Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 59

وجدان دھیرے سے کمرے کا دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا تو پریہان عالیاب کے پاس لیٹی اس کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہی تھی جو سو چکی تھی وجدان کو دیکھتے پریہان اٹھی تھی وجدان میں بھی مسکراتا ہوا اس کے پاس جاتا اس کو گلے سے لگاتا آنکھیں موندیں تھی پھر پیچھے ہوتا اس کے ہاتھ تھامتا ان کو چوما تھا

“موم میں بہت ڈر گیا تھا۔۔۔۔”
وہ خوف سے بولا تو اس نے اس کے چہرے کو چھوا تھا
“برا خواب سمجھو ہم سب ساتھ ہیں خوش ہیں اور اب تو میرا پوتا یا ہوتی بھی آئیگا۔۔۔”
وہ مسکرا کر بولتی سوئی ہوئی عالیاب کو دیکھا تھا
“آئی لو یو موم۔۔۔۔”
“لو یو ٹو میرے دل۔۔۔۔”
وہ اس کا ماتھا چومتے ہوئے بولی تھی
“تم ریسٹ کرو اب سب کو یہ خوشخبری صبح دیں گے یقیناً سب بہت خوش ہونگے۔۔۔”
وہ محبت سے کہتی اٹھی تھی اور ان کو دیکھتی دھیرے سے دروازہ بند کرتی کمرے سے چلی گئی تھی

وجدان عالیاب کے قریب بیٹھتا اس کے چہرے کے ہر نقوش کو محبت پاش نظروں سے دیکھنے لگا تھا
“آئی ایم سوری میری جان۔۔۔”
وہ اتنا بولتا دھیرے دھیرے اس کے چہرے پر اپنا لمس چھوڑنے لگا کہ اس کا لمس اپنے چہرے پر محسوس کرتی کسمسائی تھی اور آنکھیں کھولی تھی آنکھیں کھولتے ساتھ نظر وجدان سے ٹکرائی جو مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا

عالیاب نے دھیرے سے اس کی گال کو چھوا پھر یقین دہانی ہونے پر فورا سے اس کے گلے سے لگتی اپنے دل کا غبار آنسووں کے زریعے نکالنے لگی تھی

اور وجدان بھی نیچے لیٹتا اس کو سینے پر لیٹائے اس کی پشت سہلانے لگا تھا جو اس کی شرٹ کو مٹھیوں نیں جکڑے اس کے سینے میں منہ چھپائے مسلسل رو رہی تھی

“کیا دل ہلکا کرنے کے لیے اتنا کافی نہیں جانان۔۔۔”
وہ اس کو پانچ منٹ بعد بھی خاموش نہ ہوتے دیکھ بےچینی سے بولا تھا جو اب آنکھیں رگڑتی اس کے اوپر سے اٹھی تھی وجدان بھی بیٹھا تو اسر اپنی شرٹ کو دیکھا جو آنسووں سے گیلی ہو گئی تھی

“اس شرٹ کو میوزیم میں رکھواوں گا میں اس پر میری جان کے قیمتی آنسووں گرے ہیں۔۔۔”
وہ اس کو ہنسانے کے لیے شرارت سے بولا تو اس نے سوں سوں کرتے اس کے سینے پر مکے برسائے تھے
“ادھر قریب تو آو۔۔۔”
وہ اس کے ہاتھوں کو پکڑتے قریب کرتے بولا تھا

“کاش یہ خوشی مجھے اس وقت نہ ملتی جب میں اسے اچھے سے ایکسپریس بھی نہیں کر سکتا تھا لیکن میں بہت بہت خوش ہوں بہت زیادہ۔۔۔۔”
وہ اس کے بالوں میں منہ چھپائے دھیرے دھیرے بول رہا تھا

“آئی لو یو میں بہت خوش ہوں تم نے مجھے بہت خوشی دی ہے کہا چاہتی ہو مانگو سب قدموں میں لا کر رکھ دوں گا۔۔۔۔”
وہ چہرہ اٹھائے اس کا چہرہ تھامے پوچھنے لگا تھا

“آپ کو چاہتی ہوں بس۔۔۔۔”
وہ بنا کسی بھی دیری کے بولی تھی
“بندہ تو پہلے ہی تمہارے قدموں میں ہے۔۔۔۔”
وہ محبت سے اس کے لبوں کو چھوتے ہوئے بولا تھا
“آپ خوش ہیں نہ۔۔۔؟”
وہ نم آنکھوں سے پوچھنے لگی تو وجدان نے بھی اثبات میں سر ہلایا تھا اس کی خوشی اس کی انکھوں میں نمی کی صورت واضع ہو رہی تھی ایک مرد کے لیے اس سے بڑی خوشی اور کیا ہوتی ہے کہ وہ باپ بنے گا وجدان سختی سے اسے خود میں بھینچ گیا تھا اور اپنی نمی اس کے بالوں میں اتارتا وہی جذب کر رہا تھا وہ بھی اس کے گلے لگی اپنے اندر سکون اترتا ہوا محسوس کر رہی تھی
………………………………
صبح جب سب اٹھے تو سب کے نمبرز پر لاونچ میں جمع ہونے کا میسج موصول ہوا تھا سب کو پہلے حیرانگی ہوئی لیکن پھر سر جھٹکتے کوئی منہ دھوئے بغیر تو کوئی ویسے ہی سر کھجاتا لاونچ میں آ گیا تھا وجدان بھی آنکھیں ملتے ہوئے لاونچ میں داخل ہوا تھا تو شہرام نے اس کو اشارہ کیا جس پر اس نے نفی میں سر ہلایا تھا مطلب وہ میسج اس کی جانب سے نہیں تھا

سب حیرت سے ایک دوسرے کی شکل تک رہے تھے کہ سعد دعا کا ہاتھ تھامے مسکراتا ہوا لاونچ میں داخل ہوا تھا اور سب کو دیکھتے ایک بار دونوں کی ہنسی چھوٹ گئی تھی

“معذرت جو ان حلیوں میں نیچے بلایا۔۔۔۔”
سعد کے بولنے ان کا یہ تجسس تو کم ہوا کہ میسج کس کی طرف سے تھا
“دراصل میں ایک گڈ نیوز دینا چاہتا ہوں۔۔۔۔”
وہ دعا کا ہاتھ تھامے مسکرا کر بولا تو سب پورے ہوش سے ان کی جانب متوجہ ہوئے تھے
“میں کہنا چاہتا ہوں کہ۔۔۔۔”
وہ ہچکچایا تھا اور پل کو رکتے سب کو دیکھا
“دعا پریگننٹ ہے۔۔۔۔”
اور بولتا مسکرایا تھا سب ان کی بات سنتے ایک دم سے شاک ہوئے تھے

“سریسلی۔۔۔۔؟”
سب سے پہلے وجدان کو ہوش آیا تو وہ اچھلا تھا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا
“مطلب سیریسلی بھائی آپ کو پتا ہے عالیاب ٫عالیاب بھی ماں بننے والی ہے میں بھی پاپا بننے والا ہوں۔۔۔۔”
وہ جوش سے بولا تھا اور جو سب پہلے سعد کی بات سے شاک تھے اب وجدان کی بات سنتے ڈبل شاک تھے لیکن فوراً ہوش میں آتے ایک دم سے سب میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی اور سب دعا اور عالیاب کو پیار کرنے لگے تھے

“بھائی بیویاں ہماری ہیں پیار یہ لوگ کر رہے۔۔۔۔”
وجدان سعد کے ساتھ کھڑا سامنے دعا اور عالیاب کو ان میں گھیرا دیکھتا بولا تھا
“بھائی یہ ہمارے پیار کا ہی نتیجہ نکلا ہے۔۔۔”
اس نے مسکراہٹ دبائے کہا تو وہ بھی مسکرایا تھا

“ایس پی صاحب۔۔۔۔”
زوہان نے اس کے کان کے قریب ہوتے سرگوشی کی تھی
“ہاں جی بولو اب کیا کیڑا آپ کو تنگ کر رہا ہے۔۔۔۔”
اس نے چباتے کہا وہ جانتا تھا اس کو ایک کیڑا اس کے اندر پلنے والا کیڑا اس کو تنگ کر رہا ہے
“بتا دے نہ یار رات کو کیا ہوا تھا تھپڑ پڑا تھا نہ ماموں سے۔۔۔۔”
وہ توقع کے عین مطابق اس نے وہی بات پوچھی تھی وجدان نے اسے گھورا تھا

“بھائی کا راز ہے تو راز ہی رہنے دے زخموں پہ نمک نہ چھڑک۔۔۔۔”
“مطلب سچی تھپڑ ہائے صدقے کون سی گال شریف پہ ماموں جان کے ہاتھ نے اپنی چھاپ چھوڑی تھی۔۔۔۔”
وہ دل جلانے والی مسکراہٹ سے بولا تو وجدان نے خفگی سے اسے دیکھا

“ہاہاہاہا اب ایسے تو نہ دیکھ باپ بننے والا ہے تو اور میں تایا مبارک ہو۔۔۔”
وہ اس کی گردن دبوچے ہنستے ہوئے بولا تھا
“تایا نہیں چاچا چار منٹ چھوٹا ہے تو۔۔۔۔”
اس کی بات پر جہاں وجدان نے منہ بنایا تھا وہی سعد بھی ان کو دیکھتا ہنسا تھا

“اوو چھوڑ دو اب کر دو آج ہی بچہ پیدا کرنا ہے کیا۔۔۔۔”
وجدان بلند آواز میں بولتا آخری الفاظ منہ میں دبا گیا تھا جو کہ سعد نے سنتے اس کو کہنی ماری تھی

“آج رات کو بہترین کھانے کا انتظام کرو سب کی دعوت اور ملازمین کو بھی بہترین کھانا اور کپڑے دو آخر دو دو خوشیاں ملی ہیں۔۔۔۔”
رامز نے دعا اور عالیاب کے سر پر ہاتھ پھیرتے کہا تو سب مسکرائے تھے
………………………………
“شافع تم آ رہے ہو یا نہیں۔۔۔۔”
وجدان نے فون سپیکر پر لگاتے اپنے گورے بدن پر بلیک بنائین پہنی تھی
“یار روحا آ رہی ہے یا نہیں پتا کر کے بتا ورنہ اس کے ساتھ کہیں اور ملنے کا سین بناوں اسے دیکھنے کا بہت دل کر رہا ہے۔۔۔۔”
اس کے لہجے میں موجود بےچینی اور تڑپ وجدان کو ٹھٹھکنے پر مجںور کر گئی تھی

“تم بہت سیریس ہو گئے ہو کیا روحا کے بارے میں۔۔۔۔؟”
اس نے بیڈ پر موجود اپنی کالی قمیض اٹھاتے پوچھا تھا
“ہاں بہت یار سمجھ دل بس اب صرف روحا کا غلام بن گیا ہے۔۔۔۔”
وہ جذبات سے بوجھل لہجے میں بولتا پیچھے بیڈ پر گرا تھا
“اچھا میں تعبیر سے پوچھتا ہوں ویسے اس کے انی بابا تو آ رہے ہیں اس کا معلوم نہیں پانچ منٹ رک پوچھتا ہوں۔۔۔”
اس نے قمیض واپس بیڈ پر رکھتے کہا تو اور فون کاٹتے تعبیر کو فون ملاتے اس سے پوچھا تھا جس نے بتایا کہ روحا آ رہی ہے یہ گڈ نیوز اس نے شافع کو دی تو وہ خوشی سے اچھلتا تیار ہونے چلا گیا تھا
………………………………
پورا ملک ویلا اور اس کے ساتھ تعبیر کی پوری فیملی لاونچ میں بیٹھی گپ شپ لگا رہی تھی حارز کی فیملی بھی بس پہنچنے والی تھی
“السلام و علیکم۔۔۔۔۔۔!”
وہ سب جو خوش گپیوں میں مصروف تھے کہ شافع کے سلام کی بلند آواز گونجی تھی اور روحا جو عالیاب اور دعا سے باتیں کر رہی تھی اس کی آواز پر اس کی جانب دیکھا لیکن اس کو خود کی جانب تکتا پا کر اس نے دانت پیسے تھے سب نے مسکرا کر جواب دیا تھا پیچھے عذوبہ حارز اور رباب بھی تھی

“ہائے مبارکاں۔۔۔۔”
رباب حارز شافع اور عذوبہ سے پہلے خوشی نے ان کی جانب بھاگی اور زور سے ان کے گلے ملی تھی جب کہ باقی سب ہنس دیے تھے
“اور کیسے ہو دونوں۔۔۔۔؟”
شافع روحا کو نظروں کے حصار میں لیے وجدان اور زوہان کے درمیان دھڑم سے بیٹھتے ہوئے بولا تھا

“ہم تو ٹھیک ہیں لیکن تیری نظریں ٹھیک نہیں لگ رہیں۔۔۔۔”
زوہان کی بات پر اس نے اس کی جانب دیکھا تھا
“کیوں کیا ہوا کچھ گیا ہے آنکھوں میں کیا۔۔۔”
وہ اپنی پلکوں کو چھوتے ہوئے بولا تھا

“بالکل محبت گئی ہے تمہاری آنکھوں میں وہ بھی میری سالی کے لیے۔۔۔۔”
اس کی بات پر شافع گڑبڑایا تھا
“نن-نہیں تو۔۔۔۔”
اس نے بات ہوا میں اڑانی چاہی تھی
“بالکل مجھے نظر آتا ہے دیکھا ہے میں نے۔۔۔۔”
وہ اج کسی صورت اسے بخشنے والا نہیں تھا

“دیکھا نہیں مجھے یقین ہے کسی کی گندی زبان میں کھجلی ہوئی ہو گی۔۔۔۔”
اس نے کہتے ساتھ وجدان کو دیکھا جو ہنسی دبانے کے چکر میں سرخ ہو رہا تھا وہی زوہان نے بھی اپنی مسکراہٹ دبائی تھی
“یار کچھ بننے تو دو پہلے ہی تم کوگ ہیڈ کواٹر کی طرح پکڑ کے بیٹھ گئے ہو۔۔۔۔”
وہ زوہان کی شرارتی نظروں کو بخوبی سمجھ رہا تھا اسی لیے الجھ کر بولا تھا وجدان نے اسے بتایا تھا کہ زوہان روحا والی اصلیت سے واقف نہیں اور نہ ہی اس نے اتنا سب ہونے پر اس سے پوچھا تھا بلکہ یہ کہہ دیا تھا کوئی کچھ بھی کہے اسے اپنے بھائی پر یقین ہے وہ کچھ غلط نہیں کر سکتا

“نہایت خوشی کا موقع ہے اگر ملک ویلا کے بزرگ اجازت دیں تو اس خوشی کو دگنی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔”
حارز کے گلا کنگھار کے بولنے پر سب اس کی جانب متوجہ ہوئے
“یار بزرگ کہہ کر ہماری توہین تو مت کر۔۔۔”
شہرام نے ہنستے ہوئے کہا
“پہلے اجازت مل جانی تھی لیکن اب ہرگز اجازت نہیں۔۔۔۔”
رامز نے مصنوعی خفگی سے کہا تھا سب کے چہرے کھلے ہوئے تھے

“تو اور دادا نانا بننے والے ہو بزرگ نہ کہوں تو ہینڈسم یا ینگر مین کہوں۔۔۔”
حارز ہنستے ہوئے بولا تھا
“ہاں یہ لفظ ہم پر سوٹ بھی کرتے ہیں کیا تجھے ہمارے حسن میں کوئی کمی نظر آئی ہے کیا۔۔۔؟مصطفی نے بھی اپنا حصہ ڈالا تھا
“اچھا بولنے تو دیں حارز کیا کہنا چاہتا ہے۔۔۔۔؟”
پریہان نے ان کو بزرگ کہنے والے صدمے سے نکالا تھا

“ہاں تو میں کہنا چاہتا تھا اگر اجازت ہو تو میں شافع کا رشتہ حسن صاحب کی بیٹی روحا سے کرنا چاہتا ہوں میں ان سے شافع کے لیے رشتے کا طلبگار ہوں۔۔۔۔”
سب نے حیرت سے اس غیر متوقع بات پر حارز کی جانب دیکھا تھا وہی روحا وجدان اور زوہان نے ایک جھٹکے سے شافع کو دیکھا جو کاروائی ڈال چکا تھا اور اب مسکرا رہا تھا

“کوئی جلدی نہیں ہے آپ لوگ سوچ سمجھ کر بتا دیں اپنی بیٹی کی بھی رضامندی لے لیں۔۔۔”
حارز کی اس بات پر شافع نے منہ بنایا کیونکہ وہ گھر تقریباً ایک گھنٹہ اس پر بحث کر کے آیا تھا کہ وہ یہ بات نہیں کریں گے حسن صاحب کو سمجھ میں نہ آیا وہ اس اچانک افتاد پر کیا بولے جب کہ باقی سب شاک سے نکل کر مسکراتے حسن صاحب کے جواب کے منتظر تھے

“تو اکیلے میں مل بیٹا دیکھ تیری کیسے ٹھوکائی کرتے ہم دونوں۔۔۔۔”
زوہان نے گھورتے ہوئے کہا جو بےشرمی سے ان کو دیکھتا ہنس رہا تھا
“بڑا کوئی دھوکے باز انسان ہے چھپا رستم۔۔۔”
وجدان نے بھی اس کے مکا جڑا تھا تو وہ مزید ہنسا جب کہ روحا ابھی تک شاک میں تھی کیونکہ جو اس نے کہا تھا وہ کر دیکھایا تھا

“مم-مجھے اعتراض نہیں لیکن بیٹی سے پوچھوں اس کی رضامندی سب سے اہم ہے۔۔۔۔”
حسن صاحب کچھ توقف کے بعد بولے تھے
“جی جی یہ تو ہمارے نبی(ص) کی سنت مبارک ہے بیٹیوں کا حق ہے وہ اپنا فیصلہ سنائیں آپ بلا جھجھک ان سے پوچھ لیں۔۔۔۔”
حارز فوراً سے بولا تھا تو حسن صاحب نے اپنی بیوی کو دیکھا پھر روحا کو جو سب کی نظریں خود پر محسوس کرتے گڑبڑا گئی تھی

“بیٹا کسی بھی دباو میں آ کر بتاو کوئی جلدی نہیں ہمیں اور آپ راضی ہیں تو ٹھیک اگر نہیں راضی تب بھی کھل کر بتائیں یہ آپ کی زندگی کا اہم فیصلہ ہے۔۔۔۔”
عذوبہ نے اس کو پریشان دیکھ کر پیار سے کہا تھا جب کہ شافع کی جان سولی پر لٹکی تھی جو روحا نے بخوبی محسوس کی تھی

“جج-جیسے امی بابا کو قبول ہو۔۔۔۔”
وہ دھیرے سے بولی تو شافع نے گہرا سانس لیتے اپنی اٹکی سانس بحال کی تھی سب میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی تعبیر ابریش کی بات سنتی اٹھی اور کچن سے میٹھائی لاتی سب میں تقسیم کرنے لگی تھی

“ویسے بابا رشتہ تو ہو گیا ہے ایک بار لڑکی لڑکا مل کر بھی دیکھ لیں کہ انڈرسٹینڈنگ بنے گی بھی یا نہیں یہ نہ ہو بعد میں ان کو پرابلم ہو جائے۔۔۔۔”
شافع نے میٹھائی کا ٹکرا اٹھائے کہا تو سب ہنس دیے تھے جب کہ روحا نے خونخوار نظروں سے اس ڈرامے باز کو دیکھا جو ایسے ظاہر کروا رہا تھا جیسے اسے بھی اس رشتے کی خبر نہ ہو اور وہ روحا کو جانتا تک نہ ہو

“یار وجدان ان لوگوں نے میری بات کو سیریس نہیں لیا مجھے سچ میں ملنا ہے ایک بار تم کہو کیا پتا سیریس لے جائیں۔۔۔۔”
اس نے دوبارہ سب کو باتیں کرتا دیکھ وجدان کو کہنی مارتے ہوئے کہا تھا
“یار میری بیوی سے صبح سے مجھ سے ملا نہیں جا رہا اور تیرا تو ابھی کہاں رشتہ ہوا ہے یہ ظالم دنیا ہے ملنے نہیں دے گی سور میری تو خاک بھی نہیں سنے گی۔۔۔”
اس نے میٹھائی کا ٹکڑا اس کے منہ میں ڈالتے دہائی دی تو وہ گھورنے لگا تھا
“یار زوہان یہ تو غدار ہے تم ہی ساتھ دو۔۔۔۔”
وہ اب زوہان کی جانب مڑا تھا

“میری بیوی نے مجھے قتل کر دینا ہے اگر اسے پتا چلا وہ ناراض ہو جائے گی جو کہ مجھے برداشت نہیں اسی لیے بھائی کے لیے اپنا ملنا کینسل کر۔۔۔”
وہ مسکراہٹ دبائے سنجیدگی سے بولا
“زن مرید نہ ہو تو۔۔۔۔”
وہ چباتے ہوئے بولا تھا
“ہاں میری تو بیوی ہے اور تو تو بیوی بننے سے پہلے زن مریدی کے چکروں میں ہے۔۔۔۔۔”
وہ تعبیر کو پانی کا اشارہ کرتا اس سے بولا تھا تو اس نے آنکھیں گھمائیں جب کہ وجدان ہنسا تھا کیونکہ اس میں جھوٹ بھی کچھ نہیں تھا

“بابا مجھے ایک بار بات کرنی ہے روحا جی سے وہ بھی یہی چاہتی ہونگی بات کر کے اندازہ تو لگائیں کیسے مزاج ہیں ہمارے۔۔۔۔”
وہ بےصبری سے حارز سے بولا تھا
“ضرورت نہیں ٹک کے بیٹھے رہو۔۔۔”
اس نے گھورتے ہوئے کہا کیونکہ وہ اچھے سے جانتا تھا وہ پہلے سے روحا کو جانتا ہے کیونکہ اس نے اپنی پسندیدگی کا اظہار اس سے کیا تھا شافع نے منہ بنایا تھا

“بےصبرے۔۔۔۔”
احتشام نے ہنستے ہوئے کہا تھا
“یہ بےصبری کی انتہا پر شہرام پر گیا ہے۔۔۔”
شہرام جو ہنس رہا تھا حارز کی بات سنتے اس کو گھورا تھا
“یار تم مجھ پر آجاتے ہو میں اتنا بھی بےصبرہ نہیں تھا۔۔۔۔”
وہ منہ بنائے بولا تھا
“یہ بات تو تم بالکل مت کر۔۔۔”
مصطفی نے بھی شرارت سے کہا تھا
“یار کوئی جینے ہی نہیں دیتا مجال ہے جو پردہ رکھ لیں۔۔۔۔”
وہ مظلومیت سے بولا تو سب ہنسے تھے اور پھر سے ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنا شروع ہو گئے تھے

“یار یہ لوگ پھر اپنی شروع ہو گئے۔۔۔”
شافع نے منہ بنائے کہا تھا تو وہ دونوں ہنسے
“میں نے کہا تھا یہ ظالم سماج ہے۔۔۔۔۔”
“بھائی صبر رکھ ملوا دیتے ہیں۔۔۔۔”
زوہان نے اس کی کمر پر مکا جڑتے ہوئے کہا اور پھر وہ خود بھی اپنی باتوں میں مگن ہو گئے تھے
………………………………
ے