Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

“دعا….”
سعد مصطفی اور شہرام کی اکهٹی چینخ نکلی تهی اور زمین پر تڑپتی دعا کی جانب بهاگے جبکہ باقی پولیس فورس نے اس شخص کے جسم کو گولیوں سے چهلنی چهلنی کر دیا تها
“دعا دعا میری بیٹی…”
مصطفی تڑپتا ہوا دعا کو پکار رہا تها
“مصطفی ہمیں اس کو جلد ہوسپٹل لے جانا ہوگا…”
وہ مصطفی کو اپنے حواس کهوتا دیکھ بولا تو سعد نے اپنی جادر اتار کر شہرام کو دی جس کو اس نے دعا کے گرد لپیٹا تها مصطفی دعا کو گود میں اٹهاتا باہر بهاگا تها جبکہ شہرام اور سعد بهی اسکے پیچهے بهاگے تهے باقی پولیس خود سنبهال لے گی شہرام کو اس وقت صرف دعا ضروری تهی
مصطفی دعا کو لیتا پچهلی سیٹ پر بیٹها جبکہ شہرام اور سعد آگے بیٹهے تهے شہرام نے جلدی سے گاڑی سٹارٹ کی اور جتنی جلدی ہو سکے وہ ہوسپٹل پہنچنا چاہتا تها
“دعا میری جان…”
مصطفی کی آنکهوں سے آنسووں رواں تهے وہ بار بار دعا کی نبض چیک کررہا تها جو دهیرے دهیرے سلو ہو رہی تهی
“شہرام جلدی کرو….”
وہ چلایا تها شہرام نے بهی دهندهلائی آنکهوں سے گاڑی کی سپیڈ مزید بڑهائی سعد پیچهے پلٹا دعا کے ہاتھ کو تهامے ہوا تها شہرام نے چار ایکسیڈنٹ سے بچتا ہوسپٹل پہنچا تها مصطفی جلدی سے دعا کو گاڑی سے اٹها کر نکلا تها

“ڈاکٹر….”
ہوسپٹل کے اندر پہنچتے شہرام اپنی پوری قوت سے چلایا تها سعد مصطفی بهی ڈاکٹر کو آواز دے رہے تهے فورا سے ایک ڈاکٹر آیا دعا کی حالت دیکھ کر وہ بهی ہڑبڑی میں آیا تها سٹیچر منگواتے دعا کو جلدی سے سٹیچر پر لیٹایا تها
“ڈاکٹرز اپریشن کی تیاری کرو ہری اپ اس کیا سانسیں ابهی باقی ہیں جلدی…”
وہ ڈاکٹر دوسرے جونیئر ڈاکٹرز سے تقریباً چلاتے ہوئے بولا
دعا کو روم میں لے گئے تهے اس سے پہلے مصطفی بهی جاتا شہرام نے اسکے آگے آتے سینے پر ہاتھ رکهتے پیچهے کیا

“نہیں میرے بهائی….”
شہرام نے نم آنکهوں سے کہا تو وہ اس کے سینے سے لگا زاروقطار رونے لگا کچھ فاصلے پر کهڑا سعد بهی نم آنکهوں سے مصطفی کو یوں تڑپتے دیکھ رہا تها
“سعد رامز کو خبر کرو وہ گهر میں سب سنبهالے….”
شہرام مصطفی کو بینچ پر بیٹهاتا سعد سے بولا جس نے آنکهیں صاف کرتے فون ملایا تها اور دوسری جانب گیا
کچھ دیر بعد ڈاکٹر باہر آیا تو مصطفی اور شہرام اسکی جانب لپکے ته
“میری بیٹی….”
مصطفی نے سرخ آنکهوں سے پوچها

“ان کی سانسیں باقی ہیں ابهی لیکن حالت بہت بری ہے اس بچی کا دو بار ریپ کیا گیا ہے…”
ڈاکٹر بهی دکهی لہجے میں بولتا شہرام اور مصطفی پر ساتوں آسمان گرا گیا تها سعد جو فون کر کے آیا تها یہ خبر سنتے سانس لینا محال لگا تها
“اور وہ تیزاب، تیزاب زیادہ مقدار میں نہ تها پانی تها لیکن اندر بہت بہت کم مقدار میں تیزاب تها لیکن وہ پهر بهی بچی کے چہرے کو جهلسا گیا اگر ان کی سانسیں باقی رہیں تو ہمیں ان کے چہرے کی سرجری کرنی ہو گی اور ان کا چہرہ تبدیل کرنا ہوگا….”
ڈاکٹر کی بات پر وہاں موجود تینوں نفوس کے سانس بند ہوئے تهے
“آپ کو ایک پیپر پر سائن کرنا ہوگا کیونکہ سرجری کے دوران ہم ان کی جان کی ذمہ داری نہیں لے سکتے کسی بهی وقت ان کی جان جا سکتی ہے….”
ڈاکٹر پیشورانہ انداز میں کہتا دوبارہ روم میں جا چکا تها
“شہرام میں مر جاوں گا اپنی بیٹی بنا اس درندے نے میری زندگی مجھ سے چهین لی میری بیٹی معصوم بیٹی کو اپنی درندگی کا نشانہ بنایا اس کا خوبصورت چہرہ جلا دیا اسکی آخری سانسیں ہیں شہرام…”
وہ بلک بلک کر اسکے سینے سے لگا روتا وہاں سے گزرتے لوگوں کی آنکهیں بهی نم کر گیا تها شہرام نے آنکهوں سے گرتے آنسووں کو صاف کرتے مشکل سے مصطفی کو پکڑا تها ڈاکٹر دوبارہ ایک بیچ لے کر آیا جس پر شہرام نے ہی سائن کیے تهے مصطفی میں اتنی ہمت بهی نہ تهی

“سعد خبر کیا….؟”
شہرام نے سعد سے پوچها تو اس نے اثبات میں سر ہلایا
“مصطفی کا خیال رکهو بیٹا میں کچھ فارمیلیٹیز پوری کر کے آرہا ہوں….”
ایک نظر مصطفی کو دیکهتے سعد کو ہدایت دی جس نے اثبات میں سر ہلایا شہرام وہاں سے گیا تها
…………………………………
“آبریش رونے سے کچھ نہیں ہوگا خود کو ازیت مت دو خود کو تکلیف مت دو دعا کرو ہماری دعا کے لیے…”
آبریش جو مصطفی کے کندهے پر سر رکهے کب سے روئے جا رہی تهی کہ شہرام نے پیروں کے بل تهوڑا اونچا ہو کر بیٹهتا اس کے ہاتھ تهامے بولا
“شہرام اس ظالم نے کیا کردیا شہرام….”
اسکی ہچکی بندهی تهی پریہان نے منہ پر ہاتھ رکهے اپنی سسکی دبانی چاہی
“اللہ بڑا رحیم ہے میری جان اس ظالم کا انجام ہو گیا ہے…..”
وہ اس کے آنسووں صاف کرتے بولا
“وہ ظالم تو ایک بار ہی مر گیا اور ہمیں روز روز مرنے کے لیے چهوڑ گیا…”
وہ سسکتے ہوئے بولی تو شہرام نے زور سے آنکهیں بند کر کے کهولیں تهیں
“وہ یہاں ایک بار مرا ہے جہنم میں روز ہزار بار اس سے درد ناک مرئے گا ہماری ہر تکلیف کا مداوا وہ جہنم میں کرئے گا اور ہماری اس تکلیف کا ناجانے ہمیں کتنا اجر ملے تم بس رو نہیں دعا کرو میری بہن…”
نرمی سے اسکی گال تهپتهپاتے ہوئے بولا اور کهڑا ہوا تها

“بچے کس کے پاس ہیں….؟”
اس نے کهڑے ہوتے آنکهیں صاف کرتے پریہان سے پوچها تها
“میرب کے پاس ہیں وہ لوگ دعا کا انتظار کررہے ہیں اسی لیے میرب کے قابو میں نہیں آرہے تهے خاص کر وجدان زرش آپی بهی ان کے پاس ہے….”
وہ بهیگی آواز میں بولی تو شہرام منہ پر ہاتھ پهیرتا دوسری جانب گیا تها
“سعد گهر چلے جاو تهک گئے ہوگے…”
احتشام نے سعد کے چہرے پر ہاتھ رکهتے ہوئے کہا
“جب تک دعا ٹهیک نہیں ہوتی میں کہیں نہیں جاوں گا…”
اسکی بات سن کر احتشام کے ساتھ ساتھ رامز اور شہرام نے بهی گہرہ سانس بهرا تها
…………………………………
چوبیس گهنٹے گزر گئے تهے لیکن دعا کی کوئی خبر نہ آئی تهی ڈاکٹرز باہر آتے لیکن کچھ بهی بتائے اندر واپس چلے جاتے اندر اپریشن جاری تها ڈاکٹرز کے مطابق اسکے چہرے کی سرجری کرنا تهی کیونکہ یہ چہرہ مکمل جهلس گیا تها وہ سب نہیں جانتے تهے کہ چہرہ تبدیل ہونے کے بعد وہ سب دعا سے کیا کہیں گے اس ریپ کے بارے کیا کہیں گے کیونکہ وہ سدا تو اس عمر بهی بچکانہ نہیں رہے گی کبهی تو جوانی میں پہنچے گی تو وہ کیا بتائیں گے اسے
………………………………..
مزید پانچ گهنٹے گزرنے کے بعد سب ڈاکٹرز باہر نکلے تهے ایک سنئیر ڈاکٹر کے علاوہ سب ڈاکٹرز چلے گئے تهے اس سنئیر ڈاکٹر کی جانب سب لپکے تهے
“ڈاکٹر میری بیٹی…؟”
سب بےتابی سے اس کو دیکھ رہے تهے
“ان کا اپریشن کامیاب رہا چوبیس گهنٹے کے بعد ان کے چہرے کی پٹی کهول دی جائے گی ان کی جان کو بهی اب کوئی خطرہ نہیں لیکن…”
جہاں سب کی سانس میں سانس آیا تها وہی “لیکن” پر ان کی سانس اٹکی تهی
“لیکن کیا ڈاکٹر…؟”
رامز نے جلدی سے پوچها

“وہ اپنا دماغ مکمل طور پر کهو چکی ہیں میرے کہنے کا مطلب ہے…”
ڈاکٹر لمحے بهر کو سانس لینے کو رکا تها سب بےتاب نظروں سے اس کی جانب دیکھ رہے تهے
“چهوٹی عمر کے باعث ان کے دماغ پر بہت گہرہ اثر پڑا ہے ایسا کہ سکتے ہیں کہ ان کو ماضی کی کوئی بات یاد نہ ہو یہاں تک کے وہ اس ریپ اور تیزاب چہرہ تبدیلی کے بارے میں بهی سب بهول جائے….”
ڈاکٹر کے الفاظ ان پر بجلی بن کر گرئے تهے
“کک-کیا ہمیں بهی بهول جائے گی….؟”
آبریش روتے ہوئے مشکل سے بولی
“ہم ایسا نہیں کہ سکتے خیر یہ بات چوبیس گهنٹے گزرنے کے بعد معلوم ہوگی مسٹر شہرام آپ مجهے میرے روم میں ملیں….”
ان سے کہتے آخر میں شہرام سے کہا جس نے اثبات میں سر ہلایا ڈاکٹر جا چکا تها جبکہ آبریش اور پریہان کی ہچکیاں وہاں گونج رہی تهیں
“احتشام جاو ان کے لیے کچھ کهانے کو لاو کل سے بهوکے ہیں آبریش کی طبعیت بگڑ جائے گی…”
رامز نے احتشام سے آہستہ آواز سے کہا تو وہ گہرہ سانس لیتا وہاں سے چلا گیا
“مصطفی مجهے دعا کو دیکهنا ہے….”
آبریش نے مصطفی کے سینے سے لگے روتے ہوئے کہا
“دعا کو روم میں شفٹ کر دیا جائے گا تهوڑی دیر میں پهر مل لینا…”
شہرام نے فون نکالتے کہا تها
…………………………………
“ڈاکٹر صاحب آپ نے ملنے کو کہا تها کوئی خاص بات…؟”
شہرام ڈاکٹر کے سامنے والی کرسی پر بیٹهتے ہوئے بولا
“کچھ باتیں ہیں جنکا آپ کے علم میں ہونا ضروری ہیں…”
اسکی بات پر شہرام نے سوالیہ نظروں سے اس کہ جانب دیکها تو ڈاکٹر نے اس کے سامنے دماغ کا ایکس رے رکها تها

“یہ دیکهیں یہاں سے ان کا دماغ بہت متاثر ہوا رپورٹس کے مطابق ریپ سے پہلے نشے کا انجیکشن دیا گیا ہے وہ انجیکشن ان کے دماغ پر اثر کر گیا ہے اور پهر ریپ اسکے بعد تیزاب کا گرنا ان کو گہرے صدمے میں لے گیا ان کا دماغ برداشت نہ کر سکا اور ان کی میمری لوس ہوگئی…”
ایکس رے پر دماغ میں موجود زخم دیکهاتے وہ بولا تها

“تو کیا اب یہ کبهی ٹهیک نہیں ہو سکتی….؟”
“ان کا ٹهیک نہ ہونا ہی کچھ حد تک بہتر ہے نہ تو یہ تیزاب کے بارے میں جانیں اور نہ ہی ریپ کے بارے میں ورنہ ان کی جان بچانا مشکل ہو جائے گا بیس سال تک ان کی یاداشت واپس نہ ہی آئے تو اچها ہے کیونکہ وہ یہ برداشت نہیں کرسکیں گی اور ننانوے فیصد ہے یہ جان سے ہاتھ دهو بیٹهیں….”
اسکی بات ہر شہرام نے گہرا سانس بهرا

“ہاں ایک اور اہم بات…”
کچھ یاد آنے پر وہ بولا تو اس نے اسکی جانب دیکها
“ایک اور مسئلہ ہے…”
“کیا…؟”
اسنے ناسمجهی سے پوچها
“انکا دماغ اس قدر ڈیمج ہوا ہے کہ ان کو آج کی بتائی بات مشکل ہے کل تک یاد رہے لیکن وقت کے ساتھ ان کے بهولنے کا دورانیہ بڑه جائے گا….”
“مطلب….؟”
وہ الجها تها

“مطلب اگر آپ انہیں آج کوئی بات کریں گے تو روت کو سو کر اٹهنے کے بعد وہ پچهلے دن کی، کی گئی ساری باتیں بهلا دیں گی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ بیماری کم ہو جائے گی اور پهر دهیرے دهیرے وہ ہفتے میں مہینے میں سال میں پهر بہت سالوں میں ایک بار ایسا ہوگا کہ وہ بهول جائیں گی ورنہ عمر بڑهنے کے ساتھ ختم ہوجائے گی…”
اسکی باتوں پر شہرام نے ضبط سے ہونٹ بهینچے تهے
“شکریہ ڈاکٹر صاحب….”
وہ اٹهتے ہوئے بولا اور سلام کرتا روم سے نکل گیا تها
…………………………………
چوبیس گهنٹے گزر گئے تهے دعا کو ہوش نہ آیا تها لیکن اس کی پٹی اتر گئی تهی پریہان گهر گئی تو میرب اور زرش بهی چکر لگا گئیں تهی سعد سمیت باقی سب یہاں سے ہلے نہ تهے پریہان واپس آگئی تهی اور میرب اور زرش واپس گهر چلی گئیں تهی
سب اس روم میں موجود تهے اور کسی میں ہمت نہ تهی دعا کے چہرے سے کپڑا ہٹا کے اس کا چہرہ دیکھ سکیں
“مصطفی تم دیکهتے ہو یا میں دیکهوں….”
“مجھ میں ہمت نہیں شہرام…..”
شہرام اس کی بات سن کر آگے بڑها اور گہرہ سانس لیتا اس کے چہرے سے کپڑا ہٹایا تها کپڑا ہٹاتے ہی سب یک ٹک دعا کے چہرے کو دیکهنے لگے تهے رنگت ویسی ہی تهی بس چہرے پر کچھ نشانات تهے جو وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہونے تهے اور چہرہ کچھ حد تک پرانے چہرے کی مشابہ تها لیکن کوئی بهی دیکھ کر پہچان نہیں سکتا تها کہ یہ وہی پرانی دعا ہے شاید یہ کہہ سکتا تها کہ یہ دعا کی بہن ہو

“دعا….”
آبریش نے کانپتا ہاتھ بڑها کر اس کے چہرے کو چهونا چاہا تها لیکن فورا پیچهے کهینچا تها
“میری جان…”
مصطفی نے اس کے پاس بیٹهتے اس کے سر پر ہاتھ پهیرا تها آنکھوں سے بہت سے آنسووں گرے تهے سب کی آنکهیں نمکین پانی سے بهری تهیں دعا نے دهیرے دهیرے آنکهیں کهولیں تهی اور نظر چهت سے ٹکرائی
“دعا میری بیٹی….”
اس کو ہوش میں دیکھ آبریش فورا آگے بڑهی اور اس کے چہرے کو چهوا وہ آنکهوں میں اجنبیت لیے ان سب کے چہروں کو باری باری دیکھ رہی تهی

“دد-دعا…”
اسکی آنکهوں میں اجنبیت دیکھ کر بامشکل پریہان بولی تهی
“دعا پہچانا نن-نہیں کیا…؟”
مصطفی نے بےتابی سے کہا تو اس نے پہلے مصطفی کو دیکها پهر باری باری سب کو دیکهنے لگی آخر میں نظر سعد پر ٹهہری تهی
“سس-سعد….”
اس نے مشکل سے اس کو پکارا سب نے یک دم سعد کو دیکها جو خود حیرانگی سے دعا کو دیکھ رہا تها
“سعد…”
اس نے دوبارہ پکارا تو وہ ہوش میں آتا اس کے پاس آیا
“بولو دعا…”
اس نے اس کے پاس بیٹهتے اس کا ہاتھ تهاما تها
“کک-کون ہیں یہ سب مم-میں یہاں کیوں ہوں…؟”
اس کے الفاظوں پر بےاختیار سب کی آنکهوں سے آنسووں گرئے تهے وہ سعد کے علاوہ کسی کو نہیں پہچان رہی تهی اور حیرت یہ تهی وہ صرف سعد کو پہچان رہی تهی

“دعا تمہارا ایکسیڈنٹ ہوا تها تو ہم ہوسپٹل آئے ہیں ایکسڈنٹ کی وجہ سے تمہارے سر پر تهوڑی چوٹ آئی ہے جس سے تم ان کو نہیں پہچان رہی…”
اس سے جو کہانی بنی وہ بولا تها
“تم بتا دو کون ہیں…؟”
“یہ مصطفی چاچو تمہارے بابا یہ آبریش چاچی تمہاری امی…”
اس نے مصطفی اور آبریش کا تعارف کروایا اور پهر باری باری سب کا بتایا تها
“بابا ہم یی-یہاں سے کک-کب جائیں گے…؟”
اس نے مصطفی سے پوچها یقیناً وہ سعد کی بات کا بنا کسی رد عمل کے یقین کر چکی تهی
“بہت جلد میری بیٹی…”
اس نے جهک کر اس کے ماتهے پر اپنے لب رکهے تهے تو اس نے آنکهیں موندیں تهی
…………………………………
“ایک ہفتے بعد”
دعا کی وجہ سے گهر میں بہت سی تبدیلیاں آئیں تهی سب ملازمیں تبدیل کروا لیے تهے جو پرانی دعا کو جانتے تهے دعا کی ساری پکس ہر وہ چیز جو دعا کو کسی چیز کی یاد دلاتا وہ سب ایک جگہ محفوظ رکھ دیا تها دعا کی پہنچ سے بہت دور اس کے کمرے کو بهی بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تها
اب اصل فکر ڈوہان وجدان پارس اور عالیاب کی تهی جو بچے تهے اور یہ سب نہیں سمجهتے تهے

“کیوں پریشان ہو میری جان…؟”
شہرام پریہان کو دعا کے کمرے میں پریشان کهڑے دیکھ اس کے قریب آتے پوچها تها
“وجدان ذوہان پارس اور عالیاب ان سب کو کیسے سمجهائیں گے…”
اسنے فکرمندی سے کہتے شہرام کو بهی فکرمندی میں ڈال دیا تها میرب جو دعا کے لیے ٹیڈی بیر اندر لارہی تهی ان کی بات سن کر رکی تهی
“میں سنبهال لوں گی پری…”
میرب نے وہ ٹیڈی بیر بیڈ پر رکهتے کہا
“کیسے…؟”
شہرام نے سوالیہ نظروں سے دیکها
“میں اپنی طرف سے پوری کوشش کرتی ہوں شاید وہ مان جائیں…”
اسکی بات پر ان دونوں نے اثبات میں سر ہلایا تها
…………………………………
“امی جان دعا کے کمرے میں وہ لڑکی کون ہے ہماری دعا کہاں ہے…؟”
پارس نے میرب سے سوال کیا تها
“جی چاچی جان میری بہن کہاں ہے…؟”
ذوہان بهی پریشان سا بولا اور میرب کو لگا اب ان کو سمجهانا مشکل ہے
“ادهر بیٹهو تم چارو میری بات سنو…”
وہ ان چاروں کو صوفے پر بیٹهاتے بولی اور خود پیروں کے بل نیچے بیٹهی تهی
“دیکهو بیٹا دعا کے چہرے پر گرم پانی گر گیا جس سے اس کا چہرہ خراب ہو گیا اور ڈاکٹر نے تبدیل کر دیا لیکن تم کوگ یہ بات دعا کو نہیں بتاو گے ورنہ وہ روئے گی تم لوگ چاہتے وہ روئے….؟”
اسکی بات پر ان چاروں نے نفی میں سر ہلایا تها
“اگر وہ روئی تو بہت بیمار ہو جائے گی اور تم لوگوں نے اگر اسے بتایا تو شہرام بهائی تم چاروں کو دعا سے دور کردیں گے تم چاہتے ایسا…؟”
انہوں نے پهر نفی میں سر ہلایا
“پرامس کرو میرے ساتھ جو پرامس نبهائے گا اس کو روز چاکلیٹس ملیں گی اور جو توڑے گا اس کو ایک روم میں بند کردیں گے ہمیشہ کے لیے یا ہوسٹل بهیج دیں گے…”
اس نے ہاتھ آگے بڑهایا تو ان چاروں نے خوف سے فورا تهاما تها وہ بچے تهے اس کی جهوٹی سچی باتوں میں آگئے تهے میرب نے گہرہ سانس بهرا اس کا اب کام تها وہ روز ان کو انکا وعدہ یاد دلائے تاکہ وہ کسی قسم کی کوتاہی نہ برتیں
…………………………………
پارس وجدان عالیاب اور ذوہان اپنے وعدے پر پورا اترے تهے گهر والوں نے میرب کو داد دیتی نظروں سے دیکهیں تها مصطفی اور آبریش اس کے مشکور تهے رات دعا سمیت سب بچوں کے سونے کے بعد سب بڑے شہرام کے کمرے میں موجود تهے
“میرب تم نے بچوں کو سنبهالا کیا وہ آگے بهی ایسے ہی نارمل رہیں گے دعا کے ساتھ. …”
احتشام نے میرب سے پوچها تها
“فکر نہیں کرو احتشام ہمارے بچے بہت سمجهدار ہیں وہ بات کو سمجهیں گے…”
اسنے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکهتے ہوئے کہا

“کیا سوچ رہے ہو مصطفی…؟”
شہرام نے اس کو سوچوں میں مبتلا دیکھ کر کہا
“میں مستقبل کے بارے میں پریشان ہوں جب وہ حقیقت جانے گی جب اسکی شادی ہوگی اسکا شوہر سمجهے گا اور اسکا چہرہ میں بہت پریشان ہوں…”
اسنے گہرہ سانس لیتے سب کو افسردہ کیا تها
“چاچو….”
سعد کی آواز کمرے کے دروازے سے گونجی سب نے دروازے کی جانب دیکها تها
“سعد سوئے نہیں…؟”
زرش نے پوچها تو اس نے نفی میں سر ہلایا اور اندر آیا اور مصطفی کے ساتھ بیٹها ته
“چاچو میں شادی کروں گا دعا سے….”
اس کی بات پر سب کے اوپر حیرت کے پہاڑ ٹوٹے تهے
“سس-سعد…..”
مصطفی صرف اتنا ہی بولا سکا

“سعد ہوش میں تو ہو جاو کمرے میں….”
شہرام نے اسے ڈپٹا تها
“پلیز شہرام چاچو مصطفی چاچو میں سچ کہ رہا ہوں میں دعا سے نکاح کرونگا آپ اسکے لیے پریشان مت ہوں میں ہر چیز سمیت اس کو قبول کرونگا…”
وہ سب کو دیکهتے مصطفی کا ہاتھ تهامے بولا تو مصطفی نے رامز کو دیکها جس کی نظریں سعد پر تهیں
“تم ابهی بچے ہو سعد کیا تم یہ وعدہ اپنی جوانی میں پورا کرسکو گے کیونکہ اگر تم بڑے ہوتے ہی مکر گئے اپنے وعدے سے تو….؟”
رامز کے سوالوں پر اس نے اپنے باپ کو دیکها
“بابا میں اب بڑا ہوں اٹهارہ سال کا ہونے والا ہوں مجهے ہر چیز کی سمجھ بوجھ ہے بےشک کل ہی میرا نکاح دعا سے کردیں…”
وہ پراعتماد سا بولا

“سعد کیا کہ رہے ہو پتا ہے نہ…؟”
زرش نے بےیقینی سے کہا
“دعا اچهی لگتی ہے مجهے مجهے کوئی حرج نہیں نکاح سے کل کردیں اگر آپ سب کو اعتراض نہ ہو تو بابا آپ بتائیں….”
ان سب سے کہتا رامز سے پوچها سب کی نظریں رامز پر مرکوز تهیں اس نے زرش کو دیکها جس نے اثبات میں سر ہلایا ته
“مجهے کوئی اعتراض نہیں دعا میری بہو بنے میں خوش قسمت ہونگا…”
وہ مسکرا کر بولتا مصطفی کے کندھوں سے آدها بوجھ کم ہوا تها وہ دعا کے غم میں کمزور اور عمر میں زیادہ لگنے لگا تها
“لیکن ڈاکٹر کے مطابق اسکو بیماری ہے بهول جانے کی….”
شہرام نے ایک اور بات سامنے رکهی
“ہم نکاح کردیں گے تاکہ ہمیں علم رہے وہ سعد کی امانت ہے جب وہ مکمل ٹهیک ہوگی تب دوبارہ کردیں گے…”
رامز نے کہا تو اسنے اثبات میں سر ہلایا
“ٹهیک ہے کل بچوں کے سکول جانے کے بعد نکاح کردیں گے….”
مصطفی نے سعد کا کندها تهپتهپاتے کہا تها
…………………………………
اگلی صبح ہی دعا کا نکاح سعد سے کردیا تها دعا کو جس طرح آبریش نے سمجهایا تها وہ وہی جانتی تهی اب دعا سمجهتی تهی اسکی گڑیا کا جیسے گڈا تها ویسے اب اسکا گڈا سعد تهس لیکن بیماری کی وجہ سے وہ اپنا نکاح تک بهول گئی تهی لیکن سعد نے نہ تو اپنا وعدہ توڑا تها نہ ہی نکاح…
وجدان اور ذوہان کو صرف اس کے نکاح کی خبر تهی یا ان چاروں کو بچپن سے یہی علم تها کہ اسکا چہرہ تبدیل کرنے کی اصل وجہ وہ گرم پانی ہی تها اور دهیرے دهیرے یہ بهی سمجهدار ہو گئے تهے اور دعا سے کبهی اس کے چہرے کا زکر نہ کیا تها
سب اپنے حساب سے سہی جا رہا تها لیکن سعد کی بےخودی نے سب ایک دم سے بیگاڑ دیا تها شاید خدا کو بهی یہی منظور تها ورنہ ان کا ارادہ دوبارہ سے صرف نکاح کردینے کا تها لیکن اب سب حقیقت کهل گئی تهی
…………………………………
“حال”
سب کے چہرے آنسووں سے تر تهے بہت سی سسکیاں وہاں گونج رہی تهیں سعد نے چہرہ اٹها کر مصطفی کے سینے سے لگی دعا کو سسکتے دیکها تو خود کو ملامت کیا تها اپنی وجہ سے وہ بہت کچھ کرگیا تها
“یعنی میرا یہ چہرہ…”
اسنے اپنے چہرے کو چهوا تها اور دوبارہ سسکی
“اور وہ جو تصویر تم نے میرے کمرے میں دیکهی تهی تمہاری تهی وہ خوبصورت چہرہ تمہارا تها……..”
اتنے وقت میں سعد کی آواز اب گونجی تهی دعا نے چہرہ جهکایا تها
“آپ نے ہمیں یہ سب کیوں نہیں بتایا بابا….؟”
وجدان کی خفا سی آواز گونجی
“ہماری بہن کے ساتھ اتنا سب کچھ ہوا ہم کیسے بهائی ہیں ہمیں علم ہی نہیں……”
ذوہان کی بهی شرمندہ سی آواز گونجی تهی
“وقت آنے پر ہم سب بتا دیتے…..”
رامز نے گہرہ سانس بهرا تها سب دعا کی خاموشی پر خاموش تهے لیکن اس کی سسکیاں سب کو پریشانی میں ڈال رہی تهیں لیکن فلوقت سب خاموش تهے
…………………………………
السلام و علیکم!وہ بتانا یہ تها سب دل کو سنبهال رکهیں ناول تهوڑا سیڈ ہونے والا ہے…..