Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 40

وجدان کمرے میں کهڑا عالیاب کو دیکهتے اپنی شرٹ کے بٹن بند کر رہا تها جو کتابوں کو بیگ میں رکھ رہی تهی کتابیں بیگ میں ڈالتے وہ شاید تین بار کوئی نہ کوئی کتاب زمین پر گرا چکی تهی
“اسی لیے ابهی میں کوئی بچہ نہیں چاہتا کیونکہ میری بیوی خود ابهی بچوں جیسی ہے بکس سنبهالی نہیں جاتی بچے خاک سنبهالے گے اوپر سے شوہر غریب ایک سایڈ پڑا رہتا ہے…”
وہ مسکراتے ہوئے اس کو پیچهے سے حصار میں لیتے بولا تها

“زیادہ باتیں نہ کریں اور ڈیوٹی پر جانے کی تیاری کریں…”
وہ اس کا حصار توڑتے کهلے بالوں کو باندهنے لگی تهی جو کہ وجدان دوبارہ کهول چکا تها
“سکندر مجهے دیر ہو رہی ہے…”
وہ اس سے فاصلے پر ہوتی دوبارہ پونی کرتی اور ساتھ گهورتے بوئے بولی
“میں چهوڑ دوں گا چهوڑو پارس ساتھ مت جاو…”
وہ دوبارہ سے اس کو حصار میں لیتے بال کهول چکا تها
“زیادہ باتیں نہ بنائیں فاصلے پر رہیں مجهے دیر ہو رہی ہے اور ناشتہ رہ جائے گا…”
وہ اسے پیچهے کرتی زمین سے پونی اٹهاتے بولی تهی تو وہ منہ بنائے پیچهے ہو گیا تها

“یونیفارم کیوں نہیں پہنی آپ نے…؟”
وہ حجاب کے لیے دوپٹہ اٹهاتے اسے دیکهتے بولی
“آج ڈیوٹی باہر کی ہے سیگرٹ…”
آخر میں وہ سرگوشانہ انداز میں بولا پهر کچھ یاد آنے پر رکا تها
“میں آتا ہوں ذوہان کے کمرے میں کام ہے تم ناشتے پر پہنچو وہی آرہا ہوں…”
وہ اس کی گال جہاں ابهی بهی ہلکا سا نشان تها اس پر اپنے لب رکهتے بولا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا تو وجدان کمرے سے نکلا تها
…………………………………
وجدان ذوہان کے کمرے میں آیا تو کمرہ خالی تها پهر داڑهی کهاجتے الماری کهولتے اس میں سے کچھ تلاشنے لگا تها کہ ذوہان واشروم کا دروازہ کهولتے شرٹ کے بٹن بند کرتا باہر نکلا تها اور وجدان کو یوں الماری میں گهسے دیکھ ٹهٹهکا تها
“چور انسان کیا کر رہا ہے…؟”
وہ شرٹ کے بٹن بند کرتے شرٹ سیدهی کرتے بولا تها

“یار اس دن جب ٹیوب لینے آیا تو الماری میں ایک شرٹ دیکهی تهی اس پر دل آگیا اب وہ ڈهونڈه رہا ہوں…”
وہ مصروف سا بولا تها
“کون سی تهی شرٹ…؟”
“یار تو چپ رہ تنگ مت کر جب بڑے کام کر رہے ہوں تو بچوں کو چاہیے خاموش رہیں …”
وہ بنا اس کی جانب مڑے اپنے کام میں مصروف بولا تو وہ گهور کر پهر سر جهٹکتا ہوا شیشے کے سامنے کهڑا ہوا تها
“یار نہیں مل رہی….”
وہ کمر پر ہاتھ ٹکائے الماری کو دیکها جس میں ادهم مچ چکا تها
“کون سی شرٹ مجهے بتا میں بتا دیتا ہوں کہاں ہے…”
اس کی بات سنتے وجدان پلٹا تها اور سر پر ہاتھ مارا

“یار یہی شرٹ ڈهونڈه رہا تها بتا نہیں سکتا کہ تم نے پہنی ہوئی ہے…”
وہ اس کے پاس جاتے اس کی شرٹ کے بٹن کهولتے بولا تو اس نے گهورا جو اس کی سن بهی نہیں رہا تها اب اسے ہی سنا رہا تها
“منہوس انسان….”
وہ بڑبڑایا تها اور وجدان مسکرا کر اس کی شرٹ اتار چکا تها پهر اپنی شرٹ اتارتے اس کو تهماتے اس کی شرٹ پہن کر شیشے کے سامنے کهڑے ہوتے سیٹ کرنے لگا تها جب کہ بےچارہ ذوہان گہرہ سانس لیتے اس کی شرٹ پہننے لگا تها

“کوئی چهوٹا بهی نہ ہو وہ بهی چار منٹ…”
ذوہان بٹن بند کرتے بڑبڑایا اس کی بڑبڑاہٹ وجدان نے بخوبی سنی تهی وہ قہقہ لگا اٹها تها لیکن اچانک اس کے قہقے کو بریک لگی تهی اور ٹیبل پر موجود آدهی جلی سیگرٹ اٹهائی تهی
“یہ کیا ہے…؟”
اس نے حیرت سے اسے پوچها تو ذوہان نے سر اٹهائے اسے دیکها پهر اس کے ہاتھ میں موجود آدھ جلے سیگرٹ کو دیکھ کر اس نے نظریں چرائیں تهی
“ذوہان میں کچھ پوچھ رہا ہوں…”
اب کہ وہ ماتهے پر بل ڈالے بولا تها

“یار یہ تو بس شوق میں اور ویسے بهی تم سے لے کر بهی تو پی لیتا ہوں…”
وہ اس سے لے کر ڈسٹبین میں پهینکتے بولا تها
“مجھے بچہ سمجها ہے…؟”
وہ خود کی جانب اشارہ کیے بولا تو اس نے ٹهنڈہ آہ بولی وہ جانتا تها وجدان اس کے چهوٹے بنائے بہانوں میں آنے والوں میں سے نہیں
“اور کیا کروں…؟”
“میں نے کہا تها صرف دعا کر یہ ان چیزوں کا کیا فائدہ…”
وہ غصے سے بولا تها

“میرا دل بہت درد ہوتا ہے بهائی یہ سوچ کر ہی کہ وہ کسی اور کی منگ ہے…”
وہ تهکے انداز میں بولا تو وجدان نے آگے بڑھ کر اس کے بالوں میں ہاتھ پهیرا تها
“دوبارہ یہ مت کرنا بهائی شوق اور بربادی میں زمین آسمان کا فرق ہے…”
“دس دن باقی ہیں اور تم مجهے کچھ بتا بهی نہیں رہے اور نہ ہی کچھ کرنے دے رہے ہو…”
اس نے بیڈ پر بیٹهتے کہا تها
“وہ میرا کام ہے پریشان نہیں ہو…”
وہ سنجیدگی سے بولا کیونکہ وجدان خود نہیں جانتا تها کہ اس نے آخر کرنا کیا ہے ذوہان بهی شوز پہننے لگا تها
“نیچے آو ناشتہ کر کے جانا…”
وہ آرڈر دیتا ایک نظر اسے دیکهتا کمرے سے نکل گیا تها تو وہ بهی سر جهٹکے تیاری کرنے لگا
…………………………………
وجدان روڈ کے قریب اپنی جیب کے پاس کهڑا سامنے سے لمبی گاڑیوں کی لگی لائن کو دیکھ رہا تها جن کی چیکنگ ہو رہی تهی اور وجدان ایک سائیڈ پر کهڑا مسلسل ان کو دیکهتا سوچوں میں ڈوبا ہوا تها سوچوں کا مرکز ذوہان تها دس دن باقی تهے اور اسے یہ خبر نہ تهی وہ کیا کرئے وہ اپنے بهائی کو یوں برباد ہوتے بهی نہیں دیکھ سکتا تها

“سر خبر کے مطابق ڈرگز بیچنے میں داور خان کا ایک آدمی جس کے سپرد یہ کام ہے اس کا ہاتھ ہے…
محبوب نے اس کے پاس آتے خوفیا طور پر ملنے والی دیٹیلز اس کے گوشگزار کی تهی تو اس نے اس کی جانب دیکهتے مزید کچھ بولنے کا کہا تها
“سر ہمارے خوفیا بندے نے خبر دی ہے کہ وہ پانچ دنوں بعد ڈرگز بیرون ملک بهیجنے کی تیاری کر چکا ہے جس کے بدلے اسے بہت بلیک منی ملنے والا ہے…
وہ پهر سے خاموش ہوتے وجدان کو دیکهنے لگا جو اس کی جانب دیکهے اس کی بات سن رہا تها وہ اسے یوں دیکهتا پا کر گڑبڑایا تها

“اور کچھ….؟”
اس کو خاموش پا کر وجدان نے پوچها تو اس نے اثبات میں سر ہلایا
“سر بندے کی تصویر بهی مل گئی ہے….”
اس نے موبائل نکالتے کہا اور تصویر اس کے سامنے کی وجدان نے سرسری سا تصویر کو دیکها لیکن وہ سرسری نگاہ اس تصویر پر ٹهہر گئی تهی وجدان نے اس کے ہاتھ سے موبائل پکڑتے اس تصویر کو غور سے دیکها پهر مسکرا گیا تها
“بہت خوب محبوب تم نے تو بہت کچھ سولو کر لیا….”
وہ تصویر کو دیکهتے مسکراتے ہوئے بولا اور محبوب کو سمجھ نہیں آیا وہ بدتعریفی کر رہا تها یا داد دے رہا تها خیر وجدان کے موبائل پکڑانے پر اس نے موبائل پکڑا تها

“محبوب سب سے کہو ٹریفک کهول دیں چیکنگ چهوڑیں سب پولیس سٹیشن پہنچیں….”
محبوب سے کہتے وہ جیپ کی جانب مڑا تها اور محبوب نے ناسمجهی سے سر کهجایا تها اور پهر کان بهی کهجائے گویا غلط نہ سنا ہو لیکن پاس سے گزرتی وجدان کی جیپ میں وہ ہوش میں آیا اور ان چیکنگ کرتے آفیسرز کی جانب گیا تها
…………………………………
پارس رباب دعا اور عالیاب گراونڈ میں بیٹهیں برگر اور بوتل سے لطف اندوز ہو رہے تهے ساتھ ہلکی پهلکی گفتگو بهی جاری تهی
“مجهے ایک بات یاد آئی کام والی بائی بتا رہی تهی کہ ذوہان بهائی کے کمرے سے بہت سے آدهے جلے سیگرٹس ملے ہیں…”
دعا یاد آنے پر بولی تهی
“کیا پتا سکندر نے پی ہو بهائی کے کمرے میں…”
عالیاب نے برگر کی بائیٹ لیتے کہا
“تو کیا وجدان بهائی نے جب سیگرٹ پینی ہو وہ ذوہان بهائی کے کمرے میں ہی پیتے ہونگے جو اتنے سیگرٹس ملے ہیں….”
پارس نے لقمہ دیا تها تو وہ بهی سوچ میں پڑی تهی
“کہہ تو سہی رہے ہو پہلے بار عقل کی بات کی ہے تم نے پارس…”
رباب نے اس کا مزاق اڑاتے کہا تو اس نے آنکهیں گهمائیں تهی
“مجهے لگتا ہے ذوہان بهائی کو کوئی ٹینشن ہے ہم سولو نہیں کر سکتے کیا…؟”
عالیاب کولڈرنگ کا گهونٹ بهرتے بولی تهی
“اپنی ٹینشنز سولو نہیں ہوتی آئی بڑی بهائی کی ٹینشنز سولو کرنے والی…”
پارس اس سے کولڈرنک کهینچتا بولا تها تو عالیاب نے گهورا
“پارس تیری بکواس بڑی چلنے لگی ہے سکندر کو شکایت لگا دوں گی…”
وہ منہ پهلائے بولا

“خود کچھ کر نہیں سکتے اور چڑیلوں جیسی شکل سے میرے بهائی کو بهی اپنے قابو میں کر لیا اور اس کی دهمکیاں دیتی ہو….
اس کی بات سنتے وہ منہ کهولے پارس کو دیکهنے لگی دعا اور رباب عالیاب کی شکل دیتے ہنس رہیں تهی
“دعا یہ پکڑو زرا….”
عالیاب نے برگر دعا کو پکڑایا تها اور اس سے پہلے عالیاب پارس کا نقشہ بگاڑتی وہ اس کے خطرناک تاثرات دیکهتا اپنا برگر بوتک وہی چهوڑے بهاگا تها جب کہ عالیاب بهی اس کے پیچهے بهاگی تهی اب وہ گراونڈ میں آگے پیچهے تهے جب کہ رباب اور دعا ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوتیں ان کی چیزوں پر بهی ہاتھ صاف کررہیں تهی
…………………………………
وقت کا کام ہے تیزی سے گزرنا اور وہ گزرتا چلا جا رہا تها اور وقت جیسے جیسے گزر رہا تها ذوہان کا دل بهی اتنی تیزی سے باہر آنے کو تها اس کا دل پهٹنے کو تها اس کو اب احساس ہو رہا تها کہ محبت پهول جیسی نہیں محبت ہو تو جاتی ہے لیکن پهر اس کا دکھ درد سہنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں تعبیر اپنی شادی کی چهٹیاں لے چکی تهی جیسے جیسے دن قریب آرہے تهے ذوہان کی نیند سکون مسکراہٹ ہر چیز ویسے ویسے ہی دور جا رہی تهی اسے کسی چیز کا یہاں تک کہ خود کو سنوارنے کا بهی ہوش نہیں رہ گیا تها اور بالآخر تعبیر کی مہندی کی صبح کا آغاز ہو گیا تها اور اس یہ صبح دن کا اجالا ذوہان کی زندگی کی تاریخی کا دن تها
…………………………………
وجدان اپنے کمرے میں نگ سگ تیار کهڑا موبائل میں کچھ دیکھ رہا تها ساتھ ایک سرسری نگاہ عالیاب پر ڈالتا جو بیڈ پر صبح صبح رٹے لگا رہی تهی
“رٹا بازی ہو گئی یا ابهی باقی ہے…؟”
وہ موبائل پر وٹس ایپ چیک کرتے مزاح میں بولا تها
“سکندر چپ کریں نہ بس ہو گیا ہے تیار….”
وہ آخری دفعہ اس ٹاپک کو پڑهتے بولی تهی اس سے پہلے وجدان کچھ بولتا ذوہان کمرے کا دروازہ کهٹکهٹاتا اندر داخل ہوا تها وجدان نے ذوہان کے تاثرات دیکهے جو سرخ آنکهیں کیے ضبط سے ان دونوں کو دیکھ رہا تها
“بیٹهیں بهائی…”
عالیاب کتابیں بیگ میں ڈالتے بولی تهی تو وہ محض دیکھ ہی سکا
“جانم یار چائے یہی لے آو مجهے تهوڑا کام ہے وہ کام کے ساتھ بس چائے پیوں گا…”
اس نے ذوہان کے تاثرات دیکهتے عالیاب سے کہا
“بهائی آپ پیں گے…؟”
اس نے جاتے جاتے ذوہان سے پوچها جس نے نفی میں سر ہلایا تها تو وہ کمرے سے نکل گئی تهی

“کیا ہوا ہے ذوہان…؟”
دروازہ بند ہوتے ہی وجدان نے پریشانی سے پوچها
“تمہیں نہیں پتا کیا ہوا ہے…؟”
وہ چباتے ہوئے بولا تها تو وہ خاموشی سے اسے دیکهنے لگا
“بهائی آج اس کی مہندی کل نکاح وہ کسی اور کی دسترس میں چلی جائے گی…”
وہ بولا تو آواز بلند تهی اور پهر آگے بڑهتے دهیرے سے اس کے گریباں کو پکڑا تها

“میری حالت دیکھ یار تسلی کے چار لفظ ہی بول دے اور اگر کل اس کے نام کے ساتھ کسی اور کا نام جڑ گیا تو بهائی تیرا بهائی مر جائے زندہ نہیں رہ پائے گا میں بہت محبت کرتا ہوں….”
وہ نم انکهوں سے بےبسی سے اس کے گریبان کو مٹهیوں میں جکڑے بولا تها وہ خاموشی سے اسے دیکھ رہا تها

“میں مر رہا ہوں میری روح ایسے زخمی ہے جیسے ململ کے دوپٹے کو کانٹوں میں پهنسا کر کهینچا ہو کسی نے، میرا جسم بےشمار دردوں سے بهر گیا ہے میری زندگی میں دن کے اجالے میں بهی رات کی گہری تاریخی سا سماں نظر آتا ہے اور یہ زندگی وحشت سے بهر گئی ہے….”
اس نے آخر میں سختی سے آنکهیں میچیں تهی ناچاہنے کے باوجود آنسووں آنکهوں سے نکلتے اس کی داڑهی میں جذب ہو گئے تهے وجدان نے آگے بڑھ کر اسے گلے سے لگایا تها اس کو یوں دیکهتے اس کا دل بهی مانو کسی نے مٹهیوں میں جکڑ لیا ہو اسے نہیں پتا تها کہ اس کے ہنس مکھ بهائی کی یہ حالت ہو جائے گی اگر ذوہان اجازت دیتا تو وہ اپنے طریقے سے سب ہینڈل کرتا لیکن ذوہان نے کہا تها وہ کسی صورت تعبیر کہ عزت خراب کرتے اپنی زندگی میں شامل نہیں کرنا چاہتا بےشک خود برباد ہو جائے
…………………………………
تعبیر مہندی کے سوٹ میں ملبوس ہلکے سے میک اپ میں بیڈ پر بیٹهی اپنے ہاتهوں پر لگی کسی اور کے نام کی مہندی کو تکے جا رہی تهی دل کسی اور کے نام کی تسبیح کرتا تو نام کسی اور کے ساتھ جڑنے والا تها وہ یہ جانتی تهی وہ بہت سی زندگیاں برباد کر رہی تهی

“اب بهی وقت ہے تعبیر ان سوچوں ازیتیوں سے چهٹکارا پایا جا سکتا ہے…”
روحا کمرے میں داخل ہوتی اس کو یوں گم سم سی دیکھ کر بولی تو وہ ہوش کی دنیا میں لوٹی تهی
“پلیز آپی…”
وہ تهکے سے لہجے میں بولی تهی
“مجهے ترس آرہا ہے تعبیر…”
“مت کهائیں ترس….”
وہ روکهے سے لہجے میں بولی
“تم ترسو گی محبت کو تعبیر تم تلاشو گی ذوہان مصطفی جیسی محبت کو لیکن وہ تمہیں کہیں سے بهی نہیں ملے گی…..”
“آپی امی پاپا بہت خوش ہیں….”
“اگر تم پہلے اپنی پسند کا اظہار کرتی تو تمہیں لگتا ہے امی پاپا انکار کرتے…؟”
اس کے سوال پر وہ استہزایہ انداز میں ہنسی

“آپ کیا سمجهتی ہیں وہ خوش ہوتے…؟ وہ خوفزدہ ہوتے آپ نے اپنی پسند کا زکر کیا تو اس کے بعد کیا ہوا کتنے خواب سجائے امی پاپا نے اور پهر کیا ہوا وہ اس بات سے خوفزدہ ہوتے کہیں آپ جیسا میرے ساتھ نہ ہو جائے وہ کبهی خوش نہ ہوتے…”

“جب وہ ذوہان مصطفی کی محبت دیکهتے تو بہت مطمئین ہو جاتے خوش ہو جاتے پر تمہاری عقل پر پردہ ہے خیر خوش رکهے اللہ تمہیں…”
وہ اس پر دوپٹہ اوڑهتے بولی اور پهر باہر جانے کا کہا تو وہ مردہ قدم لیے اس کے ساتھ جانے لگی تهی