No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
رات کے کهانے کے دوران سوائے ذوہان کے سب ہی ٹیبل پر موجود تهے اور پلکی پهلکی باتوں کے ساتھ کهانے میں مصروف تهے
“ماموں جان کہیں گهومنے کا پلین بنائیں میں بور ہو گئی ہوں یونیورسٹی کی روٹین سے….”
عالیاب شہرام کے ساتھ بیٹهے اس کا بازو تهامتے ہوئے بولی وجدان جو نوالہ منہ کی جانب لے جا رہا تها ہاتھ روکے عالیاب اور شہرام کو دیکهنے لگا
“جهوٹی ابهی آج تو باہر سے گهوم کر آئے ہیں….”
پارس نے اس کو دوپہر کی سیر یاد کروائی تو اس نے گهورا اور دوبارہ شہرام کی طرف متوجہ ہوئی
“ماموں جان پلیز نہ سب پلین بناتے ہیں سکندر کے علاوہ….”
آخر میں چور نظروں سے سکندر کو دیکهتے شہرام کے کان میں سرگوشی کی جو وجدان سن چکا تها شہرام اس کی سرگوشی پر ہنسا تها
“سن چکا ہوں میں مس عالیاب…”
وجدان چباتے ہوئے بولا تو اس نے منہ بنایا
“السلام و علیکم ایوری ون….”
شہرام اس سے پہلے کچھ بولتا ذوہان کی آواز وہاں گونجی اور کوٹ دور اچهالتا تهکے سے انداز میں وجدان کی کرسی کے ساتھ والی کرسی پر بیٹها چہرے پر تهکن واضع تهی سب نے سلام کا جواب دیا تها
“واللہ آج تو بیڑا گرک ہوگیا…”
وہ تهکے سے انداز میں بولا
“یہ لیں ذوہان بهائی کهانا کهائیں….”
عالیاب نے نوالہ اس کی جانب بڑهاتے ہوئے کہا اس سے پہلے ذوہان کهاتا سکندر نے جلدی سے اس کا ہاتھ موڑتے اپنے منہ میں ڈالا جہاں عالیاب اور ذوہان نے صدمے سے دیکها وہاں سب ہنسے تهے
“کبهی اپنے سکندر پر بهی ایسے مہربان ہو جایا کرو…”
گهور کر کہتے سب کی نظروں کو اگنور کرتے کهانا کهانے لگا
“کچھ شرم ہوتی ہے برو بڑے بیٹهے ہیں تمہارا دوٹکے کا رومینس ہر جگہ شروع ہو جاتا ہے….”
ذوہان نے گردن موڑے دهیمی آواز میں کہا
“تم اس کو رومینس کہتے ہو کبهی کر کے دیکهاوں گا رومینس کیا ہوتا ہے…”
آخر میں اس کے کان کے قریب جهکتے ہوئے کہا تو ذوہان نے دانت کچائے اور اس کی پلیٹ کهینچتا کهانا کهانے لگا
…………………………………
سعد کچن میں چائے کے برتن کوفت سے ادهر ادهر کرتا چائے بنانے کی کوشش کرنے لگا اس کو چائے تو بنانا آتی تهی لیکن اس وقت اس کا سر شدید درد سے پهٹ رہا تها
“کیا کررہے ہیں….؟”
دعا نے سرگوشانہ انداز میں کہا تو سعد کے کوفت زدہ چہرے پر تبسم پهیلا البتہ اس کا منہ دوسری جانب ہی تها
“ڈرانے کی کوشش ہو رہی تهی…؟”
دهیمی آگ پر چائے رکهتا اس کی جانب مڑا اور پیچهے ٹیک لگاتے سینے پر ہاتھ باندهے تهے تو اس نے منہ بنایا
“کبهی تو ڈر جایا کریں….”
وہ اس کو پرے کرتی چائے دیکهنے لگی جو ابهی سفید تهی دعا چائے بنانے لگی
“اس وقت کیا کررہی ہو…؟”
اس نے گردن موڑے اس سے سوال کیا
“ابهی سٹڈی کرکے فری ہوئی تهی تو کچن میں کچھ کهانے کو آئی تهی….”
وہ اپنا چشمہ درست کرتے ہوئے بولی
“بهوکی…”
وہ اس کی ناک کهینچے بولا
“ایسے مت کیا کریں سعد بهائی….”
“واٹ….”
اس کا موڈ جو خوشگوار ہوا تها اس کا بهائی لفظ سنتے تقریبا چلایا تها اس نے زبان دانتوں تلے دبائی تهی
“سوری بها….”
اسکی زبان دوبارہ پهسلی لیکن اس نے بروقت منہ پر ہاتھ رکها تها
“شٹ اپ جسٹ شٹ اپ….”
اسنے دهاڑتے ہوئے کہا اور سختی سے اس کے بازووں کو دبوچا تها
“تمہیں ایک بات سمجھ میں نہیں آتی یہ بهائی لفظ کب چهوڑو گی بچی نہیں ہو اب تم….”
سختی سے چباتے ہوئے کہتے اس کی آنکهیں نم کر گیا تها اس کی آنکهیں نم دیکھ کر ایک جهٹکے سے چهوڑا اور چہرے پر ہاتھ پهیرتے خود کو کمپوز کرنے لگا اور دوسری جانب منہ کیا
“بےوقوف…”
واپس اس کی جانب دیکهتے بولا وہ جو آنسووں پر پہرہ لگائے بیٹهی تهی وہ توڑ کر باہر نکلے تهے
“ادهر میری طرف دیکهو….”
اس کو روتے دیکھ وہ اس کا چہرہ تهوڑی کی مدد سے اٹهاتے ہوئے بولا سعد نے خود کو اس کی آنکهوں میں ڈوبتے ہوئے محسوس کیا
“میں اگر کسی چیز سے منع کروں تو ضرور اس کے پیچهے کوئی بڑی وجہ ہو سکتی ہے پاگل لڑکی سمجها کرو بات کو یہ بهائی ورڈ ذوہان یا وجدان کو ہی کہا کرو…”
وہ آہستہ سے اس کو سمجهاتے ہوئے بولا
“آپ بهی تو بڑے ہیں آپ تو ذوہان بهائی وجدان بهائی سے بهی بڑے ہیں…”
وہ سوں سوں کرتے بولی
“میرا رشتہ تم سے بہت بڑا ہے یہ بهائی کہو گی تو خراب ہوگا پاگل…”
وہ اس کے آنسووں صاف کرتے بولا دعا نے اس کے ہاتھ جهٹکے اور کچن سے بهاگی تهی لیکن کچن کے دروازے میں رک کر “ہیٹ یو” کہنا نہیں بهولی تهی
سعد نے ایک ہاتھ سے خود کے بالوں کو جکڑا تها اور پهر ابلتی ہوئی چائے کو دیکها غصے سے اس کو اٹهاتے سینک میں چائے سمیت پهینکا تها اور کچن سے نکلتا چلا گیا
…………………………………
“گڈ مارننگ سر اسلام و علیکم…”
وجدان پولیس سٹیشن داخل ہوا تو سب آفسر کهڑے ہوتے سلام کرنے لگے جسکا جواب وجدان سر ہلا کر جواب دیتا اپنے روم میں کرسی پر بیٹها تها کہ اس کا خاص آفیسر دروازہ اجازت لیتے اندر داخل ہوا
“بولو کیا رپورٹ ہے….؟”
موبائل پر اپنے باپ کے میسجز دیکهتے اس نے محبوب احمد سے کہا
“سر آپکے حکم کے مطابق داور خان کے سب کالے چٹهوں کی رپورٹ بنا چکا ہوں آج تک جس نے اس کے خلاف کیس کیا وہ سب درج کیا ہے اور وہ کیس کردہ فائلز بهی نکال لی ہیں….”
محبوب احمد نے اس کے سامنے ایک فائل رکهتے ہوئے کہا جس کو اس نے اٹهایا اور دیکهنے لگا اور گہرہ سانس بهرا
“اور کون کون شامل ہے اس کے ساتھ….؟”
“سر وہ بهی اس میں درج ہے….”
“محبوب احمد تم ہر چیز پر نظر رکهو گے کیونکہ ہمیں اس کا کیس حل کرنے اس کو پهانسی تک پہنچانے کے آرڈر ملے ہیں ڈی ایس پی عبداللہ نے کہا ہے اس کے خلاف بختہ ثبوت اکهٹے کرنے ہیں اس کی بنا پر ہی میرا ٹرانسفر میرے شہر کروایا گیا ہے…”
گہرہ سانس بهرتے وہ اس کو سب ڈیٹیل سمجهانے لگا تو وہ اثبات میں سر ہلاتا فائل اٹهاتا چلا گیا
…………………………………
“پارس تمہاری ہونے والی منگیتر کہیں نظر نہیں آرہی کب سے انتظار کررہے ہیں….”
عالیاب نیچے گهاس پر بیٹهتے ہوئے پارس کا ہاتھ کهینچتے ہوئے بولی جو خود روباب کا بےصبری سے انتظار کررہا تها
“السلام و علیکم سوری دیر ہوگئی….”
روباب تقریباً بهاگتے ہوئے ان تک پہنچی اور ہانپتے ہوئے بولی
“کہاں رہ گئی تهی…؟”
دعا نے گهورتے ہوئے کہا
“یار بابا کو کام آگیا تها اسی لیے دیر ہو گئی…”
وہ عالیاب کو نیچے سے اٹهاتے ہوئے بولی
“حارز انکل کی بهی شکایت لگانی پڑے گی انٹی سے…”
پارس ان کے ساتھ چلتے ہوئے بولا
“پارس تم سے خفا ہے کل تم نہیں آئی تهی ریسٹورنٹ میں اسی لیے…”
عالیاب رباب کے کان میں تقریباً گهستے ہوئے بولی تو اس نے پارس کو دیکها جو سنجیدگی سے سامنے دیکهتا چل رہا تها
“منا لوں گی ایک سمائیل کی مار ہے تمہارا کزن…”
وہ بهی شرگوشانہ انداز میں بولی
“سن چکا ہوں میں کسی کے خلاف بات کرنی ہو تو احتیاط سے کیا کرو….”
پارس کی آواز پر ان دونوں نے زبان دانتوں تلے دبائی دعا اپنا چشما درست کرتے ہنسی تهی اور پهر چاروں کلاس میں داخل ہو چکے تهے
…………………………………
ان کو تقریباً بیس منٹ ہوگئے تهے باہر انتظار کرتے ڈرائیور تها کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہا تها
“پارس تم نے کیوں گاڑی دی ڈرائیور کو واپس….؟”
دعا اکتاہٹ بهرے لہجے سے پارس کو دیکهتے ہوئے بولی
“یار بڑے ابو نے کہا تها کہ گاڑی ڈرائیور کے ساتھ بهیج دینا اسی لیے صبح ڈرائیور آیا تها….”
“بابا کو کیا کام ہو سکتا کوئی اور گاڑی نہیں تهی کیا….؟”
دعا ہولے سے بڑبڑائی
“اگر گفتگوئے عظیم ہوگئی ہو تم دونوں کی تو فون دیکهنے کے لیے نہیں رکها….”
عالیاب پیچهے چوکیدار کی کرسی پر بیٹهتے ہوئے بولی تو ان دونوں نے اپنی عقل پر پہلے ماتم کیا پهر اس کو گهورا
“پہلی بات پہلے یاد نہیں کروا سکتی تهی دوسری بات تمہارے پاس بهی تو فون ہے….”
پارس نے فون نکالتے ہوئے کہا
“بیلنس نہیں میرے ساتھ. ..”
اس نے فون لہراتے ہوئے کہا تو دونوں کو گویا صدمہ لگ گیا ہو
“پتا نہیں اتنے پیسے کہاں پهینکتی ہو ایک بیلنس نہیں رکھ سکتی…”
“تم لوگ عقل نہیں رکهتے میں بیلنس نہیں رکهتی…”
وہ بهی اسی کے انداز میں بولی
“بڑی پٹاخہ لڑکی ہے…”
دو کهڑے لڑکے عالیاب کو دیکهتے آپس میں بولے وجدان جو ان کے پاس سے گزر رہا تها اس کے قدم رکے پہلے ان کی جانب دیکها پهر نظروں کے تعاقب میں دیکها تها جہاں عالیاب دعا اور پارس سے ہنس کر باتیں کرتی بےحد حسین لگ رہی تهی اور یہی بات وجدان کا دماغ گهما گئیں تهی اس نے مڑتے ہوئے اس شخص کے منہ پر مکا جڑا جس نے عالیاب کے بارے میں یہ گوہر افشانی کی تهی وہاں اٹهتے شور سے عالیاب پارس دعا اور بهی لوگ متوجہ ہوئے تهے
“سکندر….”
عالیاب آنکهیں پهاڑے دیکهتے ہوئے بولی جہاں وجدان ان دونوں کی دهلائی کررہا تها پولیس یونیفارم ہونے کی وجہ سے کوئی قریب جانے کی جرأت نہیں کررہا تها ان دونوں کو اچها خاصا پیٹنے کے بعد وہ ان تینوں کی جانب آیا تها
“باہر نمائش میں بیٹهنے کی بجائے اندر بیٹها کرو سمجهے….”
وجدان ان کی جانب آتے دهاڑا تها وہ تینوں سہمے تهے
“اور تم پارس….”
پارس اپنے نام کی پکار سنتے کلمہ شروع کیا تها
“تمہاری بہنوں کے بارے میں کوئی بکواس کرئے تو اس کا منہ توڑ دینا سمجهے ورنہ میں تمہارا توڑ دوں گا چلو اب…..”
غصے سے گهور کر خاص کر عالیاب کو کہتے جیپ کی جانب قدم بڑهائے وہ تینوں بهی ایک نظر نیچے کراہتے ان لڑکوں کو دیکهتے اس کے پیچهے لپکے تهے
…………………………………
وہ تینوں گهر میں داخل ہوتے جو تیز تیز قدم لے رہے تهے کہ عالیاب کا کسی نے ہاتھ پکڑ کر کهینچا اس سے پہلے وہ چینختی وجدان کی گهورتی نگاہ نے خاموش کروایا تها وجدان نے دعا اور پارس کو دیکها جو بنا پیچهے دیکهے چلے گئے تهے عالیاب کو ان پر غصہ آیا کہ کم از کم ایک بار پیچهے ہی دیکھ لیتے وجدان نے عالیاب کو پلر کے ساتھ لگایا تها
“تم جانتی ہو مجهے برا لگتا پهر کیوں دوسروں کو بات کرنے کا موقع دیتی ہو…”
وہ اس کو بازو سے سختی سے تهامے اس کی آنکهوں میں اپنی نیلی سرخ ہوتی آنکهیں گاڑتے ہوئے بولا تو اس نے سختی سے آنکهیں میچیں تهی
“آنکهیں کهولو…”
وہ غرایا تو اس نے نفی میں سر ہلایا عالیاب کو اپنی گردن پر کچھ چبهتا ہوا محسوس ہوا اس نے ڈرتے ایک آنکھ کهولی تو خود کی گردن پر گن دیکھ کر اس کے چودہ طبق روشن ہوئے اور آنکهیں پهاڑے وجدان کو دیکها جو سنجیدگی سے اس کی جانب دیکھ رہا تها بےاختیار اس کی آنکهیں نم ہوئیں تهی
“ششش خبردار ایک آنسووں بهی گرا تو میں کچھ بهی نہیں کہ رہا….”
گن اس کی گردن سے اوپر لاتے اس کی ہونٹوں پر رکهی اس کی ہچکی بندهی تو اس نے سخت نظروں سے اس کی جانب دیکها
“تمہیں پتا عالیاب وہ لڑکے تمہارے بارے بات کررہے تهے اور میں تو ان لوگوں کی سوچیں ان سے چهین لوں جو تمہارے بارے میں سوچیں اور وہ تو پهر تمہارا ذکر کررہے تهے….”
وہ گن اس کی گال پر پهیرتے ہوئے بولا وہ سانس روکے اور نم آنکهوں سے اس کی جانب دیکھ رہی تهی
“تمہارے ڈمپل کیوں نہیں….؟”
وہ اب اس جانب متوجہ ہوا عالیاب کو اپنی روح فنا ہوتی محسوس ہوئی تهی
“موم کے بهی ہے وہ کس قدر حسین لگتی ہیں…”
وہ اس سے کہتے ہوئے مسکرایا تها عالیاب اس کی خوبصورت مسکراہٹ کو دیکهنے لگی یہ شخص کیا تها پل میں چٹان تو پل میں موم جیسا
“تمہارے بهی ہونا چاہیے شاید گن کی گولی سے تمہارے بن جائے….”
وہ بظاہر تو سنجیدگی سے بولا لیکن آنکهوں میں شرارت تهی جو عالیاب نہ دیکھ سکی اسی لیے آنکهوں سے آنسووں پهسلے تهے
“پپ-پلیز سکندر….”
وہ سسکتے ہوئے بولی تو وہ گہرہ سانس لیتا پیچهے ہوا
“چلو جاو عالی شاباش سکندر آج اچهے موڈ میں ہے چلو میرا بچہ….”
پیار سے اس کی گال تهہتهپاتے ہوئے بولا وہ جو اجازت کے انتظار میں تهی دو سو کی سپیڈ سے سیڑهیوں کی جانب بهاگی تهی
“اب اسکی روح کو سکون رہے گا کافی ٹائیم سے اسکی ٹیوننگ نہیں ہوئی تهی….”
مسکرا کر گن کی نوک پر پهونک
