No Download Link
Rate this Novel
Episode 12
“دعا بیٹا آرام سے کہیں گر نہ جانا…..”
آٹھ سالہ دعا جو تیزی سے زینے اتر رہی تهی پیچهے سے آبریش کی پریشان سی آواز گونجی تهی وہ اپنی ماں کی آواز پر رکی اور پلٹ کر اپنی ماں کو دیکهتے کهلکهلائی اور دوبارہ نیچے بهاگی تهی آبریش بهی نیچے جانے لگی
“بابا….”
دعا بهاگتے ہوئے مصطفی کے ساتھ چمٹی تهی
“اوو میری بیٹی… “
مصطفی نے اٹها کر اسے گهمایا اور بهی رک کر اسکی گال چومی تهی آبریش بهی مسکرا کر دونوں کو دیکهنے لگی
“بابا آج عالیاب آنے والی ہے میں پہلی بار اسے دیکهوں گی….”
وہ خوشی سے چہکتے ہوئے بولی تو مصطفی ہنسا تها
“کیا وہ ہمیشہ کے لیے آرہی ہے بابا…؟”
“ہاں بالکل ہمیشہ کے لیے اب وہ ہمارے ساتھ رہے گی…”
اس نے اسکی خوشی مانند پڑتے دیکھ نیچے اتارتے کہا تو وہ دوبارہ چہکی تهی
“چلو آبریش جلدی کرو ایرپورٹ پر پہنچنا ہے ہمیں ایک گهنٹے تک شہرام بتا رہا تها وہ لوگ پہنچ جائیں گے…..”
اس نے دعا کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا
“سعد کہاں ہے…؟”
“سعد تو کب کا گاڑی میں بیٹها ہے اسے تو سب سے زیادہ وجدان ذوہان پارس اور عالیاب سے ملنے کی جلدی ہے پندرہ دن ہوئے وجدان پارس اور زوہان کو شہرام کے ساتھ گئے اور وہ بہت اداس ہوگیا ہے…”
مصطفی آبریش کے ساتھ چلتے ہنستے ہوئے بولا تو وہ بهی مسکرائی تهی
شہرام اور پریہان لندن میں عالیاب کو لینے گئے تهے جب کہ پارس وجدان اور زوہان صرف سیروتفریح کے لیے ساتھ چلے گئے تهے ویسے بهی وجدان منتظر تها اپنی پیاری کزن کو دیکهنے کے لیے وڈیو کال پر تو روز دیکهتا لیکن اب وہ بےصبرہ ہوا جا رہا تها اسی لیے ساتھ چلا گیا
…………………………………
“دعا یہاں آرام سے بیٹهو یوں ادهر ادهر گهومنا سیوو نہیں….”
دعا جو ادهر ادهر گهوم رہی تهی کہ سعد نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ بیٹهایا تو وہ اس کو گهورنے لگی
“میں سب سے پہلے عالیاب سے ملنا چاہتی ہوں اور آپ مجهے روک نہیں سکتے…”
اس نے ہاتھ چهڑواتے ہوئے غصے سے کہا
“دعا یہ کیا بدتمیزی ہے سوری کرو سعد سے…”
آبریش نے غصے سے کہا تو وہ منہ پهلائے سعد کو دیکهنے لگی جو اسکی شکل دیکھ کر ہنسا تها
“کوئی بات نہیں چهوٹی امی یہ تو بہت کیوٹ سی ہے سوری کہتی اچهی نہیں لگے گی…”
وہ اس کی گال کهینچے بولا تو وہ ہنستے ہوئے اس کے بازو سے چمٹ گئی تهی اسی میں ہی اناؤنسمنٹ ہوئی کہ فلائیٹ موسم کی خرابی کے باعث ایک گهنٹہ دیر سے پہنچے گی
…………………………………
“عالیاب تمہیں پتا میں تمہیں بہت مس کرتا تها…”
وجدان جب سے لندن گیا تها تب سے لے کر اب تک صرف اسی کے ساتھ تها اور دن میں ہزار بار یہ بات کہتا
“میں تو نہیں کرتی تهی…”
وہ روز اسکی یہی بات سن کر اب شرارت سے بولی تو وجدان نے گهورا
“چهوٹی چوہیا موٹی چڑیل….”
وہ بهی شرارت سے بڑبڑایا تو عالیاب نے آگے بڑھ کر اسکے بال کهینچنا شروع کی
“آپ چهوٹے چوہے موٹے چڑیل….”
اسکی بات پر شہرام اور پریہان زور سے ہنسے تهے
“موٹا جن ہوتا ہے پاگل وجدان چڑیل نہیں…”
ذوہان نے اسکے سر پر مارتے کہا تو وہ اسکے بال چهوڑے سوچنے لگی پر لاپرواہی سے کندهے اچکائے تو وہ لوگ دوبارہ ہنسے تهے
…………………………………
“مصطفی دعا کو بلائیں اس کو بهوک لگی ہوگی…”
ایرپورٹ کے ایک سائیڈ پر فیملی پوئنٹ بنا تها جہاں لوگ بیٹھ کر انتظار کر سکتے تهے
“اچها میں بلاتا ہوں…”
وہ اٹها تها اور سعد کو آتے دیکها جس کے ہاتھ میں آئسکریم تهی
“سعد دعا کہاں ہے…؟”
اس نے اسکے ہاتھ سے آئسکریم لیتے پوچها
“دعا مجهے کیا پتا چاچو وہ تو آپ لوگوں کے پاس تهی…”
اس نے حیرانگی سے کہا
“کیا مطلب ہمارے پاس وہ تو تمہارے پیچهے گئی تهی….”
آبریش کهڑے ہوتے پریشانی سے بولی
“لیکن وہ تو میرے پاس آئی ہی نہیں….”
“مصطفی دعا کہاں گئی….؟”
وہ روتے ہوئے بولی
“روو مت یہی کہی ہوگی آجائے گی ہم ڈهونڈهتے ہیں …”
مصطفی نے تسلی دیتے کہا تو وہ لوگ دعا کو ڈهونڈهنے لگے تهے
…………………………………
“سعد کہاں گئے….؟”
وہ کب سے اردگرد گهوم رہی تهی لیکن سعد نظر نہ آیا تها
“یہ کونسی جگہ ہے ماما بابا سعد…”
وہ رونے لگی تهی اور اردگرد دیکهنے لگی
“کیا ہوا بچے…؟”
ایک مردانہ آواز پر وہ ڈرتے ہوئے پیچهے مڑی
“انکل ماما بابا سعد نہیں مل رہے….”
وہ روتے ہوئے آنکهیں ملتے ہوئے بولی
“آوو میں آپ کی مدد کرتا ہوں…”
وہ آنکهوں میں چمک لیے بولا تو وہ خاموشی سے اسے دیکهنے لگی
“سچی…”
“ہاں سچی چلو….”
وہ کهڑا ہوتا اس کا ہاتھ پکڑتے بولا اور ساتھ چلنے لگا وہ بنا سوچے سمجهے اس پر اعتبار کیے اس کے ساتھ جارہی تهی وہ اسے ایک سنسان جگہ پر لے آیا تها
“انکل یہ کونسی جگہ ہے مجهے اپنے ماما پاپا پاس جانا ہے….”
وہ پہلے ایرپوٹ سے دور جگہ پهر پهاگنے کی کوشش کرتے بولی لیکن اس شخص نے دبوچا وہ اس کی گرفت میں مچلنے لگی تهی اس شخص نے اس کے منہ پر رومال رکهتے بےہوش کیا اور گود میں اٹهائے اردگرد دیکهتا لے جانے لگا تها
…………………………………
ان کو ڈهونڈهتے تقریباً ایک گهنٹہ گزر گیا تها لیکن دعا کا نام و نشان نہیں مل رہا تها اگر وہ ہوتی تو ملتا مصطفی نے بہت بار اناؤنسمنٹ بهی کروائی سعد اپنی جان ایک کر کے دعا کو ڈهونڈه رہا تها جبکہ آبریش کا رو رو کر برا حال تها
“شہرام وہ رہے بهائی….”
پریہان ایک جانب پارس اور دوسری جانب عالیاب کا ہاتھ تهامے سامنے مصطفی کو فون کان سے لگائے دیکھ پریہان نے کہا
“لیکن یہ پریشان کیوں ہے اور آبریش بهی رو رہی ہے…”
شہرام نے روتی ہوئی آبریش کو دیکهتے ہوئے کہا اور اس کی جانب قدم بڑهائے
“کیا ہوا مصطفی آبریش رو کیوں رہی ہو کیا بات ہے…”
شہرام نے پہلے مصطفی پهر آبریش کو کندھوں سے تهامے کہا
“شہرام دعا نہیں مل رہی ایک گهنٹے سے زیادہ ہوا اس کو ڈهونڈهتے لیکن وہ کہیں نہیں مل رہی…”
وہ روتے ہوئے بولتی ان پر بهی آسمان گرا گئی تهی
“یہ کیا کہ رہی ہو کہاں گئی دعا مصطفی تم بتاو….”
وہ مصطفی سے پوچهنے لگا تو مصطفی نے اس کو سب بتایا
“فکر نہیں کرو ہم ڈهونڈه لیں گے پریہان آبر اور بچوں کو لے کر ڈرائیور کے ساتھ گهر جاو اور احتشام اور رامز بهائی کو اطلاع دو…”
اس نے مصطفی سے کہتے پریہان سے کہا
“میں نہیں جاو گی شہرام اپنی بچی کے بنا پلیز…”
وہ روتے ہوئے بولی
“میری بہن میری جان ہم سنبهال لیں گے تم جاو شاباش….”
وہ اس کا ماتها چومے بولا تها
“سعد تم بهی جاو….”
اس نے سعد کو بهی کہا
“نہیں چاچو میں آپ لوگوں کے ساتھ ڈهونڈهوں گا میں نہیں جاو گا پلیز چاچو میں اب بڑا ہو گیا ہوں میں دعا کے بنا گهر نہیں جاوں گا….”
اس کی منت پر اس نے رکنے کی اجازت دی تو پریہان آبریش کو لیتی بچوں کے پاس گئی جو فاصلے پر کهڑے آپس میں باتیں اور شرارتیں کررہے تهے
“چلو بچو…”
پریہان نے آنکهوں میں آئی نمی صاف کرتے ہوئے کہا
“موم دعا کہاں ہے…؟”
وجدان نے بےتابی سے پوچها
“وہ آپ کے ڈیڈ اور بابا لے آئیں گے ہم چلتے ہیں چلو شاباش….”
وہ زبردستی مسکراتے ہوئے بولی تو وہ خاموش ہوتے اس کے ساتھ چلنے لگے
…………………………………
وہ تینوں مکمل کوشش میں تهے شہرام نے اپنی پولیس فورس کو بهی اسی کام پر لگا دیا تها
“چاچو یہ دعا کی جوتی ہے…”
سعد زمین پر پڑی دعا کی شوز اٹهائے چلایا تها تو وہ دونوں اس کی جانب آئے
“شہرام میری بچی….”
اسکی جوتی کو تهامے وہ جذباتی انداز میں بولا تها
“مصطفی حوصلہ رکهو میرے بهائی ہمیں دعا کو ڈهونڈهنے کے لیے پوری دنیا بهی چهان مارنا پڑی تو ماریں گے…”
وہ اس کو حوصلہ دیتے ہوئے بولا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا تها شہرام اردگرد دیکهنے لگا شاید کسی قسم کا کیمرہ لگا ہو
“سعد یہاں پر چهان مارو اگر کہیں کیمرہ لگا ہو تو مصطفی تم یہ والے خالی ایریا اور فیکٹریز کو چیک کرو…”
اس کی بات پر دونوں اپنے کاموں کو لگ گئے تهے
…………………………………
دعا کو ہوش آیا تو خود کو ایک چارپائی پہ پایا وہ اٹهی اور کمرے میں نظر دوڑائی وہاں صرف ایک چارپائی تهی اور چارپائی پر دعا
“بابا امی سعد بهائی ….”
وہ روتے ہوئے اونچی چلائی تهی کہ کوئی دروازہ کهول کر اندر داخل ہوا
“تم گندے انکل کہاں ہیں میرے ماما بابا جهوٹے….”
وہ غصے سے اٹهی تهی
“اٹھ گئی چڑیا….”
وہ خباثت سے دروازے کو کنڈی لگاتے ہوئے بولا اس کے ہاتھ میں ایک انجیکشن تها
“کہاں ہیں میرے ماما بابا میرے ماموں پولیس میں ہیں تمہیں جان سے ماردیں گے…”
وہ غصے سے روتے ہوئے بولی تو اس نے ہنستے ہوئے اس کو بازو سے دبوچا تها
“چهوڑو مجهے چهوڑو…”
وہ اس کی گرفت میں مچلتے ہوئے بولی
“تمہارے ماموں کے ڈر سے کیا حسین پرندہ گرفت سے جانیں دیں…”
وہ اس کو مکمل طور پر قابو کرتے ہوئے کہا اس کے بازو میں انجیکشن لگایا تها وہ چلائی تهی اور پهڑپهڑانے لگی تهی لیکن چند ہی منٹوں میں وہ اسکے بازووں میں بےجان ہوگئی تهی
وہ شخص اس کو چارپائی پر لیٹاتا خود کی قمیض نکالنے کے بعد اسکے کپڑے بهی اس کے جسم سے الگ کرنے لگا تها اور دهیرے دهیرے اس پر قابض ہونے لگا اور اس کی عزت وقار زندگی ہر چیز کی دهجیاں اڑانے لگا یہ سوچے بنا کہ وہ اسکی بیٹی کی عمر کی ہے یہ سوچے بنا کے ایک لڑکی کے پاس سوائے عزت کے کچھ نہیں ہوتا یہ سوچے بنا کہ اس کے گهر والے جیتے جی مر جائیں گے وہ تو درندہ تها حیوان جو جسم نوچنے میں مصروف تها اس پر حیوانیت چهائی ہوئی تهی اور ایسے ناسور سب جب تک اس دنیا میں پلتے رہیں گے کسی کی بیٹی بہن بیوی محفوظ نہیں
شاید مرد کی فطرت کا اللہ کو اندازہ تها اسی لیے عورت کو گهر میں رہنے کا ہی حکم دیا بےشک اللہ کا ہر فیصلہ حکمت سے بهرپور ہے
…………………………………
“شہرام مجهے کچھ نہیں ملا….”
وہ شکستہ خور لہجے میں شہرام سے بولا اسکا دل بند ہونے کو تها
“چاچو وہاں ایک کیمرہ ہے…”
سعد اس کے پاس آتے جلدی سے بولا تو وہ اس جگہ کی جانب بهاگے اور کیمرہ دیکها جس کی اونچائی زیادہ تهی یقیناً اس نے کافی ایریا کوور کیا ہوگا اس نے اس ایریے کے موجود گارڈ کو بلایا اور اس جگہ کی فوٹیج دیکهنے کا حکم دیا جو کہ کسی کو بهی دیکهانا منع تهی لیکن چونکہ وہ پولیس والا تها اس لیے کچھ مشکل نہ تها
وہ لوگ پیچهلے تین گهنٹے کی فوٹیج دیکھ رہے تهے جہاں اکا دکا لوگ ہی گزر رہے تهے جن میں دعا کہیں نہیں تهی ایک گهنٹہ کی فوٹیج دیکهنے کے بعد ان کو ایک شخص نظر آیا جس کے کندهے پر ایک بچی تهی
“یی-یہ دعا ہے روکو….”
مصطفی بےتابی سے بولا
“لیکن یہ آدمی کون ہے چلاو زرا شکل دیکهنے دو…”
شہرام نے غصہ ضبط کیے کہا کہ اچانک اس نے منہ پیچهے کیا اور کیمرے نے اسکا چہرہ ریکارڈ کر لیا تها
“سٹاپ اینڈ زوم اٹ…”
شہرام کے حکم پر وہ لٹکا سٹاپ کرتا زوم کرنے لگا
“مزید زوم کرو…”
“سر اس سے زیادہ نہیں ہو سکتی…”
وہ لڑکا بولا تها
“کوشش کرو…”
مصطفی بولا تو وہ لڑکا کوشش کرنے لگا
“سر اس سے زیادہ نہیں ہو سکتی….”
وہ تهوڑا سا اور زوم کرتے بولا تها
“اس پک کی سکرین شارٹ نکال کر مجهے سینڈ کرو”
شہرام نے کہا اور پیچهے ہوتا گہرے سانس لینے لگا پهر مصطفی کو دیکها جو نم آنکهیں لیے ہاتھ میں پکڑی دعا کی شوز کو دیکھ رہا تها
“مصطفی ہمت نہیں ہارو…”
“شہرام وہ ناجانے کس شخص کے پاس ہے ناجانے یہ کون لوگ ہیں کہیں میری بیٹی کی عزت کو نقصان نہ پہنچایں….”
وہ ضبط کے کن مراحل سے گزر رہا تها یہ بس وہی جانتا تها
“سر سینڈ کر دیا ہے…”
وہ لڑکا بولا تو شہرام نے حارز کو فون ملایا تها
“حارز اس آدمی کو جلد سے جلد تلاش کرو دعا اس کے پاس ہے میں تمہیں تصویر بهیجتا ہوں…”
حارز سے کہتے فون کٹ کرتے اس نے پک بهیجی تهی اور احتشام اور رامز کو بهی پک سینڈ کی تهی
“سعد کہاں گیا ہے…؟”
مصطفی نے سعد کو تلاشتے ہوئے کہا تو شہرام نے بهی دیکها وہ وہاں موجود نہیں تها
“دعا کی تلاش میں ہوگا چلو ہمیں بهی تلاش کرنا ہوگا ہمت کرو بهائی…”
وہ اسکا کندها تهپتهپاتے بولا تو وہ اثبات میں سر ہلاتا اٹها تها
…………………………………”دعا کہاں ہوگی شہرام مصطفی کوئی احتشام رامز بهائی کوئی کچھ نہیں پتا رہا میری بچی کے بارے میں…”
آبریش روتے ہوئے بولی تو پریہان نے اسکے گرد بازو حمائل کیا تها اس کو سمجھ نہیں آرہا تها وہ کیا تسلی دے میرب اور زرش بهی اس کو تسلیاں دینے میں لگی ہوئیں تهی لیکن ان کے دل کو خود قرار نہیں تها ایک انجانا سا خوف سب کے دل میں تها
“آبریش چلو نماز کرتے ہیں اللہ سے دعا کرتے ہیں…”
زرش نے خود کے آنسووں صاف کرتے اس سے کہا تو وہ بهی اٹهی تهی اور وضو کے لیے واشروم میں گهس گئی تهی
…………………………………
“سر لوکیشن سینڈ کررہے ہیں وہ شخص اس وقت وہاں موجود ہے….”
ایک آفیسر نے تقریبا ایک گهنٹے بعد شہرام کو فون کرتے کہا تو وہ مصطفی کو اشراہ کرتا گاڑی میں بیٹها تها سعد بهی گاڑی میں بیٹها شہرام کے حکم پر پولیس کی ایک گاڑی کو بهی وہاں روانہ کردیا گیا تها جبکہ شہرام بهی رش ڈرائیونگ کررہا تها اس کو جلد از جلد وہاں پہنچنا تها ان سب کے دل کی دهڑکن بند ہونے کو تهی وہ یہ بات نہیں جانتے تهے ان ہر قیامت برپا ہونے والی ہے
دعا کو ہوش آیا تو اس نے آنکهیں کهولنا چاہی لیکن بدن میں اٹهتی تکلیف سے ویسے ہی بند کر گئی درد سے آنکهوں سے آنسووں رواں ہونا شروع ہو گئے تهے وہ درد کے باعث چینخنا چاہتی تهی پر حلق سے آواز نہیں نکل رہی تهی حلق بهی مکمل طور پر خوش ہو چکا تها دعا نے بامشکل آنکهیں کهولیں اور خود کو دیکها اس کے جسم پر کپڑے موجود تهے لیکن وہ تهوڑے پهٹے ہوئے تهے
وہ آٹھ سالہ لڑکی اپنے کهیلنے کودنے کی عمر میں ایک حیوان کی وجہ سے اپنا سب کچھ گوا بیٹهی تهی وہ بچی تو اس بات کا مطلب تک نہیں جانتی تهی جو اس کے ساتھ ہوگی تها
بےہوشی کے باعث تو وہ یہ بهی نہیں جانتی تهی کہ اس شجص نے کیا کیا ہے لیکن بدن سے اٹهتی تکلیف کو وہ ایسے سمجھ رہی تهی جیسے کسی نے اسے مارا ہو وہ اٹهی تهی اور ہاتهوں کی مدد سے خود کے بدن کو دبانے لگی تهی
…………………………………
“ایریے کو مکمل کرو کوئی بهی خطرہ ہو سکتا ہے جیسے ہم اندر جائیں کچھ لوگ اندر آجائین….”
شہرام نے حکم دیا اور مصطفی سعد اور شیرام دروازے کی جانب بڑے اور دروازہ کهٹکهٹایا دو بار دستک دینے کے بعد اسی شخص نے دروازہ کهولا
“کون ہے بے تو….؟”
ابهی اتنا ہی بولا کہ مصطفی کے پڑنے والے مکے نے اس کو دور پهینکا تها سب اندر داخل ہوئے تهے
“کون ہو تم لوگ….؟”
وہ کهڑا ہوتا خوف سے بولا دعا شور سنتی بہت مشکل سے باہر نکلی
“بابا….”
وہ چلانا چاہتی تهی لیکن حلق خشک ہونے کی وجہ سے اتنی آواز نکل سکی کہ مصطفی نے سنی تهی
“دعا…”
وہ خوشی سے اس کی جانب لپکا لیکن اس سے پہلے وہ شخص دعا کو دبوچ چکا تها
“چهوڑ دے اسے….”
سعد حلق کے بل چلایا
“تم لوگ مجهے جانے دو میں چهوڑ دوں گا….”
وہ سامنے ایک بوتل میں پڑی چیز کو دیکهتے ان سے بولا اور اس کی جانب دهیرے دهیرے دعا کو لیتا قدم بڑهانے لگا تها
“بابا…”
وہ روتے ہوئے پکارنے لگی شہرام نے سب کو رکنے کا اشارہ کیا تها
“ہم تجهے چهوڑ دیں گے دعا کو ہمارے حوالے کرو…”
وہ گن والا ہاتھ اٹهائے بولا وہ شخص اس چیز کے پاس پہنچا اور وہ چیز اٹهاتے دعا کو دهکا دیا اس سے پہلے مصطفی دعا کو پکڑتا یا کوئی کچھ سمجهتا وہ شجص تیزاب دعا کے چہرے پر پهینک چکا تها دعا کی دل خراش چینخ وہاں گونجی تهی
