No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
رات سوئی ساڑهے گیارہ کا ہندسہ عبور کر گئی تهی اور اس رات میں وہ وجود خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہا تها کہ فون کی ہوتی بیل نے اس کی خوابوں کی دنیا میں خلل پیدا کیا تها اس وجود نے کام پر تکیہ رکها تها لیکن مجال ہے جو فون بند ہونے کا نام لے لے اس نے فون اٹهایا اور کوفت سے کان سے لگایا
“کیا مسئلہ ہے…؟”
غصے سے بهرپور آواز گونجی تهی
“آپ عالیاب ہیں…؟”
انجان آواز میں اپنا نام سن کر اس کی آدهی نیند اڑهی تهی اور فون کان سے ہٹائے نمبر دیکها جو ان ناون تها اس نے دوبارہ کان کو لگایا جہاں سہ شخص “ہیلو” کررہا تها
“آپ کون…؟.”
اس نے کرختگی سے کہا
“اگر آپ عالیاب ہیں تو میری بات دهیان سے سنیں ایس پی وجدان سکندر کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے مجهے خبر ملی تو میں ان کو گهر لے آیا ہوں حالت بہت بری ہو خاموشی سے نیچے آئیں ابهی….”
اسکی بات پر عالیاب کے سر پر ساتوں آسمان گرے رهے نیند بهک سے اڑی تهی
“مم-میں آرہی ہوں…”
اس نے کہتے فون بیڈ پر پهینکا اور دوپٹہ لیتی نیچے بهاگی تهی وجدان کے ایکسیڈنٹ کا سنتے اس کا دماف بهگ سے اڑا تها
وہ نیچے آئی تو پورا گهر اندهیرے میں ڈوبا ہوا تها
“سکندر…”
وہ ہولے سے بڑبڑائی تهی اس نے لاونچ میں قدم رکها جہاں مکمل اندهیرا چهایا ہوا تها خوف سے تهوگ نگلتی واپسی کے لیے قدم بڑهائے کہ لائیٹس جلی تهی خوف سے اسکے قدم وہی رکے دل کہ رفتا حددرجہ تیز ہوئی تهی منہ میں کچھ پڑهتی آنکهیں بند کیے واپس دهیرے سے پلٹی تهی
“ہیپی برتھڈے ٹو یو ہیپی برتھڈے ڈئیر عالیاب ہیپی برتهدے ٹو یو….”
برتهڈے کی ہوتی پکار پر اس نے جهٹ سے آنکهیں کهولیں جہاں اس کی پوری فیملی تالیاں بجاتی اسکو وش کررہی تهی پورے لاونچ میں نیچے بالونز بکهرے ہوئے تهے اور لاونچ کو سفید ربن سے بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تها سامنے ٹیبل پر ڈارک فوریسٹ کیک موجود تها اس نے بےساختہ اپنے منہ پر ہاتھ رکها اور نم آنکهوں سے ان کو دیکها جو مسکرا کر اسی کو دیکھ رہے تهے
اس کو بےساختہ سکندر کا خیال آیا تو سکندر کو دیکها جو سائیڈ پر سینے پر ہاتھ باندها کهڑا مسکرا کر اسی کو دیکھ رہا تها وہ اس کے پاس گئی اور کچھ فاصلے پر کهڑے ہوتے اسکے سینے پر ہاتھ پهیرا اور پهر ناسمجهی سے سب کو دیکها
“یہ سب پارس کا پلین تها وجدان کے ایکسیڈنٹ کا….”
ذوہان نے پارس کی جانب اشارہ کرتے کہا تو اس نے خونخوار نظروں سے پارس کو دیکها تها
“میری جان حلق کو آگئی تهی کوئی اور طریقہ نہیں تها اگر میرا سانس بند ہو جاتا تو…”
وہ نم آنکهوں سے بولی سب کے چہروں پر دوبارہ مسکراہٹ بکهر گئی تهی وجدان نے بهی مسکرا کر اسکے سر پر زور سے ہاتھ پهیرتے بال بکهیرے تهے
“اچها چهوڑو نہ آو کیک کاٹو یمی کا لگ رہا ہے…”
پارس نے کیک کو للچائی نظروں سے سے دیکهتے کہا تو سب پهر سے ہنسے وجدان نے اس کا ہاتھ پکڑے کیک کے پاس لایا اور سب کی تالیاں اور وششز کے بیچ اس نے کیک کاٹتے سب کو باری باری کهلایا تها پارس جو عالیاب کو کیک لگانے لگا تها وجدان کی گهوری پر خود کی گال پر ہی لگا لیا اسکی اس حرکت سے سب کا قہقہ گونجا تها
سب نے عالیاب کو گفٹس دیے تهے جسے وہ بہت خوشی سے وصول کررہی تهی
“ہیپی برتهڈے جانو…”
دعا نے مسکراتے ہوئے اسکو گفٹ پکڑا اور تهوڑا سا کیک اٹهاتے اسکی گال پر لگایا وہ کهلکهلا کر اسے گلے لگی تهی دعا بهی اسکی کهلکهلاہٹ پر ہنسی تهی
“سکندر آپ نے میرا گفٹ نہیں دیا…”
سب کے گفٹ وصول کرنے کے بعد اس کو سکندر کا خیال آیا جس نے اسکو تحفہ نہ دیا تها
“میں کسی تحفے سے کم ہوں کیا…؟”
اس نے ہاتھ اٹهائے کہا تو وہ چهینپی تهی
“گفٹ کو کہا ہے چهچهورے پن کو نہیں…”
ذوہان نے اسکے کان کے قریب گهستے ہوئے کہا تو اس نے گهورا
“سکندر دیں گفٹ….”
وہ اپنی بات سے پهری نہیں تهی
“ڈئیر عالی یہ سرپرائز پلین شاید میرا ہی تها ابهی بهی گفٹ کی توقع ہے…”
اس نے منہ بناتے کہا تو اس نے زوروشور سے اثبات میں سر ہلایا تو سب ہنسے تهے
“مل جائے گا گفٹ بهولا نہیں بهوکی…”
اس نے شرارت سے کہا تو وہ دوبارہ ہنسی
“چلو سب کمروں میں جاو وقت زیادہ ہوا ہے جو بهی کرنا ہو کل کر لینا ابهی چلو…”
زرش بولی تو ان سب نے اثبات میں سر ہلایا
“عالیاب انکل کا فون….”
پارس نے اسکی جانب فون بڑهائے کہا جہاں خاور کی وڈیو کال چل رہی تهی اور وہ ویسے ہی فون لیے لاونچ سے نکلی تهی دعا نے کیک کا چهوٹا سا پیس اٹهائے کهایا اور باقی کیک میرب کو پکڑا دیا سب لاونچ سے نکل گئے تهے دعا نے دیکها سعد وہی ہاتھ سینے پر باندهے اسی کو دیکھ رہا تها ایک نظر اس پر ڈالتے وہ بهی لاونچ سے نکلی تهی
وہ بهی سیڑهیوں کے قریب ہی پہنچی تهی کہ سعد نے بازو سے پکڑ کر اسکو دیوار کے ساتھ لگایا اور دونوں ہاتھ سائیڈز پر رکهتے فرار کے سب راستے بند کیے تهے دعا نے گهبرا کر اردگرد دیکها جہاں فلحال کوئی نہ تها
“سعد پلیز دور ہٹیں…”
وہ اسکے بازو پر ہاتھ رکهے پیچهے کرنا چاہا لیکن اس کا ہاتھ زرا ٹس سے مس نہ ہوا تها اس نے بےبسی سے سعد کو دیکها
“بس آجکی رات اور کل کی پرسوں سے تم میری دسترس میں ہوگی میری جان پهر میں تمہیں کہیں جانے نہیں دونگا…”
وہ اسکے چہرے کے ہر نقوش کو اپنی بےباک ہوتی نظروں سے دیکهتے ہوئے بولا اور اسکی آنکھوں سے چشمہ اتارتے دوبارہ دیوار پر ہاتھ ٹکایا تها
“آئی ہیٹ یو…”
وہ بےبسی سے بولی
“آئی لو یو ٹو…”
اسنے کہتے جهک کر اسکی گال کو چوما تها اس نے سختی سے اسکی شرٹ کو مٹهیوں میں دبوچا تها پهر دوسری گال پر لب رکهنے کے بعد اس نے چہرہ اٹها کر اسکو دیکها جس کا چہرہ شرم کی زیادتی سے سرخ ہو رہا تها آنکهیں بند کیے تیزی سے لب کچائے وہ مزید اسکو اپنی جانب متوجہ کررہی تهی اور پهر جهک کر اپنے تشنہ لب اسکے کپکپاتے لبوں پر رکهے اور خود کو سیراب کرنے لگا وہ اسکے سینے پر مکے برسا رہی تهی لیکن وہ دور ہونے کا نام نہیں لے رہا تها بلکہ اسکے دونوں ہاتھ پکڑتے دیوار کے ساتھ لگائے تهے
“غلطی سے ان کے لب چوم بیٹها ہوں
ہائے یہ بیٹهے بیٹهے میں کیا کربیٹها ہوں”
اسکے لبوں کو آزاد کرتے کمر میں ہاتھ ڈالتے اسکو سینے سے لگایا تها وہ اسکے سینے سے ہی لگے لمبے لمبے سانس لینے گی
“آئی لو یو….”
پیچهے ہوتے سرگوشانہ انداز میں کہتے کان کی لو کو لبوں سے چهوا اور چشمہ واپس آنکهوں ہر لگاتے ایک آنکھ دباتا بالوں میں ہاتھ پهیرتا الٹے قدموں سے زینے چڑهنے لگا پیچهے کو اوپر چڑهتا ساتھ ساتھ اسے دیکھ رہا تها جو دیوار پر ہاتھ رکهے گہرے سانس لیتی خفا نظروں سے اسے ہی گهور رہی تهی
…………………………………
عالیاب دعا کے ساتھ پیکنگ کروانے کے بعد اب اس کے پاس بیڈ پر بیٹهی تهی جو گود میں رکهے ہاتھ کو گهور رہی تهی
“بہت زیادہ مزے کرنا…”
اس نے اسکی اداسی ختم کرنا چاہی
“تم سب کے بنا نہیں مزہ میں تمہیں بہت مس کرونگی…”
وہ افسردگی سے بولی
“میں بهی بہت مس کرونگی بہت زیادہ…”
وہ بهی بهرائی آواز میں اسکے گلے لگے بولی تهی
“بس جلدی سے یہ وقت گزر جائے پهر تم ہمارے ساتھ ہوگی….”
وہ اسکو پیچهے کرتی بولی تهی
“سٹڈی کے حوالے سے سعد بهائی مامی جان سے کہ رہے تهے کہ وہ سر سے بات کر لیں گے اور نیو سمیسٹر جب سٹارٹ ہوگا میں تمہیں سب بتاتی رہوں گی اور جو فائنل کا اگزام رہ گیا ہے وہ بهی بهائی کہ رہے تهے کہ وہ بهی سر سے کہ کر دلوا دیں گے…”
اسکی بات پر اسنے اثبات میں سر ہلایا تها
“میں اور پارس تمہیں بہت مس کریں گے یونیورسٹی میں بهی…”
ناچاہتے ہوئے بهی اسکی آنکهیں نم ہوئیں تو دعا نے بهی روتے ہوئے اسکو گلے لگایا تها
“میں بهی کرونگی مس آئی لو یو آل…”
وہ اس کے گلے لگی ہی بولی تهی
…………………………………
عالیاب کی برتهڈے کی خوشی میں سب بچہ پارٹی نے باہر کا پروگرام کیا تها جبکہ بڑے حضرات نے اپنا الگ سے پلین بنایا تها بچہ پارٹی نے ظہر کی نماز ادا کر کے انجوائے کے لیے نکلنا تها اسی وجہ سے آج ذوہان بهی چهٹی لیتا جلدی گهر آگیا تها ظہر کی نماز کے بعد سب لوگ تیار تهے وجدان کی پولیس جیپ بڑی تهی اسی لیے سب نے اسی میں جانے کا فیصلہ کیا تها اور بڑے بهی اپنی تیاریوں میں مصروف تهے انہوں نے بهی بچہ پارٹی کے نکلنے کے بعد نکلنا تها
…………………………………
“سکندر میں کیسی لگ رہی ہوں…؟”
وجدان جو فون پر کسی سے محوگفتگو تها کہ اس نے اسکے پیچهے کهڑے ہوتے ہوئے کہا تو اس نے بنا دیکهے اثبات میں سر ہلایا تها
“سکندر بتائیں نہ…”
وہ اس کے سامنے آتی اس کو بازو سے ہلاتے بولی اس نے ویسے ہی فون پر بات کرتے اسکی گال پر انگوٹها پهیرا تها عالیاب نے غصے سے اسکا ہاتھ جهٹکا اور خفا نظروں سے دیکهتی باہر چلی گئی
“محبوب بعد میں بات کرتا ہوں…”
اسکے ہاتھ جهٹکنے سے وہ ہوش میں آیا تها فون کے دهیان میں وہ عالیاب پر دهیان نہ دے سکا تها سکندر جلدی سے فون رکهتا باہر کو گیا اور اسکو بازو سے کهینچ کر اپنے سامنے کرتا اس کا جائزہ لینے لگا جو وائیٹ گهیرے دار فراق اور اس پر سرخ رنگ کا حجاب کیے ہلکی سی لپسٹک میں بہت خوبصورت لگ رہی تهی وجدان کو اس پر سے نظریں ہٹانا مشکل لگا تها
“چهوڑیں مجهے سکندر…”
وہ اپنا بازو کهینچتے غصے سے بولی
“یار سوری فون کے دهیان میں تها بات نہیں سنی تمہاری….”
وہ سر کهجائے بولا تها
“تو جائیں فون پر بات کریں کیوں آئے ہیں…”
غصے سے کہتی واپس پلٹی کہ وجدان نے دوبارہ اسکا بازو پکڑ کر روکا اور خود کی جانب رخ کیا
“سوری میری جان دوبارہ…”
“غصہ آرہا ہے مجهے کیسے ایک فون کی وجہ سے آپکا دهیان نہیں رہا ہاں….”
وہ اسکی بات بیچ میں کاٹ کر سرخ چہرے کے ساتھ بولی تهی وجدان نے فرصت سے اسے دیکها تها
“مجهے نظر آرہا ہے کہ تم میں بیویوں والی تمام کوالیٹیز موجود ہیں…”
اس نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈالنا چاہا تها
“دور ہو جائیں سمجھ نہیں آرہا…”
وہ دوبارہ اسکا ہاتھ جهٹکتے بولی
“سوری….”
“نہیں کوئی سوری نہیں کیوں کیا آپ نے ایسا کیوں کیا ہاں….”
وہ اسکے سینے پر ہاتھ رکهے پوری قوت سے پیچهے کو دهکے دیتے بولی وہ دهکے وجدان کو ہلا تو نہیں سکتے تهے لیکن وہ پهر بهی پیچهے ہو رہا تها شدید غصے کی وجہ سے آنکهیں میں نمی آئی تهی وجدان فرصت سے اسکے چہرے پر موجود غصے کو دیکھ رہا تها جب وہ دهکے دیتی تهک گئی تو رک کر تیز سانس لینے لگی
“اتنی سی بات پر اتنا غصہ….”
وہ کمر سے پکڑ کر قریب کرتے بولا تها
“اتنی سی بات نہیں ہے کیوں نہیں رہا آپکا دهیان مجھ پر وہ کال زیادہ ضروری تهی مجھ سے ہاں بتائیں…”
وہ اسکے سینے پر دو مکے مارتے بولی
“کچھ ضروری نہیں تم سے ایک بار غلطی ہوئی معافی کا طلبگار ہوں دوبارہ گستاخی نہیں ہوگی…”
وہ اسکے ماتهے سے اپنا ماتها ٹکائے بولا تها ناجانے کیوں اسے اپنا ایسے اگنور ہونا پسند نہیں ایا تها خاص کر جب سکندر نے کیا وہ اس کے لیے جذبات رکهتی تهی تو مطلب وہ صرف عالیاب کا تها وہ کیسے ایک فون کے لیے اسے اگنور کرسکتا تها
“آپ میرے ہیں سکندر…”
وہ سرگوشانہ انداز میں بولی جو سکندر نے بامشکل سنی تهی
“صرف تمہارا بس تمہارا…”
اس نے بهی اسی کے انداز میں کہا تها
…………………………………
سب وجدان کہ جیپ میں موجود تهے جیپ وجدان چلا رہا تها جبکہ ذوہان جو پیچهے کو منہ کیے بیٹها تها اور پیچهلی سیٹس پر دعا سعد پارس اور عالیاب بیٹهے تهے
“یار وجدان کیا بکواس جیپ ہے تیری نہ کوئی سونگ نہ کچھ…….”
سعد نے پیچهے ٹیک لگاتے سامنے والی سیٹ پر ٹانگے رکهتے کہا تها
“مجرا نہ شروع کروا دیں سعد بهائی….”
ذوہان نے آنکھ مارتے شرارت سے کہا تو سوائے سعد کے سبکا قہقہ گونجا
“باز آجاو ذوہان شرم کرلو….”
وہ بهی انکو ہنستا دیکھ خود بهی ہنستے ہوئے بولا
“ہاں نہ سہی کہ رہا مفت کے جهولے مل رہے اس میں بهی نکهرے ورنہ میرا پیارا بڑا بهائی ایک جیپ کے ایک جهولے پر پانچ سو کرایہ لیتا ہے…”
ذوہان نے نیچے سے وجدان کو پیر پر پیر مارتے کہا
“اور ڈیش انسان اپنے پاوں کنٹرول میں رکهو ورنہ سب ہاتھ پاوں تڑوا کر تیرے ہی ہوسپٹل میں پڑے ہونگے…”
اسکے اچانک پیر مارنے سے وجدان ک پیر بریک کو اچانک لگا جس سے یک دم گاڑی رکی تهی سب آپس میں ٹکراتے ٹکراتت بچے تهے
“کوئی نہیں مفت میں علاج کروا دوں گا…”
وہ جیپ کے دروازے کے ساتھ ٹیک لگاتے پیر اسکی گود میں رکهتے بولا وجدان نے گهورا تها جو زیادہ پهیل رہا تها
“ذوہان میرے کپڑے خراب ہو رہے ہیں…”
وہ ہلکی سی مٹی پینٹ کو لگتے دیکھ چباتے ہوئے بولا تها
“کوئی نہیں میرے بهائی آخر میں مٹی میں ہی جانا ہے تو اب یہ اکتاہٹ کیسی…”
اس نے گہرہ سانس بهرتے کسی فلاسفر کے انداز میں کہا
“اس فلاسفر کو کس نے میرے ساتھ بیٹهایا ہے یہ ہم سب کو کہیں کا نہیں چهوڑے گا…”
“استغفار…”
اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے ذوہان نے کانوں کو ہاتھ لگایا تها اسکو غلط مطلب لے جاتے دیکھ وجدان نے اسکے پیروں کو اٹها کر زور سے پیچهے کیا کہ وہ سٹیرنگ کو لگے تهے گاڑی ایک دم سے غلط سمت مڑی لیکن وجدان نے فوراً سنبهالی تهی وہ تو شکر تها زیادہ رش نہیں تها سب انکی نوک جهوک کو خوب انجوائے کررہے تهے
“یار تم دونوں نے واقع ہمیں ہوسپٹل پہنچانا ہے میرے خیال سے گاڑی یہاں روک دینی چاہیے تاکہ تم دونوں تسلی سے جو معاملہ ہے سیٹ کرلو ہمیں اپنی جان پیاری ہے ابهی تو بہت حسین پل گزارنے ہیں….”
اس نے آخر میں دعا کو دیکهتے کہا جو اسکی بات سنتے چہرہ جهکا گئی تهی
“نہیں بهائی بس شریف…”
ذوہان نے دوبارہ اسکی گود میں پیر رکهتے منہ پر انگلی رکهی
“یہ دوبارہ کس خوشی میں میری گود میں آئے ہیں…”
“ششش بڑے بهائی نو لڑائی محبت سے جانا ہے ہمیں…”
وہ سنجیدگی سے بولا لیکن آنکهوں میں شرارت ناچ رہی تهی وجدان نے گهور کر ڈرائیونگ پر دهیان دیا تها
…………………………………
سب بڑے اس وقت سمندر کے قریب بیٹهے تهے
“مجهے تو ہمارے پرانے وقت یاد آگئے ہائے کیا دن ہوا کرتے تهے….”
زرش نے سمندر کی اچهلتی لہروں کو دیکهتے ہوئے کہا وہ سب نیچے بیٹهے ہوئے تهے
“ہر وقت ہر لمحہ صرف ایک بار ہی آتا ہے اسی لیے انسان کو چاہیے اسے کهل کر انجوائے کریں…”
مصطفی بولا تها
“پریہان تمہیں یاد ہے جب تم سمندر سے نکلنے کا نام نہیں لے رہی تهی اور شہرام بهائی تمہیں ہاتهوں سے پکڑ کر زبردستی گهسیٹتے ہوئے لائے تهے….”
احتشام ہنستے ہوئے بولا تو وہ سب بهی ہنسے تهے
“اور تم نے اسکی وڈیو بهی بنائی تهی….”
اب کہ بار آبریش ہنستے ہوئے بولی
“وہ وڈیوز وہ پکس ہر چیز میرے پاس یو ایس بی میں موجود ہیں ہماری ساتھ گزاری گئیں ہر یادیں موجود ہیں وشما آپی بهی تهی جب ان کے ساتھ موجود ہر چیز یاد ہے…”
احتشام نے پہلے ہنستے پهر آخر میں اداسی سے کہا تو سب نے گہرہ سانس بهرا
“بہت سی تلخ یادیں بہت سی حسین یادیں جڑی ہیں ہمارے ماضی کے ساتھ…..”
رامز نے گہرہ سانس بهرتے نیچے لیٹتے کہا تها
“وہ وقت کیسے گزرا پتا ہی نہیں چلا ہمارے بچے بڑے ہوگئے اب ان کی بهی شادی ہو رہی اور ایک دن ان کے بچے پهر ایک دن آئے گا ہمارا نام و نشان بهی نہیں رہے گا…”
میرب نے کہا تها تو سب خاموش ہوئے تهے
“وجدان چاہتا ہے کہ جلد از جلد شادی ہو جائے عالیاب سے ایک بار پوچھ کر خاور سے بات کرونگا….”
شہرام نے باتوں کا رخ بدلا تها
“جہاں تک میرا خیال ہے عالیاب راضی ہے…”
پریہان کو اس دن کی باتیں یاد آئیں تو بولی تهی
“جو بهی ہو ایک بار پوچهنا ضروری ہے ہم کسی بهی بچے کے ساتھ کسی قسم کی زبردستی نہیں کر سکتے آخر انہوں نے زندگی گزارنی ہے….”
شہرام نے کہتے ساتھ کولڈرنک اٹهائی تهی
“شہرام ایک بار پهر سے دوبارہ ہم سب لاہور جائینگے میں چاہتی ہوں وہاں کی یادیں بهی تازہ ہو جائیں زندگی کا تو بهروسا نہیں ایک بار وہاں کی حسین یادیں بچوں کے ساتھ تازہ کردیں….”
کچھ دیر خاموشی کے بعد پریہان بولی تو سب ہنسے تهے ان کو لاہور میں گزارا وقت یاد آیا تها جو کہ انہوں نے بہت فن میں گزارا تها
“ہاں کیوں نہیں اور پهر وہی چهت سے لٹک جانا تم…”
مصطفی ہنستے ہوئے بولا تو سب پهر سے ہنسے تهے اور وہ واقع کچھ یوں تها
(پریہان اوپر مت جانا سائیڈز پر دیواریں نہیں اور بارش کی وجہ سے پهسلن ہوگی گرجاوگی….”
شہرام نے پریہان کو روکا جو وجدان کو فیڈر پلاتی بار بار اوپر جانے کی ضد کررہی تهی وہ سب لوگ لاہور کے ایک خوبصورت فلیٹ میں ذوہان اور وجدان کی پہلی سالگرہ کی وجہ سے انجوائے کے لیے آئے تهے
“بس ایک بار چهت پر چڑھ کر میں بارش میں بهیگی پر چیز دیکهنا چاہتی ہوں…”
اس نے وجدان کو میرب کو پکڑاتے کہا تها
“اگر گر گئی تو پهر رات کو یہ مت کہنا کہ شہرام میرے جسم درد کررہا شہرام مجهے یہ ہو رہا شہرام مجهے وہ ہو رہا مجهے مت اٹهانا کیونکہ جب میری بات نہیں ماننی تو اٹهانا بهی مت….”
اسکی بات پر اس نے منہ بنایا تها
“جانے دو یار کوئی نہیں اگر گرے گی تو دوسری بار گرا دینگے…”
مصطفی نے ہنستے ہوئے کہا تو وہ خاموش ہوا تها
شیرام کو راضی کرنے کے بعد وہ چهت پر چلی گئی تهی اور اردگرد کا جائزہ لینے لگی اردگرد بہت سبزہ تها جو بارش کی وجہ سے نکهرا ہوا تها اس نے آنکهیں بند کرتے گہری سانس لی تهی
“ہائے شہرام کو بهی لے آتی کتنا خوبصورت ہے…”
وہ بےاختیاری میں آگے کو قدم بڑهاتے بولی اور تهوڑا پیچهے کهڑی ہوتی چهت سے نیچے جهانکنے لگی تهی وہ نیچے جهانکنے میں اس قدر مصروف تهی کہ کسی چیز کا ہوش نہ رہا وہ اپنے دهیان میں نیچے دیکھ رہی تهی کہ دو بلیاں آپس میں لڑتیں اسکے پاس گریں تهی وہ ڈر کر اچهلی اور پلٹ کر پیچهے ہوئی لیکن پیچهے زمین ختم ہو گئی تهی اور ایک زوردار چینخ کے ساتھ وہ گری تهی لیکن بروقت وہاں موجود ایک راڈ کو پکڑا اور وہاں لٹکے نیچے دیکهنے لگی نیچے بےشمار کانٹے تهے اگر گرتی تو کچھ نہ بچتا
وہ سب جو نیچے بیٹهے تهے پریہان کی چینخ کے ساتھ متوجہ ہوئے
“پریہان…”
شہرام بڑبڑایا اور اوپر بهاگا تها باقی سب بهی اسکے پاس
پیچهے گئے تهے
“پریہان…”
چهت پر جاتے شہرام چلایا تها
“شہرام بچائیں شہرام میں گرجاونگی….”
اسکی روتی ہوئی آواز گونجی تو اس نے چهت سے نیچے دیکها جہاں وہ راڈ کو دیکهے لٹک رہی تهی
“شہرام شہرام میرے ہاتھ چهوٹ رہے ہیں…”
وہ روتے ہوئے بول رہی تهی مصطفی فورا سے رسی لایا تها اور نیچے اسکی جانب بڑهائی تهی
“پکڑو پری…”
احتشام اس کو رسی نہ پکڑتے دیکھ بولا تها اس نے ہمت کرتے رسی پکڑی اور پهر دهیرے دهیرے پریہان کو اوپر کهینچا تها پریہان کے اوپر اتے ہی شہرام نے اسکو سینے میں زور سے بهینچا تها اپنے دل میں اٹهتا خوف ختم ہوتے اس نے پریہان کو خفگی سے خود سے الگ کیا اور پهر دو دن وہ اس سے خفا رہا تها)
سب پرانی باتیں سوچتے آپس میں ہنس رہے تهے اور کبهی کوئی واقع یاد کرتے تو کبهی کوئی واقع.
