No Download Link
Rate this Novel
Episode 34
وجدان کو روم میں بیٹهے تقریباً ایک گهنٹہ ہونے والا تها لیکن عالیاب تهی کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تهی وہ کبهی گیم کهیلتا تو کبهی فیس بک تو کبهی وٹس ایپ یا کچھ بهی کهول کر یوز کرنے لگتا آخر اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تو اس نے ہونٹ سختی سے بهینچے اس کو کال لگائی تهی جو دوسری بیل پر اٹها لی گئی تهی
“کہاں ہو…؟”
وہ سنجیدگی سے بولا
“پری مامی پاس ہوں…”
“کیا تمہیں نہیں پتا تها تمہارا شوہر آنے والا ہے میں نے کہا تها نہ کہ کچھ دیر میں آرہا ہوں ایک گهنٹے سے زیادہ وقت ہوا….”
اس کے غصے سے کہنے پر اس نے سر پر ہاتھ مارا باتوں باتوں میں تو اس کے زہن سے ہی نکل گیا کہ وجدان نے اس کو میکرونی بنانے کا کہا تها اور کہا تها کہ وہ آنے والا ہے
“سس-سوری سکندر میں ابهی میکرونی بنا کر لائی…”
وہ شرمندہ سی بولی
“ضرورت نہیں اب کمرے میں ہی آجائیں بڑی مہربانی ہو گی…”
اس کے طنز پر وہ مزید شرمندہ ہوئی اور فون بند کرتی پریہان کی گال چومتے کمرے سے نکلی پیچهے وہ مسکرا دی تهی
عالیاب کمرے کا دروازہ کهولتی اندر داخل ہوئی لیکن اندر گپت اندهیرا تها اور اگلے ہی لمحے وہ زمین بوس ہوتی کراہ اٹهی تهی وجدان جو اس کے ہیولے کو دیکھ رہا تها اس کے کراہنے پر آنکهیں گهمائیں اور اس کی جانب گیا تها
“عجیب ہو یار تم بهی نظر نہیں آتا…
وہ نیچے بیٹهتے لہجے میں خفگی سموئے بولا اور اندهیرے میں ہی اس کو کندهوں سے تهاما تها
“ہاں تو اندهیرے میں کسے نظر آتا ہے…”
وہ اس کی بات پر نم لہجے میں بولی تو اس نے اسے اٹهایا تها
“اندهیرا کیوں کیا ہے اتنا…؟”
وہ اس کے بازو پر ہاتھ رکهتے اردگرد دیکهتے بولی جب کہ وجدان تهوڑا پیچهے ہوا
“کہا جا رہے ہیں…؟”
وہ پیچهے مڑتی بولی اور اگلے ہی لمحے پورا کمرہ روشنی سے نہا گیا تها
“آپ نے اندهیرا…”
اس سے پہلے وہ مزید بولتی وجدان نے اس کا رخ بیڈ کی جانب کیا تها اور وہ بیڈ کی جانب دیکهے بےساختہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھ گئی تهی
“سکندر….”
وہ صرف اتنا ہی بول سکی اس کی خوشی پر وہ مسکرایا لیکن ناراضگی یاد کرتے فورا سے اپنے لب سکیڑے تهے
“بہت بہت خوبصورت…”
وہ واپس مڑتے اس کے گلے لگتے بولی اور دوبارہ اس جانب دیکها جہاں پیچهے بیڈ پر موجود وجدان اور ذوہان کی بڑی سے تصویر کے نیچے بالونز تهے جن سے چاکلیٹس لٹک رہیں تهی اور بیڈ پر پهولوں سے ہارٹ بنائے اندر لیز چاکلیٹس کوکومو اور بہت سا سامان جو عالیاب نے منگوایا تها جب کہ اس کے سائیڈ پر ٹیڈی بیر پڑا تها جس کے ساتھ بهی چاکلیٹس موجود تهیں
“یہ بہت اچها ہے سکندر…”
وہ اگے بڑهتی ہارٹ میں موجود ان سب چیزوں کو اچهالتے بولی تهی
“اور تم نے میرا سارا سرپرائز خراب کیا…”
وہ منہ بنائے بولا تو وہ شرمندگی سے اس کی جانب پلٹی
“سوری…”
وہ کانوں کو ہاتھ لگائے بولی تو اس نے نگاہیں پهیریں تهی
“سکندر سوری نہ……”
جس جانب وجدان نے منہ پهیرا تها وہ اس جانب آتے بولی تهی
“دوسرے ہی دن شوہر کو بهول گئی…”
“نہیں بهولی نہیں مامی ساتھ بیٹھ گئی تهی….”
وہ جلدی سے بولی تو اس نے گهورا اور وہ واپس پلٹا کہ عالیاب نے اس کو پیچهے سے ہگ کیا تها
“سوری سکندر دوبارہ ایسے نہیں کرونگی پلیز ناراض نہ ہوں…..”
وہ اس کی ناراضگی کی وجہ سے نم آنکهوں سے بولی تو اس نے پلٹ کر اس کو کندهوں سے تهاما تها
“تمہاری یہ نم آنکهیں اور نم لہجہ مجهے کسی صورت میری ناراضگی ہٹا نہیں سکتا…”
اس کی بات سنتے اس سے پہلے اس کی آنکهوں سے آنسووں پهسلتے وہ ہنسا اور اس کو ہگ کیا تها
“مزاق کر رہا ہوں جانان میں تو دروازہ بند کرنے والا تها کہیں نہیں جانے والا تها…”
اس کی بات سنتے اب گهورنے کی باری عالیاب کی تهی وجدان نے ہنستے ہوئے دروازہ لاک کیا اور اس کے پاس آیا
“وجدان سکندر تم سے کبهی خفا نہیں ہو سکتا ان چهوٹی چهوٹی باتوں کو میں ہمارے بیچ فاصلوں کا باعث نہیں بننے دوں گا میں دوریاں بڑهانا تو دور کی بات جو اب تک باقی ہیں ان کو ختم کرنے والا ہوں….”
وہ اس کو کمر سے تهامے قریب کرتا بولا تو وہ شرمندہ سی ہوئی تهی
“بہکنے دو کہ یہ رات، نہیں رات نہیں دن ہے بہکنے کا….
وہ اس کے کندهوں سے دوپٹا سرکاتے بولا جو کہ اب زمین بوس ہو چکا تها
“بےلگام کر دو اپنے ان مچلتے جزباتوں کو….”
وہ اس کو گود میں اٹهاتے بولا تو اس نے اس کو کالر سے سختی سے دبوچا تها اور بیڈ پر لیٹاتے ان چیزوں کو سائیڈ پر کرتے خود کی شرٹ کے بٹن بهی کهولنے والا تها عالیاب شرم سے اپنی آنکهیں سختی سے میچ گئی تهی ابهی وہ پریہان سے بهی انہی باتوں کا سن کر آرہی تهی کہ شوہر خوش رہے تو اللہ بهی خوش رہتا ہے اور وہ ابهی شوہر کو ناراض کر کے اللہ کو ناراض نہیں کرنا چاہتی تهی
…………………………………
“وہ آدمی ملا یا نہیں…”
کاکا اپنے سامنے موجود ایک آدمی سے کڑے تیوروں سے پوچھ رہا تها
“سر ہم پوری کوشش کر رہے ہیں لیکن ہمارے کچھ آدمی گئے تهے جن کی لاشیں ہمیں ہمارے ایک اڈے کے سامنے ملی تهیں….”
وہ آدمی تابعداری سے بولا تها
“ایس پی وجدان سکندر….”
کاکا بڑبڑایا کہ اتنے میں داور داخل ہوا تها ان دونوں کے سانس خشک ہوئے تهے کہ کاکا نے اس آدمی کو بهیجا تها
“جج-جی داور سر آپ نے بلایا تها…”
وہ تهوڑا ہکلاتے ہوئے بولا
“اس آدمی کا کیا بنا…؟”
“ہم تلاش…”
اس سے پہلے وہ مزید بولتا داور نے اس کے منہ پر مکا جڑا تها
“ایک کام تم لوگ اچهے سے نہیں کر سکتے میری اتنے سالوں کی محنت وہ مٹی میں ملا رہا ہے اور تم لوگ بیٹهے خاک چهان رہے ہو…”
وہ دهاڑا تها اور کاکا نظریں نیچی کیے کهڑا تها
“دفعہ ہو جاو کچھ کرو اس آدمی کو ڈھونڈه کر مارو وہ ہمارے اگلے پلین سے باخبر ہے وہ کہی اگل نہ دے ورنہ وہ ایس پی پہاڑ ہم پر ڈها دے گا دفعہ ہو جاو…”
اس کی دهاڑ سنتے وہ چراغ کے جن کی طرح غائب ہوا تها اس نے جهوٹ تو بول دیا کہ وہ ڈهونڈه رہے ہیں لیکن کاکا جانتا ہے کہ وہ آدمی وجدان کے پاس ہے اور اگر یہ بات داور کو پتا چلتی تو وہ اس پر پہاڑ گرا دیتا
…………………………………
دعا اور دعا شام پانچ بجے تک گهر پہنچ گئے تهے اور بہت تهکے ہوئے بهی تهے باہر ہلکی ہلکی بارش شروع تهی جس سے دعا بہت خوش تهی لیکن سعد نے اس کی ساری خوشی پر مٹی ڈالی تهی اور کہا کہ آرام کرو تهکے ہوئے ہیں لیکن دعا خود اٹهتی کچن میں خود کے لیے چائے بنانے چلی گئی تهی جب سعد نے چائے کا کہا تو اگے سے خفگی میں یہ کہا کہ آرام کریں تهکے ہوئے ہیں یا خود بنا لیں اور وہ دنیا جہان کا معصوم انسان خاموش ہو گیا تها
جب آدها گهنٹہ گزرنے کے بعد بهی دعا میں کمرے میں نہ آئی تو وہ کمرے سے اٹھ کر باہر گیا تو دیکها دعا کچن کے سامنے ہاتھ میں چائے کا کپ لیے کهڑی بارش انجوائے کر رہی تهی وہ بهی اس کے ساتھ جا کر کهڑا ہوا تها
“یہاں کیوں کهڑی ہو…؟”
وہ بارش کو دیکهتے بولا تها
“کتنا اچا موسم ہے نہ اس نے مجهے باہر روک لیا…”
وہ چائے کا مگ اسے پکڑاتی خوشی سے بولی
“میرے خیال سے یہ تمہارا پہلا مگ نہیں چائے کا…”
اس نے مگ تهامے اس سے کہا تو وہ مسکرائی تهی کیونکہ وہ ابهی تیسرا مگ پینے میں مصروف تهی
“رومینٹک ہے موسم…”
کچھ دیر بعد وہ چائے کا مگ خالی کرتا بولا اور نیچے کونے میں رکها تها
“آئیں نہ سعد تهوڑا بارش کے اندر جاتے ہیں زیادہ تیز تو نہیں بارش….”
وہ اس کا بازو تهامے بضد ہوئی تو گہرہ سانس لیتے آخر اسے ہار ماننی پڑی تهی اور دونوں بارش میں آئے تهے جہاں دهیمی دهیمی فوار پڑ رہی تهی وہ اس میں گول گول گهومنے لگی جب کہ سعد سینے پر ہاتھ باندهے اسے دیکھ رہا تها اور پهر اس کے قریب جاتے پیچهے سے اس کے پیٹ پر ہاتھ رکهتے نزدیک کیا کہ اس کی پیٹھ سعد کے سینے سے لگی تهی وہ گردن موڑے مسکرائی تهی سعد اس کی گردن سے بال ہٹاتے وہاں اپنی ناک رگڑنے لگا کہ وہ کسمسائی اور اس کی گرفت سے آزادی چاہنے لگی تهی
“مجهے بهی تو انجوائے کرنے کا پورا حق ہے جانم…”
اس نے اس کے کان کے قریب جهکتے سرگوشی کی اس کے لب اس بولتے ہوئے اس کے کان کی لو کو چهو رہے تهے اس نے آنکهیں میچیں اپنا ہاتھ اپنے پیٹ پر رکهے اس کے بازو پر رکها تها
“آپ پلیز….”
وہ جو بول رہی تهی لیکن گردن پر لمس محسوس کرتے اس کے الفاظ منہ میں ہی دب سے گئے تهے
“تهوڑا وقت ہے ہمارے بیچ حائل سب فاصلوں کو ختم کرنے میں تب تک ان چهوٹی موٹی شرارتوں سے ہی خود کے جذباتوں پر قفل باندهنا ہو گا…”
وہ بولتا اس کے کندهے سے تهوڑی قمیض سرکا گیا تها اور وہاں بهی اپنے تشنہ لب رکهے کہ اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ سی دهوڑی تهی
“سعد….”
وہ ہولے سے اس کا نام پکارتی رخ اس کی جانب کرتے اس کے سینے پر ہاتھ رکهے اس کی آنکهوں دیکها جو جانثار ہوتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تها
“میں آپ سے بہت پیار کرنے لگی ہوں نہیں رہ سکتی اب آپ کے بنا….”
وہ آنکهیں بند کر کے کہتی فورا چہرہ جهکا گئی وہ کهل کر مسکرایا تها
“میں بهی اپنی وائفی سے بہت پیار کرتا ہوں…”
اس نے اس کی گال سہلائے کہا تو دعا نے اس کے سینے پر اپنے لب رکهے تهے اور پهر اس کے سینے سے لگ گئی تهی اس نے بهی اس کے گرد سختی سے حصار باندها تها بارش کی رفتا بهی اب تیز ہو گئی تهی لیکن اب پرواہ کسے تهی
…………………………………
سب کام پهر سے معمول پر آگئے تهے وجدان دن میں ایک دو گهنٹے ڈیوٹی پر جاتا باقی سارا وقت عالیاب کے ساتھ گزارتا تها کیونکہ وہ یونیورسٹی سے چهٹیوں پر تهی سعد بهی اپنے کام میں مشغول تها لیکن دعا کے لیے اپنا وقت ضرور نکالتا تها ذوہان بهی اپن ے ہی مسائل میں الجها ہوا تها جب کہ تعبیر کو تنگ کرنا وہ کسی صورت نہیں بهولتا تها لیکن اس بات سے بےخبر تها کہ تعبیر کی شادی میں زیادہ دن باقی نہ تهے اور تعبیر اس کو بتانا بهی نہیں چاہتی تهی وہ وجدان سے بدزنی کی وجہ سے ذوہان سے بهی فاصلہ رکهنا چاہتی تهی وہ حقیقت جانے بغیر بہت سی زندگیاں تباہ کرنے کے در پر تهی اس کی شادی سے ذوہان کی زندگی تباہ ہو سکتی ہے وہ یہ بات بخوبی جانتی تهی جب کہ خوش وہ بهی نہیں رہ سکتی تهی اور نہ اپنے ہونے والے شوہر کو خوش رکھ سکتی تهی
…………………………………
ذوہان اپنے روم میں بیٹها مسلسل تعبیر کو سوچ رہا تها اور بار بار خود کو شیشے میں دیکهتا کہ آخر اس میں کمی کیا تهی کہ تعبیر اس کی بارہا توہین کرتی بارہا ریجیکٹ کر رہی تهی اور وہ اس کے پیچهے پاگل بار بار اپنی انا بهاڑ میں ڈالتے اس کے پاس چلا جاتا تها
ذوہان کو تهوڑا تهوڑا شبہ ہوتا کہ وہ وجدان کی وجہ سے اسے ریجیکٹ کر رہی ہے لیکن مسئلہ روحا اور وجدان کا تها اس میں تعبیر کا کیا کام اور بےچارے ذوہان کا کیا قصور تها وہ آج بهی تعبیر سے اپنی محبت کا اظہار کر چکا تها جس نے بری طرح روند دیا تها وہ بیٹها ان کے بیچ ہوئی گفتگو کو سوچ رہا تها
“آپ کی بهی بہن ہے ذوہان کو اس کو یوں تنگ کرئے اپ برداشت کریں گے نہیں محبت مجهے تو کیوں آتے ہیں جان چهوڑ دیں میری آپ کو اس پیدا کرنے والی ذات کی قسم اپنی بہن دعا کی عزت کی قسم ہے چهوڑ دیں میرا پیچها…”
اس کے الفاظوں کو سوچتے اس کا دماغ سن سا ہوا تها اس نے ایک درد بهری آہ بهری تهی
“آہہ تعبیر تم آج ایک مرد کے لیے بہت بڑے الفاظ بول گئی ہو ایک مرد کی محبت کو آزما رہی ہو وہ مرد جو تم پر پورا نثار قربان ہو چکا ہے اتنا ظلم کر چکی ہو….”
وہ خود سے سوچتے آنکهیں موند گیا تها
“تعبیر میں نہیں رہ سکتا تم سے دور لیکن تمہیں اب مزید تنگ نہیں کرونگا جب تک پورے حق اپنے نام نہ کر لوں….”
خود سے بڑبڑاتا کمبل اوپر تک اوڑھ گیا تها
…………………………………
اسلام و علیکم کیسے ہیں سب؟؟ تو پڑھ لیں رومینٹک قسط….اور ہاں میں دیکهتی ہوں سب کا رسپانس لیکن ایسے رسپانس پر خاموش ہوں کیونکہ میں نے اچانک ہی ناول پوسٹ کرنا بند کر دینا ہے اور اپنے اچهے ریڈرز کے لیے مسنجر گروپ بنا دینا ہے اور انہیں وہاں ناول دیا کروں گی باقی آپ لوگوں کی مرضی جیسے مرضی رسپانس دیں لیکن بعد میں ناول مت مانگیے گا اپنی مرضی سے پوسٹ کیا کروں گی شارٹ یا لانگ قسط اپنی مرضی سے دونگی
