No Download Link
Rate this Novel
Episode 54
رات زوہان ڈیوٹی پر جانے سے پہلے اسے گھر چھوڑ گیا تھا تعبیر نے کھانے کے دوران بھی دیکھا اس کی بہن کا رویہ لیے دیے انداز میں تھا اس کو حیرت ہوئی لیکن بعد میں پوچھنے کا سوچتی خاموش ہو گئی تھی
تعبیر جو کھانا کھانے کے بعد روحا کے کمرے میں جانے والی تھی کہ اس سے پہلے ہی روحا اس کے کمرے میں آ گئی تھی
“تعبیر وجدان کے گھر میں تم نے کیا تماشا لگا رکھا ہے۔۔۔؟”
اس نے آتے ساتھ اس سے پوچھا تھا
“کیا تماشا کچھ نہیں کیا میں نے۔۔۔”
وہ سر جھٹکتی بولتی بیڈ پر بیٹھ گئی تھی
“وجدان نے بتایا ہے مجھے جو تم ڈرامے بازی کر رہی ہو میری بہن ایسی کب سے ہو گئی ہے۔۔۔۔”
اس نے آخر میں افسوس سے کہا تھا
“اچھا تو وہ چغل خور بھی بن گیا ہے۔۔۔”
وہ لاہرواہی سے بولی
“تعبیر بکواس بند کرو اور اپنی زبان کو لگا دو۔۔۔”
وہ دانت پیستے ہوئے بولی تھی
“میں تو یہ سوچ رہی ہوں اپ اتنی جلدی اس فریبی انسان کا گناہ کیسے بھلا گئیں کیسے بھلا گئیں کہ آپ کی زندگی برباد کا سبب صرف وہی تھا۔۔۔”
اس نے روحا کی جانب دیکھے تھا
“میری زندگی خراب نہیں آج تک جو زندہ ہوں یا میری عزت محفوظ ہے تو بس وجدان کی وجہ سے معلوم نہیں تمہارے دماغ میں کس نے خناس بھر دیا یے۔۔۔۔۔”
اس نے ایک نظر اسے دیکھتے چہرہ پھیرا تھا اس کی بات ہر تعبیر کو حیرت ہوئی تھی
“کسی نے نہیں کہا امی نے بتایا آپ کی زندگی برباد کرنے کے پیچھے وجدان سکندر کا ہاتھ ہے۔۔۔”
“امی نے کہا۔۔۔۔”
وہ ہولے سے بڑبڑائی اور پھر سب سمجھ آنے پر اس کی جانب دیکھا تھا وہ سمجھ گئی تھی کہ اس کی امی نے کیا بتایا ہو گا جو اس نے اور وجدان نے اس کی امی پاپا کو بتایا تھا
“وہ سب جھوٹ ہے۔۔۔۔”
“اچھا تو سچ کیا ہے ہاں یا اپ بھی ملی ہوئی تھی وجدان۔۔۔”
“شٹ اپ تعبیر۔۔۔۔”
وہ قرب سے بولتی چلا اٹھی تھی تو تعبیر کو خود کے الفاظوں پر شرمندگی ہوئی وہ جذبات میں زیادہ ہی بول گئی تھی
“سچ جاننا چاہتی ہو یقینا جب سچ جانو گی تو بہت شرمندگی ہو گی اور پچھتاوا بھی۔۔۔”
وہ یہ کہتی آنسووں پیتی بیڈ پر بیٹھی تھی کیونکہ وہ ایک انتہائی تلخ ماضی پھر سے دہرانے لگی تھی وہ تلخ یادیں وہ زخم ایک بار پھر سے تازہ ہونے والے تھے لیکن وہ اپنی بہن کو کسی کی خوشیاں برباد کرنے کی اجازت کبھی نہیں دے سکتی تھی
………………………………
“ماضی”
صبح جہاں یونیورسٹی میں پڑھاکو لوگ لیکچر لینے میں مصروف تھے وہی کچھ لوگ پڑھاکو ہونے کے باوجود ساری کلاس کو زبردستی بنک کروا کر کینٹین میں بیٹھے برگر اور بوتل سے لطف اندوز ہو رہے تھے
“وجدان اگر کل سر نے پوچھا کہ کلاس کیوں بنک کی تو۔۔۔۔”
روحا نے برگر کی بائیٹ لیتے ہوئے کہا
“تو کیا۔۔۔؟”
وجدان نے بوتل کا گھونٹ بھرا تھا
“تو پوری کلاس نے تمہارا نام لے دینا ہے کہ سر وجدان نے کہا تھا کہ سر نے کہا ایش کرو اج کلاس نہیں۔۔۔۔”
اس نے اس کے ہاتھ سے بوتل کھینچتے ہوئے کہا
“اور میں نے تمہارا۔۔۔۔”
وہ مسکراہٹ دبائے بولا تو منہ کی طرف جاتا اس کا ہاتھ رکا
“منہ توڑ دوں گی وجدان میں تمہارا اگر ایسا کچھ کیا تو۔۔۔۔”
اس نے گھورتے ہوئے کہا
“کل سر سے ڈانٹ کھانے کے بعد سلامت رہو گی تو منہ توڑو گی نہ۔۔۔۔”
وہ شرارت سے باز نہ آیا تو روحا نے اسے ٹیبل پر پڑی نوٹ بک اٹھا کر ماری تھی
“سارا بل تم ہی دو گے میرے برگر کا بھی بدتمیز انسان۔۔۔۔”
اس نے خفگی سے کہا تو وہ ہنسا تھا اس کی اینڈ پر ہر سزہ اسی بات پر آکر ختم ہوتی تھی
“کیا اکیلے اکیلے پی رہی ہو شرم کرو مفت کا مال پیتے شرم نہیں آتی ادھر مجھے دو۔۔۔۔”
وہ اس سے کولڈرنک کھینچ کر بولتا اپنے لبوں سے لگا گیا تو اس نے سر جھٹکا تھا اور پھر نظر سامنے پڑی تو مسکرا اٹھی تھی
وجدان نے اس کی نظر کی پیروی کی تو دیکھ کر جل بھن گیا تھا
“روحا مجھے یہ لڑکا نہیں پسند۔۔۔۔”
“پر مجھے بہت پسند ہے۔۔۔۔”
وہ مسکرا کر بولی
“روحا مجھے لگتا ہے یہ تمہاری فیلنگز کے ساتھ کھیل رہا ہے۔۔۔۔”
اس نے ابراہیم کو دیکھتے ہوئے کہا جو شروع سے اسے کھٹک رہا تھا
“دماغ خراب ہو گیا ہے وجدان وہ ایسا کیوں کرے گا میری محبت ایسی بھی نہیں کہ کوئی کھیل سکے۔۔۔”
وہ اس سے ناراضگی ظاہر کرتے بولی
“میرا وہ مطلب نہیں لیکن تمہیں اس سے احتیاط برتنی چاہیے۔۔۔۔”
وہ ابھی بھی وہی پر اٹکا تھا
“کیسی احتیاط اس نے اج تک مجھے چھوا نہیں اور تم احتیاط کہہ رہے ہو اس کی آنکھوں میں وہی عزت و احترام ہے میرے لیے جتنی تمہاری آنکھوں میں ہے اور میں کوئی بچی نہیں۔۔۔۔”
وہ اپنا بچا ہوا برگر اس کے سامنے رکھتی بولی تھی
“میں نے تمہیں ہمیشہ بہن کہا ہے دعا جتنا درجہ دیا ہے لیکن میرا دل عجیب ہوتا ہے اس شخص سے کہیں یہ تمہیں نقصان نہ پہنچا دے۔۔۔۔”
اس نے اس کا برگر اٹھاتے بائیٹ لی تھی
“کچھ نہیں ہوتا ایسے پریشان مت ہوا کرو۔۔۔۔”
اس نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے کہا تو وہ خاموش ہوا تھا
“اچھا عالیاب کیسی ہے۔۔۔۔؟ حال دل کب بیاں کرو گے اسے۔۔۔۔۔۔”
اس نے بات بدلی تھی تو عالیاب کے زکر پر وہ مسکرایا
“وہ فٹ ہے اور ابھی نہیں بتانا تمہیں بتایا تھا یہ لاسٹ سمیسٹر ہے اس کے ایک منتھ بعد سے پولیس کی ٹریننگ سٹارٹ ہے چھ مہینے کی ٹریننگ کے بعد ان شاءاللہ جاب مل جائے گی پھر بس یہی کرونگا۔۔۔۔”
وہ مسکراتے بولا تھا
“ہمارا لاسٹ سمیسٹر ہے پھر ہم شرارتیں کیسے کریں گے میں تمہیں بہت مس کرونگی مجھے اپنی شادی پر ضرور بلانا۔۔۔۔”
وہ اداسی سے بولی تھی
“ہم رابطے میں رہیں گے تم ہمیشہ میری فرینڈ میری بہن رہو گی چڑیل۔۔۔”
وہ اس کے بال بگاڑتے بولا تو وہ کھلکھلائی تھی اور ابراہیم کو دیکھا جس نے اسے سمائیل پاس کی اس کی مسکراہٹ سے اس کا دل باغ باغ ہو گیا تھا جواباً اس نے بھی مسکراہٹ پیش کی تھی
………………………………
ان کا لاسٹ سمیسٹر بھی ختم ہو گیا تھا ان کی ضد پر فائنل پارٹی بھی رکھی گئی تھی اور وہ پارٹی پوری یونیورسٹی کی تھی جس کا بےصبری سے سب کو انتظار تھا ایک ہفتے بعد پارٹی تھی جس میں سب بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے تھے
“وجدان میں بہت خوش ہوں کل ہماری پارٹی ہے لیکن اداس بھی ہوں اتنی جلدی ہمارے سب سمیسٹرز ختم ہو گئے۔۔۔۔”
وہ اس کے ساتھ بیٹھتے بولی تو وجدان نے اسے پانی پکڑایا تھا
“میں بھی ٹو مچ سیڈ ہوں۔۔۔۔”
وہ بھی اداسی سے بولا
“آج تم مجھے گھر ڈراپ کرو تمہیں امی سے بھی ملواوں گی۔۔۔۔۔”
وہ واپس پانی کا گلاس وجدان کو تھمایا تھا
“کرایہ لوں گا۔۔۔۔”
اس نے شرارت سے کہتے گلاس سے پانی پیا تو اس نے اس کو مکا مارا تھا اور پھر خود بھی اس کے ساتھ ہنس دی تھی
“کل کے لیے شاپنگ کر لی تم نے۔۔۔؟”
وجدان نے اس سے پوچھا تھا
“ہاں اپنی بہن کو بھیج دیا تھا اس نے کر دی تھی سب اپنے حساب سے اس کی چوائس مجھ سے اچھی ہے۔۔۔۔”
اس نے تفصیل سے بتایا
“تمہاری چوائس بری تو نہیں۔۔۔۔”
وجدان نے سر کھجاتے کہا
“چوائس بری ہے اب تم خود کو ہی دیکھ لو۔۔۔”
وہ مسکراہٹ دبائے بولی تو وجدان کا سر کھجاتا ہاتھ رکا اور خفگی سے اسے دیکھتا بنا کچھ بولے اس کے پاس سے اٹھ گیا تھا
“اچھا سوری سوری وجدان رکو تو مزاق کر رہی تھی۔۔۔۔”
وہ فوراََ اٹھتی اس کے پیچھے گئی تھی جب کہ وہ ناراضگی سے تیز تیز قدم لینے لگا تھا
“اچھا مزاق کر رہی تھی۔۔۔۔”
وہ جلدی سے اس کے پاس پہنچتی اس کو بازو سے پکڑ کر ہانپتے ہوئے بولی جس نے خفگی سے منہ پھیرا تھا
“سوری موٹے۔۔۔۔”
وہ اس کو یون خفا دیکھے مظلومیت سے بولی
“ایک شرط پر۔۔۔”
وہ اس کی جانب خفا نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا
“بولو۔۔۔”
“کل پارٹی کے بعد جب میں کہوں گا میرے ساتھ میرے گھر چلو گی میں تمہیں اپنی فیملی سے ملواوں گا میں نے انہیں بتایا ہے کہ میری ایک بہت اچھی دوست ہے دعا جیسی کیوٹ عالیاب جیسی شرارتی۔۔۔”
اس نے اپنی شرط رکھی تو لمحے کو گال پر انگلی ٹکائے وہ سوچنے لگی پھر اثبات میں سر ہلایا تھا
“اں کب جانا ہے گھر شام کے چار بج گئے ہیں۔۔۔”
اس نے گھڑی کو دیکھتے کہا اور اس سے پہلے وہ کوئی جواب دیتی ابراہیم ان کے پاس آیا تھا
“ہائے ایوری ون۔۔۔۔”
“ہائے۔۔۔۔”
وجدان نے تو لیے دیے انداز میں کہا جب کہ روحا نے خوشی سے چہک کر کہا کیونکہ وہ ابراہیم سے بےانتہا محبت کرتی تھی
“روحا اگر کل تم فری ہو تو پارٹی کے بعد ایک سرپرائز ہے تمہارے لیے…”
اس نے مسکرا کر کہا
“نہیں وہ فری نہیں۔۔۔۔”
اس سے پہلے روحا بولتی وجدان بولا تھا تو اس نے ناگواریت سے وجدان کی جانب دیکھا جو سنجیدگی سے ماتھے پر بل ڈالے اسے دیکھ رہا تھا
“فکر مت کرو تمہاری دوست وہاں اکیلی نہیں ہو گی میری فیملی بھی ہو گی۔۔۔۔”
اس نے چباتے ہوئے کہا
“ہاں اگر تمہاری فیملی بھی ہو گی تو کوئی پرابلم نہیں۔۔”
وہ وجدان کا ہاتھ تھامے اس پر دباو ڈالے بولی تھی
“میں بھی ساتھ جاونگا پھر۔۔۔۔”
وہ تفکر کے اثار چہرے پر سجائے بولا تھا
“کیوں تم کیوں۔۔….؟”
اس نے گھورتے ہوئے کہا تھا
“تو نہاں تمہاری فیملی ہو گی اس کی فیملی کی طرف سے میں ہونگا جب اسے مسئلہ نہیں ہو گا تمہیں کیا مسئلہ ہے۔۔۔۔”
وہ بھی گھورتے ہوئے بولا تھا
“تمہارا وہاں کیا تعلق.۔۔؟”
“جو تمہاری فیملی کا تعلق ہو گا۔۔۔۔”
اس نے بھی اسی کے انداز میں کہا تھا تو وہ دانت پیس کر رہ گیا اور روحا کو ایک نظر دیکھتا وہاں سے چلا گیا
“وجدان تم دونوں کو آپس میں کیا مسئلہ ہے تم کیوں اس سے اتنا الجھتے ہو۔۔۔۔”
وہ اس کو غصے میں دیکھ کر پوچھنے لگی
“مجھے اچھا نہیں لگتا یہ بندہ۔۔۔۔”
وہ دور ہوتے ابراہیم کی پشت کو دیکھتے بولا
“میرے لیے اتنا نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔”
“تمہارے لیے ہی پریشان ہوں جب تک یہ تم سے شادی نہ کر لے تب تک مجھے اس پر زرا یقین نہ ہو گا۔۔۔۔
اس کی بات سنتے وہ خاموش ہوئی تھی
“اچھا چلو چلتے ہیں مجھے گھر چھوڑ دو کرایہ بھی لے لینا۔۔۔۔”
وہ شرارت سے بولی تو وہ بھی مسکرایا
“تم سے کیوں لینا چڑیل۔۔۔۔”
وہ ہاتھ میں پکڑا بیگ کندھے پر لٹکائے مسکرایا اور پھر دونوں وہاں سے چلے گئے تھے
………………………………
یونیورسٹی کی پارٹی کا وقت شام سات سے شروع ہونا تھا جب کہ سنئیر لاسٹ سمیسٹر والے تین بجے سے یہاں موجود سب تیاریا ایک بار پھر دیکھ رہے تھے وجدان اور روحا بھی آ چکے تھے
وہ لوگ چھے بجے تک سب تیاریاں دیکھتے یونیورسٹی میں ہی بوائز کو الگ اور گرلز کو الگ روم میں تیاری کے لیے بھیج دیا تھا سات بجے کے بعد سٹوڈنٹس کی ریل پیل شروع ہو چکی تھی اور نو بجے تک پوری یونیورسٹی یکا یک بھر گئی تھی اور پارٹی اپنے عروج پر تھی
وجدان اپنے دوستوں کے ساتھ ہونے کے باوجود روحا پر مکمل نظر رکھے تھا اور ابراہیم پر بھی کہ کہیں وہ روحا کو لے نہ جائے وہ کسی صورت بھی ابراہیم پر یقین نہیں کر سکتا تھا وہ جو ہزار لڑکیوں کا بوائے فرینڈ ہو بھلا ایک لڑکی کے ساتھ کیسے مخلص ہو سکتا تھا
“روحا تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔۔۔۔”
روحا جو کلاس کی لڑکیوں کے ساتھ کھڑی محو گفتگو تھی ابراہیم کی آواز پر پلٹی اور شرمیلی مسکراہٹ سے اس کا شکریہ ادا کیا
“لیکن تم ایک نمبر کے فضول لگ رہے۔۔۔۔”
یہ آواز روحا کی نہیں بلکہ وجدان کی تھی ابراہیم نے غصے سے پلٹ کر اسے دیکھا تھا
“ہاں ہاں تم فضول بیغیرت ہو میرے بھائی۔۔۔۔”
وہ فون کان سے لگائے بولا روحا نے سر پر ہاتھ ہاتھ نارا تھا وہ جانتی تھی وہ کسی سے بات نہیں جر رہا صرف ابراہیم کو تپا رہا ہے
“مسٹر وجدان۔۔۔۔۔”
ابراہیم نے دانت پیستے اس کو پکارا تھا
“تھوڑا بزی ہوں بعد میں بات کرتے ہیں۔۔۔”
دل جلا دینے والی مسکراہٹ سے ابراہیم سے کہتا دوسری جانب چلا گیا تھا وہ مکمل طور پر تپ چکا تھا
“یہ ہمارے بیچ کیوں آتا ہے۔۔۔۔۔؟”
اس نے غصہ ضبط کئیے روحا سے پوچھا
“کوئی بات نہیں خیر چھوڑو تم بھی بہت اچھے لگ رہے ہو۔۔۔۔”
وہ بال کان کے پیچھے کرتے بولی تو وہ مسکرایا تھا
“اچھا کب چلو گی میرے پیرنٹس شدت سے تمہارے منتظر ہیں۔۔۔۔۔”
وہ مدعے پر ایا تھا
“وہ وجدان آجائے تو چلتے ہیں۔۔۔۔”
اس نے سامنے وجدان کو دیکھتے کہا جسے سر اپنے ساتھ لے جا رہا تھا
“میں اسے لوکیشن سینڈ کر دوں گا چلو تب تک ہم چلتے ہیں وہ بھی پیچھے آجائے گا میں ابھی لوکیشن بھیج دیتا ہوں۔۔۔۔”
وہ موبائل نکالے بولا تھا لیکن لوکیشن سینڈ نہیں کی تھی
“لیکن۔۔۔۔”
وہ ہچکچائی تھی
“کوئی لیکن ویکن نہیں چلو بہت خوشی کا دن ہے ہمارے لیے۔۔۔”
وہ اس کا ہاتھ تھامتا لے گیا تھا جب کہ اس کی کلاس فیلوز نے روکنا چاہا لیکن وہ اسے لے گیا
“ابراہیم میں نے امی سے اپ کا زکر کیا ہے وہ بھی آپ سے ملنا چاہتی ہیں۔۔۔۔۔۔”
وہ دوسرے ایرے میں جاتے ہوئے بولی تھی
“کوئی پرابلم نہیں اج بہت خوش کن دن ہے پھر جب تم کہو گی ہم ملیں گے۔۔۔۔”
وہ موبائل کی لائٹ جلاتے بولا تھا
“اوہہہ شٹ کوٹ تو روم میں ہی رہ گیا میرا اس میں چابی یے گاڑی کی۔۔۔۔۔”
وہ ایک دم سے رکتے بولا
“تو اب۔۔۔۔؟”
اس نے پریشانی سے کہا تھا
“چلو روم سے کوٹ لیتے ہیں۔۔۔۔”
وہ اردگرد لوگوں کو دیکھتے بولا تو اس نے کچھ سوچتے اثبات میں سر ہلایا تھا اور اس کے ساتھ روم کی جانب جانے لگی تھی روم کے قریب پہنچتے وہ کمرے میں گیا تھا جب کہ وہ باہر کھڑی سنسنان جگہ کو دیکھ رہی تھی سب سٹوڈنٹس دوسری سائیڈ تھے یہ ایریا خالی تھی
“روحا مل نہیں رہا اور لائٹس بھی نہیں جل رہیں پلیز ہیلپ کر دو۔۔۔۔۔”
ابراہیم کی آواز سنتے وہ لب کچاتی موبائل کی روشنی جلائے اندر داخل ہوئی تھی
“نہیں ملی کیا۔۔۔۔۔؟”
اس نے اس کو کوٹ کی جھان بین کرتے دیکھ پوچھا تھا اور اگلے ہی لمحے وہ کوٹ سے ایک چیز نکالتا اس کے ناک کے قریب لے گیا تھا اس سے پہلے وہ سمجھتی ابراہیم اپنی کاروائی کر چکا تھا اور وہ پانچ سیکنڈز میں ہی جھولتی ہوئی گرنے لگی کے ابراہیم نے تھاما تھا اور موبائل ہاتھ سے چھوٹتا زمین بوس ہو گیا تھا
روحا کے زہن میں صرف کچھ الفاظ گونجے تھے
“میں نے تمہیں ہمیشہ بہن کہا ہے دعا جتنا درجہ دیا ہے لیکن میرا دل عجیب ہوتا ہے اس شخص سے کہیں یہ تمہیں نقصان نہ پہنچا دے۔۔۔۔”
اور پھر اس کے بعد اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفروج ہو گئی تھی
………………………………
وجدان جلدی سے سر سے جان چھڑواتا روحا کی سائیڈ پر ایا تو روحا وہاں موجود نہ تھی
“روحا کہاں ہے۔۔۔۔؟”
اس نے ان لڑکیوں سے پوچھا تھا
“وہ ابراہیم کے ساتھ چلی گئی۔۔۔۔”
” کیا مطلب چکی گئی میں نے منع کیا تھا کیوں جانے دیا۔۔۔۔”
وہ ایک دم سے چینخا تھا پھر بنا ان کی سنے وہاں سے بھاگا تھا اس کا دل عجیب سا ہو رہا تھا مسلسل دس منٹ ڈھونڈھنے کے بعد وہ ان رومز کی جانب آیا جہاں وہ لوگ تیار ہوئے تھے وہ جانتا تھا وہ کوگ ابھی یونیورسٹی ہونگے کیونکہ پارکنگ ایریا میں ابراہیم کی گاڑی موجود تھی
وہ ان رومز کو چھان مارنے لگا آخر روم دیکھنے کے بعد پلٹا تھا کہ اسے اپنے پیر کے نیچے کچھ محسوس ہوا اپنے موبائل کی روشنی جلاتے وہاں ماری تو روحا کا موبائل تھا اس نے کانپتے ہاتھوں سے روحا کا موبائل اٹھایا تھا
“روحا۔۔۔۔”
اس کا دل بری طرح کانپ گیا تھا
“روحا روحا۔۔۔۔۔”
وہ ایک دم سے چلاتا کمرے سے نکلا تھا اور ابراہیم کو فون ملانے لگا جس کا نمبر بند آ رہا تھا وہ اپنے کلاس فیلوز دوستوں کو ہر جگہ پھیلا چکا تھا اور صرف اتنا کہاں ابراہیم سے ضروری کام ہے جہاں نظر ائے انفارم کریں مسلسل آدھا گھنٹہ ڈھونڈھنے کے بعد وہ تھک ہارا پونیورسٹی کے ہوسٹل سائیڈ پر آیا تھا جہاں اسے اچانک سے کسی کی چینخوں کی آواز سنائی دی تھی سور وہ چینخوں کی آواز اسے اندر تک ہلا گئیں تھی کیونکہ وہ کوئی اور نہیں روحا کی تھی وہ آواز کی سمت بھاگا تھا
………………………………
