Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 28

    

صبح کا سورج خوشیوں سے بهرا طلوع ہوا تها چڑیوں کی چہچہاہٹ کے ساتھ ملک ویلا میں بهی چہچہاہٹ شروع ہو گئی تهی وہاں کا ہر فرد کام میں مصروف تها سب نے ناشتہ بهی چلتے پهرتے ہی کیا تها ایک عالیاب تهی جو بهرپور مزے کی نیند لیتی نو بجے اٹهی تهی اور تیاری دیکهنے کے لیے نیچے آئی تهی جہاں کوئی کسی کام میں مصروف تها تو کوئی کسی کام میں

“یار آج دوپہر کو نکاح ہے رات کو مہندی شادی کا دن آگیا ہے لیکن دو دن سے تمہارے سجاوٹ مکمل نہیں ہوئی ابهی تمہاری لائیٹنگ رہتی ہے گیارہ بجے تک اگر مکمل نہ ہوا تو بیٹا تیری خیر نہیں…”
ذوہان لائیٹس کو ویسے ہی زمین پر پڑا دیکھ سجاوٹ والے سے بولا تها چونکہ مہندی بارات ولیمہ بهی گهر میں ہی کرنا تها جس کی وجہ سے لاونچ میں سے ہر چیز اٹها دی گئی تهی اور اس میں مہندی کے حساب سے سب سیٹ کیا جا رہا تها جب کہ کهانے کا انتظام گارڈن میں کرنا تها

“بس سر آنکهیں بند کر کے کهولیں کام مکمل ہو گا…”
“لو آنکهیں بند کر کے کهول دی ہیں کہاں ہوا ہے سب کام….”
ذوہان آنکهیں بند کر کے کهولتے ہوئے بولا تو وہ گڑبڑایا تها
“سر یہ تو ڈائیلوگ تها…”
“جب سے تم آئے ہو جتنے ڈائیلوگ مار چکے ہو اتنا کام کیا ہوتا تو اب تک کام مکمل ہو جاتا…”
ذوہان کی بات پر اس نے دانت دیکهائے تهے ذوہان نے بهی سر جهٹکا تها اور دوسری جانب گیا

“رباب کچن میں جا رہی ہو تو وہاں میری چائے کا آدها کپ ہے زرا وہ گرم کر کے پورا کپ دے دینا…”
اس نے کچن کی طرف جاتی رباب سے کہا
“بهائی کپ آدها ہے گرم کرنے سے پورا ہو جائے گا کیا…؟”
اس نے آنکهیں پٹپٹاتے کہا تو ذوہان نے گهورا تها اس کی گهوری پر ہنستی وہ کچن کی جانب گئی تهی
“سب کی مت ماری گئی ہے….”
خود سے بڑبڑاتا گارڈن کی تیاریاں دیکهنے اس جانب چلا گیا
…………………………………
وجدان تقریباً گیارہ بجے گهر آیا تو تیاریاں بهی تقریباً مکمل تهیں وہ فرصت سے کهڑا ساری سجاوٹ دیکھ رہا تها لگ ہی نہیں رہا تها کہ یہ ان کے گهر کا لاونچ ہے سعد اور ذوہان نے بہت جوبصورتی سے سجایا تها اس نے سجاوٹ والے کو دیکها جو چهت سے لٹکے فانوس پر لائٹس لگا رہا تها گتین اور پیلے رنگ کے سمپلز سے پردے لگائے گئے تهے چونکہ نکاح پہلے تها تو ان پردوں کو اٹهایا ہوا تها اور نکاح کے لیے سرخ اور سفید پردے تهے جہاں نکاح ہونا تها اس جگہ کو بهی بہت خوبصورتی سے سجایا تها دونوں طرف بیٹهنے کی جگہ جب کہ درمیان میں جالی دار پردہ تها اور دونوں طرف نیچے تکیے رکهے تهے جن پر سرخ رنگ کا کوور تها

“کہاں سے آرہے ہو دلہے میاں…؟”
سعد نو وجدان کو باہر سے آتے دیکھ پوچها
“داڑهی سیٹ کروا کر آیا ہوں…”
اس نے موبائل میں خود کی داڑهی دیکهتے کہا
“گهر مشین سے کر لیتے اتنی اچهی تو کر لیتے ہو…”
“بال بهی سیٹ کروانے تهے…”
اس نے بالوں میں ہاتھ پهیرتے کہا
“بال بهی سیٹ کروائے ہیں مجهے تو ویسا ہی گهونسلہ لگ رہا ہے…”
اس نے شرارت سے کہا تو اس نے موبائل کے کیمرے میں خود کے بالوں کو دوبارہ دیکها کہ واقع گهونسلہ لگ رہا ہے
“بهائی سچی بتائیں یار شادی ہے سہی نہیں لگ رہے کیا….”
وہ رونی شکل بنائے بار بار بالوں کو دیکهتے ہوئے بولا
“مزاق کر رہا تها یار کرس گیل کے بالوں سے بهی اچهے لگ رہے ہیں تیرے بال…”
وہ اس کا کندها تهپتهپاتے بولا اور مسکراہٹ دبائے دوسری جانب گیا
“بهائی اچها نہیں کر رہے آپ….”
اپنے پیچهے وجدان کی پکار سنتے وہ چلتے چلتے پلٹا تها اور ہنسا تها
…………………………………
نکاح کی مناسبت سے سب لڑکوں نے نہیں بلکہ بڑوں نے بهی وائیٹ شلوار قمیض اور اس پر بلیک واسکٹ پہنی تهی جب کہ رباب اور دعا نے وائیٹ کڑتی اور نیچے سرخ شرارہ پہنا تها لیکن دونوں کا ڈیزائن مختلف تها دونوں نے لائیٹ سے میک اپ کے ساتھ سرخ رنگ کا حجاب کیا تها جب کہ عالیاب نے وائیٹ فراک جس پر گولڈن کڑہائی اور سرخ ہی ڈپٹے سے حجاب کیے اور سرخ رنگ کا کڑہائی دار دوپٹہ اوڑها تها ہلکے سے نکاح کی مناسب سے میک اپ کیے وہ بہت حسین لگ رہی تهی
…………………………………
دعا عالیاب کے کمرے سے مکمل تیار ہوتی اپنے کمرے میں آتی اپنی تیاری شیشے میں دیکهنے لگی کہ کسی نے اس کو پیچهے سے اپنے حصار میں لیا تها وہ ڈر کر اچهلی تهی اس کو خبر نہ ہو سکی سعد کب آیا ہے
“کیا ہر وقت ڈرتی رہتی ہو….”
بات کرتے وقت سعد کے ہونٹ دعا کی گال سے مس ہو رہے تهے وہ بےاختیار شیشے میں اس کو خود کی گال پر جهکے دیکھ کر پلکوں کی باڑ گرا گئی تهی

“کوئی مجھ سے پوچهے دنیا میں سب سے حسین کیا ہے تو لائیٹ سے بهی تیز رفتا میں، میں تمہار زکر کروں گا دعا میری نظر میں تم سے حسین شے اس دنیا میں کچھ نہیں…..”
وہ اس کے پیٹ سے اپنا ایک ہاتھ گزارتے بولا
“اور مجهے رشک ہے خود کی قسمت پر کہ آپ جیسا شخص میرا ہمسفر ہے…”
وہ اپنے پیٹ پر رکهے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکهتے بهاری ہوتی سانسوں سے بولی تهی
“میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں دعا بےانتہا…”
وہ اس کا رخ خود کی جانب کیے اس کو گلے لگاتا بولا
“اور میں بهی بہت پیار کرتی ہوں…”
وہ محض سوچ ہی سکی پهر اس سے پیچهے ہوتے چشمہ اٹهاتے لگایا تها
“چلیں….”
سعد نے اپنا ہاتھ بڑهایا تها جسے بنا دیری کیے اس نے تهاما تها
…………………………………
وجدان مکمل تیار ہوتا خود پر پرفیوم کی بارش کر رہا تها اور ساتھ شیشے میں بیڈ پر خود کو گهورتے ذوہان کو بهی دیکھ رہا تها
“کیا دیکھ رہے ہو برو کہیں مجھ میں ڈاکٹر تعبیر نظر تو نہیں آرہی…”
وہ ہنستا ہوا بولا
“ارے کیا یار ہر وقت چول مارتے ہو اب پیارے بهائی کو دیکهنا جرم ہے کیا…”
اس کی بات پر وہ مکمل گهوما تو اور حیرت سے اس کو دیکهتے کان میں انگلی ماری تهی گویا سماعتوں سے غلط بات ٹکرائی ہو ذوہان نے دانت پیسے تهے

“تم نے کہا تها ہم اکهٹے شادی کرینگے تیرا نکاح مجھ سے بڑا ہونے کی وجہ سے چار منٹ پہلے ہو گا اور اب اکیلا شادی کر رہا ہے افسوس…”
وہ افسوس سے نفی میں سر ہلاتے بولا جیسے بہت افسوس ہو
“ہاں تو تمہاری دلہن نہیں مان رہی میں کیا کروں…”
اس نے کندهے اچکائے کہا
“صبر تو کر سکتے تهے نہ تم…”
وہ اس کو شرم دلانے کی ناکام کوشش کرتے بولا
“صبر ہی تو نہیں ہے برو….”
وہ ایک آنکھ دبائے بولا اور بیڈ پر بیٹهتا شوز پہننے لگا تها

“چل جمعے کو نہیں جانا کیا….”
وجدان بیڈ سے اٹهتا ہوا بولا
“ہاں جی ہاں جی آج تو خطبہ بهی پورا سنے گا میرا بهائی…”
اس نے ٹهنڈہ آہ بهرتے کہا تو وہ قہقہ لگا گیا تها اور اس کے ایک مکا جڑا تها
“تیرے لیے آج رات ایک سرپرائز ہے بہت جلد ملے گا…”
اس کی بات پر اس نے سر جهٹکا تها اور دونوں روم سے نکلے تهے
…………………………………
جمعہ کے بعد سب لاونچ میں جمع تهے پورا لاونچ مہمانوں سے بهرا گیا تها آخر اتنے عرصے بعد ملک ویلا میں شادی ہو رہی تهی وہ بهی ایس پی وجدان سکندر کی کہیں قہقے گونج رہے تو کہیں حاسدوں کی نظریں تهی خوشیوں کو کها جانے والی لیکن اگر چند لوگ حسد کر والے تهے تو اس سے دوگنا لوگ دعائیں بهی دے رہے تهے

“دعا رباب وقت ہو گیا ہے بیٹا عالیاب کو لے کر آو…”
رامز نے دعا اور رباب سے کہا تها وجدان کو ایک جانب بیٹهایا گیا تها اس کے ایک جانب مصطفی جب کہ دوسری جانب شہرام بیٹها تها ذوہان وجدان کے پیچهے بیٹها ہر دو منٹ بعد اس کے کان میں کبهی ایسی بات کرتا کہ وہ ہنسنے لگتا تو کبهی ایسی بات کہ وہ گهورنے لگتا تها

دعا اور رباب کمرے میں آئیں تو عالیاب اپنے آنسووں صاف کر رہی تهی
“ارے ابهی سے رونے لگی…”
دعا نے پریشانی سے کہا
“وہ بابا سے بات کی ہے نہ تو رونا آگیا…”
وہ اپنا موبائل رباب کو پکڑاتے بولی
“چلو نیچے چلتے ہیں….”
دعا اس پر گهونگهٹ اوڑهتے بولی
“دعا ڈر لگ رہا ہے…”
وہ بیڈ سے اٹهتے دل کی تیز ہوتی دهڑکنوں کے ساتھ بولی تهی
“کچھ نہیں ہوتا اصل ڈر تو کل لگنا چاہیے ابهی تو صرف نکاح ہے…”
رباب کے چهیڑنے پر وہ مزید گهبرائی تهی دعا ہنسی تهی پهر دونوں اس کو لیے کمرے سے نکلیں تهی

وجدان کی نظریں مسلسل سیڑهیوں کی جانب ٹکی تهیں اس کے دل کی بےقراریاں بڑه رہیں تهی
“بہت تیز ہو رہا تمہارا دل بالکل لڑکیوں کی طرح…”
ذوہان نے اس کے دل پر ہاتھ رکهتے چھیڑتے ہوئے کان میں سرگوشی کی تو اس نے کہنی ماری تهی
“بیٹا یہ موقع ہی ایسا ہوتا ہے جب تیری باری آئے گی تب بتاوں گا…”
اس نے گهورتے ہوئے کہا تو تصور میں تعبیر کو سوچتے وہ مسکرا اٹها تها
“بڑا مسکرایا جا رہا ہے ڈاکٹر تعبیر کو سوچ رہے ہو کیا…”
اب اس نے شرارت سے کہا تو گهورنے کی باری ذوہان کی تهی
“بکواس نہیں کرو…”

“دونوں سے سکون سے نہیں بیٹها جاتا کیا…؟”
شہتام جو کب سے ان کو ایک دوسرے کے کان میں گهسے دیکھ رہا تها آخر بول اٹها تو دونوں نے ہونٹوں پر انگلی رکهی تهی وجدان کی اچانک نظر سامنے گئی جہاں عالیاب گهونگهٹ اوڑهے رباب اور دعا کے بیچ آرہی تهی پریہان اور آبریش بهی اس کی جانب گئیں تهی
وجدان نے اتنے لمبے گهونگهٹ کو گهورا تها
“لے بهائی تیرے ارمانوں پر تو پانی پهر گیا چچچچ…”
ذوہان اس کی حالت دیکهتے افسوس کا اظہار کرتے بولا تو وہ محض صبر کے گهونٹ بهر کر رہ گیا تها عالیاب کو پردے کی دوسری جانب اس کے سامنے بیٹها دیا گیا تها

“موم اتنے گهونگهٹ کی کیا ضرورت تهی کم از کم دیدار تو ہونے دیتیں…”
وہ بدمزہ ہوتے بنا مہمانوں سے بهرے لاونچ کا خیال کیے بولا تها ذوہان سمیت سب نے ہوٹنگ کی تهی اور سیٹیاں ماری تهیں شہرام نے بےبسی سے اپنے اس بےشرم ثپوت کو دیکها جو اس کی بےشرمی کے رکارڈ بهی توڑ رہا تها دوسری طرف دعا اور رباب کی کان کے قریب ہنسی سنتے عالیاب مزید شرم سے سرخ ہو رہی تهی

“مولوی صاحب نکاح شروع کریں کیونکہ اگر میرا بهائی شروع ہوا تو پهر کان بند کر لیں گے آپ یہ زرا بےشرم ہے….”
ذوہان نے بےصبرے ہوتے وجدان کی حالت پر رحم کهاتے کہا تو سب کے قہقے گونجے تهے جب کہ وجدان بهی مسکرایا تها

“عالیاب خاور ولد خاور علی آپ کا نکاح وجدان سکندر ولد شہرام سعید سے اللہ کو حاضر ناضر جان کر اور ان گواہان کی موجودگی میں کیا جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے…؟”
مولوی صاحب کے پوچهنے پر عالیاب کا دل سینہ توڑ کر باہر آنے کو تها
“قق-قبول ہے…”
اس کی کانپتی آواز گونجی تهی
“قبول ہے…؟”
ایک بار پهر سے دہرایا گی تها
“قبول ہے…”
اس کا لہجہ نم ہوا تها اس کے لہجے کی نمی واضع تهی
“کیا آپ کو قبول ہے…؟”
“قبول ہے…”
اب کہ آنسووں بهی آنکهوں سے پهسلے تهے ویسے تو کسی نے وشما کی کمی محسوس ہونے نہ دی تهی لیکن یہ موقع تها اسے وشما کی یاد آئی تهی اور خاور بهی موجود نہ تها عالیاب اور گواہان کے سائن کروانے کے بعد مولوی وجدان کی جانب مڑا تها

“وجدان سکندر ولد شہرام سعید آپ کا نکاح عالیاب خاور ولد خاور علی سے اللہ کو حاضر ناضر جان کر اور ان گواہاں کی موجودگی میں کیا جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے….؟
“جی قبول ہے….”
وہ جهٹ سے بولا تها
“قبول ہے…؟”
اس نے دوسری بار دہرایا تها
“جی قبول ہے….”
“کیا آپ کو قبول ہے….؟”
“جی قبول ہے……”
وہ عالیاب کو دیکهتے مسکرا کر بولا تها اور پهر سائن کرنے کے بعد دعا ہوئی تهی اور پهر مبارک باد کا سلسلہ شروع ہوا تها

“مبارک ہو بگ برو تو بهی بیڈ پر دبل ہو گیا ہم پتا نہیں کب تک تکیے کو ہگ کر کے سوئیں گے…”
ذوہان اس کے گلے لگتے دہائی دیتے بولا تو وجدان زور سے ہنسا تها
“بابا سے زکر کروں کے ذوہان مصطفی ڈاکٹرنی کو ہگ کر کے سونا چاہتا ہے…”
اس نے اس کو چهیڑا تو ذوہان نے اس کو دو مکے مارے تهے

“ہر جگہ شروع ہو جاتے ہو بڑے ہو گئے ہو بچے نہیں جو بار بار روکا جائے اور وجدان نکاح ہو گیا ہے شادی ہے لیکن حرکتیں بچوں جیسی ہی ہیں….”
شہرام ان کو گهورتے ہوئے بولا تو دونوں تیر کی طرح سیدهے ہوئے تهے شہرام عالیاب کی جانب گیا تها
“سکون آگیا بستی کروا کے وجدان نکاح سالے دن بهی عزت کروا لی شرم کر…”
سعد ہنستے ہوئے بولا تو ان دونوں نے فخر سے بالوں میں ہاتھ پهیرا تها
“پری عالیاب کو کمرے میں لے جاو اور رامز بهائی کهانے کا ٹائیم ہو گیا ہے تقریباً اب کهول دینا چاہیے…”
شہرام نے پریہان سے کہتے رامز سے کہا

“کیوں ساتھ نہیں بیٹهانا عالیاب کو….”
وجدان شہرام کی بات سنتے جلدی سے بولا تو ذوہان نے بےاختیار اپنے سر پر ہاتھ مارا اور اس کے منہ پر ہاتھ رکهتے دوسری جانب لے گیا
“مصطفی مجهے لگتا ہے وجدان اپنی شادی پر ہی مجھ سے ضائع ہو جائے گا…”
وہ چباتے ہوئے بولا تو مصطفی نے اس کے گرد بازو حمائل کیا اور ہنسا
…………………………………
نیچے کهانے کا دورانیہ شروع ہو چکا تها عالیاب کو کمرے میں بیٹها کر دعا خود سعد کے بلانے پر نیچے گئی تهی کچھ دیر میں اس کا اور وجدان کا فوٹو شوٹ شروع ہونا تها وہ سر سے دوپٹہ اتارتی خود کا حجاب دیکها جو اس پر بہت سوٹ کر رہا تها کہ اچانک دروازہ کهلا تها اس کو لگا دعا ہے لیکن پلٹنے پر دعا کی بجائے وجدان کو دیکھ کر اس نے فوراً منہ پر ہاتھ رکها تها

“سکندر جائیں یہاں سے….”
اس نے ایک آنکھ سے اسے دیکهتے کہا جو دروازہ لاک کر رہا تها اور پهر اس کی جانب آتا اس کے چہرے سے ہاتھ ہٹاتا اس کو دیکهنے لگا جو اس کی نظروں سے کنفیوز ہو رہی تهی

“ﺗﻢ دﻝ ﮐﯽ ﺑﺎﺗــــــــــ ﮐﺮﺗـــﮯ ﮨﻮ ﻣـــﯿﮟ ﺟﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﻭﺍﺭ ﺩﻭﮞ تم ﭘﺮ
ﻣﺠﮭــــــــﮯ ﻋﺸـــــــﻖ تم ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﮯ””

مکمل طور پر اس کا جائزہ لینے کے بعد اس نے پورے استحاق سے اس کے ماتهے پر اپنے لب رکهے تهے
“اس حسن کو خراج تحسین پیش کرنا میرا فرض ہے اور میں ان قاتلانہ آنکهوں ان شرم سے سرخ گالوں ان ٹماٹر جیسے ہونٹوں کو کسی صورت دیکهنا نہیں چهوڑ سکتا تها…”
وہ باری باری اس کے چہرے کے ہر نقوش کو چهوتے ہوئے بولا کہ دروازہ کهٹکها تها وہ فوراً ہوش میں آئی اور گهبرا کر دروازے کی جانب دیکها

“سکندر…”
“ریلیکس اتنا کیوں گهبرا رہی ہو….”
وہ اس کو گهبراتے دیکھ بولا اور اس کے چہرے پر پهونک ماری کہ اس نے آنکهیں بند کیں تهی دروازہ دوبارہ سے ناک ہوا تها
“واشروم جائیں میں دروازہ کهولتی ہوں…”
وہ اس کو واشروم کی جانب دهکیلتے بولی
“میں تو نہیں جانے والا…”
وہ وہاں سے ٹس سے مس نہ ہوا تو اس نے بےبسی سے وجدان کو دیکها

“برو دروازہ کهول یار میں ہی ہوں…”
ذوہان کے ایسے کہنے پر وہ دونوں چونکے اور حیرت سے دروازے کی جانب دیکها اس کے دوبارہ پکارنے پر وہ بهی ہوش میں آیا اور دروازہ کهولا ذوہان شرارتی نگاہ سے دیکهتا اندر داخل ہوا عالیاب کا شرم سے برا حال تها
“میں جانتا تها تم یہی ہو گے نیچے غائب تهے تم…”
ذوہان کے کہنے پر اس نے داڑهی کهجائی تهی
“نیچے ماموں بلا رہے ہیں تم دونوں کا فوٹو شوٹ ہے مامی جان آرہیں تهیں لیکن مجهے پتا تها یہ بےصبرہ یہاں ہو گا اسی لیے خود آیا ہوں…”
اس نے اپنے بےصبرے بهائی کو شرم دلانا چاہی
“صبر تو تها ہی نہیں…”
اس کے کہنے پر اس نے نچلا ہونٹ دانت میں دبائے نفی میں سر ہلایا
“چلو چلتے ہیں…”
ذوہان کے کہنے پر وجدان نے اپنا ہاتھ اس کی جانب بڑهایا تها

“نن-نہیں آپ جائیں میں پهر آتی ہوں سب دیکهیں گے تو کیا سوچیں گے…”
وہ دو قدم پیچهے ہوتے بولی
“یار اب تو بیوی بن گئی ہو ابهی بهی شرما رہی ہو….”
“برو تم جاو میں لا رہا ہوں عالیاب کو زیادہ فری مت ہو…”
ذوہان اس کو کمرے سے دهکا دیتے بولا تو ناچار جی اس کو جانا پڑا تها اور عالیاب ذوہان کے ساتھ نیچے آئی تهی اور پهر بہت سا فوٹو شوٹ ہوا تها سب مہمان تقریباً چلے گئے تهے اور باقی گهر کے افراد بهی مہندی کی تیاریوں میں مصروف ہو گئے تهے عالیاب کو کچھ دیر آرام کی غرض سے کمرے میں بهیج دیا تها
…………………………………
“تعبیر آٹھ بجے تک تیار رہنا ہمیں کسی کی مہندی میں جانا ہے….”
روحا تعبیر کے کمرے میں آتے بولی جو کچھ دیر پہلے ہی ہوسپٹل سے آئی تهی
“کس کی مہندی…؟”
وہ اپنا حجاب اتارتے بولی تهی
“بس معلوم ہو جائے گا کس کی مہندی ہے پانچ بج گئے ہیں آٹھ بجے تک تیار رہنا….”
اس کی بات پر اس نے کوفت سے دیکها
“بتائیں تو سہی آپی کس کی مہندی ہے….؟”
تهکن اس کے چہرے سے واضع تهی
“کہا نہ معلوم ہو جائے گا تیار رہنا تم….”
سنجیدگی سے کہتی اس کے کمرے سے نکلی تهی جب کہ تعبیر برا سا منہ بناتی بیڈ پر لیٹ گئی تهی اس کا ارادہ کچھ دیر ارام کر کے اپنی تهکن دور کرنا تها
…………………………………
تقریباً سات کے قریب دهیرے دهیرے سے مہمان آنا شروع ہو چکے تهے اور دلہا صاحب ابهی بهی لاونچ میں موجود کسی کام میں مصروف تها
“یار وجدان کیا کرتے ہو ابهی تک تیار نہیں ہوئے مہمان آنا شروع ہو چکے ہیں….”
سعد وجدان کو یوں ہی دوپہر کے کپڑوں میں ملبوس دیکھ حیرت سے بولا وجدان نے اسے دیکها جو سرخ کڑتے جس پر اورنج اور گرین پٹکا لیے نفاست سے سیٹ کیے بال ہلکی ہلکی بڑهی ہوئی شیوو وہ بہت ڈیشنگ لگ رہا تها

“واہ بهائی بڑے ہینڈسم لگ رہے ہیں میں تو کہتا ہوں میرے ساتھ اپنی بهی مہندی کر لیں…”
اس نے ہاتھ اٹهائے کہ
“میں تو تمہاری بہن کو کہا تها پر وہ چشمش مانتی ہی نہیں….”
اس نے ٹهنڈہ آہ بهرتے کہا تو وہ ہنسا تها
“بس بهائی ہینڈسم بندے کی قدر ہی نہیں…”
وہ اس کے کندهے کے گرد بازو حمائل کرتا افسوس سے بولا
“ہاں یار بس کیا کہیں….”
اس نے بهی افسوس سے کہا اور پهر کچھ یاد آنے پر اس کی جانب دیکها
“اوئے تم تیار نہیں ہوئے بات چینج کرنے میں تو تم ماہر ہو…”
اس کی بات پر وہ زور سے ہنسا
“بس جا رہا ہوں بهائی…”
بالوں میں ہاتھ پهیر کر کہتا سیڑهیوں کی جانب گیا تها پیچهے وہ بهی سب تیاریاں دیکهنے لگا باقی بڑے تیار تهے اور مہمانوں کو اٹینڈ کر رہے تهے
…………………………………
عالیاب نے اورنج کلر کی کڑتی اور نیچے گرین کلر کا شرارہ پہنا تها مہندی کے حساب سے ہلکا سا میک اپ کیے ہوئے اپنے سرخ پیروں کو گرین کلر کی کڑہائی داری جوتی میں مقید کیا تها وہ شیشے میں خود کو دیکهتی خود ہی شرما رہی تهی کیوں کہ وہ قیامت ڈها رہی تهی
“میم کیا اب بهی آپ حجاب کریں گی…؟”
پارلر والی نے اس سے پوچها جس نے اثبات میں سر ہلایا تو اس نے بیڈ پر پڑا گرین سلک کا دوپٹہ اٹهایا تها اور اس کا حجاب کرنے لگی اس کے بعد اس پر اورنج رنگ کا دوپٹہ بهی اوڑها تها
“میم آپ بہت خوبصورت لگ رہی ہیں بہت زیادہ..”
وہ اس کے پیچهے کهڑی شیشے میں اس کا قیامت ڈهاتا سراپا دیکهتے ہوئے مسکرا کر بولی تو وہ بهی مسکرائی تهی

“تقریباً مہمان آگئے ہیں کتنی دیر ہے…؟”
رباب کمرے میں داخل ہوتے بولی اور اس کو دیکهے بےساختہ ماشاءاللہ بولا تها تو وہ مزید شرما گئی تهی
“بس ریڈی ہیں میم….”
پارلر والی بولی تهی رباب نے پرفیوم اٹهاتے خود پر چهڑکا تها اور خود کو شیشے میں دیکها جو گرین گهیرے دار فراک جس کے گهیرے پر موتیوں سے کام ہوا تها وہ بهی گرین رنگ کے سلک کے دپٹے کا حجاب کیے ہوئی تهی
…………………………………
روحا اور تعبیر کو ڈرائیور ملک ویلا کے سامنے چهوڑ گیا تها باہر سے خوبصورتی سے سجا گهر کسی کو بهی اپنی جانب متوجہ کر سکتا تها
“ملک ویلا…”
تعبیر نےگیٹ کے سائیڈ پر بڑے حروف میں لکها ملک ویلا منہ میں بڑبڑایا تها
“یہ کس کا گهر ہے…؟”
تعبیر اس کے ساتھ گیٹ کے اندر داخل ہوتے بولی اور پهر گهر میں داخل ہوئے تهے جہاں بہت سے مہمان تهے

اس سے پہلے روحا کوئی جواب دیتی تعبیر کی نظر سامنے ذوہان پر پڑی جو سرخ کڑتے اور سعد کی طرح گرین اور اورنج کلر کا پٹکا گلے کی بجائے بازو پر لپیٹے ہوئے نیلی پرکشش آنکهیں خوبصورت اس کے گورے چہرے پر جچتی داڑهی وہ تمام تر وجاہت سمیٹے اس کے سامنے کهڑا اس کے دل کو دهڑکا گیا تها

“ڈاکٹر ذوہان مصطفی…”
وہ ذوہان کو دیکهتے بڑبڑائی جو اپنے ساتھ کهڑی رباب اور دعا سے مسکرا کر بات کر رہا تها وہ دعا کو تو جانتی تهی لیکن رباب سے بےخبر تهی
“یہ یہاں کیا کررہے ہیں ہم کس کی شادی میں آئے ہیں….”
وہ ہوش میں آتی روحا سے پوچهنے لگی
“ایس پی وجدان سکندر کی مہندی ہے…”
روحا کے الفاظوں نے اس کے کانوں میں گویا سیسہ پگهلایا ہو
“ایس پی وجدان سکندر…”
وہ زیر لب بڑبڑائی تهی اور غصے سے واپس پلٹی لیکن روحا نے اس کا ہاتھ تهامے اس کے قدموں کو جکڑا تها اس نے قہر برساتی نظروں سے روحا کو دیکها

“تم یہاں سے نہیں جا سکتی اگر گئی تو بهول جانا تمہاری کوئی بہن بهی ہے…”
اس کے سخت الفاظوں پر اس نے ہونٹ بهینچے وہ کیسے وجدان سکندر جس نے اس کا سب برباد کر دیا وہ کیسے اس کے لیے اس کے ساتھ ایسے الفاظ استعمال کر سکتی تهی
خود پر ضبط کرتی سیدهی ہوئی تهی اور دونوں اندر کی جانب گئیں تعبیر خود کے قدم مشکل سے اندر کو بڑها رہی تهی

ان دونوں نے سامنے دیکها جہاں وجدان تیزی سے سیڑهیاں اترتا موبائل کو دیکھ رہا تها ان سب کی ڈریسنگ سیم تهی روحا اسی کو دیکھ رہی تهی کہ اس کا فون رنگ ہوا اس نے دیکها جہاں وجدان کالنگ لکها آرہا تها اس نے گہرہ سانس لیتے فون اٹهایا
“کہاں ہو آئی نہیں…؟”
روحا اس کے ماتهے پر موجود بل دیکھ سکتی تهی جو اردگرد دیکهتا فون کان سے لگائے پوچھ رہا تها
“سامنے دیکهو دروازے کی جانب….”
اس کی بات پر اس نے سامنے دروازے کی جانب دیکها تو ان دونوں کو دیکھ کر اس کے ہونٹوں پر ایک خوبصورت مسکراہٹ پهیلی تهی اور فون بند کرتے ان کی جانب آنے لگا

وجدان نے ذوہان کو دیکها جو ان دونوں سے باتوں میں مصروف تها
“ذوہان میرے ساتھ چلو…”
وہ اس کا ہاتھ پکڑتا اپنے ساتھ کهینچتے ہوئے بولا
“ارے کیا ہوا یار…؟
وہ اس اچانک افتاد پر بوکهلا کر بولا
“ویسے بڑے ہینڈسم لگ….”
ذوہان اس کو دیکهتا ابهی اتنا ہی بولا تها تعبیر کو سامنے دیکهتے اس کے الفاظوں کو بریک لگی تهی اور تعبیر کے سامنے کهڑا بےیقینی سے اسے دیکهنے لگا کبهی وجدان کو دیکهتا تو کبهی تعبیر تو کبهی اس کے ساتھ کهڑی روحا کو

“روحا میٹ مائے بردر ڈاکٹر ذوہان مصطفی…”
وجدان نے اس کا تعارف روحا سے کروایا تو وہ ہوش میں آیا اور روحا کے سلام کا جواب دیا
“اینڈ وجدان شی از مائے سسٹر تعبیر حسن…”
اس نے خاموش کهڑی تعبیر کو دیکهتے وجدان سے کہا جس نے سر کو خم دیا تها ذوہان کی نظریں تعبیر کے چہرے سے ہٹنے سے قاصر تهیں جو پرپل فراک میں ملبوس حجاب کیے ہلکے سے میک اپ میں بهی اس کے دل کی دنیا کو ہلا رہی تهی

“انجوائے کرو کچھ دیر میں، میں تمہیں اپنی فیملی سے ملواتا ہوں…”
وہ پیچهے ہوتا دل جلانے والی مسکراہٹ سے بولا تو روحا نے دانت کچائے تهے روحا نے تعبیر کو پکارا جو ساکت سی چہرہ جهکائے کهڑی تهی پهر دونوں وہاں سے چلیں گئی تهیں
“بهائی رک…”
اس سے پہلے وجدان جاتا ذوہان نے اس کا ہاتھ پکڑتے روکا تها تو اس نے سوالیہ نظروں سے اس کی جانب دیکها
“یہ سب کیا ہو رہا ہے مجهے بتاو گے روحا وہی لڑکی ہے جس کا زکر تعبیر نے مجھ سے کیا تها یہ یہاں اور تعبیر بهی….؟”
اس کے سوالوں کی بمباری پر وہ ہولے سے مسکرایا
“سب بعد میں بتاوں گا فلحال اپنی والی کو دیکھ کر آنکهیں ٹهنڈی کر….”
وجدان اس کے کان میں گهستے ہوئے بولا تو اس نے الجهی نظروں سے اس کی جانب دیکها اس سے پہلے وہ کچھ کہتا شہرام کی آواز پر دونوں اس جانب چلے گئے
…………………………………
“یہ چشمش پتا نہیں کہاں ہے اپنا دیدار بهی نہیں کروایا کہ کیسی لگ رہی ہے….”
سعد دعا کی تلاش میں اردگرد نگاہ دوڑاتے خود سے بڑبڑایا تها مزید دل میں کڑتا آخر نظروں کی تلاش ختم ہوئی تهی وہ سامنے ہی کهڑی آبریش سے بات کر رہی تهی جو بار بار اس کو مہندی لگوانے کا کہ رہی تهی وہ ٹکٹکی باندهے اسکو تک رہا تها جو کوئی اپسرا ہی لگ رہی تهی وہ بار بار چشمہ درست کرتی کسی بات سے خفا سی لگ رہی تهی جیسے آبریش کی بات سے وہ راضی نہ تهی اس نے موبائل نکالتے دعا کو میسج سینڈ کیا جس نے نہیں دیکها تها وہ پے در پے میسجز سینڈ کرنے لگا کہ اس نے اکتا کر فون دیکها لیکن سعد کے میسجز دیکهتا اسکے ماتهے کے بل مٹے تهے ہونٹوں پہ تبسم پهیلا تها اور یہ سعد نے بخوبی دیکها تها

دعا سعد کی بتائی ہوئی جگہ پر گئی اور سعد کو تلاش کرنے لگی وہاں کوئی بهی نہ تها سب لاونچ میں موجود تهے وہ ابهی اس کو تلاش ہی کر رہی تهی کہ سعد نے اس کو پیچهے سے ہگ کیا تها اس کی خشبو محسوس کرتے وہ مسکرائی تهی
“کیا ہے کیوں بلایا ہے یہاں سب لاونچ میں ہیں اور ہم یہاں….”
وہ اپنے گتد لپیٹے اس کے بازووں پر اپنے ہاتھ رکهتے بولی
“بہت خوبصورت لگ رہی ہو بہت بہت بہت بےانتہا تمہارے تعریف کو میرے پاس الفاظ نہیں مل رہے…”
وہ اس کی گال سے اپنی گال مس کرتے بولا اس کی داڑهی کی چبهن محسوس کرتے وہ کهلکهلائی تهی اور اس کی جانب مڑتے اس کے سینے پر ہاتھ رکهے

“مجهے اپنا دیدار ہی نہیں کروایا…”
وہ اس کی ناک سے ناک ٹچ کرتے بولا
“لیکن میں تو ہزار بار دیدار کر چکی ہوں اور ہر بار آیتلکرسی پڑهتے پھونک بهی ماری ہے…”
وہ ایک ہاتھ اسکی داڑهی پر پهیرتے بولی
“بڑی چهپی رستم ہو تم تو…”
وہ اس کو مزید کرتے بولا تو اس نے اس کے گلے میں باہیں ڈالتے اس کے گلے سے لگی تهی اور ہولے ہولے سے ادهر ادهر ہل رہی تهی تعبیر جو فون سننے کی غرض سے اس جانب آئی تهی یہ منظر دیکهتے اس کے چہرے پر ناگواریت پهیلی اور غصے کے ملے جلے تاثرات تهے
“ذوہان مصطفی تمہاری ساری فیملی ہی ایسی ہے تمہارے بہن کو تو ایسا نہیں سمجهتی تهی وہ بهی گهٹیا نکلی…”
خود سے بڑبڑاتی وہاں سے چلی گئی تهی
…………………………………
“عالی میری جان کل بارات ہے ہماری….”
عالیاب نے اسے گهورا تها جو کب سے یہی کہتا اسے تنگ کر رہا تها
“سکندر میں یہاں سے اٹھ کر چلی جاوں گی…”
اپنے ہاتهوں پر لگی مہندی کو دیکهتے وہ خفگی سے بولی تهی
“واہ میں بس یہی دیکهنا چاہتا تها کہ کیا باقی دلہنوں کی طرح تم بهی شرما رہی ہو یا ویسے ہی پٹر پٹر بولو گی…”
اب کے بار وہ جفا ہوتی وہاں سے اٹهی لیکن سکندر نے فوراً بازو سے پکڑتے اسے دوبارہ صوفے پر بیٹهایا تها ان کا مہندی کا بہت سا فوٹو شوٹ بهی ہو گیا تها باقی سب کے ساتھ بهی یہ ڈهیر ساری پکس بنوا چکے تهے لیکن کیمرہ مین پهر بهی جگہ جگہ پهیلے سب فیملی میمبر کی پکس بنا رہے تهے
“مجهے نہیں بیٹهنا آپ کے ساتھ…”
وہ ناراضگی سے بولی
“ہائے کیوں میں نے کیا گستاخی کر دی…”
وہ اپنے سامنے موجود میٹهائی میں سے گلاب جامن اٹهاتے بولا اس سے پہلے وہ کچھ بولتی روحا اور تعبیر سٹیج پر آئیں تهی
“بہت مبارک عالیاب…”
روحا نے مسکراتے ہوئے کہا جس نے مسکرا کر مبارک وصول کی اور سوالیہ نظروں سے وجدان کو دیکها
“عالی میری جان یہ روحا میری بیسٹ فرینڈ اور یہ ڈاکٹر تعبیر روحا کی بہن…”
اس نے تعارف کروایا خود کو دوست کہے جانے پر روحا کی مسکراہٹ سمٹی تهی تعبیر اپنی بہن کی پل پل کی بدلتی کیفیت کو دیکھ رہی تهی
“تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو ہمیشہ خوش رہو…”
تعهیر نے عالیاب کی دل سے تعریف کی تهی بےشک وہ بےحد حسین تهی
“شکریہ…”
اس نے مسکراتے ہوئے کہا
“وہ میری بہن ہے دعا اور اس کا ہسبنڈ سعد…”
اس نے سامنے دعا اور سعد کی جانب اشارہ کرتے کہا جو کسی بات پر ہنس رہے تهے تعبیر کو ان کو دیکھ کر ڈهیروں شرمندگی نے آن گهیرہ تها اس نے کیا سوچا تها اور کیا نکا اسے اب یاد آیا ذوہان نے بتایا تها اس کا نکاح ہوا ہے اس کو خود کی سوچ پر بہت شرمندگی ہوئی تهی
ابهی وہ انہی باتوں میں مصروف تهے ایک دم سے پورے گهر کی لائیٹ بند ہوئی تهی سب نے اچانک “اوووو” کا نعرہ لگایا تها

“احتشام لائیٹ کو کیا ہوا ہے…؟”
رامز نے موبائل کی روشنی جلاتے احتشام کو آواز کی تهی کہ ایک دم سے ایک جگہ لائیٹ رکی تهی جہاں ذوہان ہاتھ میں مائیک تهامے کهڑا تها وجدان مسکرایا تها ضرور انہوں نے کچھ اسپیشل کیا تها تعبیر بهی سٹیج پر کهڑی اس کو دیکھ رہی تهی جو کسی ریاست کا بادشاہ معلوم ہوتا تها

“اسلام و علیکم لیڈز اینڈ جینٹل مین آئی ایم ڈاکٹر ذوہان مصطفی آج میرے بهائی میرے دوست کی شادی ہے جو مجھ سے چار منٹ بڑا ہے….”
وہ یہ کہتا ہنس پڑا تها سب کے چہروں پر مسکراہٹ پهیلی تهی
“یار منٹ بڑا ہونے کے ساتھ وہ روعب جمانے کی بهی مکمل کوشش کرتا ہے جو کے ناکام ہوتا ہے آخر میں بهی ڈاکٹر ہوں کوئی بچہ تو نہیں خیر جو بهی ہو میں اس دنیا میں سب سے زیادہ اپنے بهائی سے پیار کرتا ہوں اس کے بعد میرے لیے سب محبتیں شروع ہوتیں ہیں…”
آخر میں نظریں تعبیر پر مرکوز کیں تهیں جو بنا پلک جهپکے اسی کو دیکھ رہی تهی
“آئی لو مائے بردر میرا بهائی ہے تو میں ہوں ورنہ میں کچھ نہیں….”
وجدان کو دیکھ کر کہتا سٹیج کی جانب گیا جدهر جدهر ذوہان جا رہا تها لائیٹ بهی ادهر ادهر ہی جارہی تهی وجدان بهی اٹها تها اور اس کو زور سے گلے سے لگایا تها
“لو یو ٹو مائے بردر….”
وجدان کی آنکهیں ناجانے کیوں نم ہوئیں تهی تعبیر کو ان کو دیکھ کر رشک سا محسوس ہوا تها اسے لگا شاید جو وہ سوچ رہی وہ غلط ہے لیکن صرف دو پل کے لیے اور اپنی سوچوں کو جهٹکا تها

ایک دم سے میوزک کی آواز شروع ہوئی تهی وہ مسکرا کر وجدان سے الگ ہوتا واپس سٹیج سے نیچے گیا اس بار لائیٹ سعد پر بهی پڑی تهی جو ہنستا ہوا میوزک پر ایک ہاتھ اٹهائے میوزک کا والیم تیز کرنے کو کہہ رہا تها

“ہم نے جنگو جنگو کر کے
تیرے ملن کے دیپ جلائے ہیں
اکهیوں میں موتی بهر بهر کے
تیرے ہجر میں ہاتھ اٹهائے ہیں”

سعد اور ذوہان کی خوبصورت آواز میں وہاں شور سا برپا ہوا تها سب داد دیتے انجوائے کرتے ان کو سن رہے تهے

“تیرے نام کے حرف کی تسبیح کو
سانسوں کے گلے کا ہار کیا
دنیا بهولی اور صرف تجهے
ہاں صرف تجهے ہی پیار کیا”

آخر میں دونوں نے عالیاب اور وجدان کی جانب اشارہ کیا وہ دونوں ہنسے تهے رباب اور دعا بهی میدان میں اتریں تهی

“تمہیں ہم سے بڑه کر دنیا
دنیا تمہیں ہم سے بڑه کر
ہم کو تم سے بڑه کر
کوئی جاں سے پیارا نہ ہوگا”

آخر میں سعد اور ذوہان نے بهی دعا اور ذوہان کے ساتھ گایا تها اچانک سے میوزک چینج ہوا تها ایک دم سے ہوٹنگ ہوئی تهی ذوہان کے علاوہ باقی وہ تینوں تالیاں بجاتے پیچهے ہوئے تهے ذوہان ذوہان کا نعرہ گونج رہا تها اور ذوہان ہنستا ہوا سب کو دیکھ رہا تها جو اس میوزک کو سنتے زور سے ہنسے تهے

“کڑیوں کا نشہ پیارے نشہ سب سے نشیلا ہے
جسے دیکهو یہاں وہ حسن کی بارش میں گیلا ہے
عشق کے نام پہ کر دے سبهی اب راس لیلا ہے
میں کروں تو سالا کریکٹر دهیلا ہے
میں کروں تو سالا کریکٹر دهیلا ہے”

اتنا گاتا وہ زور سے ہنسا تها اور میوزک روکنے کا اشارہ کیا تها وہاں سب کے قہقے گونج رہے تهے تعبیر کے ہونٹ بهی مسکرائے تهے ونس مور ونس مور کا نعرہ سنتے اس نے نہ میں سر ہلاتے ہاتھ اٹهایا تها اب کہ بار میوزک چینج ہوتے دهیما ہوا تها اور لائیٹ سعد پر گئی تهی جو دعا کا ہاتھ تهامے اپنے ساتھ کهڑا کیا تها

“میرے دل کو تو جاں سے جدا کردے
یوں بس تو مجھ کو فنا کر دے
میرا حال تو میری جان تو بس کردے عاشیقانہ
تیرے واسطے میرا عشق سوفیانہ
میرا عشق سوفیانہ میرا عشق سوفیانہ
تیرے واسطے میرا عشق سوفیانہ
میرا عشق سوفیانہ میرا عشق سوفیانہ”

آخر میں اس نے دعا کو گهمایا تها اور خود سے قریب کیا تها میوزک اور گانے کے حساب سے بجتی تالیاں الگ سے تار پیدا کر رہیں تهیں

“نیناں لاگے تو ڈهاگے بنا ڈوری یا دهاگے
بندهتے ہیں دو نیناں خواب سے
نہ اتا ہو نہ پتا ہو
کورے نینوں میں کوئی آبسے”

سب جو سعد کی جانب متوجہ تهے اس آوا پر سب کی نظریں سٹیج پر اٹهیں جہاں وجدان عالیاب کے گرد ایک بازو حمائل کرتا جب کے دوسرے میں مائیک پکڑے گا رہا تها لاونچ میں صرف دل کے تار چهیڑنے والا میوزک اور وجدان کی آواز تهی

“اسکا اسکا نہ اس کا ہے
جانے کتنا ہے کسکا ہے
کیسی بهاشا میں بهاشا میں ہے لکها
اسکے اسکے یہ حصے میں
تیرے میرے یہ قصے میں
مولا سیکهے بن سیکهے بن دے سیکها
کیسا یہ عشق ہے عجب سا رسک ہے”

اس نے خاموش ہوتے پورے استحاق سے سب کے سامنے اس کے ماتهے پر اپنے لب رکهے تهے پورا لاونچ تالیوں سے گونج اٹها تها

تعبیر نے بےاختیار ہوتے ذوہان کو دیکها اسی کو اپنی محبت سے بهری آنکهوں سے دیکھ رہا تها وہ جس انداز سے اسے دیکھ رہا تها وہ کوئی دیوانہ ہی لگ رہا تها اور تعبیر اس کی آنکهوں میں خود کا دل ہارتی محسوس کر رہی تهی وہ اس دیوانے کی آنکهوں میں دیکهتی خود کو تباہ ہوتا محسوس کر رہی تهی اس کے دل کی دنیا میں ہلچل مچ گئی تهی اس نے بہت مشکل سے نگاہیں پهیریں تهی اسے شبہ تها اگر وہ دو پل مزید اس کی آنکهوں یا اس کے دیوانہ وار انداز کو دیکهتی تو ضرور پاگل ہو جاتی

“ان سب میں مجهے ہمارا وقت یاد آتا ہے…”
رامز نے اپنے ساتھ کهڑے احتشام مصطفی اور شہرام سے کہا
“یہ وقت ان کو اپنے بچے دیکھ کر یاد آئے گا…”
مصطفی نے مسکرا کر ان کو دیکهتے کہا
“اللہ ان کی خوشیاں قائم رکهے…”
شہرام نے کہا تو ان تینوں نے امین کہا تها

“اوئے پارس آج تیرے اندر کا کیڑا نہیں جاگا خیر تو ہے…”
وجدان نے مائیک میں ہی پارس کو چهیڑا سب کی نظریں پارس پر گئیں
“میری پرفامنس کوئی ایسی ویسی نہیں ہو گی یہ پارس احتشام کی پرفامنس ہو گی کسی ایویں سے بندے کی نہیں….”
اس نے ہاتھ اٹها کر اس کو نفی میں ہلاتے کہا تو سعد نے اس کی گردن دبوچی تهی لاونچ میں سب کے قہقے گونجے تهے
“ہماری ایوں ہی تهی کیا بیغیرت…”
وہ اس کو دبوچے ہی بولا اس نے زوروشور سے اثبات میں سر ہلایا وہ گردن کے قابو ہونے کے باوجود باز نہ آیا تها سعد نے ہنستے ہوئے اسے چهوڑا تها
…………………………………
“اسلام و علیکم ڈاکٹر تعبیر…”
کهانے کا دورانیہ شروع تها سب کهانے میں مصروف تهے تعبیر ایک سائیڈ پر بیٹهی کسی سوچ میں مبتلا تهی جب ذوہان اس کے سامنے کرسی پر بیٹهتے ہوئے بولا تو وہ چونکی اور پهر اس سے نگاہیں پهیر گئی
“مجهے امید نہیں تهی آپ یہاں ہونگی…”
وہ خوشی سے بولا
“مجهے بهی امید نہیں تهی یہ ایس پی وجدان سکندر کی شادی ہے آپ کے گهر شادی ہے ورنہ میں کبهی نہ آتی….”
اس کی بات پر وہ ہولے سے مسکرایا
“یہ آپ کا گهر بنے گا ان شاءاللہ…”
“کبهی نہیں…
وہ فٹ سے بولی تو ذوہان نے گہرہ سانس لیا
“تعبیر…”
اس نے بہت پیار سے پکارا وہ نہ چاہتے ہوئے بهی اس کی جانب دیکهنے لگی
“آئی لو یو ٹو مچ…”
وہ آگے کو ہوتا بولا وہ اس کی نیلی آنکهوں میں دیکهنے لگی جہاں اسے صرف سچائی نظر آئی تهی

“بهائی…”
رباب کی آواز نے دونوں کا تسلسل توڑا تها تعبیر اچها خاصا شرمندہ ہو گئی تهی
“ہممم کیا ہوا…؟”
وہ تعبیر کو دیکهتے رباب سے بولا
“بهائی شہرام انکل بلا رہے ہیں آپ کو سب آپ کا کهانے کے لیے ویٹ کر رہے ہیں…”
اس نے ذوہان سے کہا
“جاو آرہا ہوں…”
وہ کهڑا ہوتے بولا تو وہ اثبات میں سر ہلاتی وہاں سے چلی گئی
“آپ میری ہیں صرف ذوہان مصطفی کی، ذوہان مصطفی دل و جان سے آپ کو چاہتا ہے…”
وہ اس کو الجها سا چهوڑ کر جا چکا تها پیچهے اس نے اپنا سر تهاما تها اور سوچا تها وہ کل کسی صورت اپنی بہن کے ساتھ نہیں آئے گی
انہی باتوں مستی میں مہندی کا فنکشن بهی اپنے اختتام کو پہنچا تها
…………………………………