No Download Link
Rate this Novel
Episode 16
“زرش بهابهی سعد کہاں ہے…؟”
سعد کو ناشتے کے لیے ٹیبل پر موجود نہ پاکر مصطفی نے زرش سے پوچها تو اس نے رامز کو دیکها تها جو چہرہ جهکائے کهانا کها رہا تها
“رامز تم نے سعد کو پهر کچھ کہا ہے…؟”
زرش کو خاموش اور رامز کو لاتعلقی ظاہر کرتے دیکھ مصطفی نے مشکوک انداز میں پوچها تو کهانا کهاتے اس کے ہاتھ رکے
“میں کسی کو اجازت نہیں دوں گا وہ تمہیں یا کسی کو بهی مزید تکلیف دے…”
وہ دوبارہ نوالہ توڑتے ہوئے بولا تو مصطفی نے ٹهنڈہ آہ بهری تهی
“امی جان دعا آج بهی ہمارے ساتھ نہیں آئے گی…؟”
وجدان نے عالیاب کی پلیٹ میں پراٹها رکهتے آبریش سے پوچها
“آبر بلا لاو کیا پتا آجائے…”
مصطفی نے آبریش سے کہا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا
“میں بلا لاوں ماموں جان…؟”
عالیاب جلدی سے مصطفی سے بولا تو اس نے اثبات میں سر ہلا تو وہ جلدی سے اٹهی اور دعا کے کمرے کی جانب قدم بڑهائے
“صبح کیسی تهی دعا…؟”
شہرام نے آبریش سے پوچها
“ٹهیک تهی واشروم میں تهی..”
وہ بهی کرسی پر بیٹهتے ہوئے بولی
عالیاب دعا کے کمرے میں گئی لیکن اندر کا منظر دیکھ کر اسکی چینخ حلق سے سے برامد ہوئی تهی جو نیچے موجود سبهی حضرات نے بخوبی سنی اور ایک ساتھ سیڑهیوں کی جانب دیکها
“دعا…”
دعا کو پکارتے سب اٹهتے سیڑهیوں کی جانب بهاگے تهے عالیاب چینخ مارتے واپس نیچے بتانے کو بهاگی لیکن پیچهے مڑتے ہی وجدان کے سینے سے زور سے ٹکرائی
“سکندر دعا…”
عالیاب روتے ہوئے اسکے سینے پر ہاتھ رکهے بولی سب کمرے میں گئے لیکن سب کی بریک دروازے پر ہی لگی تهی اور پهر فورا اسکی جانب لپکے تهے جو زمین پر اوندهے گری ہوئی تهی
“دعا….”
وجدان نے اسکو سیدها کیا تها
“دعا دعا اٹهو…”
سب اسکو پکار رہے تهے ساتھ اسکا چہرہ تهپتهپا رہے تهے ذوہان نے اسکی نبض چیک کی پهر ہاتھ چهوڑتے گردن چیک کیا اور پهر دل کے مقام پر ہاتھ رکها
“ذوہان بتاو کیا ہوا ہے دعا کو…”
آبریش روتے ہوئے ذوہان سے بولی جو بار بار اسکی نبض چیک کررہا تها
“دعا میری بہن…”
ذوہان نے اسکا چہرہ تهپتهپایا تها اور دوبارہ ہاتھ کی نبض چیک کی
“ذوہان میرا دل بند ہو رہا ہے بتاو…”
مصطفی نے بهی پریشانی سے پوچها
“بابا وجدان ہوسپٹل لے جانا ہوگا حالت بہت ناساز ہے جلدی کرو نبض بہت سلو ہے….”
وہ ہڑبڑا کر بولا کیونکہ پہلے نبض بند محسوس ہورہی تهی لیکن اب نبض اس قدر سلو تهی جیسے بند ہو رہی ہو وجدان نے اسکو گود میں اٹهایا تها اور سب باہر کو بهاگے تهے
…………………………………
روم کے باہر سب کهڑے مسلسل روم کے دروازے کو تک رہے تهے عالیاب پارس اور میرب تینوں گهر تهے جبکہ سعد کو ابهی کسی نے خبر نہ کیا تها اور باقی سب یہی موجود تهے
“وجدان سعد کو خبر کرو…”
شہرام نے دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے وجدان سے کہا
“ضرورت نہیں میں اسے یہاں نہیں دیکهنا چاہتا…”
رامز نے غصے سے کہا
“رامز بهائی یہ ضروری ہے…”
شہرام نے اسکا کندها تهپتهپائے کہا اور وجدان کو اشارہ کیا جو فون تهامے دوسری جانب چلا گیا
تعبیر روم سے باہر نکلی تو مصطفی اسکی جانب بڑها
“ڈاکٹر میری بیٹی…”
سب تعبیر کی جانب متوجہ ہوئے
“معذرت کے ساتھ ہم ابهی کچھ نہیں کہ سکتے آپ دعا کریں بس…”
پروفیشنل انداز میں کہتی واپس روم میں گئی تهی تعبیر نے دیکها ذوہان چیک کرنے کی بجائے فاصلے پر کهڑا تها
“ڈاکٹر ذوہان آپکا دماغ خراب ہے کیا پیشنٹ زندگی موت کی جنگ لڑرہا ہے اور آپ یہاں کهڑے پیشنٹ کا منہ تک رہے ہیں باہر انکی فیملی کس حالت میں گزر رہی ہے شاید اسکا آپکو اندازہ نہیں کیونکہ آپ پر ایسی سچویشن کبهی نہیں آئی اسی لیے…”
اس سے پہلے وہ غصے میں مزید خرافات بولتی ذوہان نے اسکے بازووں کو دبوچا تها
“بکواس بند کرو مزید ایک لفظ نہیں سمجهی اور یہ لڑکی کوئی اور نہیں میری بہن ہے ذوہان مصطفی کی بہن دعا مصطفی ہے اور باہر جو لوگ جنکی سانسیں بند ہونے کو ہیں وہ میری فیملی ہے اب بکواس بند رکهو اپنی…”
غصے سے کہتے ایک جهٹکے سے چهوڑا اور دعا کی جانب بڑها تها ذوہان کی پہلے حیرت اور پهر اپنی توہین پر محض وہ ہونٹ بهینچ کر رہ گئی کیونکہ وہ بنا جانے فضول بول گئی تهی
ذوہان نے دیکها اسکی سانسیں بند ہوتی اور چل رہی تهیں فوری طور پر آپریشن مناسب نہ تها کیونکہ دعا کی حالت پہلے خراب تهی اور اب وہ اس حالت میں تهی
“ذوہان انکی سانسیں بند ہو رہی ہیں…”
تعبیر جلدی سے بولی تهی ذوہان نے اسکے منہ پر اکسیجن ماسک چڑهایا تها ہاتھ پہلی بار کانپ رہے تهے وہ پہلی بار سمجهنے سے قاصر تها کہ کیا کرئے سانسیں کچھ نارمل ہوئیں تهی
“ذوہان…”
“تعبیر آپریشن کی تیاری کرو ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں…”
تعبیر نے محسوس کیا اسکا لہجہ ایسے تها جیسے بہت بڑی جنگ ہار رہا ہو صبح کا وقت تها ڈاکٹرز کی تبدیلی کی وجہ سے ہوسپٹل میں زیادہ ڈاکٹرز موجود نہ تهے اور جو ڈاکٹر موجود تهے وہ آپریشن نہیں کر سکتے تهے اسی لیے ڈاکٹرز کو ارجنٹ بلایا تها تعبیر فورا کمرے سے باہر نکلی ذوہان بهی باہر نکلا تها
“ذوہان دعا کیسی ہے…؟”
سب ذوہان کی جانب لپکے تهے آبریش نے روتے ہوئے اسکا ہاتھ تهامے کہا تعبیر اپنے قدم روکے انہیں دیکهنے لگی تهی اور ایک ڈاکٹر سے آپریشن کی تیاری کا کہا ذوہان نے نم ہوتی آنکهوں کو زور سے بند کرکے کهولا تها
“ذوہان…”
شہرام نے دوبارہ پکارا تها
“ذوہان خاموش کیوں ہو…”
مصطفی نے بےتابی سے پوچها
“بابا وہ ہم سے بہت دنوں سے سب چهپا رہی تهی اور اندر ہی گهل گهل کر مررہی تهی اور آخر کار آج برداشت نہ ہو سکا….”
وہ ضبط کی انتہا پر تها
“اسکا نروس بریک ڈاون ہو گیا ہے ارجنٹ اپریشن کرنا ہوگا اور اس میں اسکی جان باقی رہے کچھ نہیں کہ سکتے…”
“ذوہان خدا کے لیے ایسے مت کہو…”
آبریش روتے ہوئے بولی تو ذوہان نے اگے بڑھ کر سینے سے لگایا سعد جو ابهی رش ڈرائیونگ کرتا پہنچا تها اسکے الفاظ سن کر قدم وہی روکے تهے
“امی دعا کریں بس اور بیٹهیں…”
وہ آبریش کو بینچ پر بیٹهاتے بولا جس زاروقطار رو رہی تهی
“ڈاکٹر یہ سائن کروانے ہونگے اور آپریشن ٹهیٹهر میں شفٹ کرنا ہوگا پیشنٹ کو…”
ایک ڈاکٹر نے تعبیر سے آکر کہا تو اس نے وہ فائل تهامی تهی
“ڈاکٹر ذوہان آپریشن کی تیاری تقریباً مکمل ہے سب ڈاکٹرز پہنچ چکے ہیں اور ان پر سائن کردیں…”
تعبیر نے وہ فائل ذوہان کو پکڑاتے ہوئے کہا جس نے فائل تهامی اور جیب سے پین نکالتے سائن کیے تهے مصطفی کے سامنے ایک بار پهر سب ویسے ہی فلم کی طرح چلنے لگا تها
“شہرام گیارہ سال پہلے کا واقع پهر دوہرایا جا رہا ہے آج بهی اتنا ہی بےبس ہوں جتنا تب تها تب بهی ایسے سائن کیے تهے جیسے اب کیے ہیں ذوہان نے…..”
وہ ذوہان کے ہاتھ میں موجود فائل دیکهتے بولا ذوہان سے مزید ضبط نہ ہوا تو آنکهیں رگڑتا فورا روم میں گیا تها تعبیر کی آنکهیں بهی ناجانے کیوں نم ہوئیں تهی
…………………………………
آپریشن مسلسل اندر جاری تها اندر اگر دعا کی جان خطرے میں تهی تو باہر سب سولی پر لٹکے ہوئے تهے
ذوہان تعبیر اور باقی ڈاکٹرز اپنی پوری کوشش کررہے تهے تعبیر نے نوٹ کیا ذوہان کے ہاتھ کانپ رہے تهے سردی میں بهی اسکے چہرے پر پسینہ نمایا ہورہا تها اور آنکهیں اسکے انتہا ہوتے ضبط کا منہ بولتا ثبوت تهیں
“مصطفی میرا دل بند ہو رہا ہے کتنا وقت لگے گا اور اگر دعا کو کچھ ہوگیا تو میں کیا کروں گی…..”
وہ روتے ہوئے مصطفی سے بولی
“ہمیں ہمت سے کام لینا ہے اللہ سب بہتر کرے گا…”
وہ اسکے گرد بازو حمائل کرتے بولا اور سامنے سعد کو دیکها جو نظریں آئی سی یو کے دروازے پر ٹکائے کهڑا تها
“بهائی بیٹھ جائیں…”
وجدان نے سعد کے پاس آتے اسکے کندهے پر ہاتھ رکهے کہا
“اگر اسے کچھ ہو گیا مرجاوں گا میں…”
وہ بوجهل لہجے میں بولا
“تو یہ سب تمہیں کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے تها…”
رامز جو اسکی بات سن چکا تها غصے سے بولا وہاں پوری راہداری میں صرف انکی فیملی موجود تهی
“رامز بهائی سعد کی اس میں کوئی غلطی نہیں…”
شہرام نے رامز کو غصے کے عالم میں دیکها تو بولا تها
“تم کیسے کہ سکتے اسکی غلطی نہیں اسکی ہی سب غلطی ہے اسکی ایک چهوٹی سی غلطی کی وجہ سے ہم یہ سب بهگت رہے ہیں دعا زندگی موت کی جنگ لڑ رہی ہے دعا کو اس حال میں پہنچانے والا صرف اور صرف سعد ہے…”
وہ غصے سے بولا آنکھ سے ایک آنسووں گرا تها
“مت کہو اسے رامز….”
مصطفی نے سعد کی حالت دیکهی جو اجڑی ہوئی رامز کو روکا تها
“تم تو کم از کم اسکی طرف داری مت کرو تمہاری بیٹی ہماری بیٹی کی حالت کا ذمہ دار صرف یہی ہے سعد رامز ہے بس اگر اسے کچھ ہوا تو یاد رکهنا نہ تو ہماری زندگی میں اور نہ اس گهر میں تمہاری جگہ ہوگی ہر چیز چهین لوں گا تم سے…”
وہ سخت لہجے میں اسے باور کروا رہا تها سعد نے ہونٹ بهینچے تهے
“دعا کو کچھ نہیں ہوگا میں کچھ نہیں ہونے دوں گا…”
وہ نفی میں سر ہلائے بولا تها
“دعا پر تمہارا کوئی حق نہیں سعد ان سب کے بعد کوئی حق نہیں…”
وہ کرخت لہجے میں بولا
“دعا پر صرف سعد رامز کا حق ہے دعا صرف اور صرف میری ہو کوئی بهی اسے مجھ سے چهین نہیں سکتا اگر کسی نے کوشش کی تو خدا قسم انجام کا ذمہ دار وہ خود ہوگا اور…”
اس سے پہلے وہ مزید بولتا رامز کا ہاتھ اٹها تها اور اس کے منہ پر اپنی چهاپ چهوڑ گیا تها تب ہقے بقے ان کو دیکهنے لگے سعد نے مٹهیاں بهینچی تهیں
“دفعہ ہو جاو یہاں سے اپنی شکل بهی مت دیکهانا دفعہ ہو جاو…”
وہ اس سے چلاتے ہوئے بولا تو وہ ایک نظر سب کو دیکهتا لمبے ڈگ بهرتا وہاں سے چلا گیا تها وجدان نے پیچهے جانا چاہا لیکن رامز نے اس کا ہاتھ پکڑا تها اور تنبیہ نظروں سے اسکی جانب دیکها تو وہ خاموشی سے وہی کهڑا ہوگیا
“رامز بهائی کیوں کیا آپ نے ایسا اللہ کی طرف سے ہونے والی چیز کا دوش آپ اس پر کیوں لگا رہے ہیں…”
شہرام نے رامز سے کہا
“میں نہیں چاہتا تها وہ یہاں موجود ہو میں ہزار بار سمجهایا تها لیکن اس نے ایک نہ سنی اور بےلگام ہوتے جذباتوں روکنے کی بجائے سب برباد کر دیا کیا اتنا سا صبر نہیں تها اس میں اور اب تم میں سے کوئی اس کی طرف داری نہیں کرئے گا….”
اس کا لہجہ حددرجہ کرخت تها اسکی بات سن کر سب خاموش ہوئے اور دعا کے لیے دعا کرنے لگے تهے
…………………………………
“السلام و علیکم سکندر دعا کیسی ہے…؟”
عالیاب کی روندهی سی آواز سپیکر سے سکندر کے کانوں میں گونجی تهی تو اس نے گہرہ سانس لیتے چہرہ جهکایا
“آپریشن جاری ہے ذوہان اندر ہی ہے کچھ خبر نہیں کیا ہورہا ہے دعا کے بارے میں بهی نہیں پتا بس سب دعا گو ہیں…”
وہ بجهے سے لہجے میں بولا تها
“دعا کو کچھ نہیں ہوگا نہ…”
اب کہ بار پارس کی آواز گونجی تهی یقیناً وہ دونوں اکهٹے بیٹهے دعا کو بہت یاد کررہے تهے اور اس کے لیے بہت دعا گو تهے
“وہ ٹهیک ہو جائے گی تم دونوں افسردہ مت ہو…”
وہ شاید خود کو تسلی دے رہا تها
“عالیاب بڑی امی سے بات کرواو میری…”
سکندر نے عالیاب سے کہا تو وہ دو منٹ کا کہتی زرش کے کمرے کی جانب گئی تهی اب یقیناً سکندر زرش سے سعد کے بارے پوچهنا چاہتا تها یہ جانتے ہوئے بهی کہ وہ گهر نہیں گیا ہوگا
…………………………………
مسلسل ایک جگہ سے دوسری جگہ گاڑی بهگانے کے بعد وہ تهک کر ایک جگہ گاڑی روک چکا تها اور سٹیرنگ سے سر ٹکایا تها دل میں دعا جبکہ دماغ میں رامز کی باتیں گونج رہیں تهی “بابا کیوں نہیں سمجھ رہے مجهے کوئی نہیں سمجھ رہا میں پیار کرتا ہوں بہت دعا سے آئی لو دعا مر جاوں گا کیوں نہیں سمجهتا کوئی…”
آنکهوں سے آنسووں ٹوٹ کر نیچے گرئے تهے پهر سر اٹهاتا نم آنکهوں سے خود کے ہاتھ میں موجود لکیروں کو دیکهنے لگا تها
“میرے ہی ہاتهوں پہ لکهی ہے تقدیر میری
اور میری ہی تقدیر پہ میرا بس نہیں چلتا”
“دعا اگر تمہیں کچھ ہوگیا تو سعد بهی زندہ نہیں رہ پائے گا میری سانسیں تم سے جڑی ہیں محبت کے علاوہ بہت پاک رشتہ نکاح کا ہے تم سے اگر تم ہو تو سعد ہے تم نہیں تو سعد بهی نہیں…”
پیچهے پشت سے سر ٹکاتے آنکهیں موندیں تهے بےشمار آنسووں اسکی آنکهوں سے پهسلے تهے اور لب ہل رہے تهے ناجانے وہ کیا بڑبڑا رہا تها
…………………………………
مزید ایک گهنٹہ آپریشن چلنے کے بعد آخر کامیاب ہوا تها آئی سی یو میں موجود دعا کے ساتھ ساتھ سب ڈاکٹرز میں جان آئی تهی ذوہان نے ماسک اتارتے اسکے ماتهے پر اپنے لب رکهے تهے تعبیر نے دیکها کہ جب تک آپریشن تها ذوہان کی سانسیں خشک تهیں اور اب کامیاب ہونے پر آنکهیں نم تهیں لیکن دعا کا وجود ابهی بهی مشینوں میں جکڑا ہوا تها سانس لینے میں ابهی بهی دکت ہو سکتی تهی اسی لیے اکسیجن ماسک اس کے منہ پر چڑهایا ہوا تها سب ڈاکٹرز سے پہلے زوہان باہر نکلا تها سب اس کی جانب لپکا
“امی بابا بڑے ابو ماموں مامی چاچو وجدان دعا کا آپریشن کامیاب رہا اب وہ خطرے سے باہر ہے ہماری دعائیں رنگ لائیں امی…”
وہ خوشی سے پهولی سانس سے سب کے نام پکار کر کہتا آبریش کے گلے لگا تها ان سب میں یک دم سے خوشی کی لہر دوڑ گئی تهی خوشی سے آنکهیں نم ہوئی تهی اور آبریش ذوہان کے گلے لگی زاروقطار رو رہی تهی تعبیر فاصلے پر کهڑی ان کو دیکھ رہی تهی ناجانے کیوں ان کو دیکھ کر اس کے لبوں پر مسکراہٹ پهیلی تهی آنکهیں نم ہوئی تهی تعبیر ہی کیا وہاں سے گزرتے ہر شخص کی آنکهیں اشک بار ہوئیں تهی
“ہہ-ہم مل سکتے ہیں وہ ہوش میں ہے…؟”
مصطفی نے آنکهیں صاف کرتے پوچها تها تو اس نے نفی میں سر ہلایا
“ابهی اس کو ہوش نہیں چوبیس گهنٹوں کے اندر اندر ہوں آجائے گا آپ لوگ ابهی اندر جا کر فاصلے سے دیکھ سکتے ہیں یہ ہمارے ہوسپٹل کے قانون کے خلاف ہے کہ روم میں شفٹ سے پہلے نہیں مل سکتے پر آپ کو اجازت دیا لیکن احتیاط رہے ہوش میں آتے فورا اس کو پریشانی مت دئیے گا…”
وہ آبریش کے گرد بازو حمائل کرتا بولا تو مصطفی شہرام پریہان اور آبریش اندر گئے تهے
وجدان جس نے خوشی کی خبر گهر میں فون کر کے دی تهی کہ ذوہان اس کی جانب آیا
“سعد بهائی کہاں ہیں ان کو موجود ہونا چاہیے تها…”
اس نے اردگرد نگاہ دوڑارت کہا تو وجدان نے گہرہ سانس بهرا اور سب بتایا
“لیکن وہ ٹهیک ہے اب بهائی کو ہونا چاہیے پاس…”
اس نے پیچهے پلٹتے کہا نظر تعبیر سے ٹکرائی لیکن واپس سیدها ہوا تها وجدان نے کندهے اچکائے تهے
“مجهے ایک ڈاکٹر سے ملنا ہے پهر دعا کو روم میں شفٹ کرنے کے بعد ڈرپس لگانی ہے تمہیں کچھ پیپرز دیتا ہوں وہ فارمیلیٹیز پوری کردینا…..”
اس نے کہا تو وجدان نے اثبات میں سر ہلایا اور اس کے ساتھ جانے لگا
…………………………………
سب دعا کو دیکھ چکے تهے اور ایک بار اسکی بےہوشی میں ہی رونے کا سیشن پورا کرتے پیار بهی کر چکے تهے آبریش بہت سی آیتیں پڑھ کر پهونک چکی تهی وجدان نے سعد کو خبر دی تهی اور وہ وقفے وقفے سے دعا کی طبعیت پوچھ رہا تها میرب زرش عالیاب اور پارس بهی ایک چکر لگا گئے تهے کیونکہ دعا کو روم میں شفٹ کر دیا گیا تها ذوہان نے باقی سب کو بهی گهر بهیج دیا تها اور کہا تها ایک دو گهنٹے گهر آرام کرلیں بهیجنا مشکل تها لیکن بهیج دیا تها اب ہوسپٹل میں دعا کے ساتھ ذوہان اور وجداب تهے بس وجدان بهی ایک آفیسر کی کال سننے باہر گیا تها
ذوہان دعا کے پاس اسکا ہاتھ پکڑے بیٹها یک ٹک اسے دیکھ رہا تها ہر چیز جیسے فلم کی طرح ہونے لگی تهی پہلی بار اس کو آپریشن کے لیے خوف محسوس ہو رہا تها روم میں ذوہان اور دعا کے ساتھ ایک نرس اور تعبیر تهی نرس بهی جا چکی تهی اب صرف تعبیر تهی جو اسکو ڈرپس لگانے کی تیاری کررہی تهی اور وقفے وقفے سے زوہان کو بهی دیکهتی تهی
“بہت خوبصورت اور کم سن ہے…”
تعبیر نے دعا کو دیکهتے ذوہان سے کہا جس کے لب تلخی سے مسکرائے تهے
“بہت قرض چکائے ہیں اس کی خوبصورتی اور کم سنی نے….”
وہ اسکی بند آنکهوں کو دیکهتے ہوئے بولا
“مطلب…؟”
اس نے ناسمجهی سے پوچها اس سے پہلے وہ کوئی جواب دیتا اسکا فون رنگ ہوا اس نے دیکها سعد کا تها
“اسلام و علیکم سعد بهائی….”
اس نے فون اٹهاتے ساتھ کہا تها
“وعلیکم اسلام دعا کیسی ہے ہوش آیا…؟”
اس نے بےتابی سے پوچها
“نہیں ابهی ہوش نہیں آیا کچھ گهنٹوں میں آجائے گا اور ہوش میں آتے ہی وہ آپ کو تلاشے گی آپ کیوں نہیں آئے…؟”
“بابا میرا چہرہ نہیں دیکهنا چاہتے وہ نہیں چاہتے میں دعا کے آس پاس بهی بهٹکوں…”
وہ افسردگی سے بولا
“بڑے ابو غصے میں ہیں بهائی جو حالات ہوئے ان کے پیش نظر ان کو غصہ ہے لیکن دعا پر آپ کا ہم سے کئی زیادہ حق ہے….”
اس نے آہستہ سے کہا
“دعا بهی مجهے دیکهنا نہیں چاہتی نفرت کرتی ہے وہ مجھ سے میں نہیں چاہتا وہ مزید خود کو اذیت پہنچائے…”
وہ ضبط کی انتہا پر تها
“نہیں بهائی بهول ہے آپکی کہ دعا آپ سے نفرت کرتی ہے یہ کہ سکتے کہ ابهی وہ محبت جیسے جذبے سے ناواقف ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ نفرت کرتی ہے اس کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کے بعد یہ عمل فطری ہے…”
اس نے سمجهانا چاہا دوسری جانب سے خاموشی ہوئی تهی
“آپ ہی سنبهال سکتے ہیں دعا کو ہمیں یقین ہے باقی سب بهی سمجهیں گے اور آپ آئیں بهائی دعا آپ کی بیوی ہے نکاح میں ہے وہ آپ کے…”
ذوہان کے الفاظوں پر تعبیر نے ایک جهٹکے سے پہلے ذوہان کی پشت کو دیکها پهر دعا کو جو دیکهنے میں نکاح شدہ نہیں لگتی تهی
“ٹهیک ہے بهائی اوکے خیال رکهیے گا…”
آگے سے کچھ کہا گیا تو اس نے خیال رکهنے کی تاکید کرتے فون رکها تها اور کهڑے ہو کر دعا کے ڈرپ لگانے لگا تها
“یہ نکاح میں ہے کسی کے نہیں لگتا ایسا…”
تعبیر حیرت سے بولی تو ذوہان نے گردن موڑے تعبیر کو دیکها جو تقریباً ایک قدم کے فاصلے پر کهڑی تهی وہ بهی اسی کی جانب دیکھ رہی تهی ذوہان اس کی آنکهوں میں یک ٹک دیکهنے لگا وہ چاہ کر بهی نظریں نہیں پهیر پا رہا تها سرمے سے سجی آنکهیں اسکو مکمل طور پر متوجہ کررہی تهیں
ابهی کچھ پل ہی گزرے تهے کہ وجدان دروازہ کهول کر اندر داخل ہوا ان دونوں کا تسلسل ٹوٹا تها ذوہان نے فوراً نظریں پهیریں اور تعبیر بهی دوسری جانب مڑی تهی وجدان ایک نظر ان دونوں کو دیکهتا دعا کے سر پر ہاتھ پهیرتے اس کے ماتهے پر لب رکهے تهے
“سعد بهائی سے بات ہوگئی ہے وہ کہتے وہ آئیں گے…”
ذوہان نے دعا کا ہاتھ سہی طرح رکهتے ڈرپ لگانا چاہی تهی تو اس نے اثبات میں سر ہلایا
دعا کی پلکوں میں ہولے سے جنبش ہوئی
“ذذ-ذوہان دعا کو شاید ہوش آرہا ہے…”
اسکی پلکوں میں ہوئی جنبش کو دیکهتے وجدان ذوہان سے بولا اس نے دعا کو دیکها جس نے اب دهیرے سے آنکهیں کهولیں تهی لیکن فوراً بند ہوگئیں تهی پهر ہمت کرتے دوبارہ کهولیں تو نظر پہلے چهت سے ٹکرائی اور پهر سر گهما کر دیکها تو نظر مسکرا کر دیکهتے ذوہان سے ٹکرائی
“دعا میری بہن…”
وہ ڈرپ چهوڑتے بےتابی سے بولا دعا نے پهر وجدان کو دیکها وہ بهی اسی کی جانب متوجہ تها
“بب-بهائی..”
وہ بامشکل بولی تهی
“جی بهائی کی جان…”
وجدان جلدی سے اسکا ہاتھ تهامے بولا
“تم زیادہ مت بولو میری جان خاموش رہو…”
ذوہان نے اس کو بولنے میں دقت ہوتے دیکھ کہا
“مم-میں فون کرتا ہوں گهر سب کو بتاتا ہوں…”
وہ دعا کا ماتها چومتا فون نکالتا تیزی سے باہر گیا تها دعا نے واپس آنکهیں موندیں تهی ذوہان دهیرے دهیرے اس کے سر پر ہاتھ پهیرنے لگا تها
…………………………………
