No Download Link
Rate this Novel
Episode 21
سعد فجر کہ نماز کی ادائیگی کے بعد گهر لوٹا تها اور تب سے بیٹها لیپ ٹاپ میں ہی مصروف تها
“دعا نو بج گئے ہیں ناشتا کیا تم نے….؟”
اس نے کمرے میں آتی دعا کو دیکهتے ہوئے پوچها جس نے اثبات میں سر ہلایا
“اور میڈسن تو کهائیں نہیں ہونگی…”
اس کی بات پر اس نے منہ بنایا کیونکہ اس کو میڈسن کهانا زہر لگتا تها اور یہ بات سعد بخوبی جانتا تها اسی لیے طنز کیا تها
سعد لیپ ٹاپ ٹیبل پر رکهتا اٹها اور سائیڈ دراز سے اس کی میڈسن نکالی تهیں
“ادهر آو…”
اس کو قریب بلاتے اس نے پانی گلاس میں انڈیلا تها
“مجهے نہیں کهانی سعد بہت کڑوی ہیں…”
وہ ٹیڑهے منہ بنائے بولی
“اس کے بعد میٹهی چیز دے دوں گا کها لو یہ…”
اس نے میڈسن نکالتے ہوئے مسکراہٹ دبائے کہا تو دعا نے ناسمجهی سے اسے دیکها پهر اس کی باف بار امڈنے والی مسکراہٹ کو دیکهتے وہ سمجهی تهی اور شرم سے سرخ ہوئی تهی
“یہ لو اب فیصلہ تمہارا ہے پہلے میٹها کهانا ہے یا بعد میں میرے خیال سے کڑوے کے بعد میٹها کهاو تو منہ کا ذائقہ بہترین رہتا ہے…”
ذومعنی بات کرتا اس کو پلکوں کی باڑ گرانے پر مجبور کر گیا تها اس نے جلدی سے اس کی ہتهیلی سے میڈسن اٹهائیں اور پانی کا گلاس تهامتے گندے گندے منہ بناتے کهائیں تهی
سعد نے اس کے ہاتھ سے پانی کا گلاس لے کر رکها اور دو قدم قریب ہوا
“اب میٹهے بارے کیا خیال ہے…”
اس نے اس کا برف کی مانند ٹهنڈا پڑتا ہاتھ تهامے کہا تو وہ تیز سانس لینے لگی اسے عالیاب کی برتھ ڈے کی رات یاد آئی اور چہرہ شرم سے مزید سرخ ہوا تها
“سس-سعد پلیز میں ان سب کے لیے تیار نہیں…”
وہ اس کو چہرہ قریب کرتے دیکھ بوجهل ہوتی آواز سے بولی تو وہ دهیرے سے مسکرایا
“میں پیش قدمی کروں گا تو تمہیں مزید کسی تیاری کی ضروفت پیش نہیں آئے گی تم میرے جزباتوں سے خود بہک جاو گی میری قربت تمہیں جنت میں لے جائے گی….”
وہ اس کا چہرہ تهامے جذبوں سے چور لہجے میں بولا تو دعا نے اس کے سینے پر ہاتھ رکهتے اس کو پیچهے دهکیلا تها وہ ایک قدم پیچهے ہوا اور آنکهوں میں جذبوں کا جہاں لیے اس کے خوبزورت گهبرائے شرم سے سرخ چہرے کو دیکهنے لگا
“جو تم سوچ رہی ہو ویسا کچھ ارادہ نہیں رکهتا ابهی لیکن چهوٹی موٹی گستاخیوں سے تم مجهے نہیں روک سکتی اور اگر مجبور کیا تو….”
اس نے بات ادهوری چهوڑی اس نے جو اس کی پہلی بات سے سکھ کا سانس لیا تها آخر بات پر گهبرائی تهی
“سعد پلیز میں آپ کی کسی قسم کی قربت محبت برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں…”
وہ بےبسی سے بولی سعد جو پہلے شرارت سے لگا ہوا تها اب سنجیدگی سے اس کو دیکهنے لگا
“میں کچھ نہیں کر رہا ریلیکس رہو یہ دو مہینے تمہیں اپنے ساتھ وقت دینے کے لیے ہی لایا ہوں لیکن ان دو مہینوں بعد تمہیں زہنی طور پر مکمل تیار ہونا ہوگا بیوی ہو تم میری…”
وہ سنجیدگی سے بولا اور اس کے ماتهے پر شدت سے لب رکهتا واشروم میں چلا گیا اس کے جاتے ہی دعا نے رکا سانس بحال کیا تها اور بےاختیار اپنے ماتهے کو چهوا جہاں اس کے ہونٹوں کا لمس ابهی باقی تها
…………………………………
وجدان آج خود عالیاب کو ڈراپ کرنے گیا تها ساتھ میں ان پانچ سٹوڈنٹس کے بارے میں بهی جاننا تها جس نے اس کے دل کو تکلیف پہنچائی تهی
“میرے دل ڈرنا نہیں پارس بهی ساتھ ہے آج اور مجهے وہ سٹوڈنٹس دیکهاو ایسی کی تیسی ان کی اور پارس خیال رکهنا ورنہ تمہاری ہڈیاں باقی نہیں رہیں گی…”
عالیاب کی گال تهپتهپا کر کہتے آخر میں وارن نظروں سے پیچهے بیٹهے پارس کو دیکهتے کہا جس نے تهوگ نگلتے اثبات میں سر ہلایا اور پهر تینوں جیپ سے اترے تهے
“وہ رہے سکندر وہ پانچوں…”
اس نے سامنے آپس میں ہنستے پانچوں کی طرف اشارہ کیا تو اس نے مٹهیاں بهینچی تهیں
“جاو میں دیکھ لوں گا…”
اس نے غصہ کنٹرول کرتے کہا اور پارس کو بهی اشارہ کیا جس نے عالیاب کا ہاتھ پکڑا تها اور اندر داخل ہوئے
“محبوب تین لڑکوں کی تصویر بهیج رہا ہوں اور یونیورسٹی کا پتا بهی میں کچھ دیر میں پولیس سٹیشن پہنچوں گا لیکن جب میں پہنچوں تو یہ تین مجهے اپنی حالت میں حوالات میں نہ ملیں…”
اس نے کرختگی سے کہا اور فون بند کرتے ان کی پک نکالتے محبوب کو سینڈ کی تهی
…………………………………
زوہان فجر سے ہوسپٹل میں تها اور دس بجنے کو تهے اسے تعبیر کہیں نظر نہ آئی تهی
“آج یہ چڑیل آئی نہیں کہا…”
اس نے مایوسی سے سوچا ہی تها کہ سامنے راہداری سے اس کو تعبیر آتی دیکهائی دی جو اپنے پرس سے کچھ تلاش رہی تهی زوہان کے اندر ایک دم سے خوشی کی لہر دوڑ گئی تهی وہ بےاختیار اس کی جانب چل دیا
“کیسی ہیں ڈاکٹر تعبیر…؟”
وہ اس کے جانب رکتے ہوئے بولا وہ جو اپنے دهیان میں تهی قریب سے آواز سنتے اچهلی تهی اور پهر اس کو گهورنے لگی جس کے چہرے پر اس کے اچهلنے سے مسکراہٹ دوڑی تهی
“الحمدللہ بالکل ٹهیک اور یہ کیا طریقہ ہے ڈاکٹر زوہان…”
وہ چباتے ہوئے بولی تو اس نے ایک آنکھ بند کرتے زبان نکالی اور سر کهجائے اس کو دیکهنے لگا اس کی اس طرح کیوٹ شکل بنانے پر تعبیر کے دل کی بیٹ مس ہوئی تهی اس نے مشکل سے زوہان سے نظریں چرائیں تهی خود کے دل کو قابو میں ہوتے نہ دیکھ وہ اس کے پاس سے گزرنے لگی
“اتنی دیر سے کیوں آئی ہیں….؟”
وہ بےاختیاری میں بولا تو اس نے کڑے تیوروں سے اسے گهورا
“آپ اپنے کام سے کام نہیں رکھ سکتے…؟”
وہ گهورتے ہوئے بولی
“کام سے کام ہی تو رکھ رہا ہوں…”
وہ شرارتی انداز میں بولا
“ڈاکٹر زوہان لمٹس میں رہیں میں منگیتر ہوں کسی اور کی اپنا چهیچهورا پن کسی اور پر چلائیں جو آپ کے جهانسے میں آجائے…”
وہ اس کے دو قدم قریب ہوتے خونخوار نظروں سے گهورتے ہوئے بولی تو اس نے سر کهجایا
“اس دل کا کہا جو نہیں مانتا جو صرف آپ کے نام کا ورد کرتا ہے دیکهیں نہ صرف آپ کے لیے دهڑکتا ہے علاج کردیں نہ اس کا…”
وہ اس کا ہاتھ پکڑتا اپنے دل کے مقام پر رکهتا محبت پاش لہجے میں بولا اس کے دل کی دهڑکنیں اس کی دهڑکنوں کو بڑها رہیں تهی اس نے فوراً سے اپنا ہاتھ کهینچا تها
“کیا ہوا ہو گئیں نہ تمہارے بهی دل کی دهڑکنیں بےقرار کردو نہ اقرار کے محبت ہے تمہیں مجھ سے کر دو اقرار کے یہ دل صرف ڈاکٹر زوہان مصطفی کے لیے دهڑکتا ہے…”
وہ اس کو کندهوں سے تهامے بولتا اس کے کانوں میں سور پهونک رہا تها وہ یک ٹک اس کی آنکهوں میں دیکهنے لگی جہاں محبت کا ایک جہان آباد تها اس نے ہوش میں آتے اس کے ہاتھ جهٹکے تهے
“زوہان مصطفی دوبارہ مجهے ہاتھ لگانے یا میرے رستے میں آنے کی کوشش بهی مت کرئیے گا ورنہ آپ کے ہی بهائی کے پاس جا کر آپ کے خلاف ہراسمنٹ کی رپورٹ درج کرواوں گی پهر دیکهتی ہوں کیسے وہ آپ کے خلاف ایکشن نہیں لیتا…….”
غصے سے کہتی وہاں سے تیز تیز قدم لیتی چلی گئی تهی کیونکہ وہ جانتی تهی اگر دو پل بهی رکی تو وہ اس کی محبت کے سامنے بےبس ہو جائے گی
“میرے بهائی کو رپورٹ لکهوائے گی گندی بچی…”
خود سے بڑبڑایا اور خفگی سے اس کی پشت کو دیکها پهر نچلا ہونٹ بچوں کے جیسے باہر نکالا تها اور اپنے روم کی جانب چلا گیا
…………………………………
وجدان اس وقت پرنسپل کے آفس میں بیٹها اس سے محوگفتگو تها وہ ضرور عالیاب اور کل کی، جانے والی حرکت کے بارے میں بات کر رہا تها
“دیکهیں ایس پی صاحب یہ یونیورسٹی ہے یہاں ہر کوئی اپنی ہر چیز کا خود زمہ دار ہے…”
پوری بات سننے کے بعد پرنسپل بولا
“چلیں ٹهیک ہے یہی سننا تها بس اب میں خود اپنے طریقے سے ہینڈل کروں گا کیوں کہ جو میں کروں گا یقیناً وہ خطرناک ہو گا اور پیرنٹس آپ کے پاس آئیں گے جب آپ ان سے بهی ایسا کہیں گے تو یقیناً وہ کیس ہی کریں گے آپ پر یونیورسٹی پر اور آپ کا ہی نام خراب ہو گا مجهے تو کوئی فرق نہیں پڑنا میں تو بس آپ کی عزت کی خاطر کہ رہا تها…”
وہ تفصیلی انداز میں بولتا کرسی سے اٹها تها پرنسپل کے چہرے پر پسینہ نمودار ہوا تها
“رر-رکیں ایس پی صاحب…”
وہ اٹهتے ہوئے جلدی سے بولا تو وجدان کے لب مسکرائے اور پهر مسکراہٹ غائب کرتا واپس پلٹا
“لیکن یہ سزہ بڑی ہے اتنی سی بات کے لیے ہم ان پانچوں کو نہیں نکال سکتے ایسے بہت سے کیسسز روز ہوتے ہوں گے یہ ایسا ناممکن ہے…”
وہ گهبراہٹ سے بولا
“یہ اتنی سی بات نہیں ہے وہ ایس پی وجدان سکندر کی بیوی ہے کسی میں ہمت نہیں آنکھ اٹها کر دیکهے ان کی ہمت کیسے ہوئی کہ وہ میری عالیاب کے ساتھ ایسے کریں اس کی آنکهوں سے نکلے آنسووں کے سامنے یہ سزہ بہت چهوٹی ہے….”
وہ غصے سے بولا تو وہ مزید گھبرایا تها
“ٹهیک ہے ایس پی صاحب جیسا آپ کہیں…”
وہ ایک سیکنڈ سوچنے کے بعد بولا
“اوکے لیکن دوبارہ کسی بهی حرکت پر خاموش نہیں رہوں گا آپ پر ایکشن لوں گا کیونکہ عالیاب سکندر پر زرا سی بات میرے لیے پہاڑ کی مانند ہے….”
یہ کہتے آنکهوں پر گوگلز لگائے اور آفس سے نکلا تها
…………………………………
وجدان پولیس سٹیشن آیا اور سیدها ان لڑکوں کے پاس گیا جو مار سے آدھ منہ ہوئے زمین پر گرے پڑے تهے وجدان ان کے پاس پیروں کے بل بیٹها تها
“دوبارہ میری عالیاب کو تکلیف پہنچاو کا یقیناً نہیں سوچو گے کیونکہ اب اس یونیورسٹی میں تم لوگوں کی کوئی جگہ نہیں….”
وہ نیچے بیٹها چباتے ہوئے بولا وہ بند ہوتی آنکهوں سے اسے دیکھ رہے تهے
“محبوب جب مکمل ہوش میں آئیں تو ان کے گهر پهینک آو…”
ان کو دیکھ کر کہتا وہاں سے گیا تها اور اپنی کرسی پر بیٹهے فون پر ڈی ایس پی صاحب سے بات کرنے لگا
…………………………………
رباب پارس اور عالیاب آخری لیکچر بنک کرتے گراونڈ میں برگر کها رہے تهے ساتھ کول ڈرنک سے لطف اندوز ہو رہے تهے
“وہ پانچوں صبح کے بعد نظر نہیں آئے عالی کلاس میں بهی…..”
رباب پارس کے ہاتھ سے کول ڈرنک کهینچتے بولی
“سکندر نے یقیناً ان کو مزہ چکهایا ہو گا…”
وہ مزے سے بولی
“وہ تمہیں تنگ کرنے کا بہانا کیوں ڈهونڈهتے ہیں…؟”
پارس برگر کی بڑی سی بائیٹ لیتے بولا
“جلتے ہیں میرے حسن سے…”
وہ ایک ادا سے بولی تو وہ دونوں ہنسے
“شیطان کا نام لیا شیطان حاضر وہ حساب ہے سامنے دیکهو عائشہ اور آمنہ آرہی ہیں…”
رباب نے سامنے سے آگ بگولہ ہو کر آتی آمنہ اور عائشہ کو دیکهتے کہا
“ضرور ان کے ساتھ کچھ ہوا ہے…”
پارس نے کہا
“تم سمجهتی کیا ہو خود کو…”
عائشہ ان کے پاس آتی تقریبا چلائی تهی کہ پاس سے گزرتے سٹوڈنٹس متوجہ ہوئے تهے وہ تینوں بهی کهڑے ہوئے تهے
“تمیز سے بات کرو سمجهی…”
عالیاب بهی غصے سے بول
“تمہیں تو میں…”
اس سے پہلے وہ عالیاب کی جانب بڑهتی پارس بیچ میں حائل ہوا تها
“حد میں رہو کل کا جتنا فائدہ اٹهانا تها اٹها لیا…”
پارس بهی غصے سے بولا
“تمہاری وجہ سے ہمیں یونیورسٹی سے نکال دیا گیا تم سمجهتی کیا ہو خود کو بلڈی….”
“شٹ اپ….”
اس سے پہلے آمنہ گالی بکتی وجدان کی دهاڑ سے وہاں خاموشی چهائی تهی بہت سے سٹوڈنٹس اکهٹے ہوئے تهے
“سکندر…”
عالیاب ہولے سے بڑبڑائی وجدان نے عالیاب پارس اور رباب کو دیکها پهر ان کے سامنے کهڑے ہوتے قہر برساتی نظروں سے آمنہ اور عائشہ کو دیکها
“اب کچھ بهی بولنے سے پہلے ہزار بار سوچنا اب تو یونیورسٹی سے دفعہ کروایا ہے اگر اب بکواس کی تو دنیا سے دفع کروا دوں گا…”
وہ غصے سے دهاڑ رہا تها سٹوڈنٹس نے اپنے کیمرے اون کیے تهے پولیس یونیفارم میں گوری رنگت جو غصے اور ضبط سے سرخ ہو رہی تهی نیلی پرکشش آنکهیں اور ماتهے پر بکهرے بال وہاں موجود ہر لڑکی کا دل دهڑکا رہا تها بہت سی لڑکیوں کیا لڑکوں نے بهی اسے اپنے موبائل میں قید کرنا شروع کیا تها
“میں اس کا یہ خوبصورت چہرہ بگاڑ کر رکھ دوں گی جس پر اسے بہت غرور ہے……”
عائشہ غصے سے کہتی آگے بڑهی لیکن وجدان نے سختی سے اس کا بازو دبوچتے اس کو دور دهکیلا کہ وہ گرتے گرتے بچی تهی
“میں نے کہا حد میں رہو یہ میری آخری وارننگ ہے ورنہ اپنے ان تین دوستوں کی حالت دیکھ لینا جو فلحال اپنے حال پر نہیں ہیں میں عورتوں پر ظلم کا قائل نہیں ورنہ ابهی منہ توڑ دیتا…”
وہ بپهرے ہوئے شیر کی مانند دهاڑ رہا تها کہ وہاں موجود ہر سٹوڈنٹ خاموش تها
“سن لیں سب اگر کسی نے عالیاب سکندر کی طرف آنکھ اٹها کر بهی دیکها تو وہ اپنا انجام سوچ لے کیونکہ عالیاب سکندر ایس پی وجدان سکندر کی بیوی ہے اور وجدان سکندر اپنی بیوی پر آنچ بهی برداشت نہیں کرئے گا…”
وجدان پیچهے ہوتا باقاعدہ اعلان کر رہا تها وہاں موجود ہر شخص حیران تها جب کہ عالیاب پارس اور رباب بهی حیرت سے ایک دوسرے کی شکل دیکھ رہے تهے سب میں چہ مگویاں شروع ہوئیں تهی اور سب کی چہ مگویاں کو اگنور کرتا ان کی جانب آیا
“چلو رباب تمہیں بهی چهوڑ دیتا ہوں…”
رباب سے کہتے عالیاب کا ہاتھ پکڑا اور بهیڑ کو توڑتے ہوئے وہاں سے نکلا تها
