے تم پورا کراچی گهوم سکتی ہو بلکہ ہمیں بهی اپنے پیسوں سے گهما سکتی ہو…”
اس کی بات پر وہ دهیرے سے ہنسی اور اس کی جانب کروٹ لیتے اس کی کمر پر ایک ہاتھ رکها تها سعد بهی نیچے سہی ہو کر اس کی جانب منہ کرتے لیٹا تها
“آئی لو یو…”
دهیرے سے کہتا اس کے بال سہلانے لگا اور دعا مزے سے نیند کی دنیا میں پہنچ گئی تهی اس کو دیکهتے دیکهتے سعد بهی سو گیا تها
…………………………………
السلام و علیکم کیسے ہیں سب…؟ فرسٹ قسط کی دیری کے لیے معذرت آپ سب کا رسپانس تو اچها تها لیکن میں اپنے وعدے پر نہ اتر سکی طبعیت کی خرابی کی وجہ سے میں کافی شرمندہ بهی ہوں اور نیکسٹ قسط بهی لانگ ہو گی جو کہ کل نہیں آئے کی پوری کوشش ہو گی پرسو دوں اور اس کے علاوہ جیسے مہندی نکاح پر رسپانس دیا ویسے مجهے اس قسط کیا ہر قسط پر چاہیے کہنا تو بہت کچھ چاہتی ہوں لیکن لکهنے میں مسئلہ ہو رہا طبعیت وجہ سے تو باقی باتیں ولیمے پر کریں گے اللہ حافظ