Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 56

پورے کمرے میں روحا کی سسکیاں گونج رہیں تھی روحا کی ہی نہیں بلکہ تعبیر کے آنسووں بھی اپنی بہن پر گزری اس قیامت پر بہہ رہے تھے اور کچھ شرمندگی اور ندامت کے تھے کہ وہ اپنی بھول ادھورے سچ میں ناجانے کیا کر گزرنے والی تھی روحا اپنے ماں باپ کو تعبیر کی زوہان سے شادی کے اگلے دن ہی حقیقت بتا چکی تھی جس پر وہ لوگ وجدان سے معافی مانگنا چاہتے تھے لیکن وجدان نے یہ کہہ کر بات ختم کر دی کہ ماضی تھا اسے بھولا جائے تو ہی اچھا ہے اور وہ اس کے ماں باپ کی جگہ ہیں معافی مانگتے اچھے نہیں لگتے

“آپی مجھے معاف کر دیں۔۔۔۔”
وہ سسکتے ہوئے شرمندگی سے بولی تو روحا نے اپنی آنسووں صاف کئیے تھے وہ اس کے زخموں کو دوبارہ کرید چکی تھی
“مجھے افسوس ہے تم وجدان کے بارے ایسا کیسے سوچ سکتی ہو بنا سچ جانے کیسے ان میں دراڑ ڈالنا چاہتی تھی۔۔۔”
“میں معافی مانگو گی آپی اپنے کئیے پر میں بہت شرمندہ ہوں میں ابھی گھر جانا چاہتی ہوں۔۔۔”
وہ بیڈ سے اٹھتے ہوئے بولی اور اپنی آنکھوں کو رگڑا تھا

“دماغ خراب ہو گیا ہے اس وقت جانے کا مقصد کل امی بابا کو کیا کہوں گی اور زوہان جب صبح آئے گا تو اسے کیا کہوں گی۔۔۔۔؟”
روحا نے کھڑے ہوتے ہوئے پریشانی سے پوچھا تھا
“آپ امی بابا کو کچھ بھی بتا دینا زوہان کو میں خود ہینڈل کر لوں گی پلیز آپی ورنہ ندامت سے میرا دل پھٹ جائے گا۔۔۔”
وہ اس کے ہاتھ تھامے بولی تو روحا نے اثبات میں سر ہلایا اور اس کے چہرے کو چھوا تھا
“اپنی اس سنگین غلطی کو تم سدھار لو یہی کافی ہے میرے لیے اب جاو تم میں دیکھ لوں گی ڈرائیور سے کہو تمہیں چھوڑ دے گا۔۔۔۔”
وہ مسکرا کر بولی تو تعبیر بھی مسکراتی ہوئی اس کو گلے ملتی چادر اور موبائل لیتی کمرے سے نکلی تھی پیچھے روحا نے گہرا سانس لیتے دل کے درد کو اندر ہی دبانا چاہا تھا
………………………………
وجدان صوفے پر بیٹھا بہت اہم فائلز دیکھ رہا تھا ایک نظر سوئی ہوئی عالیاب پر ڈالتا جو ابھی سٹڈی کر کے بہت گہری نیند میں سوئی ہوئی تھی اسے دیکھتے اس کے دل میں بار بار یہی خیال آیا کہ اس کی نیند میں خلل پیدا کرے لیکن پھر یہ سوچ کر اس ارادے کو ترک کر دیتا کہ اس کو بہت زیادہ نیند تھی اور وہ سٹڈی کرتی تھکی ہوئی تھی

ابھی وہ انہیں کام میں بزی تھا کہ دھیرے سے دروازہ ناک ہوا تھا جیسے کسی نے اپنے مرمری کانپتے ہاتھوں سے مشکل سے دروازہ بجایا ہو وجدان پہلے دروازے پھر عالیاب کو دیکھتے فوراً اٹھا تھا اور دروازے کی جانب گیا تاکہ دوبارہ دستک کی وجہ سے کہیں عالیاب کی آنکھ نہ کھل جائے لیکن جیسے ہی دروازہ کھولا سامنے تعبیر کو دیکھتے اس کو شاک لگا تھا لیکن جلد اپنی حیرت پر قابو پایا تھا

“وہ عالیاب سوئی ہے۔۔۔۔”
اسے لگا شاید وہ عالیاب سے ملنے آئی ہے لیکن پھر اچانک یاد آیا وہ تو اپنے گھر گئی تھی
“تم یہاں کیسے تم تو اپنے گھر گئی تھی نہ۔۔۔؟”
اس نے حیرت سے پوچھا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا
“کچھ بات کرنا چاہتی ہوں تم سے۔۔۔۔”
وہ اپنے لہجے کی نمی چھپائے بولی تھی
“لیکن اس وقت یوں مناسب نہیں۔۔۔”
اس نے گھڑی پر وقت دیکھتے کہاں جہاں بارہ بج گئے تھے اسے لگا
“لیکن میں ضروری بات کرنا چاہتی ہوں۔۔۔”
وہ بضد ہوئی
“میں زوہان سے دور رہنے کی ہر ممکن کوشش کررہا ہوں تھوڑا وقت لگے گا لیکن میں مکمل دور ہو جاوں گا زوہان کو پتا بھی نہیں چلے گا۔۔۔۔”
اسے لگا شاید وہ پھر سے زوہان کے متعلق بات کرنا چاہتی ہے اس کی بات سنتے تعبیر کی آنکھوں میں نمی پھیل گئی تھی

“کیا ہوا۔۔۔۔؟”
وہ اس کی آنکھوں میں نمی دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا تو اس نے منہ پر ہاتھ رکھتے اپنی سسکی دبائی تھی
“کیا ہوا تعبیر کچھ ہوا ہے کیا۔۔۔؟ زوہان زوہان کو کچھ ہوا ہے بتاو۔۔۔۔۔؟”
وہ اس کو یوں روتے دیکھ پریشانی سے بولا تھا سب سے پہلا خیال اس کو یوں روتے دیکھ زوہان کی جانب گیا تھا
“میں تم سے معافی چاہتی ہوں۔۔۔۔”
اس نے اپنے آنسووں صاف کیے کہا تو وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگا تھا
“میں اپنی ہر بات کی معافی چاہتی ہوں اپنی ہر غلط بات کی معافی چاہتی ہوں تمہیں زوہان سے دور کرنے کی معافی چاہتی ہوں میں دوبارہ ایسا ہر گز نہیں کرونگی مجھے معاف کردو۔۔۔۔”
وہ شرمندگی سے سوں سوں کرتی چہرہ جھکائے بولی تھی

“اگر ایسا زوہان نے کہا ہے تو تمہیں یوں معافی مانگنے کی ضرورت نہیں کوئی بات نہیں جاو آرام کرو تم پریشان مت ہو۔۔۔۔”
وہ اپنی حیرت پر قابو پائے بولا تھا
“مجھے کسی نے نہیں کہا میں خود آئی ہوں صرف تم سے معافی مانگنے۔۔۔۔”
وہ اپنے ہاتھوں کو دیکھتے بولی تھی
“اگر تم سچ میں شرمندہ ہو تو تمہیں معافی مانگنے کی ضرورت نہیں تمہیں احساس ہو گیا میرے لیے یہی کافی ہے تم میری بہن ہو بہنیں معافی مانگتی اچھی نہیں لگتیں۔۔۔۔”
وہ اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے بولا تھا

“اگر تم ویسے ہی بہن مانتے ہو جیسے روحا آپی کو مانتے تھے تو مجھے کوئی شک نہیں تم پر۔۔۔۔”
اس کی بات پر وہ ٹھٹھکا
“مطلب۔۔۔۔؟”
“روحا آپی نے سب بتایا ہے مجھے ابراہیم کا ہر چیز کا۔۔۔۔۔”
اس کی بات پر وجدان نے نگاہیں چرائیں تھی
“آئی ایم سوری وجدان۔۔۔۔”
وہ پھر سے شرمندگی سے بولی تھی
“بھول جاو سب یہی سوچو کچھ ہوا ہی نہیں اب یہ شرمندگی ختم کرو بار بار معافی مت مانگو بھول جاو ہر بات کو کسی سے زکر مت کرنا۔۔۔۔۔”
وہ مسکرا کر بولتا اس کی شرمندگی کم کرنا چاہتا تھا تو تعبیر بھی مسکرائی اور اثبات میں سر ہلائے اپنے کمرے کی جانب چلی گئی وجدان بھی ٹھنڈی آہ بھرتے کمرے میں چلا گیا اور لائٹس بند کرتا عالیاب کے قریب لیٹ کر اسے اپنے حصار میں لیتا خود بھی سونے کی کوشش کرنے لگا تھا
………………………………
تعبیر زوہان کو فون کر کے بتا چکی تھی کہ وہ گھر آگئی ہے اسے لینے کے لیے مت جائے اس نے آنے کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ اس کا وہاں دل نہیں لگا تھا اسی لیے وہ واپس گھر آگئی تھی

سب ناشتے کی ٹیبل پر موجود آپس میں خوش گپیوں میں مصروف ناشتہ کر رہے تھے ان میں ایک زوہان ہی تھا جو خاموشی سے ناشتہ کر رہا تھا
“وجدان تم ہنی مون پر کہاں جا رہے ہو۔۔۔۔؟”
تعبیر کی بات پر زوہان کا منہ کی طرف جاتا نوالا رکا تھا اس نے تعبیر کو دیکھا تھا اسے لگا شاید اس کے کانوں میں غلط نام گونجا ہے

“وہاں جہاں بندہ نہ بندے دی ذات ہووے۔۔۔۔”
اس نے ہنستے ہوئے کہا
“سعد بھائی نے سہی کہا تھا تم مریخ پر پی چلے جاو پھر۔۔۔۔”
اس کی بات پر سب مسکرائے تھے جب کہ دونوں کو یوں تکلفانہ انداز میں باتیں کرتا دیکھ حیرت کی دنیا میں گم تھا
“تم لوگ بھی ساتھ چلو بہت مزہ آئے گا۔۔۔۔”
وجدان نے ان کو دوبارہ آفر کی تھی
“ہاں ہم چھٹیاں لے لیں گے اگر زوہان مان جائیں تو۔۔۔۔”
اس نے آخر میں زوہان کی طرف دیکھتے کہا جو ابھی بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا

“زوہان کیا خیال ہے پھر چلو گے۔۔۔۔”
وجدان نے اس سے پوچھا تو اس نے وجدان کی جانب دیکھا جس نے جواباً آنکھ دبائی تھی
“مجھے نہیں جانا۔۔۔۔۔”
وہ جلدی سے بولا تھا تو سب اس کی جانب دیکھنے لگے
“کیوں۔۔۔۔۔؟”
وجدان نے اس سے پوچھا تھا تو اس نے کندھے اچکائے تھے
“چلیں نہ زوہان بہت مزہ آئے گا وجدان عالیاب بھی ہونگے اور شاید سعد بھائی بھی تب تک فری ہو جائیں تو زیادہ لوگ ہونگے بہت انجوائے کریں گے۔۔۔”
تعبیر کی بات کی سب نے تائید کی تو وہ پیچھے کرسی سے ٹیک لگائے اسے اور وجدان کو دیکھنے لگا وہ دونوں مسکرائے تھے تھے جانتے تھے وہ ان دونوں کے یوں تکلفانہ انداز پر بات کرنے پر شاکڈ ہے

“کچھ ہضم نہیں ہو رہا۔۔۔۔؟”
وہ ان دونوں کو دیکھتے بولا تھا
“کیا ہوا بیٹا۔۔۔۔؟”
آبریش نے پریشانی سے پوچھا تھا
“کچھ نہیں امی کیا ہضم نہیں ہو رہا یہاں موجود کچھ لوگوں کو پتا ہے۔۔۔۔”
اس کی بات پر وہ دونوں پھر سے مسکرائے تھے
“تجھے تو ویسے ہی ہم بھائی بہن کا پیار ہضم نہیں ہو رہا۔۔۔۔۔”
وجدان نے دوبارہ ایک آنکھ دبائے کہا تو تعبیر ہنسی تھی جب کہ زوہان نے گھورا تھا
“یہ جو پوری دال اچانک کالی ہو گئی ہے بعد میں پوچھتا ہوں ۔۔۔۔”
وہ دل ہی دل میں بہت خوش تھا لیکن اس معجزے کی وجہ بھی تو پوچھنی تھی

“بےبی یونیورسٹی نہیں جانا۔۔۔۔۔؟”
اس نے عالیاب کو سستی سے کھاتے دیکھ پوچھا تھا
“نہیں منڈے سے پیپرز ہیں تو چھٹیاں۔۔۔۔”
“اچھا مطلب آج میرے ساتھ ہو گی۔۔۔۔”
اس نے بولنے کی بجائے اثبات میں سر ہلایا تھا کیونکہ اس کا بولنے کو زرا جی نہیں کر رہا تھا اور ناشتے کا دل کر رہا تھا اسی لیے ناشتہ بیچ میں چھوڑتی اٹھ گئی تھی
“ناشتہ تو کرو۔۔۔۔”
وجدان نے اس کو اٹھتے دیکھ کہا تھا
“بس کافی ہے تھوڑا جوس بنا کر پینے لگی ہوں۔۔۔”
“ملازمہ سے کہہ دیتی ہوں یا میں بنا دیتی۔۔۔۔”
پریہان اس کے سست چہرے کو دیکھتے پیار سے بولی تو اس نے نفی میں سر ہلایا اور خود کچن کی جانب چلی گئی تھی وجدان بھی اٹھتا اس کے پیچھے چلا گیا تھا
………………………………
ناشتے کے فورا بعد وجدان کے بلانے پر محبوب اس کے ساتھ موجود تھا وہ دونوں ڈرائینگ روم میں بیٹھے آپس میں ضروری باتیں کر رہے تھے
“سر آپ کی جگہ نیا ایس پی آیا ہے جو کہ ایک نمبر کا کمینہ لگتا ہے اور ڈی ایس پی صاحب نے کہا ہے آپ کا ٹرانسفر کروا دیا جائے گا۔۔۔۔”
محبوب کی بات سنتے اس نے اپنے ہونٹ بھینچے تھے
“غلطی بھی خود کی اور ٹرانسفر بھی میرا ایسی کی تیسی کر دوں گا سب کی اگر میری فیملی سے دور ٹرانسفر کیا تو بنا کسی غلطی کے یہ حرکت میرے اصولوں کے خلاف ہے ریزائن کردوں گا میں۔۔۔”
وہ غصے سے بولا تھا

“اور سر داور کا کیا کرنا ہے ہمارے جاسوس کو بھی اس کا علم نہیں رابطہ ضرور ہوتا ہے وہ بھی داور خود کرتا ہے ہر بار نئے نمبر سے اس نے پوچھنے کی کوشش کی لیکن داور نے نہیں بتایا۔۔۔۔”
اس نے تفصیل سے بتایا تھا
“یہ جس بل میں مرضی چھپ کر بیٹھ جائے میرے ہاتھوں نہیں بچے گا اور منشا کا کیا بنا۔۔۔؟”
“سر میں نے اس کے گھر کی تلاشی لی تھی لیکن کوئی ایسی چیز نہیں ملی جس سے اندازہ ہو سکتا تھا کہ وہ داور کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔۔۔۔”
“وہ کہاں غائب ہو گئی ہے اچانک۔۔۔؟”
اس نے اس کے غائب ہونے کی وجہ پوچھی تھی
“معلوم نہیں سر میں پتا لگانے کی کوشش کر رہا ہوں۔۔۔۔”
اس نے ادب سے کہا تھا

“داور کے لیے میرے پاس ایک پلین ہے وہ غور سے سنو اور ہمارے اس جاسوس کو بھی خبر دو۔۔۔۔”
وہ کچھ دیر سوچنے کے بعد بولا اور پھر اس پلین کو بتانے لگا تھا جسے سنتے اسے حیرت تو ہوئی لیکن عمل درآمد ضروری تھا
………………………………
وجدان مسکراہٹ دبائے بریانی کھاتا اپنے سامنے موجود زوہان کو دیکھ لیتا جو جب سے آیا تھا صرف اسے گھورنے کا کام سر انجام دے رہا تھا
“ایسے مت دیکھ یہ نہ ہو بریانی مجھے ہضم نہ ہو۔۔۔۔۔”
وہ ہاتھ سے نوالا بناتے بولا تھا

“یہ معجزاتی جام کب ہوا کہ تم دونوں کے تعلقات اچھے ہو گئے۔۔۔۔؟”
آخر اس نے اپنی خاموشی توڑ ہی دی تھی
“جب مجھے میری غلطی کا احساس ہوا تب سے۔۔۔۔”
تعبیر لاونچ میں داخل ہوتی بریانی کی پلٹ زوہان کے سامنے رکھتے بولی تھی
“یہ احساس کیسے ہوا ورنہ مجھے تو لگا تھا دونوں میری اوپر کی ٹکٹ کٹوا کر ہی سکون کا سانس لو گے۔۔۔۔”
اس نے پانی کا گلاس اٹھاتے کہا

“میں کچھ نہیں کرتا۔۔۔۔”
وجدان جلدی سے اپنی صفائی میں بولا تھا
“ہاں بالکل تم ہی تو کچھ نہیں کرتے۔۔۔۔”
تعبیر بھلا کہاں خاموش رہنے والوں میں سے تھی
“دیکھ لو اب ہی مجھ معصوم پر کیسے شروع ہو گئی ہے۔۔۔۔۔”
وہ ہنستا ہوا زوہان سے بولا تھا
“زوہان میں تم سے بھی اپنی باتوں کی معافی چاہتی ہوں۔۔۔۔۔”
وہ اس کے پاس بیٹھتے اس کو بازو سے تھامے بولی تھی تو وہ مسکرایا یہ دونوں اس کی زندگی کا اہم حصہ تھے ان میں سب ٹھیک ہو گیا تو اس کے لیے اتنا ہی کافی تھا زوہان نے محبت سے اس کی گال کو چھوا تھا

“یار یہ معافی تلافی والا سین روم میں جا کر کرو یہاں معصوم بچے بھی بیٹھے ہیں پھر خراب کر کے خود تم لوگ معصوم بن جاو گے۔۔۔۔”
وجدان ایک ہاتھ انکھوں پر رکھ کر بولتا دوسرے سے نوالا منہ میں ڈالا تو دونوں نے گھورا تھا
“تم ہو ہی بدتمیز۔۔۔۔”
زوہان سیدھا ہوتا بولا تھا
“ہاتھ ہٹا لوں۔۔۔۔؟”
وہ انگلیوں کے درمیان سے ایک آنکھ سے دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“اتنا تو تابعدار اور شریف ہے تو نہیں۔۔۔۔”
اس کی تابعداری اور معصومیت پر وہ عش عش کر اٹھا تھا تو وجدان ہنسنے لگا تھا
وجدان کا فون بجا تو فون پر دیکھا جہاں محبوب کی کال تھی وہ بائیں ہاتھ سے یس کرتا کان کے ساتھ لگایا تھا

“ہمممم اسے کہو نظر رکھے میں کوئی بہانا ڈھونڈھتا ہوں۔۔۔۔”
وہ دھیرے سے بولا اور تعبیر اور زوہان کو دیکھا جو چاول کھاتے آپس میں باتیں کر رہے تھے
“نہیں اسے اچھے سے سمجھا دینا یہ رسک بار بار نہیں لیا جاتا۔۔۔۔”
آگے سے کچھ کہا گیا کہ اس نے کڑے تیوروں سے کہا تھا
“ہاں کسی قسم کی غلطی کی گنجائش نہ ہو۔۔۔۔”
اس کا لہجہ ابھی بھی سخت تھا اور پھر مزید دو تین باتوں کے بعد فون کاٹ دیا تھا
………………………………
اگلے روز سب ہی اپنے کام کاج میں مصروف تھے وجدان بھی بھی ایک بجے تک عالیاب کے ساتھ وقت گزارتا ایک کام کے لیے گھر سے نکلا تھا عالیاب کو دو تین دن سے طبعیت کچھ اچھی نہ لگ رہی تھی لیکن وہ اپنا وہم سمجھتی وجدان کو کچھ بھی نہیں بتا رہی تھی
عالیاب وجدان کو مصروف دیکھتی پریہان کے کمرے میں آئی تھی
“مامی جان میری طبعیت اچھی نہیں لگ رہی وجدان بزی ہیں کیا آپ میرے ساتھ ڈاکٹر پاس جائیں گی۔۔۔”
وہ اس کے کمرے میں آتی سر کو دبائے بولی تھی
“کیا ہوا میری جان۔۔۔۔”
وہ پریشانی سے اس کی جانب بڑھیں تھی
“معلوم نہیں پلیز آپ چلیں گی۔۔۔۔”
“زوہان گھر ہے اس سے چیک کروا لیتے ہیں۔۔۔”
اس نے پریشانی سے اس کے ٹھنڈے ٹھار چہرے کو چھوتے ہوئے کہا
“نہیں زوہان بھائی کو معلوم نہیں پڑے گا ہمیں ہوسپٹل جانا ہو گا۔۔۔۔”
“اچھا چلو۔۔۔۔”
پریہان چادر اٹھاتے بولی اور وقت دیکھا جہاں تین بج رہے تھے اور پھر دونوں کمرے سے نکلیں تھی
………………………………
ان کو ہوسپٹل میں زیادہ وقت نہ لگا تھا وہ لوگ ہوسپٹل سے چار بجے باہر نکلے تھے اور دونوں آپس میں ہنستی باتیں کر رہیں تھی یہ سوچے بنا کہ فاصلے پر ایک گاڑی ان کے تعاقب میں ہے جو ان کو باہر آتا دیکھ کر گاڑی سٹارٹ ہوتے ان کی جانب روانہ کی تھی اور پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا
………………………………