Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 37

“کچھ بهی کر لیں میں آپ جیسے انسان کے ساتھ نہیں رہوں گی دهوکے باز ہیں طلاق لے کر….”
اور اگلے ہی لمحے وجدان واپس اس کی جانب مڑا اور اس کا اس کے منہ پر پڑنے والا بهاری برکم ہاتھ اس کے لفظوں کو بریک لگا گیا تها وہ اس کے تهپڑ کی تاب نہ لاتے ہوئے بیڈ پر اوندهے منہ گری تهی وجدان نے سختی سے اپنے بالوں کو مٹهیوں میں جکڑے بیڈ پر موجود اس کے سسکتے وجود کو دیکها وجدان کا غصہ اس کی بات سنتے کسی صورت کم نہیں ہو رہا تها ایک نظر اس کے سسکتے وجود پر ڈالتے وہ صوفے سے شرٹ اٹهاتا کمرے سے نکلا تها اور سیڑهیوں کی جانب گیا تها اور شرٹ پہنتا تیزی سے زینے اترنے لگا تها

“کیا ہوا وجدان بیٹا سب خریت….؟”
پریہان جو کچن سے اب کمرے میں جا رہی تهی کہ وجدان کو تیزی سے چہرے پر غصے کے اثار سجائے سیڑهیاں اترتے دیکھ پریشانی سے پوچها وہ جو شرٹ کے بٹن بند کرتا اتر رہا تها پریہان کی آواز پر اس کے تیزی سے اترتے قدموں کو وہی بریک لگی اور اپنی ماں کو دیکها جو پریشانی سے اسے ہی تک رہی تهی

“کک-کچھ نہیں موم…”
اس نے ان کو دیکهتے خود کو نارمل کرنے کی کوشش کرتے کہا
“سب ٹهیک ہے نہ غصے میں لگ رہے ہو…؟”
وہ اس کے پاس جاتے اس کے چہرے پر ہاتھ پهیرتے پریشانی سے بولی تو اس نے اس کا ہاتھ تهامے اثبات میں سر ہلایا تها
“میں بس کچن میں پانی لینے جا رہا تها…”
اس نے مشکل سے بات بنائی تهی لیکن وہ جانتا تها پریہان کو اس سے تسلی نہیں ہوئی
“عالیاب ٹهیک ہے نہ…؟”
پریہان کی بات پر اس نے ایک جهٹکے سے پریہان کو دیکها اور ہونٹ بهینچے اثبات میں سر ہلایا

“مجهے امید ہے تم اسے خوش رکهو گے بیٹا اور تم اپنے ڈیڈ کے سب خدشات بهی دور کر دو گے کیونکہ وہ عالیاب سے بہت پیار کرتے ہیں اس پر زرا خروش برداشت نہیں کریں گے اور یقیناً تم اپنے ڈیڈ سے زیادہ عالیاب سے پیار کرو گے…”
وہ محبت سے اس کے چہرے پر ہاتھ پهیرتے بولی اس نے پهر اثبات میں سر ہلایا کیونکہ اس میں بولنے کی سکت باقی نہ رہی تهی
“اب جاو خیال رکهنا خود کا بهی اور میری بچی کا بهی…”
پریہان نے اس کے ماتهے پر پیار کرتے کہا تو اس نے شرمندگی سے چہرہ جهکایا تها اور پهر مسکرا کر دیکهتی کمرے کی جانب چلی گئی پیچهے وجدان نے دیوار پر ہاتھ رکهتے گویا خود کو سہارا دیا تها
“میں یہ کیا کر بیٹها ہوں عالیاب پر ہاتھ…..”
وہ خود سے بڑبڑایا اور اوپر کی جانب بهاگا تها کمرے کا دروازہ ایک جهٹکے سے کهولتا اندر داخل ہوا تو وہ ویسے ہی اوندهے منہ لیٹی تهی

“میرے دل…”
وہ اس کو پکارتا آگے بڑها لیکن اس میں کوئی بهی حرکت نہ ہوتے دیکھ اس نے اس کو سیدها کیا
“جانم جاناں اٹهو…”
وہ چہرے پر موجود بالوں کو پیچهے کرتا اس کا چہرہ تهپتهپائے بولا تها اس کی گال پر موجود اس کی انگلیوں کے نشان اس کو مزید گہری کهائی میں گرا گئے تهے اس کا چہرہ شرمندگی سے دوچار ہو گیا تها
“آئی ایم سوری جاناں پلیز اٹهو تم نے باتیں ہی ایسی کہہ دیں تهی میں کیسے تم سے جدائی برداشت کر سکتا ہوں اٹهو…”
وہ شدت سے اس کے ماتهے پر لب رکهتا بولا اور اس کو بیڈ پر سیدها لیٹاتے اس نے فون نکالتے ذوہان کو کال ملائی تهی جو کہ پانچویں بیل پر اٹها لی گئی تهی

“ہیلو…”
ذوہان کی نیند سے ڈوبی آواز اس کے کانوں میں گونجی تهی
“ذذ-ذوہان کک-کمرے میں آو جلدی میرے….”
اس نے عالیاب کو دیکهتے ذوہان سے کہا جو اس کی پریشان زدہ آواز سنتے مکمل بیدار ہوا تها نیند بهک سے اڑی تهی
“ابهی آرہا ہوں…”
وہ کمبل برق رفتا سے پیچهے کرتا بیڈ سے اٹها تها اس نے ٹائیم دیکها جو رات کے گیارہ بج رہے تهے وہ دو راتوں سے سویا نہ تها جان بوجھ کر ڈے نائیٹ کی ڈیوٹی رکهوائی تهی اور اب بهی سلیپنگ پیل کهاتے سویا تها جو کہ وجدان کی آواز سنتے وہ بهی نیند ہوا ہوئی تهی

ذوہان دو منٹ میں وجدان کے کمرے کا دروازہ کهولتا اندر داخل ہوا تو دروازہ کهلنے کی آواز سے وجدان نے دروازے کی جانب دیکها
“کیا ہوا وجدان ایسے….”
ذوہان کے الفاظ عالیاب پر نظر پڑتے ہی منہ میں دب گئے تهے
“عالیاب…”
وہ فوراً سے اس کی جانب بڑها تها اور بیڈ پر بیٹها تها
“کیا ہوا اسے…؟”
ذوہان نے پیچهے پلٹتے وجدان کو دیکهتے پوچها جو خاموشی سے کهڑا تها اس کے پوچهنے پر بهی وہ خاوش رہا

“عالیاب میری بہن…”
اس نے اس کے منہ پر موجود کچھ لٹوں کو پیچهے کرتے پکارا لیکن اگلے ہی لمحوں اس کی گال پر موجود نشان دیکهتے اس پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ گئے تهے
“وجدان…”
اس نے ایک جهٹکے سے مڑتے بےیقینی سے اسے دیکها تها تو اس نے ذوہان سے نظریں چرائیں تهی
“یی-یہ کیا ہے وجدان کچھ پوچھ رہا ہوں تم سے یہ کیا کیا نے….؟”
اب کہ اس کو خاموش پا کر وہ غصے سے اس سے استفارہ کرنے لگا
“اس نے الفاظوں کا استعمال غلط کیا تها یہ مجھ سے دور ہونا…”
“تو تم نے اسے تهپڑ مار دیا دماغ خراب ہو گیا تها تمہارا اس دن کیا کہہ رہے تهے تم مجهے اور اب خود اپنی بیوی عالیاب کو تهپڑ مار دیا کہاں گئی تمہاری محبت ہاں…”
وہ اس کی بات بیچ میں ٹوکتے غصے سے دهاڑا تها تو اس نے بیڈ پر بےہوش عالیاب کو دیکها تها

“یہ ہوش میں کیوں نہیں آرہی ذوہان پلیز دیکهو اسے…”
وہ بےبس سا بولا تها
“جو کرتوت کی ہے دل تو کرتا دو لگاوں تمہارے…”
اس سے کہتا وہ عالیاب کی جانب مڑی اور اس کی نبض چیک کی تهی پهر اٹهتا کمرے سے نکلا تها اور پانچ منٹ بعد واپس کمرے میں آیا تو اس بار اس کے ہاتھ خالی نہ تهے اس نے بیڈ پر بیٹهتے اس کو انجیکشن لگایا تها

“یہ ٹهیک ہو جائے گی نہ…؟”
اس نے بہت سے خدشات کی بنا پر اس سے پوچها تها
“ہوش میں آجائے گی لیکن جب ماموں کو پتا چلا وہ تمہارے ہوش ضرور ٹهکانے لگا دیں گے…”
اس نے ایک ٹیوب اس کی گال پر لگاتے کہا
“ڈیڈ میرا کچھ نہیں کر سکتے…”
وہ چباتے ہوئے بولا تو ذوہان نے اس کی جانب دیکها
“وہ بہت کچھ کر سکتے ہیں…”
اس کی بات پر مطلب سمجهتے اب اس کے چہرے پر خوف تها وہ صرف ایک چیز سے ڈرتا تها جو اس کا ڈیڈ بخوبی سر انجام دے سکتا تها

“ڈیڈ اسے مجھ سے دور تو نہیں نہ کریں گے…..؟”
اس نے اپنا خوف ظاہر کیا
“تم قابل تو اس کے ہو کہ تم سے دور کر دیا جائے عالیاب کو….”
اس کا لہجہ حد درجہ سنجیدہ تها وجدان نے پہلو بدلا تها دنیا کی یہ واحد چیز تهی جس سے وہ بہت خوفزدہ ہوتا تها کہ کہیں کوئی عالیاب کو اس سے دور نہ کر دے
“کل جب ماموں جان اس کا یہ نشان دیکهیں گے یقیناً تم سے اس کا حساب لیں گے…”
اس نے بیڈ سے اٹهتے کہا
“میں سب دیکھ لوں گا کوئی میرا وجدان سکندر کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور رہی بات حساب کی تو دیکهتا ہوں کون کیا کرتا ہے…”
وہ جنونی انداز میں بولا
“تم جانتے ہو کل کیا ہونے والا ہے اور ہاں مجھ سے بهی اپنی اس گهٹیا حرکت کے بعد بات کرنے کی کوشش مت کرنا….”
وہ اس سے بولتا اس کے پاس سے گزر کر کمرے سے نکل گیا جب کہ وجدان نے ہونٹ بهینچے تهے اور پهر اپنے بالوں کو مٹهیوں میں جکڑا تها اس کے سر میں شدید درد کی لہر دوڑی تهی اور پهر عالیاب کے پاس بیٹهتے اس کے نشان پر انگلی پهیرنے لگا تها
…………………………………
رات کا دوسرا پہر بهی بیتنے کو تها لیکن عالیاب ابهی تک ہوش میں نہ آئی تهی وجدان کبهی صوفے تو کبهی بیڈ پر بیٹهتا مسلسل اس کے ہوش میں آنے کے لیے دعا گو تها وہ بےہوش اس کی پریشانی میں مزید اضافہ کر رہی تهی اسے صبح ہونے والے ہنگامے کی رتی برابر پرواہ نہ تهی وہ بس چاہتا تها عالیاب جلد از جلد ہوش میں آجائے
وجدان نے دیکها اس کی گال کا نشان واضع ہو رہا تها اس نے اردگرد متلاشی نظروں سے ٹیوب کو دیکها

“شاید ذوہان کمرے میں لے گیا ہے واپس…”
وہ خود سے بڑبڑاتا اٹها تها اور ذوہان کے کمرے میں گیا جو بیڈ پر نیم دراز سو رہا تها وجدان موبائل کی لائیٹ جلاتا ٹیوب تلاش کرنے لگا کمرے میں ہوتی کهٹ پٹ سے ذوہان کی آنکھ کهلی تو اس نے ایک آنکھ کهولے وجدان کو دیکها جو اس کی الماری میں سر دیے ہوئے تها

“کیا ڈهونڈه رہے ہو اب…؟”
ذوہان کی آواز سنتے اس نے الماری سے سر نکالتے اس کو دیکها
“وہ ٹیوب کدهر ہے…؟”
اس نے بیڈ کی جانب آتے پوچها
“یہ دراز میں موجود ہے….”
وہ سیدها ہو کر لیٹتا بولا تو اس نے دراز کهولتے ٹیوب نکالی تهی
“عالیاب کیسی ہے…؟”
“ہوش نہیں آیا اسے….”
وہ ٹیوب نکال کر اس کی چانچ پرتال کرتے بولا تو ذوہان نے موبائل اٹهاتے ٹائیم دیکها جہاں تین بج رہے تهے
“آجائے گا کچھ دیر تک ہوش….”
وجدان جو دروازے کی جانب جا رہا تها ذوہان کی پیچهے سے آواز سنتے اثبات میں سر ہلایا اور کمرے سے نکل گیا تها

وجدان نے کمرے کا دروازہ کهولا تو دروازہ کهولتے ہی ٹهٹهکا تها جب کہ عالیاب جو اب بیڈ سے نیچے پیر لٹکائے سلیپر پہننے والی تهی دروازہ کهلنے کی آواز پر اس کی جانب متوجہ ہوےی لیکن وجدان کو دیکهتے اپنی نگاہیں پهیری تهی اور سلیپر پہننے لگی وجدان ہونٹ بهینچے اس کے پاس آیا تها

“جاناں…”
وجدان دهیرے سے پکارتا اس کے پاس بیٹهنے والا کہ عالیاب وہاں سے اٹھ گئی تهی
“جانم خفا ہو…”
وہ اس کو بازو سے پکڑتے بولا تو اس نے اپنا بازو نہایت بےدردی سے چهڑوایا تها
“دد-دور رہیں مم-مجھ سے…”
وہ لڑکهڑاتی آواز سے بولی تهی
“نہیں رہ سکتا…”
وہ اس کے قریب ہوتے بولا اور سر اس کے سر سے ٹکانا چاہا لیکن وہ فوراً پیچهے ہوا تها
“اچها لاو یہ لگا دوں…”
وہ ٹیوب کهولتا بولا
“ضرورت نہیں مجهے میرے حال پر چهوڑ دیں یہی بہتر ہے آپ جیسے لوگ منافق ہوتے ہیں جو پہلے زخم دیں بعد میں مرہم لگانے کا ڈرامہ رچاتے ہیں…”
اس کے الفاظ وجدان کا دل چیر رہے تهے
“اچها خود لگا لو…”
اس نے ٹیوب اس کی جانب بڑهائی تهی تو عالیاب نے ٹیوب اس سے کهینچتے دیوار میں دے ماری تهی اور غصے سے اسے دیکهتی واشروم کی جانب گئی تهی
“مت کرو عالیاب پلیز آئی لو یو…”
وہ اس کو پیچهے سے ہگ کرتا چہرہ اس کے بالوں میں چهپائے کرب سے بولا تها وہ اس کی گرفت میں مچلنے لگی تهی
“چهوڑیں سکندر…”
وہ تقریباً چلائی تهی
“مر جاوں گا مر رہا ہوں….”
وہ گرفت مزید سخت کرتے بولا تها

“یوں کہیں کہ میں آپکا ڈرامہ ماموں جان کو نہ بتا دوں اسی لیے آپ یہ کر رہے ہیں فکر مت کریں میں ان کو خود کچھ نہیں بتاوں گی….”
اس کے الفاظ سنتے وجدان اس کو چهوڑتا پیچهے ہوا اور بےبسی سے عالیاب کو دیکهنے لگا وجدان نے محسوس کیا کہ شاید ہی وہ دنیا میں کبهی اتنا بےبس ہوا ہو
“چهوٹی سی غلطی پر میری بےپناہ محبت بهول گئی ہو…”
وہ افسوس سے بولا

“چهوٹی سی غلطی سیریسلی وجدان سکندر محبت مجھ سے اور محبت کے پتنگے کسی اور لڑکی سے اگر میں ایسا کروں تو…”
اس کی بات سے وہ تڑپ اٹها تها
“یہ چهوٹی غلطی ہے کہ آپ کو مجھ سے محبت ہے آپ کے بقول اور آپ بنا کسی لحاظ کے مجھ پر ہاتھ اٹها گئے یہ چهوٹی غلطی ہے…”
آنسووں کا پهندا اس کے گلے میں اٹکا تها وجدان نے چہرہ دوسری جانب کیے خود پر ٹوٹتے قہر کو روکا تها عالیاب اسے دیکهتی واشروم میں چلی گئی تهی
…………………………………
صبح کا آغاز ہو گیا تها عالیاب اور وجدان کے بیچ دوبارہ کوئی بات نہ ہوئی تهی عالیاب نے تو دیکهنا تک گوارا نہ کیا تها جب کہ وجدان بےبس سا کمرے میں تها ناشتے کا وقت ہوتے ہی وجدان کے واشروم میں گهستے ہی وہ چہرہ دوپٹے سے چهپائے کمرے سے نکلی تهی وہ وجدان کے ساتھ تو کسی صورت نیچے نہیں آنا چاہتی تهی وہ نیچے آئی تو تقریباً سب ہی ناشتے کی ٹیبل پر موجود تهے عالیاب کو دیکهتے ذوہان اٹها اور اس کی جانب آیا تها

“درد تو نہیں ہو رہا…؟”
اس نے پریشانی سے آہستہ آواز میں ہوچها اس کے پوچهنے پر عالیاب نے شکوہ کناں نظروں سے اسے دیکھا
“آپ کے بهائی بہت برے ہیں…”
وہ مشکل سے اپنے ابهرتے آنسووں کو روکتے بولی تو اس نے اس کے سر پر پیار کیا تها
“آو ناشتہ کر لو اور اگر یہ نشان دیکها تو بہت تباہی ہو گی…”
“میں پوری کوشش کروں گی بهائی کہ یہ بات ہمارے بیچ ہی رہے لیکن یہ نشان چهپانا مشکل ہے تهوڑا…”
وہ آنسووں کو بےدردی سے صاف کرتے بولی تهی

“بچی کو وہی روک لیا ہے آگے آجاو…”
آبریش ناشتہ ٹیبل پر لگاتے بولی تو ذوہان نے اس کا چہرہ تهپتهپایا تها اور ان کی جانب آئے تهے عالیاب زبردستی کی مسکراہٹ چہرے پر سجائے اور نشان کو دوپٹے سے چهپائے شہرام کی جانب آئی جو اس کو محبت پاش نظروں سے دیکهتا مسکرایا تها
“کیسی ہو میری جان….؟”
شہرام نے اس کے ماتهے پر پیار کیا اور آگے کو جهلکا دوپٹہ پیچهے کیا لیکن اگلے ہی لمحے اس کی گال پر موجود نشان اس کی مسکراہٹ غائب کر گیا تها عالیاب فورا پیچهے ہوتی نظریں چراتی دوپٹہ گال پر سہی کیا تها

“یہ کیا دیکهاو….”
شہرام کرسی سے اٹهتا بولا
“مم-ماموں جان کچھ بهی نن-نہیں….”
وہ گڑبڑائی تو شہرام نے بنا اس کی سنے دوپٹہ اس کی گال سے ہٹایا تها ذوہان نے گہرہ سانس لیا سب ان کی جانب متوجہ ہوئے تهے جب کہ عالیاب نے سختی سے آنکهیں میچیں تهی

“یہ کیسے وجدان….”
عالیاب سے بولتے آخر میں وجدان کا نام پکارتے دهاڑا تها عالیاب کا دل کانپ اٹها تها شہرام کی دهاڑ سنتے
“وجدان وجدان….”
شہرام غصے سے دوبارہ دهاڑا تها جب کہ وہاں مکمل سناٹا تها وجدان سیڑهیوں پر کهڑا اپنے باپ کو بهپرے ہوئے شیر کی مانند دیکھ رہا تها پهر خود کو مکمل طور پر تیار کرتا ان کی جانب آیا
“تم نے اس پر ہاتھ اٹهایا ہے….؟”
وہ کمال ضبط سے بولا تها
“ڈیڈ پہلے میری بات…”
“ہاں یا نہ….؟”
اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے وہ غصے سے دوبارہ بولا تو اس نے عالیاب کو دیکهتے اثبات میں سر ہلایا تها
“کیوں کیا وجہ آگئی ایسی کہ تم ہاتھ اٹهانے پر مجبور ہو گئے….؟”
“اس کے الفاظ اچهے نہیں تهے ڈیڈ….”
اس کی نظریں خاموشی سے آنسووں بہاتی عالیاب کی جانب تهیں
“کیوں اس کے الفاظوں میں….”
شہرام بولتا بولتا خاموش ہو گیا تها یقیناً اس نے خود کو سخت الفاظ بولنے سے روکا تها

“سعد ٹکٹس بک کرواو عالیاب آج رات ہی فلائیٹ سے خاور کے پاس جا رہی ہے…”
شہرام نے وجدان کو دیکهتے سعد سے کہا شہرام کی بات سنتے وہاں مکمل سناٹا سا چها گیا تها وجدان نے نفی میں سر ہلایا تها
“نن-نہیں ڈیڈ آپ ایسا نہیں کر سکتے عالیاب کو مجھ سے کوئی دور نہیں کر سکتا میں سب کو جان سے مار دوں گا….”
وہ چلایا تها تو شہرام نے قہر برساتی نظروں سے اسے دیکها تها
“تم نے جو کیا اس کے بعد عالیاب تمہارے ساتھ ہر گز نہیں رہے گی…”
“وہ صرف اور صرف وجدان سکندر کی ہے میری ہے وہ جو دور کرئے گا وہ انجام سوچ لے اپنا…”
وہ کهلم کهلا وارن کر رہا تها

“کیا کرو گے بتاو….؟”
شہرام اس کی بات سنتے طیش میں آتا اس کی جانب بڑها کہ رامز فورا بیچ میں آتا اس کے سینے پر ہاتھ رکهتے پیچهے کیا
“نہیں شہرام….”
اس نے شہرام کو غلط اقدام سے روکا تها جب کہ وجدان ڈٹے انداز میں کهڑا شہرام کی آنکهوں میں دیکھ رہا تها
“وجدان مجهے غصہ مت دلاو ورنہ تمہیں یہاں گاڑنے میں ایک پل کی دیری بهی نہیں لگاوں گا…”
وہ رامز کے پیچهے کرنے پر قدم پیچهے لیتا بولا تها

“زمین میں گاڑیں یا سولی پر چڑهائیں میری عالیاب کو مجھ سے کوئی دور نہیں کر سکتا….”
وہ چیلنج کرتے بولا تو شہرام استہزایہ ہنسا تها
“مجهے چیلنج کر رہے ہو ایس پی شہرام ملک کو….”
اس کی مسکراہٹ سب کو خوف میں مبتلا کر گئی تهی
“تمہاری آنکهوں کے سامنے میں عالیاب کو تم سے دور کر دوں اور تم کچھ بهی نہیں کر سکو گے…..”
اور اس کی بات پر وہاں موجود دیواریں بهی گواہی دیں کہ وہ واقع ایسا کر سکتا ہے

“ڈیڈ غلطی اس کی تهی یہ مجھ سے علیحدگی چاہتی تهی اگر موم آپ سے ایسی بات کرتی تو آپ کیا کرتے…”
“کم از کم میں ہاتھ تو بالکل بهی نہ اٹهاتا اور اس کا دماغ خراب تها وہ جو کل تک خوش باش تهی اچانک دورہ پڑا اور تم سے علیحدگی کا مطالبہ کرنے لگی…”
وجدان کو گهور کر کہتا عالیاب کی جانب مڑا تها
“بتاو کیا ہوا بتاو میری جان…”
شہرام نے محبت سے اس سے پوچها تو وہ مختصر سا اسے سب بتانے لگی جب کہ وجدان ہونٹ بهینچے اسے دیکھ رہا تها اس کی بات سنتے شہرام نے افسوس سے وجدان کو دیکها تها

“افسوس وجدان میری تربیت پر لانت بهیج دی تم نے خاک میں ملا دی میری تربیت….”
وہ اس کی جانب مڑتے افسوس سے بولا
“سعد ٹکٹس بک کرواو میری بهی کروانا میں خود جاوں گا ساتھ….”
اس نے خود میں ابهرتے غصے کو کمال مہارت سے قابو میں کرتے سعد سے کہا تو اس نے بےبسی سے پہلے وجدان پهر شہرام کو دیکها

“ڈیڈ میں خود کی جان لے لوں گا اگر یہ مجھ سے دور ہوئی تو….”
وہ گن نکالے بولا اور خود پر تانی تهی کہ عالیاب نے منہ پر ہاتھ رکهتے اپنی چینخ کا گلا گهونٹا تها
“وجدان نہیں…”
پریہان تڑپ کر بولی اور اس کی جانب بڑهی کہ اس نے ہاتھ اٹهائے وہی روکا تها
“ڈیڈ میں گولی چلا دوں گا اور یقیناً میں ایسا کر دوں گا….”
وہ سب کو دور رہنے کا کہتا شہرام سے بولا جو لہو زد آنکهوں سے اسے ہی دیکھ رہا تها
“تمہاری یہ دهمکی مجھ پر زرا اثر نہیں کرئے گی…”
وہ چباتے ہوئے بولا

“ڈیڈ اتنے ظالم مت بنیں آپ پر بهی یہ وقت آیا تها یاد کریں جب آپ موم کو مانگتے تهے دادا ابو سے سوچیں یہ میری بیوی ہے میری تڑپ آپ سے کتنی زیادہ ہو گی….”
اس کی بات پر شہرام پچس سال پیچهے چلا گیا تها اور اسے اپنا وقت یاد آیا وہ تهپڑ اسے آج بهی یاد تها اس نے اپنے اس وقت کو یاد کیا پهر وجدان کو دیکها جس نے گن خود سے ابهی تک ہٹائی نہیں تهی

“میرے اور تمہارے وقت میں زمین آسمان کا فرق ہے اگر میں نے تمہاری موم کو مانگا تها تو اج تک کبهی ہاتھ نہیں اٹهایا اور تمہیں تو بن مانگے تمہاری جهولی میں ڈالا افسوس تم نے قدر نہیں کی یہ اب تمہارے ساتھ ہرگز نہیں رہے گی یہی تمہاری سزہ ہے…”
وہ سخت لہجے میں بولا

“یہاں سے اس کا قدم بهی نکلا تو یاد رکهیے گا جنازہ جائے گا میرا یہاں سے آپ سے ہر تعلق ختم کر دوں گا اور ایسے کرونگا کہ وصیت کروں گا کہ آپ میرے جنازے کو کندها مت دئیے گا….”
اس کے الفاظ اس قدر سخت تهے کہ جیسے کسی نے شہرام کے دل کو مٹهیوں میں جکڑ لیا ہو
“یہ جائے گی تو بس بات ختم….”
وہ اس کو سزہ دینا چاہتا تها کہ دوبارہ وہ ایسا چاہ کر بهی کوئی اقدام نہ اٹهائے
“نہیں…”
اس نے نفی میں سر ہلایا
“جائے گی تو مطلب….”
اور شہرام کے اگلے الفاظ وہاں گونجتی گولی کی آواز سے ٹوٹے تهے وہاں گہرہ سکوت چها گیا تها