Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

“ذوہان…”
وہ بےیقینی سے اس کا نام پکار گیا
“یہ کیا تها ذوہان…”
وہ آہستہ مگر غصیلے انداز میں بولا
“مطلب تعبیر کچھ حد تک سچ تهی…”
ایک خفا نظر اس پر ڈالتا وہاں سے چلا گیا
“تعبیر یہ بات کیسے جانتی ہے اس کا کیا تعلق….”
وہ غصے سے سوچنے لگا
“تعبیر واللہ تم چاہتی ہو میں تمہیں اس دنیا سے رخصت کردوں کبهی میرے بهائی کو تکلیف دینے کا باعث بنتی ہو اور آج ہم دونوں کے بیچ خلش پیدہ کردیا….”
غصے سے بڑبڑاتا صوفے پر بیٹها اور فون نکال کر روحا کو کال کی تهی جو تیسری بیل پر اٹها لی گئی تهی

“اس وقت کال کرنے کا مقصد….”
اس کی نیند اور غصے سے بهری آواز گونجی تهی
“مجهے ملنا ہے….”
“تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہو رہا ٹائیم دیکهو رات کا ایک بجنے والا ہے اور تمہیں اس وقت یہ بات سوجھ رہی ہے….”
وہ غصے سے بولی
“اوکے کل دس بجے ملو مجهے….”
اس نے گہرہ سانس بهرتے ہوئے کہا
“میں نہیں ملوں گی….”
“ملنا تو تمہیں ہو گا ورنہ گهر سے اٹهوا لوں گا اب تمہارا فیصلہ ہے…”
غصے سے چبا کر کہتے اس نے فون بند کیا تها دوسری طرف اس نے غصے سے فون پهینکا تها اور لیٹی تهی
ادهر وجدان فون کو مٹهی میں دبائے سر صوفے کی پشت سے ٹکایا تها اور آنکهیں موندیں تهی

“وجدان یہاں کیا کررہے ہو بیٹا….؟”
آبریش کی پریشان سی آواز گونجی تو وجدان نے آنکهیں کهولی سامنے اس کو مصطفی اوت آبریش پریشانی سے تکتے نظر آئے تهے
“ابهی ڈیوٹی سے آیا تها بس جانے والا تها آپ دونوں اس وقت یہاں…”
وہ مختصر سا بتاتے بات گهما گیا تها
“ہم تهوڑی دیر پہلے باہر گئے تهے آبریش کی دل گهبرا رہا تها…”
مصطفی نے جواب دیا
“کیا ہوا امی جان…؟”
وہ پریشانی سے اس کا ہاتھ تهامے بولا
“کچھ نہیں ہوا بیٹا بس ویسے ہی…”
وہ اسکے چہرے پر ہاتھ پهیرتے ہوئے بولی
“چلیں چلتے ہیں….”
وہ اس کا ہاتھ تهامے بولا
“کهانا تو نہیں کهانا…؟”
“نہیں امی…”
وہ اس کے ساتھ چلتے ہوئے بولا اور پهر وہاں سے اپنے کمرے کی جانب چلا گیا پیچهے آبریش اور مصطفی بهی کمرے میں چلے گئے تهے
…………………………………
وجدان تقریباً دس منٹ سے بیٹها روحا کا انتظار کررہا تها وہ لوکیشن اس کو سینڈ کر چکا تها بس اب اسکا ہی انتظار کرتا کبهی چابی انگلی میں گهماتا کبهی ٹیبل پر پڑے ٹشو اٹها لیتا
وہ پولیس یونیفارم میں ملبوس بڑی ہوئی شیو اور اسکے ساتھ پرکشش آنکهیں کسی کو بهی متوجہ کرنے کے لیے کافی تهیں وہاں اتنا رش تو نہ تها لیکن جتنے بهی لوگ تهے وہ آنکھ بهر کر ضرور دیکھ رہے تهے وہ نظروں کو محسوس کرتا بےنیاز سا اپنے کام میں مشغول تها مزید دس منٹ کے بعد روحا اس کے سامنے موجود تهی

“کیسی ہو….؟”
وہ اسکا مرجهایا چہرہ دیکهتے ہوئے بولا
“کس لیے بلایا ہے اور ایک بات دوبارہ بلانے کی کوشش بهی مت کرنا….”
اس کی بات پر وجدان کے لبوں پر تبسم پهیلا تها

“وہ وقت اور تهے جب فرصت سے قصے بیاں کیا کرتے تهے
اب تو ملنے کو بلانے سے بهی جناب خفا ہوا کرتے ہیں”

وجدان نے ٹهہر ٹهہر کر شعر پڑا تو وہ نظریں چرا گئی
“تعبیر کو تم جانتی ہو….؟”
وہ اس کو خامقش دیکھ کر مدعے پر آیا تو اس نے ایک جهٹکے دے اسکی جانب دیکها
“تم تعبیر کو کیسے جانتے ہو…؟”
“سوال کے بدلے جواب ہوا کرتا ہے سوال نہیں میرے سوال کا جواب دو روحا…..”
وہ ماتهے پر بل ڈالے بولا

“تعبیر میری بہن ہے تم اس کے بارے کیسے جانتے ہو…؟”
اس کی بات پر وجدان کے ماتهے کے بل ختم ہوئے
“اوو تو مطلب تعبیر روحا حسن کی بہن ہے….”
وہ ہولے سے بڑبڑایا تها
“اب بتاو تم میری بہن کا نام کیسے جانتے ہو…؟”
اس کا سوال وہی اٹکا تها
“تمہاری بہن ڈاکٹر ہے میرا بهائی بهی ڈاکٹر وہ دونوں ساتھ کام کرتے ہیں میرا بهائی تمہاری بہن سے بہت محبت کرتا ہے اور ناجانے تمہاری بہن نے میرے بهائی سے میرے اور تمہارے بارے میں ایسا کیا کہا کہ وہ مجھ سے خفا ہو گیا ہے….”

“تمہارا بهائی محبت کرتا ہے….؟”
“بالکل وہ بهی بہت طوفانی قسم کی اور تمہاری بہن اس کا ہر بار دل دکهاتی ہے جو کہ مجھ سے برداشت نہیں ہوتا لیکن اپنے بهائی کے لیے خاموش ہو جاتا ہوں تو برائے مہربانی اس کے دماغ میں بیٹها دینا کہ اگر محبت نہیں تو مت کریں کم از کم نہ تو میرے بهائی کا دل دکهائے نہ ہی ہمارے بیچ خلش بیدہ کرئے ورنہ وجدان سکندر اس کو سلاخوں کے پیچهے بند کرنے میں دیر نہیں لگائے گا….”
وہ غصے کو کنٹرول کرتے چبا کر کہتے اس کو گهورنے پر مجبور کر گیا تها

“وہ ہمارے بارے کچھ نہیں جانتی….”
“تو ذوہان سے فضول بکواس کا کیا مقصد تها پهر…”
وہ ایک دم سے آگے ہوتا غصے سے بولا
“پہلے پتا تو کرو کیا کہا ہے تعبیر نے….”
وہ بهی غصے سے بولی
“ذوہان نے سب سے پہلے تمہارا نام لیا تمہارے بارے پوچها اور آخر میں کہا تعبیر سچ تهی مائے فٹ…”
وہ غصے سے پهنکارتا دوبارہ پیچهے کرسی سے ٹیک لگائے غصہ ضبط کرنے لگا

“میرا کیا قصور ہے ہاں ہر کوئی مجهے بلیم کرتا ہے کیا باتیں ہوئی مجهے کیا علم میں بہت مشکل سے سنبهلی تهی وجدان لیکن تم نے سامنے آکر سب خراب کر دیا پهر سے بےقابو ہونے لگی…”
وہ نم آنکهوں سے بولی تو اس نے اسکی جانب دیکها
“رونے کی ضرورت نہیں دوبارہ سامنے نہیں آوں گا…”
ٹیبل سے چابی اٹها کر کہتے وہاں سے اٹها اور چلا گیا پیچهے اس نے بےدردی سے آنکهیں صاف کیں تهی
…………………………………
سعد نے آج کا دن دعا کی ناراضگی کا سوچتے کیسے گزارہ تها یہ وہی جانتا تها وہ جلد سے جلد دعا کو منانا چاہتا تها پر کیسے اس کو سمجھ نہیں آرہی تهی وہ اسکے جانے سے پہلے یونیورسٹی جا چکی تهی یقیناً وہ اس کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تهی

“دعا میں کیا کروں تم اگر میری جگہ پر ہوتی تو یقیناً خود کو ختم کر لیتی جس قدر بےبس ہوں میں….”
وہ بیڈ پر بیٹها اپنے ہاتهوں کو دیکهے سوچ رہا تها اور دعا کو کال ملائی جو کہ اس نے نہیں اٹهائی تهی
“دعا پانچ منٹ میں میرے کمرے میں آو ورنہ اپنا حشر دیکھ لینا….”
غصے سے میسج ٹائپ کرتے سینڈ کیا تها اور موبائل بیڈ پر پهینکتا سر تهاما تها ٹهیک پانچ منٹ بعد دعا دروازہ کهٹکهٹاتی اندر داخل ہوتی سعد اس کو دیکھ کر چونکا اور پهر مسکراہٹ نے لبوں کو چهوا تها وہ مکمل چہرہ ڈهانپے ہوئے تهی صرف آنکهیں نظر آرہی تهی وہ بهی ایک جگہ چہرہ جهکائے نظریں زمین پر ٹکائے کهڑی ہو گئی تهی اس نے دعا کی جانب قدم بڑهائے اور دو قدم کے فاصلے پر کهڑا ہوا

“میری طرف دیکهو دعا….”
اس نے سخت لہجے میں کہا تو اس نے نفی میں سر ہلایا
“میں کیا کہ رہا ہوں دیکهو…”
وہ مزید غصلے انداز میں بولا
“میں نہیں دیکهوں گی….”
وہ آنسووں ضبط کیے بولی تو سعد نے اسکو تهوڑی سے پکڑتے چہرہ اٹهایا لیکن وہ آنکهیں بند کر گئی تهی
“دعا آنکهیں کهولو مجهے سختی پر مجبور مت کرو اوپن یور آئیز…..”
وہ اسکی تهوڑی پر گرفت سخت کرتے بولا تو اس نے ہولے سے آنکهیں کهولی اور نم سرمئی آنکهیں اس کی محبت سے لبریز لیکن سخت آنکهوں سے ٹکرائی تهیں

ایسی آنکھوں پہ غزلکہنا بہت مشکل ہے ایسی آنکھوں پہتو قربان جوانی ہو گی 🌸🔥

وہ ہولے سے شعر پڑتا اسکے چہرے سے دوپٹہ سرکانے لگا وہ سانس روکے اسکو دیکھ رہی تهی
“چہرہ کیوں چهپایا تها….؟”
وہ اس کے خوبصورت چہرے کو دیکهتے ہوئے بولا
“آ-آپ نے کہا تها شش-شکل بهی مت دیکهانا…”
وہ گلہ تر کرتے بولتی سعد کو مسکرانے پر مجبور کر گئی تهی
“ڈر گئی تهی مجھ سے…؟”
وہ چہرہ اس کے چہرے سے قریب کرتے سرگوشانہ انداز میں بولا تو وہ زور سے پہلے اثبات میں سر ہلاتے نفی میں ہلانے لگی
“دعا تم جانتی ہو نہ آئی لائیک یو….؟”
وہ اسکے لرزتے لب دیکهتے بےاختیاری میں بولا تو دعا نے معصومیت سے نفی میں سر ہلایا
“کیوں نہیں جانتی کیا تم مجهے پسند کرتی ہو…؟”
وہ اس کی گلا سہلائے بولا تو وہ خاموش رہی البتہ سانسوں کی دنیا اتهل پتهل ہوگئی تهی
“بتاو میں بےتاب ہوں سننے کو…”
“آپ بب-بہت بڑے ہیں ذوہان بهائی وجدان بهائی سے بهی…”
اس سے جو جواب بن پڑا وہ بول گئی تهی

“یہ تو جواب نہیں بنتا…”
اس کی نظریں بهٹک بهٹک کر دعا کے ہونٹوں سے ٹکرا رہی تهیں کمرے کی تنہائی، خوبصورت سا حق، دل کی دنیا کو ہلا دینے والا شخص، محبت سامنے، اور اس کی سانسوں کا برپا ہوتا شور اس کو بہکا رہا تها وہ ستائس سالہ مرد ایک انیس سالہ لڑکی کے ہوش ربا سراپے سے بہک رہا تها

“سس-سعد مم-مجهے جانا….”
ابهی وہ اتنا ہی بولی تهی کہ سعد اسکے الفاظوں کو قید کر چکا تها وہ بن پانی کی مچهلی کی طرح اسکی گرفت میں مچلنے لگی تهی سعد نے اسکو کمر سے تهماتے گرفت سخت کرتے قریب کیا تها لیکن گیلے ہوتے چہرے نے اسکو ہوش کی دنیا میں لا پٹخا تها وہ فوراً پیچهے ہوا اور دعا کو دیکها جو دل کے مقام پر ہاتھ رکهتے روتے ہوئے تیز تیز سانس لے رہی تهی سعد نے اپنے سر پر ہاتھ مارا وہ اتنا بےقابو کیسے ہو سکتا تها

“دعا…”
وہ پکارتا آگے بڑها لیکن وہ پیچهے ہوئی اور روتے ہوئے نفی میں سر ہلانے لگی
“گندے ہیں آپ چهی شرم آرہی آپ سے آپ نے مجهے بهی گندہ کر دیا گندے ہیں گهٹیا ہیں…”
وہ روتے ہوئے بول
“دعا بکواس کرنے کی بجائے بات سنو میری…”
اس نے اس کو بازو سے پکڑنا چاہا لیکن وہ پهر سے پچهے ہوئی
“گندے گهٹیا سب سے کہوں گی آپ نے میرے ساتھ یہ گندہ کیا….”
“دعا ٹرائے ٹو انڈرسٹینڈ یار…”
وہ اسکو بازووں سے پکڑتے بولا لیکن وہ مچلنے لگی

“شر نہیں آتی آپ نے میرا یقین توڑا گناہ کیا آپ نے…”
“نہیں گناہ کیا دعا…”
وہ سمجهانا چاہتا تها
“گناہ ہے کل کو آپ مجهے کہیں منہ دیکهانے قابل…”
“شٹ اپ دعا…”
وہ دهاڑا تها تو وہ اسکی گرفت میں ہی سسکیاں بهرنے لگی
“کچھ غلط نہیں اور نہ ہی گناہ کیا ہے….”
“آپکی نظر میں کسی لڑکی کے ساتھ یہ کرنا جو نکاح میں نہ ہو سہی ہے..؟ سمجهتی ہوں میں سب…..”
وہ سسکیاں بهرتے بولی اور دوبارہ مچلنے لگی

“میں اس قدر گهٹیا لگتا ہوں تمہیں ہاں….؟”
وہ غصے سے بولا
“بابا کو بتاوں گی کہ آپ نے زبردستی کرنا چاہی….”
“کوئی زبردستی نہیں کی نہ ہی گناہ کیا ہے بیوی ہو تم میری سعد رامز کی بیوی ہو دعا سعد ہو تم سمجهی….”
اسکی غصے بهری آواز اور الفاظ اس کو سکتے میں لے گئے تهے
“کک-کیا کہا آپ نے بب-بیوی….”
وہ ٹوٹے سے الفاظ میں بولی تو اس کو اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا تها
“دعا لسن ٹو می….”
“آپ مم-مزاق کررہے تهے نہ سعد بتائیں…؟”
وہ آنکهوں کو بےدردی سے رگڑتے ہوئے بولی تهی
“میری جان…”
“سچ ہے یا جهوٹ…؟”
وہ اسکی بات کاٹ کر بولی
“یہ حقیقت ہے تم میری بیوی ہو…”
وہ چہرہ جهکا گیا تها
…………………………………
ذوہان ڈیوٹی سے آج جلدی آگیا تها جب اپنے کمرے میں آیا تو بیڈ پر وجدان کو دیکهتے زیادہ چونکا نہ تها وہ جانتا تها وجدان کی روح کو رات سے سکون نہیں ہوگا
“تم یہاں کہا کررہے ہو…؟”
وہ سخت لہجے میں بولا
“یار ذوہان میری بات سن….”
وہ مظلوم سی شکل بنائے بولا
“بس مجهے کچھ نہیں سننا….”
وہ غصے سے ہاتھ اٹهائے بولا تها تو وہ چہرہ جهکا گیا اسکی حالت دیکھ کر ذوہان کا ایک دم سے قہقہ نکلا تها وجدان نے ایک جهٹکے سے چہرہ اٹها کر نا سمجهی سے اسکو دیکها

“اوو میرے جگر…”
ہنستے ہوئے آگے بڑها اور اس کو گلے سے لگایا تها وجدان نے فوراً اس کو پیچهے کیا
“کیا ہوا میرے بهائی زہنی توازن تو نہیں بگڑ گیا…”
اس نے پریشانی سے اسکے منہ پر ہاتھ لگاتے ہوئے کہا تو وہ پهر ہنسا
“چل زوہان…”
وہ اسکا ہاتھ پکڑے دروازے کی جانب لے جاتے ہوئے بولا
“کہاں…؟”
اس نے رک کر ناسمجهی سے پوچها
“ڈاکٹر کو فلحال ڈاکٹر کی ضرورت ہے….”
اس نے پریشانی سے کہا تو ذوہان نے گهورا لیکن اس کے چہرے پر صرف سنجیدگی اور پریشانی تهی کسی قسم کی کوئی شرارت نہیں تهی

“بیغیرت انسان تمہاری شکل دیکھ کر ہنسی نکل گئی میری زرا سی شرارت پر کیسا حال ہو گیا تیرا اتنا برا حال تیرا عالی جان کی وجہ سے نہیں ہوا ہوگا…”
وہ شرارت سے بولا تو اب بهی وہ ناسمجهی سے اسے دیکھ رہا تها
“مطلب….؟”
“مطلب یہ کہ رات والا تهپڑ ساری ناراضگی ڈرامہ تهی…”
وہ آنکهیں پٹپٹا کے بولا
“مطلب تم ناراض نہیں…؟”
اس کی بات پر اس نے نفی میں سر ہلایا
“تم کچھ غلط بهی نہیں سوچا….؟”
اس نے دوبارہ نفی میں سر ہلایا تها
“وہ سب صرف مجهے ستانے کے لیے تها…”
اب کی بار اس نے فرما برداری سے اثبات میں سر ہلایا لیکن اگلے ہی لمحے منہ پر پڑنے والے مکے سے کراہ اٹها تها

“یہ کیا تها….؟”
وہ منہ سہلاتے بولا
“یہ اتنا بڑا ناٹک کرنے اور میری جان سولی پر لٹکانے کے لیے….”
وہ غصے سے چباتے ہوئے بولا لیکن اگلا مکا وجدان کی قسمت میں لکها تها وہ بهی منہ سہلائے گهورنے لگا
“یہ مکا مجھ سے چهپانے کے لیے….”
اس نے دوبارہ مکا مارنا چاہا جو کہ وجدان نے روکا تها
“ہم بهائی نہیں دوست ہیں وجدان سکندر تم ہی ہمیشہ کہتے تهے اور تم ہی….”
وہ خفا سا بولا تو وجدان نے گہرا سانس بهرا

“میں وقت آنے پر سب بتا دیتا….”
“میں جانتا ہوں میرا بهائی کسی کی زندگی برباد نہیں کر سکتا تعبیر کی بات پر مجهے کچھ خاص یقین نہیں لیکن ایسا ضرور کچھ ہوا ہے جس کا تجهے قصور وار ٹهہرایا جا رہا ہے اگر پوری دنیا بهی وجدان سکندر کے خلاف ہوگی نہ وجدان تو تم ذوہان مصطفی کو ہمیشہ اپنے برابر کهڑا پاو گے….”
وہ آخر میں مسکرا کر بولا تو وجدان نے آگے بڑھ کر اسے گلے سے لگایا تها
“اس میں کوئی شک نہیں میرے بهائی….”
وہ بهی گلے لگے ہی محبت سے بولا تها
…………………………………
وجدان اپنے کمرے میں آتا عالیاب کا گفت اٹهایا جو اس نے کهولا بهی نہیں تها اور عالیاب کے کمرے کی جانب گیا تها دروازہ کهول کر اندر داخل ہوا تو اندر اس کو اندهیرے کا سامنا درپیش ہوا تها اس نے ایک لائیٹ جلائی اور سامنے بیڈ پر دیکها جو مزے سے سو رہی تهی وہ مغرب سے سو رہی تهی اور اب عشاء ہونے کو تهی وہ آگے بڑها اور بیڈ پر آرام سے بیٹها اس کے خوبصورت چہرے کو تکنے لگا تها اس کی بهاری ہوتی سانسیں اس کی گہری نیند کی گواہی تهیں

“عالی میری جان….”
وہ اسکا کندها ہلاتا سرگوشانہ انداز میں بولا
“عالیاب سکندر…”
اب مسکراہٹ دبائے زور سے کہا تو اس نے ہڑبڑا کر آنکهیں کهولی سامنے وجدان کو دیکھ کر وہ ایک دم سے اٹھ کر بیٹهی پهر دل کے مقام پر ہاتھ رکهے تیز سانس لینے لگی
“ایسے کون اٹهاتا ہے سکندر…”
وہ ہوش میں آتے دوپٹہ خود پر اچهے سے اوڑتے ہوئے بولی

“آٹھ بج گئے ہیں میری جان…”
“صبح کے یا رات کے….؟”
اس نے آنکهیں ملتے ہوئے کہا تو وہ گهورنے لگا
“اچها گهوریں نہ بتائیں کس لیے نیند کی تباہی کی گئی ہے…..”
وہ معصوم سی شکل بنائے بولی
“یہ گفٹ تم لائی تهی اس دن لیکن خود ہی سو گئی….”
وہ گفٹ اس کے سامنے کرتے ہوئے بولا
“اوو ہاں اور مجهے لگا گم ہو گیا میں سوچا پیسے ضائع گئے….”
وہ گفٹ تهامے بولی

“سو کر اٹهنے کے بعد تمہاری یاداشت چلی جاتی ہے کیا….؟”
اس نے اسکی بات پر گهورتے ہوئے کہا تو وہ ہنسی
“یہ لیں آپ کے لیے تحفہ….”
وہ اس کی جانب بڑهاتے ہوئے بولی تو اس نے پکڑ کر کهولنا شروع کیا وہ اشتیاق سے سکندر کے تاثرات دیکهنے لگی جو مکمل گفٹ کهولنے کے بعد اب گفت کو تکے جا رہا
“بہت خوبصورت….”
وہ اتنا بولا وہ ایک خوبصورت سی گهڑی تهی جس کے ڈائل میں اس نے سکندر کی پک لگوائی تهی یہ اس نے جیسے کیا تها وہی جانتی تهی

“اچها لگا آپ کو…؟”
وہ خوشی سے بولی
“بہت اچها دنیا میں اس سے اچها کچھ نہیں…”
وہ گهڑی پہنتے ہوئے بولا وہ اس کے ہاتھ پر بہت جچ رہی تهی
“آپ نے فون دیا اس کے بدلے چهوٹا سا گفٹ….”
وہ ہنستے ہوئے بولی تو اس نے مسکراتے ہوئے اسکی دونوں گال کهینچی تو وہ کهلکهلائی تهی اور پهر وہ اس کو گدگدانے لگا تو وہ مزید زور سے ہنسنے لگی اور ہنستے ہوئے اس کو پیچهے کرنا چاہا وجدان بهی ہنسا تها اور پهر اس کو ہنستے دیکھ پیچهے ہوتا محبت پاش نظروں سے دیکهنے لگا