No Download Link
Rate this Novel
Episode 43
سب کی نظریں زوہان کے پیچھے موجود دوشیزہ پر تھیں تعبیر کے دل کی دھڑکنیں تو تیز ہونی چاہیں تھی البتہ زوہان کا دل بھی سب کے ہونے والے ریکشن کا سوچ کر زورو سے دھڑک رہا تھا
“نالائق اب وہی کھڑے رہو گے یا بیٹی کو آگے ںھی لاو گے۔۔۔۔”
سب سے پہلے مصطفی کی آواز گونجی تھی اور مصطفی کی اس غیر متوقع ںات سنتے اس نے ایک جھٹکے سے مصطفی کو دیکھا ھو مصنوعی خفگی لیے ہوئے اسے ہی دیکھ رہا تھا اس نے سب کو دیکھا جن کے چہروں پر مسکراہٹ تھی پھر خر میں بےیقینی سے وجدان کو دیکھا جو مسکراہٹ دبانے کے لیے نچلا ہونٹ دانتوں میں دبائے اسے ہی دیکھ رہا تھا
“اگر صدمہ ختم ہو جائے تو اس سر انجام دینے والے کارنامے پر ڈٹے رہنا۔۔۔۔”
اس کو یوں صدمے کی گہرائیوں میں جاتے دیکھ شہرام نے طنز کا میٹھا سا تیر مارا تھا تو وہ گڑبڑایا تھا
“تم لوگوں کے آنے سے پہلے عالیاب ہمیں ہر چیز سے باخبر کر چکی ہے ہم ناراض تو بہت ہوئے کہ اگر ایسا کچھ تھا ہمیں بتاتے یوں ایسا قدم تو نہ اٹھاتے لیکن اس نے اصل صورتحال سے آگاہ کیا تو ہماری ناراضگی میں کمی آئی ہے بس لیکن ختم نہیں ہوئی۔۔۔۔”
آبریش مسکراہٹ دبائے مصنوعی خفگی سے بولی تھی تو زوہان نے عالیاب کو دیکھا جس نے گڑبڑا کر فورا وجدان کی جانب اشارہ کیا جو بڑی شان سے کھڑا اپنے سر انجام دیے کارنامے سن رہا تھا زوہان کو سمجھ نہیں آئی اس کے کارنامے پلیننگ پر داد دے یا دو رکھ کر لگائے لیکن جو بھی تھا اس کے بھائی نے سب ٹھیک کر دیا تھا
“ماشاءاللہ بہت خوبصورت ہو ہمیشہ خوش رہو مجھے یقین ہے میرا بیٹا تمہیں ہمیشہ خوش رکھے گا مجھے یا میری تربیت پر آنچ بھی نہیں آنے دے گا۔۔۔”
آبریش تعبیر کے کے پاس آتی محبت سے اس کا ماتھا چومتے بولی تھی زوہان ہونٹ بھینچے انہیں دیکھنے لگا تھا تعبیر کو سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا ریکشن دے لیکن فلوقت خاموش تھی
“عالیاب جاو اپنی بھابھی کو زوہان کے کمرے میں لے جاو ابھی تھکی ہو گی رات کے کھانے میں سب کا تعارف اور سلام دعا کروا دیں گے۔۔۔”
پریہان کی بات سنتے اس نے گہرا سانس لیا کیونکہ وہ سچ میں تھکن سے چور ہو رہی تھی
“نن-نہیں میرا کمرہ۔۔۔”
وہ اتنا بولتا خاموش ہوا تھا سب نے ناسمجھی سے اسے دیکھا تھا
“مم-میرا مطلب۔۔۔”
وہ پھر سے خاموش ہوا تھا اسے سمجھ نہیں آیا وہ کیسے کہے
“بھائی فکر مت کریں میں نے سب صاف کروا دیا ہے آپ کا کمرہ اب چمک رہا ہے۔۔۔”
دعا “سب” پر زور دیتے بولی تھی جبکہ اس نے جھرجھری تھی
“چلیں بھابھی۔۔۔۔”
عالیاب تعبیر کے پاس آتی مسکرا کر بولی تو وہ اثبات میں سر ہلائے اس کے ساتھ جانے لگی تھی
اب وہاں سب ہی زوہان کو خشمگین نظروں سے گھور رہے تھے وہ ایک دم سے گڑبڑا گیا تھا
“اب ایسے کیا دیکھ رہے ہیں سب۔۔۔؟”
اس نے گڑبڑاتے ہوئے کہا
“ہم تو تمہیں بہت معصوم سمجھتے تھے زوہان۔۔۔”
میرب نے آنکھیں چھوٹی کیے کہا تھا
“ارے میرب وجدان کے ساتھ رہتا ہے یہ٫ یہ جانتے ہوئے بھی تم اس سے شرافت کی امید لگا بیٹھی ہو۔۔۔”
شہرام نے اپنے بیٹے کو گھورتے ہوئے کہا جو شہرام کی بات سنتا قہقہ لگا اٹھا تھا سب کے چہروں پر مسکراہٹ پھیل گئی تھی
“مامی جان قسم لے لیں مجھے اس پلیننگ کا پتا نہیں پتا تھا۔۔۔”
زوہان نے منہ بنائے کہا تھا
“جی جی ہمیں پتا ہے اتنی خوبصورت پلیننگ ایک ہی انسان کی ہو سکتی ہے۔۔۔”
رامز کرسی پر بیٹھے بولا تھا اور وہ اپنی تعریفیں سنتا بس مسکرائے جا رہا تھا
“مصطفی تمہیں مجھ سے گلا کرنا چاہیے کہ اس نے تمہارے بیٹے کو بگاڑ دیا ہے۔۔۔”
شہرام نے گہرا سانس بھرتے وجدان کو دیکھا جو ڈھٹائی سے مسکرا رہا تھا
“شہرام گلا تو میں تب کروں جب اس نے زبردستی زوہان کو مجبور کیا ہو یا دھمکی دی ہو کہ اگر محبت نہ کی تو جان سے مار دوں گا کارنامے کو شروع کرنے میں تو زوہان کا ہاتھ تھا نہ بس اس کو پایا تکمیل تک تیرے بیٹے نے پہنچایا دونوں ہی میسنے ہیں۔۔۔۔۔”
زوہان منہ کھولے اپنے باپ کو دیکھنے لگا باقی سب کا قہقہ گونجا تھا اور نیچے آتی عالیاب بھی زور سے ہنسی تھی
“وجدان ہماری عزت افزائی ہو رہی ہے تجھے فیل نہیں ہو رہا۔۔۔؟”
زوہان نے وجدان سے کہا جس کی بتیسی اندد نہیں جا رہی تھی زوہان کے پوچھنے پر اس نے بےشرمی نفی میں سر ہلایا تھا تو زوہان نے گھورا تھا
“زوہان کو ہم چوزہ سمجھتے تھے پر وہ تو عاشقی کے معاملے میں شیر نکلا۔۔۔”
احتشام نے بھی لقمہ دیا تھا
“اچھا بس کر دیں اب اسے تو بےعزتی لگنی نہیں یہ تو جیتا جاگتا بیغیرت ہے لیکن مجھے فیل ہو رہی ہے اب میں شادی شدہ ہو گیا ہوں زرا عزت کریں۔۔۔”
وہ منہ بنائے بولا تھا
“شادی کر کے جتنی عزت ہم کروا چکے ہیں اتنی تم بھی کروا لو گے۔۔۔”
مصطفی نے آبریش کو بازو سے پکڑ کر قریب کرتے کہا جہاں باقی سب کا قہقہ گونجا تھا وہی آبریش نے اس کے سینے پر مکا مارتے گھورا تھا
“مطلب شہرام سہی کہہ رہا تھا آپ میرے پیچھے بھی باتیں کرتے ہونگے ہیں نہ۔۔۔؟”
وہ کڑے تیوروں سے گھورتے ہوئے بولی تو اب کہ وہ گڑبڑایا اور شہرام کو دیکھا جس نے نفی میں سر ہلایا تھا
“شہرام بات تو راز کی ہے لیکن تم پورے۔۔۔۔۔اب میں کیا کہوں تیرا بیٹا جوان ہے اب جو کہ شادی شدہ ہے تو تجھے دادا بنانے کے چکروں میں بھی اب اس عمر میں تم میرا منہ مت ہی کھلواو۔۔۔۔۔”
وہ گھورتے بولا تھا لاونچ پھر قہقوں سے گونج اٹھا تھا پریہان مسکرائی تھی “تیرا بیٹا” یہ لفظ اسے اندر تک سرشار کر دیتا تھا ان دونوں کو آج تک گھر میں سے کسی نے یہ احساس نہیں دلایا تھا کہ وجدان ان کا سگا بیٹا نہیں
وہاں خاموشی چھائی تو وجدان نے گلا کھنگارا تھا
“یار تم نہ ہی بولنا۔۔۔۔”
زوہان نے آگے بڑھتے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا تھا وہ جو بولنے ہی والا تھا پھر سے زور سے ہنستا پیچھے ہوا تھا باقی سب بھی ہنسنے لگے تھے
“ہم جب سے آئے ہیں میں نے ایک لفظ نہیں بولا سب کو شکریہ تو کہنے دو انہوں نے میری اتنی تعریف کی یے۔۔۔”
وہ ہنسنے کی وجہ سے آنکھوں سے نکلتا پانی صاف کرتے بولا تھا
“بھائی تیرے بولنے کی وجہ سے ہی ہم یہاں تک پہنچے ہیں۔۔۔”
اس نے آنکھیں گھماتے کہا
“ہاں تم نے چپ رہ کر کون سا تیر مارا ہے سوائے کمرے کی توڑ پھوڑ کے یار نیا سامان چاہیے تھا تو بھائی سے کہہ دیتا وہ سارا سامان تیرے قدموں میں لا کر رکھ دیتا یوں بےقدری تو نہ کرتا کمرے کی۔۔۔”
اس نے آنکھ دباتے کہا تھا
“میں نے سہی کہا تھا تم چپ ہی اچھے ہو بولو گے تو بیڑا گرک پی کرو گے۔۔۔”
وہ منہ پھلائے بولا تھا تو وہ پہلے مسکرایا پھر آگے بڑھتا اس کو گلے سے لگایا تھا
“میری جان ہو تم تمہارے لیے میں دنیا چھوڑ دوں تیری خوشی کے لیے کچھ بھی کر دوں۔۔۔”
وہ گلے لگتے بولا تھا سب ان کے پیار پر رشک بھری نظروں سے انہیں دیکھ رہے تھے
“ایک طرف پوری دنیا ہو دنیا کی ہر قیمتی چیز ہو اور دوسری جانب تم ہو زوہان تو میں بنا کوئی سوچ زہن میں لائے اپنے بھائی زوہان مصطفی کو چنوں گا۔۔۔”
وہ اس سے الگ ہوتا اس کے سینے پر ہاتھ مارتے بولا تھا تو اس نے نم آنکھوں سے کس کر اسے گلے سے لگایا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا اس کا بھائی جو کہہ رہا ہے ہر بات میں سچائی تھی
“آئی لو یو برو۔۔۔”
وہ گلے لگے ہی بولا تھا
“نہیں اتنا بھی فری مت ہو یہ حق تو عالی کا ہی ہے۔۔۔”
وہ اس سے پیچھے ہوتا شرارت سے بولا تو زوہان نے ہنس کر اس کے کندھے پر مکا مارا تھا تو وہ بھی ہنسا باقی سب ان کی گفتگو کو مسکراتے انجوائے کر رہے تھے
………………………………
عالیاب تعبیر کو زوہان کے کمرے میں چھوڑ گئی تھی وہ پہلے کمرے کی چوکھٹ پہ کھڑی پورے کمرے کا جائزہ لینے لگی کمرے کی ہر چیز نفاست سے رکھی ہوئی تھی یا دوبارہ رکھی گئی تھی اس نے شیشے کے قریب جاتے خود کو دیکھا پھر سر جھٹکتی چہرہ جھکایا تو ایک ٹوٹی ہوئی بوتل پر نظر گئی اس نے اٹھائی جو پرفیوم کی تھی لیکن خالی تھی اس کو واپس رکھتی گہرا سانس ہوا میں خارج کیا پھر سائیڈ ٹیبل پر موجود سیگرٹ کا پیکٹ دیکھتی ٹھٹھکی تھی اس کا دماغ پھٹنے کے قریب تھا وہ بیڈ پر بیٹھتی پیچھے ٹیک لگائی اور تھکن زدہ جسم کو سمیٹتی آنکھیں موند گئی تھی وہ ان کا رویہ دیکھتی اتنا تو جانتی تھی کہ اس گھر کے فرد اسے بہت عزت دیں گے
………………………………
وجدان کمرے میں موجود کب سے عالیاب کا انتظار کر رہا تھا اسے ڈیوٹی پر واپس جانا تھا پر اس کی جاناں مجال ہے جو کمرے میں آ جائے
ابھی وہ کھڑا ٹہل ہی رہا تھا کہ عالیاب کی انٹری کمرے میں ہوئی تھی
“ارے ابھی آپ گئے نہیں۔۔۔۔؟”
وہ بادام منہ میں ڈالتے بولی تو اس نے گھورا تھا
“شوہر ہوں تمہارا ایسے کون کرتا ہے پرواہ ہی نہیں۔۔۔۔۔”
وہ گھورتے ہوئے بولا تو اس نے بادام اس کی جانب بڑھائے تھے تو اس نے ناسمجھی سے دیکھا
“فکر ہے مجھے یہ لیں صحت بڑھائیں۔۔۔”
وہ معصومیت چہرے پر طاری کرتے بولی تھی تو اس نے پہلے دانت کچائے پھر کھینچ کر قریب کیا
“میری صحت ان میں ہے۔۔۔”
وہ اس کے نچلے ہونٹ کو انگلی اور انگوٹھے کی مدد سے کھینچتے ہوئے بولا تو وہ نچلا ہونٹ سہلائے کھا جانے والی نظروں سے دیکھنے لگی تھی
“تمہارا انتظار کر رہا تھا اور تم کتنے مزے سے کہہ رہی تھی کہ ابھی تک گیا نہیں۔۔۔”
وہ دوپٹہ اس کے سر سے اتارتے بولا اور جھک کر اس کی تھوڑی پر لب رکھے تھے اس سے پہلے وہ اس کی گرفت سے نکلتی وہ اس کی سانسیں بھی قید کر چکا تھا عالیاب کے ہاتھ سے بادام نیچے گرئے تھے
اس نے پیچھے ہوتے اسے دیکھا پھر بیڈ سے کیپ اتارتے سر پر لی تھی مسکرا کر اس دیکھتا موبائل والٹ چابیاں اٹھائیں تھی اور وہ مسلسل اسے اپنی گھوریوں سے نواز رہی تھی
“سانس میں تیری
سانس ملی تو
مجھے سانس آئے
مجھے سانس آئے”
وہ اس کی ناک دباتے اس کے پاس سے گزرتے گانے کو بگاڑ کر گنگناتے کمرے سے نکل گیا تھا جب کہ وہ بھی مسکرا دی تھی اور نیچے سے بادام اٹھانے لگی
………………………………
زوہان تب سے کمرے میں نہیں گیا تھا وہی ایک جگہ بیٹھا نیچے زمین کو گھور رہا تھا ہزار سوچیں دماغ دماغ میں پالتا اس کا دماغ گھمانے کو کافی تھیں
اس کو سمجھ نہیں آرہی تھی وہ تعبیر کا سامنا کیسے کرئے گا وہ بھی شوہر کے روپ میں٫ ہزار وسوسوں نے اس کے دل میں ڈیرا جمایا ہوا تھا
“اب کیا ہوا ہے۔۔۔؟”
اپنے قریب آواز سنتے وہ ایک دن سے چونکا تھا وجدان کب اس کے پاس بیٹھا اسے احساس بھی نہ ہوا تھا
“میں یہاں سے گزر رہا تمہیں یوں بیٹھا دیکھا تو تمہیں پوچھنے کے لیے آ گیا۔۔۔”
وہ اس کی آنکھوں میں ابھرتے سوال کا جواب دینے لگا
“سامنے کی ہمت نہیں۔۔۔”
اس نے دل کی بات واضع کی تھی وہ ہمیشہ سے اس سے کھل کر بات کر لیتا تھا کیونکہ وہ اسے اچھے سے سمجھتا تھا
“تم نے اس کی عزت کو نقصان پہنچایا۔۔۔؟”
وجدان کے سوال پر اس نے نفی نیں سر ہلایا
“کیا اس کو نقصان پہنچایا۔۔۔۔؟”
اس نے پھر سے نفی میں سر ہلایا تھا
“کیا اس کے گھر والوں کے سامنے اس کی بےعزتی کروائی۔۔۔۔؟”
تیسی بار پوچھنے پر اس نے پھر سے نفی میں سر ہلایا تھا
“پھر کس چیز کی ہمت نہیں۔۔۔؟ یہی سامنے کا وقت ہے میرا کام جہاں تک تھا میں نے کیا آگے تمہیں خود سنبھالنا ہے بلکہ اسے خوش ہونا چاہیے کہ ایک دھوکے فریبی انسان سے جان چھوٹتے ایک چاہنے والا اس کا نصیب ہے۔۔۔”
اس کی بات پر وہ بھی سوچ میں مبتلا ہوا تھا
“شاباش کمرے میں جا صورتحال کو دیکھ٫ تم بھی ڈاکٹر وہ بھی ڈاکٹر وہ ڈاکٹری والی رائٹنگ جیسے سمجھ نہ آنے والے چار “بول” بول بس۔۔۔”
اس کی بات سنتے وہ مسکرایا تھا تو وجدان بھی مسکرایا
“بس ایسے ہی مسکراتے رہو مجھے دیر ہو رہی میں جاتا ہوں تم خیال رکھو۔۔۔”
وہ مسکراتا اٹھا اور بال بگاڑتا وہاں سے گیا تھا جبکہ زوہان وجدان کی پشت کو دیکھتے پھر سے مسکرایا تھا اور خود بھی کمرے میں جانے کے لیے اٹھا تھا وجدان نے سہی کہا تھا اب اسے خود ہی سنبھالنا تھا
………………………………
زوہان نے کمرے کے باہر کھڑے ہوتے ایک گہرا سانس لیا پھر ہولے سے دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا لیکن اندر قدم رکھتے ہی اس کے پیر وہی منجمند ہو گئے تھے وہ پورے استحاق سے اس کے بیڈ پر موجود سوئی ہوئی تھی بیٹھ بیٹھے سوئے ہونے کی وجہ سے اس کا سر ہلکا سا نیچے کو ڈھلکا ہوا تھا
بے لگام ہوتے جذباتوں کو لگام ڈالے اس نے آہستہ سے دروازہ بند کیا اور بیڈ کی جانب گیا پھر دھیرے سے اس کے قریب بیڈ پر بیٹھی تھی
اس کا دل کیا وہ اس کو چھو کر دیکھے کہیں خواب تو نہیں لیکن چھونے میں ہمت نہ تھی کیونکہ وہ بنا اس کی اجازت کے اسے چھونا نہیں چاہتا تھا لیکن دل تھا کہ ادھم مچائے ہوئے تھا پھر یہ سوچتے کہ وہ اس کی بیوی ہے حق رکھتا ہے تو ہاتھ بڑھائے گال پر موجود اس کے کالے تل کو چھوا تھا وہ چہرے پر لمس محسوس کرتے نیند میں ہی کسمسائی تھی
زوہان اس کے چہرے کی جانب جھکتا قریب سے اس کے چہرے کے ہر نقش کو دیکھنے لگا تھا
اپنے چہرے پر گرم سانسیں محسوس کرتے وہ نیند سے بیدار ہوئی تھی پھر جیسے ہی آنکھیں کھولیں نظریں سیدھا خود پر جھکے زوہان کی نیلی آنکھوں سے ٹکرائیں تھی وہ یک ٹک ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھنے لگے تھے
