Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

“نن-نکاح کب ہوا یہ سب کیا میں بیوی…”
وہ سر تهامے بولی تهی
“دعا تم پہلے پوری بات سنو میری….”
وہ اس کے قریب ہوتے بولا لیکن وہ پیچهے ہوئی اور روتے ہوئے کمرے نکلتی زور سے دروازہ بند کیا اور اپنے کمرے کی جانب بهاگی سعد بهی دروازہ کهول کر پیچهے کیا اور اس کے کمرے کا دروازہ ہولے سے کهٹکهٹانے لگا
“دعا دروازہ کهولو…”
وہ آہستہ آواز میں اردگرد دیکهتے ہوئے بولا لیکن اس نے دروازہ نہ کهولا تها وہ باہر سر تهامے اب آگے ہونے والی قیامت کے بارے میں سوچ رہا تها پهر کچھ سوچتے نیچے کی جانب تیز تیز قدم بڑهانے لگا

“سعد کیا کہ رہے بیوی ہوں ان کی مجهے کیوں نہیں پتا میں کب بیوی بنی اور مجهے کسی نے بتایا بهی نہیں پاپا امی کسی نے نہیں وجدان بهائی ذوہان بهائی کسی نے نہیں بتایا کیا سعد جهوٹ بول رہے تهے نہیں وہ اتنی بڑی بات جهوٹ میں نہیں بول سکتے تو پاپا امی یہ سب کیا ہو رہا ہے…”
وہ بالوں کو دونوں ہاتهوں میں جکڑے زمین پر بیٹهی خود سے بڑبڑا رہی تهی دماغ پهٹنے کے قریب تها
…………………………………
“میں آسکتا ہوں اندر….؟”
سعد نے عجلت میں دروازہ کهٹکهٹاتے کہا
“آجاو بیٹا….”
رامز کے اجازت دیتے ہی وہ اندر داخل ہوا سامنے
زرش بیٹهی جبکہ رامز لیتا تها اور اس کو دیکهتے وہ بهی اٹها تها
“بیٹا کیا ہوا…؟”
سعد کے پریشان سے تاثرات دیکهتے زرش نے پریشانی سے پوچها

“امی جان سب غلط ہو گیا…؟”
وہ بےبس سا بولا
“کیا ہوا بیٹا….؟”
وہ پریشانی سے بیڈ سے اٹهی تهیں جبکہ رامز بهی اٹها
“امی دعا جان گئی ہے کہ وہ میری بیوی ہے…”
یہ کہتے اس نے چہرہ جهکایا
“کیا….؟”
رامز اور زرش دونوں کے منہ سے بےساختہ نکلا تها
“امی مجهے معاف کردیں میں ایسا نہیں چاہتا تها میں بےخود ہوگیا تها اور میری بےخودی دعا سمجھ نہیں رہی تهی وہ مجهے غلط سمجھ….”
وہ ابهی اتنا ہی بولا کہ اپنی گال پر پڑنے والا ٹهپڑ اس کو خاموش کروا گیا تها

“تم نے سب خراب کردیا اب ہم سب کو کیا جواب دیں گے تم بیوقوف ہو کیا تمہارا دماغ خراب ہو گیا….”
وہ اس پر چلائی تهی وہ خاموشی سے چہرہ جهکائے کهڑا تها
“مجهے دعا کو دیکهنا ہوگا اور بہت برے لگ رہے ہو تم مجهے…..”
ایک دم سے دعا کا خیال آتے بولی اور آخر میں شکایتی نظروں سے اس کو دیکھ کر بولتی کمرے سے باہر نکلی سعد نے اپنے باپ کو دیکها وہ بهی شکایتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تها

“بابا پلیز میں ایسا نہیں چاہتا تها….”
وہ بےبسی کی انتہا پر تها
“اتنی بڑی غلطی کرکے کہ رہے ہو ایسا نہیں چاہتے تهے شرمندہ کردیا تم نے مجهے میں مصطفی کو کیا جواب دوں گا کہ میرا ستائس اٹهائس سالہ بیٹا اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا اور سمجهداری کا مظاہرہ کرتے وہ یہ بچکانہ حرکت کر گیا ہے….”
اپنے باپ کے الفاظوں سے وہ شرم سے چور ہو گیا تها
“جاو سعد اور سوچو جو قیامت تم شروع کر چکے ہو اس کو ختم کیسے کرنا ہے تم جانتے ہو جب دعا کو حقیقت معلوم ہوگی وہ کیا کر سکتی ہے کبهی سوچا ہے اگر نہیں سوچا تو جا کر سوچو….”
وہ بنا اسکی طرف دیکھے بولا اور دوسری جانب منہ کیا وہ دق پل اپنے باپ کی پشت کو دیکهنے لگا پهر ضبط کی انتہا کرتا کمرے سے نکل گیا رامز نے آنکھوں میں آئی نمی کو مشکل سے چهپایا تها
…………………………………
“دعا بیٹا میں میں تمہاری بڑی امی ہوں زرش ہوں دروازہ کهولو بیٹا…”
زرش کی محبت سے لبریز بات سنتے اس نے جهٹکے سے سر اٹها اور جلدی سے آنکهیں صاف کرتی اٹهی اور شیشے میں خود کو دیکها اس کا چہرہ اس کے رونے کی بےدهڑک
گواہی دے رہا تها اس نے خود کو نارمل کرتے گہرہ سانس لیتے دروازہ کهولا اور پیچهے ہو کر اندر آنے کی اجازت دی اور دروازہ بند کیا تها زرش نے غور کیا وہ اس کی جانب دیکهنے سے گریز کررہی تهی

“دعا بیٹهو بیٹها….”
زرش نے بیڈ پر بیٹهتے اس کو بیٹهنے کو کہا تو وہ بیٹهی تهی
“میری طرف دیکهو…”
اس نے اس کا چہرہ اٹهایا سوجهی آنکهیں دیکھ کر اس کا دل کٹا تها
“میری جان سعد نے مجهے بتایا….”
“بڑی امی آپ بتائیں سعد سہی کہ رہے تهے مم-میں بیوی ہوں ان کی…؟”
اس نے زرش کے ہاتھ تهامتے نم آنکهوں سے اس کی جانب دیکهتے ہوئے بولا تو زرش نے اثبات میں سر ہلایا دعا نے ایک دم سے ان کے ہاتھ چهوڑے اور پیچهے ہوتی چہرہ جهکائے بیٹھ گئی
“مجهے سمجھ نہیں آرہا میں تمہیں کیا کہوں بیٹا میں شرمندہ ہوں….”
“بڑی امی مجهے بتائیں یہ نکاح کب ہوا کیا میں چهوٹی تهی…؟ کتنی چهوٹی کہ مجهے ہوش نہیں اپنے نکاح کی….؟مجھ سے یہ سب کیوں چهپایا…؟بتائیں…”
وہ ایک دم میں اتنے زیادہ سوال کر بیٹهی جسکا جواب زرش کے پاس ہونے کے باوجود دینے سے قاصر تهی

“دعا میں اس کا جواب نہیں دے سکتی….”
وہ چہرہ جهکائے بولی
“کیوں بڑی امی ایک دم سے سعد کہ رہے ہیں میں ان کی بیوی ہوں آپ بهی کہ رہی ہیں یہ بات سچ ہے تو کیوں جواب نہیں تو پهر اس کا جواب سعد دیں گے…”
وہ اٹهتے ہوئے بولی تو زرش نے اس کا ہاتھ پکڑتے اس کو واپس بیٹهایا تها
“دعا پلیز ابهی صبر رکهو سب پتا چل جائے گا اگر زرا سی بهی عزت ہے تمہاری بڑی امی کی تمہاری نظر میں تو پلیز بات مان جاو….”
وہ اس کے آنسووں صاف کیے بولی تو اس نے چہرہ جهکایا تها زرش بهی اس کے جهکے سر کو دیکهنے لگی
…………………………………
“کیا ہوا رامز خریت سب…..؟”
مصطفی نے اس کو بلانے کی وجہ پوچهی اس وقت کمرے میم زرش رامز آبریش مصطفی شہرام پریہان میرب اور احتشام موجود تهے
“مصطفی مجهے معاف کردو…”
وہ شرمندہ سا بولا تها
“ارے ایسے کیوں کہ رہے ہو کیا بات ہے….”
وہ اس کو ایسے معافی مانگتے دیکھ بولا
“میں اپنا وعدہ پورا نہ کر سکا میں بہت شرمندہ ہوں….”
شرمندگی اس کے چہرے سے واضع جهلک رہی تهی
“رامز بهائی شرمندہ مت کریں بتائیں ہمیں کیا بات ہے کیوں پریشان ہیں….؟”
اس بار شہرام بولا

“دعا جان گئی ہے کہ وہ سعد کی بیوی ہے….”
اس کی بات پر سب سکتے میں ڈوبے تهے
“یہ تم کیا کہ رہے ہو….؟”
مصطفی نے ہوش میں آتے ساتھ پوچها
“سعد سے غلطی ہوگئی ہمیں معاف کردو….”
اسکی آنکهیں نم تهیں
“میں دعا ک دیکهتی….”
آبریش جلدی سے اٹهی تهی
“میں مل چکی ہوں اس کو سمجهایا ہے آبر….”
زرش جلدی سے بولی تو وہ پریشان سی واپس بیٹهی تهی

“بهائی اب کیا ہوگا….؟”
اب کی بار احتشام بولا تها
“کیا دعا کو سب حقیقت بتانا ہوگی….؟”
میرب نے پریشانی سے کہا
“مصطفی اس کو سنبهالنا بہت مشکل ہوگا مصطفی اب کیا کریں گے….”
آبریش روتے ہوئے بولی لیکن وہ خاموش تها
“سعد یہ سب کیسے کر گیا کیا وہ ہر چیز سے واقف نہیں تها….”
پریہان بهی بولی تهی
“مصطفی پلیز کچھ بولو یار میں شرمندہ ہوں مجهے معاف کردو….”
رامز مصطفی کو خاموش دیکھ کر بولا تها
“عالیاب اور پارس سمیت سب کو بلاو حقیقت بتانے کا وقت آگیا ہے اس کے بعد گزرنے والے حالات کو دعا کو ہم سب نے سنبهالنا ہے….”
وہ خود پر قابو پاتے ہوئے بولا

“مصطفی میں ایک بار پهر دعا کو کهونا نہیں چاہتی میں اب زندہ نہیں رہ سکوں گی….”
وہ ہچکیاں بهرتے اس کا بازو تهامے بولا جو اسی خوف میں مبتلا تها مصطفی ہی کیا وہاں موجود سب لوگوں کے دلوں میں آنے والے وقت کا خوف موجود تها
…………………………………
ذوہان بیڈ پر بیٹها مسلسل تعبیر کے بارے میں سوچ رہا تها وجدان نے اسے کہا تها کہ وہ خود اس کی محبت میں گرفتار کو جائے گی بس صبر رکهنا ہوگا اس نے دل کی تڑپ پر تعبیر کا نمبر ملانا چاہا لیکن پهر رک گیا اور واپس موبائل رکهتا آنکهیں موندیں تهی

“تو اور کیا ہے اج پرپوز کیا میں نے جیسے ہی اکسیپٹ کیا ڈیٹ پر لے جائیں گے گهٹیا حرکتیں کریں گے….”
تعبیر کے الفاظ اس کے کانوں میں گونجے تهے
“بےوقوف لڑکی…”
وہ آنکهیں کهولتا بڑبڑایا تها اور پهر موبائل پر میسج کی ٹیون ہوتے اس نے موبائل اٹهایا اور کهولا جہاں وجدان کا میسج تها
“برو رامز چاچو کے کمرے میں آجاو بابا نے سب کو بلایا ہے وہاں…..”
وجدان کا میسج پڑتے “اوکے” کا ٹیکسٹ کیا اور اٹها تها حیرانگی تو ہوئی لیکن یہ تو اب وہاں جا کر ہی علم ہونا تها کہ کیا بات ہے
…………………………………
ذوہان رامز کے کمرے میں داخل ہوا تو سب وہاں موجود تهے “السلام و علیکم خریت تو ہے سب اکهٹے ہیں ایسے…”
وہ سب کو ایک نظر دیکهتے بولا اور نظر دعا پر پڑی جو مصطفی کی بغل میں بیٹهے سرخ چہرہ اور سوجهی آنکهیں لیے بیٹهی تهی
“دعا کیا ہوا…؟”
وہ اس کے پاس ہوتے پریشانی سے بولا
“بیٹا بیٹهو….”
شہرام نے ذوہان سے کہا تو وہ ایک نظر دعا پر ڈالتا وجدان کے ساتھ بیٹها تها سعد مکمل طور پر نظریں جهکائے بیٹها تها مصطفی نے اس سے بات تک نہ کی تهی وہ خود کو قصور وار ٹهہرا رہا تها

“عالیاب اور پارس کے علاوہ تقریباً سب ہی اس بات سے واقف ہیں اب کہ دعا سعد کے نکاح میں ہے…”
مصطفی کی بات سن کر پارس اور عالیاب کو جهٹکا لگا تها البتہ ذوہان اور وجدان کو بهی لگا تها لیکن ان کی حیرانگی اس بات پر تهی کہ اس بات کو کهولنے کا مقصد اور وہ بهی دعا کے سامنے تو کیا دعا یہ بات جان گئی تهی

“بہت سی ایسی باتیں ہیں جو وجدان اور ذوہان کو بهی نہیں پتا میں اب چاہتا ہوں کہ سب ہر چیز سے واقف ہو جائیں……”
مصطفی ٹهہر ٹهہر کر ہر الفاظ بیان کررہا تها
“لیکن بابا…”
ذوہان نے بولنا چاہا لیکن وجدان نے اس کو بولنے سے باز رکها اور آنکهوں سے خاموش رہنے کا اشارہ کیا تها
…………………………………
تعبیر گهر آئی تو روحا اسی کے انتظار میں تهی
“تعبیر تم نے وجدان کے بهائی ذوہان سے وجدان کے بارے میں کیا کہا ہے….؟”
وہ جو سیڑهیاں چڑهنے لگی تهی اپنی بہن کی آواز پر رکی اور پیچهے پلٹی تهی
“کیا مطلب آپی…؟”
“میرا مطلب تم اچهے سے جانتی ہو تم حقیقت سے واقف نہیں تم کیسے کسی کے بارے میں کچھ بهی کہ سکتی ہو…؟”
وہ غصے سے بولی
” وہ دهوکے باز اسکا بهائی دهوکے باز….”
“خاموش رہو تعبیر ذوہان کا مجهے نہیں پتا لیکن وجدان کو دهوکے باز کہنے والی تم کون ہوتی ہو….؟”
وہ تقریباً چلائی تهی

“آپی آپکی خوشیوں کا قاتل آپکے دکھ کی وجہ صرف وہ وجدان ہے آپ ہر روز مرتی ہیں صرف وجدان کی وجہ سے…..”
وہ بهی غصے سے بولی
“آدهے سچ سے پورا جهوٹ اچها یہ کہاوت بہت سہی بنائی ہے تم بنا کسی کو جانے اس کے بارے رائے ہرگز نہیں دے سکتی….”
“آپی ہم آپکو ایسے نہیں دیکھ سکتے…”
وہ نم آنکهوں سے بولی
“تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ پوری بات جانے بنا کچھ بهی کہ دو….”
خفا نظروں سے کہتی اس کے پاس سے چلی گئی جبکہ وہ بهی گہرہ سانس لیتے اوپر چلی گئی تهی