No Download Link
Rate this Novel
Episode 38
“جائے گی تو مطلب….”
اور شہرام کے اگلے الفاظ وہاں گونجتی گولی کی آواز سے ٹوٹے تهے وہاں گہرہ سکوت چها گیا تها سب کی آنکهیں پهٹی کی پهٹی رہ گئیں تهی جب کہ وجدان ایک قدم لڑکهڑایا تها پهر اپنے بازو کو دیکها جہاں سے خون برق رفتار سے نکلنا شروع ہو گیا تها جیسے وہ پہلے سے نکلنے کو بےتاب ہو
“وجدان….”
سب اس کو پکارتے اس کی جانب بڑهے تهے
“دور رہیں سب…”
وہ چلایا تها کہ سب کے قدموں کو زنجیر نے جکڑا تها اب کہ اس نے گن کا رخ اپنی کنپٹی کی جانب کیا تها
“ڈیمو دیکھ لیا یقیناً اب یقین ہو گیا ہو گا کہ میں گولی یہاں بهی چلا سکتا ہوں….”
وہ ایک ہاتھ اٹهائے سب کو روکے جب کہ دوسرے سے گن کنپٹی پر تانے بولا تها
“شہرام مت کریں میرے بچے کے ساتھ…..”
پریہان اس کے بازو سے بہتے خون کو دیکهتے تڑپ کر شہرام سے بولی جو کہ قہر برساتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تها جب کہ عالیاب سکتے میں کهڑی نیچے گرتے خون کو دیکھ رہی تهی
“ماموں جان پلیز وجدان خون بہت بہہ رہا ہے یہ جان لیوا ہو سکتا ہے…”
ذوہان شہرام سے بولتا وجدان سے بولا اور آگے بڑها لیکن اس نے فوراً ہاتھ سے وہی رکنے کا اشارہ کیا تها
“ڈیڈ یو ہیو اونلی ٹین سیکنڈز اور پهر ان دس سیکنڈز کے بعد کفن دفن کا انتظام کریے گا…”
وہ دهمکیوں پر اتر چکا تها
“اتنا زیادہ ریکٹ بنتا نہیں وجدان….”
شہرام نے لہجہ دهیما رکهتے کہا
“تو جو آپ لوگ ریکٹ کر رہے وہ بهی اتنا نہیں بنتا کسی نے مجھ کمبخت کی بات سنی نہیں نہ عالیاب نے بهی اپنی بکواس کی اور اس کا نتیجہ کیا نکلا اور آپ لوگ بهی بنا سنے اپنی ہی داغے جا رہے ہیں میری سنو گے تو سمجھ آئے گا…”
وہ تنگ آکر چلاتے بولا تو شہرام کے ماتهے پر بل پڑے
“جو عالیاب نے کہا وہ سچ نہیں کیا…؟”
وہاں صرف وجدان اور شہرام کی آواز گونج رہی تهی
“سچ ہے لیکن…”
“سچ ہے تو لیکن کا سوال ہی پیدہ نہیں ہوتا…”
شہرام اس کی بات اچکتے ہوئے بولا تو اس نے اب کہ غصے سے اپنے باپ کو دیکها
“اوکے مت سنیں بهاڑ میں جائیں سب ٹین، نائیں، ایٹ….”
وہ چبا کر کہتا کاونٹنگ شروع کر چکا تها
“شہرام پلیز….”
پریہان روتے ہوئے اس کا بازو تهامے التجایہ انداز میں بولی
“سیون، سکس، فائو….”
وہ پهر سے شروع ہو چکا تها
“پلیز شہرام مت کریں شہرام وہ مار دے گا…”
پریہان روتے ہوئے بولی تهی
“فار، تهیری…”
شہرام نے خاموشی سے اپنے پیچهے کهڑی آنسووں بہاتی عالیاب کو دیکها جس کی نظر فرش پر گرتے خود کی جانب تهی
“ٹو….”
اس نے ٹریگر دبایا تها
“اچها بس کرو اب یہ ڈرامے بازی گن ہٹاو…”
اس سے پہلے وہ ون بولتا شہرام جهنجهلایا سا بولا تها
“عالیاب میرے پاس رہے گی…”
اس نے اپنا مدعا بیان کیا تو شہرام نے آنکھیں چهوٹی کیے اسے دیکها
“عالیاب کی مرضی…”
“کسی کی مرضی نہیں صرف میری مرضی ورنہ چلا دوں گا…”
وہ گن پر گرفت مضبوط کرتے شہرام کی بات بیچ میں بولا تو اس نے گہرہ سانس بهرا اور روتی ہوئی پریہان کو دیکها جو مسلسل رو رہی تهی وہ بهی اپنی بیوی کے ہاتهوں مجبور تها شہرام نے اثبات میں سر ہلایا تها
“اب ہٹاو یا دو لگاوں….”
اس کی بات سنتے وجدان دلکشی سے مسکرایا اور گن ہٹائی تهی
“پارس جاو میرے کمرے سے میرا بیگ لاو الماری میں ہے…”
ذوہان پارس سے بولتا وجدان کی جانب گیا تها اور گهورتے ہوئے اس کا بازو پکڑا تها
“موم رونا تو بند کریں…”
وہ پریہان کو مسلسل روتے دیکھ بولا تها
“مجهے وجدان میں آج شہرام کی آتما نظر آرہی تهی…”
مصطفی صوفے ہر بیٹهتے بولا تها جب کہ شہرام نے پہلے پریہان کے آنسووں صاف کیے پهر سنجیدگی سے اپنے پیچهے دعا کے ساتھ کهڑی عالیاب کو سینے سے لگایا تها
“عالیاب تم پٹی کر دیتی یار….”
وجدان واپس اپنے چهچهورے پن پر اترا تها
“ڈاکٹر میں ہوں عالیاب نہیں….”
اس نے اس کی شرٹ اتارتے گهورتے ہوئے کہا
“اچها وہ جو ٹکٹس بک کروانی تهی وہ کروا دوں میں اور دعا ہنی مون پر چلے جائیں گے…”
سعد بالوں میں ہاتھ پهیر کر شرارت سے بولتا سب کے چہروں پر مسکراہٹ بکهیر گیا تها
“وہ تو میں بهی یہی سوچ رہا تها ہنی مون کا…”
وجدان نے شہرام کے سینے سے لگی عالیاب کو دیکهتے کہا جس نے خفگی سے اس کے سینے میں اپنا پورا منہ چهپایا تها
“جاو میری بچی کمرے میں، میں تم سے بعد میں اس بارے بات کرونگا…”
شہرام عالیاب کے سر پر ہاتھ پهیرتا اس کے کان میں بولا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا تها
“دعا…”
شہرام نے دعا کو اشارہ کیا تو وہ عالیاب کو اپنے ساتھ لیتی کمرے کی جانب گئی تهی
“وجدان پٹی کروانے کے بعد کمرے میں ملنا مجهے…”
شہرام اس سے کہتا ناشتے کی ٹیبل پر بیٹها تها
“آو ناشتہ کرو سب یقیناً کسی کا بهی بهوکا رہنے کا ارادہ نہیں…”
وہ پراٹها پلیٹ میں رکهتے بولا تها
“دماغ خراب ہو گیا تها وجدان اگر ماموں نہ مانتے تو سچ میں گولی چلا لیتے….”
وہ خون صاف کرتے بولا تو اس نے ہونٹ دانتوں میں دبائے مسکراہٹ روکے نفی میں سر ہلایا تها تو اس نے ناسمجهی سے اسے دیکها
“ڈرامے بازی کر رہا تها بس اتنی جلدی جان چهوڑنے والوں میں سے نہیں میں اور ویسے بهی میرا یہی پلین تها جانتا تها کوئی بهی مرنے تو نہیں دے گا اگر مرنا ہوتا تو ڈائیرکٹ دماغ میں گولی مارتا بازو پر نہیں…”
وہ مسکراہٹ دبائے بولتا اس کو مکمل طور پر تپا گیا تها کیونکہ اس کے غصے کی علامت اپنے بازو پر دباو کی صورت محسوس کر سکتا تها وجدان کراہ اٹها تها
“مجهے تو لگا تم سچے عاشق ہو سچی اس فانی دنیا سے کوچ کے ارادے بنا چکے ہو…”
اس نے گهورتے ہوئے کہا تو وہ ہنسا
“مزاق کر رہا تها ابهی اگر ڈیڈ سچ میں یہ زیادتی کرتے تو اللہ کی قسم غلط کر بیٹهتا تو سوچ نہیں سکتا عالیاب سے کتنا پیار ہے مجهے…”
اب کہ وہ سنجیدگی سے بولا ذوہان نے داد دیتی نظروں سے اسے دیکها تها
“بڑے ڈائیلوگ بازی کر لی آج تم نے صبح سے ویسے کونسی فلمیں دیکهنے لگے ہو…”
وہ پٹی کرتے بولا تها تو اس نے ذوہان کو گهورا تها
“یہ میرے دل کے ڈائیلوگز ہیں ڈفر انسان…”
اس نے گهورتے ہوئے کہا
“اپنے دل کا خیال ہے اور بهائی جو دن رات تڑپ رہا ہے یقیناً اس کی تڑپ تجهے نظر نہیں آرہی….”
اس کی بات پر اس نے ذوہان کو دیکها جو سچ میں مرجهایا تها آنکهوں کے گرد ہلکے نمایا تهے
“تمہیں لگتا ہے کہ میں اپنا وعدہ بهولا ہوں….؟ تمہیں لگتا ہے میں تمہیں یوں ساری زندگی ایسے چهوڑوں گا اگر میری محبت ملی ہے تو ان شاءاللہ اللہ تیری محبت بهی تیری جهولی میں ڈالے گا فرق بس اتنا ہے تهوڑی محنت کی ضرورت ہے پلیٹ میں رکھ کر پیش نہیں کی جائے گی….”
اس کی بات سنتے ذوہان نے ایک نظر اسے دیکها اور دوبارہ اپنا کام سر انجام دینے لگا
“ایسا نہ ہو میری محبت کسی اور کو پلیٹ میں رکھ کر مل جائے اور تمہاری بات پر یقین کرتے میں بهی ہاتھ پر ہاتھ دهرے اس کا منتظر رہوں…”
وہ کینچی اٹهاتے بولا تها
“بهائی پر یقین نہیں…؟”
وہ خفگی سے بولا
“بهائی پر یقین ہے قسمت پر نہیں…”
وہ اٹهتا ہوا بولا تها تو وجدان بهی اٹها تها اور شرٹ پہنتا اسے دیکهنے لگا جو سنجیدگی چہرے پر سجائے بیگ میں چیزیں رکهنے میں مصروف تها
“پارس یہ میرے کمرے میں رکھ دینا خدا حافظ امی جان میں چلتا ہوں….”
وہ گاڑی کی چابی جیب سے نکالتے بولا تها
“ناشتہ تو کر لو…”
آبریش سے پہلے مصطفی بولا تها
“نہیں بابا وہاں سے کر لوں گا ابهی دیر ہو رہی…”
سنجیدگی سے کہتا جانے کا اشارہ کرتے وہاں سے نکلا تها جب کہ وجدان کهڑا اس کی پشت کو دیکھ رہا تها
“ناشتہ کرو گے یا صرف کهڑے رہنے کا ارادہ ہے….”
شہرام نے مسلسل اس کو ذوہان کی پشت کو دیکهتے پاکر کہا تها تو وہ گہرہ سانس لیتا ان کی جانب دیکهنے لگا
“آپ کے کمرے میں آپ کا منتظر ہوں ناشتے کا دل نہیں…”
وہ بهی سنجیدگی سے کہتا شہرام کے کمرے کی جانب چلا گیا تها اور باقی سب خاموشی سے ناشتہ کرنے لگے جب کہ دعا بهی نیچے آتی عالیاب کے لیے ناشتہ لینے لگی تهی
…………………………………
ذوہان گاڑی میں بیٹها باہر سڑک پر ہوتی گاڑیوں کی روانی اور چہل پہل کو دیکهتا بےشمار سوچوں میں گهیر چکا تها اس کا دل ہوسپٹل جانے کا بالکل نہیں تها آج کل اس کا دل کہیں نہیں لگ رہا تها یہاں تک کے تعبیر سے بات کا دل بهی نہیں لگتا تها
“محبت کا روگ بڑا ہی برا ہے مل جائے تو زندگی گلزار نہ ملے تو زندگی عذاب اور جب انسان بیچ میں لٹکا ہو کہ ملے نہ ملے تو زندگی بےکار کیونکہ انسان نہ آگے جا سکتا ہے نہ پیچهے ایک جگہ ناکارہ چیز کی مانند پڑا رہتا ہے اور یہ زندگی انتہائی خوفناک ہے”
وہ مسلسل ٹکٹکی باندهے باہر دیکھ رہا تها آنکهیں دهندلا سی گئیں تهی مکڑی کے جالے کی مانند آنکهوں کے آگے آنسووں کے جال بکهر گئے تهے
“میں بہت بےبس ہو گیا ہوں کدهر جاوں میرے رب…”
وہ خود سے بولتا آسمان کی جانب دیکها بہت سے آنسووں آنکهوں سے رستہ نکالتے داڑهی میں جذب ہوئے تهے
“یا تو محبت دے دیں یا اس روگ سے نکال دیں یا جان لے لیں….”
اس کی بهاری آواز اس کے رونے کی گواہی تهیں
“میرا دل کر رہا ہے چینخ چینخ کر رووں اتنا رووں کہ میری صداوں پر کن کہنے پر مجبور ہو جائیں….”
اس نے دل پر ہاتھ پهیرتے ایک لمبا سانس کهینچا تها گویا دل کا درد کم کرنا چاہ رہا ہو
“میں چاہتا ہوں میری تڑپ میں وہ تڑپے لیکن میرے چاہنے سے کیا ہوتا ہے لیکن آپ کے چاہنے سے بہت کچھ ہو جائے گا آپ کے بس میں تو سب ہے معجزے آپ کی خاصیت ہیں کر دیں یہ معجزہ دے دیں میرے دل کو قرار فرما دیں کن….”
وہ اپنا سر سٹیرنگ پر ٹکا گیا تها بہت سے آنسووں گرتے اس کے درد کی واضع نشانی تهے
…………………………………
شہرام کمرے میں آیا تو وجدان بیڈ پر بیٹها ہاتھ میں شہرام اور پریہان کی بارات کی تصویر تهامے اسے دیکهنے میں مصروف تها شہرام کے کمرے میں آتے ہی اس نے تصویر کو واپس ٹیبل پر رکهتے اپنے ڈیڈ کو دیکها جو صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹها ایک ہاتھ کی کہنی صوفے کی باہنی سے ٹکائے اس ہاتھ کی انگلی اور انگوٹهے کو داڑهی پر پهیرتا بڑی فرصت سے اس کی عزت افزائی کرنے کے لیے اسے دیکھ رہا تها
شہرام کو مسلسل بنا پلک چهپکے خود کو دیکهتا پاکر وجدان نے شرارت سے آنکھ ماری تو شہرام کہنی صوفے سے اٹهائے اس کو گهورنے لگا جوابا وہ کهل کر ہنسا تها
“باپ ہوں یہ چهچهوری حرکتیں میرے ساتھ بالکل مت کرنا….”
“فکر مت کریں ڈیڈ میں کر بهی نہیں سکتا…”
اس نے سر کهجائے کہا
“یار تمہیں شرم نہیں آتی اپنے باپ سے ایسے بےشرمی کے سارے ریکارڈ توڑ کر بات کرتے ہوئے…”
اس کی بات سنتے وجدان نے زوروشور سے نفی میں سر ہلایا گویا بتا رہا ہو باپ سے کیا شرم وجدان نے افسوس سے اسے دیکها
“میں نے سہی سنا تها جو اپنے والدین کے ساتھ کرو گے آگے سے آپ کی اولاد بهی وہی کرئے گی افسوس تم مجھ سے بےشرمی میں چار ہاتھ آگے ہو قسمے میں بهی بےشرم تها پر اتنا نہیں….”
وجدان جو مکمل طور پر اس کی جانب متوجہ تها اس کی بات سنتے قہقہ لگا اٹها تها اور اپنے باپ کو دیکها جو فانت کچائے اسے دیکھ رہا تها شہرام کو دیکهتے ایک بار پهر سے اس کی ہنسی نکلی تهی
“وجدان تمہیں معلوم ہونا چاہیے میں تمہارے دانت توڑ سکتا ہوں….”
اس کے چبا کر کہنے پر اس نے بامشکل ہنسی روکے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکهے شرافت کا مظاہرہ کرنا چاہا شہرام نے گہرہ سانس بهرتے اپنے غصے کو دبوچا تها
“وجدان تمہاری یہ حرکت بہت شرمناک تهی تم جانتے ہو عالیاب مجهے تم سے زیادہ عزیز ہے ہمارا اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ایسے ہاتھ اٹهایا جائے اور ہماری تربیت یہ نہیں تهی افسوس ہوا بہت…. “
شہرام کے سنجیدگی سے کہنے پر وجدان بهی حددرجہ سنجیدہ ہوا اور ہونٹوں سے انگلی ہٹائی تهی
“ڈیڈ جو میری جاب ہے آپ اچهے سے جانتے اس میں کیا کیا کرنا پڑتا ہے آپ بهی اس دور سے گزرے ہیں آپ بهی ایک آفیسر رہے ہیں آپ کو سمجهنا چاہیے تها آپ بهی نہیں سمججے مجهے بهی بہت افسوس ہوا…”
وہ اسی کے انداز میں بولا
“میں سمجهتا ہوں لیکن ہاتھ اٹهانا یہ کوئی ٹهیک بات نہیں تم نہیں جانتے اس کی گال پر موجود نشان میری روح تک کو تڑپا گیا ایسا لگا جیسے کسی نے میرا کلیجہ چیر دیا ہو…”
وہ دل پر ہاتھ رکهتے بولا تها وجدان کو اس کے لہجے میں درد واضع محسوس ہوا تها
“وہ میری بهی محبت ہے یقین جانیں میرا بهی دل چیرا گیا تها جب اس نے مجھ سے طلاق کا کہا مجهے معلوم ہے میں نے غلط کیا لیکن ڈیڈ وہ بنا میری سنے کیسے مجھ سے ایسا مطالبہ کر سکتی ہے….”
وہ اٹھ کر اس کے پاس بیٹهتے اس کا ہاتھ تهامے بولا تها
“ڈیڈ اگر وہ ایک بار بهی سن لیتی میری بات تو یہاں تک نوبت نہ آتی مجهے اپنی حرکت پر شرمندگی ہے لیکن وہ کیسے میری روح مجھ سے جدا کر سکتی ہے ڈیڈ آپ جانتے ہیں میں بہت پیار کرتا ہوں جیسے آپ موم سے کرتے ہیں میں ویسے عالیاب سے کرتا ہوں بہت زیادہ کرتا ہوں…”
وہ ہمیشہ کہ طرح شہرام سے بنا کسی جهجهک سے اپنی مح ت کا اظہار کر رہا تها وجدان نے اس کی گود میں بیٹهے بیٹهے ہی اپنا سر رکها تها
“ڈیڈ اگر موم آپ سے ایسا کہتی کیا آپ برداشت کرتے نہیں نہ نہیں کرتے مجھ سے بهی نہیں ہوا…”
وہ اس کی گود میں سر رکهے اپنے دل کا حال بیان کر رہا تها شہرام دهیرے دهیرے اس کے بالوں میں ہاتھ پهیر رہا تها وہ خاموش ہوا تو شہرام نے چہرہ جهکائے اس کے سر کو دیکها تها
“دوبارہ ایسا کچھ مت کرنا میں نے بهی ہاتھ اٹهایا تها ماضی میں لیکن تب حالات اور تهے جن سے تم ناواقف ہو لیکن میں نے کبهی تمہاری موم پر ہاتھ نہیں اٹهایا تم بهی دوبارہ ایسا ہرگز نہ کرنا اور اب اٹهو جاو اسے مناو…”
وہ پہلے پرانی باتیں سوچتا بولا پر اس کو منانے کا کہا تو اس نے سر اٹهایا تها
“میں اس سے بات کروں گا لیکن اس سے پہلے تم منا لو کیونکہ اگر اس نے مجھ سے تم سے دور رہنے کا کہا تو میں مجبور ہو جاونگا اور اس بار تمہاری دهمکی مجھ پر زرا اثر نہیں کرئے گی جاو اب….”
وہ اس کا کندها تهپتهپائے بولا تو وجدان مسکرایا اور اٹها تها اور پهر جهک کر شہرام کی گال چومتا کمرے سے نکل گیا تها پیچهے وہ بهی مسکرا دیا تها
…………………………………
اسلام و علیکم کیسے ہو سب…؟ یار جس دن مشین لگائی ہو یقین جانیں اس دن قسط تو مت مانگا کریں آپ لڑکیاں تو کپڑے دهونے کا دکھ سمجھ سکتی ہیں قسمے لکهنا بہت مشکل ہو جاتا ہے خیر مزے کریں
