Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

اس سے پہلے وہ پهندہ اپنے گلے میں ڈالتی کسی نے اسکو بازو سے پکڑ کر کهینچا اور سینے سے لگا کر خود میں بهینچا تها دعا کو تو پہلے سمجھ نہ آیا لیکن سمجھ میں آنے پر اسکی گرفت میں مچلنے لگی سعد جو آج کام پر دل نہ لگنے کی وجہ سے دوبارہ گهر آگیا تها اور دعا کو دیکهنے کی غرض سے اس کے کمرے میں آیا لیکن کمرے کا منظر دیکھ کر اسکے چودہ طبق روشن ہوئے سعد کا ایک پیر بیڈ جبکہ ایک بیڈ زمین پر اور اس کو سینے سے لگائے ہوئے تها

سعد نے دعا کو اٹهاتے زمین پر کهڑا کیا اور بالوں سے دبوچتے اسکے ہونٹوں کو قید کیا وہ مزید مچلنے لگی تهی اسکا وجود اپنی باہوں میں بےجان ہوتے دیکھ اسکے لبوں کو آزاد کیا اور پیچهے کیا وہ اوندهے منہ بیڈ پر گری تهی اور کهانستے ہوئے تیز تیز سانس لینے لگی سعد نے بیڈ سے وہ سٹول اٹها کر دیوار میں دے مارا تها دعا کی چینخ نکلی تهی اسکو چینختے دیکھ وہ بیڈ پر گهٹنا ٹکائے اسکو سیدها کیا اور اس کا منہ دبوچا تها

“سمجهتی کیا ہو تم خود کو ہاں دماغ خراب ہے کیا کرنے جارہی تهی…”
وہ تقریباً دهاڑا تها دعا تیز تیز سانس لیتی سسکی تهی
“مرنے کی زیادہ شوق ہے تو میں یہ کام اپنے نیک ہاتهوں سے سرانجام دیتا ہوں…”
وہ اسکی گردن پر ہاتھ رکهتے دباو ڈالتے بولا تها وہ ہاتھ پیر مارنے لگی تهی سعد نے غصے سے چهوڑا اور بیڈ سے کهڑے ہوتے اپنے بالوں کو مٹهیوں میں دبوچا اور پهر دعا کو دیکها جو بیڈ پر بیٹهی کهانس رہی تهی

“کیوں کررہی ہو یہ مرجاوں گا میں سمجھ نہیں آتا بہت پیار کرتا ہوں تم سے بیوی ہو میری یہ اتنی سی بات دماغ میں نہیں بیٹهتی تمہارے…”
غصے سے بولتے آخر میں چلایا وہ دل پر ہاتھ رکهے چہرہ جهکائے صرف سسک رہی تهی
وہ دوبارہ اس کے قریب بیٹها اور بالوں سے پکڑ کر چہرہ اٹهاتے دوبارہ سانسیں قید کر چکا تها سعد کا ایک ہاتھ اس کے بالوں جبکہ دوسرا اسکی کمر پر تها کمر پر گرفت اس قدر سخت تهی کہ دعا کو اسکی انگلیاں اپنی کمر پر دهنستی ہوئی محسوس ہو رہی تهی وہ مچلنا چاہتی تهی آزادی چاہتی تهی لیکن گرفت سخت ہونے کے باعث وہ ہر چیز سے قاصر تهی

دهیرے دهیرے اسکے بالوں اور کمر پر گرفت نرم پڑی مطلب اس کا غصہ کچھ قدر کم ہوا تها سعد اب کہ نرمی سے دور ہوا اور دعا کے ساتھ خود بهی گہرے سانس لینے لگا اور کهڑا ہوا تها
“اسکی سزہ بہت سخت ہے دعا سعد اب تمہیں کسی قسم کی رعایت نہیں ملے گی….”
خفگی سے کہتا کمرے سے نکل گیا جبکہ وہ گهٹنوں میں سر دیے زاروقطار رونے لگی تهی
…………………………………
مصطفی کے کمرے میں اس وقت وجدان ذوہان سعد مصطفی اور شہرام بیٹهے تهے سعد نے دعا کی ، کی گئی حرکت ان کی گوش گزار کر دی تهی جس سے سب ہی پریشان تهے
“چاچو اب کوئی حل نہیں مجهے دعا کی رخصتی دیں آج یا کل….”
سعد ضبط سے بولا تها تو مصطفی نے اسکی جانب دیکها
“سعد یہ ابهی ممکن نہیں…”
“کیوں نہیں ممکن چاچو پلیز میں اب اسے اکیلا نہیں چهوڑ سکتا اسے کچھ ہوا میں مرجاوں گا…”
وہ نیچے بیٹهتا اسکے ہاتھ تهامے بولا
“تم جانتے ابهی یہ ممکن نہیں پهر بهی سعد…”

“وہ جب خود کی جان دے دے گی کیا تب ممکن ہوگا…”
وہ کهڑا ہوتا غصے لیکن آہستہ آواز میں بولا مصطفی نے کرب سے اسے دیکها
“چاچو وہ بیوی ہے میری یقین کریں وہ ٹهیک ہو جائے گی میں گرنٹی دیتا ہوں…”
وہ اسکی کرب زدہ نظروں سے الجھ کر بولا
“تهوڑا صبر کرلو وہ تمہاری ہی ہے سعد…”
وہ پهر سمجهانے کی کوشش کرتے ہوئے بولا
“نہیں ہے صبر یہ سب دیکهنے کے بعد مت دیں رخصتی خود لے جاوں گا میں…”
وہ یہ کہتے دروازے کی مڑا تها

“سعد بات سنو…”
مصطفی کی بےبس سی آواز گونجی لیکن وہ نہیں رکا
“سعد سنائی نہیں دیا…”
شیرام کی دهاڑ سنتے دروازے کهولتے اس کے ہاتھ رکے اور لب بهینچے پلٹا تها اور شہرام کو دیکها جو قہر برساتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تها سعد اسکی نظروں سے نظریں چراتا مصطفی کے ساتھ بیٹها
“جی چاچو…”
اسکے پکارنے پر اس نے اس کی جانب دیکها
“کچھ غلط مت کرنا بہت جلد میں رخصتی دے دوں گا لیکن اس سے پہلے پلیز مجهے سمجهو…”
اسنے بےبسی سے کہا تو سعد نے دو پل دیکها پهر اثبات میں سر ہلایا
“اجازت چاہوں گا…”
موددب انداز میں مصطفی اور پهر شہرام کو دیکهتے بولا اور کمرے سے نکل گیا

“بابا آپکو چاہیے رخصتی دے دیں سعد بهائی دعا کا شوہر ہے سب سمجهتا ہوگا…”
وجدان مصطفی کو دیکهے بولا
“کمرے میں جاو دونوں…”
شہرام نے دونوں کو کہا
“ماموں برو سہی کہ رہا ہے ہمیں رخصتی…”
“کمرے میں جاو دونوں بہرے ہو کیا….؟”
وجدان کی دهاڑ نے ذوہان کو خاموش کروایا تها وجدان نے مٹهیاں بهینچی اور اٹها تها ذوہان بهی اٹها تها

“اگر میری بہن نے کوئی مزید غلط اٹهایا تو میں کسی کو نہیں چهوڑوں گا میں سعد بهائی کے ساتھ ہوں کیونکہ سعد بهائی کا پیار دعا کو مکمل ٹهیک کر سکتا ہے…”
چبا کر شہرام کو دیکھ کر کہتے وجدان کمرے سے نکلا پیچهے ذوہان بهی نکلا تها شہرام نے گہرہ سانس بهرا اور سر تهامے بیٹهے مصطفی کو دیکها تو اس کے پاس بیٹها تها

“میرے شیر دل بهائی حوصلہ رکهو یوں پریشان مت بیٹهو…”
وہ اسکے کندهے کے گرد بازو حمائل کرتے بولا تها
“وہ ایسا کیسے کرسکتی ہے کیا اسے ہماری پرواہ نہیں…”
اسکی آواز بهاری تهی جیسے مشکل سے آنسووں ضبط کیے ہوں
“سب ٹهیک ہو جائے گا میرے بهائی…”
وہ اسکو گلے لگائے تسلی دینے لگا شاید یہ تسلی خود کے لیے بهی تهی
…………………………………
سعد کمرے میں بیٹها سر ہاتهوں میں گرائے ایک پیر ہلاتا خود کا غصہ ضبط کرنا چاہتا تها دروازہ نوک ہونے کی آواز پر اس نے اپنا سر اٹهایا اور دروازے کو دیکهتے گہرہ سانس لیتے خود کو کمپوز کیا
“آجائیں…”
اجازت ملنے پر عالیاب مسکراتے ہوئے اندر داخل ہوئی اس کے ہاتھ میں کهانے کی ٹرے تهی عالیاب نے زرش کو بات کرتے سنا تها کہ سعد نے کل سے کچھ نہیں کهایا عالیاب نے ٹرے بیڈ پر رکهی اور اس کے ساتھ بیٹهتی ہاتھ گود میں رکهے نظریں سامنے دیوار پر مرکوز کیں سعد ناسمجهی سے اس کو دیکھ رہا تها

عالیاب نیچے سے دهیرے دهیرے اسکے پیر سے اپنا پیر مارنے لگی اور بار بار چور نظروں سے اسے دیکهتی لیکن ہر بار اپنی طرف دیکهتا پاکر وہ سامنے دیکهنے لگی اس کی اس حرکت پر سعد کے لب بےساختہ مسکرائے تهے
“کیا کررہی ہو…؟”
وہ بولا تو عالیاب نے فوراً اپنے منہ پر انگلی رکهے خاموش رہنے کا اشارہ کیا
“ایک ضروری بات کرنی آپ سے پر آواز آہستہ دیواروں کے بهی کان ہوتے ہیں….”
وہ منہ پر دونوں سائیڈ پر ہاتھ رکهے اسکے کان کے قریب سرگوشانہ انداز میں بولی
“جی حکم…”
وہ بهی ہنستا ہوا آہستہ سے بولا

“یہ کهانا کهانا ہے…”
وہ ویسے ہی بولی
“کس نے…؟”
“میں نے اور آپ نے…”
وہ ٹرے گود میں رکهتے بولی
“مجهے بهوک نہیں آپ کها لو….”
وہ اسکے بال اوپر سے سہی کرتے بولا تو وہ واپس ٹرے رکهتی ہاتهوں کا پیالا بنائے اس منہ ٹکائے دوبارہ سامنے دیکهنے لگی صاف ناراضگی کا اظہار تها
“مجهے بهوک نہیں بچے….”
وہ اسکا منہ اپنی طرف کرتے بولا تو اسکو خفا نظروں سے دیکهتی دبارہ دیوار کو دیکهنے لگی
“عالیاب…”
وہ بےبس ہوا وہ نہیں جانتی تهی دعا کی وجہ سے ایک نوالہ بهی اس کے اندر نہیں ہو رہا تها

“پری مامی کہتی ہے مجهے اکثر جب میرا کهانے کا من نہ ہو تو کہتی ہیں عالیاب ایک دو نوالے کها کر دیکهو اگر دل نہ کرئے تو چهوڑ دینا اور ایسے میں کهاوں تو دل کرتا اور سب کها جاتی ہوں اب میں آپکو کهلاتی ہوں اگر دل نہ کرئے تو چهوڑ دینا….”
وہ واپس ٹرے رکهتی نوالہ بناتی زبان کے جوہر بهی دیکها رہی تهی نوالہ اسکے منہ کی جانب کیا اور آخر سعد کو ہار ماننا پڑی اور وہ نوالہ کهایا تها
“مجهے آپ کهلائیں….”
وہ ایک اور نوالہ اس کے لیے بناتے بولی تو اس نے مسکرا کر اس کے لیے نوالہ بنوایا اور اس کو کهلایا تها ایسے ہی وہ اپنی بےشمار باتوں کے دوران سعد کو کهانا کهلانے میں کامیاب ہوگئی تهی اور سعد اسکی باتوں کا کبهی جواب دیتے اور کبهی ہنس دیتا اور اسکو علم بهی نہ ہوا وہ سارا کهانا کها چکا ہے
…………………………………
“کیا سوچ رہے ہو….؟”
ذوہان وجدان کو مسلسل خاموش اور ایک جگہ پر نظر ٹکائے دیکھ بولا تها تو اس نے اسکی جانب دیکها
“گهر کے ماحول کے بارے میں سوچ رہا ہوں…”
“مثلاً کیا…؟”
وہ بیڈ پر لیٹتے ہوئے بولا
“سمجھ سے باہر ہے گهر کیا چل رہا ہے…؟”
وہ صوفے کی پشت سے سر ٹکائے ٹانگے ٹیبل پر رکهتے ریلیکس ہوتے بولا تو ذوہان اپنے سر کے نیچے دو سرہانے رکهتا اونچا ہوا تها
“تمہاری سمجھ میں کچھ ہے…؟”
وہ اب ذوہان سے پوچهنے لگا جس نے ویسے ہی نفی میں سر ہلای
“بالکل تعبیر حسن کے علاوہ تمہاری سمجھ میں کچھ نہیں آسکتا…؟”
وہ ہولے سے مسکراتے بولا تو ذوہان کو تعبیر کے ہوئے رشتے کا خیال آیا

“اس کا رشتہ ہو گیا ہے برو…”
وہ اداسی سے بولا
“کیا…؟”
وجدان اسکی بات سن کر ایک دم سے سیدها ہوا اور تقریباً چلایا تها تو وہ بهی اٹها تها
“کب…؟کیسے…؟کس کے ساتھ…؟مجهے کیوں نہیں بتایا….؟”
وہ ایک ہی سانس میں اتنے سوال کر بیٹها تها ذوہان نے گہرہ سانس بهرا
“کل صبح اس نے میرے گوش گزار کیا تها….”
“اور تم نے مجهے بتایا نہیں…؟”
وہ غصے سے بولا
“گهر کے حالات ویسے تهے خیال نہیں رہا…”
وہ گہرہ سانس بهرتے بولا

“اچها کوئی نہیں ابهی رشتہ ہوا ہے نکاح نہیں….”
وجدان واپس ریلکس ہوکر بیٹهتے ہوئے بولا اور ٹانگے واپس ٹیبل پر ٹکائیں تهی تو ذوہان نے گهورا
“عجیب مخلوق ہو تم بهی…”
وہ جمائی لیتے بولا
“یار یہ نیند کے نہوست میرے اوپر مت پهیلانا مجهے کام کرنا ہے اور شرافت سے اپنے کمرے میں دفع ہو جائیں…”
وہ خود کی امڈتی جمائی کو روکتے اس سے بولا
“میں نے یہاں سونا ہے…”
وہ کمبل خود پر اوڑهتے ہوئے بولا اس سے پہلے وجدان کچھ بولتا ذوہان کا فون رنگ ہوا اس نے بیڈ سے فون اٹهایا جہاں ڈاکٹر کی کال تهی یس کرتے کان کے ساتھ لگایا تها
“اوکے ڈاکٹر صاحب آرہا ہوں…”
اگے سے کچھ کہا گیا کہ وہ منہ بناتے بولا اور فون رکها تها

“کونسی دل میں بددعائیں دے رہے تهے چهوٹے بهائی کو کہ بلاوا آگیا نہیں سلانا تها بتا دیتے یوں بددعا تو نہ دیتے خود کا کمرہ بهی نصیب نہیں ہوا….”
وہ کمبل پرے کرتے منہ بناتے بولا تو وہ زور سے ہنسا ذوہان نے اس کو گهورا اور اسکے پاس آتے زور سے اسکے بال کهینچے کہ وہ کراہا لیکن ہنسنے سے باز نہ آیا ذوہان بهی ہنستا کمرے سے نکل گیا تها
…………………………………
تقریباً سب ہی وقفے وقفے سے دعا کو دیکهنے آتے سب کے دل میں اس نے مرنے کا خوف پیدہ کردیا تها لیکن دعا کو آبریش نے میڈیسن دی تهیں جس کے زیر اثر وہ عنودگی میں تهی سب اس کے حوالے سے بہت پریشان ہو رہے تهے دعا کی حالت سب کی سمجھ سے باہر تهی وہ نہ تو کسی کو کچھ بتاتی تهی نہ ہی کسی کو پتا چل رہا تها
“کہاں جا رہی ہو آبر…”
مصطفی جو آبریش کے لیے دودھ لایا تها اس کو بیڈ سے اٹهتے دیکھ بولا تها
“ایک بار دعا کو دیکھ لوں…”
وہ شوز پہنتے بولا
“لیٹ جاو جاناں ابهی وجدان اس کے کمرے سے ہو کر آیا ہے وہ سو رہی ہے تم آرام کرو میں جاگ رہا ہوں تمہارا جاگنا صحت کو اچها نہیں…”
وہ اسکو بیٹهاتا ٹیبل سے دودھ اس کو دیتے ہوئے بولا دودھ پیلانے کے بعد وہ اس کو بیڈ پر لیٹاتے اس پر کمبل اوڑهتے خود صوفے پر بیٹهتا سوچوں میں غرق ہو گیا تها
…………………………………
سعد جو بیڈ پر آنکهیں موندے لیٹا تها کہ اچانک دروازہ کهلا تها سعد نے آنکهوں سے بازو ہٹا کر دیکها تو رامز تها جو قہر برساتی نظروں سے اسے گهور رہا تها
“بابا اس وقت….”
وہ بیڈ سے اٹها تها
“تم نے مصطفی سے رخصتی کا مطالبہ کیا ہے…؟”
وہ جو ابهی کچن میں مصطفی سے ملا تها اس سے اپنے بیٹے کا مطالبہ سن کر آگ بگولا ہو گیا تها
“جی بابا لیکن میری بات…”
“تم کیسے مصطفی کو ایسے مجبور کر سکتے ہو کیا رم حالات سے آگاہ نہیں…”
وہ اس کی بات بیچ میں کاٹ کر بولا
“بابا ابهی حالات کے پیش نظر یہی مناسب ہے…”
وہ سمجهانا چاہتا تها

“ہاں بالکل تم نے جذبات میں آکر دعا کو نکاح کا بتا دیا کیا یہ بهی حالات کے پیش نظر ٹهیک تها بتاو…؟”
وہ غصے سے بولا
“بابا وہ خطا ہوئی…”
“تو یہ کونسا تم اپنی خطاوں کو سدهار رہے ہو…”
اسکا بس نہیں چل رہا تها سعد کا منہ توڑ دے
“بابا…”
وہ اسکی جانب بڑها لیکن رامز نے ہاتھ اٹها کر اسکے قدموں کو زنجیر ڈالی تهی وہ وہی رکے بےبسی سے اپنے باپ کو دیکهنے لگا

“کیا تم دیکھ نہیں رہے مصطفی کی حالت آبریش کی حالت کیا تمہیں ترس نہیں آتا ان پر پہلے کی، کی گئی غلطی نے دعا کو کہاں تک پہنچا دیا تم کیوں اذیت دے رہے ہو کیا آگے دکھ کم ہیں…”
سعد رامز کی آنکهوں میں ضبط سے ہوتی سرخی دیکھ چکا تها “یقین رکهیں میں دعا کو ٹهیک….”
“یہ ٹهیک کررہے ہو تم…؟”
رامز نے پهر بات کاٹی
“بابا بیوی ہے وہ میری نہیں برداشت ہوتی اس کی حالت….”
وہ تهوڑا اونچی آواز میں بولا
“تمہاری بیوی ہے تو کیا ہم دشمن ہیں اس کے تمہاری بیوی بعد میں ہماری بیٹی ہماری جان کا ٹکرا وہ پہلے ہے خدارا مت دو تکلیف مصطفی کو اس حالت میں نہیں دیکھ سکتا ہنستے کهیلتے گهر میں تمہاری ایک کوتاہی نے قہرام مچا دیا پلیز اب مزید پریشانیاں مت پیدا کرو…”
غصے سے کہتا وہ کمرے سے نکل گیا تها جبکہ سعد شکست خوردہ انداز میں بیڈ پر بیٹها