No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
وجدان نہا کر نکلتا تولیے سے بال خشک کررہا تها ساتھ بیڈ پر موجود لیپ ٹاپ پر چلتی نیوز کو سن رہا تها جہاں داور کی پہلی بربادی کا تذکرہ ہو رہا تها اس نے مسکراتے ہوئے تولیا صوفے پر پهیلایا اور شرٹ پہن کر بیڈ پر بکهرا سامان سمیٹنے لگا دس منٹ میں اسے نکلنا تها راستے میں دو تین کام نپٹاتے اس کو تقریباً مغرب ہو ہی جانی تهی اس کا ارادہ رات کا کهانا سب کے ساتھ کهانے کا تها ویسے بهی عالیاب کو دیکهنے کو بےچین ہو رہا تها
لیپ ٹاپ پر نیوز بند کرتے لیپ ٹاپ بند کرنے لگا کہ اس کے والپیپر پر جگمگاتی عالیاب کی تصویر دیکهتے وہ رکنے پر مجبور ہوا تها یہ اس کا پرسنل لیپ ٹاپ تها جس کو چهونے کی اجازت کسی کو نہ تهی یہ لیپ ٹاپ ذیادہ عالیاب کی تصویروں سے ہی بهرا تها جسے وہ ہر وقت اپنے ساتھ رکهتا تها
“سویٹ ہارٹ بہت جلد ایک بہت دل دہلا دینے والا سرپرائیز تمہیں دینے والا ہوں….”
مسکرا کر اس کی تصویر کو دیکهتے بڑبڑاتے لیپ ٹاپ بند کیا تها اور بیگ سمیٹتے خود کو مکمل تیار کرتے روم سے نکلا تها
…………………………………
“مامی جان پاپا کو بہت یاد کررہی ہوں وہ فون نہیں اٹها رہے آپ نانا ابو کو کال کرکے پوچهیں نہ….”
پریہان جو بیٹهی تسبیح کررہی تهی اس کی بات پر مسکرائی اور تسبیح مکمل کرتے سائیڈ پر رکهتے فون اٹهایا تها اور حما صاحب کو کال ملائی تهی
“بابا خاور بهائی کہاں ہیں عالیاب مس کررہی ہے اور وہ فون نہیں اٹها رہے….”
سلام دعا کے بعد اس نے خاور کے بارے پوچها تها اور پهر حماد نے کچھ کہا کہ پریہان نے فون عالیاب کو پکڑایا تها
“السلام و علیکم نانا ابو طبعیت کیسی ہے…؟”
موبائل پکڑتے ساتھ وہ محبت سے بولی تو پریہان مسکرائی
“میں بالکل ٹهیک بیٹا آپ کیسی ہے…؟”
“میں بهی ٹهیک ہوں بابا کہاں ہیں میں بہت یاد کررہی ہوں وہ فون نہیں اٹها رہے….”
اسکی خفا سی آواز گونجی
“بیٹا وہ ایک کام گئے ہیں وہاں سروس کام نہیں کرتی فون بند ہوگا ان کا جیسے ہی وہ فری ہونگے وہ آپکو کال کر لیں گے….”
حماد کی بات سنتے اس نے اثبات میں سر ہلایا اور پریہان کو فون دیا پریہان نے دو تین باتیں کرنے کے بعد فون بند کیا تها
“آپ مجھ سے پیار کرتی ہیں مامی جان…”
وہ پریہان کا چہرہ کچھ دیر تکنے کے بعد بولی
“بالکل میری جان بہت پیار کرتی ہوں…”
وہ اس کے چہرے پر پیار کرتے بولی
“سکندر سے زیادہ…”
اس نے منہ بناتے پوچها تو وہ ہنسی تهی
“ہاں بالکل سکندر سے بہت زیادہ….”
“آپ بہت اچهی ہیں مامی آپ امی کی کمی نہیں ہونے دیتیں آپ سب بہت اچهے ہیں سکندر کے علاوہ…”
وہ اسکے کندهے پر سر رکهتے بولی تهی
“کیوں وجدان کیوں نہیں….؟”
“وہ ہر وقت ڈانٹتے رہتے ہیں ہر وقت کہتے عالیاب یہ نہ کرو عالیاب وہ نہ کرو نیند بهی خراب کرتے بڑی بڑی خوبصورت آنکهیں بهی دیکهاتے ہیں….”
آنکهوں کو انگلیوں کی مدد سے بڑے کرتے وہ بولی تو پریہان پهر سے ہنسی
“ویسے سکندر بهی تهوڑا تهوڑا اچها ہے لیکن تب اچها ہے جب وہ میرا خیال رکهتا…”
وہ تهوڑی پر انگلی ٹکائے بولی
“تمہیں اچها لگتا ہے وجدان…؟”
موقع دیکهتے وہ پوچھ بیٹهی تهی
“تهوڑا سا…”
وہ انگلی کی مدد سے تهوڑا سا کرتے بولی
“شادی نہ کروا دیں تمہاری اس کے ساتھ. ..”
وہ ہنستے ہوئے بولی
“ہائے نہیں مامی سکندر مجهے کچا چبا جائے گا اور آہستہ بولیں شادی والی بات انہوں نے سنی تو بہت خفا ہونگے…”
وہ اس کے قریب ہوتے اردگرد دیکهتے ہوئے بولی
“ویسے تم کرنا چاہتی ہو سکندر سے شادی…”
“اگر سکندر اچهے ہوتے مجهے ڈانٹتے نہ غصہ نہ کرتے تو کر لیتی شادی ورنہ سکندر جیسا خوبصورت لڑکا دیکھ کر کروا دینا آپ….”
وہ اس کے کندهے پر سر رکھ کر بولی تو وہ ہنسی تهی اور گہرہ سانس لیا اس کو سکون ہوا تها کہ عالیاب کے خیال کچھ برے نہ تهے
…………………………………
“آوو ایس پی وجدان سکندر تمہارا ہی انتظار ہو رہا تها….”
وجدان داور کے گهر کے سامنے گاڑی روکتے ایک شان سے گاڑی سے نکلا اور آنکهوں پر سے گوگلز کا پہرہ ہٹایا تها کہ سامنے اس کو کاکا آتا دیکهائی دیا جو اس سے مخاطب ہوا تها
“میرے انتظار کے علاوہ اور کوئی کام نہیں تها کیا…”
گوگلز کو آگے شرٹ سے تنگے اردگرد دیکهتے ہوئے بولا جہاں قدم قدم پر بےشمار گارڈز تهے
“یہ اتنے گارڈز میرے استقبال کے لیے ہیں میں منع بهی کیا تها کسی خاطر تواضع کی ضرورت نہیں…”
وہ مسکراہٹ دبائے بولا تو کاکا نے گهورا تها
“یہ ہماری سیکیورٹی ہے….”
“میں اکیلا آرہا تها کوئی فوج نہیں جو میری وجہ سے اتنی سیکیورٹی اتنا خوف مجھ سے…”
وہ اس کے ساتھ چلتے ہوئے بولا
“تم سے نہیں یہ عام سیکیورٹی اتنی ہی ہوتی ہے داور خان کی حفاظت کے لیے….”
وہ جهنجهلا کر بولا
“پهر تو داور خان اپنی لنگوٹ میں بهی رات گن لے کر سوتا ہوگا….”
وہ اس کو تپانے میں کوئی کسر نہیں چهوڑ رہا تها کاکا نے کوئی جواب نہ دیا اور دروازہ کهول کر اندر داخل ہوا وجدان بهی داخل ہوا تها اور سامنے داور خان کو دیکها جو مسکرا کر اسی کو دیکھ رہا تها داور خان کے اشارہ کرنے سے پہلے وہ سامنے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹها تها
“جتنی تعریف سنی اس سے کئی زیادہ ہو تم…”
وہ اس کے سٹائل سے متاثر ہوتے بولا
“ارے بچے تم نے میرے حسن کی اتنی تعریف کردی…”
وجدان نے سمائل دیتے کاکا سے کہا جو خود کو بچہ کہے جانے پر ضبط کا گهونٹ بهر کر رہ گیا تها جبکہ داور خان ہنسا تها
“کچھ کهاو گے…؟”
داور نے کہا تو اس نے نفی میں سر ہلایا
“کام کی بات کرو…”
وہ سیگرٹ سلگائے بولا تها اور سیگرٹ لبوں میں دبائے اس کی جانب دیکهنے لگا
“میری فیکٹری کو راتو رات کسی نے آگ لگا دی…”
وہ مٹهیاں بهینچے وجدان سے بولا اور اس کے تاثرات دیکهنے لگا لیکن وہ اس کے چہرے سے تاثرات پهانپنے سے قاصر تها
“ہاں نیوز دیکهی تهی میں نے…”
اس نے لمبا کش لیتے ہوئے کہا
“وہ کون ہے جس نے ایسی جرات کی اس کا پتا تم لگاو گے….”
وہ اس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بولا اور شراب گلاس میں انڈیلنے لگا
“میں کیسے پتا لگواوں گا…؟”
وہ گلاس میں گرتی شراب پر نظریں گاڑے بولا تها
“جتنی چاہے دولت لے لو پر مجهے یہ کام پورا چاہیے…”
“تمہارے اور بهی آدمی ہیں جو میرے سے پہلے تمہارا کام کرتے تهے پهر میں ہی کیوں…؟”
وجدان کے سوال پر اس کے لب مسکرائے
“لیکن میں یہ کام تمہیں سونپنا چاہتا ہوں میں دیکهنا چاہتا ہوں تم کتنے قابل ہو….”
“اپنی قابلیت ظاہر کرنے کے لیے مجهے تمہاری ضرورت نہیں کوئی خاص وجہ بتاو کہ میں یہ کام کرنے پر مجبور ہو جاوں اور میں کتنا قابل ہوں میں جانتا ہوں…”
وہ ماتهے پر بل ڈالے بولا
“بلینک چیک….”
وہ آگے ہوتا بولا
“ایک اور بربادی…”
وجدان نے مسکرا کر چہرہ جهکایا اور بڑبڑایا تها اور ایک جهٹکے سے بال پیچهے کرتا چہرہ اٹهایا تها
“ہوجائے گا کام بلینک چیک سامنے رکهو…”
وجدان کے جواب پر وہ مسکرایا اور کاکا کو اشارہ کیا جس نے بلینک چیک اس کے سامنے رکها تها
“اچها تو کام ہونے کے بعد ملتے ہیں….”
سیگرٹ زمین پر پهینکتا اٹها اور بلینک چیک اٹهایا تها داور نے کاکا کو اشارہ کیا مطلب وہ اس کو باہر تک چهوڑنے جائے گا اور دونوں کمرے سے باہر نکلے
“کاکا تمہارے بچے نہیں ہیں ویسے تو ابهی تم خود کاکا ہو…..”
وجدان نے مسکراہٹ دبائے کہا اور کاکا کا دل کیا اس کا سر پهوڑ دے
“میرے بچے بهی ہوں تو کیا تم نے ان کو کهیلانا ہے…”
وہ دروازے کے پاس پہنچتے چباتے ہوئے بولا
“تمہارے بچوں کو نہیں پر تمہیں کهیلاوں گا…”
گوگلز شرٹ سے اتارتے آنکهوں پر لگاتے اس کو کہتے گاڑی میں بیٹها تها اور زن سے بهگا لے گیا تها
“تمہارا حساب تو لگاوں گا….”
اس کی گاڑی کو چبا کر کہتے اندر چلا گیا تها
…………………………………
سعد کوئی فائل لینے کی غرض سے گهر آیا تها کہ دعا کے روم کے سامنے سے گزر ہوا غیر ارادی طور پر اس جانب نظر گهمائہ تو رکنے پر مجبور ہوگیا ہلکے سے کهلے دروازے سے دعا کو دیکهنے لگا جو دوپٹے سے ساڑهی بنائے خود کے باندهے شیشے کے سامنے کهڑی خود کا معائنہ کرتی حددرجہ کیوٹ لگ رہی تهی
وہ بنا دروازہ کهٹکهٹائے ڈائیرکٹ دروازہ کهولتے اندر داخل ہوا تها دعا اچهلی تهی اور سعد کو دیکهتے اس کی آنکهیں ابلنے کو تهیں
“ساڑهی چاہیے تمہیں…؟”
وہ اسکا جائزہ لیتے ہوئے بولا
“نن-نہیں سعد میرے پاس ساڑهی ہے یہ تو بس…”
وہ شرمندگی سے دوپٹہ کهولنے کی کوشش کرتے ہوئے بولی
“ادهر آو….”
وہ ہاتھ سینے پر باندهے بولا تها تو وہ کپکپاتے جسم کے ساتھ اسکی جانب قدم بڑهانے لگی اور کچھ فاصلے پر اپنے قدم روکے تهے اور ہاتھ ملتی اسکو دیکهنے لگی جسکی نظریں اسکا طواف کررہی تهیں
تیرے لمس کی جو حرارت میسر ہو
کمبخت ہوش کہاں رہے پارساؤں کو
ہولے سے شعر بڑبڑاتے اس کے بالوں کو مٹهیوں میں جکڑا تها اور تهوڑی سے پکڑ کر چہرہ اٹهائے اس کے چہرے کو دیکهنے لگا وہ بهی سانس روکے اس کو دیکھ رہی تهی
“کک-کیا چاہتے ہیں آپ سعد….”
وہ تیز سانس لیتے ہوئے بولی
“تمہیں….”
وہ محبت سے چور لہجے میں بولا
“مم-مطلب…..؟”
وہ سہمی نظروں سے دیکهتے ہوئے بولی سعد نے ہونٹ بهیچے تهے گویا بےلگام ہوتے جذباتوں کو روکا ہو ایک جهٹکے سے پیچهے ہوتا کمرے سے نکلتا چلا گیا تها یہ بات وہ بهی اچهے سے جانتا تها کہ اگر ایک پل بهی اور رکتا تو وہ کسی کهلی کتاب کی طرح اس کے سامنے بیان ہو جاتا
“پتا نہیں چاہتے کیا ہیں انکی بهی سمجھ نہیں آتی……”
دوپٹے کو غصے سے خود کے گرد سے اتارا تها جو اب آسانی سے اتر گیا تها اور منہ بناتے بیڈ پر پهینکتی واشروم میں گهس گئی
…………………………………
“یار وجدان تم کونسی گندی فیلڈ کے پولیس والے ہو یار اتنا نہیں بتا سکتے…”
جب سے وجدان آیا تها تب سے وہ اسکا دماغ کها رہا تها اسکے گندی فیلڈ کہنے پر وجدان نے اسے گهورا اور شرٹ کے بٹن کهولنے لگا
“میں کیا بکواس کررہا ہوں وجدان…”
اس کا صبر جواب دے گیا تو وہ اس کو تکیہ مارتے بولا
“یار برو دیکھ مجهے کیا پتا تیرے والی کیسے تجھ پر لٹو ہوگی شکل تیری ہے نہیں ایسی…”
وہ اس کو مزید چڑاتے ہوئے بولا
“یار وجدان میں مزاق کے موڈ میں نہیں میری شکل پہ یار ہوسپٹل کی آدهی لڑکیاں مرتی ہیں اور تم میرا مزاق بنا رہے….”
وہ برا سا منہ بنائے بولا
“ہاں بالکل اتنی سڑی ہوئی شکل ہے کہ سب مرجاتی ہیں دیکھ کر…”
وہ دهپ سے اس کے پاس گرتے ہوئے بولا
“یار برو اگر کوئی آپکو عقلمند گردان کر آپ سے کسی چیز کا مشورہ مانگ لے تو آپکو چاہیے زیادہ شوخے نہ ہوں…”
وہ چباتے ہوئے بولا تو وجدان نے مسکراہٹ دبائی
“اچها بتاو کیا بات ہے…؟.”
“ایک گهنٹے سے بکواس کررہا ابهی بهی پوچھ رہے کیا بات ہے….”
وہ حیرانگی سے آنکهیں پهاڑے بولا تو وجدان کا قہقہ گونجا
“تمہیں سب بتایا اس خط کے بارے بهی پتا نہیں کس منہوس نے اسے یہ خط لکها اور نام میرا لکھ دیا…”
وہ اداسی سے بولا
“چلو یہ بهی اچها ہوا کہ تجهے اس کا ریکشن پتا چلا اگر تم ڈائیرکٹ اس کو پرپوز کرتے تو کیا پتا جوتیاں پڑ جاتی…”
“یار وجدان تم میرے بهائی ہو مجهے جوتیاں پڑوانے اور میری بےعزتی کے علاوہ تمہیں کوئی کام نہیں…”
وہ ناراضگی سے بولا
“اچها ایسے کرتے تم اس سے بات کرکے مجھ سے ملواو….”
“ہاں تاکہ تم اس کو میری دنیا جہاں کی برائیاں کر ڈالو….”
وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا
“اتنا بےوقوف نہیں تیرا بهائی ڈاکٹر ذوہان مصطفی…”
“اتنا عقلمند بهی نہیں ہے ایس پی وجدان سکندر…”
وہ اس کو پیر سے کمر پر مارتے ہوئے بولا تو وہ کمر سہلاتے اٹها تها
“میرے بهائی جیسا کہ رہا ہوں ویسا کر….”
وہ آگے ہوتے ہوئے بولا
“تم ڈائیرکٹ بابا کو لے جاو امی کو بهی رشتہ مانگ لو اسکے گهر…”
اس نے ایسے کہا جیسے یہ بہت سمپل سی بات ہو
“ہاں بالکل اور وہ فوراً کہیں گے کیوں نہیں ڈاکٹر ذوہان آپکا ہی انتظار تها اوو میرے بهائی یہ جدید دور ہے یہاں لڑکی سے پوچھ کے رشتہ ہوتا ہے وہ دور اور تها جب ماں باپ راضی ہوتے تهے اور بیٹی کو بتا دیتے اور وہ سارا دن پلو منہ میں چبائے شرمائی سی گهومتی رہتی تهی…”
اس نے جیسی اسکی عقل پر ماتم کیا ہوا وجدان زور سے ہنسا تها
“تعبیر یہ بات اچهے سے جانتی ہے کہ میں محبت کرتا ہوں اس سے لیکن وہ ایسے ظاہر کرواتی جیسے میں اسے…”
“اسے بہن مانتے ہو اور وہ تجهے بهائی…”
وجدان اس کی بات کاٹتے شرارت سے بولا تو اس نے ایک اور تکیہ اسکے منہ پر مارا تها وجدان منہ پر ہاتھ رکهے ہنسنے سے باز نہ آیا تها
“پتا نہیں وہ کونسی مہنوس گهڑی تهی جب تم سے میں نے شئیر کیا اور مشورہ مانگا…”
“اچها اب ڈرامے نہ کر میری شادی سے پہلے تعبیر بهابهی جی کو لازم منا لو…”
وہ بهابهی جی پر زور دیتے ہوئے بولا
“کیوں تمہاری شادی سے پہلے کونسی قیامت آنی ہے جو اسکو لازم منا لوں…؟”
“میں چاہتا ہوں ہماری شادی اکهٹی ہو لیکن مولوی میرا نکاح پہلے پڑهائے اور تمہارا نکاح مجھ سے چار منٹ بعد پڑهائے آخر تم چار منٹ چهوٹے ہو نہ…”
اپنی بات مکمل کرتے نچلا ہونٹ دانتوں میں دبائے ذوہان کو دیکها جو اس کو کچا چبانے کے در پر تها
“تیار رہنا ملواوں گا تم سے…”
بیڈ سے اٹهتے ہوئے چبا کر بولا تو وجدان مسکرایا تها
“اچها یار الماری سے کپڑے تو نکال دو…”
اس نے شرارت سے پیچهے سے ہانک لگائی تو وہ رکا اور اسکی جانب پلٹا
“نوکر نہیں میں تمہارا…”
“توبہ وہ دن موت کا ہو جس دن میں تمہیں اپنا نوکر سمجهوں بهلا بهائی بهی نوکر ہوئے ہیں بهائی تو جان ہوتے ہیں دل ہوتے ہیں اور….”
“اوو بس ڈرامے کی دوکان…”
ذوہان چباتے ہوئے بولا اور الماری میں تنگی شرٹ نکال کر اس کے منہ پر اچهالی وجدان ہنسا اور شرٹ کو پکڑا تها ذوہان گهورتے ہوئے کمرے سے نکلا لیکن پیچهے اس کو وجدان کا قہقہ سنائی دیا تها ذوہان کے لب بهی مسکرائے تهے
…………………………………
وجدان رات کے کهانے سے پہلے نیچے آیا اسکا ارادہ کچھ دیر گهومنے کا تها لیکن جب نیچے آیا تو اسکو کسی کی ہچکیوں کی آواز سنائی دی وجدان کے قدم رکے اور ماتهے پر ناسمجهی کے بل پڑے تهے وہ تهوڑا آگے گیا تو عالیاب نیچے صوفے کے ساتھ بیٹهی گهٹنوں میں سر دیے رو رہی تهی
“عالیاب کیا ہوا….؟”
وہ تڑپ کر اسکے قریب بیٹهتے پوچهنے لگا تو وہ ہچکیاں لیتے سر اٹهائے اسے دیکهنے لگی رونے سے سرخ آنکهیں سرخ ناک اور سرخ ہوتا چہرہ وجدان کی دنیا ہلا رہا تها
“کیا ہوا کیوں رو رہی ہو….؟”
وہ چہرے پر آتے بال پیچهے کرتے ہوئے پریشانی سے بولا
“میرا فون ٹوٹ گیا….”
وہ سوں سوں کرتی فون اسکے سامنے کرتے ہوئے بولی جس کی سکرین چکنا چور ہوگئی تهی
“ارے اتنی سی بات پر رو رہی ہو آو نیو دلا دیتا ہوں جیسا کہتی ہو ویسا دلا دوں گا…”
وہ نرمی سے اسکے آنسووں صاف کرتے ہوئے بولا
“یہ والا بہت اچها تها….”
وہ بچوں کی طرح آنکهیں رگڑتے بولتی وجدان کے جذباتوں کو بےلگام کررہی تهی
“میں اس سے بهی اچها لے کر دوں گا….”
وہ محبت سے بولا
“اور یہ فون…؟”
اس نے فون اسکے سامنے لہرایا
“یہ تو ٹوٹ گیا یہ اب مشکل سے سہی ہوگا اسکا کچھ بهی کردو…”
وہ اسکی گال سہلاتے ہوئے بولا
“خود کی سیلری سے لے کر دیں گے…”
وہ حکم دیتے ہوتے بولی تو وجدان مسکرایا
“خود کی سیلری سے ہی لے کر دوں گا چلو اٹهو اب….”
وہ اس کو اٹهاتے ہوئے بولا تو وہ بهی آنسووں صاف کرتے اٹهی تهی اور اسکے ساتھ باہر جانے لگی
…………………………………
“سعد میں یہ کیا سن رہی ہوں…”
زرش سعد کے کمرے میں آتی غصے سے بولی
“کیا سن لیا آپ نے….؟”
وہ بیگ میں کپڑے رکهتے ہوئے بولا
“تمہارے بابا بتا رہے تهے تم ایک دو مہینے کے لیے اسلامہ باد جارہے ہو تمہارا وہاں کوئی کام بهی نہیں پهر بهی…”
وہ اسکا رخ اپنی جانب کرتے ہوئے بولیں
“ہاں جا رہا ہوں آجاوں گا واپس….”
“کیوں جا رہے ہو سعد…؟”
وہ نم آنکهوں سے بےبسی سے بولیں
“امی جان بس کچھ دیر دور جانا چاہتا ہوں خاص کر دعا سے دور….”
وہ واپس کپڑے رکهتے ہوئے بولا
“کیوں جانا چاہتے ہو بتاو مجهے..”
وہ واپس اسکا رخ اپنی جانب کیے بولا
“امی میں بےبس ہوتا ہوں دعا کو دیکھ کر کیوں نہیں سمجهتی آپ نہیں رہا میرا خود پر اختیار نہیں ہوتا صبر….”
وہ اسکو کندھوں سے تهامتے ہوئے بولا
“کیوں نہیں ہوتا جہاں اتنے سال کیا وہاں اور سہی…”
“امی بےانتہا پیار کرتا ہوں دعا سے بہت میری حالت دیکهیں بابا بهی تو اپ سے پیار کرتے آپکے بنا گزارا نہیں…”
“وہ شوہر ہیں میرے اور میں بیوی ہوں…”
“اور وہ محبت ہے میری میں آپکو بابا کو مصطفی چاچو کے سامنے شرمندہ نہیں کرنا چاہتا خود کی بےاختیاری سے اسی لیے جا رہا ہوں…”
سعد نے انکا ہاتھ چومنا چاہا لیکن زرش نے فوراً کهینچا تها
“ہماری محبت نظر نہیں آتی تمہیں ہاں تمہیں خود کے سامنے سب کا پیار نظر نہیں آتا سعد….”
وہ آنسووں صاف کرتے ہوئے بولی
“امی پلیز…”
وہ بےچین ہوا تها
“جو ہوا اس میں دعا کا قصور نہیں اور وہ تو سب جانتی بهی نہیں لیکن تم تو جانتے ہو نہ تم تو سمجهدار ہو نہ میں صرف دعا کو اپنی بہو بناوں گی سعد لیکن تهوڑا وقت لگے گا وہ بچی ہے ابهی لیکن تم بچکانہ حرکتیں مت کرو…”
خفگی سے کہتی کمرے سے نکل گئی جبکہ سعد سر پر ہاتھ رکهتے اردگرد چکر کاٹتنے لگا پهر رک کر بیڈ پر بیگ کو دیکها پهر غصے سے کپڑوں سے بهرا بیگ اٹها کر دیوار پر مارا تها کپڑے نکل کر زمین پر پهیل گئے تهے وہ سمجهتا تها دعا اسکو چهوڑ جائے گی سب جاننے کے بعد لیکن اگر وہ چهوڑ گئی تو سعد خود کو ختم کرلے گا
…………………………………
“عالیاب دیکھ لو کونسا فون لینا ہے….”
وہ فون کان سے لگائے عالیاب سے بولا تو وہ اردگرد دیکهنے لگی
“بهائی سب سے مہنگا والا فون دیکهاو…”
وہ سامنے کهڑے آدمی سے بولی تو اس نے ایک فون دیکهایا جو اس کو پسند نہ آیا تها
“بهائی سب سے مہنگا کہ سکندر کی جیب خالی ہو جائے…”
وہ آگے ہوتی راضدرانہ انداز میں بولی وہ آدمی مسکرایا
“یہ آپکے شوہر ہیں…؟”
“ہائے توبہ نہیں کزن ہیں میرے ایس پی وجدان سکندر…”
وہ آنکهیں بڑی کئیے بولی سکندر جو پیچهے فون بند کیے کهڑا تها اسکی بات سن کر مسکرایا لیکن اس آدمی کو مسکراتے دیکھ اسکی مسکراہٹ غائب ہوئی تهی
“اگر تمہارا مسکرانا ختم ہو گیا ہو تو فون دیکهاو…”
وہ غصے سے دهاڑتے ہوئے بولا عالیاب بالکل سیدهی ہوئی اور وہ بهی جلدی سے فون دیکهانے لگا تقریباً پندرہ منٹ بعد اسکو ایک فون پسند آگیا تها فون خریدنے کے بعد وہ دونوں اب گاڑی میں موجود تهے
“یہ بہت اچها ہے سکندر…”
وہ موبائل میں سمز ڈالتے چلاتے ہوئے بولی تو وہ مسکرایا
“اور میں….؟”
وہ آگے ہوتے ہوئے بولا
“آپ بهی بہت اچهے ہیں…”
وہ اسکی گال کهینچتے اسکو حیرت کے سمندر میں ڈبو گئی تهی وجدان نے اسکی گال کو انگوٹهے کی مدد سے سہلایا تها اور بےخود ہوتے اسکی گال پر اپنے لب رکهے تهے وہ اس کے سینے پر ہاتھ رکهے پیچهے دهکیلنا چاہا وہ پیچهے ہوا اور اسکو دیکها جو آنکهیں پهاڑے اسکو دیکھ رہی تهی
“میری گال کهینچی اسکے بدلے…”
وجدان مسکرا کر بولا اور گاڑی سٹارٹ کی اپنی بےخودی پر غصہ تو اسے بهی بہت آیا لیکن وہ وجدان ہی کیا جو شرم محسوس کرلے عالیاب بهی دو منٹ بعد بهلائے اپنا نیا فون دیکهنے لگی
…………………………………
“وجدان کوئی گڑبڑ تو نہیں ہوگی….؟”
ذوہان وجدان کی گاڑی میں موجود ہوسپٹل کے سامنے تهے
“کچھ نہیں ہوتا میرے بهائی تم جاو میں انتظار کرتا ہوں سب ٹهیک ہو جائے گا آج…”
وہ اسکا کندها تهپتهپاتے ہوئے بولا تو وہ گاڑی سے باہر نکلا اور کوٹ ہاتھ پر ڈالے ہوسپٹل کی جانب قدم بڑهائے پیچهے وجدان ذوہان کو سوچتے مسکرایا تها
ذوہان اندر گیا تو دوسرے فلور پر پہنچتے سامنے ہی اسکو تعبیر نظر آئی تهی جو فون پر کسی سے بات کررہی تهی ذوہان گہرہ سانس لیتے اسکی جانب گیا تها ساتھ اردگرد دیکها جہاں تعبیر کے علاوہ کوئی موجود نہ تها صبح آٹھ بجے کا وقت تها اسی لیے ابهی یہ جگہ سنسان تهی
“ڈاکٹر تعبیر…”
ذوہان نے اسکے پاس جاتے پکارا تو اس نے فون بند کرتے ناسمجهی سے اسکی جانب دیکها تها
“وہ میں کچھ کہنا چاہتا تها…”
وہ ہاتهوں کو دیکهتے کنفیوز سا ہوا تعبیر کا دل زور سے دهڑکا تها
“جی بولیں…”
اسنے بامشکل سے لفظ ادا کی دهڑکنیں تو ذوہان کی بهی ادهم مچا رہی تهی وجدان کے کہنے پر وہ آتو گیا تها اب اسکو سمجھ نہیں آرہا تها کیا کہے
“وہ…”
وہ گهبرایا تها
“وہ آئی لو یو…”
گہرہ سانس لیتے ایک سانس میں بولا اور آنکهیں بند کیں تهی پهر آنکهیں کهول کر تعبیر کو دیکها جو حیرت کا مجسمہ بنے اسکو دیکھ رہی تهی
“کک-کیا..؟”
وہ مشکل سے بولی تهی
“آئی لو یو….”
وہ پهر سے بولا اور اس بار تعبیر کا ہاتھ اٹها اور ذوہان مصطفی کے چہرے پر اپنی چهاپ چهوڑ گیا تها ذوہان منہ پر ہاتھ رکهے اسکو حیرت سے دیکهنے لگا اسکو اسکی توقع تو ہرگز نہیں تهی
“آپکی ہمت بهی کیسے ہوئی ایسی گهٹیہ بکواس کرنے کی….”
وہ چلائی تهی
“یہ گهٹیہ بکواس نہیں ہے….”
“تو اور کیا ہے اج پرپوز کیا میں نے جیسے ہی اکسیپٹ کیا ڈیٹ پر لے جائیں گے گهٹیا حرکتیں کریں گے….”
وہ اسکی بات کاٹتے ہوئے بولی ذوہان آنکهیں پهاڑے اسکو دیکھ رہا تها
“میں ایسا آوارہ نہیں جو یہ چیپ حرکتیں کروں…”
وہ خود کو نارمل کرتے ہوئے بولا
“ہر مرد یہی کہتا ہے کہ وہ ایسا نہیں لیکن جب موقعہ ملے تو بهرپور فائدہ اٹهاتا ہے آپکو ملے گا تو آپ بهی جانور…”
“شٹ اپ….”
وہ غصے سے اسکی بات کاٹتے بولا تو وہ خاموشی سے اسکو دیکهنے لگی جسکا چہرہ غصے سے سرخ ہو نیلی آنکهوں میں لہو دوڑنے لگا تها
“سمجهتی کیا ہیں اپ خود کو ہاں محبت کرتا ہوں شادی کرنا چاہتا ہوں رشتہ لاوں گا….”
وہ آگے ہوتے ہوئے غصے سے بولا بهلا وہ کیسے اپنی محبت کی توہین برداشت کرسکتا تها
“سب جهوٹے ہوتے ہیں فریبی ہوتے ہیں مجهے یقین نہیں تم بهی جهوٹے ہوگے فریبی…”
“بکواس بند کرو اپنی….”
وہ اسکو بازو سے سختی سے پکڑتا قریب کرتے غرا کر بولا تها
“میں نے تمہیں کبهی چهوا ہے کبهی تمہارے اکیلے پن کا فائدہ اٹهایا ہے کتنی بار اکیلی ملی ہو تم لیکن تمہارا دماغ گهٹیا ہوا پڑا ہے اگر نہیں محبت تمہیں صاف کہو میری محبت کی توہین کی تو جان سے مار دوں گا سمجهی ذوہان مصطفی اتنا بذدل نہیں سمجهی…”
تعبیر کو اسکی انگلیاں اپنے بازوں میں گڑتے ہوئے محسوس ہو رہی تهیں اسکے پہلے اردگرد دیکها جہاں کوئی نہیں تها پهر ذوہان کی آنکهوں میں دیکها جو غصے سے سرخ تهیں تعبیر نے اپنی سہمی نم آنکهیں جهکائیں تهی
“ذوہان درد ہو رہا ہے چهوڑیں….”
وہ بهیگے لہجے میں بولی تو ذوہان نے ایک جهٹکے سے اسکا بازو چهوڑا تها کہ وہ گرتے گرتے بچی تهی
اور ایک نظر اس پر ڈالتے اپنے روم کی جانب قدم بڑهائے پیچهے اسکے آنسووں اسکی آنکھ سے پهسلے تهے اور آنسووں بےدردی سے رگڑتے الٹی سمت قدم بڑهائے تهے
…………………………………
ذوہان روم میں آتے کوٹ غصے سے کرسی پر پهینکا تها پهر پانی کا جگ اٹهاتے دیوار پر دے مارا کانچ کے بےشمار ٹکرے زمین پر بکهر گئے تهے
“ہوس پرست سمجهتی ہے بےوقوف لڑکی….”
ذوہان کرسی کو ٹهوکر مارتے ہوئے بولا کہ اسکا فون رنگ ہوا اسنے دیکها جہاں “چار منٹ بڑا بهائی” لکها آرہا تها اسنے خود کو پرسکون کرتے فون اٹهایا تها
“کیا بنا ذوہان کہاں رہ گئے ہو تعبیر نہیں ملی کیا….”
وجدان گاڑی سے ٹیک لگائے کهڑا ذوہان سے پوچھ رہا تها
“وجدان تم ڈیوٹی پر چلے جاو تهوڑا کام ہے میں آج تعبیر سے نہیں ملوا سکوں گا…”
اسنے گہرہ سانس لیتے ہوئے کہا
“کیا ہوا برو سب خریت ہے….؟”
اسکی پریشان زدہ آواز گونجی
“ہاں فکر نہیں کرو بهائی تم ڈیوٹی پر جاو تمہیں دیر ہو رہی ہوگی…”
“بهاڑ میں جائے ڈیوٹی تم بتاو کہاں ہو تم میں آرہا ہوں تم مجهے ٹهیک نہیں لگ رہے…”
“ارے یار ایک ارجنٹ اوپریشن ہے رات میں ملتے ہیں نہ ابهی کام ہائے سویٹ ہارٹ…”
وہ پهیکی ہنسی ہنستے بولا
“اچها رات میں بات کرتے…”
وہ مطمئین نہ ہوا تها یہ بات ذوہان بهی جانتا تها وجدان نے فون کاٹا اور گاڑی میں بیٹهنے لگا کہ اسکو تعبیر آتے دیکهائی دی تهی ذوہان نے اسکو تعبیر کی پک دیکهائی تهی جس پر وجدان نے اسے بہت تنگ کیا تها
“ڈاکٹر تعبیر….”
تعبیر جو اسکے پاس سے گزرنے لگی تهی اپنے نام کی پکار پر رک کر اسکی جانب دیکها جو پولیس یونیفارم میں ملبوس تها وجدان نے دیکها اسکا چہرہ رویا رویا تها
“میں ایس پی وجدان سکندر ہوں ڈاکٹر ذوہان مصطفی کا بهائی…..”
اسنے اپنا تعارف کروایا تو تعبیر نے اس سے نظریں چرائیں
“جی کیا کام ہے آپکو…”
وہ بهیگے لہجے میں بولی
“تمہارے اور ذوہان کے بیچ کچھ ہوا ہے وہ مجهے یہاں تم سے ملوانے لایا تها لیکن اب مجهے کہ رہا کہ ایمرجنسی کام ہے میں ڈیوٹی پر چلا جاوں لیکن تمہارا رویا چہرہ بتا رہا ہے کہ کچھ ہوا ہے…”
وہ اسکی جانب دیکهتے ہوئے بولا
“ہمارے بیچ ایسا کچھ نہیں ایس پی وجدان سکندر اور نہ ہی ذوہان سے میرا کوئی تعلق ہے جس کی بنا پر وہ آپ کو مجھ سے ملوانے لایا تها…”
وہ تڑخ کر بولی تهی
“کیا ہوا ہے بتاو مجهے…”
وہ ماتهے پر بل ڈالے بولا
“آپ اور آپکا بهائی اپنے کام سے کام رکهیں تو بہتر ہوگا اور انکو کہیں اپنی سچی محبت سنبهال کر رکهیں مجھ سے دور رہیں….”
“حد میں رہیں ایک لفظ برداشت نہیں کروں گا…”
وہ مزید کوئی فضول بولتی وجدان بیچ میں ٹوک کر بولا تو وجدان کو گهورتی وہاں سے چلی گئی جبکہ وجدان بهی گہرہ سانس لیتا گاڑی میں بیٹها تها وہ جانتا تها اسکے بهائی کو اسکی ضرورت ہے اور وہ یہ بهی جانتا تها کہ ذوہان کو ابهی تنہائی کی بهی ضرورت ہے
